رسائل ومسائل – جلد اول
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "رسائل و مسائل" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تصنیف ہے جو مختلف شرعی، اخلاقی، سماجی اور فکری مسائل پر ان کے جوابات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دینِ اسلام کو صرف رسمی عبادات تک محدود نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک جامع نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا جائے جو ہر شعبۂ زندگی کو اپنے دائرۂ اثر میں لے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب میں صرف فقہی جزویات پر بحث نہیں کی بلکہ ہر مسئلے کو اس کے اصولی، فکری اور اجتماعی تناظر میں دیکھا ہے تاکہ قاری کو صرف حکم نہیں بلکہ اس کی حکمتِ تشریع بھی سمجھ آئے۔
کتاب کا آغاز نواقضِ وضو کے مسئلے سے ہوتا ہے، جہاں مولانا واضح کرتے ہیں کہ شریعت کا ضابطۂ طہارت محض ظاہری نجاست کی بنیاد پر نہیں بلکہ پانچ اہم مقاصد—نظافت کی عادت، معنوی تیاری، نفس کی نگرانی، ضابطے کی وضاحت، اور اعتدال—کی روشنی میں تشکیل پایا ہے۔ اس کے بعد وہ آلات کے ذریعے توالد کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے اسے انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف فطرت کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسلامی تصورِ نسل کشی اور خاندانی نظام کو بھی تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔
مشینی امامت، آلاتِ موسیقی، عذرِ مجبوری میں غیر اللہ کی اطاعت، دعا میں ہاتھ اٹھانا، سفر میں قصرِ صلوٰۃ، ہندستان میں گائے کی قربانی، اور جبری امتناع کی صورت میں مباحات کا وجوب—یہ تمام ابواب اسی اصول پر مبنی ہیں کہ اسلام کا ہر حکم ایک جامع نظام کا حصہ ہے جس کا مرکز توحید ہے۔ اسی سلسلے میں چند مسائل تقابلی مذہب اور سائنس سے متعلق بھی ہیں—ایک ہندو دوست کے خط کا جواب، گائے اور تناسخ کا تصور، اور کائناتی و حیاتی ارتقا پر اسلامی نقطۂ نظر۔
کتاب کا ایک اور اہم حصہ معاشی و کاروباری فقہ پر مشتمل ہے: سرکاری نرخ بندی، بکری ٹیکس، مکانوں کے کرایوں میں بلیک مارکیٹنگ، سود سے پاک بینکاری کی ایک تجویز، اور کاروبار میں اسلامی اصولِ اخلاق کا اطلاق۔ آخری حصہ سیاسی و تنظیمی سوالات کا احاطہ کرتا ہے—مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت، مطالبۂ پاکستان، صوبہ سرحد کا ریفرنڈم، غیر اسلامی قانون ساز مجالس کی رکنیت کا مسئلہ، مزدوروں کی ہڑتالوں میں جماعتِ اسلامی کی پالیسی، اور قضیۂ فلسطین میں جماعت کا رویہ—جو مجموعی طور پر دکھاتے ہیں کہ مولانا کے نزدیک فقہی جزئیات اور اجتماعی و سیاسی مسائل دونوں ایک ہی اصولی نقطۂ نظر سے حل کیے جانے چاہئیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اختلافی مسائل پر اُمت سازی کا فتنہ:
سوال: مجھے مذہبی تنازع اور تفرقے سے فطری بُعد ہے اور وہ تمام جزوی مسائل جن میں اختلاف کی گنجایش خود شریعت میں موجود ہے، ان میں اختلاف کو جائز رکھتا ہوں۔ اسی طرح اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی معاملے میں دو یا تین طریقہ ہائے عمل ثابت ہوں تو ان سب کو جائز اور سنت کی حدکے اندر شمار کرتا ہوں۔مثلاً نماز میں رفع یدین کرنا اور نہ کرنا میرے نزدیک دونوں برابر ہیں۔چنانچہ میں ان دونوں صورتوں پر عمل کرلیتا ہوں،کبھی اِس پر اور کبھی اُس پر۔مجھے اپنے اس مسلک پر پورا پورا اطمینان ہے اور میں نے سوچ سمجھ کر اِسے اختیار کیا ہے۔ مگر میرے والد مکرم،جو جماعت اسلامی کے رکن بھی ہیں، محض نماز میں رفع یدین کا التزام چھوڑدینے کی وجہ سے انہوں نے مجھے یہ نوٹس دے دیا ہے کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو پھر ہمارے تمہارے درمیان سلام کلام کا تعلق برقرار نہیں رہ سکتا۔ میں نے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ اب یہ قضیہ میرے اور والد مکرم کے حلقۂ تعارف میں بحث کا موضوع بن گیا ہے اور دونوں کی تائید وتردید میں لوگ زورِ استدلال صرف کررہے ہیں۔
مجھ پر جو بے سروپا اعتراضات عموماًہورہے ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے: تو حنفی ہوگیا ہے ۔تیرا دو طریقوں پر عمل کرنا دو عملی اور نفاق ہے ۔تم جماعت کی اکثریت سے مرعوب ہوگئے ہو۔تمہارا اصل مقصود جلبِ زر اور حصولِ عزت ہے ،تمہیں احناف نے یہ پٹی پڑھائی ہے۔ تو مودودی صاحب کا مقلد ہے وغیرہ۔
ان اعتراضات میں ایک دل چسپ ترین اعتراض یہ ہے کہ ہمیں پہلے ہی مودودی صاحب سے یہ اندیشہ تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے نام پر اہلِ حدیث کو حنفی بنا کے رہیں گے۔چنانچہ یہ اندیشہ صحیح ثابت ہوا۔یعنی پہلے تو اس جماعت میں آنے والے سے کہا جاتا ہے کہ تمہارا فقہی مسلک جماعت میں آنے کے بعد بھی برقرار رہے گا، مگر جماعت میں آنے کے بعد ایسے طریقوں سے کام لیا جاتا ہے کہ کسی شخص کو خود کوئی احساس تک نہیں ہوتا اور اس کا مسلک سراسر بدل جاتا ہے۔
مَیں حسبِ موقع ان سب اعتراضات کے جواب دیتا رہا ہوں لیکن پھر بھی اپنے اطمینان کے لیے امورذیل کی وضاحت چاہتا ہوں:
ا۔ والدین کے حقوق کا دائرہ کتنا وسیع ہے؟کیا وہ اولاد سے مسائل کی تحقیق کا اور اپنی تحقیق کے مطابق عمل کرنے کا حق بھی سلب کرسکتے ہیں؟کیا میں والدین کی مرضی کے خلاف مسلکِ اہل حدیث کی خلاف ورزی( یعنی ترک رفع یدین) کرنے پر سخط الرب فی سخط الوالدین کی وعید کا مستوجب ہوجائوں گا؟
۲۔ ازُروئے شریعت نماز میں رفع یدین کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟کیا ترکِ رفع سے آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے؟
۳۔ کیا جماعت اسلامی کا ایک رکن دوسرے رکن سے اس بِنا پر مقاطعہ کرسکتا ہے کہ اس نے مزعومہ مسلکِ اہل حدیث کی خلاف ورزی کی ہے؟
