مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

ہندوستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب

اشاعت: 1922ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ مقالہ ہے جو انہوں نے محض اکیس برس کی عمر میں ۱۹۲۲ء میں تحریر کیا تھا۔ اس میں وہ تاریخی و اعداد و شمار کی روشنی میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح انگریزوں نے اپنی مخصوص حکمتِ عملی کے ذریعے ہندوستان کی صنعتی حیثیت کو بتدریج زرعی حیثیت میں تبدیل کر دیا، اور یہ کہ خود انگلستان کی صنعتی ترقی بھی بڑی حد تک ہندوستانی دولت ہی کی مرہونِ منت تھی۔

وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی دور سے لے کر انیسویں صدی تک ہندوستان کی شان دار صنعتی روایات، جنگِ پلاسی کے بعد کمپنی کی تجارتی و عسکری بالادستی، بنگال کے قحط اور مالگزاری کی بے رحمانہ وصولی، ملکی تجارت پر کمپنی کے حملوں، اور ناجائز محصولات کے ذریعے دیسی صنعت کو کچلنے کی پالیسیوں کو دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں بے نقاب کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ہندوستان کی گزشتہ صنعتی ترقی

اب قدرتاً ہمارے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایسی گری ہوئی حالت میں کیوں ہیں؟ ہندوستان کی تاریخ ایسی شان دار صنعتی روایات سے معمور ہے کہ شاید ہی کوئی دوسرا ملک اس کا ہمسر ہو سکے، اس میں شک نہیں کہ ہم ہمیشہ سے کاشتکار تھے، لیکن دنیا ہمیں کاشتکار کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک اعلیٰ صناع کی حیثیت سے دیکھتی تھی۔

مسیح سے دو ہزار برس قبل کی مومیائی شدہ لاشیں ہندوستان ہی کی ململ میں کفنائی ہوئی پائی گئی ہیں اور اس سے بھی ایک ہزار سال قبل بابل کے بازار ہندوستان ہی کے مال سے پُر نظر آتے ہیں۔ پہلی صدی عیسوی میں پلینی شکایت کرتا ہے کہ روم کی دولت (۴۰ لاکھ پونڈ سالانہ) ہندوستانی سامان کے عوض بہی چلی جا رہی ہے اور یونانیوں کے ہاں ڈھاکہ کی ململ گنگجٹکا کے نام سے پائی جاتی ہے۔ پروفیسر ویبر اعتراف کرتا ہے کہ رنگ ملانے، باریک کپڑے تیار کرنے، دھاتوں اور قیمتی جواہر کو صاف کرنے اور دوسرے اعلیٰ درجہ کے فنون میں ہندوستانیوں کی ذہانت زمانہ قدیم سے مشہور[IMPERIAL GAZETTE OF INDIA VOL. III] ہے۔ پروفیسر بال دہلی کی لاٹ کے متعلق بیان کرتا ہے کہ "انیسویں صدی کے ترقی یافتہ زمانے میں بھی مشکل سے کوئی فیکٹری ایسی ہو گی جو اتنے صاف لوہے کی ایسی بڑی لاٹ تیار کر سکے"[RANADE'S ESSAY ON INDIAN ECONOMICS-P.159]۔ خود حکومت ہند کی مقرر کردہ صنعتی کمیشن کی رپورٹ میں اس امر کا کھلا ہوا اعتراف موجود ہے کہ "جس زمانے میں موجودہ صنعتوں کا گھر (مغربی یورپ) وحشی قبائل سے آباد تھا، ہندوستان کے حکمراں اپنی دولت اور اس کے صناع اپنی ذہانت میں مشہور تھے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب مغربی تاجر ہند کے سواحل پر نئے نئے آئے ہوئے تھے، اس ملک کی صنعتی حالت یورپ کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سے کسی طرح کم نہ تھی۔"[INDIAN INDUSTRIAL COMMISSION REPORT]

