رسائل ومسائل – جلد اول
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "رسائل و مسائل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تصنیف ہے جو مختلف شرعی، اخلاقی، سماجی اور فکری مسائل پر ان کے جوابات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دینِ اسلام کو صرف رسمی عبادات تک محدود نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک جامع نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا جائے جو ہر شعبۂ زندگی کو اپنے دائرۂ اثر میں لے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب میں صرف فقہی جزویات پر بحث نہیں کی بلکہ ہر مسئلے کو اس کے اصولی، فکری اور اجتماعی تناظر میں دیکھا ہے تاکہ قاری کو صرف حکم نہیں بلکہ اس کی حکمتِ تشریع بھی سمجھ آئے۔
کتاب کا آغاز نواقضِ وضو کے مسئلے سے ہوتا ہے، جہاں مولانا واضح کرتے ہیں کہ شریعت کا ضابطۂ طہارت محض ظاہری نجاست کی بنیاد پر نہیں بلکہ پانچ اہم مقاصد—نظافت کی عادت، معنوی تیاری، نفس کی نگرانی، ضابطے کی وضاحت، اور اعتدال—کی روشنی میں تشکیل پایا ہے۔ اس کے بعد وہ آلات کے ذریعے توالد کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے اسے انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف فطرت کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسلامی تصورِ نسل کشی اور خاندانی نظام کو بھی تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔
مشینی امامت، آلاتِ موسیقی، عذرِ مجبوری میں غیر اللہ کی اطاعت، دعا میں ہاتھ اٹھانا، سفر میں قصرِ صلوٰۃ، ہندستان میں گائے کی قربانی، اور جبری امتناع کی صورت میں مباحات کا وجوب—یہ تمام ابواب اسی اصول پر مبنی ہیں کہ اسلام کا ہر حکم ایک جامع نظام کا حصہ ہے جس کا مرکز توحید ہے۔ اسی سلسلے میں چند مسائل تقابلی مذہب اور سائنس سے متعلق بھی ہیں—ایک ہندو دوست کے خط کا جواب، گائے اور تناسخ کا تصور، اور کائناتی و حیاتی ارتقا پر اسلامی نقطۂ نظر۔
کتاب کا ایک اور اہم حصہ معاشی و کاروباری فقہ پر مشتمل ہے: سرکاری نرخ بندی، بکری ٹیکس، مکانوں کے کرایوں میں بلیک مارکیٹنگ، سود سے پاک بینکاری کی ایک تجویز، اور کاروبار میں اسلامی اصولِ اخلاق کا اطلاق۔ آخری حصہ سیاسی و تنظیمی سوالات کا احاطہ کرتا ہے—مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت، مطالبۂ پاکستان، صوبہ سرحد کا ریفرنڈم، غیر اسلامی قانون ساز مجالس کی رکنیت کا مسئلہ، مزدوروں کی ہڑتالوں میں جماعتِ اسلامی کی پالیسی، اور قضیۂ فلسطین میں جماعت کا رویہ—جو مجموعی طور پر دکھاتے ہیں کہ مولانا کے نزدیک فقہی جزئیات اور اجتماعی و سیاسی مسائل دونوں ایک ہی اصولی نقطۂ نظر سے حل کیے جانے چاہئیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مخالفتیں اور مزاحمتیں:
