رسائل ومسائل – جلد اول
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "رسائل و مسائل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تصنیف ہے جو مختلف شرعی، اخلاقی، سماجی اور فکری مسائل پر ان کے جوابات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دینِ اسلام کو صرف رسمی عبادات تک محدود نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک جامع نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا جائے جو ہر شعبۂ زندگی کو اپنے دائرۂ اثر میں لے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب میں صرف فقہی جزویات پر بحث نہیں کی بلکہ ہر مسئلے کو اس کے اصولی، فکری اور اجتماعی تناظر میں دیکھا ہے تاکہ قاری کو صرف حکم نہیں بلکہ اس کی حکمتِ تشریع بھی سمجھ آئے۔
کتاب کا آغاز نواقضِ وضو کے مسئلے سے ہوتا ہے، جہاں مولانا واضح کرتے ہیں کہ شریعت کا ضابطۂ طہارت محض ظاہری نجاست کی بنیاد پر نہیں بلکہ پانچ اہم مقاصد—نظافت کی عادت، معنوی تیاری، نفس کی نگرانی، ضابطے کی وضاحت، اور اعتدال—کی روشنی میں تشکیل پایا ہے۔ اس کے بعد وہ آلات کے ذریعے توالد کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے اسے انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف فطرت کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسلامی تصورِ نسل کشی اور خاندانی نظام کو بھی تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔
مشینی امامت، آلاتِ موسیقی، عذرِ مجبوری میں غیر اللہ کی اطاعت، دعا میں ہاتھ اٹھانا، سفر میں قصرِ صلوٰۃ، ہندستان میں گائے کی قربانی، اور جبری امتناع کی صورت میں مباحات کا وجوب—یہ تمام ابواب اسی اصول پر مبنی ہیں کہ اسلام کا ہر حکم ایک جامع نظام کا حصہ ہے جس کا مرکز توحید ہے۔ اسی سلسلے میں چند مسائل تقابلی مذہب اور سائنس سے متعلق بھی ہیں—ایک ہندو دوست کے خط کا جواب، گائے اور تناسخ کا تصور، اور کائناتی و حیاتی ارتقا پر اسلامی نقطۂ نظر۔
کتاب کا ایک اور اہم حصہ معاشی و کاروباری فقہ پر مشتمل ہے: سرکاری نرخ بندی، بکری ٹیکس، مکانوں کے کرایوں میں بلیک مارکیٹنگ، سود سے پاک بینکاری کی ایک تجویز، اور کاروبار میں اسلامی اصولِ اخلاق کا اطلاق۔ آخری حصہ سیاسی و تنظیمی سوالات کا احاطہ کرتا ہے—مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت، مطالبۂ پاکستان، صوبہ سرحد کا ریفرنڈم، غیر اسلامی قانون ساز مجالس کی رکنیت کا مسئلہ، مزدوروں کی ہڑتالوں میں جماعتِ اسلامی کی پالیسی، اور قضیۂ فلسطین میں جماعت کا رویہ—جو مجموعی طور پر دکھاتے ہیں کہ مولانا کے نزدیک فقہی جزئیات اور اجتماعی و سیاسی مسائل دونوں ایک ہی اصولی نقطۂ نظر سے حل کیے جانے چاہئیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
جُزئیاتِ شرع اور مُقتضیاتِ دین:
سوال: اجتماع[جماعت اسلامی کا وہ اجتماع عام مراد ہے جو ۱۹۴۵ء میں بمقام دارالاسلام (متصل پٹھان کوٹ) منعقد ہوا تھا۔ )]میں شرکت کرنے اور مختلف جماعتوں کی رپورٹیں سننے سے مجھے اور میرے رفقا کو اس بات کا پوری طرح احساس ہوگیا ہے کہ ہم نے جماعت کے لٹریچر کی اشاعت وتبلیغ میں بہت معمولی درجے کا کام کیا ہے۔ اس سفر نے گزشتہ کوتاہیوں پر ندامت اور مستقبل میں کامل عزم واستقلال اور اخلاص کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کردیا ہے۔ دعا فرمائیں کہ جماعتی ذمہ داریاں پوری پابندی اور ہمت وجرأت کے ساتھ ادا ہوتی رہیں۔
