مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد اول

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "رسائل و مسائل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تصنیف ہے جو مختلف شرعی، اخلاقی، سماجی اور فکری مسائل پر ان کے جوابات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دینِ اسلام کو صرف رسمی عبادات تک محدود نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک جامع نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا جائے جو ہر شعبۂ زندگی کو اپنے دائرۂ اثر میں لے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب میں صرف فقہی جزویات پر بحث نہیں کی بلکہ ہر مسئلے کو اس کے اصولی، فکری اور اجتماعی تناظر میں دیکھا ہے تاکہ قاری کو صرف حکم نہیں بلکہ اس کی حکمتِ تشریع بھی سمجھ آئے۔

کتاب کا آغاز نواقضِ وضو کے مسئلے سے ہوتا ہے، جہاں مولانا واضح کرتے ہیں کہ شریعت کا ضابطۂ طہارت محض ظاہری نجاست کی بنیاد پر نہیں بلکہ پانچ اہم مقاصد—نظافت کی عادت، معنوی تیاری، نفس کی نگرانی، ضابطے کی وضاحت، اور اعتدال—کی روشنی میں تشکیل پایا ہے۔ اس کے بعد وہ آلات کے ذریعے توالد کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے اسے انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف فطرت کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسلامی تصورِ نسل کشی اور خاندانی نظام کو بھی تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔

مشینی امامت، آلاتِ موسیقی، عذرِ مجبوری میں غیر اللہ کی اطاعت، دعا میں ہاتھ اٹھانا، سفر میں قصرِ صلوٰۃ، ہندستان میں گائے کی قربانی، اور جبری امتناع کی صورت میں مباحات کا وجوب—یہ تمام ابواب اسی اصول پر مبنی ہیں کہ اسلام کا ہر حکم ایک جامع نظام کا حصہ ہے جس کا مرکز توحید ہے۔ اسی سلسلے میں چند مسائل تقابلی مذہب اور سائنس سے متعلق بھی ہیں—ایک ہندو دوست کے خط کا جواب، گائے اور تناسخ کا تصور، اور کائناتی و حیاتی ارتقا پر اسلامی نقطۂ نظر۔

کتاب کا ایک اور اہم حصہ معاشی و کاروباری فقہ پر مشتمل ہے: سرکاری نرخ بندی، بکری ٹیکس، مکانوں کے کرایوں میں بلیک مارکیٹنگ، سود سے پاک بینکاری کی ایک تجویز، اور کاروبار میں اسلامی اصولِ اخلاق کا اطلاق۔ آخری حصہ سیاسی و تنظیمی سوالات کا احاطہ کرتا ہے—مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت، مطالبۂ پاکستان، صوبہ سرحد کا ریفرنڈم، غیر اسلامی قانون ساز مجالس کی رکنیت کا مسئلہ، مزدوروں کی ہڑتالوں میں جماعتِ اسلامی کی پالیسی، اور قضیۂ فلسطین میں جماعت کا رویہ—جو مجموعی طور پر دکھاتے ہیں کہ مولانا کے نزدیک فقہی جزئیات اور اجتماعی و سیاسی مسائل دونوں ایک ہی اصولی نقطۂ نظر سے حل کیے جانے چاہئیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تقلید وعدمِ تقلید:

سوال: تقلید ِ ائمۂ اربعہ کے متعلق آپ کا نظریہ کیا ہے؟یعنی تقلید کو آپ کسی حد تک جائز سمجھتے ہیں یا نہیں؟اور اگر جائز سمجھتے ہیں تو کس حد تک؟ جہاں تک میری معلومات کام کرتی ہیں،آپ ایک وسیع المشرب مقلد ہیں؟