سوال: میں اپنے حالات مختصراً پیش کرتا ہوں ۔مجھے بتلایئے کہ کون سا ایسا طریق ِکار اختیار کروں کہ میرے اسلام میں فرق نہ آئے۔
۱۔ والدین اُٹھتے بیٹھتے اصرار کررہے ہیں کہ ملازمت پر واپس چلا جائوں۔ بحالت موجودہ وہ نہ صرف اپنا بلکہ خدا کا نافرمان بھی گردانتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ صرف ایسے وقت پر والدین کی نافرمانی جائز ہے جب وہ یہ کہیں کہ خدا کو نہ مانو۔باقی تمام اُمور میں والدین کا حکم شرعی طور پر واجب التعمیل ہے۔ عن قریب وہ اعلان کرنے والے ہیں کہ نوکری پر چلاجائوں تو بہتر، ورنہ میرا ان سے کوئی تعلق نہ رہ سکے گا۔بس وہ اتنی رعایت مجھے دیتے ہیں کہ اگر میں مستقل طورپر ملازمت اختیار کرنا نہیں چاہتا تو کم از کم سال ڈیڑھ سال اور اختیار کیے رکھوں، حتیٰ کہ میرے چھوٹے بھائی بی اے کرلیں اور میری خالی جگہ کو پُرکرسکیں۔ اس سلسلے میں گناہ وہ اپنے سرلیتے ہیں۔
۲۔ ادھر عوام میں میری بے اثری بڑھ رہی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جس ذوق وشوق سے دورانِ ملازمت میں میری بات سنا کرتے تھے یا حمایت کا دم بھرا کرتے تھے ، اب وہ ختم ہورہا ہے۔ بلکہ میری باتوں کا اُن پر اُلٹا اثر ہوتا ہے۔
۳۔ بڑے بھائی بتلاتے ہیں کہ اگر نوکری حرام ہے تو زمین داری کون سی حلا ل ہے۔ ہماری زمین سرکار( ایک ریاست) نے ہمارے آبائو اجداد کو بخشش کے طور پر دی تھی ۔وہ تو تمھارے نظریے کی رُو سے حلال آمدنی قطعاً نہیں دے سکتی۔علاوہ بریں اسلام میں زمین دارہ سسٹم سرے سے ناجائزہے۔یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے دادا نے اپنی جائداد بروئے شریعت تقسیم نہیں کی تھی۔ ان کی وراثت صرف نرینہ اولاد میں چلی ہے اور مستورات کو محروم رکھا گیا ہے۔پھر نوکری کو حرام کہنے کے بعد ایسی جائدادپر کوئی شخص کیسے بسر اوقات کرسکتاہے؟
۴۔ مسلمانوں کی اکثریت جہالت اور شر ک میںمبتلا ہے۔قبروں پر حاجات لے کر جانے اور نہ جانے کا سوال بہت اہمیت اختیار کیے ہوئے ہے۔اس سلسلے میں اگر مصلحتاً سکوت کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حق کو قبول کرنے کے ساتھ لوگ شرک کرنے کی گنجایش کو بھی بحال رکھیں۔ یوں بھی مصلحت اندیشی تابکَے، آخر بھانڈ اپھوٹتا ہے اور لوگوں کو معلوم ہوکے رہتا ہے کہ ہم قبروں پر جاکر حاجات طلب کرنے کے خلاف ہیں۔ جہاں یہ بات کھلی بس فوراًہی آدمی کو وہابی کا سرٹیفکیٹ ملا اور کسی کو وہابی قراردینے کے بعد لوگ اس کی بات سننے پر آمادہ ہی نہیں ہوتے بلکہ اس سے بدکنے لگتے ہیں کہ کہیں یہ بلّوریں عقائد کے اس محل پر پتھر نہ پھینک مارے جس کی تعمیر میں ان کے آبائو اجداد نے پسینے بہائے ہیں اور جس کی حفاظت میں عمریں گزار دی گئی ہیں ۔میں بھی اسی خدشے کا ہدف بن رہا ہوں۔
