مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد اول

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "رسائل و مسائل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تصنیف ہے جو مختلف شرعی، اخلاقی، سماجی اور فکری مسائل پر ان کے جوابات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دینِ اسلام کو صرف رسمی عبادات تک محدود نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک جامع نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا جائے جو ہر شعبۂ زندگی کو اپنے دائرۂ اثر میں لے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب میں صرف فقہی جزویات پر بحث نہیں کی بلکہ ہر مسئلے کو اس کے اصولی، فکری اور اجتماعی تناظر میں دیکھا ہے تاکہ قاری کو صرف حکم نہیں بلکہ اس کی حکمتِ تشریع بھی سمجھ آئے۔

کتاب کا آغاز نواقضِ وضو کے مسئلے سے ہوتا ہے، جہاں مولانا واضح کرتے ہیں کہ شریعت کا ضابطۂ طہارت محض ظاہری نجاست کی بنیاد پر نہیں بلکہ پانچ اہم مقاصد—نظافت کی عادت، معنوی تیاری، نفس کی نگرانی، ضابطے کی وضاحت، اور اعتدال—کی روشنی میں تشکیل پایا ہے۔ اس کے بعد وہ آلات کے ذریعے توالد کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے اسے انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف فطرت کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسلامی تصورِ نسل کشی اور خاندانی نظام کو بھی تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔

مشینی امامت، آلاتِ موسیقی، عذرِ مجبوری میں غیر اللہ کی اطاعت، دعا میں ہاتھ اٹھانا، سفر میں قصرِ صلوٰۃ، ہندستان میں گائے کی قربانی، اور جبری امتناع کی صورت میں مباحات کا وجوب—یہ تمام ابواب اسی اصول پر مبنی ہیں کہ اسلام کا ہر حکم ایک جامع نظام کا حصہ ہے جس کا مرکز توحید ہے۔ اسی سلسلے میں چند مسائل تقابلی مذہب اور سائنس سے متعلق بھی ہیں—ایک ہندو دوست کے خط کا جواب، گائے اور تناسخ کا تصور، اور کائناتی و حیاتی ارتقا پر اسلامی نقطۂ نظر۔

کتاب کا ایک اور اہم حصہ معاشی و کاروباری فقہ پر مشتمل ہے: سرکاری نرخ بندی، بکری ٹیکس، مکانوں کے کرایوں میں بلیک مارکیٹنگ، سود سے پاک بینکاری کی ایک تجویز، اور کاروبار میں اسلامی اصولِ اخلاق کا اطلاق۔ آخری حصہ سیاسی و تنظیمی سوالات کا احاطہ کرتا ہے—مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت، مطالبۂ پاکستان، صوبہ سرحد کا ریفرنڈم، غیر اسلامی قانون ساز مجالس کی رکنیت کا مسئلہ، مزدوروں کی ہڑتالوں میں جماعتِ اسلامی کی پالیسی، اور قضیۂ فلسطین میں جماعت کا رویہ—جو مجموعی طور پر دکھاتے ہیں کہ مولانا کے نزدیک فقہی جزئیات اور اجتماعی و سیاسی مسائل دونوں ایک ہی اصولی نقطۂ نظر سے حل کیے جانے چاہئیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ایک ہندو دوست کا خط اور اس کا جواب:

’’دیر کے بعد خط لکھ رہا ہوں۔اس طویل غیر حاضری کی وجہ صرف یہ خیال تھا کہ آپ کی جملہ تصنیفات کو مطالعہ کرنے کے بعد اپنے خیالات کو آپ کی خدمت میں وضاحت سے پیش کرسکوں گا۔سو اب آپ کی کلیات کا ایک مرتبہ سرسری مطالعہ کرچکا ہوں۔ فی الحقیقت اپنے مشن کے لیے جہاں تک اخلاص کا تعلق ہے، میں نے آپ کو شری… کے بعد واحد پہلا اور آخری رہنماپایا ہے۔ ’’آخری‘‘ کا لفظ میں نے جان بوجھ کر استعمال کیا ہے۔ شری… جی جنہیں میںموجودہ دور میں ہندوئوں کی عظیم ترین شخصیت سمجھتا ہوں، کی ذاتِ بابر کات کے لیے اپنے دل میں انتہائی عقیدت رکھنے کے باوجود، میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ان کے مشن کی تکمیل ہندو قوم پر جاکر ختم ہوتی ہے۔ ہندو قومیت میں کون سے عناصر شامل ہیں یا ہندو پن کیا ہے؟اس کی تسلی بخش تفسیر آج تک نہیں ہوسکی۔ گوشت خور بھی ہندو اور گوشت کا تارک بھی ہندو، وید مقدس کو ماننے والا بھی اور ویدوں کا منکر بھی ہندو، گائے کا پجاری بھی ہندو اور گائے کے چمڑے کے جوتے بنانے والا اور گائے کے چمڑے کے ساز وسامان سے گھر کو زینت دینے والا بھی ہندو،بتوں کا بچاری بھی ہندو اور بتوں کا کھنڈن کرنے والا بھی ہندو، آستک بھی ہندو اور ناستک بھی ہندو،کروڑوں دیویوں دیوتائوں کا ماننے والا بھی ہندو اور توحید کا قائل بھی ہندو۔ جو قطعی ایک دوسرے کی ضد ہیں! بھائی پرمانند جی نے اسی لیے ہندو کی ایک دو حرفی تعریف کی ہے کہ’’جو اپنے آپ کو ہندو سمجھتا ہے،وہ ہندو ہے۔‘‘ ویر ساور کرنے پولیٹیکل طور پر یہ تشریح کی ہے کہ’’جو اس دیش کو ماتری بھومی اور پنیہ بھومی سمجھتا ہے وہ ہندوہے۔‘‘ کچھ قوم پرست مسلمان اس ملک کو ماتری بھومی تو ماننے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں مگر پنیہ بھومی نہیں!تو اس طرح مسلمانوں کا سوال جوں کا توں رہا، اور ہندستان میں یہی ایک مسئلہ ہے جس کے حل کرنے پر ملک کے بہترین دماغ لگے ہوئے ہیں۔ آپ نے جو حل اس کا تجویز کیا ہے، وہ فی الواقع نہ صرف مسلمان نہ صرف ہندو،نہ صرف ہندستان، بلکہ تمام بنی نوعِ انسان کے لیے یکسانیت رکھتا ہے۔ چند ایک بنیادی اُصول ہیں جن کے ماننے والے ایک طرف، نہ ماننے والے دوسری طرف۔ ایک دو ٹوک(clear cut) واضح پالیسی ہے۔ (اسی لیے میں نے آپ کے لیے’’آخری ‘‘کا لفظ اوپر استعمال کیا ہے)۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ آپ کی کلیات کا ایک نظر سے مطالعہ کرلیا ہے۔ آپ نے جو خطبات تعلیمی درس گاہوں میں پڑھے ہیں اور موجودہ یونی ورسٹیوں کو قتل گاہوں (slaughter houses) سے مناسبت دے کر حقیقت کا اظہار فرمایا ہے، اس تلخ صداقت کو بے نقاب کرکے آپ نے جس اخلاقی جرأت اور دلیری کا ثبوت دیا ہے، اِ س کی جس قدر تعریف کی جائے،کم ہے۔ میں آپ کے ان خطبات کا جب ان کانووکیشن ایڈریسز سے موازنہ کرتا ہوں جو ملک کی چیدہ چیدہ نام ور ہستیوں کے ہیں،جن کے نام کے ساتھ بڑے بڑے سائن بورڈ چسپاں ہیں، تو یقین فرمایئے،میری طبیعت متلانے لگتی ہے۔

