ہندوستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب
اشاعت: 1922ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ مقالہ ہے جو انہوں نے محض اکیس برس کی عمر میں ۱۹۲۲ء میں تحریر کیا تھا۔ اس میں وہ تاریخی و اعداد و شمار کی روشنی میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح انگریزوں نے اپنی مخصوص حکمتِ عملی کے ذریعے ہندوستان کی صنعتی حیثیت کو بتدریج زرعی حیثیت میں تبدیل کر دیا، اور یہ کہ خود انگلستان کی صنعتی ترقی بھی بڑی حد تک ہندوستانی دولت ہی کی مرہونِ منت تھی۔
وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی دور سے لے کر انیسویں صدی تک ہندوستان کی شان دار صنعتی روایات، جنگِ پلاسی کے بعد کمپنی کی تجارتی و عسکری بالادستی، بنگال کے قحط اور مالگزاری کی بے رحمانہ وصولی، ملکی تجارت پر کمپنی کے حملوں، اور ناجائز محصولات کے ذریعے دیسی صنعت کو کچلنے کی پالیسیوں کو دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں بے نقاب کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ہندوستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب: 1600ء تا 1924ء — تسلسل 1
۱۸۵۹ء اور ۱۸۶۹ء کے درمیان ہندوستان کی کل برآمد :
[غلہ کی برآمد کے متعلق اس قدر اور کہنے کی ضرورت ہے کہ یہ 'غدر' کے بعد سے برابر ترقی کرتی رہی اور شدید قحط کے زمانے میں بھی کبھی نہیں رکی ۱۸۶۱ء اور ۱۸۶۰ء کا زمانہ ہندوستان میں سخت قحط کا گزرا ہے مگر اس کے باوجود پہلے سال ۳۷ لاکھ اور دوسرے سال ۴۰ لاکھ پونڈ کا غلہ باہر بھیجا گیا جو ۱۸۵۹ء اور ۱۸۵۸ء کے مقابلہ میں ۱۱ لاکھ اور ۳۰ لاکھ کے قریب زیادہ تھا اسی طرح ۱۸۹۶ء، ۱۸۹۷ء اور ۱۹۰۰ء کا زمانہ بڑے سخت قحط کا تھا مگر پہلے سال ۲،۲۰،۱۲۰ دوسرے سال تقریباً دو کروڑ اور تیسرے سال ڈیڑھ گنا اور دوگنا زائد تھا۔]
*
*
*
یہ تفاوتِ عظیم کس قدر قابل افسوس ہے کہ ایک خالص صنعتی ملک جو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد دنیا بھر کے مہذب ممالک کو اعلیٰ درجہ کی مصنوعات بہم پہنچاتا تھا، تیس چالیس سال کے اندر ہی اس کی یہ نوبت پہنچ گئی کہ اپنے ہاں کی خام پیداوار کو دوسروں کے ہاتھ بیچنے لگا اور اس میں معمولی سوئی تک بنانے کی قابلیت باقی نہ رہی۔ یہ وہی ملک تھا جس کے متعلق برنیر نے کہا تھا کہ "آج اس میں ہر طرف سے سونے چاندی کی نہریں بھی چلی آرہی ہیں اور مشکل سے ایک راستہ باہر نکلنے کے لیے کھلا ہے"۔ مگر آج "سیاسی بے انصافی" کے صدقہ سے اسی ملک کا یہ حال ہے کہ دولت کے باہر نکلنے کی تمام سوت کھلے ہوئے ہیں اور آنے کا کوئی سوت باقی نہیں ہے۔
یہ ایک ایسی بے انصافی تھی جس پر ہمیشہ انصاف پسند انگریزوں نے افسوس کیا ہے۔ ۱۸۴۰ء میں دارالعوام نے ایک سلیکٹ کمیٹی خاص ہندوستانی صنعتوں کے متعلق تحقیقات کرنے کے لیے بنائی تھی، اس کے سامنے جو شہادتیں پیش ہوئیں ان میں سے بعض بہت سبق آموز ہیں۔ سر چارلس ٹریویلیین جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہندوستان کے خاص ہمدردوں میں سے تھا، اس نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ :
” وہ اعلیٰ درجہ کی ریشم نما روئی جس سے ڈھاکہ کی ململ تیار کی جاتی تھی، آج کہیں دیکھنے کو بھی نہیں ملتی ڈھاکہ جو کسی زمانہ میں ۱۵۰۰۰۰ کی بستی تھی اب مشکل سے تیس چالیس ہزار کا قصبہ رہ گیا ہے، جس پر ہر وقت ملیریا کی ہوا چھائی رہتی ہے۔ اب ہندوستان میں جو سوتی کپڑا تیار ہوتا ہے وہ بہت بدنما اور بھدا ہے۔ آبادی کا زیادہ حصہ انگریزی کپڑا پہنتا ہے، البتہ وہ لوگ جو بہت ہی غریب ہیں دیسی کپڑا استعمال کرتے ہیں۔ ڈھاکہ جو کبھی ہندوستان کا مانچسٹر تھا، اب ایک پر رونق شہر کے بجائے اجڑی ہوئی بستی رہ گیا ہے جہاں کے باشندوں پر سخت افلاس مسلط ہے ۔“ [IREVELYAM EVIDENCE: ECONOMIC HISTORY OF INDIA VOL.IP.105 1.]
مسٹر لار پنٹ ایسٹ انڈیا ایسوسی ایشن کے صدر نے اپنا بیان دیتے ہوئے، مسٹر شور کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ :
” انگریزی صنعتوں کے مقابلہ میں دیسی صنعتوں کی تباہی کو اکثر اوقات برطانوی ذہانت کی فتح سے تعبیر کیا جاتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ذہانت کی فتح کے بجائے انگریزی جور و ستم کی نمایاں مثال ہے، یہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح اپنی وطنی صنعتوں کو ترقی دینے کے لیے ہندوستان کو ظالمانہ طریقِ عمل سے مفلس بنایا گیا ۔“ [LARPANTS EVIDENCE VOL.I - P.105 1]
مشہور مؤرخ مانٹگمری مارٹن، جو ہندوستان کی اقتصادی حالت کا مطالعہ کرنے کے لیے اس ملک میں سیاحت کرتا رہا تھا، اس سے زیادہ پر زور لہجے میں اپنے اس انسانی جذبہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ :
”ہندوستان کی حالت کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد جو اثر مجھ پر ہوا وہ یہ ہے کہ اس ملک کی تجارت کو نہ صرف انگلستان کے ساتھ، بلکہ تمام ممالک خارجہ کے ساتھ، بڑی بے انصافی سے نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انگلستان خود تو اس سے آزاد تجارت کا حق طلب کرتا ہے، مگر ہندوستان کو یہ حق دینے سے منکر ہے..... ہم نے ایک ربع صدی میں ہندوستان کو مجبور کر دیا ہے کہ ہماری مصنوعات کو خریدے۔ ہمارا اونی کپڑا ہندوستانی بندرگاہوں میں محصول سے مستثنٰی اور سوتی مال صرف ڈھائی فیصدی دے کر داخل ہوتا ہے، مگر اس کے مقابلہ میں ہندوستان کا مال ۱۰، ۲۰، ۳۰، ۴۰، ۵۰، ۱۰۰، ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ فی صدی محصول تک کا زیر بار ہے۔ سورت، ڈھاکہ، مرشد آباد اور دوسرے صنعتی مقامات کی تباہی جس طرح عمل میں آئی ہے، اس کا ذکر سخت افسوس ناک ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی معقول تجارتی رویہ کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ زبردست نے زیر دست پر اپنی جابرانہ قوت کو استعمال کیا ہے۔ میری رائے میں انگلستان کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ محض اپنے ذاتی فائدہ یا اپنے ملک کی کسی جماعت کا پیٹ بھرنے کے لیے، اس ملک کے باشندوں کو برباد کر دے جسے اس نے فتح کیا ہے..... میں نہیں سمجھتا کہ ہندوستان حقیقت میں ایک زراعتی ملک ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ وہ جتنا زراعتی ہے، اتنا ہی صنعتی ہے، اور جو شخص اب اس کو محض زراعتی ملک بنانا چاہتا ہے، وہ درحقیقت اسے درجہ تہذیب سے گرانا چاہتا ہے۔ وہ ایک صناع ملک ہے جس کی صنعتیں مدتوں سے زندہ ہیں اور جہاں کہیں ان کو شریفانہ مقابلہ کا موقع دیا گیا ہے انھوں نے ہر قوم کی صنعتوں کو نیچا دکھایا ہے۔ میں اس وقت صرف ڈھاکہ کی ململ یا کشمیر کی شال کا ذکر نہیں کر رہا ہوں بلکہ میری نظر ان تمام مختلف قسم کی مصنوعات پر ہے جو تمام دنیا کی مصنوعات پر سبقت لے گئی ہیں۔ ایسے ملک کو اب محض ایک زراعتی ملک بنانے کی سعی کرنا بڑا ظلم ہے"۔[MARTINE EVIDENCE: ECONOMIC HISTORY VOL.II - P.112-114]
مسٹر ہنری سینٹ جارج ٹکر جو خود کمپنی کا ایک ڈائرکٹر تھا، ۱۸۲۳ء میں لکھتا ہے:
"وہ کون سی تجارتی پالیسی ہے جو ہم نے ہندوستان کے متعلق اس ملک میں اختیار کی ہے؟ وہ یہ کہ ہندوستان کا تیار شدہ ریشم اور ریشمی کپڑا ہماری منڈیوں سے جبراً خارج کر دیا گیا ہے، اور حال ہی میں ۷۰ فی صدی محصول اور اعلیٰ درجہ کی مشینری کی بدولت ہم نے نہ صرف سوتی کپڑے کی درآمد بند کر دی ہے بلکہ اپنے ہاں کا کپڑا وہاں بھیجنے لگے ہیں۔ اس طرح ہندوستان نے ایک صناع ملک کے درجہ سے ایک کاشتکار ملک کی گری ہوئی حیثیت اختیار کر لی ہے"۔[MEMORIALS OF THE INDIAN GOVERNMENT (1885) - P.494]
انگلستان کی صنعتی ترقی کا راز
اگر میں اسی سلسلے میں یہ بیان کروں کہ پیزلی اور مانچسٹر کی اونچی اونچی چمنیاں اپنی تعمیر کے لحاظ سے کہاں تک ڈھاکہ اور مرشد آباد کی خاکستر کی ممنون ہیں تو بے محل نہ ہو گا۔
کسی زمانے میں انگلستان ہمارے آج کے ہندوستان کی طرح خالص زراعتی ملک تھا۔ اول اول اس کی ضروریات زیادہ تر اطالوی تاجر فراہم کرتے تھے، اور انگلستان کا اون روم جا کر کپڑے کی صورت میں واپس آیا کرتا تھا، بعد میں جنیوا کے لوگ بھی اس دائرہ میں آگئے اور ہتھیار وغیرہ لانے لگے۔ کچھ مدت بعد وینس والوں نے بھی اس میں حصہ لیا اور ہندوستان کا نیا راستہ کھلنے کے بعد ایسٹ انڈیز کی تجارت کو بھی ساؤتھ ہیمپٹن کے دروازہ سے داخل ہونے کا حق مل گیا، ملکہ الزبتھ کے عہد میں جب آلوا (ALVA) کے ظلم سے فلانڈرز کے جلاہے ہجرت کر کے انگلستان آنے لگے اور انھوں نے اون، ریشم اور روئی کے کپڑے بنانے، فلالین تیار کرنے اور ... چھینٹیں چھاپنے کا کام شروع کیا تو انگلستان کی صنعتی ترقی کے حامیوں میں سودیشی کی تحریک پیدا ہوگئی۔ باہر کا کپڑا استعمال کرنے کی مخالفت اور ملکی کپڑا پہننے کی حمایت ہونے لگی۔ خود ملکہ الزبتھ نے اتوار اور بڑے بڑے تہواروں کے دن انگریزی ساخت کی ٹوپی پہننے کا عہد کر لیا اور ۱۶۶۶ء میں قانون پاس کیا گیا کہ تمام مُردے ملکی کپڑوں میں دفنائے جائیں۔ چنانچہ ۱۶۸۶ء میں اسکاٹ لینڈ کی فلالین کفن کے لیے مخصوص کر دی گئی، اسی سال اون کی برآمد قانوناً بند کر دی گئی اور خام ریشم کی درآمد کو محصول سے معاف کر دیا گیا اور اٹھارویں صدی کی ابتدا میں غیر ملکی مصنوعات پر قیود عائد کرنے کی تحریک شروع ہوگئی۔
مگر ان تمام کوششوں کے باوجود اٹھارویں صدی کے دورِ اول تک جزائرِ برطانیہ کی صنعت میں کوئی جان نہ پڑ سکی۔ سر جان سیلی کے الفاظ میں تجارتی نقطہ نظر سے اس وقت تک انگلستان کوئی ترقی یافتہ ملک نہ تھا، بلکہ اس کی حالت بہت گری ہوئی تھی۔ وہ ابھرنے کی سعی میں برابر مصروف تھا مگر اٹھارویں صدی کا اول نصف حصہ گزر جانے سے پہلے اسے کوئی کامیابی نہ ہو سکی۔ [LECTURES ON "EXPANSION OF ENGLAND" By SOELEY CH.VI]
صنعت کو ترقی دینے کے لیے متعدد ایجادیں ہوئیں، ولیم لی نے اسٹاکنگ فریم ایجاد کیا، ڈوڈو ڈولے نے جیمز اول کے زمانے میں لوہے کو پگھلا کر مشینیں تیار کرنے کے تجربات کیے اور ان کے علاوہ اور بہت سے لوگوں نے مفید مفید باتیں سوچیں، مگر مسٹر کننگھم کے بقول اس وقت سرمایہ نہ تھا جو تمام ایجادوں کی روح اور کامیابی کا راز ہے۔ جنگ پلاسی سے قبل اس قسم کی تمام کوششیں بیکار ثابت ہوئیں اور اگر وہ مواقع جو ۱۷۵۷ء کے بعد کارٹ رائٹ اور ہار گریو کو حاصل ہوئے، کسی طرح حاصل نہ ہوتے، تو شاید بعد میں بھی وہ بیکار ہی ثابت ہوتیں۔ [CUNNINGHAM'S GROWTH OF ENGLISH INDUSTRY AND COMMERCE REPORT 11P.610-613] اس مضمون کو مسٹر بروک ایڈمس نے اپنی مشہور کتاب "قانون عروج و زوال" (LAW OF CIVILIZATION AND DECAY) میں بہت خوبی سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے :
"ہندوستانی دولت کے بہاؤ نے برطانوی قوم کی مستعدی میں ایک نئی قوت کا اضافہ کر دیا۔ اور اس کی ترقی میں تیزی پیدا کر دی۔ جنگ پلاسی کے بعد ہی جب بنگال کی دولت لندن پہنچنی شروع ہوئی تو اس کا حیرت انگیز اثر ہونے لگا، تمام مستند مؤرخین تسلیم کرتے ہیں کہ انگلستان کا صنعتی انقلاب جو ۱۸ ویں صدی کو ، ۱۷ ویں صدی سے ممتاز کرتا ہے ۱۷۶۰ء سے شروع ہوا۔ اس سے پہلے بقول برنیئر لنکا شائر کے کرگھے ہندوستان ہی جیسے سادہ تھے۔ ۱۷۲۷ء میں انگریزی لوہے کی صنعت کا انحطاط کے عالم میں تھی۔ اس زمانے میں ملک کی آہنی ضروریات کا چوتھا حصہ سویڈن سے آیا کرتا تھا۔
۱۷۵۷ء میں پلاسی کی جنگ ہوئی اور اس کے بعد ہی اس قدر تیزی سے انقلاب شروع ہوا کہ اس کی مثال دوسری نہیں مل سکتی۔ ۱۷۶۰ء میں تیز حرکت کرنے والی دھڑکی ایجاد ہوئی اور کوئلہ نے لکڑی کی جگہ لے لی۔ ۱۷۶۴ء میں ہارگریوز نے کپڑا بننے کی مشین بنائی، ۱۷۶۹ء میں کرامپٹن نے ایک اور مشین تیار کی، ۱۷۸۵ء میں کارٹ رائٹ نے دخانی کرگھا ایجاد کیا اور ۱۷۶۹ء میں واٹ نے دخانی انجن بنایا جو قوتوں کو ایک مرکز پر لانے کے لیے تمام تدابیر سے زیادہ مکمل تھا، ہر چند ان مشینوں نے اس وقت کی تحریک کو کامیاب بنانے میں بہت مدد کی مگر انھیں کامیابی کا اصل ذریعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایجادیں بذات خود کوئی قوت نہیں ہیں، سینکڑوں نہایت اہم انکشافات صدیوں تک بیکار پڑے رہتے ہیں، ان کو کارآمد بنانے کے لیے کسی دوسری چیز کی ضرورت ہوتی ہے، اور وہ چیز روپیہ ہے۔ چھاپنے کا فن یورپ سے ہزاروں سال قبل چین کو معلوم تھا، روما کے لوگ ہم سے سینکڑوں سال قبل بارود سے واقف تھے، ریوالور اور پیچھے سے بھری جانے والی توپیں پندرہویں اور سولہویں صدی میں موجود تھیں۔ بھاپ کی قوت کا تجربہ واٹ کی پیدائش سے بہت پہلے کیا جا چکا تھا لیکن واٹ کی کامیابی کا راز ہندوستان کی دولت تھی، اگر واٹ ۵۰ سال قبل پیدا ہوتا تو اس کی ایجاد کا بھی وہی حشر ہو چکا ہوتا جو اس سے پہلے کی ایجادوں کا ہو چکا تھا۔[Law of Civilization and Decay - P.263]۔
ہندوستان کی فتح سے انگلستان کے سرمایہ میں جو ترقی ہوئی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ۱۷۵۶ء میں جب کلائیو ہندوستان آیا تھا تو برطانیہ کا قومی قرض ...۷۴،۵۷۵، پونڈ تھا، ۱۸۱۵ء میں یہ قرض ترقی کر کے ...... ۸۶۱ پونڈ ہو گیا۔ ۱۷۵۹ء سے قبل بنک آف انگلینڈ کا چھوٹے سے چھوٹا نوٹ، ۲۰ پونڈ کا تھا، جسے لومبارڈ اسٹریٹ سے باہر جانے کا بہت کم موقع ملتا تھا، مگر بنگال کی چاندی پہنچتے ہی اس نے ۱۰ اور ۱۵ پونڈ کے چھوٹے نوٹ جاری کر دیئے جن سے ملک کی دکانیں بھر گئیں۔ ۱۷۵۰ء میں برک جب انگلستان پہنچا تو سارے علاقہ میں مشکل سے بارہ بنک ہونگے مگر ۱۷۹۳ء میں مسٹر فاکس بورن اپنی کتاب "رومانِ تجارت" میں لکھتا ہے کہ "اب ۴۰۰ سے زیادہ بنک یہاں موجود ہیں۔" یہ سب ہندوستان کا صدقہ نہیں تھا تو کیا تھا ؟
واقعہ تو یہ ہے کہ انگلستان کی صنعتیں "ایک سیاسی بے انصافی" کی چھاؤں میں پل کر جوان ہوئی ہیں، ورنہ شاید ان کو جوانی کی یہ بہار دیکھنی نصیب نہ ہوتی۔ اس دعوے کے ثبوت میں اس سے قبل جو اقتباسات پیش کیے گئے ہیں وہ کافی سے زیادہ روشن دلائل اپنے اندر رکھتے ہیں، لیکن ضروری معلوم ہوتا ہے کہ خود برطانوی صناعوں کے منھ سے بھی اس باب میں کچھ کہلوایا جائے، کیوں کہ ان کی شہادت ہمارے دعوے کو استناد کے انتہائی مدارج تک پہنچا دیتی ہے۔
۱۸۷۱ء کی پارلیمنٹری کمیٹی میں جس کا ذکر اس سے قبل ہو چکا ہے، سپائین فیلڈ، ناروچ اور میکلسفیلڈ کے جولاہوں کو بھی شہادت کے لیے بلایا گیا تھا، ان کے نمائندوں میں سے ایک تھامس تھا، جو امتناعی محصول کا سب سے بڑا حامی تھا، اس سے جب سوال کیا گیا کہ ہندوستان کے ریشمی کپڑے پر ۲۰ فی صدی کے بجائے پچاس فی صدی دینا تمہاری رائے میں کیسا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ :
”میری رائے میں اس کا یقینی نتیجہ ہماری تجارت کے اس شعبہ کی کامل تباہی ہوگا، اگر ایسا ہوا تو ہمارے صناعوں کی روزی ماری جائے گی، وہ دیانت داری کے ساتھ محنت مزدوری کے ذریعہ سے پیٹ پالنے سے محروم ہو جائیں گے، فاقوں کی نوبت آجائے گی، وہ سوسائٹی کے نازک دوش پر بار ہو کر رہ جائیں گے ـــ جس پر پہلے ہی سے بہت وزن پڑا ہوا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہمارے سرمایہ کا بڑا حصہ بیکار ہو جائے گا اور اس سے غیروں کے پیٹ پلیں گے“
پھر جب اس سے ہندوستان کی عام آبادی کے مصائب بیان کیے گئے اور کہا گیا کہ ان بھاری محصولوں کی وجہ سے ہندوستان کے کاریگروں کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے تو اُس نے جواب دیا کہ :
”میں ہندوستان کے کاریگروں کے ساتھ دلی ہمدردی رکھتا ہوں مگر اسی کے ساتھ میں یہ کہنے پر بھی مجبور ہوں کہ میرے دل میں ہندوستانی کاریگر کے خاندان سے خود اپنے بال بچوں کی محبت زیادہ ہے اور میں محض اس بناء پر کہ ہندوستانی کاریگر کی حالت مجھ سے زیادہ خراب ہے اپنے خاندان کی آسائش کو قربان کرنا جائز نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک وہ کوئی اچھا قانون نہ ہو گا جو ہماری روزی چھین کر ہندوستان کے کاریگروں کو دے دے گا، محض اس لیے کہ ان کی حالت ہم سے زیادہ خراب ہے۔“
اس کے بعد جان پراؤٹ، میکلسفیلڈ کا نمائندہ آیا اور اس نے مذکورہ بالا سوال کے جواب میں کہا کہ:
”میں تخفیفِ محصول کو سخت نقصان رساں خیال کرتا ہوں اور ایسی رائے میکلسفیلڈ کے تمام صناعوں کی ہے۔ ہم لوگوں کے نزدیک یہ پالیسی غیر ملکیوں کے لیے ملکی منڈی کھول دینے اور خود اپنی صنعت کو تباہ کر دینے والی ہے۔“[ان اقتباسات کے لیے دیکھو دت کی تاریخ اقتصادی ہند صفحہ ۱۱۹-۱۲۱]
کیا اس سے زیادہ مستند شہادت اور کوئی ہوسکتی ہے ؟
مشہور مؤرخ ایچ ایچ ولسن آج سے ایک صدی قبل یوں بیان کرتا ہے :
”اگر صورتِ حال یہ نہ ہوتی، اگر ایسے امتناعی احکام نافذ نہ کیے جاتے اور اگر انسدادی محصول سے ہندوستان کا مال محفوظ رکھا جاتا تو پیزل اور مانچسٹر کے کارخانے ابتدا ہی میں بیٹھ جاتے، اور مشکل سے دوبارہ انھیں حرکت میں لایا جاسکتا، حقیقتاً ہندوستانی مصنوعات کی قربانی چڑھا کر ان کو زندہ کیا گیا ہے۔ اگر ہندوستان آزاد ہوتا تو وہ ہم سے بدلہ لیتا اور اپنی صنعت کو بچانے کے لیے ہمارے مال پر بھی امتناعی محصول عائد کر دیتا مگر وہ اب ایسا نہیں کرسکتا، کیونکہ وہ اغیار کے رحم پر ہے۔ برطانوی مال زبردستی اس کے سر منڈھا گیا ہے اور غیر ملکی صناع نے سیاسی بے انصافی کا ہتھیار استعمال کرکے ایک حریف کا گلا گھونٹا ہے، جس سے وہ برابر کی جنگ میں عہدہ برآ نہیں ہوسکتا تھا۔“ [HILL'S HISTORY OF BRITISH INDIA BOOK 1. CHAPTER VIII]
یہ سیاسی بے انصافی کا ہتھیار اس زمانے میں استعمال کیا گیا تھا جب انگلستان میں کوبڈن اور جان برائٹ جیسے جوشیلے حامیانِ انسانیت، رکارڈو جیسے ماہرینِ علم المعیشت اور رابرٹ پیل جیسے سنجیدہ مدبر موجود تھے، ان لوگوں نے غرباء انگلستان کو پیٹ بھر روٹی کھانے کی خاطر کارن لاز کے خلاف اپنی تمام ذہنی قوتیں صرف کر دی تھیں، مگر افسوس کہ عین ان کی آنکھوں کے سامنے ہندوستانی دستکار کا پیٹ کاٹا جا رہا تھا اور وہ اس طرح خاموش تھے جیسے یہ بات اعتنا کے قابل ہی نہ تھی!
ملکہ انگلستان کا دورِ حکومت
۱۸۵۸ء میں ہنگامۂ غدر فرو ہونے کے بعد ملکہ انگلستان جزیرہ نمائے ہند کی حکومت کو آنریبل ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ سے لے کر براہ راست اپنی حکومت میں شامل کرتی ہیں اور ان کی طرف سے تمام ہندوستان میں اعلان کیا جاتا ہے کہ:
”جب عنایتِ الہی سے ملک میں امن و امان قائم ہو جائے گا تو یہ ہمارا دلی ارادہ ہے کہ ہندوستان کی پُر امن صنعتوں کو ترقی دیں گے۔ رفاہِ عام اور امورِ نافعہ پر خاص توجہ مبذول کریں گے، اور ملکی انتظام اپنی رعایا کی بہبود پر قائم کریں گے، ان کی خوشحالی میں ہماری قوت کا استحکام ہے۔ ان کے اطمینان میں ہماری سلطنت کی اصلی حمایت ہے اور ان کی احسان مندی ہماری سعی کا خوشگوار پھل، قادرِ مطلق ہم کو اور ہمارے افسروں کو اپنی رعایا کی فلاح کے لیے ان خواہشوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔“
یہ اعلان اصولی حیثیت سے ہمارے ملک کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کرتا ہے، اور قدرتاً ہمارے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ دیکھیں صنعتوں کی ترقی، رفاہِ عام اور امور نافعہ پر بذل عنایت اور رعایا کی فلاح کے زریں اصول پر تنسیق حکومت کی مبارک خواہشوں کو کہاں تک عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔
ہمیں اس دور میں یہ معلوم کرنے کی حقیقی جستجو شروع ہوتی ہے کہ قیصرۂ ہند کی حکومت نے ہماری خوشحالی میں اپنی قوت کا استحکام ہمارے اطمینان میں اپنی سلطنت کی ضمانت اور ہماری احسان مندی میں اپنی سعی کا خوشگوار پھل حاصل کرنے کی کس حد تک کوشش کی ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ جو دور حکومت ایسے مبارک ارادوں کے ساتھ شروع ہوا ہے، وہ ضرور ہمارے لیے برکات و فیوض سے معمور ہوگا مگر افسوس ہے کہ ہمیں اس سے بالکل مختلف نقشہ نظر آتا ہے اور ہماری خوش حالی کو ترقی دینے کے اس دور میں بھی ہمیں لنکاشائر کے پیٹ بھرے سرمایہ داروں کی خاطر بدحالی کے ذلیل ترین گڑھوں میں گرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
اس کا اجمالی علم حاصل کرنے کے لیے آئیے ذرا نقشہ محصولات کی تاریخ پر غور کریں۔
حکومت ہند کی پالیسی محصول عائد کرنے کے متعلق
کپڑا بننے کی صنعت ۱۸۵۴ء سے شروع ہوتی ہے جبکہ سب سے پہلے بمبئی میں ایک مل کی بنیاد ڈالی گئی۔ ہر چند ۱۸۱۸ء میں بھی اس کی کوشش کی گئی تھی مگر بیس سال تک اس میں کوئی کامیابی نہ ہو سکی۔ ۱۸۵۶ء میں جب پہلی مل قائم ہوئی تو لنکاشائر کے جلاہوں میں عام کھلبلی مچ گئی۔ انھوں نے اس نوزائیدہ صنعت کو آئندہ کے لیے بڑے بڑے خطرات کا پیش خیمہ سمجھا اور گہوارہ ہی میں اس کا گلا گھونٹ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ اول ہی روز سے ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت ہند کی اس پالیسی پر لنکاشائر کے نمائندوں کی حکمرانی ہے اور آج تک جتنے ٹیرف ایکٹ پاس کیے گئے ہیں ان میں ایک بھی ایک ایسا نہیں ہے جو ہندوستان کے مصالح کو مدنظر رکھ کر مرتب کیا گیا ہو۔