جواب: آپ کا عنایت نامہ ملا۔ آپ اب اسی مرحلے پر پہنچ گئے ہیں جس سے میں نے آپ کو یہاںپہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔میں اس معاملے میں آپ سے یہ نہیں کہوں گا کہ آپ کیا رویہ اختیار کریں۔اس کا فیصلہ آپ کو بالکل اپنے قلب وضمیر کی آوازپر کرنا چاہیے اور اپنی ہمت کا جائزہ لے لینا چاہیے ۔بہرحال جو فیصلہ بھی آپ کریں ، ٹھنڈے دل سے کریں اور خدا سے دعا مانگتے رہیں کہ آپ کوئی ایسا قدم نہ اُٹھائیں جس کے بعدپسپائی کی نوبت آئے۔ پسپا ہونے سے اقدام نہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔
فیصلے کو آپ کے اپنے ضمیر پر چھوڑنے کے بعد میں صرف اُن دلائل کا جواب دیے دیتا ہوں جو آپ کے مقابلے میں پیش کیے جاتے ہیں:
(۱) عذاب وثواب کوئی کسی کا نہیں اُٹھا سکتا۔ہر شخص اپنے عذاب وثواب کا خود حامل ہے۔ میرے کہنے سے اگر آپ کوئی گناہ کریں تو میں کہنے کا گناہ گار ہوں گا اور آپ کرنے کے گناہ گارہوں گے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کے کرنے کا گناہ بھی کہنے والے کی طرف منتقل ہوجائے۔ اور آپ اس وجہ سے چھوڑ دیے جائیں کہ آپ نے دوسرے کے کہنے پر گناہ کیا تھا۔
(۲) والدین کی فرماں برداری صرف اسی حد تک ہے جس حد تک ان کی فرماں برداری سے خالق کی نافرمانی لازم نہ آتی ہو۔ اگر وہ کسی معصیت کا حکم دیں تو ان کی اطاعت کرنا صرف یہی نہیں کہ فرض نہیں ہے بلکہ الٹا گناہ ہے۔
(۳) جس فعل کو آپ خود معصیت سمجھتے ہیں،اسے ڈیڑھ یا دو سال تک صرف اس لیے کرتے رہنا کہ خاندان کا ایک اور فرد آپ کے بجائے اس معصیت کے لیے تیار ہوجائے، بالکل ایک غلط فعل ہے ۔ اگر آپ اپنے عقیدے میں صادق ہیں تو آپ کی یہ دلی خواہش ہونی چاہیے کہ نہ صرف آپ خود اس سے بچیں بلکہ خدا کا ہر بندہ اس سے محفوظ رہے۔
(۴) یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام میں زمین داری سرے سے ناجائز ہے۔ البتہ ہندستان(موجودہ برعظیم ہندو پاکستان) میں زمین داری کی بعض شکلیں ایسی ضرور رائج ہوگئی ہیں جو جائز نہیں ہیں۔ اگر شرعی طریقے پر آپ زمین داری کریں اور ناجائز فائدے اٹھانے سے بچیں تو اس میں کوئی حر ج نہیں۔