ایک طرف آپ کا قرآن کریم سے روشنی لے کر انسان کی فلاح کی خاطر اسلام کو روشناس کرانے کے لیے دعوت عام دینا اور چھوٹے چھوٹے ٹریکٹوں ’’سلامتی کا راستہ‘‘،’’دینِ حق‘‘،’’اسلام کا سیاسی نظریہ‘‘،’’اسلام کا اخلاقی نقطۂ نظر‘‘ وغیرہ لٹریچر کی اشاعت سے ذہنی انقلاب پیداکرنا میرے سامنے ہے اور دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ میری قوم کے لیڈر راستی سے بھٹک کر ادنیٰ مقاصد(minor causes) پر اپنی اور ساری قوم کی قوت ضائع کررہے ہیں۔ایک طرف آپ کا خطباتِ جمعہ تحریر کرکے ایک ایک مسجد میں اپنے نصب العین کو پہنچانے کی سبیل پیدا کرنا ہے اور دوسری طرف ہندوئوں کے گُرُوسوامی گنیش دت اور پنڈت مدن موہن مالوی بنارس ہندو یونی ورسٹی میںمندر کی تعمیر کے لیے لاکھوں روپیا اکٹھا کرنے کی فکر میں گھلے جارہے ہیں۔ آریہ سماج کے بارے میں تو میرا یہ عقیدہ ہے کہ اگر آج رشی دیانند کا ظہور ہو تو وہ سب سے پہلے آریہ سماج کا سُدھار کریں۔ کانگریس کے ہندو رہنمائوں کے بارے میں ایک مرتبہ لاہور کے عام جلسے میں چوہدری خلیق الزمان سابق صدر یو، پی مسلم لیگ نے فرمایا تھا کہ ہندوئوں کے بڑے سے بڑے سیاسی لیڈر پنڈت جواہر لال نہرو سے زیادہ سیاست میرا کوچوان جانتا ہے۔ٹھیک یہی بات بھائی پرمانند جی فرماتے ہیں کہ ہندوئوں کی بدقسمتی سے شروع سے ہی کانگریس کے ایسے ہندولیڈروں کے ہاتھوں میں سیاست کی باگ ڈور رہی ہے جو ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے سیاست کے میدان میں طفلِ مکتب ہیں۔جب میں ان حالات پر غور کرتا ہوں تو شاعر کے یہ الفاظ ایک آہِ سرد بن کر بے ساختہ زبان سے نکل جاتے ہیں ؎

یاسیت کی گرد میں لپٹا ہوا

راستہ تاریک ویراں اور اداس

زندگی بے کیف و رنگ و نُور ہے

کارواں منزل سے کوسوں دُور ہے!

جہاں تک میری ذاتی رائے کا تعلق ہے،میں بلا مبالغہ عرض کروں گا کہ آپ کے پروگرام نے ملک کی دیگر تمام سیاسی تحریکوں پر سایہ(shade)ڈال دیا ہے۔آپ کا سارالٹریچر دیکھ جانے کے بعد مجھے بجز ایک کے اورکوئی بھی مسئلہ ایسا نظرنہیں آیا جس میں دیانت داری کے ساتھ آپ سے اختلاف کرسکوں۔ مانتا ہوں کہ آپ کا پروگرام ہر پہلو سے مکمل(complete)اور خود کفایت(self sufficient)ہے۔ صرف دو باتیں جو مجھے کھٹکتی ہیں،جناب کی خدمت میںعریاں پیش کرنے کی جرأت کرتا ہوں۔

