مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد اول

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "رسائل و مسائل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تصنیف ہے جو مختلف شرعی، اخلاقی، سماجی اور فکری مسائل پر ان کے جوابات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دینِ اسلام کو صرف رسمی عبادات تک محدود نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک جامع نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا جائے جو ہر شعبۂ زندگی کو اپنے دائرۂ اثر میں لے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب میں صرف فقہی جزویات پر بحث نہیں کی بلکہ ہر مسئلے کو اس کے اصولی، فکری اور اجتماعی تناظر میں دیکھا ہے تاکہ قاری کو صرف حکم نہیں بلکہ اس کی حکمتِ تشریع بھی سمجھ آئے۔

کتاب کا آغاز نواقضِ وضو کے مسئلے سے ہوتا ہے، جہاں مولانا واضح کرتے ہیں کہ شریعت کا ضابطۂ طہارت محض ظاہری نجاست کی بنیاد پر نہیں بلکہ پانچ اہم مقاصد—نظافت کی عادت، معنوی تیاری، نفس کی نگرانی، ضابطے کی وضاحت، اور اعتدال—کی روشنی میں تشکیل پایا ہے۔ اس کے بعد وہ آلات کے ذریعے توالد کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے اسے انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف فطرت کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسلامی تصورِ نسل کشی اور خاندانی نظام کو بھی تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔

مشینی امامت، آلاتِ موسیقی، عذرِ مجبوری میں غیر اللہ کی اطاعت، دعا میں ہاتھ اٹھانا، سفر میں قصرِ صلوٰۃ، ہندستان میں گائے کی قربانی، اور جبری امتناع کی صورت میں مباحات کا وجوب—یہ تمام ابواب اسی اصول پر مبنی ہیں کہ اسلام کا ہر حکم ایک جامع نظام کا حصہ ہے جس کا مرکز توحید ہے۔ اسی سلسلے میں چند مسائل تقابلی مذہب اور سائنس سے متعلق بھی ہیں—ایک ہندو دوست کے خط کا جواب، گائے اور تناسخ کا تصور، اور کائناتی و حیاتی ارتقا پر اسلامی نقطۂ نظر۔

کتاب کا ایک اور اہم حصہ معاشی و کاروباری فقہ پر مشتمل ہے: سرکاری نرخ بندی، بکری ٹیکس، مکانوں کے کرایوں میں بلیک مارکیٹنگ، سود سے پاک بینکاری کی ایک تجویز، اور کاروبار میں اسلامی اصولِ اخلاق کا اطلاق۔ آخری حصہ سیاسی و تنظیمی سوالات کا احاطہ کرتا ہے—مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت، مطالبۂ پاکستان، صوبہ سرحد کا ریفرنڈم، غیر اسلامی قانون ساز مجالس کی رکنیت کا مسئلہ، مزدوروں کی ہڑتالوں میں جماعتِ اسلامی کی پالیسی، اور قضیۂ فلسطین میں جماعت کا رویہ—جو مجموعی طور پر دکھاتے ہیں کہ مولانا کے نزدیک فقہی جزئیات اور اجتماعی و سیاسی مسائل دونوں ایک ہی اصولی نقطۂ نظر سے حل کیے جانے چاہئیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مزید تصریحات:

سوال: آپ کی جملہ تصانیف اور سابق عنایت نامہ پڑھنے کے بعد میں یہ فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ خالص اسلامی طرز کی حکومت قائم کرنے کے خواہاں ہیں اور اس اسلامی حکومت کے عہد میں ذمی اور اہلِ کتاب کی حیثیت بالکل ایسی ہی ہوگی جیسی ہندوئوں میں اچھوتوں کی۔

آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ’’ہندوئوں کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی،ان کو مذہبی تعلیم کا انتظام کرنے کاحق دیا جائے گا‘‘۔مگر آپ نے یہ نہیں تحریر فرمایا کہ آیا ہندوئوں کو تبلیغ کا حق بھی حاصل ہوگا یا نہیں؟آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’جو بھی اس حکومت کے اصول کو تسلیم کرلے وہ اس کے چلانے میں حصے دار ہوسکتا ہے،خواہ وہ ہندو زادہ ہو یا سکھ زادہ‘‘۔ براہ کر م اس کی توضیح کیجیے کہ ایک ہندو،ہندو رہتے ہوئے بھی کیا آپ کی حکومت کے اُصولوں پر ایمان لا کر اسے چلانے میں شریک ہوسکتا ہے؟

