ہندوستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب
اشاعت: 1922ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ مقالہ ہے جو انہوں نے محض اکیس برس کی عمر میں ۱۹۲۲ء میں تحریر کیا تھا۔ اس میں وہ تاریخی و اعداد و شمار کی روشنی میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح انگریزوں نے اپنی مخصوص حکمتِ عملی کے ذریعے ہندوستان کی صنعتی حیثیت کو بتدریج زرعی حیثیت میں تبدیل کر دیا، اور یہ کہ خود انگلستان کی صنعتی ترقی بھی بڑی حد تک ہندوستانی دولت ہی کی مرہونِ منت تھی۔
وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی دور سے لے کر انیسویں صدی تک ہندوستان کی شان دار صنعتی روایات، جنگِ پلاسی کے بعد کمپنی کی تجارتی و عسکری بالادستی، بنگال کے قحط اور مالگزاری کی بے رحمانہ وصولی، ملکی تجارت پر کمپنی کے حملوں، اور ناجائز محصولات کے ذریعے دیسی صنعت کو کچلنے کی پالیسیوں کو دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں بے نقاب کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
حکومت ہند کی پالیسی محصول عائد کرنے کے متعلق
کپڑا بننے کی صنعت ۱۸۵۴ء سے شروع ہوتی ہے جبکہ سب سے پہلے بمبئی میں ایک مل کی بنیاد ڈالی گئی۔ ہر چند ۱۸۱۸ء میں بھی اس کی کوشش کی گئی تھی مگر بیس سال تک اس میں کوئی کامیابی نہ ہو سکی۔ ۱۸۵۶ء میں جب پہلی مل قائم ہوئی تو لنکاشائر کے جلاہوں میں عام کھلبلی مچ گئی۔ انھوں نے اس نوزائیدہ صنعت کو آئندہ کے لیے بڑے بڑے خطرات کا پیش خیمہ سمجھا اور گہوارہ ہی میں اس کا گلا گھونٹ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ اول ہی روز سے ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت ہند کی اس پالیسی پر لنکاشائر کے نمائندوں کی حکمرانی ہے اور آج تک جتنے ٹیرف ایکٹ پاس کیے گئے ہیں ان میں ایک بھی ایک ایسا نہیں ہے جو ہندوستان کے مصالح کو مدنظر رکھ کر مرتب کیا گیا ہو۔
تاج برطانیہ کے ماتحت ہندوستان کا سب سے پہلا نقشہ محصولات ۱۸۵۹ء میں لارڈ کیننگ کے زیر ہدایت مرتب کیا گیا تھا جس میں برطانوی مال کی امتیازی رعایتوں کو منسوخ کر کے تمام اسباب عیش و تنعم پر ۲۰ فی صدی، سوتی کپڑے پر ۱۰ فی صدی اور تاگے کی گٹیوں پر ۵ فی صدی محصول مقرر کیا گیا تھا، اس پر انگریزی تاجروں میں شور مچ گیا اور بمبئی کلکتہ سے لندن تک متفقہ آواز بلند ہوئی کہ یہ تجارت کا گلا گھونٹنے والی پالیسی ہے۔ ۱۸۶۰ء میں جب مسٹر جیمز ولسن ہندوستان کے پہلے وزیر مقرر کر کے بھیجے گئے تو انھیں وہیں سے ہدایت کر دی گئی تھی کہ نقشہ محصولات میں ترمیم کریں۔ چنانچہ انھوں نے پہنچتے ہی تمام محصول درآمد کو ۱۰ فی صدی کے یکساں نرخ پر مقرر کر کے ہندوستانی خام پیداوار کو محصول سے مستثنیٰ کر دیا۔ ۱۸۶۱ء، ۱۸۶۲ء، ۱۸۶۳ء، ۱۸۶۴ء اور ۱۸۶۷ء میں اس نقشہ کو برابر کانٹ چھانٹ کر لنکاشائر کے مصالح سے مطابق کرنے کی کوشش کی جاتی رہی، ۱۸۷۰ء میں لارڈ میو کی گورنمنٹ نے ایک مستقل قانون پاس کر کے دھاگے پر ۳½ فی صدی، سوتی کپڑے پر ۵ فی صدی، رنگوں پر ۱½ فی صدی اور اونی کپڑے پر ۵ فی صدی محصول درآمد اور اس کے مقابلے میں ہندوستان کے سوتی کپڑے کی برآمد پر ۳ فی صدی، غلہ پر ۳ پنس فی من اور خام چمڑے پر ۳ فی صدی محصول برآمد مقرر کر دیا۔