(۵) جوجائداد کسی شخص کو آبائو اجداد سے ملی ہو ،اس کی سابق تاریخ دیکھنے کا شریعت نے اسے مکلف نہیں کیا۔ اس معاملے میں قرآن کا قانون گزشتہ پر گرفت نہیں کرتا بلکہ حال اور مستقبل کی اصلاح ہی پر اکتفا کرتا ہے۔اس کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ جب وہ جائداد اس کی ملکیت میں آئے،اس وقت سے وہ اس میں شرعی طریقے پر تصرف کرے اور سابق میں جن لوگوں نے اس کو غلط طریقے سے حاصل کیا تھا اور اس میں غلط تصرفات کیے تھے،ان کے معاملے کو خدا پر چھوڑ دے۔البتہ اگر کوئی چیز آپ کے قبضے میں ایسی ہو جس کے بارے میں آپ کو متعین طور پر معلوم ہو کہ اس میں فلاں فلاںلوگوں کے غصب شدہ حقوق شامل ہیں اور وہ لو گ بھی موجود ہوں،نیز اُن کا حصہ بھی متعین طورپر معلوم ہو، تو اپنی حد تک ان کے حقوق واپس کر دیجیے۔
(۶) ملازمت کے زمانے میں آپ کے ذاتی اور خاندانی اثر کی بدولت جو لوگ آپ کا اثر قبول کررہے تھے،وہ حقیقت میں دین کی دعوت سے متاثرنہیں ہورہے تھے، بلکہ وہ جاہ ومال کے بُت کی پوجا کررہے تھے۔ اور آیندہ بھی اگر آپ اس پوزیشن پر رہیں تویہ دھوکا نہ کھایئے گا کہ لوگوں کو آپ خدا پرست بنا رہے ہیں۔سچے خدا پرست تو وہی لوگ ہوں گے جو آپ کی دنیوی پوزیشن کو دیکھ کر نہیں بلکہ آپ کی دعوت کی سچائی اور آپ کے تقویٰ کو دیکھ کر متاثر ہوں گے۔میرے نزدیک تو آپ صحیح معنوں میں دعوتِ حق کے داعی اسی وقت بنیں گے جب تمام اعزازات آپ سے چھن جائیں، زمین آپ کو جگہ دینے سے انکار کردے اور وہ سب جو کل تک آپ کے سامنے جھکے پڑتے تھے، آپ کو ردّ کرنے اور آپ سے منہ پھیرنے پر اُتر آئیں۔ یہ صورتِ حال ہے تو بہت خطرناک لیکن اس راہ میں یہی کچھ مفید ہے۔اگر خدا نے آپ کو اتنی طاقت دی کہ آپ اسے برداشت کرنے کے قابل ہوجائیں تو اس کا حقیقی فائدہ آپ کو آگے چل کر معلوم ہوگا اور اسی وقت آپ کو اﷲ تعالیٰ جھوٹے رفیقوں کی رفاقت سے بچاکر سچے رفیق بہم پہنچائے گا۔
(۷) عوام کے عقائد پر خواہ مخواہ باوّلِ وہلہ ضرب لگانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ لیکن اپنے عقائد پر پردہ ڈالنے کی بھی ضرورت نہیں۔’’وہابیت‘‘ کے الزام سے بچنے کا اہتمام نہ کیجیے۔لوگوں نے درحقیقت مسلمان کے لیے یہ دوسرا نام تجویز کیا ہے۔وہ گالی مسلمان کو دینا چاہتے ہیں، لیکن مسلمان کہہ کر گالی دیں تواپنا اسلام خطرے میں پڑتا ہے، اس لیے ’’وہابی‘‘ کہہ کر گالی دیتے ہیں۔ اس حقیقت کو جب آپ سمجھ جائیں گے تو پھر وہابی کے خطاب سے آپ کو کوئی رنج نہ ہوگا۔ جو عقائد اور جو اعمال مشرکانہ ہیں،ان سے بہرحال پرہیز کیجیے اور توحید کو اس کے اصلی تقاضوں کے ساتھ بے تکلف بیان کیجیے۔ شرک اور مشرکانہ باتوں سے پرہیز اور توحید اور مقتضیاتِ توحید کی پابندی اگر وہابیت ہے تو خدا اپنے ہر بندے کو وہابی ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور غیر وہابی ہونے سے بچائے۔