اس امید افزا اور خوش کن منظر کے ساتھ اختتامی تقریر[یہ تقریر روداد جماعت اسلامی حصہ سوم کے آخر میں درج ہے اور’’ تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں‘‘کے نام سے الگ بھی شائع ہوچکی ہے۔]کے بعض فقرے میرے بعض ہم درد رفقا کے لیے باعثِ تکدّر ثابت ہوئے اور دوسر ے مقامات کے مخلص ارکان وہم دردوں میں بھی بددلی پھیل گئی ۔عرض یہ ہے کہ منکرینِ خدا کا گروہ جب اپنی بے باکی اور دریدہ دہنی کے باوجود حلم،تحمل اور موعظۂ حسنہ کا مستحق ہے تو کیا یہ دین داروں کا متقشف تنگ نظر طبقہ اس سلوک کے لائق نہیں ہے ؟کیا ان کے اعتراضات وشبہات حکمت وموعظۂ حسنہ اور حلم وبردباری کے ذریعے دفع نہیں کیے جاسکتے؟اختتامی تقریر کے آخری فقرے کچھ مغلوبیتِ جذبات کا پتا دے رہے تھے۔
تقریر کی صحت میں کلام نہیں ،صرف انداز تعبیر اور طرزِ بیان سے اختلاف ہے۔قرآن کا اُصول تبلیغ فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ۰ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۰۠ آل عمران159:3 سے اخذ کیا جاسکتا ہے، اور اس پر عمل پیرا ہونے سے ساری مشکلات حل ہوسکتی ہیں۔مجھے اس سے بھی انکار نہیں کہ آپ کی عام عادت تبلیغ وتفہیم میں حکیمانہ ہے۔ اسی بِنا پر اس دفعہ خلافِ عادت لب ولہجہ کو سخت دیکھ کر تعجب ہوا۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ حکمت ومصلحت شرعی کا تقاضا ہے کہ فروعی مسائل اور ظواہر سنن کی تغییر وتبدیل پر ابتدء ً اصرار نہ کیا جائے اور نہ خود عملاًایسا طرزاختیار کیا جائے جس سے مسلمانوں میں توحش وتنفر پیدا ہو۔ اسی وجہ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قتلِ منافقین اور تغییربنائے کعبہ سے محترز رہے ۔مجھے یہ تسلیم ہے کہ اِعفا اور تقصیرِ لحیہ کے بارے میںسلف میں اختلاف پایا جاتا ہے اور جو طرز ِعمل آپ نے اختیار کیا ہے،اس کی گنجایش نکلتی ہے۔ادھر مقدار قبضہ تک اعفا کے جواز سے آپ کو بھی انکار نہ ہوگا۔پھر کیا یہ مناسب اور حکیمانہ فعل نہ ہوگا کہ عوام کو توحش سے بچانے کے لیے آپ بھی اسی جواز پر عمل کرلیں، کیوں کہ ظاہری وضع قطع میں جو غلو کی صورت ہے،اس کی اصلاح بنیادی اُمور اور مہمات مسائل کے ذہن نشین کرانے کے بعد بھی ہوسکتی ہے۔ جماعت اسلامی سے مخلصانہ وابستگی اور دلی تعلق کی بِنا پر یہ چند سطور لکھ رہا ہوں۔اُمید ہے کہ غور فرمائیںگے۔
جواب: مجھے یہ معلوم کرکے تعجب ہوا کہ آپ اہل دین کے ساتھ بھی چاہتے ہیں کہ وہی سلوک کیاجائے جو منکرین کے ساتھ ہونا چاہیے۔نیز یہ کہ آپ نے فقط نرمی ہی کو تقاضائے حکمت سمجھا ہے، حالاں کہ قرآن وسنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کے مان لینے والوں سے جب خلافِ حق باتوں کا صدور ہو تو ان کے ساتھ ان لوگوں کی بہ نسبت مختلف برتائو کیا جاتا ہے جو سرے سے حق کو نہ ماننے والوں کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ اﷲ اور رسولؐ نے جہاں بعض مواقع پر انتہائی نرمی برتی ہوتی ہے اور وہ عین مقتضائے حکمت ہے،بعض دوسرے مواقع پر سخت لب ولہجہ بھی اختیار کیا ہے اور تیز وتند الفاظ سے بھی کام لیا ہے اور وہ بھی مقتضائے حکمت ہی رہا ہے۔