اسی زمانے میں دارالعوام کی ایک سلیکٹ کمیٹی خاص ہندوستان کے محصولات درآمد و برآمد پر غور کرنے کے لیے بٹھائی گئی جس کے سامنے نہایت اہم شہادتیں پیش ہوئیں۔ مجملہ ان کے ایک سر بارٹل فرِیر تھے، جنہوں نے کہا کہ اس باب میں ہندوستان کے مصالح انگلستان سے متضاد واقع ہوئے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ محصولات درآمد کو زیادہ کرنے سے آمدنی میں ایک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے مگر اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہندوستان میں برطانوی مال کی خریداری میں کمی واقع ہو جائے گی۔"
مسٹر والٹر کیسلز نے اس سے بھی زیادہ صاف الفاظ میں اپنے خیالات کو پیش کیا، انھوں نے سوتی کپڑے پر ۵ فی صدی محصول کو امتناعی اور حفاظتی محصول قرار دیا اور کہا کہ "مجھے نہیں معلوم آپ لوگوں کو اس کی بھی خبر ہے یا نہیں کہ بمبئی میں بارہ ملیں قائم ہو گئی ہیں، جن میں ۳۹۳۹۷۳ تکلے، ۴۱۹۹ کرگھے اور ۸۱۷۰ ہاتھ چل رہے ہیں اور سالانہ تقریباً ڈھائی لاکھ پونڈ روئی صرف ہوتی ہے"۔[SELECT COMMITTEE'S REPORT DUTT VOL.II - P.338-339]
واقعہ یہ تھا کہ اس زمانہ میں ہندوستانی ملوں نے ذرا تیز ترقی شروع کر دی تھی۔ ۵۹-۱۸۵۸ء میں ان کے مال کی برآمد ۸۱۳۶۰۴ پونڈ قیمتی تھی۔ ۶۴-۱۸۶۳ء میں ۱۱۶۷۵۷۷ ہو گئی۔ ۶۹-۱۸۶۸ء میں ۱۲۹۸۱۷۵ اور ۷۴-۱۸۷۳ء میں ۱۹۳۵۱۹۸ تک ترقی کر گئی۔ یہ ترقی لنکاشائر کے جلاہوں پر بہت گراں تھی، اور یہ فطرتاً ہونی چاہیے تھی، کیونکہ جس نسل کو منقطع کرنے کے لیے انھوں نے ایک صدی تک جان ماری تھی، وہ اب ایک نیا جنم لے کر اٹھ کھڑی ہوئی، چنانچہ ۳۱ جنوری ۱۸۷۵ء کو مانچسٹر کے ایوانِ تجارت نے وہائٹ ہال میں وزیر ہند کے سامنے ایک میموریل پیش کیا جس میں ۳.۵ فی صدی تاگہ پر اور ۵ فی صدی کپڑے پر محصولِ درآمد کو برطانوی تجارت کے لیے مہلک اور قطعاً امتناعی قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ :
"ہم کو اطلاع دی گئی ہے کہ مصری اور امریکن روئی ہندوستان میں منگانے کی تجویزیں کی جا رہی ہیں تاکہ اس سے اعلیٰ درجہ کا تاگہ اور کپڑا تیار کیا جائے اور اس طرح انگریزی مال کو شکست دی جائے، جس پر بھاری محصول عائد کر دیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ برطانوی ہند میں سوتی صنعت و تجارت کو ایسے قوانین کے زیر حمایت ترقی دینے کی کوشش، برطانیہ اور ہندوستان دونوں کے لیے مضر ثابت ہو گی، ان محاصل نے ہندوستان کی دیسی آبادی کا خرچ بڑھا دیا ہے، مفلس لوگوں کی تن پوشی زیادہ گراں ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے ان کی صحت، آسائش اور عام خوش باشی میں فرق واقع ہو گیا ہے۔[ECONOMIC HISTORY OF INDIA BY DUTT VOL.II - P.403]