پھر آپ نے فرمایا ہے کہ’’ اہلِ کتاب کی عورتوں سے مسلمان نکاح کرسکتے ہیں‘‘ مگر آپ نے ساتھ ہی یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اہلِ کتاب بھی مسلم عورتوں سے نکاح کرسکتے ہیں یا نہیں؟اگر جواب نفی میں ہے تو کیا آپ اس احساسِ برتری(superiority complex)کے بارے میں مزید روشنی ڈالیں گے؟اگر آپ اس کے اثبات (justification) کے لیے اسلام پر ایمان کی اوٹ لیں تو کیا آپ یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ موجودہ نام نہاد مسلمان آپ کے قول کے مطابق ان اسلامی قواعد اورکیرکٹر کے اُصولوں پر پورے اُتریں گے؟ آج کے مسلمان کی بات تو الگ رہی، کیا آپ یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ خلافتِ راشدہ کے عہد میں اکثر وبیش تر جو لوگ اسلام لائے،وہ زیادہ تر سیاسی اقتدار کے خواہاں تھے؟ اگر آپ یہ تسلیم کرنے سے قاصر ہیں تو فرمایئے کہ پھر وہ اسلامی حکومت کیوں صرف تیس پینتیس سال چل کر رہ گئی؟ پھر کیوں حضرت علیؓ جیسے مدبر اور مجاہدکی اس قدر مخالفت ہوئی اور مخالفین میں حضرت عائشہؓ صاحبہ تک تھیں؟

آپ حکومت ِالٰہیہ کے خواہاں ہوتے ہوئے پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں۔ کیا آپ اپنی حکومت ِالٰہیہ ملکی حدود کے بغیر ہی نافذ کرسکیں گے؟یقینا نہیں، تو پھر آپ کی حکومتِ الٰہیہ کے لیے ملکی حد ود بہرحال وہی موزوں ہوسکتی ہیں جہاں مسٹر جناح اور ان کے ساتھی پاکستان کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔آپ پاکستان کی حدود کے علاوہ کیوں سارے ہندستان میں حکومت الٰہیہ نافذ کریں گے؟نیز یہ گرہ بھی کھولیے کہ آپ موجودہ ماحول میں اس طرزِ حکومت کو چلانے کے لیے ایسے بلند اخلاق اور بہترین کیرکٹر کی شخصیتیں کہاں سے پیدا کریں گے؟جب کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ،حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان غنیؓ جیسے عدیم المثال بزرگ اسے چند سالوں سے زیادہ نہ چلاسکے۔چودہ سو سال کے بعد ایسے کون سے موافق حالات آپ کے پیشِ نظر ہیں جن کی بِنا پر آپ کی دُور رَس نگاہیں حکومتِ الٰہیہ کو عملی صورت میں دیکھ رہی ہیں؟اس میں شک نہیں کہ آپ کا پیغام ہر خیال کے مسلمانوں میں زور شور سے پھیل رہا ہے اور مجھے جس قدر بھی مسلمانوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے ،وہ سب اس خیال کے حامی ہیں کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ عین اسلام ہے۔ مگر ہر شخص کا اعتراض یہی ہے جو میں نے گذشتہ سطورمیں پیش کیا ہے، یعنی آپ کے پاس عہدِ خلافت ِ راشدہ کی اُصولی حکومت چلانے کے لیے فی زمانہ کیرکٹر کے آدمی کہاں ہیں؟ پھر جب کہ وہ بہترین نمونے کی ہستیاں اس نظام کو نصف صدی تک بھی کام یابی سے نہ چلا سکیں تو اس دور میں اس طرز کی حکومت کا خیال خوش فہمی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟

علاوہ بریں ایک چیز اور بھی عرض کرنا چاہتا ہوں۔ کچھ مدت پہلے میرا یہ خیال تھا کہ صرف ہم ہندوئوں میں ہی ایک مشترکہ نصب العین نہیں ہے۔ بخلاف اس کے مسلمانوں میں اجتماعی زندگی ہے اور ان کے سامنے واحد نصب العین ہے۔ لیکن اب اسلامی سیاست کا بغور مطالعہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں کاحال ہم سے بھی دگرگوں ہے۔آپ سے چھپائوں نہیں میں نے تقریباً مختلف مراکز فکر کے مسلم رہنمائوں سے ان کے نصب العین اورطریقۂ کار کے بارے میں ایک متلاشیِ حق کی حیثیت سے چند ایک امور جو میرے لیے تحقیق طلب تھے،دریافت کیے۔ ان کے جوابات موصول ہونے پر میرا پہلا خیال غلط نکلا اور معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں بھی طریقۂ کار اور نصب العین کے بارے میں زبردست اختلاف پایا جاتا ہے۔

[اس موقع پر مستفسر نے جماعت اسلامی سے اختلاف رکھنے والے بعض اصحاب کی تحریروں سے چند سطور نقل کی ہیں۔انہیں حذف کیا جاتا ہے]

ملاحظہ فرمایا آپ نے؟ آپ کے مشترک العقیدہ رہنما کس شدید اختلافِ آرا میں مبتلا ہیں۔ان ٹھوس حقائق اور واقعات کو نظر انداز کرکے محض کتابوں کے صفحات پر ایک چیز کو نظریے کی شکل میں پیش کردینا اور بات ہے اور اسے عملی جامہ پہنانا قطعاً مختلف چیز ہے۔سیاست ایک ٹھوس حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔کیا آپ میرے اس سارے التماس کو سامنے رکھ کراپنے طریقۂ کار اور راہِ عمل سے بہ تفصیل مطلع فرمائیں گے؟

جواب: آپ کے سوالات کا سرا حقیقت میں ابھی تک میں نہیں پاسکاہوں۔اس وجہ سے جو جوابات میں دیتا ہوں،ان میں سے کچھ اور ایسے سوالات نکل آتے ہیں جن کے نکلنے کی مجھے توقع نہیں ہوتی۔اگر آپ پہلے بنیادی امور سے بات شروع کریں اور پھر بتدریج فروعی معاملات اور وقتی سیاسیات(Current politics) کی طرف آئیں تو چاہے آپ مجھ سے متفق نہ ہوں لیکن کم ازکم مجھے اچھی طرح سمجھ ضرور لیں گے۔سرِدست تو میں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ میری پوزیشن آپ کے سامنے پوری طرح واضح نہیں ہے۔

آپ نے اپنے عنایت نامے میںتحریر فرمایا ہے کہ’ ’جس اسلامی حکومت کا میں خواب دیکھ رہا ہوں ،اس میں ذمّی اور اہلِ کتاب کی حیثیت وہی ہوگی جو ہندوئوں میں اچھوتوں کی ہے‘‘۔مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا ۔یا تو آپ ذمّیوں کی حیثیت میرے صاف صاف بیان کردینے کے باوجود نہیں سمجھے ہیں ’یا ہندوئوں‘ میں اُچھوتوں کی حیثیت سے واقف نہیں ہیں۔اوّل تو اچھوتوں کی جو حیثیت ’’منّو‘‘ کے ’’دھرم شاستر‘‘ سے معلوم ہوتی ہے،اس کو ان حقوق ومراعات سے کوئی نسبت نہیں ہے جو اسلامی فقہ میں ذمّیوں کو دیے گئے ہیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اچھوت پن کی بنیادنسلی امتیازپر ہے اور ذمیت کی بنیادمحض عقیدے پر۔ اگر ذمی اسلام قبول کرلے تو وہ ہمارا امیر وامام تک بن سکتا ہے۔ مگر کیا ایک شودر کسی عقیدہ ومسلک کو قبول کرلینے کے بعد ورن آشرم کی پابندیوں سے بری ہوسکتا ہے؟

آپ کا یہ سوال بہت ہی عجیب ہے کہ’’ کیا ایک ہندو ہندو رہتے ہوئے بھی آپ کی حکومت کے اُصولوں پر ایمان لاکر اسے چلانے میں شریک ہوسکتا ہے ؟‘‘شاید آپ نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اسلامی حکومت کے اُصولوں پر ایمان لے آنے کے بعد ہندوہندو کب رہے گا ،وہ تو مسلم ہوجائے گا۔آج جو کروڑوں ’’ہندو زادے‘‘اس ملک میں مسلمان ہیں، وہ اسلام کے اُصولوں پر ایمان لا کر ہی تو مسلمان ہوئے ہیں۔اسی طرح آیندہ جو ہندو زادے اسے مان لیں گے،وہ بھی مسلم ہوجائیں گے۔ اور جب وہ مسلم ہوجائیں گے تو یقینا اسلامی حکومت کو چلانے میں وہ ہمارے ساتھ برابر کے شریک ہوں گے۔