میں صرف یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ جو باتیں میں نے آخری تقریر میں کہی ہیں،کیا ان میں کوئی لفظ خلافِ حق تھا؟ نیز یہ کہ اس تقریر میں جو باتیں کہی گئی ہیں، کیا فی الواقع اس مرحلے پر ان کا کہنا ضروری نہیں تھا؟ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی ہو تو آپ اسے ضرور تحریر فرمائیں۔ لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ باتیں جو کہی گئی ہیں،وہ حق تھیں اور لوگوں کو اصل مقتضیاتِ دین کی طرف توجہ دلانے کے لیے اس وقت انہیں صاف صاف بیان کرنے کی ضرورت بھی تھی تو پھر لب ولہجہ کی شکایت فضول ہے۔میں آپ کو اس با ت کا یقین دلاتا ہوں کہ میں جذبات سے مغلوب ہونے والا آدمی نہیں ہوں۔نرمی اور سختی جو کچھ بھی اختیارکرتا ہوں،جذبات کی بِنا پر نہیں،بلکہ ٹھنڈے دل سے یہ رائے قائم کرنے کے لیے اختیار کرتا ہوں کہ اس موقع پر واقعی ایسا کرنا چاہیے۔
آپ کے سامنے صرف اپنا قریبی ماحول ہے،مگر مجھ پر جس ذمہ داری کا بار ہے اس کی وجہ سے میں پوری جماعت اور تحریک کے حالات پر نگاہ رکھتا ہوں ۔مجھے یہ اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر اس موقع پر میں مقتضیات دین کو صاف اور واضح طریقے پر بیان نہ کردوں اور ان لوگوں کی غلطی کو بالکل کھول کر نہ رکھ دوںجو فروع کو اب تک اصل دین بنائے بیٹھے ہیں اور دین کے اصلی تقاضوں سے غفلت برتتے رہے ہیں تو اس کا نتیجہ ہماری تحریک کے حق میں نہایت مہلک ہو گا۔ کیوں کہ اس قسم کا ایک اچھا خاصا گروہ ہماری تحریک سے محض سطحی طور پر متاثرہوکر ہماری طرف کھنچنے لگا ہے لیکن اپنے سابق تعصبات اور اپنی سابق غلطیوں میں سے کسی چیزمیں بھی ذرّہ برابر ترمیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ اُلٹا ہم سے طالب ہے کہ ہم بھی ان غلطیوں میں مبتلا ہوکر وہی خرابیاں برپاکریں جو یہ لوگ اصلاح کے نام سے کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا اگر اس مرحلے پر میںصاف صاف ان کو متنبہ نہ کردیتا تو مجھے اندیشہ تھا کہ یہ لوگ جماعت کے اندر آکر یا جماعت کے دروازے پر کھڑے ہوکر ایسی پیچیدگیاں پیدا کردیتے جن سے کام بننے کے بجائے اُلٹا خراب ہوتا۔
دراصل جو باتیں میری اس تقریر کو سننے کے بعد اس گروہ کے لوگوں نے کی ہیں،ان سے تو مجھے یہ یقین حاصل ہوگیا ہے کہ یہ لوگ فی الواقع دین کے کسی کام کے نہیں اور یہ کہ ان کا ہمارے قریب آنا ان کے دُور رہنے،بلکہ مخالفت کرنے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔آپ خود ہی اندازہ کیجیے کہ جو لوگ قرآن وسنت کے لحاظ سے میری تقریر کے اندر کوئی لفظ بھی قابل گرفت نہیں بتا سکتے،بلکہ اس کے برعکس جو یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ جس چیز کو میں نے دین کا اصل مدعا بتایا ہے،واقعی قرآن وسنت کی رُو سے دین کا اصل مدعا وہی ہے،اور جن چیزوں کو میں مقدم ومؤخر کررہاہوں،وہ واقعی مقد م ومؤخر ہیں،مگر اس کے باوجود جنہیں میری اس تقریر پر اعتراض کرنے اور بددلی اور رنجش کا اظہار کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا، وہ آخرکس قدر عزت کے مستحق ہیں کہ ان کے جذبات وخیالات کا لحاظ کیا جائے۔ ایسے لوگ دراصل بندۂ حق نہیں،بلکہ بندۂ نفس ہیں۔ ان کے اندر خد ا کا اتنا خوف نہیں ہے کہ اپنی غلطیوں پر متنبہ ہونے کے بعد اپنی اصلاح کریں اور حق کے واضح طور پر سامنے آجانے کے بعد اسے قبول کریں۔اس کے بجائے وہ شکایت یہ کرتے ہیں کہ حق بات انہیں صاف صاف کیوں کہہ دی گئی اور کہنے والا انہی تعصبات میں کیوں مبتلا نہیں ہے جن میں وہ خود مبتلا ہیں۔ اس قسم کے لوگ اگر منکرین میں سے ہوتے تو ہم ان کی رعایت کچھ نہ کچھ کرسکتے تھے، مگر یہ لوگ اپنی اس نفس پرستی کے باوجود حق پرستوں کی صفِ اوّل میں کھڑے ہیں اور دین داری کا ڈھونگ رچاتے ہیں، اس لیے نہ یہ کسی رعایت کے مستحق ہیں اور نہ ایسے لوگوں کے دُور ہوجانے پر کوئی ایسا شخص افسوس کرسکتا ہے جو حق کے لیے کام کرنا چاہتا ہو۔یہ لوگ جو کچھ اب تک مذہب کے نام پر کرتے رہے ہیں،اس سے دین کی کوئی بات بن نہیں آئی ہے بلکہ کچھ بگڑتا ہی رہا ہے۔اب میں نے چاہا کہ ان کو صاف صاف بتائوں کہ اگر واقعی دین کی بات بنانا چاہتے ہو تو اس کا طریقہ کیا ہے اور تمہارے فہمِ دین میں کیاقصور ہے جس کی وجہ سے تم اب تک کچھ نہیں کرسکے۔اگر یہ لوگ واقعی دین کے ساتھ کوئی قلبی تعلق رکھنے والے ہوتے تو میر ی باتیں سن کر ان کی آنکھیں کھل جا تیں اور ان کے اندر توبہ وانابت کا جذبہ پیدا ہوتا، لیکن اس کے بجائے یہ لوگ اُلٹا مجھ سے بگڑ گئے اور اب بھی ان کے نزدیک مرجح یہی ہے کہ انہی تعصبات اور جزئیات پرستیوں میں مبتلا رہیں جن میں اب تک مبتلا رہے ہیں۔ ان کی اس کیفیت کو دیکھ لینے کے بعد میں بہت خوش ہوں اور خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ یہ فتنہ پسندگروہ قریب آنے کے بجائے دُور جارہا ہے۔
اگر خدا نخواستہ میں اس اجتماع کے موقع پر ان باتوں کو صاف صاف بیا ن کرنے میں کوئی کسر اُٹھا رکھتا توالبتہ یہ میری ایسی کوتاہی ہوتی جس پر میں بعد میں افسوس کرتا۔مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ خود ان لوگوں کویہ توفیق ہی نہیں دینا چاہتا کہ یہ لوگ اس کے دین کی کوئی خدمت کریں۔ جن فتنوں کی یہ خدمت کرتے رہے ہیں،اﷲ نے بھی غالباًیہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ان کو انہی فتنوںکی توفیق عطا فرماتا رہے۔
ڈاڑھی کے متعلق جو آپ نے تحریر فرمایا ہے،اس کے متعلق یہ گزارش ہے کہ میں اپنے عمل سے اس ذہنیت کو غذا دینا پسند نہیں کرتا جس نے بدعت کو عین سنت بنا دینے تک نوبت پہنچا دی ہے۔میرے نزدیک کسی غیر منصوص چیز کو منصو ص کی طرح قرار دینا اور کسی غیر مسنون چیز کو(جو اصطلاح شرعی کے لحاظ سے سنت نہ ہو)سنت قرا ردینا بدعت ہے اور ان خطرناک بدعتوں میں سے ہے جو معلوم ومعروف بدعتوں کی بہ نسبت زیادہ تحریف دین کی موجب ہوئی ہیں۔ اسی قبیل سے یہ ڈاڑھی کا معاملہ ہے۔لوگوں نے غیر منصوص مقدار کو ایسی حیثیت دے دی ہے اور اس پر ایسا اصرار کرتے ہیں جیسا کسی منصوص چیزپر ہونا چاہیے ۔