تاج برطانیہ کے ماتحت ہندوستان کا سب سے پہلا نقشہ محصولات ۱۸۵۹ء میں لارڈ کیننگ کے زیر ہدایت مرتب کیا گیا تھا جس میں برطانوی مال کی امتیازی رعایتوں کو منسوخ کر کے تمام اسباب عیش و تنعم پر ۲۰ فی صدی، سوتی کپڑے پر ۱۰ فی صدی اور تاگے کی گٹیوں پر ۵ فی صدی محصول مقرر کیا گیا تھا، اس پر انگریزی تاجروں میں شور مچ گیا اور بمبئی کلکتہ سے لندن تک متفقہ آواز بلند ہوئی کہ یہ تجارت کا گلا گھونٹنے والی پالیسی ہے۔ ۱۸۶۰ء میں جب مسٹر جیمز ولسن ہندوستان کے پہلے وزیر مقرر کر کے بھیجے گئے تو انھیں وہیں سے ہدایت کر دی گئی تھی کہ نقشہ محصولات میں ترمیم کریں۔ چنانچہ انھوں نے پہنچتے ہی تمام محصول درآمد کو ۱۰ فی صدی کے یکساں نرخ پر مقرر کر کے ہندوستانی خام پیداوار کو محصول سے مستثنیٰ کر دیا۔ ۱۸۶۱ء، ۱۸۶۲ء، ۱۸۶۳ء، ۱۸۶۴ء اور ۱۸۶۷ء میں اس نقشہ کو برابر کانٹ چھانٹ کر لنکاشائر کے مصالح سے مطابق کرنے کی کوشش کی جاتی رہی، ۱۸۷۰ء میں لارڈ میو کی گورنمنٹ نے ایک مستقل قانون پاس کر کے دھاگے پر ۳½ فی صدی، سوتی کپڑے پر ۵ فی صدی، رنگوں پر ۱½ فی صدی اور اونی کپڑے پر ۵ فی صدی محصول درآمد اور اس کے مقابلے میں ہندوستان کے سوتی کپڑے کی برآمد پر ۳ فی صدی، غلہ پر ۳ پنس فی من اور خام چمڑے پر ۳ فی صدی محصول برآمد مقرر کر دیا۔
اسی زمانے میں دارالعوام کی ایک سلیکٹ کمیٹی خاص ہندوستان کے محصولات درآمد و برآمد پر غور کرنے کے لیے بٹھائی گئی جس کے سامنے نہایت اہم شہادتیں پیش ہوئیں۔ مجملہ ان کے ایک سر بارٹل فرِیر تھے، جنہوں نے کہا کہ اس باب میں ہندوستان کے مصالح انگلستان سے متضاد واقع ہوئے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ محصولات درآمد کو زیادہ کرنے سے آمدنی میں ایک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے مگر اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہندوستان میں برطانوی مال کی خریداری میں کمی واقع ہو جائے گی۔"
مسٹر والٹر کیسلز نے اس سے بھی زیادہ صاف الفاظ میں اپنے خیالات کو پیش کیا، انھوں نے سوتی کپڑے پر ۵ فی صدی محصول کو امتناعی اور حفاظتی محصول قرار دیا اور کہا کہ "مجھے نہیں معلوم آپ لوگوں کو اس کی بھی خبر ہے یا نہیں کہ بمبئی میں بارہ ملیں قائم ہو گئی ہیں، جن میں ۳۹۳۹۷۳ تکلے، ۴۱۹۹ کرگھے اور ۸۱۷۰ ہاتھ چل رہے ہیں اور سالانہ تقریباً ڈھائی لاکھ پونڈ روئی صرف ہوتی ہے"۔[SELECT COMMITTEE'S REPORT DUTT VOL.II - P.338-339]
واقعہ یہ تھا کہ اس زمانہ میں ہندوستانی ملوں نے ذرا تیز ترقی شروع کر دی تھی۔ ۵۹-۱۸۵۸ء میں ان کے مال کی برآمد ۸۱۳۶۰۴ پونڈ قیمتی تھی۔ ۶۴-۱۸۶۳ء میں ۱۱۶۷۵۷۷ ہو گئی۔ ۶۹-۱۸۶۸ء میں ۱۲۹۸۱۷۵ اور ۷۴-۱۸۷۳ء میں ۱۹۳۵۱۹۸ تک ترقی کر گئی۔ یہ ترقی لنکاشائر کے جلاہوں پر بہت گراں تھی، اور یہ فطرتاً ہونی چاہیے تھی، کیونکہ جس نسل کو منقطع کرنے کے لیے انھوں نے ایک صدی تک جان ماری تھی، وہ اب ایک نیا جنم لے کر اٹھ کھڑی ہوئی، چنانچہ ۳۱ جنوری ۱۸۷۵ء کو مانچسٹر کے ایوانِ تجارت نے وہائٹ ہال میں وزیر ہند کے سامنے ایک میموریل پیش کیا جس میں ۳.۵ فی صدی تاگہ پر اور ۵ فی صدی کپڑے پر محصولِ درآمد کو برطانوی تجارت کے لیے مہلک اور قطعاً امتناعی قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ :
"ہم کو اطلاع دی گئی ہے کہ مصری اور امریکن روئی ہندوستان میں منگانے کی تجویزیں کی جا رہی ہیں تاکہ اس سے اعلیٰ درجہ کا تاگہ اور کپڑا تیار کیا جائے اور اس طرح انگریزی مال کو شکست دی جائے، جس پر بھاری محصول عائد کر دیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ برطانوی ہند میں سوتی صنعت و تجارت کو ایسے قوانین کے زیر حمایت ترقی دینے کی کوشش، برطانیہ اور ہندوستان دونوں کے لیے مضر ثابت ہو گی، ان محاصل نے ہندوستان کی دیسی آبادی کا خرچ بڑھا دیا ہے، مفلس لوگوں کی تن پوشی زیادہ گراں ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے ان کی صحت، آسائش اور عام خوش باشی میں فرق واقع ہو گیا ہے۔[ECONOMIC HISTORY OF INDIA BY DUTT VOL.II - P.403]
اس زمانہ میں پارلیمنٹ کے نئے انتخابات ہو رہے تھے، اور ان میں لنکاشائر کے ووٹ جو وزن رکھتے تھے، وہ ہر شخص جانتا ہے، ایسی صورت میں وزارت سر جھکا دینے کے سوا اور کیا کر سکتی تھی، اس نے میموریل کے جواب میں وعدہ کیا کہ آئندہ موسم سرما میں ایک کمیٹی مقرر کی جائے گی جو نقشہ محصولات میں تمھارے حسبِ دلخواہ ترمیم کر دے گی۔ مگر مانچسٹر کے ایوانِ تجارت کے لیے یہ وعدہ کافی نہ تھا اس لیے اس نے دوبارہ وزیر ہند کو مخاطب کر کے انھیں مطلع کیا کہ کہاں زیادتی کمی کا سوال نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ ان محاصل کو جہاں تک جلد ممکن ہو، کلیتہً منسوخ کر دیا جائے، اس دوسری درخواست کے یہ الفاظ پڑھنے کے قابل ہیں۔
"ہم نے اپنی پچھلی عرضداشت میں جو عرض کیا تھا کہ یہ محاصل تجارت کے لیے مضرت رساں ہیں اور ہندوستان و انگلستان دونوں جگہ ملکہ معظمہ کی رعایا کے بہترین مصالح پر برا اثر ڈالنے والے ہیں، اب اس کی تصدیق ان جدید ترین اطلاعات سے ہو گئی ہے جو ہمیں بمبئی سے وصول ہوئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں داخل ہونے والے سوتی مال پر محصول عائد کر کے بننے اور کاتنے کی دیسی صنعت کو جو حفاظت بہم پہنچائی گئی ہے، اس کی بدولت بڑی تعداد میں نئی ملیں قائم کی جا رہی ہیں۔"[ECONOMIC HISTORY OF INDIA BY DUTT VOL. II - P.404]
اس پر نومبر ۱۸۷۶ء میں مسٹر الوزو منی کے زیر صدارت ایک کمیٹی مقرر کی گئی، جو انگریزی تاجروں اور افسروں سے مرکب تھی۔ اس کمیٹی نے تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کی اور اس میں بالاتفاق مشورہ دیا کہ مانچسٹر کے مطالبات قطعاً ناقابلِ قبول ہیں۔ اس زمانے میں لارڈ نارتھ بروک وائسرائے تھا، جس کے متعلق ہر شخص جانتا ہے کہ وہ مجسم فری ٹریڈ تھا، مگر وہ ابھی ایک مستقل ذریعہ آمدنی کو لنکاشائر پر قربان کر کے ملکی کاشتکار پر مزید بار ڈالنے کی بے انصافی نہ کر سکا۔ ۱۸۷۵ء میں اس نے نیا ٹیرف ایکٹ پاس کیا جس میں ۵ فی صدی محصول کو برقرار رکھتے ہوئے یہ رائے ظاہر کی کہ وہ کسی طرح بھی دیسی صنعت و تجارت کے لیے حفاظتی محصول نہیں ہے، البتہ لنکاشائر کی خاطر نیل، چاول، اور لاکھ کے سوا تمام چیزوں کی برآمد پر محصول معاف کر دیا اور لمبے ریشے والی روئی کی درآمد پر ۵ فی صدی محصول عائد کر دیا تاکہ ہندوستانی مل اعلیٰ درجہ کا کپڑا تیار کرنے کے لیے اسے نہ منگا سکیں۔ اس لیے نئے قانون کی رو سے ہندوستان کی آمدنی میں ۳۰۸۰۰۰ روپیہ کی کمی واقع ہوگئی، جسے پورا کرنے کے لیے غریب ہندوستانی محصول گزار پر مزید بار ڈالا گیا۔
۱۸۷۴ء میں لبرل گورنمنٹ مستعفی ہو چکی تھی اور مسٹر گلیڈ اسٹون کی جگہ مسٹر ڈسرائیلی (بعد میں لارڈ بیکنفیلڈ) نے کنزرویٹو وزارت مرتب کی تھی، اس نئی وزارت کے وزیر ہند لارڈ سالسبری، لنکاشائر کے بڑے حامیوں میں سے تھے، انھوں نے جولائی ۱۸۷۵ء میں وائسرائے کو لکھا کہ اگر آپ ۵ فی صدی محصول درآمد کو حفاظتی محصول تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں تو کم از کم اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس محصول کو عام طور پر ایسا ہی سمجھا جاتا ہے اور اس عام خیال کے سیاسی نتائج افسوس ناک ہوں گے، لہٰذا مناسب یہی ہے کہ جب مالی حالت آپ کو اجازت دے تو آپ سب سے پہلے ان محصولوں کو منسوخ کر دیں۔