۱۸۳۳ء کی پارلیمنٹری سب کمیٹی کے سامنے مسٹر رکارڈس نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ "مختلف صنعتوں میں ہندوستان کی ذہانت آج بھی اپنا نظیر نہیں رکھتی۔ ان کے بعض مصنوعات مثلاً ململ، شال، ریشمی رومال، کڑھے ہوئے کپڑے، سونے چاندی اور ہاتھی دانت کا کام اس قدر عجیب و غریب ہوتا ہے کہ برطانوی صناع اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا"[DIGBY'S PROSPEROUS BRITISH INDIA-P56]۔ مسٹر ویریلیٹ MR. VERELET جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی گورنروں میں سے تھا کہتا ہے کہ "بنگال کے ریشمی کپڑے ملک کے باہر اندر ہر طرف دور دور جاتے ہیں، حتیٰ کہ اصفہان میں بھی ان کی مانگ ہے"۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بھی جو ہندوستان کے انتہائی انحطاط کا زمانہ شمار ہوتا ہے، ہندوستانی صنعت کی ترقی کا یہ حال تھا کہ اس زمانے کی تیار کی ہوئی ململ اور چکن کا جواب آج بیسویں صدی میں بھی کہیں نہیں ملتا۔ [INDIAN YEAR BOOK 1914-P.515]مشہور مؤرخ مرے MURRAY لکھتا ہے کہ "ہندوستان کی مصنوعات کہ جو انسانی دستکاری کا بہترین نمونہ تھے، یورپ کے تاجر سخت ترین خطرات کا مقابلہ کر کے حاصل کرتے تھے۔ [MURRAY'S HISTORY OF INDIA - P.27]ہندوستان کی چھینٹ انگلستان میں اس قدر مقبول تھی کہ اس کا نام ہی کالیکو CALICO رکھ دیا گیا، کیوں کہ وہ کالی کٹ (CALICUT) سے آتی تھی۔ بنارس کے ریشمی کپڑے کی تعریف میں میکالے لکھتا ہے کہ "ورسلیز اور سینٹ جیمز کے ناچ گھروں میں لوگ اسے فخریہ پہن کر جاتے تھے"۔ [MACAULAY'S WARREN HASTINGS - P.83]لیکن اپنی "اٹھارویں صدی کی تاریخ انگلستان میں" لکھتا ہے کہ "سترہویں صدی کے اواخر میں ہندوستان کی خوب صورت اور سستی چھینٹیں، ململ اور چھپے ہوئے کپڑے بکثرت انگلستان آتے تھے اور وہ اس قدر مقبول تھے کہ انگلستان کے اونی اور ریشمی کپڑا بننے والوں کی روزی خطرہ میں پڑ گئی۔ آخر کار ۱۷۰۰ء اور ۱۷۲۱ء میں پارلیمنٹ نے حکماً چھینٹوں اور چھپے ہوئے کپڑوں کے استعمال کو معمولی استثناء کے ساتھ روک دیا۔ [LEACKY'S HISTORY OF ENGLANID IN 18th CENTURY]

سر ہنری کاٹن نے اپنی کتاب نیو انڈیا میں لکھا ہے کہ "آج سے سو سال قبل ڈھاکہ کی تجارت ایک کروڑ روپیہ سالانہ تک پہنچتی تھی اور ۳۰ لاکھ کی ململ صرف انگلستان کو جایا کرتی تھی۔" سر تھامس مانرو نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے معاملات کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے شہادت دیتے ہوئے بیان کیا تھا کہ "اگر کسی ملک کی تہذیب سے مراد اس کا بہترین طریقۂ زراعت اور اعلیٰ درجہ کی صنعتی ذہانت ہے تو ہندوستان کسی یورپین ملک سے کم نہیں ہے اور وہاں کا مال انگلستان میں آکر بہت کچھ نفع کا باعث ہو گا۔[MINUTES OF EVIDENCE ON E.I. COMPANY - P.131]"اسی شہادت کے سلسلہ میں ایک جگہ سر مانرو نے بیان کیا تھا کہ "میں سات سال سے ایک ہندوستانی شال کو استعمال کر رہا ہوں مگر وہ آج بھی ویسی ہی نئی ہے، جیسی میں نے پہلے روز خریدی تھی، اور اگر کوئی شخص مجھے یورپ کی بنی ہوئی شال مفت بھی دے تو میں اُسے اوڑھنا پسند نہ کروں گا۔" آگے چل کر اس نے کہا کہ: "ہندوستان میں یورپین مصنوعات کی عدم مقبولیت کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ وہاں کی مصنوعات بدرجہا بہتر ہوتی ہیں۔" [MINUTES OF EVIDENCE ON E.I. COMPANY-P.123-127]

آج ہم ان تاریخی واقعات کو پڑھتے ہیں تو ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ ہمارے ہی ملک کی گذشتہ حالت کا نقشہ ہے۔ کیوں کہ منچسٹر اور لنکاشائر کے حسین کپڑوں کے سامنے ہمارے کپڑے بھدے اور موٹے ہوتے ہیں، مگر آج سے صرف ایک صدی قبل یہی حال تھا کہ مدراس کا گورنر یورپ کی بنی ہوئی بہترین شال مفت قبول کرنے پر بھی تیار نہ تھا۔ کیونکہ وہ ہندوستان کی شال کے مقابلے میں بدرجہا خراب تھی۔

ایک ہی صدی میں ایسا عظیم الشان انقلاب کیونکر پیدا ہو گیا؟ یہ ایک سوال ہے جس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

کسی ملک کی اقتصادی و تمدنی حالت پر غور کرتے وقت سب سے زیادہ توجہ کے قابل یہ امر ہوتا ہے کہ اس کا نظام حکومت کیسا ہے، یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ قوموں کے بننے بگڑنے میں بڑا حصہ حکومت کا ہوا کرتا ہے۔ کبھی کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کا نظام حکومت درست نہ ہو اور اسی طرح کوئی قوم تباہ نہیں ہو سکتی تا وقتیکہ اس کا نظام حکومت خراب نہ ہو جائے۔ جان برائٹ کہتا ہے کہ "اگر تم کسی ملک کو دیکھو کہ اس کی زمین زرخیز اور ہر قسم کے مواد سے مالا مال ہے لیکن اہل ملک خستہ حال ہیں تو فوراً یقین کر لو کہ اس ملک کے نظام حکومت میں کوئی خرابی ہے۔" اس لیے ہندوستان بھی اس کلیہ سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا اور اس کی صنعتی بربادی کا حقیقی سبب بھی ہمیں اسی نظریئے کے تحت تلاش کرنی چاہیئے۔