آپ کا یہ سوال کہ آیا ہندوئوں کو اسلامی ریاست میں تبلیغ کا حق بھی حاصل ہوگا یا نہیں، جتنا مختصر ہے اس کا جواب اتنا مختصر نہیں ہے۔تبلیغ کی کئی شکلیں ہیں۔ ایک شکل یہ ہے کہ کوئی مذہبی گروہ خود اپنی آیندہ نسلوں کو اور اپنے عوام کو اپنے مذہب کی تعلیم دے۔ اس کا حق تمام ذمّی گروہوں کوحاصل ہو گا۔ دوسری شکل یہ ہے کہ کوئی مذہبی گروہ تحریر یا تقریر کے ذریعے سے اپنے مذہب کو دوسروں کے سامنے پیش کرے اور اسلام سمیت دوسرے مسلکوں سے اپنے وجوہِ اختلاف کو علمی حیثیت سے بیان کرے۔ اس کی اجازت بھی ذمّیوں کو ہوگی،مگر ہم کسی مسلمان کو اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے اپنا دین تبدیل کرنے کی اجازت نہ دیں گے۔ تیسری شکل یہ ہے کہ کوئی گروہ اپنے مذہب کی بنیاد پر ایک منظم تحریک ایسی اُٹھائے جس کی غرض یا جس کا مآل یہ ہو کہ ملک کا نظامِ زندگی تبدیل ہوکر اسلامی اُصولوں کے بجائے اس کے اُصولوں پر قائم ہوجائے۔ایسی تبلیغ کی اجازت ہم اپنے حدود اقتدار میں کسی کو نہیں دیں گے۔اس مسئلے پر میرا مفصل مضمون’’ اسلام میں قتل ِ مرتد کا حکم‘‘ ملاحظہ فرمایئے۔[یہ مضمون اب کتابی شکل میں شائع کیا جاچکا ہے۔]

اہلِ کتاب کی عورتوں سے مسلمان کانکاح جائز اور مسلمان عورتوں سے اہلِ کتاب کا نکاح ناجائز ہونے کی بنیاد کسی احساسِ برتری پر نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نفسیاتی حقیقت پر مبنی ہے۔مرد بالعموم متاثر کم ہوتا ہے اور اثر زیادہ ڈالتا ہے۔عورت بالعموم متاثر زیادہ ہوتی ہے اور اثر کم ڈالتی ہے۔ ایک غیر مسلمہ اگر کسی مسلمان کے نکاح میں آئے تو اس کا امکان کم ہوتا ہے کہ وہ اس مسلمان کو غیر مسلم بنالے گی، اور اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ وہ مسلمان ہوجائے گی۔ لیکن ایک مسلمان عورت اگر کسی غیر مسلم کے نکاح میں چلی جائے تو اس کے غیر مسلمہ ہوجانے کا بہت زیادہ اندیشہ ہے اور اس بات کی توقع بہت کم ہے کہ وہ اپنے شوہر کو اور اپنی اولاد کو مسلمان بناسکے گی۔ اسی لیے مسلمانوں کو اس کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اپنی لڑکیوں کا نکاح غیر مسلموں سے کریں۔ البتہ اگر اہل کتاب میں سے کوئی شخص خود اپنی بیٹی مسلمان کو دینے پر راضی ہو تو مسلمان اس سے نکاح کرسکتا ہے۔لیکن قرآن میں جہاں اس چیز کی اجازت دی گئی ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر غیر مسلم بیوی کی محبت میں مبتلا ہوکر تم نے ایمان کھو دیا تو تمہارا سب کیا کرایا برباد ہوجائے گا اور آخرت میں تم خسارے میں رہو گے۔نیز یہ اجازت ایسی ہے جس سے خاص ضرورتوں کے مواقع پر ہی فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ یہ کوئی پسندیدہ فعل نہیں ہے جسے قبولِ عام حاصل ہو،بلکہ بعض حالات میں تو اس سے منع بھی کیاگیا ہے تاکہ مسلمانوںکی سوسائٹی میں غیر مسلم عناصر کے داخل ہونے سے کسی نامناسب اخلاقی اور اعتقادی حالت کا نشو ونما نہ ہوسکے۔