جواب: جس نزاع کا آپ نے ذکر کیا ہے ،اس کا حال پڑھ کر مجھے بہت رنج ہوا۔ مجھ کو اس بات کی ہرگز توقع نہ تھی کہ جماعت اسلامی میں ایسے لوگ موجود ہوں گے جو فقہی مسائل میں تعصب اور تشدد کی اس حد کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔اگر آپ جیسا قابلِ اعتماد آدمی ان حالات کا راوی نہ ہوتا اور ایک دوسری اطلاع سے آپ کے بیان کی تائید نہ کی گئی ہوتی تو شایدمیں اس بات کو باور کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا کہ واقعی ہماری جماعت میں ایسی صورت حال پیدا ہوئی ہو گی۔ بہرحال اب جب کہ اس نزاع نے سر اُٹھا ہی لیا ہے، میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس معاملے کی اُصولی اور فقہی اور جماعتی حیثیت کو صاف صاف واضح کردوں۔
۱۔ اُصولی حیثیت سے یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ شرعی مسائل میں کسی شخص یا یاگروہ کا کسی خاص طریق تحقیق واستنباط یا کسی مخصوص مذہب فقہی کی پیروی کرنا اورچیز ہے اور اس کا اپنے خاص طریقے یا مذہب کے لیے متعصب ہونا اور اس کی بِنا پر جتھا بندی کرنا اور اس سے مختلف مذہب رکھنے والوں سے مغایرت ومنافرت برتنا اور اس کی پابندی ترک کرنے والوں کو اس طرح ملامت کرنا کہ گویا ان کے دین میں کوئی نقص آگیا ہے ،بالکل ایک دوسری چیز ہے۔پہلی چیز کے لیے تو شریعت میں پوری گنجایش ہے، بلکہ خود صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہم کے طرزِ عمل سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے اور دین میں اس سے کوئی خرابی رونما نہیں ہوتی۔ لیکن دوسری چیز بعینہٖ وہ تفرق فی الدین ہے جس کی قرآن میں مذمت کی گئی ہے، اور اس تفرق کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ لوگ فقہی مسائل ہی کو اصل دین سمجھ بیٹھتے ہیں، پھر ان مسائل میں ذرا ذرا سے اختلاف پر ان کے درمیان الگ الگ اُمتیں بنتی ہیں،پھر ان فروعی بحثوں میں وہ اس قدر اُلجھتے اور ایک دوسرے سے بے گانہ ہوجاتے ہیں کہ ان کے لیے امت ِ مسلمہ کی زندگی کے اصل مقصد(یعنی اعلائے کلمۃ اﷲ)اور اقامت ِ دین کی خاطر مل کر جدوجہد کرنا غیر ممکن ہوجاتا ہے۔
مسلکِ فقہی کے اعتبار سے کسی کا طریق ِ اہل حدیث یا طریق ِ حنفی یاطریق ِ شافعی وغیرہ پر چلنا بجائے خود کسی قباحت کا موجب نہیں ہے۔لیکن اگر یہ چیزآگے بڑھ کر یہ صورت اختیار کرلے کہ مسلمان فی الحقیقت ایک اُمت نہ رہیں،بلکہ اہل حدیث، احناف، شوافع وغیرہ ناموں کے ساتھ الگ الگ مستقل اُمتیں بن جائیں، اور شرعی اعمال کی جو خاص صورتیں ان مختلف گروہوں نے اختیار کی ہیں،وہ ہر ایک گروہ کے مخصوص شعائر قرارپاجائیں جن کی بِنا پر ان گروہوں میں مغایرت اور امتیاز واقع ہو، تو پھر یقینا یہ دین کو ٹکڑے ٹکڑ ے کرنا ہے، اور میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دین ِ اسلام میں اس تقسیم اور تعصب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔رفع یدین کرنا یا نہ کرنا،آمین زور سے کہنا یا آہستہ کہنا، اور ایسے ہی دوسرے اُمور صرف اسی وقت تک شرعی اعمال ہیں جب تک کوئی شخص ان کے ترک یا فعل کو اس بِنا پر اختیا رکرے کہ اس کی تحقیق میں صاحب ِ ؐشریعت سے ایسا ہی ثابت ہے یا یہ کہ ایسا کرنا دلائل شرعیہ کی بِنا پر ارجح اور اَولیٰ ہے۔ مگر جب یہی اعمال کسی مخصوص فرقے کے شعار بن جائیں اور ان کا ترک یا فعل وہ علامت قرار پائے جس کی بِنا پر یہ فیصلہ کیا جانے لگے کہ آپ کس فرقے میں داخل اور کس سے خارج ہیں اور پھر انہی علامتوں کے لحاظ سے یہ طے ہونے لگے کہ کون اپنا ہے اور کون غیر،تو اس صورت میں رفع یدین کرنا اور نہ کرنا، یا آمین زور سے کہنا، یا آہستہ کہنا یا ایسے ہی دوسرے اُمور کا ترک اور فعل دونوں یکساں بدعت ہیں۔ اس لیے کہ سنت رسول اﷲ میں بجائے خود تو ان اعمال کا ثبوت ملتا ہے ،لیکن اس بات کاکوئی ثبوت نہیں ملتا ہے کہ ان اعمال کو مسلمانوں کے اندر گروہ بندیوں اور فرقہ سازیوں کے لیے علامات اور شعائر بنایا جائے۔ایسا کرنا دراصل حدیث کا نام لے کر صاحبِ حدیث علیہ السلام کے منشا کے بالکل برعکس کام کرنا ہے اور اس اصل کام کو غارت کرنا ہے جس کے لیے نبیؐ دنیا میں تشریف لائے تھے۔
۲۔ اب اس مسئلے کی فقہی حیثیت کو لیجیے۔ رفع یدین کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ مختلف طرزِ عمل منقول ہیں:
ا۔ ابن عمرؓ کی روایت جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ تین مواقع پر رفع یدین کرتے تھے۔ افتتاح صلوٰۃ کے وقت،رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اُٹھ کر۔
ب۔ مالک بن حویرث کی روایت جس میں دو موقعوں پر رفع یدین کا ذکر ملتا ہے۔افتتاح صلوٰۃ کے وقت اور رکوع سے اُٹھ کر۔
ج۔ وائل بن حُجر کی روایت، جس میں چارمواقع پر اس کا ہونا مذکور ہے۔ افتتاحِ صلوٰۃ کے وقت۔ رکوع میںجاتے ہوئے۔رکوع سے اُٹھتے ہوئے۔سجدے کے موقع پر۔
د۔ ابو حمید ساعدی کی روایت۔ اس میں بھی چار مواقع پر رفع یدین کا ذکر ہے، مگرچوتھاموقع سجدے کے بجائے تیسری رکعت میں قعدے سے اُٹھنے پر بیان کیا گیا ہے۔
ر۔ عبداﷲ ابن مسعودؓ اور براء ابن عازبؓ کی روایت جس میں صرف ایک مرتبہ رفع یدین کرنے کا ذکر ہے، یعنی افتتاحِ صلوٰۃ کے موقع پر۔
ان مختلف روایات میں سے(ا) کو امام شافعیؒ،احمد اور ابو ثور نے،نیز اہل الحدیث اور اہل الظاہر کی اکثریت نے اختیار کیا اور ایک روایت امام مالک سے بھی یہی ہے کہ وہ اس کو ترجیح دیتے تھے۔ (د)کو اہل الحدیث کے ایک گروہ نے مرجح ٹھیرایا۔ اور(ر)کو ابراہیم نخعی، شعبی، سفیان ثوری،ابوحنیفہ اور تمام فقہائے کوفہ نے ترجیح دی۔ لیکن یہ واضح رہے کہ سوال صرف ترجیح کا ہے نہ کہ رد وقبول کا۔ائمۂ سلف میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ جن مختلف طریقوں کا ذکر مذکورہ بالا احادیث میں آیا ہے،ان میں سے کسی پر حضورؐ نے عمل نہیں کیا تھا۔ بلکہ کہتے صرف یہ ہیں کہ جس خاص طریقے کو ہم نے مرجح قرار دیا ہے ،وہ حضورؐ کا عام معمول تھا اور دوسرے طریقوں پر آپؐ کبھی کبھی عمل کرلیتے تھے۔