سوال: صوبہ جاتی اجتماع سے واپس آنے پر میں یکایک ان پریشانیوں میں مبتلا ہوگیا ہوں جو میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھیں۔آپ کی شدید مصروفیات کا علم رکھنے کے باوجود ان احوال کا تفصیلی تذکرہ آپ ہی کے اس ارشاد کی بِنا پر کررہا ہوں کہ اس نوعیت کے اُمور سے آپ کو پوری طرح مطلع رکھنا ضروری ہے۔ خیر تو ۱۹؍ اکتوبر کو والد مکرم کا جو گرامی نامہ موصول ہوا ہے،وہ لفظ بلفظ (خط کا کچھ حصہ حذف کردیا گیا ہے۔) درج ذیل ہے:
’’برخوردارِ نورِ چشم… بعد دعائے ترقی درجات کے واضح ہو کہ اب تم خود مختار ہوگئے ہو،ہماری سرپرستی کی ضرورت نہیں،کیوں کہ ہم مکان پر بیمار پڑے ہیں اور تم کو جلسوں( اشارہ ہے جماعت اسلامی کے اجتماع کی طرف۔) کی شرکت لازم اور ضروری۔ اب اﷲ کے فضل سے نوکر ہوگئے ہو۔ہم نے اپنی تمام کوشش سے تعلیم میں کام یاب کرایا اور اس کا نتیجہ پالیا۔عالم باعمل ہوگئے کہ باپ کا حکم ماننا ظلم اور حکمِ خدا کے خلاف قرار پایا۔ اوروں کا حکم ماں باپ سے زیاد ہ افضل!خیر تمہاری کمائی سے ہم نے اپنی ضعیفی میں بڑا آرام پا لیا۔ آیندہ ایک پیسا بھی ہم لینا نہیں چاہتے۔جو تمہارا جی چاہے کرو اور جہاں چاہے رہو، خواہ سسرال میں یا کسی اورجگہ۔ البتہ ہم اپنی صورت اس وقت تک نہیں دکھلانا چاہتے جب تک جماعت سے استعفا نہ دے دو۔تم نے برابر اس مراق میں(یعنی تحریک اسلامی کی خدمت میں) سب تعلیم کاکام خراب کردیا۔مگر ہمارا نصیحت کرنابے کار ہے۔ بس یہ واضح رہے کہ ہمارے سامنے نہ آنا۔ ہمار اغصہ بہت خراب ہے۔ فقط۔‘‘
والدِ مکرم کے اس خط کا جواب راقم الحروف نے یہ لکھ دیا:
’’محترمی!کل آپ کا گرامی نامہ بدست… موصول ہوا۔اسے دیکھ کر اور آپ کی بیماری کا حال معلوم کرکے بڑا افسوس ہوا۔یقین جانیے مجھے خبر تک نہ تھی کہ آپ بیمار ہیں۔نہ آپ نے کوئی خط لکھا نہ مجھے کسی اور ذریعے سے حال معلوم ہوا، ورنہ میں یقینا وہاں نہ جاتا۔ یہ ایک عذرِ شرعی تھا جس کی بِنا پر سفر کو ملتوی کیا جاسکتا تھا۔
والدین کے احسانات اور ان کی مہربانیوں کا کون انکار کرسکتا ہے۔پھر آپ نے تو اعلیٰ تربیت کی اور دینی تعلیم سے آراستہ کیا۔اسی تعلیم سے مجھے یہ یقین حاصل ہوا کہ دین کو دنیا میں غالب کرنا،خدا کے کلمے کو بلند کرنا، دنیا میں اسلام کا سکہ چلانا اور اس کے لیے کوشش کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔میں نے گردو پیش کی دنیا پر نظر ڈالی اور مجھے ایک ہی جماعت اس مقصد کے لیے صحیح طریقے اور اصلی اوربہترین ڈھنگ سے کام کرتی ہوئی نظر آئی، اور وہ جماعت’’جماعت ِ اسلامی‘‘ ہے۔ اس لیے اگر مجھے دین کو دنیا میں غالب کرنے کے لیے کوشش کرنی ہے تو اس سے منسلک رہنا ضروری ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ دین کے غلبے کی کوشش اگر مسلمان کی زندگی کا مقصد نہیں تو پھر اور کیا مقصد ہے!