آپ کا یہ سوال کہ اسلامی حکومت صرف تیس پینتیس سال چل کر کیوں رہ گئی، ایک اہم تاریخی مسئلے سے متعلق ہے۔اگر آپ اسلامی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو اس کے اسباب سمجھنا آپ کے لیے کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا۔ کسی خاص اُصول کی علم برادر جماعت جو نظامِ زندگی قائم کرتی ہے، اس کا اپنی پوری شان کے ساتھ چلنا اور قائم رہنا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ لیڈر شپ ایک ایسے چیدہ گروہ کے ہاتھ میں رہے جو اس اصول کاسچا اور سرگرم پیرو ہے۔ اور لیڈر شپ ایسے گروہ کے ہاتھ میں صرف اسی حالت میں رہ سکتی ہے جب کہ عام باشندوں پر اس گروہ کی گرفت قائم رہے اوران کی عظیم اکثریت کم ازکم اس حد تک تعلیم وتربیت پائے ہوئے ہو کہ اسے اس خاص اُصول کے ساتھ گہری وابستگی بھی ہو اور وہ ان لوگوں کی بات سننے کے لیے تیار بھی نہ ہو جو اس اُصول سے ہٹ کر کسی دوسرے طریقے کی طرف بلانے والے ہوں۔یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینے کے بعد اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو تمدنی انقلاب رونما ہوا اور جو نیا نظامِ زندگی قائم ہوا،اس کی بنیاد یہ تھی کہ عرب کی آبادی میں ایک طرح کا اخلاقی انقلاب(Moral Revolution)واقع ہوچکا تھا اور آنحضرت ؐ کی قیادت میں صالح انسانوں کاجو مختصر گروہ تیار ہوا تھا،اس کی قیادت تمام اہلِ عرب نے تسلیم کرلی تھی ۔لیکن آگے چل کر عہدِ خلافت ِ راشدہ میں جب ملک پر ملک فتح ہونے شرو ع ہوئے تو اسلام کی مملکت میں توسیع بہت تیزی کے ساتھ ہونے لگی اور استحکام اتنی تیزی کے ساتھ نہ ہوسکا۔ چوں کہ اس زمانے میں نشرو اشاعت اور تعلیم وتبلیغ کے ذرائع اتنے نہ تھے جتنے آج ہیں اور نہ وسائلِ حمل ونقل موجوہ زمانے کے مانند تھے، اس لیے جو فوج در فوج انسان اس نئی مسلم سوسائٹی میں داخل ہونے شروع ہوئے،ان کو اخلاقی،ذہنی اور عملی حیثیت سے اسلامی تحریک میں مکمل طورپر جذب کرنے کا انتظام نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانو ں کی عام آبادی میں صحیح قسم کے مسلمانوں کا تناسب بہت کم رہ گیا اور خام قسم کے مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ لیکن اُصولاً ان مسلمانوں کے حقوق اور اختیارات اور سوسائٹی میں اُ ن کی حیثیت صحیح قسم کے مسلمانوں کی بہ نسبت کچھ بھی مختلف نہ ہوسکتی تھی۔اسی وجہ سے جب حضرت علیؓ کے زمانے میں ارتجاعی تحریکیں(یعنی جن کا مقصد اسلام سے پھر کسی نہ کسی طرح کی جاہلیت کی طرف پلٹ جانا تھا۔)(reactionary movements)رونما ہوئیں تو مسلمان پبلک کا ایک بہت بڑا حصہ ان سے متاثر ہوگیا اورلیڈر شپ ان لوگوں کے ہاتھ سے نکل گئی جو ٹھیٹھ اسلامی طرز پر کام کرنے والے تھے۔اس تاریخی حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد ہمیں یہ واقعہ ذرہ برابر بھی دل شکستہ نہیں کرتا کہ خالص اسلامی حکومت تیس پینتیس سال سے زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہ سکی۔

