رسائل ومسائل – جلد اول
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "رسائل و مسائل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تصنیف ہے جو مختلف شرعی، اخلاقی، سماجی اور فکری مسائل پر ان کے جوابات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دینِ اسلام کو صرف رسمی عبادات تک محدود نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک جامع نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا جائے جو ہر شعبۂ زندگی کو اپنے دائرۂ اثر میں لے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب میں صرف فقہی جزویات پر بحث نہیں کی بلکہ ہر مسئلے کو اس کے اصولی، فکری اور اجتماعی تناظر میں دیکھا ہے تاکہ قاری کو صرف حکم نہیں بلکہ اس کی حکمتِ تشریع بھی سمجھ آئے۔
کتاب کا آغاز نواقضِ وضو کے مسئلے سے ہوتا ہے، جہاں مولانا واضح کرتے ہیں کہ شریعت کا ضابطۂ طہارت محض ظاہری نجاست کی بنیاد پر نہیں بلکہ پانچ اہم مقاصد—نظافت کی عادت، معنوی تیاری، نفس کی نگرانی، ضابطے کی وضاحت، اور اعتدال—کی روشنی میں تشکیل پایا ہے۔ اس کے بعد وہ آلات کے ذریعے توالد کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے اسے انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف فطرت کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسلامی تصورِ نسل کشی اور خاندانی نظام کو بھی تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔
مشینی امامت، آلاتِ موسیقی، عذرِ مجبوری میں غیر اللہ کی اطاعت، دعا میں ہاتھ اٹھانا، سفر میں قصرِ صلوٰۃ، ہندستان میں گائے کی قربانی، اور جبری امتناع کی صورت میں مباحات کا وجوب—یہ تمام ابواب اسی اصول پر مبنی ہیں کہ اسلام کا ہر حکم ایک جامع نظام کا حصہ ہے جس کا مرکز توحید ہے۔ اسی سلسلے میں چند مسائل تقابلی مذہب اور سائنس سے متعلق بھی ہیں—ایک ہندو دوست کے خط کا جواب، گائے اور تناسخ کا تصور، اور کائناتی و حیاتی ارتقا پر اسلامی نقطۂ نظر۔
کتاب کا ایک اور اہم حصہ معاشی و کاروباری فقہ پر مشتمل ہے: سرکاری نرخ بندی، بکری ٹیکس، مکانوں کے کرایوں میں بلیک مارکیٹنگ، سود سے پاک بینکاری کی ایک تجویز، اور کاروبار میں اسلامی اصولِ اخلاق کا اطلاق۔ آخری حصہ سیاسی و تنظیمی سوالات کا احاطہ کرتا ہے—مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت، مطالبۂ پاکستان، صوبہ سرحد کا ریفرنڈم، غیر اسلامی قانون ساز مجالس کی رکنیت کا مسئلہ، مزدوروں کی ہڑتالوں میں جماعتِ اسلامی کی پالیسی، اور قضیۂ فلسطین میں جماعت کا رویہ—جو مجموعی طور پر دکھاتے ہیں کہ مولانا کے نزدیک فقہی جزئیات اور اجتماعی و سیاسی مسائل دونوں ایک ہی اصولی نقطۂ نظر سے حل کیے جانے چاہئیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
گائے،تناسخ اور گرنتھ صاحب:
سوال: حسب ذیل اُمور کے متعلق اپنی معلومات کی روشنی میں حقیقت کی طرف رہنمائی فرمایئے:
(۱) گائے کی تعظیم وتقدیس جو ہندو بھائیوں میں رائج ہے،اس کی وجہ سے سیکڑوں دفعہ ہندو مسلم فسادات واقع ہوچکے ہیں۔آخر یہ کیا مسحوریت ہے کہ ہندوئوں میں بڑے بڑے معقول عالم موجود ہیں لیکن کوئی اس مسئلے کی نوعیت پر غور نہیں کرتا،حتیٰ کہ گاندھی جی جیسے فہمیدہ اور جہاں دیدہ لیڈ ر بھی مذہبیت کی اُسی کشتی پر سوار ہیںجسے عوام نے ایسے ہی چند مسائل پر جوڑ ملا کر تعمیر کیا ہے۔ آپ اس گائے کی پوجا پر روشنی ڈالیں اور واضح کریں کہ یہ کب سے شروع ہوئی اور کیسے پھیلی، تو ممکن ہے کہ کچھ حق پسند ہندو مطمئن ہوجائیں اور اپنی قوم کی اصلاح کریں۔
(۲) تناسخ کا عقیدہ ہندو قوم کے ہاں بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔مَیں نہیں کہہ سکتا کہ ہندوئوں کے سوا کوئی دوسری قوم بھی اس کی قائل ہوئی ہے یا نہیں،تاہم یہ عقیدہ بھی سنجیدہ تنقید کا مستحق ہے۔
(۳) سکھ قوم کی مذہبی کتاب ’’گرنتھ‘‘ صرف اخلاقی پندو نصائح کا مجموعہ ہے اوراس کو بلحاظ موضوع ومباحث ’’گلستاں‘‘،’’بوستاں‘‘ وغیرہ کتا بوں کی صف میں رکھا جاسکتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مذاہب کے صالح اور صوفی منش بزرگوں کے ارشادات ونصائح اس میں جمع کیے گئے ہیں۔ کتاب کو مدوّن کرنے والے کا منشا کچھ اور معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس منشا کے بالکل خلاف اب یہ ایک قوم کی الہامی کتاب بن گئی ہے۔ حالاں کہ اس میں نہ تو تمدنی مسائل سے بحث ہے ،نہ معاشرت سے کوئی سروکار،نہ معاشیات وسیاسیات میں اس میں کوئی رہنمائی مل سکتی ہے۔ مگر میری عقل کام نہیں کرتی کہ تعلیم یافتہ اور ذہین لوگ تک کیوں کر اس پر مطمئن ہیں؟
جواب: آپ نے جو استفسارات کیے ہیں،ان میں سے ہر ایک مفصل بحث چاہتا ہے، لیکن میرے لیے اس وقت ان چیزوں پر تفصیلی بحث کرنا مشکل ہے۔ نمبروار تینوں مسئلوں پر مختصراً اظہارِ خیال کرتا ہوں:
(۱) ہند ومذہب کے متعلق میری معلومات اتنی زیادہ وسیع نہیں ہیں کہ میں اس کے کسی مسئلے پر تحقیقی بحث کرسکوں، اور بغیر کافی معلومات کے کسی چیز پر بحث وتنقیدکرنا مناسب نہیں ہے۔جو تھوڑی بہت واقفیت مجھے حاصل ہے، اس کی بِنا پر میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ قدیم عہد میں جس کو ویدک عہد کہا جاتا ہے،گائے کی تقدیس کا عقیدہ موجود نہ تھا، یا اگر تھا تو بالکل ابتدائی حالت میں تھا۔چنانچہ اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ اس دور میں ہندو گائے کی قربانی کیا کرتے تھے۔ علم الاقوام کی رُو سے بھی یہ ثابت ہے کہ قدیم آریہ قوم خانہ بدوش گلہ بانوں کی تہذیب سے تعلق رکھتی تھی، جس میں گائو پرستی قطعاً مفقود تھی۔بعد میں اس کا سابقہ اس مادری تہذیب سے ہوا جو ہندوستان کی دراوڑی قوموں اور عراق،مغربی ایشیا اور مصر میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس تہذیب کی حامل اقوام زراعت پیشہ تھیں اور ان میں گائے کی تقدیس پائی جاتی تھی۔پس تحقیق اسی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کو مصر سے گائو پرستی کی چھوت لگی اسی طرح قدیم آریوں کو بھی یہ چھوت ہندستان آکر لگی ہے۔ جہاں تک گائے کی پوجا کا تعلق ہے وہ تو ہندوئوں کے ایک خاص طبقے میں ہی پائی جاتی ہے لیکن اس کی تقدیس پوری ہندو قوم میں پھیلی ہوئی ہے،بلکہ جو لوگ ہندوئوں سے نکل کر اسلام یا عیسائی مذہب میں داخل ہوئے ہیںان کے بھی ایک اچھے خاصے عنصر میںاس کا کچھ نہ کچھ اثر محض اس لیے پایا جاتا ہے کہ ان کی تبدیلی ذہن پوری طرح نہیں ہوئی۔