آپ کی تصنیف ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ کے مطالعے کے بعد میرا یقین تھا کہ سنسکرت زبان پر آپ کا عبور ایک لازمی چیز ہے۔ مگر اس شام سیر کے وقت دورانِ گفتگو میں آپ کا یہ فرمانا کہ آپ نے سب کچھ ویدوں کے بارے میں انگریزی کتابوں سے لیا ہے،سچ مُچ یہ جملہ سن کر ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی شخص برقی رَو کے چھو جانے سے جھٹکا سا محسوس کرتا ہے۔ جیسے آپ نے فرمایا تھا کہ ایچ جی ویلز کا اسلام کے بارے میں براہ راست کیا علم ہے جو انہوں نے اسلام اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پاکیزہ زندگی پربے معنی نکتہ چینی کرکے رکھ دی، بعینہٖ آپ کا سنسکرت زبان سے براہِ راست تعلق نہ ہونے کی وجہ سے وید بھگوان کے بارے میں آپ کے احساسات مستندنہیں کہے جاسکتے۔آپ تسلیم کریں گے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں آزادانہ ترجمہ کرنے پر بھی اصل منشا پورا نہیں ہوتا،چہ جائیکہ اسے پھر تیسری زبان میں پیش کیا جائے۔ رشی دیا نند نے تو مہی دھرا اور رسائن آچاریہ کے وید بھاشیہ کو ہی لغو ٹھیرایا ہے،پھر کہاں آپ ’’مَیکس مُلر‘‘ اور دیگر یورپین اصحاب کے ترجمے سے رائے قائم کرتے ہیں۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی ان نیک اور بلند خواہشات کا جو آپ ہندوئوں کے دل ودماغ سے تعصب دُور کرکے انہیں اسلام سے صحیح طورپر روشناس کرانے کے لیے اپنے دل میں رکھتے ہیں،احترام کرتے ہوئے میں مؤدّبانہ گزارش کروں گا کہ آپ آیندہ اپنی ان کتابوں پر نظر ثانی فرماتے وقت،جن میں خاص طور پر ہندولٹریچر کے حوالے (references) پائے جاتے ہیں،کسی ایسے شخص کی امداد حاصل کریں جو ہندو ابھیاس اور ہندو لٹریچر پر براہِ راست عبور رکھتا ہو۔(مجھے ذاتی طور پر ایسے ایک دو اصحاب سے قربت کا فخر حاصل ہے)۔اُمید ہے کہ آپ کی ذات مبارک پر میرا منشا واضح ہوگیا ہوگا۔

آپ نے رسالہ’’ اسلام اور جاہلیت‘‘ کے اخیر میں یہ فرمایا ہے کہ تاریخ شاہد ہے کہ جیسے افراد اس نظریے پر تیار ہوگئے تھے ،نہ ان سے بہتر افراد کبھی رُوئے زمین پر پائے گئے، نہ اس اسٹیٹ سے بڑھ کر کوئی اسٹیٹ انسان کے لیے رحمت ثابت ہوا۔‘‘اگر صاف گوئی پر معاف فرمایا جائے تو میں نہایت ادب وانکسار سے گزارش کروں گا کہ آپ نے یہاں طرف داری سے کام لیا ہے،یہاں تعصب کی جھلک نظر آتی ہے۔ میںصرف ایک بھگوان کرشن کی شخصیت پیش کروں گا، جن کی دو حرفی تقریر نے کہ:

فعل سے وابستگی واجب نہیں تیرے لیے

فرض کی تکمیل کر، خواہش صلہ کی چھوڑ دے

ویر اَرجن جیسے مجاہد پر ایک ہیبت کا عالم طاری کر دیا اور اس کے بازو میں برقی طاقت پیدا کردی، اور اس تاریخی واقعے کی یادگار میںگیتا جیسی ممتاز کتاب ظہور میں آئی۔بڑے بڑے مخالف بھی کرشن بھگوان کی زندگی میں کوئی اخلاقی رخنہ نہ پیش کرسکے ۔’’بھگوان ‘‘کا لفظ میں نے صفتی معنوں میں لیا ہے،اوتار کے معنوں میں نہیں۔ آپ نے ایسی شخصیتوں کو نظر انداز کرکے اسلام سے پہلے کی تاریخ کے معاملے میں تعصب کا ثبوت دیا ہے۔سچ بات تو یہ ہے کہ میری آنکھیں ترستی رہیں کہ آپ کسی جگہ کسی ہندو کیرکٹر کا نمونہ پیش کریں ،مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