پھر اس سے زیادہ خطرناک غلطی یہ کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کو بعینہٖ وہ سنت قرار دیتے ہیں جس کے قائم وجاری کرنے کے لیے آپؐ معبوث ہوئے تھے ،درآں حا لے کہ جو اُمور آپؐ نے عادتاً کیے ہیں،انہیں سنت بنادینا اور تمام دنیا کے انسانوں سے یہ مطالبہ کرناکہ وہ سب ان عادات کو اختیار کریں، اﷲ اور اس کے رسولؐ کا ہرگزمنشا نہ تھا۔یہ تحریف جو دین میںکی جارہی ہے،اگر میں اس کے آگے سپر ڈال دوں اور جس وضع قطع میں لوگ مجھے دیکھنا چاہتے ہیں،اس میں اپنے آپ کو ڈھال لوںتو میں ایک ایسے جرم کا مرتکب ہوں گا جس کے لیے اﷲ کے ہا ں مجھ سے سخت باز پرس ہوگی اوراس بازپرس میںکوئی میری مدد کے لیے نہ آسکے گا۔ لہٰذامیں اپنے آپ کو لوگوں کے مذاق کے خلاف بنائے رکھنا بدرجہا بہتر سمجھتا ہوں ،بجائے اس کے کہ اپنے آپ کو اس اخروی خطرے میں ڈالوں۔
سوال: ’’ حالیہ اجتماع[اشارہ ہے اسی اجتماع کی طرف جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ نیزجس تقریر پر اِس خط میں گفتگو کی گئی ہے وہ بھی وہی تقریر ہے جس کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے،یعنی ’’تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں‘‘۔]دارالاسلام کے بعد میں نے زبانی بھی عرض کیاتھا اور اب بھی اقامت دین کے فریضے کو فوق الفرائض بلکہ اصل الفرائض اور اسی راہ میں جدوجہد کرنے کو تقویٰ کی رُوح سمجھنے کے بعد عرض ہے کہ ’’مظاہر تقویٰ‘‘ کی اہمیت کی نفی میں جو شدت آپ نے اپنی اختتامی تقریر میں برتی تھی وہ ناتربیت یافتہ اراکین جماعت میں ’’عدم اعتنا بالسنۃ‘‘کے جذبات پیدا کرنے کاموحب ہوگی اور میں دیانتاً عرض کرتا ہوں کہ اس کے مظاہر میں نے بعد از اجلاس ملاحظہ کیے۔ اس شدت کا نتیجہ بیرونی حلقوں میں اوّلاً تویہ ہوگا کہ تحریک کومشکو ک نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ کیوں کہ اس سے پہلے بھی بعض داعیین تحریک نے’’استہزاء بالسنۃ‘‘ کی ابتدا اسی طرح کی تھی کہ بعض مظاہر تقویٰ کو اہمیت دینے اور ان کامطالبہ کرنے میں شدت اختیار کرنے کی مخالفت جوش وخروش سے کی۔دوسرے یہ کہ شرارت پسند عناصر کو ہم خود گویا ایک ایسا ہوائی پستول فراہم کردیں گے جو چاہے درحقیقت گولی چلانے کا کام ہرگز نہ کرسکے مگر اس کے فائر کی نمایشی آواز سے حق کی طرف بڑھنے والوں کو بدکایا جاسکے گا۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے معاملات میں عوام کے مبتلائے فتنہ ہوسکنے کا لحاظ رکھا ہے۔چنانچہ بیت اﷲ کی عمارت کی اصلاح کا پروگرام حضورؐ نے محض قوم کی جہالت اور جدید العہد بالاسلام ہونے کے باعث ملتوی کردیا تھا اور پھر اتنی احتیاط برتی کہ کبھی کسی وعظ اور خطبے میں لوگوں کو اس کی طرف توجہ تک نہیں دلائی،بجز اس کے کہ درون خانہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے آپؐ نے اس کا تذکرہ ایک دفعہ کیا۔
