مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

ہندوستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب

اشاعت: 1922ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ مقالہ ہے جو انہوں نے محض اکیس برس کی عمر میں ۱۹۲۲ء میں تحریر کیا تھا۔ اس میں وہ تاریخی و اعداد و شمار کی روشنی میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح انگریزوں نے اپنی مخصوص حکمتِ عملی کے ذریعے ہندوستان کی صنعتی حیثیت کو بتدریج زرعی حیثیت میں تبدیل کر دیا، اور یہ کہ خود انگلستان کی صنعتی ترقی بھی بڑی حد تک ہندوستانی دولت ہی کی مرہونِ منت تھی۔

وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی دور سے لے کر انیسویں صدی تک ہندوستان کی شان دار صنعتی روایات، جنگِ پلاسی کے بعد کمپنی کی تجارتی و عسکری بالادستی، بنگال کے قحط اور مالگزاری کی بے رحمانہ وصولی، ملکی تجارت پر کمپنی کے حملوں، اور ناجائز محصولات کے ذریعے دیسی صنعت کو کچلنے کی پالیسیوں کو دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں بے نقاب کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حکومتِ ہند کی موجودہ صنعتی پالیسی

کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے حکومت کی صنعتی پالیسی میں کچھ تغیر پیدا ہو گیا ہے اور اب وہ حقیقت میں ہندوستانی صنعتوں کو ترقی دینا چاہتی ہے۔ اب ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ یہ بیان کہاں تک واقعیت پر مبنی ہے۔ اس کے لیے ہمیں حکومتِ ہند کی موجودہ صنعتی پالیسی پر نظر ڈالنی چاہیئے۔

اگرچہ ہندوستان میں اٹھارویں صدی کے نصف آخر سے قحطوں کا سلسلہ برابر جاری تھا اور اس میں کروڑوں آدمیوں کی جانیں ضائع ہو چکی تھیں، مگر ۷۸-۱۸۷۷ء کا مشہور قحط اس قدر سخت تھا کہ اس کی نظیر ہندوستان کی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ اس قحط نے حکومت کی آنکھیں کھول دیں اور وہ ایک کمیشن مقرر کرنے پر مجبور ہوئی تاکہ قحط کے وجوہ اور اس کی سختی دور کرنے کے ذرائع کی تحقیق کرے۔ ۱۸۸۰ء میں یہ کمیشن سر رچرڈ اسٹریچی کے زیر صدارت بیٹھا اور اس نے کامل تلاش و تحقیق کے بعد ایک طویل رپورٹ پیش کی، جس میں قحط کا ایک سب سے بڑا سبب ملکی صنعتوں کی معدومیت کو قرار دیتے ہوئے سفارش کی گئی تھی کہ ان میں نئے سرے سے جان ڈالنے کی کوشش کی جائے۔ اس رپورٹ کے فقرہ نمبر ۱۰۳ میں کمیشن نے لکھا ہے کہ :

”ہندوستان میں قحطوں کی ہولناک مصیبت کا بڑا سبب اور قحط زدہ لوگوں کی اعانت میں مشکلات حائل ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملکی آبادی کا عنصر غالب کلیتہً زراعت پر زندگی بسر کرتا ہے، اس لیے جب بارش کسی سال کم ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی تو عام باشندوں جن کا اور کوئی ذریعۂ معاش زراعت کے سوا نہیں ہے، فصل کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں اور محنت پیشہ طبقہ کے پاس اتنا روپیہ نہیں ہوتا کہ مہنگا غلہ خرید کر اپنا پیٹ پالے۔ اس افسوسناک صورت کا علاج صرف یہ ہے کہ صنعتوں کو ترقی دی جائے اور زراعت کے علاوہ دوسرے پیشوں کو ترقی دے کر موسمی اتار چڑھاؤ کے برے اثرات کو کم کر دیا جائے۔"