خاص طور پر اس عقیدے کی تردید کے لیے کچھ کہنا غالباً مفید نہ ہوگا،کیوں کہ ایک غلط عقیدہ بہت سے دوسرے غلط عقائد کے ساتھ ہم رشتہ ہوتا ہے اور ایک ان سب کی اصل جڑ ہوا کرتی ہے۔ جب تک اصل اور شاخوں کے پورے سلسلے کی اصلاح نہ کی جائے، محض کسی ایک شاخ کو درست کرنے کی کوشش کام یاب نہیں ہوسکتی۔اس قسم کے تمام غلط عقائد کی جڑ یہ ہے کہ انسان اس کائنات کے نظام اور اُ س میں اپنے صحیح مقام اور مالکِ کائنات کے ساتھ اپنے اور دوسری موجودات کے تعلق کی نوعیت کو سمجھنے میں غلطی کرتا ہے۔اس ابتدائی اور بنیادی غلط فہمی سے نتیجے کے طور پر بے شمار غلط فہمیوں کا ایک سلسلہ پیدا ہوجاتا ہے جو سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہیں اور ایک پورا نظامِ فکر اور نظامِ زندگی پیدا کردیتی ہیں۔اگر کوئی شخص اس بات کو سمجھ لے کہ اس ساری کائنات کا ایک ہی خالق اور ایک ہی مالک ومتصرف اور ایک ہی حاکم ومدّبر ہے اور انسان دنیا میں اس کے خلیفہ و نائب کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے اور دنیا کی ساری چیزیں انسان کے لیے خادم بنائی گئی ہیں تو ایسا شخص شرک اور مخلوق پرستی اور مادّی یا روحانی یا خیالی چیزوں کی تقدیس کے ہر شائبے سے خود بخود پاک ہوجائے گا اوراس کے دل میں ایک خدا کے سوا کسی کی عبودیت اور کسی کی تقدیس کے لیے جگہ باقی نہ رہے گی۔پھر اگر کسی شخص میں صحیح قسم کا معقول پسندانہ رویہ(true rationalism)موجود ہو تو وہ موروثی تعصبات اور قومی ونسلی تعصبات اور شخصی ونفسیاتی تعصبات سے خود بخود خالی ہوجائے گا اور اپنی فکر اور اپنے عمل کو پوری بے لوثی کے ساتھ اس طریقے پر قائم کرے گا جو سرا سر معقول ہو۔
آپ کو اس بات پر تعجب ہے کہ ہندوئوں میں بڑے بڑے معقول آدمی موجود ہیں جو وسیع علم اور وسیع نظر رکھتے ہیں مگر پھر بھی ان عقائد اور خیالات میں مبتلا ہیں جو سرسری نظر میں بھی جاہلیت کے عقائد اور خیالات محسوس ہوتے ہیں۔اس قسم کا تعجب آپ نے آخری سوال کے سلسلے میں بھی ظاہر کیا ہے۔لیکن آپ دیکھیں گے کہ یہ صورت حال محض کسی ایک قوم ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میںکثرت سے پھیلی ہوئی ہے۔دنیامیں بہت سے غلط فکری اور اعتقادی نظام پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے پیرو وں میں آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جو اعلیٰ درجے کے تعلیم یافتہ اور نہایت ذکی وفہیم اور اپنے مسلک کی مخصوص گمراہیوں کے سوا دنیا کے تمام دوسرے معاملات میں غایت درجے معقول ہوں گے۔اس کے باوجود ان لوگوں کا ایسی ایسی گمراہیوں میںمبتلا ہونا جن میں سے بعض تو ان کے مخصوص مسلک کو ماننے والوں کے سوا دوسرے تمام لوگوں کو صریحاً غیر معقول محسوس ہوتی ہیں ،بظاہر ایک حیران کن معاملہ نظر آتا ہے۔ مگر اس کی حقیقت پر غور کیا جائے تو اِ س میں حیرت کی کوئی بات نہیں رہتی۔ اس صورت حال کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ انسانوں میں کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اپنی عقل اور علم کے استعمال کو زیادہ تر اپنے دنیوی کاروبار اور اپنی جسمانی زندگی کے معاملات ومسائل تک محدود رکھتے ہیں اور اس کی کچھ زیادہ پروا نہیں کرتے کہ جن فکری واخلاقی بنیادوں پر انہوں نے اپنی زندگی کو تعمیر کررکھا ہے یا جن بنیادوں پر تعمیر شدہ زندگی انہوں نے پہلے سے پائی ہے،ان کے متعلق تحقیق کرلیں کہ وہ بجائے خود صحیح بھی ہیں یا نہیں اور ان سے بہتر بنیادیں کہیں ان کو مل سکتی ہیں یا نہیں۔ اوراس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ انسانوں میں بہت ہی کم آدمی ایسے ہیں جو نسلی، قومی،شخصی اور نفسانی تعصبات سے آزادہوکر خالص علمی تحقیق اور خالص معقولیت پر اپنے طرز فکر وعمل کی بِنا رکھنے کے لیے آمادہ ہوں ،اگرچہ اس کے مدعی آپ کو بہت ملیں گے۔
(۲) تناسخ کا عقیدہ ہندوئوں کے سوا بعض دوسری قوموں میں بھی پایا گیا ہے اور اب بھی پایا جاتا ہے اور ہندستان سے باہر بھی بعض فلسفیانہ نظاموں میں اس کا نشان ملتا ہے۔ لیکن ہندستان میں جتنی زیادہ گہری جڑیں اس نے پکڑی ہیں،اس کی نظیر دوسری جگہ نہیں ملتی۔اس عقیدے کی اصل دو سوال ہیں جن کو انسان نے ہمیشہ حل کرنے کی کوشش کی ہے اور جو اکثر اپنے آپ کو مختلف شکلوں میں آدمی کے سامنے لاتے رہتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ دنیا میں مصائب اور آفات (جن میں موت بھی شامل ہے) کیوں پائے جاتے ہیں؟سراسر راحت،لذت، خوشی،سلامتی وعافیت اور ابدی زندگی ہی کیوں نہیں ہے؟اور دوسرا سوال یہ ہے کہ انسانی اعمال کے طبعی نتائج تو اس دنیا میں ایک مقرر ضابطے کے تحت نکلتے نظر آتے ہیں، لیکن اخلاقی نتائج (جن کے ظاہر ہونے کا انسانی فطرت آپ سے آپ مطالبہ کرتی ہے)کیوں ایک مقرر ضابطے کے مطابق ظاہر نہیں ہوتے؟اگر وہ سب یا ان کا ایک جز ظاہر ہونے کے لیے رُکا ہوا ہے تو اس کے ظہور کی شکل کیا ہے؟
ان دونوں سوالات کے بہت سے مختلف جوابات مختلف فلسفیانہ نظاموں میں ملتے ہیں مگر ان سب پر اس مختصر بحث میں گفتگو نہیں کی جاسکتی۔
ہندستان کے فلاسفہ نے،جن کے تصورات آگے چل کر مذاہب کی شکل اختیار کر گئے، ان سوالات کو کرم اور تناسخ کے عقیدے کی شکل میں حل کیا ہے۔وہ اس دنیا کو دارالامتحان کے بجائے ایک دارالعذاب اور ایک طرح کے جیل خانے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں،حیاتِ جسمانی کو فی الاصل مصیبت سمجھتے ہیں، اور جسم اور جسمانیات کے ساتھ انسان کے تعلق کو اس بات کی وجہ قرار دیتے ہیں کہ روح قیدِ جسم سے چھوٹ چھوٹ کر بار بار پھر اسی قید خانے میں واپس آتی ہے۔اُن کے نزدیک مصائب اور آفات اور آلام اور اسی طرح خوش حالیاں اور کام یاب زندگیاں ان برے یا اچھے اعمال کا نتیجہ ہیں جو رُوح نے اس وقت کیے تھے جب وہ موجودہ زندگی سے پہلے قیدِجسم میں تھی۔مزید برآں ان کا خیال یہ ہے کہ اعمال کے جو اخلاقی نتائج ایک زندگی میں پوری طرح یا اپنی اصلی شکل میں ظاہر نہیں ہوتے ،ان کے ظہور کی صورت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ انسان اسی دنیا میں بار بار آکر ان کو وصول کرتا رہے۔