لارڈ نارتھ بروک نے اس مشورہ کو تو قبول نہیں کیا مگر نئے ٹیرف ایکٹ میں سوتی مال کا تخمینہ قیمت میں کمی کر دی جس سے محصول میں مجموعی ۹ لاکھ کے قریب تخفیف ہو گئی۔ لارڈ سالسبری کے لیے محض اس اشک شوئی پر قناعت کرنا مشکل تھا۔ انھوں نے وائسرائے کے خود مختارانہ طرز عمل پر اعتراض کرتے ہوئے تجویز کی کہ سر لوئیس مالٹ نائب وزیر ہند کو محصول درآمد کی کامل تنسیخ پر غور کرنے کے لیے ہندوستان بھیجا جائے۔ اس پر وزیر ہند اور وائسرائے کے درمیان نہایت تلخ مراسلت شروع ہو گئی اور آخر ۱۸۷۶ء میں لارڈ نارتھ بروک نے استعفیٰ دیدیا۔ جو زیادہ تر اسی نزاع پر مبنی تھا۔ اس کے بعد لارڈ لٹن نیا وائسرائے ہو کر آیا، یہ علاوہ کنزرویٹو ہونے کے اپنی سیرت کے لحاظ سے بھی مضبوط آدمی نہ تھا۔ اس لیے سالسبری نے اُسے پہلے ہی دن سے دبانا شروع کیا اور متعدد مراسلات میں متنازعہ فیہ محصول کو منسوخ کرنے کی تحریک کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں قحط کی بلا نہایت سختی سے پھیلی ہوئی تھی اور غلہ کی گرانی نے ملک کی حالت حد درجہ خراب کر دی تھی چونکہ یہ عذر سالسبری کے نزدیک عذرِ لنگ تھا، اس نے معاملہ کو آگے بڑھایا اور ۱۱ جولائی ۱۸۷۷ء کو برطانوی دارالعوام میں حسبِ ذیل رزولیوشن پاس کیا گیا۔
”اس ایوان کی رائے میں سوتی مصنوعات کی درآمد پر ہندوستان میں جو محصول عائد کیا گیا ہے، وہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے حفاظتی محصول ہے اور معقول تجارتی پالیسی کے خلاف ہے، اس لیے ہندوستان کی مالی حالت جب اس کی اجازت دے تو اسے بلا توقف منسوخ کر دیا جائے۔"
لارڈ سالسبری نے اس رزولیوشن کو حکومت ہند کے پاس بھیجا اور اپنے مراسلہ میں ہندوستانی ملوں کی صنعت کے روز بروز ترقی کرنے کو اس طرح اندیشہ ناک لہجہ میں بیان کیا جیسے انگلستان پر حملہ کرنے کے لیے کوئی بڑی فوج تیار ہو رہی تھی۔ حقیقت میں ان کے لیے یہ خبر بہت تکلیف دہ تھی کہ پانچ ملیں اور جاری ہونے والی تھیں اور مارچ ۱۸۷۴ء کے خاتمہ پر ہندوستان میں ۱۲۳۱۲۸ تکلوں کے چل جانے کا اندیشہ تھا۔ [ گورنر جنرل باجلاس کونسل کا مراسلہ بنام لارڈ سالسبری مورخہ ۳۰ اگست ۱۸۷۷ء، بحوالہ دت جلد (۲) صفحہ ۴۱۱]
حکومت ہند کا رئیس اب لارڈ نارتھ بروک جیسا کوئی مستقیم الارادہ وائسرائے نہ تھا۔ لارڈ لٹن نہ مقابلہ کی قوت رکھتا تھا اور نہ یہ مقابلہ اس کی پالیسی کا کوئی جزو تھا۔ اس نے برطانوی سوتی مال کے ایک حصہ کو محصول سے مستثنیٰ کر دیا، جس سے ہندوستانی کپڑا مقابلہ کر سکتا تھا اور اس کی تقریباً ڈھائی لاکھ کی مزید آمدنی لنکاشائر پر قربان کر دی گئی، مگر مانچسٹر کے ایوانِ تجارت کے مطمئن کرنے کے لیے یہ بھی کافی نہ تھا، اس نے وزارتِ ہند پر بھی زور ڈالا کہ اس کے مطالبات کو کلیتہً تسلیم کر لیا جائے، آخر لٹن نے اپنے دورانِ حکومت کے سب سے زیادہ شرمناک فعل کا ارتکاب کیا۔ اس کی کونسل نکاشائر کے اشاروں پر حرکت کرنے کے لیے تیار نہ تھی ــــ سر اینڈریو کلارک سر الیگزنڈر آرتھ ناٹ، مسٹر تھامسن، اور مسٹر ہبٹی اسٹاکس نے تنسیخ محصول کی پالیسی پر سختی کے ساتھ اعتراضات کئے اور ہندوستان کی رائے عامہ نے اس پر سخت احتجاج کیا، مگر وائسرائے نے ان میں سے کسی کی پروا نہ کی اور وہ خود اپنی کونسل کے خلاف استثنائی اختیارات کو استعمال کر کے مارچ ۱۸۷۹ء میں نیا قانون پاس کر دیا جس کی رو سے وہ تمام سوتی مال معافی کی فہرست میں داخل کر دیا گیا جو ۳۰ نمبر کے تاگے سے زیادہ بہتر نہ ہو۔ یہ حرکت خود پارلیمنٹ کی خواہش سے بھی کچھ زیادہ تھی، کیونکہ اس کا ارتکاب اس وقت کیا گیا جب ہندوستان کی مالی حالت ہرگز اس کی متقاضی نہ تھی، جنوبی ہندوستان قحط کی مصیبت میں بدستور مبتلا تھا، شمالی ہندوستان کو قحط سے نکلے ہوئے پورا ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ بجٹ کے تخمینہ میں ۳۹۵۰۰۰۰ روپیہ کا گھاٹا آگیا تھا۔ نئے بندوبست کی رو سے مالگزاری میں اضافہ کیا گیا تھا، اور افغانستان کی مشکلات سے خرچ میں بہت زیادتی ہو گئی تھی۔
لارڈ لٹن کے بعد لارڈ رپن کے عہد میں جب امن و امان قائم ہوا تو حکومت ہند کے وزیر مال سر ایولن بیرنگ (بعد میں لارڈ کرومر) کو جس بات کی سب سے پہلے فکر ہوئی یہ تھی کہ بقیہ محصول درآمد کو بھی منسوخ کر دیں، چنانچہ انھوں نے ۱۸۸۲ء کے بجٹ کو نمک اور شراب کے سوا تمام حفاظتی محصول کے وجود سے پاک کر دیا۔ البتہ جس چیز کو ان کی عنایات میں سے کچھ بھی حصہ پانے کا حق نہ تھا، وہ غریب کسان کے مستزاد محاصل تھے جو ۱۸۷۷ء سے اس پر عائد کئے جا رہے تھے اور جن سے قحط کے زمانہ میں بھی چھٹکارا نہیں ملا تھا۔
بارہ سال تک یہی حالت رہی۔ اس دوران میں لارڈ ڈفرن اور لارڈ لینڈون کی غیر معقول فوجی پالیسی نے رپن کے قائم کئے ہوئے مالی توازن کو اس حد تک بگاڑ دیا کہ ۱۸۹۴ء کے بجٹ میں ۲ کروڑ سے زیادہ کا گھاٹا آیا۔ اس کو پورا کرنے کے لیے لارڈ ہرشل کے زیر صدارت ایک کمیٹی مقرر کی گئی اور اسے صرف یہ اختیار دیا گیا کہ مزید ٹیکس عائد کرنے کے امکانات پر غور کرے، کمیٹی نے مارچ ۱۸۹۳ء میں رپورٹ پیش کی، کہ محصول درآمد کو دوبارہ عائد کر دینے کے سوا اور کوئی ذریعہ ایسا نہیں ہے جسے اختیار کیا جاسکے، چنانچہ اسی مہینے میں ٹیرف ایکٹ پاس کیا گیا، جس میں سر رولن بیرنگ کے موقوف کردہ محصول دوبارہ نافذ کیئے گئے، مگر سوتی کپڑا بدستور معافی کی فہرست میں رہنے دیا گیا، اس پر کونسل میں اور اس کے باہر سخت نکتہ چینی کی گئی اور سوتی کپڑے کی معافی کو حکومت کے نامبارک ارادوں کی صریح علامت قرار دیا گیا۔ لارڈ الجن ان باتوں کا مقابلہ کرنے میں پرانا مشاق تھا۔ اس نے اسی سال دسمبر سے بجٹ میں سوتی کپڑے اور تاگہ پر ۵ فیصدی محصول عائد کر دیا مگر اس کے ساتھ ہی ہندوستانی ملوں کی پیداوار پر بھی ۵ فی صدی محصول لگا دیا گیا تا کہ لنکاشائر اور بمبئی دونوں ایک سطح پر آجائیں ۔
ظاہر ہے کہ لارڈ الجن کی یہ حرکت سخت قابل ملامت تھی، کیوں کہ اس نے ہندوستان میں حکومت برطانیہ کی نوعیت کو بالکل کھول کر رکھ دیا، مگر اس کے باوجود انگلستان کے جولاہوں میں عام ہیجان برپا ہوگیا۔ ۱۱ جنوری ۱۸۹۵ء کو پارلیمنٹ میں اس موضوع پر سخت مباحثہ ہوا اور اس میں سر ہنری فولر (وزیر ہند) نے صاف اعلان کیا کہ ’ملکہ معظمہ کی گورنمنٹ حکومت ہند کو حفاظتی بے انصافی سے احتراز کرنے کی طے شدہ پالیسی پر عمل کرنے کا مشورہ دے گی‘ ۷ دن بعد اسکاٹ لینڈ کے جلاہے اور رنگریز وفد لے کر وزیر ہند کے پاس پہنچے، چند روز بعد لنکاشائر والوں نے بھی اپنا وفد بھیجا اور سب نے مل کر زور لگایا کہ ’حفاظتی بے انصافی‘ کا فوراً استیصال کیا جائے۔ اسی زمانے میں لبرل گورنمنٹ ساقط ہوگئی۔ اور کنزرویٹیو پارٹی نے اپنی وزارت مرتب کی، جو لنکاشائر کے ساتھ پہلے سے عہد و پیمان کر چکی تھی۔ نئے وزیر ہند لارڈ جارج ہیملٹن نے قلم دان سنبھالتے ہی ستمبر ۱۸۹۵ء میں حکومت ہند کو لکھا کہ :
”ہندوستان اور برطانیہ دونوں کے لیے بہتر ہے کہ ہندوستانی بندرگاہ محصولِ درآمد سے آزاد رہیں، جس طرح ۱۸۸۲ء سے ۱۸۹۴ء تک آزاد تھے، لیکن ہندوستانی مالیات کی حالت گورنمنٹ کو ان محصولوں کے برقرار رکھنے پر مجبور ہی کرتی رہی، تو انھیں ایسے اصول پر قائم کرنا چاہیے کہ ان سے نہ تو حکومت کے وعدوں کی خلاف ورزی ہو اور نہ دائمی شکایات کا دروازہ کھلا رہے۔"