پس جب معاملے کی حقیقت یہ ہے تو ان طریقوں میں سے جس پر بھی کوئی عمل کررہا ہے ،حدیث ہی کی پیروی کررہا ہے اور اس پر نکیر کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اتباع پیغمبرؐ پر نکیر کی جاتی ہے، جس کی جرأت مقلدین کو بھی زیبا نہیں، کجا کہ اہل حدیث اس کا ارتکاب کریں۔ پھر اگر کوئی شخص ان طریقوں میں سے کسی ایک طریقے پر جامد ہونے کے بجائے وقتاًفوقتاً ان سب طریقوں پر عمل کرتا رہے جو حدیث میں مذکور ہیں تو یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ صحیح ومکمل پیر وی ہوگی اور لفظ عمل بالحدیث کا اطلاق اس طرزِعمل پر زیادہ صحیح معنی میں ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ابتدا ہی میں ایک طریقے کو ترجیح دینے اور باقی سب طریقوں کو ترک کردینے کے بجائے ان سب طریقوں کو نماز میں اختیار کرنے کی گنجایش رکھی جاتی تو شاید بعدکے ادوار میں و ہ جمودوتعصب پیدا ہی نہ ہوتا جس کی بدولت نوبت یہ آگئی ہے کہ لوگ نماز کی جس صورت کے عادی ہیں،اس سے ذرا سی بھی مختلف صورت جہاں انہوں نے دیکھی،اور بس وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس شخص کا دین بدل گیا ہے اور یہ ہماری اُمت سے نکل کر دوسری اُمت میں جاملاہے۔
یہ رائے جو میں عرض کررہا ہوں،یہ صرف میری انفرادی رائے ہی نہیں ہے بلکہ پہلے بھی متعدد اہلِ تحقیق اسی خیال کا اظہار کرچکے ہیں۔ اس وقت میرے پاس سفر(اس خط کا جواب دہلی میں لکھا گیا تھا۔) میںکتابیں موجود نہیں ہیں اس لیے میں زیادہ وسیع پیمانے پر شواہد پیش نہیں کرسکتا، لیکن ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ خوش قسمتی سے مل گئی ہے،اس سے چند حوالے یہاں نقل کرتا ہوں۔شاہ صاحب پہلے تو یہ اُصولی بات ارشاد فرماتے ہیں کہ:
الاصل ان یعمل بکل حدیث الا ان یمتنع العمل بالجمیع للتناقض۔
(باب القضاء فی الاحادیث المختلفۃ)
’’اُصولی بات یہ ہے کہ آدمی ہر حدیث پرعمل کرے ،اِلاّ یہ کہ کسی مسئلے میں سب حدیثوںپر عمل کرنا تناقض کی وجہ سے غیر ممکن ہو۔‘‘
پھر آگے چل کر فصل فی عدۃ اُمور مشکلہ من التقلید واختلاف المذاہب میں فرماتے ہیں:
ان اکثر صورالاختلاف بین الفقہاء لاسیما فی المسائل التی ظہر فیھا اقوال الصحابۃ فی الجانبین کتکبیرات التشریق وتکبیرات العیدین ونکاح المحرم وتشہد ابن عباس و ابن مسعود والاخفاء بالبسملۃ وبٰامین والاشفاع والایتار فی الاقامۃ ونحو ذٰلک، انما ھو فی ترجیح احد القولین وکان السلف لا یختلفون فی اصل المشروعیۃ وانما کان خلافہم فی اولی الامرین و نظیرہ اختلاف القرّآء فی وجوہ القرأۃ وقد عللوا کثیرًا من ھٰذا الباب بان الصحابۃ مختلفون وانہم جمیعًا علی الھدٰی ۔