یہ ایک وسیع نظام فکر ہے جس کا محض ایک خلاصہ میں نے یہاں بیان کیا ہے۔ یہ پوری زندگی کے متعلق انسان کے نقطۂ نظر اور زندگی کے ہر پہلو کے متعلق اس کے رویے کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے تمام فکری وعملی نتائج پر یہاں بحث کرنا مشکل ہے۔ میں صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھتا ہوں کہ دراصل یہ قیاسی فلسفوں(speculative philosophies)کے قبیل کی چیز ہے، اور اس قسم کے تمام فلسفیانہ نظامات کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے سامنے جو مسائل آتے ہیں،ان کو وہ محض تخیل اور منطق اور اٹکل سے کسی ایسے طور پر حل کرلینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے ان کو اپنی حد تک اپنے پیش نظر مسائل کا اطمینان بخش اور دل کو لگتا ہوا جواب مل جائے، قطع نظر اس سے کہ علم،تجربہ،مشاہدہ اور آثارِ کائنات سے اس کی کوئی شہادت ملے یا نہ ملے۔ قیاسی فلسفی اس شہادت کی سرے سے کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔اسے تو فقط اپنے پیشِ نظر سوالات کا ایسا جواب درکار ہوتا ہے جس پر وہ اور اس کے طرز پر سوچنے والے لوگ مطمئن ہوجائیں۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ ایسے قیاسات کا امرِ واقعی اور حقیقتِ نفس الامری کے مطابق ہونا کچھ ضروری نہیں ہے۔ بلکہ اس کی بہت کم توقع کی جاسکتی ہے۔ یہ تو ایک تیر ہے جو اندھیرے میں اٹکل سے چلایا جاتا ہے،نشانے پر لگے یا نہ لگے۔ تیر چلانے والے کو خود بھی اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس کی بھی پروا نہیں کرتا کہ کسی جگہ اس کے لگنے سے’’کھٹ‘‘ کی آواز بھی آتی ہے یا نہیں۔اس کو مطمئن کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ اپنے قیاس سے اس نے جس کو نشانے کا صحیح رُخ سمجھا، اس طرف اپنی حد تک ٹھیک ٹھیک شست باندھ کر تیر چلادیا۔ایسی تیر اندازی کا نشانے پر لگنا جتنا کچھ متوقع ہوسکتا ہے اتنی ہی کچھ قیاسی فلسفوں کے مطابق ِ حقیقت ہونے کی بھی توقع کی جاسکتی ہے۔
بہت سے قائلین ِ تناسخ خود بھی اپنے عقیدے کی اس خامی کو محسوس کرتے ہیں اور یہ اسی کی تلافی کی کوشش ہے جو کبھی کبھی اخبارات میں کسی ایسی بچی یا بچے کے ظہور کی اطلاع کی شکل میں رونما ہوتی رہتی ہے جو اپنے پچھلے جنم کے حالات سناتی یا سناتا ہے۔ لیکن اوّل تو یہی ایک عجیب بات ہے کہ ایسے بچے صرف ہندوئوں ہی میں پیدا ہوتے ہیں اور ہندو اخبارات تک ہی ان کی خبر پہنچتی ہے۔ دوسری اس سے عجیب تر بات یہ ہے کہ یہ حضرات اپنے فلسفے کی تائید میں تجربے و مشاہدے کے فقدان کی تلافی کے لیے کہیں ایک آدھ ایسے بچے کی پیدایش کو کافی سمجھ لیتے ہیں،حالاں کہ ان کے نظریے کی صحت کے لیے یہ ضروری ہے کہ سارے ہی بچے ایسے پیدا ہوں۔ اگر وہ سزا یا جزا جو انسان کو ایک جنم کے اعمال کی بنا پر دوسرے جنم میں ملتی ہے، طبعی جزا و سزا نہیں بلکہ اخلاقی جزا و سزا ہے تو ہر انسان کو اس کا شعور حاصل ہونا چاہیے کہ وہ کس چیز کی جزا یا سزا پا رہا ہے،کیوں کہ تمام اخلاقی اعمال لازمی طور پر شعوری اعمال ہوتے ہیں اور ان کا نتیجہ بھی لازماً شعوری ہی ہونا چاہیے۔