علاوہ بریں مظاہر تقویٰ کے معاملے میں بھی دوسرے مسائل کی طرح خود داعی ومصلح اوّل صلوٰۃاللہ علیہ کے ذاتی اسوہ کا اتباع ہی راہِ ہدایت ہے۔اس امر کو تسلیم کرنے کے بعد یہ روایت مدنظر رکھیے کہ ’’کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کث اللحیۃ یملا صدرہ‘‘ اس اسوۂ رسولؐ کا اتباع کرتے ہوئے اگر آپ افراط وتفریط کی اصلاح کریں تو پھر اِدھر تو معترضین کو عیب چینی کے مواقع کم ملیں گے اور اُدھر مغربیت زدہ لوگوں کے لیے طغیانِ نفس واِبائے اطاعت کے لیے کم تر مواقع حاصل ہوں گے۔ اسی بِنا پر میں نے بوقت ملاقات عرض کیاتھا کہ آپ کا ذاتی تعامل باعفاء اللحیہ ودیگر پہلوئوں سے تکمیل ظواہر سنن بالیقین دین کے لیے مفید ہوگا۔ اس کا خیال ہے کہ اِدھر مذہبی مخالفین کا گروہ ہے جس کی اصلاح اس انداز سے کرنی ہے کہ مختلف اُمور دین کو ان کے اصل مقام پر رکھ کر انہیں ان کی صحیح حیثیت اور ان کی صحیح اہمیت سے آگاہ کرنا ہے، لیکن دوسری طرف جدید تعلیم یافتہ طبقہ ہے جس کے نزدیک مظاہر تقویٰ کے معاملے میں سنتِ انبیا خصوصاً ڈاڑھی کی سنت کا اتباع کرنا نہ صرف غیر ضروری بلکہ ذریعۂ نفرت وتمسخر ہے۔اس گروہ کی اصلاح بھی تو آخر ہمارے ہی ذمے ہے، تو پھر کیا یہ فرض پورا کرنے کے لیے وہی اثباتی شدت زیادہ کارآمد نہیںہے جو مظاہر تقویٰ کے تحفظ میں قدیم دین دار طبقے کی تلقینات کی رُوح تھی؟
مزید یہ کہ ہم اسلام کی اساسی حقیقتوں ہی کوجب پوری وسعت سے نہیں پھیلا چکے ہیں اور ابھی بے شمار بندگانِ خدا کے سینوں میں اُترنے کی مہم سر کرنی باقی ہے، تو کیا بہتر یہ نہ ہوگا کہ ہم فروعی اُمور کے کانٹوں سے دامن بچا کر بڑھتے جائیں اور اصل مقصد کی طرف بڑھتے ہوئے اپنا ایک لحظہ بھی ضائع نہ ہونے دیں۔ورنہ مجھے خطرہ ہے کہ ہم لوگ جن کا دن رات واسطہ متلاشیانِ اعوجاج ومبتغیان فتنہ وتاویل سے ہے،صرف انھی زائد از ضرورت مسائل میں اُلجھ کر رہ جائیں گے اور اصل مقصد فوت ہوجائے گا۔ پس بہتر یہی ہے کہ ’’مظاہر تقویٰ‘‘وغیرہ قسم کے مباحث پر تحریروں اور تقریروں میں درشت اور شدید طریقے سے بحث نہ کی جائے۔
جواب: آپ نے جو اُمور تحریر فرمائے ہیں،ان میں سے بیش تر کے جواب میں نے زبانی عرض کردیے تھے اور اب بھی اپنے ان زبانی جوابات پرکسی اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔تاہم ایک دو امور اس سلسلے میں ایسے ہیں جن پرمختصراً کچھ اشارہ کرنا کافی سمجھتا ہوں۔
آپ نے بارہا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ مظاہر تقویٰ کے متعلق میں نے کوئی شدت برتی ہے جو سنت کے استہزا کی تمہید بن سکتی ہے اور بعض لوگوں کے لیے سنت سے بے اعتنائی کی موجب ہوئی ہے۔ کیا آپ براہِ کرم یہ بتاسکتے ہیں کہ وہ کون سے الفاظ تھے جن کو آپ شدت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگر الفاظ آپ کو یاد نہ ہوں تو آپ تھوڑا صبر فرمائیں۔ میں اپنی اس تقریر کو قلم بند کراکے ان شاء اﷲ عن قریب شائع کروں گا،اس وقت آپ اسے پڑھ لیجیے گا اور میرے وہ الفاظ نشان لگا کر میرے پاس بھیج دیجیے گا جن میں شدت پائی جائے۔ اسی طرح جن ارکانِ جماعت سے آپ کا تبادلۂ خیال ہوا اور آپ نے یہ محسوس کیا کہ میری اس تقریر کی بدولت ان میں سنت سے عدم اعتنا پیدا ہوا ہے، اگر آپ کو ان کے نام یاد ہوں یا کم سے کم یہی یاد ہو کہ وہ کس جگہ کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے تو مجھے لکھ دیجیے تاکہ میں پوری طرح تشخیص کرسکوں کہ آیا ِان کے متعلق آپ کا اندازہ غلط تھا، یا میرے متعلق ان کا اندازہ۔
