مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · مصر و شام

فلسطین: نکبہ کے بعد (مغربی کنارہ و غزہ)

1948ء (1367ھ) – 1967ء (1387ھ)19 برس

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
آغاز1948ء (1367ھ)
اختتام1967ء (1387ھ)
مدت19 برس
خطہمصر و شام
بانیاردن (مغربی کنارہ) اور مصر (غزہ) کا انتظام
دارالحکومتمشرقی یروشلم (اردنی انتظام)، غزہ

1948ء کی جنگ کے بعد تاریخی فلسطین کا تقریباً 78 فیصد حصہ اسرائیل کے قبضے میں آیا؛ باقی میں سے مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم اردن کے اور غزہ کی پٹی مصر کے انتظام میں رہی۔ لاکھوں فلسطینی پناہ گزین انہی علاقوں اور ہمسایہ ممالک کے کیمپوں میں آباد ہوئے؛ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 194 (دسمبر 1948ء) نے ان کے وطن واپسی کے حق کو تسلیم کیا، اور 1949ء میں ان کی امداد کے لیے اقوامِ متحدہ کا ادارہ UNRWA قائم ہوا۔ 1964ء میں تنظیمِ آزادیِ فلسطین (PLO) قائم ہوئی۔

تاریخی تسلسل

  1. ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
  2. خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
  3. بنو امیہ 662ء–750ء
  4. بنو عباس 748ء–1258ء
  5. سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
  6. سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
  7. سلطنتِ سلاجقہ 1038ء–1194ء
  8. سلاجقہ روم 1061ء–1307ء
  9. سلطنتِ عثمانیہ 1300ء–1922ء
  10. فلسطین و شرقِ اردن: برطانوی انتداب 1920ء–1948ء
  11. فلسطین: نکبہ کے بعد (مغربی کنارہ و غزہ)
  12. فلسطین: اسرائیلی قبضہ اور تحریکِ آزادی 1967ء–1988ء
  13. ریاستِ فلسطین 1988ء–تاحال

عروج کے اسباب

مئی 1948ء میں برطانوی انتداب کے خاتمے اور اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد کی جنگ میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل کیے گئے یا فرار پر مجبور ہوئے اور سینکڑوں دیہات خالی کرا دیے گئے — فلسطینی اسے «نکبہ» (عظیم المیہ) کہتے ہیں؛ 1949ء کی جنگ بندی لائنوں سے یہ تقسیم قائم ہوئی۔

زوال کے اسباب

جون 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ پر قبضہ کر لیا۔

حکمران (1)

  1. احمد الشقیری

    1964ء – 1967ء

    تنظیمِ آزادیِ فلسطین (PLO) کے پہلے چیئرمین۔

متعلقہ واقعات

ماخذ و وضاحت

1950ء میں اردن نے مغربی کنارے کو اپنے ساتھ ضم کرنے کا اعلان کیا، جسے بین الاقوامی سطح پر عموماً تسلیم نہیں کیا گیا؛ 1988ء میں اردن نے اس پر اپنا دعویٰ ختم کر دیا۔