گویا یہ اس امر کا کھلا ہوا مشورہ تھا کہ ہندوستانی صنعت کو کچلنے کے لیے اس سے زیادہ بے انصافی کی ضرورت ہے اور اس شخص کے لیے اس قسم کے پایۂ انسانیت سے گرے ہوئے مشوروں کو قبول کرنا کچھ عجیب بھی نہ تھا جسے ملکی صنعت پر ڈیوٹی مقرر کرتے ہوئےکسی پاک جذبہ نے روکنے کی جسارت نہ کی تھی، چنانچہ جنوری ۱۸۹۶ء میں لارڈ ایلگن نے ہر قسم کے تاگے کو محصول درآمد سے معاف کر دیا۔ سوتی کپڑے کی درآمد کا محصول ۵ کے بجائے ۳ ۱/۲ فی صدی مقرر کیا، ہندوستان کے بنے ہوئے ادنیٰ سے ادنیٰ کپڑے پر بھی محصول عائد کر دیا گیا، اس قانون پر کونسل میں سختی کے ساتھ نکتہ چینیاں کی گئیں اور ہر اس شخص نے اس پر ملامت کی جو ذرہ برابر بھی انصاف کا جذبہ اپنے اندر رکھتا تھا، مگر وائسرائے کا فیصلہ تھا اور دنیا کا کوئی قانون اخلاق و انسانیت اسے مسترد نہ کر سکتا تھا۔ اس نے اپنی طے شدہ تجویز پر معمولی سا تغیر کرنا بھی پسند نہ کیا۔ اس موضوع پر لیجسلیٹو کونسل میں جو تقریریں ہوئیں انھیں یہاں پیش کرنا غیر ضروری طوالت ہے، مگر ناممکن ہے کہ کلکتہ کی یورپین تجارتی جماعت کے نمائندہ مسٹر پلے فیئر کی تقریر کا ایک حصہ درج کیے بغیر آگے بڑھا جا سکے، اس نے کہا تھا کہ :
"ہر قسم کی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ۲۰ نمبر سے نیچے درجہ کے تاگے کا بنا ہوا کپڑا جو ہندوستان کے کارخانوں میں تیار کیا جاتا ہے،نکا شائر کا کسی طرح بھی مقابلہ نہیں کر سکتا، مگر سوال یہ ہے کہ آخر ہندوستانی تجارت سے ایسا کون سا بڑا خطرہ لاحق ہو گیا ہے جس پر یہ سب کچھ شور و شغب مبنی ہے۔ اعداد و شمار کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں جو دخانی تکلے چلتے ہیں، وہ دنیا بھر کے تکلوں کا پچیسواں اور یہاں کے کرگھے دنیا کے کرگھوں کا آٹھواں حصہ ہے۔-
برطانیہ کے مقابلہ میں، جو دنیا کے کل تکلوں اور کرگھوں میں ۱/۳ کا مالک ہے، کیا ہندوستان اتنا حقیر حصہ پانے کا بھی مستحق نہیں ہے ؟ ...... موجودہ بل کی مجوزہ دفعات کے معنی یہ ہیں کہ آپ لنکاشائر کے مال پر ۴ فی صدی محصول کم کر کے ہندوستانی مال پر اس کے مقابلے میں ۳۰۰ فیصد کا اضافہ کر رہے ہیں۔"
وہ بے انصافی جو ۱۸۹۴ء میں کی گئی تھی، آج تک جاری ہے۔ ۱۶-۱۹۱۷ء میں جب کہ جنگ کے مصارف کا زبردست بار ہندوستان پر ڈالا گیا، تمام اشیاء درآمد پر محصول بڑھایا گیا، مگر کپڑا اس سے مستثنیٰ رہا۔ ۱۸-۱۷ء میں کپڑے کی درآمد پر بھی ۴ فی صدی کا اضافہ کیا گیا، مگر ہندوستانی ملوں کی ساخت پر سے ڈیوٹی منسوخ کرنے کی کوئی تجویز نہ سنی گئی، بلکہ ۲۲-۲۳ء میں اس کو دو چند کر دینے کا فیصلہ کر لیا گیا اور اگر لیجسلیٹو اسمبلی سختی کے ساتھ اس کی مخالفت نہ کرتی تو شاید ایسا کر بھی دیا جاتا۔-
اس افسوسناک پالیسی پر کسی تنقید کی ضرورت نہیں ہے، ہر شخص جو اس پر سرسری نظر ڈالے گا، اسے خود یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی کہ اس اعلان کی طے کردہ پالیسی پر کہاں تک عمل درآمد کیا گیا ہے جس میں "ہندوستان کی صنعتوں کو ترقی دینے" کی مبارک خواہش ظاہر کی گئی، دنیا کی تمام حکومتیں اپنے ملک کی صنعتوں کو ترقی دینے کے لیے صناعوں کی ہمت افزائی کرتی ہیں اور غیر ملکی مال پر محصول بڑھا کر ملکی مال کے لیے ہر قسم کی آسانیاں بہم پہنچائی جاتی ہیں، مگر یہاں اس ترقی کے بیان کردہ مقصد کے لیے غیر ملکی مال کو ترقی کے تمام مواقع بہم پہنچائے جاتے ہیں اور ملکی صناع پر سخت محصول عائد کرکے اس کی ہمت توڑنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا جاتا۔
حکومتِ ہند کی موجودہ صنعتی پالیسی
کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے حکومت کی صنعتی پالیسی میں کچھ تغیر پیدا ہو گیا ہے اور اب وہ حقیقت میں ہندوستانی صنعتوں کو ترقی دینا چاہتی ہے۔ اب ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ یہ بیان کہاں تک واقعیت پر مبنی ہے۔ اس کے لیے ہمیں حکومتِ ہند کی موجودہ صنعتی پالیسی پر نظر ڈالنی چاہیئے۔
اگرچہ ہندوستان میں اٹھارویں صدی کے نصف آخر سے قحطوں کا سلسلہ برابر جاری تھا اور اس میں کروڑوں آدمیوں کی جانیں ضائع ہو چکی تھیں، مگر ۷۸-۱۸۷۷ء کا مشہور قحط اس قدر سخت تھا کہ اس کی نظیر ہندوستان کی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ اس قحط نے حکومت کی آنکھیں کھول دیں اور وہ ایک کمیشن مقرر کرنے پر مجبور ہوئی تاکہ قحط کے وجوہ اور اس کی سختی دور کرنے کے ذرائع کی تحقیق کرے۔ ۱۸۸۰ء میں یہ کمیشن سر رچرڈ اسٹریچی کے زیر صدارت بیٹھا اور اس نے کامل تلاش و تحقیق کے بعد ایک طویل رپورٹ پیش کی، جس میں قحط کا ایک سب سے بڑا سبب ملکی صنعتوں کی معدومیت کو قرار دیتے ہوئے سفارش کی گئی تھی کہ ان میں نئے سرے سے جان ڈالنے کی کوشش کی جائے۔ اس رپورٹ کے فقرہ نمبر ۱۰۳ میں کمیشن نے لکھا ہے کہ :
”ہندوستان میں قحطوں کی ہولناک مصیبت کا بڑا سبب اور قحط زدہ لوگوں کی اعانت میں مشکلات حائل ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملکی آبادی کا عنصر غالب کلیتہً زراعت پر زندگی بسر کرتا ہے، اس لیے جب بارش کسی سال کم ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی تو عام باشندوں جن کا اور کوئی ذریعۂ معاش زراعت کے سوا نہیں ہے، فصل کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں اور محنت پیشہ طبقہ کے پاس اتنا روپیہ نہیں ہوتا کہ مہنگا غلہ خرید کر اپنا پیٹ پالے۔ اس افسوسناک صورت کا علاج صرف یہ ہے کہ صنعتوں کو ترقی دی جائے اور زراعت کے علاوہ دوسرے پیشوں کو ترقی دے کر موسمی اتار چڑھاؤ کے برے اثرات کو کم کر دیا جائے۔"
اس کے بعد جب ۱۸۹۹-۱۹۰۰ء کا مشہور قحط پڑا تو گورنمنٹ نے لارڈ اس وقت سر میکڈانلڈ کی زیر صدارت پھر ایک کمیشن مقرر کیا اور اس نے بھی اپنے پیشرو کی تائید کرتے ہوئے اعتراض کے لہجے میں کہا کہ "جہاں تک محض اشک شوئی کا تعلق ہے ہم نے اب تک بہت کچھ کیا ہے مگر قحطوں کے روکنے کی اصل تدابیر پر عمل کرنے میں ہمارا ہاتھ بہت کچھ سست ہے"۔ اسی زمانے میں ہندوستان کی قومی خواہشات کو ظاہر کرنے کے لیے نیشنل کانگریس قائم ہو چکی تھی اور وہ اپنے ہر اجلاس میں ملک کی صنعتی احیاء کے لیے گورنمنٹ سے استدعا کرتی تھی۔ خود گورنمنٹ کے بھی متعدد ارکان اس ضرورت پر زور دے رہے تھے کہ حکومت کو ابتداً صنعتی کوششوں میں اپنی قوت سے مدد دینی چاہیے۔ ان تمام باتوں نے حکومت کو ایک حد تک مجبور کیا اور ۱۸۸۰ء میں تعلیمی حالت اور اس کی آئندہ ترقی کے امکانات پر غور کرنے کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا گیا جس نے صنعتی تعلیم پر توجہ دینے کی پرزور سفارش کی۔ ۱۸۸۷ء میں رائل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ہندوستان کے مادی وسائل کو ترقی دینے کی ضرورت پر حکومت کو خاص طور سے توجہ دلائی۔ ۱۸ جون ۱۸۸۸ء کو حکومت ہند نے اپنے ایک ریزولیوشن میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اب تک ہندوستان کی تعلیم کلیۃً ادبی علوم تک محدود رہی ہے اور اب اس میں صنعتی علوم و فنون کا اضافہ کرنے کی سخت ضرورت ہے، اس کے ساتھ ہی مقامی حکومتوں کو ہدایت کی گئی کہ اپنے اپنے صوبوں میں صنعت کی ہمت افزائی کے لیے ضروری کارروائی عمل میں لائیں۔ ۱۹۰۱ء میں لارڈ کرزن نے ایک کانفرنس تعلیمی امور پر غور کرنے کے لیے منعقد کی، جس کا ایک اہم مقصد اعلیٰ تعلیم میں ایسی ترمیم کرنا تھا کہ وہ زیادہ عملی اور کارآمد بن جائے۔ اس کانفرنس کی تجاویز کا ایک عملی نتیجہ یہ تھا کہ صنعتی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہندوستانی طلبا کو یورپ اور امریکہ بھیجنے کی ابتدا کی گئی اور اس کے لیے ۱۵۰ پونڈ سالانہ کی رقم مقرر کی گئی۔ صوبۂ متحدہ اور مدراس چند قدم اور آگے بڑھا، یعنی مدراس نے حکومت کی نگرانی میں المونیم کا کارخانہ قائم کیا، جو تھوڑی مدت تک کامیابی کے ساتھ چلتا رہا۔ صوبۂ متحدہ نے بھی دو چار کارخانے قائم کیے اور شکر سازی کے بعض کارخانوں کو مدد دی گئی۔ ان کے علاوہ متعدد صوبوں نے اپنے ہاں ڈائرکٹر آف انڈسٹریز کا عہدہ قائم کیا اور خود حکومتِ ہند نے بھی ۱۹۰۵ء میں امپیریل ڈیپارٹمنٹ آف کامرس اینڈ انڈسٹریز قائم کر دیا۔ مگر سرجان ہیوٹ (سابق لفٹننٹ گورنر صوبۂ متحدہ) کے بقول "صنعتی و حرفتی تعلیم کے مسئلہ پر شاید تمام مسائل سے زیادہ بحث کی گئی ہے لیکن عملی کوشش کے لحاظ سے اسی پر بہت کم توجہ ہوئی۔"