کیا آپ نے کبھی اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ اس جماعت میں داخل ہونے کے بعد جن لوگوں کے چہرے پر ڈاڑھی آئی ہے، اتباع سنت کی تبلیغ کا دعویٰ رکھنے والے حضرات میں سے کسی کی تبلیغ سے ان کے چہرے کبھی ڈاڑھی سے مزین ہوسکتے تھے؟ حالاں کہ جماعت میں آنے کے بعد ہم نے کبھی ان سے ڈاڑھی یا دوسرے مظاہر تقویٰ کے متعلق اشارتاً بھی نہیں کہا کہ وہ فلاں چیز پر عمل کریں۔ باوجود اس کے ان لوگوں نے جو کبھی خواب میں بھی یہ دیکھنے کے لیے تیار نہ تھے کہ ان کے چہرے پر ڈاڑھی ہو،خودبخود ڈاڑھیاں رکھ لیں اور اپنے فیشن تبدیل کرنے شروع کردیے۔اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ہم نے اسی اصل چیز کی تعلیم وتلقین پر سارا زور صرف کیا جو پوری دین دارانہ زندگی کی جڑ ہے، یعنی خدا ورسولؐ کی وفا داری و اطاعت،اس کے بعد ہمیں کسی چیز کی الگ الگ تلقین کی ضرورت نہ رہی۔ جس جس بات کے متعلق ان کو معلوم ہوتا گیا کہ خدا ورسول کا حکم یہ ہے یا خدا ورسول کو یہ پسند ہے، اسے اختیار کرنے پر وہ اپنے نفس کو مجبور کرتے چلے گئے اور جس جس کے متعلق یہ معلوم ہوتا گیا کہ یہ خدا و رسولؐ کو ناپسند ہے اسے وہ خودبخو د چھوڑتے چلے گئے۔ اس سلسلے میں ان کے اندروہی تبدیلیاں نہیں ہوئیں جو آپ لوگوں کے نزدیک اتباعِ سنت رہی ہیں۔ بلکہ وہ تبدیلیاں بھی ہوئیں جن کے مقتضائے دین ہونے کے تصور سے بہت سے دورِ آخر کے پیشوایانِ دین تک خالی رہے ہیں۔
یہ سب کچھ دیکھ لینے کے بعد جب آپ مجھ سے کہتے ہیں کہ تیری باتوں سے لوگوں میں سنت سے عدمِ اعتنا اور استہزا کی کیفیت پیدا ہوگی یا ہوئی تو مجھے حیرت بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی۔میں نے تو مجبور ہوکر بلکہ تنگ آکر صاف صاف بات اس وقت کہی ہے جب کہ ایک گروہ نے اپنے طرزِ عمل سے مجھ پر یہ ثابت کردیا کہ ایک طرف تو وہ ہماری دعوت پر لبیک کہتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے، مگر دوسری طر ف جزئیات کو اُصول وکلیات پر مقدم رکھنے اور تقریر، تحریر اور بحث وجدال کا سارا زور جزئیات پر ہی صرف کرنے کی پرانی بیماری اس کو ابھی تک لگی ہوئی ہے،اس سے مجھے خطرہ ہوا کہ اس بیماری کو لیے ہوئے اگر یہ گروہ جماعت میں آگیا تو یہاں پھر وہی سب کچھ ہونے لگے گا جو باہر مذہبی میدان میں ہوتا رہا ہے۔ اس لیے مجھے مجبوراً یہ بتادینا پڑا کہ ایسے لوگ ہمارے کسی کام کے نہیں ہیں اور ہماری دعوت کا مزاج ان کی افتادِ مزاج سے بالکل مختلف ہے۔وہ اگر اپنے دماغ کی اصلاح کرکے اوراپنے فہم دین کو درست کرکے آنا چاہیں تو چشمِ ماروشن،دلِ ماشاد! لیکن اگر وہ جماعت میں آکر یا جماعت میں رہ کر وہی سب کچھ کرنا چاہتے ہیں جو اس سے پہلے کرتے رہے ہیں اور جس کی بدولت دین کا کچھ کام بنانے کے بجائے کچھ بگاڑتے ہی رہے ہیں، تو بہتر ہے کہ وہ ہماری اس جماعت کو خراب کرنے کے بجائے اپنے پرانے مشاغل باہر ہی رہ کرجاری رکھیں۔
اس وجہ سے جو کچھ میں نے کیا اور جو کچھ میں نے کہا،خوب سوچ سمجھ کر ہی کیا اور کہا۔ خدا کے فضل سے میں کوئی کام یا کوئی بات جذبات سے مغلوب ہوکر نہیں کیا اور کہا کرتا۔ایک ایک لفظ جو میں نے اپنی تقریر میں کہا ہے،تو ل تول کر کہا ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کہاہے کہ اس کا حساب مجھے خدا کو دیناہے، نہ کہ بندوں کو۔چنانچہ میں اپنی جگہ بالکل مطمئن ہوں کہ میں نے کوئی ایک لفظ بھی خلافِ حق نہیں کہا اور جو کچھ کہا ،اس کا کہنا خدمت دین کے اس مرحلے پر ناگزیر تھا۔اس کے کہنے پر نہیں، بلکہ نہ کہنے پر مجھے اندیشہ تھا کہ میں ماخوذ ہوںگا۔ اب جو باتیں آپ نے تحریر فرمائی ہیں،ان میں بھی کوئی ایک چیز ایسی نہیں ہے جس سے مجھے اپنی اس رائے میں ترمیم کرنے کی ضرورت پیش آئے۔