اس زمانہ میں پارلیمنٹ کے نئے انتخابات ہو رہے تھے، اور ان میں لنکاشائر کے ووٹ جو وزن رکھتے تھے، وہ ہر شخص جانتا ہے، ایسی صورت میں وزارت سر جھکا دینے کے سوا اور کیا کر سکتی تھی، اس نے میموریل کے جواب میں وعدہ کیا کہ آئندہ موسم سرما میں ایک کمیٹی مقرر کی جائے گی جو نقشہ محصولات میں تمھارے حسبِ دلخواہ ترمیم کر دے گی۔ مگر مانچسٹر کے ایوانِ تجارت کے لیے یہ وعدہ کافی نہ تھا اس لیے اس نے دوبارہ وزیر ہند کو مخاطب کر کے انھیں مطلع کیا کہ کہاں زیادتی کمی کا سوال نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ ان محاصل کو جہاں تک جلد ممکن ہو، کلیتہً منسوخ کر دیا جائے، اس دوسری درخواست کے یہ الفاظ پڑھنے کے قابل ہیں۔
"ہم نے اپنی پچھلی عرضداشت میں جو عرض کیا تھا کہ یہ محاصل تجارت کے لیے مضرت رساں ہیں اور ہندوستان و انگلستان دونوں جگہ ملکہ معظمہ کی رعایا کے بہترین مصالح پر برا اثر ڈالنے والے ہیں، اب اس کی تصدیق ان جدید ترین اطلاعات سے ہو گئی ہے جو ہمیں بمبئی سے وصول ہوئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں داخل ہونے والے سوتی مال پر محصول عائد کر کے بننے اور کاتنے کی دیسی صنعت کو جو حفاظت بہم پہنچائی گئی ہے، اس کی بدولت بڑی تعداد میں نئی ملیں قائم کی جا رہی ہیں۔"[ECONOMIC HISTORY OF INDIA BY DUTT VOL. II - P.404]
اس پر نومبر ۱۸۷۶ء میں مسٹر الوزو منی کے زیر صدارت ایک کمیٹی مقرر کی گئی، جو انگریزی تاجروں اور افسروں سے مرکب تھی۔ اس کمیٹی نے تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کی اور اس میں بالاتفاق مشورہ دیا کہ مانچسٹر کے مطالبات قطعاً ناقابلِ قبول ہیں۔ اس زمانے میں لارڈ نارتھ بروک وائسرائے تھا، جس کے متعلق ہر شخص جانتا ہے کہ وہ مجسم فری ٹریڈ تھا، مگر وہ ابھی ایک مستقل ذریعہ آمدنی کو لنکاشائر پر قربان کر کے ملکی کاشتکار پر مزید بار ڈالنے کی بے انصافی نہ کر سکا۔ ۱۸۷۵ء میں اس نے نیا ٹیرف ایکٹ پاس کیا جس میں ۵ فی صدی محصول کو برقرار رکھتے ہوئے یہ رائے ظاہر کی کہ وہ کسی طرح بھی دیسی صنعت و تجارت کے لیے حفاظتی محصول نہیں ہے، البتہ لنکاشائر کی خاطر نیل، چاول، اور لاکھ کے سوا تمام چیزوں کی برآمد پر محصول معاف کر دیا اور لمبے ریشے والی روئی کی درآمد پر ۵ فی صدی محصول عائد کر دیا تاکہ ہندوستانی مل اعلیٰ درجہ کا کپڑا تیار کرنے کے لیے اسے نہ منگا سکیں۔ اس لیے نئے قانون کی رو سے ہندوستان کی آمدنی میں ۳۰۸۰۰۰ روپیہ کی کمی واقع ہوگئی، جسے پورا کرنے کے لیے غریب ہندوستانی محصول گزار پر مزید بار ڈالا گیا۔