آج اگر ہم ایک صالح گروہ اس ذہنیت، اس اخلاق،اور اس سیرت کے انسانوں کا منظم کرسکیں جو اسلام کے منشا کے مطابق ہو، تو ہم اُمید رکھتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے ذرائع ووسائل سے فائدہ اُٹھا کر نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی ہم ایک اخلاقی وتمدنی انقلاب برپا کرسکیں گے، اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ایسے گروہ کے منظم ہوجانے کے بعد عام انسانوں کی قیادت اس گروہ کے سواکسی دوسری پارٹی کے ہاتھ میں نہیں جاسکتی۔آپ مسلمانو ں کی موجودہ حالت کو دیکھ کر جو رائے قائم کررہے ہیں،وہ اس حالت پر چسپاں نہیں ہوسکتی جو ہمارے پیشِ نظر ہے۔

اگر صحیح اخلاق کے حامل انسان میدانِ عمل میں آجائیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلمان عوام ہی نہیں بلکہ ہندو،عیسائی، پارسی اور سکھ سب ان کے گرویدہ ہوجائیں گے اور خود اپنے ہم مذہب لیڈروں کو چھوڑ کر اُن پر اعتماد کرنے لگیں گے۔ ایسے ہی ایک گروہ کو تربیت اور تعلیم اور تنظیم کے ذریعے سے تیار کرنا اس وقت میرے پیش نظر ہے،اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اس کام میں وہ میری مدد کرے۔

’’حکومتِ الٰہیہ‘‘ اور’’پاکستان ‘‘کے فرق کے متعلق جو سوال آپ نے کیا ہے،اس کا جواب آپ میری کتابوں میں پاسکتے تھے مگر وہ شاید آپ کی نظر سے نہیں گزریں۔پاکستان کے مطالبے کی بنیاد قومیت کے اُصول پر ہے،یعنی مسلمان قوم کے افراد جہاں اکثریت میں ہوں ،وہاں انہیں اپنی حکومت قائم کرنے کا حق حاصل ہو۔بخلاف اس کے تحریکِ حکومتِ الٰہیہ کی بنیاد اسلام کا اُصول ہے۔ پاکستان صرف ان لوگوں کو اپیل کرسکتا ہے جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن حکومت الٰہیہ کی دعوت تمام انسانوں کو اپیل کرسکتی ہے،خواہ وہ پیدایشی مسلمان ہوں یا پیدایشی ہندو یا کوئی اور… پاکستان صرف وہیں قائم ہوسکتا ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور اس بات کی بہت کم توقع ہے کہ اس تحریک کے نتیجے میں ایک خالص اسلامی حکومت قائم ہوگی،کیوں کہ خالص اسلامی حکومت کا قیام جس اخلاقی انقلاب پر منحصر ہے، وہ پاکستان کی تحریک سے رُونما نہیں ہوسکتا۔ لیکن حکومتِ الٰہیہ اس کی محتاج نہیں ہے کہ کسی جگہ مسلمان قوم کی اکثریت پہلے سے موجود ہو۔ وہ تو ایک اخلاقی اور ذہنی اور تمدنی انقلاب کی دعوت ہے اور سارے انسانوں کے لیے خود انہی کی فلاح کے چند اصول پیش کرتی ہے۔ اس دعوت کو اگر پنجاب یا سندھ سب سے پہلے آگے بڑھ کر قبو ل کرلیں تو حکومت ِ الٰہیہ یہاں قائم ہوسکتی ہے اور اگر مدراس یا بمبئی یا کوئی دوسرا علاقہ پیش قدمی کرکے اسے قبول کرلے تو حکومت ِ الٰہیہ وہاں قائم ہوسکتی ہے۔ہم اس دعوت کو مسلمان،ہندو ،سکھ، عیسائی،ہر ایک کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ مسلمانوں کی کوئی قومی جائدا د نہیں ہے ،بلکہ تمام مسلمانوں کی فلاح کے چند اُصول ہیں۔ہوسکتا ہے کہ پیدایشی مسلمان اس دعوت کو قبول کرنے میں کوتاہی دکھائیں اور پیدایشی ہندو آگے بڑھ کر اسے قبول کرلیں۔