میں نے آپ سے زبانی بھی عرض کیا تھا اور اب تحریراً بھی عرض کرتا ہوں کہ میں دین کو جوکچھ سمجھتا ہوں اور شریعت کے متعلق جو کچھ مجھے علم ہے،اس کی بِنا پر میرا فرض ہے کہ نہ صرف اپنے قول سے بلکہ اپنے عمل سے بھی ان غلطیوں کی اصلاح کروں جو شریعت کے بارے میں لوگوں کے اندر پھیلی ہوئی ہیں ۔محض لوگوں کے مذاق کی رعایت کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس رنگ میں پیش کرنا جس میں وہ مجھے رنگا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کو اس غلط فہمی میں ڈالنا کہ شریعت کے اصل تقاضے وہی ہیں جو انہوں نے سمجھ رکھے ہیں،میرے نزدیک گناہ ہے۔میں اسوہ اور سنت اور بدعت وغیرہ اصطلاحات کے ان مفہومات کو غلط، بلکہ دین میں تحریف کا موجب سمجھتا ہوں جو بالعموم آپ حضرات کے ہاں رائج ہیں۔آپ کا یہ خیال کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جتنی بڑی ڈاڑھی رکھتے تھے اتنی ہی بڑی ڈاڑھی رکھنا سنت رسولؐ یا اسوۂ رسولؐ ہے،یہ معنی رکھتا ہے کہ آپ عادات رسول کو بعینہٖ وہ سنت سمجھتے ہیں جس کے جاری اور قائم کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیا علیہم السلام معبوث کیے جاتے رہے ہیں۔ مگر میر ے نزدیک صرف یہی نہیں کہ یہ سنت کی صحیح تعریف نہیں ہے، بلکہ میںیہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ اس قسم کی چیزوں کو سنت قرار دینا اور پھر ان کے اتباع پر اصرار کرنا ایک سخت قسم کی بدعت اور ایک خطرناک تحریفِ دین ہے جس سے نہایت برے نتائج پہلے بھی ظاہر ہوتے رہے ہیں اور آیندہ بھی ظاہر ہونے کا خطرہ ہے۔
آپ کو اختیار ہے کہ میری اس رائے سے اتفاق نہ کریں ،لیکن جب تک میں اپنے مطالعۂ کتاب وسنت کی بِنا پر یہ رائے رکھتا ہوں،اس وقت تک آپ لوگوں کا یہ مطالبہ کرنا کہ میں اپنے عقیدہ وعلم کے خلاف آپ لوگوں کی مزعومہ سنتوں کو اختیار کروں کسی طرح صحیح نہیں ہے۔پھر جب ایسا نہ کرنے کی صورت میں آپ لوگ مجھے یہ اندیشہ دلاتے ہیںکہ لوگ مجھ سے بدگمان ہوں گے اور یہ چیز ان کے اس دعوت کی طرف آنے میںمانع ہوگی تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ لوگ میری دعوت الی اﷲ کے جواب میں مجھ کو اُلٹی دعوت الی الناس دینا چاہتے ہیں۔جن لوگوں کے اندر حق اور غیر حق کی اتنی تمیز بھی باقی نہ رہی ہو کہ وہ یہ بھی نہ سمجھ سکیں کہ میںجس چیز کی طرف انہیں بلا رہا ہوں وہ دین میں کیا مقام رکھتی ہے اور وہ جن باتوں کی وجہ سے میری دعوت کو قبول کرنے میں تامل یا انکار کررہے ہیں ،ان کا دین میں کیا درجہ ہے،ایسے ناحق شناس اور خدا پرستی کے بھیس میں اپنے تخیلات کو پوجنے والے لوگ آخر کس وزن اور قدر کے مستحق ہیں کہ ان کے جذبات اور ان کے خیالات کی کوئی رعایت کی جائے۔ (ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل، جمادی الثانیہ ۶۴ھ، مارچ،جون ۴۵ء)