والدین کا حکم ماننا ضروری!ان کی اطاعت فرض! لیکن کہاں تک،جب تک خدا ورسولؐ کے حکم کے خلاف نہ ہو۔ اگر دین کو غالب کرنا ضروری ہے تو وہ کیا یوں ہی آرام سے بیٹھے ہوئے، بے اَن تھک کوشش کیے ہوئے ہوسکتا ہے؟ کیا یہ کوئی بہت سہل کام ہے؟کیا دین کے لیے اتنی قوت اور اتنا وقت بھی صرف نہیں کرنا چاہیے جتنا ہم اپنے پیٹ کے لیے کرتے ہیں؟کیا یہ کام تنہا ایک آدمی کے کرنے کا ہے؟بہرحال دین کے لیے جس جماعت میں بھی رہ کر کام کیا جائے گا،اس میں وقت بھی صرف ہوگا،مال بھی خرچ کرناہوگا، تکلیف بھی ہوگی ،کچھ دنیوی کاموں کا حرج بھی ہوگا،اور کسی نہ کسی قوت سے تصادم کا ڈر بھی ہوگا اور آپ پھر منع فرمائیںگے۔پھر لِلّٰہ! آپ ہی بتایئے کہ اس کام کی اور کیاصورت ہوسکتی ہے؟آپ کی سرپرستی سے محروم ہوجانا میری انتہائی بدنصیبی ہے۔لیکن یہ تو خیال فرمایئے کہ آپ کس چیز سے مجھے منع فرمار ہے ہیں۔ذرا غور تو کیجیے، کہیں یہ حکم خدا کے خلاف تو نہیں ہے۔
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِيْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَo التوبہ 24:9
’’اے نبیؐ ! فرما دیجیے کہ اگر تمہارے باپ،تمہارے بیٹے، تمہارے خاندان، تمہارے وہ اموال جو تم نے محنت سے کمائے ہیں اور تمہاری وہ سوداگری جس میں گھاٹا پڑجانے سے تم ڈرتے ہو، اور تمہاری مرغوب آرام گاہیں تمہیں اﷲ، اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں سرتوڑ کوشش کرنے کے مقابلے میں محبوب ترہوں، تو انتظار کرواس گھڑی کا کہ اللہ کا فیصلہ صادر ہوجائے، اوریاد رکھو کہ اﷲ فاسقوں کو ہدایت نہیں بخشتا۔‘‘
میں سخت حیرت اور انتہائی افسوس کے ساتھ دیکھ رہا ہوں کہ دین کے غلبے کے لیے جوکوشش میں کررہا ہوں ،اس پر آپ ناراض ہیں۔آخر آپ ہی فرمایئے کہ اس صورت میں میرا فرض کیا ہے؟مندرجہ بالاآیت کو ملحوظ رکھ کر سوچیے۔
حاضر ہونے کو جی چاہتا ہے مگر آپ کے عتاب سے خائف ہوں ۔دیکھیے آپ کیا اجازت فرماتے ہیں۔‘‘
یہ جواب اس پس منظر کی بِنا پر لکھا گیا تھا کہ والد صاحب وقت کی اضاعت، صَرفِ مال اور خوفِ قوتِ متسلّطہ کی بِنا پر جماعت میں کام کرنے سے منع کرتے ہیں، نیز یہ کہ ان کے اشارے پر…سے ایک بہت مدلل قسم کا طویل وعریض خط آیا تھا، جس کا ماحصل یہ تھا کہ بہرحال حق واسلام جماعت اسلامی میں منحصر نہیں، تنہا کام کیجیے یا کسی اور جماعت میں رہ کر۔
والد محترم کی طرف سے مجھے ابھی تک منقولہ بالا عریضے کا جواب نہیں ملا ہے۔ اندریں حالات مناسب ہدایات سے مستفید فرمایئے۔‘‘