آپ کایہ خیال بالکل صحیح ہے کہ اس وقت مسلمانو ںمیں ایک مشترکہ مقصد اور نصب العین کا فقدان ہندوئوں سے بھی کچھ زیادہ پایا جاتا ہے۔درحقیقت یہ سب کچھ نتیجہ ہے اسلام سے بے نیاز ہوکر دنیوی معاملات کو خواہشاتِ نفس اور غیر مسلم طور طریقوں کی تقلید سے حل کرنے کی کوشش کا۔اگر مسلمان خالص اسلامی اُصول پر اپنے انفرادی واجتماعی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے تو آپ ان کو ایک ہی مقصد اور ایک ہی نصب العین کے پیچھے اپنی ساری قوتیں صَرف کرتے ہوئے پاتے۔ آپ نے مسلمانوں کے اندر خیالات اور اعمال کا جو انتشار محسوس کیا ہے اسے میں بھی ایک مدت سے دیکھ رہا ہوں اور ہماری اسلامی تحریک کے ساتھ مسلمانوں کے مختلف طبقوں کا جو رویہ ہے وہ بھی میر ی نگاہ میں ہے۔ مگر ان چیزوں سے میرے اندر کوئی بددلی پیدا نہیں ہوتی۔ کیوں کہ ان باتوں کی تہ میں جو اصلی خرابی ہے ،اسے میں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ صرف یہی نہیں کہ میں بددل نہیں ہوں بلکہ ایک بڑی حد تک پراُمیدہوں ۔جیسا کہ آپ نے خود بھی تحریر فرمایاہے ،مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ بڑی تیزی کے ساتھ اس بات کو تسلیم کرتا جارہا ہے کہ جو چیز میں پیش کررہا ہوں، یہی اصلی اور خالص اسلام ہے۔ اس کے ساتھ میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ مسلمانوں کے موجودہ مختلف گروہ جس طرز پر کام کررہے ہیں،اس سے ان کافلاح کی منزل تک پہنچنا تقریباًمحال ہے۔لہٰذا اس امر کا قوی امکان ہے کہ مستقبل قریب میں مسلمان نوجوان ان مختلف گروہوں سے اور ان کی سیاست سے مایوس ہوجائیں گے اور ان کے لیے خالص اسلام کے اُصولوں پر کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا۔صرف یہی نہیں بلکہ میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہندوئوں میں بھی جب قوم پرستی سیاسی آزادی کی منزل پر پہنچ جائے گی تو انہیں سیاست اور معاشرت اور تمدن کی مشینری کو چلانے کے لیے کچھ اُصول درکار ہوں گے اور وہ گاندھی جی کے فلسفے میں ،یاکانگریس کی وطن پرستی اور ہندو مہا سبھا کی قوم پرستی میں نہ مل سکیں گے۔اس وقت ان کے لیے صرف دو ہی راستے ہوں گے۔ یا اشتراکیت کے اُصولوں کو اختیار کریں، یا پھر اسلام کے اُصولوں کو قبول کر لیں۔ اس موقع کے پیش آنے تک اگر ہم اُصولِ اسلام کے بے لاگ داعیوں کا ایک صالح گروہ منظم کرنے میں کام یاب ہوگئے تومجھے ۸۰ فی صدی اُمید ہے کہ ہم اپنے ہندو اور سکھ بھائیوں کو اشتراکیت سے بچانے اور اسلام کے اُصولوں کی طرف کھینچ لانے میں کام یاب ہوجائیں گے۔

ہمارے اس مقصد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں اور ہندوئو ں کی موجودہ قومی کش مکش ہے۔مگر ہم اُ مید کرتے ہیں کہ جس طریقے پر ہم اس وقت کام کررہے ہیں،اس سے ہم ہندوئوں اورسکھوں اور دوسری غیر مسلم قوموں کے اس تعصب کو جو وہ اسلام کے خلاف رکھتے ہیںبالآخر دور کردیں گے اور انہیں اس بات پر آمادہ کرلیں گے کہ وہ اسلام کو خالص اُصولی حیثیت سے دیکھیں نہ کہ اس قوم کے مذہب کی حیثیت سے جس کے ساتھ دنیوی اغراض کے لیے ان کی مدتوں سے کش مکش برپا ہے۔

( ترجما ن القرآن۔ذی القعدہ،ذی الحجہ۶۳ھ۔ نومبر،دسمبر ۴۴ء)