حکومت کی صنعتی پالیسی میں ہمیشہ یہی خیال غالب رہا ہے کہ تعلیم میں آسانیاں بہم پہنچانے سے زیادہ اور کوئی کوشش اس کے دائرۂ عمل میں داخل نہیں ہے۔ اور یہ "تعلیم میں آسانی بہم پہنچانے" کا فرض بھی جس طرح پورا کیا گیا ہے اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس کے لیے صرف ۲۲۵۰ روپیہ سالانہ کے وظائف مقرر کیے گئے جس سے ۲۰ سال کے اندر بمشکل ۱۰۰ طلباء نے فائدہ اٹھایا۔ اس کے علاوہ ۱۹۰۴ء میں بنگال کی ایک ایسوسی ایشن کو ۵۰۰۰ روپیہ سالانہ رقم دینی منظور کی گئی جس کا مقصد اس قسم کی تعلیم کے لیے نوجوانوں کو امریکہ اور جاپان بھیجنا تھا۔ مگر جنگ چھڑتے ہی سب سے پہلی وہ مد جس میں نصف کی کمی کرنا ضروری سمجھا گیا، یہی تھی ۔[یہ تمام اقتباسات انڈین انڈسٹریل کمیشن ۱۸-۱۹۱۶ء کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔]
حکومت کی صنعتی پالیسی کو زیادہ واضح کرنے کے لیے اس واقعہ کا اظہار ضروری ہے کہ جب حکومت مدراس نے زیادہ عملی طریقوں سے اپنے صوبہ کی صنعت و حرفت کو ترقی دینے کے لیے ایک اسکیم تیار کر کے وزیر ہند (لارڈ مارلے) کے پاس بھیجی تو اس نے لکھا کہ:
”نئی صنعتوں کو جاری کرنے کے لیے جو کوششیں کی گئی ہیں، ان کے نتائج میرے اس شک کو رفع کرنے میں قطعا ناکام ہوئے ہیں جو میں اس بارے میں حکومت کے عملی حصہ لینے کی ضرورت کے متعلق رکھتا ہوں۔ الا بایں صورت کہ ان کوششوں کو تجارتی شکل اختیار کرنے سے روکنے اور محض حرفتی تعلیم تک محدود رکھنے کی سختی کے ساتھ کوشش کی جائے ۔“ [ لارڈ مارلے کا مراسلہ نمبر ۵ شعبہ ریونیو مورخہ ۲۹ جولائی ۱۹۱۰ء]
مارلے نے اپنے اس مراسلے میں حکومت ہند اور مقامی حکومتوں کو سختی کے ساتھ تاکید کرتے ہوئے صرف اتنی اجازت اور دی کہ جن فنون کو محض کتابی تعلیم سے اچھی طرح نہیں سکھایا جا سکتا، ان کی مشینیں منگائی جا سکتی ہیں مگر ”یہ خیال رہے کہ ان سے محض تجربہ ہی کا کام لیا جائے۔“[ لارڈ کریو کا مراسلہ ۲۴ شعبہ ریونیو مورخہ ۱۲ مارچ ۱۹۱۲ء] ظاہر ہے کہ یہاں پہلے ہی نمائشی حرارت پیدا ہوتی تھی اس پر جب اوپر سے پانی ڈال دیا گیا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ پھر یہ حرارت کسی درجہ میں بھی باقی رہتی، انڈین انڈسٹریل کمیشن کے الفاظ میں اس پالیسی کا اثر یہ ہوا کہ حکومتِ ہند شعبہ صنعت و حرفت پر صرف کرنے کے لیے اتنی رقم بھی اپنے بجٹ میں نہ نکال سکی، جس سے لارڈ مارلے کے محدود نقطۂ نظر ہی کے مطابق کوئی عملی کارروائی کی جاتی۔ [انڈسٹریل کمیشن رپورٹ صفحہ ۸۰]
اس پالیسی کا نیا دور اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب ۱۹۱۴ء میں جنگِ عظیم کا آغاز ہوا۔ یورپ، افریقہ اور ایشیا، تینوں براعظموں میں دفعتاً ایک زبردست جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے جزائر برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان آمد و رفت کا سلسلہ بڑی حد تک منقطع ہو گیا اور وسطِ یورپ کی سلطنتوں کے مقابلے میں برطانوی قوم پر مشکلات کا بہت بڑا بار پڑ گیا، ان کٹھن گھڑیوں میں ایک طرف حکومتِ ہند یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوئی کہ ایک خالص زراعتی ملک ہندوستان جنگ کے مواقع پر اپنی حفاظت سے کس قدر عاجز ہے اور دوسری طرف حکومت کی آنکھیں کھل گئیں کہ اُس نے برطانوی صنعت پر ہندوستان کی بھینٹ چڑھا کر اپنے آپ کو ہندوستان جیسے زرخیز ملک کے فوائد سے محروم کر لیا ہے، یہ احساس ہم کو زمانہ جنگ کی تمام سرکاری تحریروں میں نمایاں نظر آتا ہے۔
۲۶ نومبر ۱۹۱۵ء کو لارڈ ہارڈنگ نے وزارتِ ہند کے نام اپنے ایک مراسلہ میں اس مسئلہ پر زور دیا کہ حکومت کو اپنی صنعتی پالیسی میں اصولی تغیر پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
”یہ حقیقت روز بروز روشن تر ہوتی جاتی ہے کہ ہندوستان کی صنعتی قابلیت کو ترقی دینے کے لیے ایک مکمل اور خود شناس پالیسی اختیار کرنا اختتام جنگ کے بعد ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس اہم مسئلہ پر ہندوستانی پبلک کا رویہ بالکل متحد ہے اور ہرگز نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔ دستکار، اہل سیاست اور عام تعلیم یافتہ طبقے ایک عرصہ سے ملکی صنعت کی ترقی کے لیے حکومت کی اعانت کا مطالبہ کر رہے ہیں، لہذا ہم کو ایک ایسی صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے جو ہندوستان میں ٹیکنیکل تعلیم کے بہتر نتائج پیدا کرنے کے قابل بنائے اور خالص ادبی نصاب تعلیم پر ضرورت سے زیادہ دباؤ کو ہلکا کرکے سرکاری ملازمتوں میں داخل ہونے کی بڑھتی ہوئی خواہش کو کم کر دے، جو اس قسم کے نصاب سے قدرتاً پیدا ہوتی ہے..... جنگ کے بعد ہندوستان اپنے آپ کو اس مدد کا پورا مستحق سمجھے گا جو حکومت کی طرف سے اُسے ایک صناع کی حیثیت حاصل کرنے کے لیے دی جا سکتی ہے۔"
مئی ۱۹۱۶ء میں لارڈ چمسفورڈ کی گورنمنٹ نے ایک صنعتی کمیشن مقرر کیا جس کا مقصد یہ تحقیق کرنا تھا کہ ہندوستانی سرمایہ کو فائدہ مند صنعت و تجارت میں کیوں کر لگایا جا سکتا ہے اور گورنمنٹ کے لیے کن صورتوں سے ملکی صنعت کو ترقی دینا ممکن ہے۔ اس کمیشن نے ۱۹۱۸ء تک تحقیقات کرنے کے بعد ایک رپورٹ پیش کی جس کی تجاویز کے بنیادی اصول میں ایک یہ تھا کہ "گورنمنٹ کو آئندہ سے ملکی صنعتی ترقی میں حصہ لینا چاہیئے تاکہ آدمیوں اور سامان کے اعتبار سے وہ دوسرے ملکوں کا محتاج نہ رہے۔" اس کے بعض فقرے قابلِ مطالعہ ہیں۔ ہندوستانی صنعت کی کوتاہی کا ذکر کرتے ہوئے اہلِ کمیشن لکھتے ہیں کہ :
" وہ صنعتیں جو صلح و جنگ دونوں حالتوں میں ملک کے لیے ضروری ہونے کے باوجود یہاں رائج نہیں ہیں ان کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ اس رپورٹ میں درج نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک انھیں معقول پیمانہ پر جاری نہ کیا جائے گا ہندوستانی سرمایہ دار زمانہ امن میں حصولِ دولت کے بہت سے ذرائع سے محروم رہے گا اور زمانہ جنگ میں بحری راستے بند ہو جانے کے باعث ہندوستان کی موجودہ صنعتیں کامل تباہی کے خطرہ میں مبتلا ہو جائیں گی۔ اس کے باشندے سخت تکلیف اٹھائیں گے اور اس کی فوجوں کو زبردست امکانی خطرات کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ [ رپورٹ کمیشن صفحہ ۵۵]
کمیشن نے ہندوستان کی موجودہ صنعتی کمزوری، ترقی کرنے کی صلاحیت اور اب تک اس بارے میں حکومت کی غفلت پر ایک مفصل تبصرہ کرنے کے بعد ایک اسکیم پیش کی جو مرکزی اور مقامی حکومتوں کے صنعتی محکموں کی تنظیم کے متعلق نہایت مکمل تجاویز پر مشتمل تھی۔