جواب: آپ نے والد کے عتاب پر جو جواب دیا ہے ،وہ بہت معقول ہے۔مسلمان کی زندگی ایک نہایت متوازن زندگی کا نام ہے جس میں تمام حقوق وفرائض کا مناسب لحاظ ہونا چاہیے اور کسی حق یا فرض کی اضاعت نہ ہونی چاہیے، اِلّایہ کہ ایک حق کو دوسرے حق پر اس حد تک قربان کیا جائے جس حد تک ایسا کرنا شرعاً ضروری ہو۔ والدین کا حق خدا کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے۔ لیکن بہرحال خدا کے حقوق کے بعد ہی، اس پر مقدّم کسی طرح نہیں ہے۔ پس جہاں خدا کا حق اداکرنے کے لیے والدین کے حق میں کوئی کمی کرنا بالکل ناگزیر ہو وہاں موقع ومحل کو ٹھیک ٹھیک ملحوظ رکھتے ہوئے صرف اس حد تک کمی کی جائے اور ساتھ ساتھ ان کے عتاب اور خشم کو نہایت تحمل اور تواضع کے ساتھ برداشت کیا جائے۔ ان کی سختی کے مقابلے میں اُف تک نہ کیجیے مگر جس چیز کو آپ اپنی دینی بصیرت کے مطابق دین سمجھتے ہیں اس سے والدین کو خوش کرنے کے لیے بال برابر بھی نہ ہٹیے۔ اولاد پر والدین کی خدمت،اطاعت اور ادب فرض ہے لیکن ان کی خاطر ضمیر کی قربانی فرض نہیں ہے،خصوصاً اس ضمیر کی جو دین کی روشنی سے منورہوچکا ہو۔
اس معاملے میں آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرنی چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی متعدد صحابہ کرامؓ کو یہ مشکل پیش آچکی ہے۔اس وقت حضورؐ کی رہنمائی میں صحابہ کرامؓ نے اپنے ان والدین کے ساتھ جو راہِ حق میں کسی نہ کسی طرح مزاحم ہورہے تھے،جو طرز اختیار کیا،اس کو ملحوظ رکھیے۔
سوال: ہمارے ہاں کے ایک نوجوان رکنِ جماعت اپنے بڑے بھائی کی زیر سرپرستی تجارت کررہے ہیں۔لین دین میں احکامِ شریعت کی پابندی اور وقت پر نماز پڑھنے کے لیے چلے جانے کی بِنا پر ان کے بڑے بھائی سخت برہم ہیں اور ان پر سختی کررہے ہیں۔اب تک ان کے کئی خطوط میرے نام آچکے ہیں جن میں انہوں نے لکھا ہے کہ’’تیری(یعنی راقم الحروف کی) وجہ سے میرا بھائی خراب ہوگیا ہے،اس پردیوانگی طاری ہے، کاروبار میں اسے کوئی دل چسپی نہیں رہی، رات دن تیرا وظیفہ پڑھتا ہے،تو شیطان ہے،انسان کی شکل میں ابلیس ہے،ماں باپ اور اولاد میں اور بھائیوں میں جدائی ڈالتا ہے،میرے بھائی سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھ،اس کے نام نہ خط لکھ نہ سہ ماہی اجتماع میں شرکت کی دعوت دے، بلکہ اس کو جماعت سے خارج کردے ورنہ…!‘‘ اِ س سلسلے میں مناسب ہدایات سے سرفراز کیجیے۔
جواب: جہاں خاندان کے لوگ جاہلیت میں مبتلا ہوں اور راہِ راست پر چلنے میں اپنے بھائی بندوں کی مزاحمت کرتے ہوں،وہاں تو فی الواقع جدائی ڈالنا ہی ہمارا کام ہے۔ایسے اعزّہ واقربا اور دوستوں سے اہلِ ایمان کو ملانا نہیں بلکہ توڑنا اور کاٹنا ہی ہمارے پیشِ نظر ہے۔ لہٰذاجو الزام ہمارے رفیق کے بھائی نے آپ پر لگایا ہے ،اس کی تردید کی ضرورت نہیں بلکہ صاف صاف اعتراف کی ضرورت ہے اور بہت نرمی کے ساتھ ان کو اس بات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ اس جدائی کو میل اور موافقت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو خدا پرستی اور دین داری میں مزاحم ہونے کے بجائے مددگار اور ساتھی بننے کی کوشش کریں، ورنہ ہم اور ہمارا رفیق اپنے طرزِ عمل پر قائم رہیں گے اور آپ کو اختیار ہے کہ جو سلوک آپ کا نفس ہمارے ساتھ کرنا چاہتا ہے وہ کرے۔