آپ نے ’’ترجمان القرآن‘‘ میں میرے خطوط اور اپنے جوابات شائع فرما کر اسلامی پریس کے لیے دل چسپی کا سامان مہیا کردیا۔ دہلی کا ایک روزنامہ’’حکومت الٰہیہ اور پاکستان‘‘ کے عنوان سے ان خطوط کا حوالہ دے کر آپ پر خوب برسا ہے۔عجیب منطق ہے کہ دیدہ دانستہ عین اسلامی تعلیم کو جھٹلایا جارہا ہے۔

مرحوم مولانا محمد علی صاحب نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ ’’جہاں تک مسلمانوں کے ایمان کا تعلق ہے ،میں ایک فاسق وفاجر مسلمان کو گاندھی جی سے بہتر سمجھتا ہوں۔‘‘لیکن آپ نے اصل اسلام پیش کرکے اور مسلمانوں کی ایمانی قوت کو الم نشرح کرکے نہ صرف مسلمانوں کی ،بلکہ تمام انسانیت کی زبردست خدمت انجام دی ہے۔ آپ کے اسلامی لٹریچر کے طفیل وہ محسوس کررہے ہیں کہ انہیں کیا ہونا چاہیے تھا اور کیا ہوگئے ہیں۔مگر میری گزارش یہ ہے کہ جب آپ کی حکومتِ الٰہیہ ہر فر دِبشر کے لیے انسانیت کے ناطے سے یکساں جاذبیت رکھتی ہے اور آپ کا منشا بھی یہی ہے کہ بلحاظ مذہب وملت اسے عوام تک پہنچایا جائے ۔پھر آپ اپنی مساعی(struggle) کو صرف مسلمانوں تک کیوں محدود رکھتے ہیں؟‘‘

جواب: آپ کا یہ اعتراض صحیح ہے کہ میں نے سنسکرت زبان اور ہندوئوں کی مذہبی کتابوں سے براہِ راست واقفیت کے بغیر محض یورپین ترجموں کے اعتماد پر اپنی کتاب میں ویدوں سے کیوں بحث کی۔ لیکن آپ نے اس بات کا خیال نہیں کیا کہ الجہاد فی الاسلام بالکل میرے ابتدائی عہد کی تصنیف ہے جب مذاہب کے معاملے میں میرا رویہ پُوری طرح پختہ نہیں ہوا تھا اور نہ وہ احتیاط طبیعت میں پیدا ہوئی تھی جو تحقیق کے لیے ضروری ہے۔ اب اگر میں اس کتاب کو دوبارہ لکھوں گا تو ہر اس چیز کی جس کی براہِ راست واقفیت کا موقع مجھے نہیں ہے، ازسرِ نو تحقیق کروں گا۔آپ اگر اس تحقیق میں میری کچھ مدد کرسکتے ہیںتو میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا۔کوئی ہندو عالم جو محض حامی دین(defender of the faith) ہی نہ ہو، بلکہ خود محقق بھی ہو اور محققانہ انصاف بھی اپنے اندررکھتا ہو،اگر میری کتاب کے اِس حصے پر جو ہندوئوں سے متعلق ہے، تنقید کرکے مجھے بتائے کہ میں نے کہاں کہاں غلطی کی ہے تو اس سے مجھے بہت مدد ملے گی۔اس کے علاوہ اگر آپ مجھے کوئی ایسی کتاب بتائیں جس میں ہندو مذہب کے مقصدِ جنگ اور قوانین جنگ کو بناوٹ کے بغیر، جیسے کہ بجائے خود وہ ہیں، پیش کیا گیا ہو تو مزید باعثِ شکر گزاری ہوگا۔ ’’بناوٹ کے بغیر‘‘ کی شرط میں اس لیے لگا رہا ہوں کہ آج کل عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک مذہب پر،جیسا کہ وہ بجائے خود ہے،ایمان نہیں رکھتے مگر قومی عصبیت کی خاطر اس مذہب کو اور اپنے مذہبی طرز عمل کو ’’معقول‘‘بنانے کے لیے وہ اکثر موجودہ نظریات کے مطابق ایک نیا مذہب گھڑتے ہیں اورپرانے مذہب کے نام سے اسے پیش کرتے ہیں۔مجھے اس طریقے سے سخت نفرت ہے خواہ اسے مسلمان برتیں یا ہندو یا کوئی اور۔میرا خود بھی یہ طریقہ ہے اور میںپسند بھی صرف ایسے ہی لوگوں کو کرتا ہوں جو اصل مذہب کو، جیسا کہ فی الواقع وہ ہے،ویسا ہی رہنے دیں اور ویسا ہی اسے پیش کریں، پھر اگر وہ ماننے کے لائق ہو تو اُسے مانیں اور ماننے کے لائق نہ ہو تو اسے رد کردیں۔