۱۸۷۴ء میں لبرل گورنمنٹ مستعفی ہو چکی تھی اور مسٹر گلیڈ اسٹون کی جگہ مسٹر ڈسرائیلی (بعد میں لارڈ بیکنفیلڈ) نے کنزرویٹو وزارت مرتب کی تھی، اس نئی وزارت کے وزیر ہند لارڈ سالسبری، لنکاشائر کے بڑے حامیوں میں سے تھے، انھوں نے جولائی ۱۸۷۵ء میں وائسرائے کو لکھا کہ اگر آپ ۵ فی صدی محصول درآمد کو حفاظتی محصول تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں تو کم از کم اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس محصول کو عام طور پر ایسا ہی سمجھا جاتا ہے اور اس عام خیال کے سیاسی نتائج افسوس ناک ہوں گے، لہٰذا مناسب یہی ہے کہ جب مالی حالت آپ کو اجازت دے تو آپ سب سے پہلے ان محصولوں کو منسوخ کر دیں۔
لارڈ نارتھ بروک نے اس مشورہ کو تو قبول نہیں کیا مگر نئے ٹیرف ایکٹ میں سوتی مال کا تخمینہ قیمت میں کمی کر دی جس سے محصول میں مجموعی ۹ لاکھ کے قریب تخفیف ہو گئی۔ لارڈ سالسبری کے لیے محض اس اشک شوئی پر قناعت کرنا مشکل تھا۔ انھوں نے وائسرائے کے خود مختارانہ طرز عمل پر اعتراض کرتے ہوئے تجویز کی کہ سر لوئیس مالٹ نائب وزیر ہند کو محصول درآمد کی کامل تنسیخ پر غور کرنے کے لیے ہندوستان بھیجا جائے۔ اس پر وزیر ہند اور وائسرائے کے درمیان نہایت تلخ مراسلت شروع ہو گئی اور آخر ۱۸۷۶ء میں لارڈ نارتھ بروک نے استعفیٰ دیدیا۔ جو زیادہ تر اسی نزاع پر مبنی تھا۔ اس کے بعد لارڈ لٹن نیا وائسرائے ہو کر آیا، یہ علاوہ کنزرویٹو ہونے کے اپنی سیرت کے لحاظ سے بھی مضبوط آدمی نہ تھا۔ اس لیے سالسبری نے اُسے پہلے ہی دن سے دبانا شروع کیا اور متعدد مراسلات میں متنازعہ فیہ محصول کو منسوخ کرنے کی تحریک کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں قحط کی بلا نہایت سختی سے پھیلی ہوئی تھی اور غلہ کی گرانی نے ملک کی حالت حد درجہ خراب کر دی تھی چونکہ یہ عذر سالسبری کے نزدیک عذرِ لنگ تھا، اس نے معاملہ کو آگے بڑھایا اور ۱۱ جولائی ۱۸۷۷ء کو برطانوی دارالعوام میں حسبِ ذیل رزولیوشن پاس کیا گیا۔
”اس ایوان کی رائے میں سوتی مصنوعات کی درآمد پر ہندوستان میں جو محصول عائد کیا گیا ہے، وہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے حفاظتی محصول ہے اور معقول تجارتی پالیسی کے خلاف ہے، اس لیے ہندوستان کی مالی حالت جب اس کی اجازت دے تو اسے بلا توقف منسوخ کر دیا جائے۔"
لارڈ سالسبری نے اس رزولیوشن کو حکومت ہند کے پاس بھیجا اور اپنے مراسلہ میں ہندوستانی ملوں کی صنعت کے روز بروز ترقی کرنے کو اس طرح اندیشہ ناک لہجہ میں بیان کیا جیسے انگلستان پر حملہ کرنے کے لیے کوئی بڑی فوج تیار ہو رہی تھی۔ حقیقت میں ان کے لیے یہ خبر بہت تکلیف دہ تھی کہ پانچ ملیں اور جاری ہونے والی تھیں اور مارچ ۱۸۷۴ء کے خاتمہ پر ہندوستان میں ۱۲۳۱۲۸ تکلوں کے چل جانے کا اندیشہ تھا۔ [ گورنر جنرل باجلاس کونسل کا مراسلہ بنام لارڈ سالسبری مورخہ ۳۰ اگست ۱۸۷۷ء، بحوالہ دت جلد (۲) صفحہ ۴۱۱]