جواب: میر امسلک یہ ہے کہ ایک صاحب علم آدمی کو براہِ راست کتاب وسنت سے حکم صحیح معلوم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس تحقیق وتجسس میں علمائے سلف کی ماہرانہ آرا سے بھی مدد لینی چاہیے۔نیز اختلافی مسائل میں اسے ہر تعصب سے پاک ہو کر کھلے دل سے تحقیق کرنا چاہیے کہ ائمۂ مجتہدین میں سے کس کا اجتہاد کتاب وسنت سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔پھر جو چیزحق معلوم ہو،اسی کی پیروی کرنی چاہیے۔

میں نہ مسلکِ اہل حدیث کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ صحیح سمجھتا ہوں اور نہ حنفیت یا شافعیت ہی کا پابند ہوں۔ لیکن کوئی وجہ نہیں کہ جماعت اسلامی میں جو لوگ شریک ہوں،ان کا فقہی مسلک لازماً میرے فقہی مسلک کے مطابق یا اس کے تابع ہو۔ وہ اگر فرقہ بندی کے تعصبات سے پاک رہیں اور حق کو اپنے ہی گروہ میں محدود نہ سمجھیں تو وہ اس جماعت میں رہتے ہوئے اپنے اطمینان کی حد تک حنفی،شافعی، اہل حدیث یا دوسرے فقہی مسلک پر عمل کرنے میں آزاد ہیں۔

سوال: تقلیدِ ائمۂ اربعہ کو گروہِ’’ اہل حدیث‘‘ حرام وشرک بتاتا ہے ۔کیا یہ صحیح ہے؟کیا مقلدین اہل حدیث نہیں ہیں؟تقلید اصل میں کیا ہے؟ کیا یہ ضروری ہے؟

جواب: اسلام میں دراصل تقلید سوائے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کی نہیں ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقلید بھی اس بِنا پر ہے کہ آپؐ جو کچھ فرماتے اور عمل کرتے ہیں وہ اﷲ کے اِذن اور فرمان کی بِنا پر ہے ۔ورنہ اصل میں تو مطاع اور آمر اﷲتعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔

ائمہ کی پیروی کی حقیقت صرف یہ ہے کہ ان ائمہ نے اﷲ اوررسولؐ کے احکام کی چھان بین کی،آیاتِ قرآنی اور سنتِ رسولؐ سے معلوم کیا کہ مسلمان کو عبادات اور معاملات میں کس طریقے پر چلنا چاہیے، اوراُصولِ شریعت سے جزئی احکام کا استنباط کیا۔ لہٰذا وہ بجائے خود آمروناہی نہیں ہیں، نہ بذات خود مطاع اور متبوع ہیں،بلکہ علم نہ رکھنے والے کے لیے علم کا ایک معتبر ذریعہ ہیں۔ جو شخص خود احکام الٰہی اور سنت نبوی میں نظر بالغ نہ رکھتا ہو اور خود اُصول سے فروع کا استنباط کرنے کا اہل نہ ہو،اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ علما اور ائمہ میں سے جس پر بھی اسے اعتماد ہو،اس کے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی کرے۔اگر کوئی شخص اِ س حقیقت سے ان کی پیروی کرتا ہے تو اس پر کسی اعتراض کی گنجایش نہیں۔لیکن اگر کوئی شخص ان کو بطور خود آمرونا ہی سمجھے یا ان کی اطاعت اس انداز سے کرے جو اصل آمرونا ہی کی اطاعت ہی میں اختیار کیا جاسکتا ہے، یعنی ائمہ میں سے کسی کے مقرر کردہ طریقے سے ہٹنے کو اصل دین سے ہٹ جانے کا ہم معنی سمجھے اور اگر کسی ثابت شدہ حدیث یا صریح آیت قرآنی کے خلاف ان کا کوئی مسئلہ پایا جائے، تب بھی وہ اپنے امام ہی کی پیروی پر اصرار کرے،تو یہ بلاشبہ شرک ہوگا۔

(ترجمان القرآن۔رجب،شوال ۶۳ھ،جولائی،اکتوبر ۴۴ء)