اسی زمانے میں مسٹر مانٹیگو (سابق وزیر ہند) اگست ۱۹۱۷ء کی اعلان کردہ پالیسی کے مطابق آئینی اصلاحات کے متعلق ہندوستان کے حالات کا مطالعہ کرنے کے لیے ہندوستان آئے اور انھوں نے چمسفورڈ (سابق وائسرائے) کے ساتھ مل کر اپنی رپورٹ مرتب کی، جو مانٹفورڈ فارم اسکیم کے نام سے ایک زمانہ تک زباں زدِ خلائق رہ چکی ہے۔ اس رپورٹ میں نہایت وضاحت کے ساتھ صنعتی پالیسی کے تغیر پر زور دیا گیا اور یہ بات تسلیم کی گئی کہ حکومت کو ملک کے صنعتی احیاء میں حصہ لینے کی سخت ضرورت ہے، اس کے فقرہ نمبر ۳۳۴ میں ہم کو یہ الفاظ نظر آتے ہیں :
”ہم کسی دوسری جگہ لکھ چکے ہیں کہ حکومت کے دائرۂ عمل کی تجدید کے متعلق انگریزی نظریے ہندوستان کے لیے قابل اطلاق نہیں۔ ہم کو یقین ہے کہ ہماری یہ رائے صنعتی پالیسی کے متعلق بھی بالکل درست ہے اور اگر اس ملک کے وسائل کو ترقی دینے کی ضرورت ہے تو حکومت کو آگے بڑھ کر کام کرنا چاہیے۔“
فقرہ ۳۳۶ میں لکھا ہے کہ :
”ہر حیثیت سے صنعتی ترقی کے لیے ہم کو ایک پیش پیش پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، نہ اس غرض سے کہ ہندوستان کا اقتصادی درجہ بلند کیا جائے، بلکہ اس لیے بھی کہ اہل ہندوستان کی خواہشوں کو پورا کیا جائے جو اپنے ملک کو دنیا میں ترقی یافتہ درجہ پر دیکھنے کے لیے بے چین ہیں، اور اس لیے بھی کہ ہندوستانی نوجوانوں کی ہمت و استعداد کے لیے ایک بڑا میدان عمل پیدا کیا جائے جو اب تک صرف حکومت کی ملازمتوں یا چند ملازمتوں پر اپنی توجہ صرف کر رہے ہیں اور اس لیے بھی کہ ہندوستانی افکار کے تجارتی میلان کو زیادہ عملی مقاصد کی طرف راجع کیا جائے اور اہل ملک میں اُن کی ذمہ داریوں کے برداشت کی زیادہ صلاحیت پیدا کی جائے جنھیں نیا آئینِ حکومت ان پر ڈالنے والا ہے۔“
آگے چل کر دوسرے فقرے میں وہ لکھتے ہیں کہ :
یہ تو سیاسی پہلو تھا جو زیادہ تر ہندوستان سے متعلق تھا، مگر ہماری رائے میں شاہی حکومت کے مصالح بھی اقتصادی و عسکری
حیثیت سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ سے ہندوستان کے وسائل زیادہ مفید طریقے پر استعمال کرنے چاہئیں۔ ہم اندازہ نہیں کر سکتے کہ صناع ہونے کی حیثیت سے ہندوستان سلطنت کی قوت میں کس قدر زیادہ استحکام پیدا کر دے گا۔
موجودہ جنگ عظیم نے اقتصادی محاربہانہ اہمیت کو بھی پوری طرح روشن کر دیا ہے، ہم جانتے ہیں کہ بحری آمد و رفت میں عارضی طور پر خلل واقع ہو جانے کا امکان ہمیں مجبور کر رہا ہے کہ مشرقی میدان کارزار میں ہندوستان پر ایک جنگی مرکز کی حیثیت سے اعتماد کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کل ایک صنعتی حیثیت سے ترقی یافتہ جماعت کے نتائج عمل نے ہمارے سامان جنگ کی فہرست میں حاکمیت کے لحاظ سے نہیں تو تنوع کے لحاظ سے جو اضافہ کیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے ہندوستان کے قدرتی ذرائع کو ترقی دینا امور حربیہ کی ایک اہم ضرورت معلوم ہوتی ہے ۔“
مگر افسوس ہے کہ یہ تمام باتیں صرف اظہارِ خیال تھا، کیوں کہ حقیقت میں حکومت کی صنعتی پالیسی نے اب تک کوئی تغیر اپنے اندر پیدا نہیں کیا۔ عین حالت جنگ میں جبکہ یہ باتیں کہی جا رہی تھیں، جس وقت ہندوستان پر ۱۰ کروڑ پونڈ کا بار ڈالا گیا اور اسے اٹھانے کے لیے حکومت ہند نے سوتی کپڑے کی درآمد پر محصول دو چند کر دینے کا ارادہ کیا تو لیبر پارٹی، آئرش نیشنلسٹ پارٹی اور لنکا شائر کے ووٹوں کی مجموعی قوت نے حکومت انگلستان پر اس کے خلاف دباؤ ڈالا، مسٹر الیکوسٹیتھ جیسے مدبر نے ان کی تائید کی اور آخر وزارت ہند اس کارروائی کو روک دینے پر مجبور ہوئی، خود مسٹر مانٹیگو اور لارڈ چمسفورڈ نے بھی جن کی پرزور وکالت کا حال آپ ابھی پڑھ چکے ہیں، عملی حیثیت سے اگر کچھ کیا تو صرف یہ کہ ہندوستان کی مالی پالیسی کو اس حکومت کے ہاتھ میں چھوڑ دیا جو پارلیمنٹ اور وزیر ہند کے سامنے جواب دہ ہے اور اس لیے لنکاشائر والوں کے مصالح کو ہندوستان کے مصالح پر ترجیح دینے کے لیے مجبور ہو گئے۔
جنگ کے زمانے میں ہم سے کہا جاتا تھا کہ یہ وقت خطرہ کا ہے اس لیے اب جو کچھ تجویزیں کی جا رہی ہیں ان پر اختتام جنگ کے بعد عمل کیا جائے گا۔ ہم نے اس پر یقین کیا اور امیدیں قائم کر لیں کہ توپ خانوں کی واپسی کے بعد کارخانوں کی چمنیاں بلند ہونی شروع ہو جائیں گی، مگر ورسیلز سے امن کا پیغام آنا تھا کہ وہی پچھلا سا دور شروع ہو گیا۔
اب اگرچہ صنعت و حرفت کے لیے بڑے بڑے محکمے قائم ہو گئے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے صنعتوں کی ہمت افزائی میں اگر کوئی کوشش کی جاتی ہے تو صرف یہ کہ ملوں کی پیداوار پر دو چند محصول عائد کرنے کا ارادہ کیا جاتا ہے اور ضروریات حکومت کے لیے سامان خریدنے میں برطانوی صناع کی پوری رعایت کی جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ حکومت اپنی تائید میں دو چار مثالیں ہمارے سامنے پیش کر سکے، مگر ان لوگوں کی نگاہ میں ان مثالوں کی کیا وقعت ہو سکتی ہے جو جرمنی و جاپان کی مثالوں کو دیکھ کر اور خود انگلستان کی صنعتی و تعلیمی تاریخ کا مطالعہ کر کے واقف ہو گئے ہیں کہ حکومت کی اعانت سے ملکوں کی کیونکر قلب ماہیت ہو جاتی ہے۔
آج سے ۵۰ سال قبل جاپان اپنی تعلیمی، صنعتی، حتیٰ کہ زرعی حیثیت سے بھی ہمارے مقابلے میں بہت گرا ہوا تھا۔ مگر اب وہ اپنے روشن خیال حکومت کی بدولت اس قدر ترقی کر گیا ہے کہ امریکہ و انگلستان کے بعد دنیا میں کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔
اب سے ۶۰ سال پہلے جرمنی ہم ہی جیسا ایک زراعتی ملک تھا اور اس کی آبادی میں ۷۵ فیصدی باشندے زمین کی قوتِ نامیہ پر اپنی زندگی بسر کرتے تھے مگر ہوہنز ولرن خاندان کی کامیاب رہنمائی کا آج ہم یہ نتیجہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ دنیا کے صنعتی ملکوں کی پہلی صف میں ہے۔
۱۸۸۰ء سے قبل انگلستان کی حالت یہ تھی کہ پیرس اور لندن کی نمائشوں میں جرمنی اور فرانس کے مقابلے میں اپنی صنعتی پستی کو دیکھ کر انگریز قوم کا دل بیٹھ گیا تھا مگر ابتدائی تعلیم کا قانون پاس ہونے کے بعد جو زبردست انقلاب وہاں پیدا ہوا اس کے حیرت انگیز نتائج برطانوی قوم کے صنعتی تفوق کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہیں۔ کیا ہماری حکومت ان مثالوں کے سامنے اپنے نتائج عمل پیش کر سکتی ہے؟
یہ ہندوستان کی ایک صد و پنجاہ سالہ اقتصادی تاریخ کا ایک باب ہے جسے قارئین کرام کی آسانی کے لیے امکانی اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، اس پر کسی افتتاحی تبصرہ کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر شخص کی طبع سلیم خود نتیجہ نکال سکتی ہے البتہ اگر کچھ میں کہنا چاہتا ہوں تو وہ صرف یہ کہ اس پوری تاریخ کا مطالعہ مِل کے اس قول کی گہری صداقت کو واضح کرتا ہے جس میں اس نے ظاہر کیا تھا کہ:
”ایک قوم کی حکومت خود اپنے آپ پر ایک معنی رکھتی ہے اور حقیقت۔ مگر ایسی لایعنی چیز جیسے ایک قوم کی حکومت دوسری قوم پر نہ قائم رہتی ہے اور نہ رہ سکتی ہے، ایک قوم اگر دوسری قوم پر حکومت کرتی ہے تو صرف اپنے فائدہ کے لیے اور صرف اس لیے کہ اُسے جلبِ زر کا ذریعہ بنائے۔“