حکومت ہند کا رئیس اب لارڈ نارتھ بروک جیسا کوئی مستقیم الارادہ وائسرائے نہ تھا۔ لارڈ لٹن نہ مقابلہ کی قوت رکھتا تھا اور نہ یہ مقابلہ اس کی پالیسی کا کوئی جزو تھا۔ اس نے برطانوی سوتی مال کے ایک حصہ کو محصول سے مستثنیٰ کر دیا، جس سے ہندوستانی کپڑا مقابلہ کر سکتا تھا اور اس کی تقریباً ڈھائی لاکھ کی مزید آمدنی لنکاشائر پر قربان کر دی گئی، مگر مانچسٹر کے ایوانِ تجارت کے مطمئن کرنے کے لیے یہ بھی کافی نہ تھا، اس نے وزارتِ ہند پر بھی زور ڈالا کہ اس کے مطالبات کو کلیتہً تسلیم کر لیا جائے، آخر لٹن نے اپنے دورانِ حکومت کے سب سے زیادہ شرمناک فعل کا ارتکاب کیا۔ اس کی کونسل نکاشائر کے اشاروں پر حرکت کرنے کے لیے تیار نہ تھی ــــ سر اینڈریو کلارک سر الیگزنڈر آرتھ ناٹ، مسٹر تھامسن، اور مسٹر ہبٹی اسٹاکس نے تنسیخ محصول کی پالیسی پر سختی کے ساتھ اعتراضات کئے اور ہندوستان کی رائے عامہ نے اس پر سخت احتجاج کیا، مگر وائسرائے نے ان میں سے کسی کی پروا نہ کی اور وہ خود اپنی کونسل کے خلاف استثنائی اختیارات کو استعمال کر کے مارچ ۱۸۷۹ء میں نیا قانون پاس کر دیا جس کی رو سے وہ تمام سوتی مال معافی کی فہرست میں داخل کر دیا گیا جو ۳۰ نمبر کے تاگے سے زیادہ بہتر نہ ہو۔ یہ حرکت خود پارلیمنٹ کی خواہش سے بھی کچھ زیادہ تھی، کیونکہ اس کا ارتکاب اس وقت کیا گیا جب ہندوستان کی مالی حالت ہرگز اس کی متقاضی نہ تھی، جنوبی ہندوستان قحط کی مصیبت میں بدستور مبتلا تھا، شمالی ہندوستان کو قحط سے نکلے ہوئے پورا ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ بجٹ کے تخمینہ میں ۳۹۵۰۰۰۰ روپیہ کا گھاٹا آگیا تھا۔ نئے بندوبست کی رو سے مالگزاری میں اضافہ کیا گیا تھا، اور افغانستان کی مشکلات سے خرچ میں بہت زیادتی ہو گئی تھی۔
لارڈ لٹن کے بعد لارڈ رپن کے عہد میں جب امن و امان قائم ہوا تو حکومت ہند کے وزیر مال سر ایولن بیرنگ (بعد میں لارڈ کرومر) کو جس بات کی سب سے پہلے فکر ہوئی یہ تھی کہ بقیہ محصول درآمد کو بھی منسوخ کر دیں، چنانچہ انھوں نے ۱۸۸۲ء کے بجٹ کو نمک اور شراب کے سوا تمام حفاظتی محصول کے وجود سے پاک کر دیا۔ البتہ جس چیز کو ان کی عنایات میں سے کچھ بھی حصہ پانے کا حق نہ تھا، وہ غریب کسان کے مستزاد محاصل تھے جو ۱۸۷۷ء سے اس پر عائد کئے جا رہے تھے اور جن سے قحط کے زمانہ میں بھی چھٹکارا نہیں ملا تھا۔
بارہ سال تک یہی حالت رہی۔ اس دوران میں لارڈ ڈفرن اور لارڈ لینڈون کی غیر معقول فوجی پالیسی نے رپن کے قائم کئے ہوئے مالی توازن کو اس حد تک بگاڑ دیا کہ ۱۸۹۴ء کے بجٹ میں ۲ کروڑ سے زیادہ کا گھاٹا آیا۔ اس کو پورا کرنے کے لیے لارڈ ہرشل کے زیر صدارت ایک کمیٹی مقرر کی گئی اور اسے صرف یہ اختیار دیا گیا کہ مزید ٹیکس عائد کرنے کے امکانات پر غور کرے، کمیٹی نے مارچ ۱۸۹۳ء میں رپورٹ پیش کی، کہ محصول درآمد کو دوبارہ عائد کر دینے کے سوا اور کوئی ذریعہ ایسا نہیں ہے جسے اختیار کیا جاسکے، چنانچہ اسی مہینے میں ٹیرف ایکٹ پاس کیا گیا، جس میں سر رولن بیرنگ کے موقوف کردہ محصول دوبارہ نافذ کیئے گئے، مگر سوتی کپڑا بدستور معافی کی فہرست میں رہنے دیا گیا، اس پر کونسل میں اور اس کے باہر سخت نکتہ چینی کی گئی اور سوتی کپڑے کی معافی کو حکومت کے نامبارک ارادوں کی صریح علامت قرار دیا گیا۔ لارڈ الجن ان باتوں کا مقابلہ کرنے میں پرانا مشاق تھا۔ اس نے اسی سال دسمبر سے بجٹ میں سوتی کپڑے اور تاگہ پر ۵ فیصدی محصول عائد کر دیا مگر اس کے ساتھ ہی ہندوستانی ملوں کی پیداوار پر بھی ۵ فی صدی محصول لگا دیا گیا تا کہ لنکاشائر اور بمبئی دونوں ایک سطح پر آجائیں ۔
ظاہر ہے کہ لارڈ الجن کی یہ حرکت سخت قابل ملامت تھی، کیوں کہ اس نے ہندوستان میں حکومت برطانیہ کی نوعیت کو بالکل کھول کر رکھ دیا، مگر اس کے باوجود انگلستان کے جولاہوں میں عام ہیجان برپا ہوگیا۔ ۱۱ جنوری ۱۸۹۵ء کو پارلیمنٹ میں اس موضوع پر سخت مباحثہ ہوا اور اس میں سر ہنری فولر (وزیر ہند) نے صاف اعلان کیا کہ ’ملکہ معظمہ کی گورنمنٹ حکومت ہند کو حفاظتی بے انصافی سے احتراز کرنے کی طے شدہ پالیسی پر عمل کرنے کا مشورہ دے گی‘ ۷ دن بعد اسکاٹ لینڈ کے جلاہے اور رنگریز وفد لے کر وزیر ہند کے پاس پہنچے، چند روز بعد لنکاشائر والوں نے بھی اپنا وفد بھیجا اور سب نے مل کر زور لگایا کہ ’حفاظتی بے انصافی‘ کا فوراً استیصال کیا جائے۔ اسی زمانے میں لبرل گورنمنٹ ساقط ہوگئی۔ اور کنزرویٹیو پارٹی نے اپنی وزارت مرتب کی، جو لنکاشائر کے ساتھ پہلے سے عہد و پیمان کر چکی تھی۔ نئے وزیر ہند لارڈ جارج ہیملٹن نے قلم دان سنبھالتے ہی ستمبر ۱۸۹۵ء میں حکومت ہند کو لکھا کہ :
”ہندوستان اور برطانیہ دونوں کے لیے بہتر ہے کہ ہندوستانی بندرگاہ محصولِ درآمد سے آزاد رہیں، جس طرح ۱۸۸۲ء سے ۱۸۹۴ء تک آزاد تھے، لیکن ہندوستانی مالیات کی حالت گورنمنٹ کو ان محصولوں کے برقرار رکھنے پر مجبور ہی کرتی رہی، تو انھیں ایسے اصول پر قائم کرنا چاہیے کہ ان سے نہ تو حکومت کے وعدوں کی خلاف ورزی ہو اور نہ دائمی شکایات کا دروازہ کھلا رہے۔"
گویا یہ اس امر کا کھلا ہوا مشورہ تھا کہ ہندوستانی صنعت کو کچلنے کے لیے اس سے زیادہ بے انصافی کی ضرورت ہے اور اس شخص کے لیے اس قسم کے پایۂ انسانیت سے گرے ہوئے مشوروں کو قبول کرنا کچھ عجیب بھی نہ تھا جسے ملکی صنعت پر ڈیوٹی مقرر کرتے ہوئےکسی پاک جذبہ نے روکنے کی جسارت نہ کی تھی، چنانچہ جنوری ۱۸۹۶ء میں لارڈ ایلگن نے ہر قسم کے تاگے کو محصول درآمد سے معاف کر دیا۔ سوتی کپڑے کی درآمد کا محصول ۵ کے بجائے ۳ ۱/۲ فی صدی مقرر کیا، ہندوستان کے بنے ہوئے ادنیٰ سے ادنیٰ کپڑے پر بھی محصول عائد کر دیا گیا، اس قانون پر کونسل میں سختی کے ساتھ نکتہ چینیاں کی گئیں اور ہر اس شخص نے اس پر ملامت کی جو ذرہ برابر بھی انصاف کا جذبہ اپنے اندر رکھتا تھا، مگر وائسرائے کا فیصلہ تھا اور دنیا کا کوئی قانون اخلاق و انسانیت اسے مسترد نہ کر سکتا تھا۔ اس نے اپنی طے شدہ تجویز پر معمولی سا تغیر کرنا بھی پسند نہ کیا۔ اس موضوع پر لیجسلیٹو کونسل میں جو تقریریں ہوئیں انھیں یہاں پیش کرنا غیر ضروری طوالت ہے، مگر ناممکن ہے کہ کلکتہ کی یورپین تجارتی جماعت کے نمائندہ مسٹر پلے فیئر کی تقریر کا ایک حصہ درج کیے بغیر آگے بڑھا جا سکے، اس نے کہا تھا کہ :
"ہر قسم کی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ۲۰ نمبر سے نیچے درجہ کے تاگے کا بنا ہوا کپڑا جو ہندوستان کے کارخانوں میں تیار کیا جاتا ہے،نکا شائر کا کسی طرح بھی مقابلہ نہیں کر سکتا، مگر سوال یہ ہے کہ آخر ہندوستانی تجارت سے ایسا کون سا بڑا خطرہ لاحق ہو گیا ہے جس پر یہ سب کچھ شور و شغب مبنی ہے۔ اعداد و شمار کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں جو دخانی تکلے چلتے ہیں، وہ دنیا بھر کے تکلوں کا پچیسواں اور یہاں کے کرگھے دنیا کے کرگھوں کا آٹھواں حصہ ہے۔-
برطانیہ کے مقابلہ میں، جو دنیا کے کل تکلوں اور کرگھوں میں ۱/۳ کا مالک ہے، کیا ہندوستان اتنا حقیر حصہ پانے کا بھی مستحق نہیں ہے ؟ ...... موجودہ بل کی مجوزہ دفعات کے معنی یہ ہیں کہ آپ لنکاشائر کے مال پر ۴ فی صدی محصول کم کر کے ہندوستانی مال پر اس کے مقابلے میں ۳۰۰ فیصد کا اضافہ کر رہے ہیں۔"
وہ بے انصافی جو ۱۸۹۴ء میں کی گئی تھی، آج تک جاری ہے۔ ۱۶-۱۹۱۷ء میں جب کہ جنگ کے مصارف کا زبردست بار ہندوستان پر ڈالا گیا، تمام اشیاء درآمد پر محصول بڑھایا گیا، مگر کپڑا اس سے مستثنیٰ رہا۔ ۱۸-۱۷ء میں کپڑے کی درآمد پر بھی ۴ فی صدی کا اضافہ کیا گیا، مگر ہندوستانی ملوں کی ساخت پر سے ڈیوٹی منسوخ کرنے کی کوئی تجویز نہ سنی گئی، بلکہ ۲۲-۲۳ء میں اس کو دو چند کر دینے کا فیصلہ کر لیا گیا اور اگر لیجسلیٹو اسمبلی سختی کے ساتھ اس کی مخالفت نہ کرتی تو شاید ایسا کر بھی دیا جاتا۔-
اس افسوسناک پالیسی پر کسی تنقید کی ضرورت نہیں ہے، ہر شخص جو اس پر سرسری نظر ڈالے گا، اسے خود یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی کہ اس اعلان کی طے کردہ پالیسی پر کہاں تک عمل درآمد کیا گیا ہے جس میں "ہندوستان کی صنعتوں کو ترقی دینے" کی مبارک خواہش ظاہر کی گئی، دنیا کی تمام حکومتیں اپنے ملک کی صنعتوں کو ترقی دینے کے لیے صناعوں کی ہمت افزائی کرتی ہیں اور غیر ملکی مال پر محصول بڑھا کر ملکی مال کے لیے ہر قسم کی آسانیاں بہم پہنچائی جاتی ہیں، مگر یہاں اس ترقی کے بیان کردہ مقصد کے لیے غیر ملکی مال کو ترقی کے تمام مواقع بہم پہنچائے جاتے ہیں اور ملکی صناع پر سخت محصول عائد کرکے اس کی ہمت توڑنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا جاتا۔