اس کے بعد جب ۱۸۹۹-۱۹۰۰ء کا مشہور قحط پڑا تو گورنمنٹ نے لارڈ اس وقت سر میکڈانلڈ کی زیر صدارت پھر ایک کمیشن مقرر کیا اور اس نے بھی اپنے پیشرو کی تائید کرتے ہوئے اعتراض کے لہجے میں کہا کہ "جہاں تک محض اشک شوئی کا تعلق ہے ہم نے اب تک بہت کچھ کیا ہے مگر قحطوں کے روکنے کی اصل تدابیر پر عمل کرنے میں ہمارا ہاتھ بہت کچھ سست ہے"۔ اسی زمانے میں ہندوستان کی قومی خواہشات کو ظاہر کرنے کے لیے نیشنل کانگریس قائم ہو چکی تھی اور وہ اپنے ہر اجلاس میں ملک کی صنعتی احیاء کے لیے گورنمنٹ سے استدعا کرتی تھی۔ خود گورنمنٹ کے بھی متعدد ارکان اس ضرورت پر زور دے رہے تھے کہ حکومت کو ابتداً صنعتی کوششوں میں اپنی قوت سے مدد دینی چاہیے۔ ان تمام باتوں نے حکومت کو ایک حد تک مجبور کیا اور ۱۸۸۰ء میں تعلیمی حالت اور اس کی آئندہ ترقی کے امکانات پر غور کرنے کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا گیا جس نے صنعتی تعلیم پر توجہ دینے کی پرزور سفارش کی۔ ۱۸۸۷ء میں رائل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ہندوستان کے مادی وسائل کو ترقی دینے کی ضرورت پر حکومت کو خاص طور سے توجہ دلائی۔ ۱۸ جون ۱۸۸۸ء کو حکومت ہند نے اپنے ایک ریزولیوشن میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اب تک ہندوستان کی تعلیم کلیۃً ادبی علوم تک محدود رہی ہے اور اب اس میں صنعتی علوم و فنون کا اضافہ کرنے کی سخت ضرورت ہے، اس کے ساتھ ہی مقامی حکومتوں کو ہدایت کی گئی کہ اپنے اپنے صوبوں میں صنعت کی ہمت افزائی کے لیے ضروری کارروائی عمل میں لائیں۔ ۱۹۰۱ء میں لارڈ کرزن نے ایک کانفرنس تعلیمی امور پر غور کرنے کے لیے منعقد کی، جس کا ایک اہم مقصد اعلیٰ تعلیم میں ایسی ترمیم کرنا تھا کہ وہ زیادہ عملی اور کارآمد بن جائے۔ اس کانفرنس کی تجاویز کا ایک عملی نتیجہ یہ تھا کہ صنعتی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہندوستانی طلبا کو یورپ اور امریکہ بھیجنے کی ابتدا کی گئی اور اس کے لیے ۱۵۰ پونڈ سالانہ کی رقم مقرر کی گئی۔ صوبۂ متحدہ اور مدراس چند قدم اور آگے بڑھا، یعنی مدراس نے حکومت کی نگرانی میں المونیم کا کارخانہ قائم کیا، جو تھوڑی مدت تک کامیابی کے ساتھ چلتا رہا۔ صوبۂ متحدہ نے بھی دو چار کارخانے قائم کیے اور شکر سازی کے بعض کارخانوں کو مدد دی گئی۔ ان کے علاوہ متعدد صوبوں نے اپنے ہاں ڈائرکٹر آف انڈسٹریز کا عہدہ قائم کیا اور خود حکومتِ ہند نے بھی ۱۹۰۵ء میں امپیریل ڈیپارٹمنٹ آف کامرس اینڈ انڈسٹریز قائم کر دیا۔ مگر سرجان ہیوٹ (سابق لفٹننٹ گورنر صوبۂ متحدہ) کے بقول "صنعتی و حرفتی تعلیم کے مسئلہ پر شاید تمام مسائل سے زیادہ بحث کی گئی ہے لیکن عملی کوشش کے لحاظ سے اسی پر بہت کم توجہ ہوئی۔"