البتہ یہ خیال رکھیے کہ آپ کی طرف سے کوئی بات ضد یا اشتعال دلانے والی نہ ہو،بلکہ صبر وتحمل کے ساتھ اس شخص کے نفس کی اصلاح کرنے کی کوشش کیجیے جس کو جاہلیت کے غلبے نے اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ وہ اس آیت کا مصداق بن گیا: اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْہٰىo عَبْدًا اِذَا صَلّٰىo العلق96:10-9
درحقیقت یہ دیکھ کر بڑ ادکھ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے گروہ میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن کو نماز کی پابندی تک گوارا نہیں ہے۔خود پابندی کرنا تو درکنار، دوسرااگر ایسا کرتا ہے تو اس پر بھی بگڑتے ہیں۔ایسے مسلمانوں کی حالت پر اگر کبھی ہم تلخ تنقید کرجاتے ہیں تو ہمیں خارجیت کا طعنہ دیا جاتا ہے۔
سوال: میں بغرضِ تعلیم اسی سال… چلاگیا تھا۔ ڈاڑھی رکھ کر گھر واپس آیا تو تمام دوست و احباب نے تنگ کرنا شروع کردیا۔حتیٰ کہ خود والد مکرم بھی بہ شدت مجبور کررہے ہیں کہ ڈاڑھی صاف کرا دو،کیوں کہ اس کی وجہ سے تم بڑے بوڑھے معلوم ہوتے ہو۔اگر اصرار سے کام لو گے تو ہم تم سے کوئی تعلق نہ رکھیں گے۔ گھر سے نکلنے پر دوست بہت تنگ کرتے ہیں ۔اس لیے مجبوراً خانہ نشینی اختیار کرلی ہے ۔لیکن ستم تو یہ ہے کہ اب چند اصحاب کی طرف سے یہ پیغام ملا ہے کہ اگر آٹھ یوم میں ہمارا مطالبہ پورا نہ کیا گیا یعنی ڈاڑھی نہ منڈوائی گئی تو تمام برادری سے متفقہ بائیکاٹ کرایا جائے گا۔بڑی عمر میں بشوق رکھ لینا، مگر اب اگر تم رکھو گے تو زبردستی سے کام لیا جائے گا۔میں ڈاڑھی کو پابندیِ احکام شریعت میں بہت ممد پاتا ہوں۔مثلاً مجھے سینما بینی کا شوق تھا مگر ڈاڑھی رکھنے کے بعد سینما ہال میں جانے سے شرم معلوم ہوتی ہے ۔لیکن جب مخالفین کے دلائل سنتا ہوں تو کبھی کبھی یہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہی لوگ ٹھیک کہتے ہیں۔ مگر پھر یہ جذبہ کا م کرنے لگ جاتا ہے کہ چاہے پوری دنیا میری مخالفت پر اُتر آئے، میرے رویے میں کوئی تبدیلی نہ ہو گی۔ لِلّٰہ میری رہنمائی کیجیے تاکہ مجھے اطمینان نصیب ہو۔
جواب: جب آپ نے سنتِ رسولؐ سمجھ کر یہ کام کیا ہے تو پھر کسی کے اعتراض و مخالفت کی پروا نہ کیجیے اور سب سے کہہ دیجیے کہ یہ ڈاڑھی رہنے کے لیے آئی ہے، جانے کے لیے نہیںآئی، اس کے ہوتے ہوئے اگر آپ میرے ساتھ تعلقات رکھ سکتے ہیں تو رکھیے، اور آپ کے لیے سنتِ رسولؐ اس قدر ناقابلِ برداشت ہے کہ اس کی وجہ سے میرے ساتھ بھی تعلقات رکھنا ناگوار ہے تو بخوشی قطع تعلق کرلیجیے،میرے لیے خدا ورسولؐ کافی ہیں۔
(ترجمان القرآن۔رجب،شعبان ۶۴ھ۔ جولائی اگست ۴۵ء)