اس طریق کے برعکس جن لوگوں نے عقل اور اس کے مطالبات اور فطرت اور اس کے تقاضوں اور آثارِ کائنات اوراس کے اشاروں کو نظر انداز کرکے ٹھیٹھ ظاہر بینی کے ساتھ،اور ایک بڑی حد تک مذہبی طرز فکر سے انکار کی خواہش کے ساتھ،تجرہ ومشاہدہ پر اپنی رائے کی بنیاد رکھی ہے،انہوں نے پہلے سوال کی کنہ، کو پہنچنے کی تو ضرورت ہی محسوس نہیں کی بلکہ اپنی تحقیق ورائے کو ’’کیوں ہے‘‘ کے سوال کے بجائے بڑی حد تک صرف’’ کیا ہے‘‘ کے سوال تک محدود رکھا۔ رہا دوسرا سوال، تو اس کے متعلق انہوں نے کسی نہ کسی طرح اپنے نفس کو اس جواب ہی پر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ سارے اخلاقی نتائج بس اسی دنیا کی ایک ہی زندگی میں ظاہر ہولیتے ہیں جو موت پر ختم ہوجاتی ہے، اور اگر بالفرض وہ ظاہر نہیں ہوتے تب بھی بہرحال موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے کیوں کہ وہ براہِ راست ہمارے تجرہ ومشاہدہ میں نہیں آئی لیکن انسان خواہ کتنی ہی کوشش کرے، اس جواب سے اس کے قلب کا اطمینان کسی طرح ممکن نہیں۔
اب رہایہ امر کہ انبیا علیہم السلام کے لائے ہوئے دین میں ان دونوں سوالات کا کیا جواب ہے اور وہ کن دلائل سے معقول ترین جواب ہے، تو اس پر میں اپنے مضامین مثلاً’’رسالۂ دینیات‘‘’’اسلامی تہذیب اور اس کے اُصول ومبادی‘‘، ’’زندگی بعد موت‘‘،’’ اسلام اور جاہلیت‘‘ اور تفسیر سورۂ اعراف میں تفصیل کے ساتھ بحث کرچکا ہوں۔ لہٰذا یہاں اس کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ یہ واضح کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ تمام مابعد الطبیعیاتی مسائل میں یہ اُصول مشترک ہے کہ ان کا کوئی حل بھی، خواہ وہ نفی کی شکل میں ہو یا اثبات کی شکل میں ،ایسا قطعی الثبوت نہیں ہوسکتا جیسے دو اور دو کا چار ہونا قطعی الثبوت ہے کہ اس کو مان لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ایسے مسائل کا زیادہ سے زیادہ معقول حل، جس کے مطابق حقیقت ہونے کا اغلب گمان کیا جا سکتا ہو، صرف وہی ہو سکتا ہے جو عقل اور فطرت کے تمام مطالبوں اور تقاضوں کو پورا کرتا ہو، جس کی طرف آثارِ کائنات اور تجربات ومشاہدات میں واضح اشارات پائے جاتے ہوں،جس سے زندگی کے ان تمام مسائل کو حل کیا جاسکتا ہوجو اس خاص مسئلے سے دور یا قریب کا تعلق رکھتے ہیں، جس پر عقلاً کسی اعتراض کی گنجایش نہ ہو،جس کے مان لینے سے کچھ دوسرے ناقابلِ حل مسائل نہ پیدا ہوتے ہوں،جنہیں کسی دوسرے طریقے سے رفع کرنا ممکن نہ ہو، اور جس کے خلاف کوئی ثبوت نہ دیا جاسکتا ہو۔عقل زیادہ سے زیادہ ان سوالات کے کسی حل کو اغلبmost probable) (سمجھنے کی حد تک ہی ہمیں لے جاسکتی ہے۔اس کے آگے یقین حاصل کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے کہ ایسا حل پیش کرنے والوں کی زندگیوں کو، ان کے پیش کردہ پورے نظامِ فکر وعمل کی معقولیت کو اور ان کے کام اور اس کے نتائج کو دیکھ کر ان پر ایمان بالغیب لایا جائے۔
(۳) گرنتھ صاحب کا مطالعہ میں نے خود تو نہیں کیا۔جس حد تک میں نے مطالعہ کرنے والوں سے معلومات حاصل کی ہیں،ان کی بِنا پر میں آپ کے اس خیال سے متفق ہوں کہ سکھ مذہب محض ایک صوفیانہ مذہب ہے اور اس میں انسان کی زندگی کے بڑے بڑے مسائل مثلاً تمدن ومعاشرت، سیاست و معیشت، عدالت وقانون، صلح وجنگ وغیرہ کے متعلق کوئی ایسی ہدایت موجود نہیں ہے جس پر دنیا میں ایک سوسائٹی اور ایک اسٹیٹ کی تعمیر ہوسکے۔لیکن جس وجہ سے سکھوں کے تعلیم یافتہ اور صاحب فکر وفہم لوگ اپنی جستجوئے حق اور تلاشِ ہدایت کو معطل کیے ہوئے اس مذہب پر قانع ہیں،اس کی تشریح میں پہلے سوال کے جواب میں کرچکا ہوں۔
(ترجمان القرآن۔ صفر ۶۵ھ، جنوری ۴۶ء)