واقعہ یہ ہے کہ فقہا کے درمیان اختلاف کی اکثر صورتیں،بالخصوص ان مسائل میں جن میں صحابہ ؓ کے اقوال دونوں طرف پائے جاتے ہیں مثلاًتکبیرات تشریق، تکبیراتِ عیدین، نکاحِ محرم،تشہد ابن عباس و ابن مسعود، بسم اﷲ اور آمین کا اخفا،تکبیر اقامت میں کلمات کو ایک ایک مرتبہ یا دو دو مرتبہ پڑھنا وغیرہ، ان میں اختلاف دراصل اس امر میں ہے کہ دو اقوال میں سے کس کو کس پر ترجیح ہے ۔ورنہ ان مختلف طریقوں کے بجائے خود مشروع ہونے میں سلف کے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا۔ان کا اختلاف تو صرف اس اعتبار سے تھا کہ دو مختلف اُمور میں سے اولیٰ کون سا ہے، اور یہ اختلاف ایسا ہی ہے جیسے قرأت کی مختلف صورتوں میں قاریوں کے درمیان اختلاف ہے۔اس معاملے میں بیش تر اُمور کے اختلاف کی وجہ سلف نے یہ بتائی ہے کہ صحابہ کرامؓ خود ان میں مختلف تھے اور ظاہر ہے کہ صحابہؓ سب کے سب ہدایت پر تھے۔‘‘
پھر باب اذکار الصلٰوۃ وھیئآتھا المندوب الیھا میں فرماتے ہیں:
وھو (ای رفع الیدین) من الہیئآت وفعلہ النبی ﷺ مرۃ وترکہ مرۃ والکل سنۃ واخذ بکل واحد جماعۃ من الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم وھذا احد المواضع التی اختلف فیھا الفریقان اہل المدینۃ والکوفۃ ولکل واحد اصل اصیل والحق عندی فی مثل ذٰلک ان الکل سنۃ۔
’’اور وہ( یعنی رفع الیدین) نماز کی ان ہئیتوں میں سے ہے جن کو نبیؐ نے کبھی کیا ہے اور کبھی نہیں کیا۔ اور یہ دونوں طریقے سنت ہیں،صحابہؓ اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے ایک ایک جماعت نے ان میں سے ایک ایک طریقے کو اختیار کیا ہے، اور یہ من جملہ ان معاملات کے ہیں جن میں اہلِ مدینہ اور اہلِ کوفہ کے درمیان اختلاف واقع ہوا ہے۔ لیکن ہر ایک کے لیے ایک ثابت شدہ اصل شریعت میں موجود ہے، اور ایسے مسائل میں میرے نزدیک حق یہ ہے کہ سب مختلف طریقے سنت ہیں۔‘‘
شاہ صاحب کی ان تصریحات کے بعد اس امر کی ضرورت نہیں رہتی کہ میں آمین کے مسئلے کے متعلق الگ بحث کروں۔تاہم اس معاملے میں صاحبِ ’’الجواہر النقی‘‘ کا یہ قول نقل کردینا کافی سمجھتا ہوں کہ:
والصواب ان الخبرین بالجہر بہا والمخافۃ صحیحان وعمل بکل من فعلیہ جماعۃ من العلماء۔
۳۔ ہماری جماعت کا ان اختلافی معاملات میں جو مسلک ہے،اس کی توضیح اس سے پہلے بارہا کی جاچکی ہے، اور میں اب ایک مرتبہ پھر اسے صاف صاف الفاظ میں بیان کیے دیتا ہوں۔ اس جماعت میں اہل حدیث، احناف،شوافع اور ایسے ہی دوسرے فقہی طریقوں پر چلنے والے مسلمانوں کے لیے اپنے اپنے فقہی مسلک پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہے، بشرطیکہ وہ ان مسلکوں میں سے کسی کے لیے متعصب نہ ہوں اور ان اختلافات کو مغایرت اور جتھا بندی کا ذریعہ نہ بنائیں۔جماعت کے اندر جو لوگ بھی شامل ہوں،انہیں اسلامی عصبیت کے سوا اور ساری عصبیّتیں اپنے اندر سے نکالنی ہوںگی، خواہ وہ وطنی عصبّیتیں ہوں، نسلی ہوں، طبقاتی ہوں یا گروہی۔ان کو محبت اور د وستی کے رشتے میں جوڑنے والی چیز اسلام کے سوا اورکوئی نہ ہو۔اور ان کے اندر غصہ ونفرت کو بھڑکانے والی بھی اسلام سے دوری کے سوا کوئی دوسری چیز نہ ہو۔ کسی رکنِ جماعت کے لیے کسی دوسرے شخص کا اہل حدیث یا حنفی یا شافعی مسلک پر ہونا یا اختیار کرلینا نہ تو سببِ محبت ہی ہو اور نہ سبب نفرت۔اس لازمی وضروری شرط کے ساتھ اہل حدیث،اہل حدیث رہتے ہوئے اور حنفی ،حنفی رہتے ہوئے‘ اور شافعی ،شافعی رہتے ہوئے‘ جماعت اسلامی کا رکن ہوسکتا ہے۔ لیکن جو شخص کسی مخصو ص فقہی مذہب کے لے متعصب ہو اور اپنے مذہب کے پیرووں سے محبت اور دوسرے طریقے والوں سے نفرت رکھتا ہو،اور حنفی، شافعی یا اہل حدیث ہوجانے کو جرم سمجھتا ہو اس کے لیے ہماری اس جماعت میں کوئی جگہ نہیں۔
۴۔ میرے متعلق اس نزاع کے سلسلے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس پر میں صبرکرتا ہوں اور اُن لوگوں کے معاملے کو خدا پر چھوڑتا ہوں جنہوں نے بغیر علم وتحقیق کے یہ بدگمانی لوگوں میں پھیلائی کہ میں اہلِ حدیث کو حنفی بنانے کی سازش کررہا ہوں۔کاش وہ لوگ جو فقہی جزئیات میں کتاب وسنت کی پیروی پر بڑا زور دیا کرتے ہیں، اخلاقی معاملات میں بھی کتاب وسنت کی کچھ پیروی کرلیا کریں۔
۵۔ آپ کے والد ماجد نے اس قضیے میں جو رویہ اختیارکیا ہے، اس کی دو حیثیتیں ہیں:ایک رکن جماعت ہونے کی حیثیت، اور دوسری آپ کے والد ہونے کی حیثیت۔ جہاں تک پہلی حیثیت کا تعلق ہے ،اس پر میں نمبر ۳ میں روشنی ڈال چکا ہوں، لہٰذا وہ براہ کرم اپنے متعلق فیصلہ کرلیں کہ آیا وہ اپنے رویے کو بدلناپسند فرماتے ہیں یاجماعت سے علیحدگی۔ رہی دوسری حیثیت ،تو اس کے متعلق میں مختصر طور پر صرف یہ کہہ دینا کافی سمجھتا ہوں کہ جہاں تک اُصول دین کا تعلق ہے،والدین کو نہ صرف یہ حق ہے بلکہ یہ ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اعتقادی ضلالت یا اخلاقی فساد سے روکنے کی کوشش کریں۔ لیکن جہاں تک فقہی معاملات کا تعلق ہے، والدین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اولاد کو اپنے مسلک خاص کی پیروی پر مجبور کریں۔ خصوصاً جب کہ اولاد صاحب علم ہو اور تحقیق کی بِنا پر والدین سے مختلف کسی دوسرے مسلکِ فقہی کو اختیار کرنا چاہے تو والدین کے لیے یہ مطالبہ کرنا کسی طرح درست نہیں ہے کہ وہ اپنی تحقیق کے خلاف عمل کرے۔اس معاملے میں سلف کا صحیح اتباع یہ ہے کہ والدین اور اولاد دونوں کو تحقیق کی آزادی اور اپنی تحقیق پر عمل کرنے کاحق ہونا چاہیے۔اس حق کو سلب کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر ایک شخص اہل حدیث یا حنفی یا شافعی ہو تو وہ اپنی آیندہ نسل کو بھی اہل حدیث، حنفی یا شافعی بنانے پر اصرار کرے گا اور دو چار پشتیں گزر جانے کے بعد یہ طریقے محض فقہی مسلک نہ رہیں گے بلکہ نسلی اُمتیں بن جائیں گے جن میں تعصب ہوگا،جمود ہوگا اور آبائی مسلک سے ہٹنا ارتداد کا ہم معنی قرار پائے گا۔آپ خود اپنے والد ماجد ہی سے دریافت فرمائیں کہ آیا وہ اپنی آیندہ نسل کو اسی فتنے میںمبتلا کرنا چاہتے ہیں؟
(ترجمان القرآن۔رجب،شعبان ۶۴ھ، جولائی،اگست ۴۵ء)