دوسری چیز جس کی آپ نے شکایت کی ہے،اس پر آپ کو بجائے مجھ سے شکایت کرنے کے خود ہندوئوں سے شکایت کرنی چاہیے تھی اور مجھے بھی اس معاملے میں ان سے شکایت ہے۔ انہوں نے خود اپنے بزرگوں کی سیرتوں کو محفوظ نہ رکھا بلکہ ان کی حقیقی زندگیوں کو افسانوں سے خلط ملط کردیا، اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہودیوں کی طرح انہوں نے بھی اپنی اخلاقی کمزوریوں کو درست ثابت کرنے کے لیے بدترین اخلاقی کمزوریاں اپنے بزرگوں کی طرف منسوب کردیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان کے جن بڑے بڑے اشخاص کی طرف نگاہیں اس توقع سے اُٹھتی ہیں کہ انہیں اخلاقی پاکیزگی اور عظمتِ انسانیت کے نمونے کی حیثیت سے لیا جاسکے گا، ان سب کے واقعاتِ زندگی تاریخی حیثیت سے مشتبہ بھی ہیں اور افسانویت سے آلودہ بھی۔ اور جن مآخذ کی سند سے ان کے روشن پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں،انہی کی سند سے ایسے تاریک ترین پہلو بھی آمنے آجاتے ہیں جنہیں کسی بڑے انسان کی طرف منسوب کرنا تو درکنار، کسی گھٹیا انسان کی طرف منسوب کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔اسی وجہ سے،نہ کہ کسی قومی یا مذہبی تعصب کی وجہ سے میں مجبوراًعربی تاریخ کے صرف ایک ہی دور کو کمالِ انسانیت کے نمونے کی حیثیت سے پیش کرتا ہوں، کیوں کہ وہ تاریخی حیثیت سے نہایت معتبر ہے۔افسانویت کا اضافہ کرنے کی اگر اس میں کوشش کی بھی گئی ہے تو تاریخی تنقید کے ایسے ذرائع موجود ہیں جن سے اس آلودگی کو پورے منصفانہ طریقے سے چھانٹ کر الگ کیا جاسکتا ہے، اور پھروہاں کسی اخلاقی گندگی کا سرے سے نام ونشان ہی نہیں ملتا۔ یہ تو خدا کی دین ہے جس کے نصیب میں آ جائے۔ اگر عرب نسل کے ایک مختصر گروہ کو یہ فضل نصیب ہوگیا تو اس پر کسی افسوس کی ضرورت نہیں اور نہ افسوس کرنے سے کچھ حاصل ہے ۔بلکہ اگر آپ ہندستانی یا ہندو کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو انسانیت کے لیے جو چیز قابلِ فخر ہے،اس پر آپ کو بھی اسی طرح فخر کرنا چاہیے جس طرح ایک عرب فخر کرسکتا ہے،کیوں کہ انسانیت کے نقطۂ نظر سے جو تاج کسی انسان یا کسی انسانی گروہ کو پہنایا گیا ،وہ ہم سب انسانوں کے لیے تاجِ فخر ہی ہے، خواہ وہ کسی عرب انسان کے سر پر نظر آئے یا ہندستانی انسان کے سر پر! (ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل،جمادی الاخریٰ ۶۴ھ، مارچ جون۴۵ء)