ہندوستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب
اشاعت: 1922ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ مقالہ ہے جو انہوں نے محض اکیس برس کی عمر میں ۱۹۲۲ء میں تحریر کیا تھا۔ اس میں وہ تاریخی و اعداد و شمار کی روشنی میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح انگریزوں نے اپنی مخصوص حکمتِ عملی کے ذریعے ہندوستان کی صنعتی حیثیت کو بتدریج زرعی حیثیت میں تبدیل کر دیا، اور یہ کہ خود انگلستان کی صنعتی ترقی بھی بڑی حد تک ہندوستانی دولت ہی کی مرہونِ منت تھی۔
وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی دور سے لے کر انیسویں صدی تک ہندوستان کی شان دار صنعتی روایات، جنگِ پلاسی کے بعد کمپنی کی تجارتی و عسکری بالادستی، بنگال کے قحط اور مالگزاری کی بے رحمانہ وصولی، ملکی تجارت پر کمپنی کے حملوں، اور ناجائز محصولات کے ذریعے دیسی صنعت کو کچلنے کی پالیسیوں کو دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں بے نقاب کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تمہید
سرزمین ہند کی ۳۲ کروڑ آبادی میں ۷۱ فی صدی (یعنی تقریباً ۲۲ کروڑ) نفوس کی زندگی کلیتہً زراعت پر منحصر ہے اور باقی ۲۹ فی صدی میں وہ تمام لوگ شامل ہیں، جو دوسرے وسائل سے کسبِ معاش کرتے ہیں اور ان میں کاریگروں یا صناعوں کی تعداد صرف ۱۲ فی صدی ہے، لیکن جب اس تناسب کا مقابلہ انگلستان کے اہل صنعت سے کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ۵۸ فی صدی کاریگر لوگ ہیں اور صرف ۸ فی صدی ایسے ہیں جن کا ذریعۂ حیات زراعت ہے۔
یہ تقابل بجائے خود بہت افسوسناک ہے، لیکن ہندوستان کی صحیح اقتصادی کمزوری ظاہر کرنے کے لیے یہ بھی ناکافی ہے کیوں کہ اس سے آگے بڑھ کر جب ہم جزئیات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ہمارے ہاں کے صناع زیادہ تر وہ ہیں جو زندگی کی نہایت معمولی ضروریات کو بھی پورا نہیں کر سکتے اور ان کا بڑا حصہ ادنیٰ قسم کے دستکاروں کا ہے جیسے لوہار، بڑھئی، حلوائی، سُنار، درزی، رنگریز، کمہار وغیرہ۔ اس لیے حقیقی معنوں میں صناعوں کی تعداد یہاں صرف ۲ یا ۳ فی صدی ہے جو ملک کی پیداوار کو کارآمد مصنوعات میں تبدیل کرتے ہیں، مگر ان کی صنعت بھی اس قدر ادنیٰ درجہ کی ذہانت پر مبنی ہے کہ ہمیں ان کو وطنی صناعوں کی حیثیت سے پیش کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔
ہمارا ملک اپنی پیداوار کے لحاظ سے شاید دنیا کا سب سے زیادہ زرخیز ملک ہے، اس کی زمین اقتصادی دولتوں سے مالا مال، اس کی آب و ہوا تمام صنعتوں کے لیے موزوں، اس کے فطری خزانے معدنی، نباتی اور حیوانی مادوں سے اور اس کی آبادی محنت و استقامت کے لحاظ سے بہترین استعداد کی مالک ہے، مگر ان خدا کی بخشی ہوئی دولت اور قوتوں کو کام میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور ہماری حیثیت دنیا میں ایک ایسے شخص کی سی ہے جو اپنی خام پیداوار دوسروں کے ہاتھ ارزاں بیچ کر، پھر انہیں سے اس پیداوار کو زیادہ مہذب صورت میں گراں خریدنے پر مجبور ہوتا ہے گویا ہم صرف جوتنے بونے کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور دوسرے کاٹنے کے لیے۔
اس شرمناک حالت کی صحیح تصویر ہم کو اپنے ملک کی درآمد برآمد میں نظر آتی ہے؛ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اوسطاً ۹ لاکھ ٹن (ایک ٹن = ۲۸ من) روئی پیدا ہوتی ہے جس میں ۶ لاکھ ٹن باہر بھیج دی جاتی ہے اور پھر ۶۶ کروڑ کا کپڑا دوسرے ملکوں سے منگایا جاتا ہے، ہمارے ہاں ۷ کروڑ پونڈ اون نکلتا ہے جس میں سے تقریباً ۴، ۵ کروڑ پونڈ باہر بھیج دیا جاتا ہے اور اس کے مقابلے میں ۵ کروڑ ۳۵ لاکھ روپے کا اونی کپڑا غیر ملکی کارخانوں سے خریدا جاتا ہے۔ اسی طرح چمڑا ۴۵ ہزار ٹن کے قریب باہر جاتا ہے جس کی قیمت اوسطاً ۱۵ کروڑ ہوتی ہے اور روغنی بیجوں کی برآمد ۱۲ لاکھ ٹن کے قریب ہے جس کی قیمت ۲۶، ۲۷ کروڑ روپے ہوتی ہے، ان کے علاوہ ۴۵ کروڑ کا غلہ، ۳۶ کروڑ کا سن، ۱۰ لاکھ کا تمباکو، ایک کروڑ کا مسالہ اور انیس کروڑ کی چائے خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، اس کے مقابلے میں ان اشیاء کو دیکھیے جو دیگر ممالک سے ہمارے ہاں آتی ہے۔ مثلاً ۱۵ کروڑ کی شکر، ۲۳ کروڑ کی مشینیں، ۱۳، ۱۴ کروڑ کی موٹریں، ۴ کروڑ کے رنگ و روغن، پونے ۳ کروڑ کا کاغذ وغیرہ، ۶ کروڑ کے اوزار و برتن اور ۵ کروڑ کے اسبابِ زینت و آرائش۔۔
اس مختصر بیان سے یہ امر واضح ہوگیا ہو گا کہ ہمارا ملک محض خام مال مہیا کرنے کے لیے مخصوص ہے اور صنعتی حیثیت سے مہذب دنیا میں اسے ادنیٰ درجہ بھی حاصل نہیں ہے۔