حکومت کی صنعتی پالیسی میں ہمیشہ یہی خیال غالب رہا ہے کہ تعلیم میں آسانیاں بہم پہنچانے سے زیادہ اور کوئی کوشش اس کے دائرۂ عمل میں داخل نہیں ہے۔ اور یہ "تعلیم میں آسانی بہم پہنچانے" کا فرض بھی جس طرح پورا کیا گیا ہے اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس کے لیے صرف ۲۲۵۰ روپیہ سالانہ کے وظائف مقرر کیے گئے جس سے ۲۰ سال کے اندر بمشکل ۱۰۰ طلباء نے فائدہ اٹھایا۔ اس کے علاوہ ۱۹۰۴ء میں بنگال کی ایک ایسوسی ایشن کو ۵۰۰۰ روپیہ سالانہ رقم دینی منظور کی گئی جس کا مقصد اس قسم کی تعلیم کے لیے نوجوانوں کو امریکہ اور جاپان بھیجنا تھا۔ مگر جنگ چھڑتے ہی سب سے پہلی وہ مد جس میں نصف کی کمی کرنا ضروری سمجھا گیا، یہی تھی ۔[یہ تمام اقتباسات انڈین انڈسٹریل کمیشن ۱۸-۱۹۱۶ء کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔]

حکومت کی صنعتی پالیسی کو زیادہ واضح کرنے کے لیے اس واقعہ کا اظہار ضروری ہے کہ جب حکومت مدراس نے زیادہ عملی طریقوں سے اپنے صوبہ کی صنعت و حرفت کو ترقی دینے کے لیے ایک اسکیم تیار کر کے وزیر ہند (لارڈ مارلے) کے پاس بھیجی تو اس نے لکھا کہ:

”نئی صنعتوں کو جاری کرنے کے لیے جو کوششیں کی گئی ہیں، ان کے نتائج میرے اس شک کو رفع کرنے میں قطعا ناکام ہوئے ہیں جو میں اس بارے میں حکومت کے عملی حصہ لینے کی ضرورت کے متعلق رکھتا ہوں۔ الا بایں صورت کہ ان کوششوں کو تجارتی شکل اختیار کرنے سے روکنے اور محض حرفتی تعلیم تک محدود رکھنے کی سختی کے ساتھ کوشش کی جائے ۔“ [ لارڈ مارلے کا مراسلہ نمبر ۵ شعبہ ریونیو مورخہ ۲۹ جولائی ۱۹۱۰ء]

مارلے نے اپنے اس مراسلے میں حکومت ہند اور مقامی حکومتوں کو سختی کے ساتھ تاکید کرتے ہوئے صرف اتنی اجازت اور دی کہ جن فنون کو محض کتابی تعلیم سے اچھی طرح نہیں سکھایا جا سکتا، ان کی مشینیں منگائی جا سکتی ہیں مگر ”یہ خیال رہے کہ ان سے محض تجربہ ہی کا کام لیا جائے۔“[ لارڈ کریو کا مراسلہ ۲۴ شعبہ ریونیو مورخہ ۱۲ مارچ ۱۹۱۲ء] ظاہر ہے کہ یہاں پہلے ہی نمائشی حرارت پیدا ہوتی تھی اس پر جب اوپر سے پانی ڈال دیا گیا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ پھر یہ حرارت کسی درجہ میں بھی باقی رہتی، انڈین انڈسٹریل کمیشن کے الفاظ میں اس پالیسی کا اثر یہ ہوا کہ حکومتِ ہند شعبہ صنعت و حرفت پر صرف کرنے کے لیے اتنی رقم بھی اپنے بجٹ میں نہ نکال سکی، جس سے لارڈ مارلے کے محدود نقطۂ نظر ہی کے مطابق کوئی عملی کارروائی کی جاتی۔ [انڈسٹریل کمیشن رپورٹ صفحہ ۸۰]

اس پالیسی کا نیا دور اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب ۱۹۱۴ء میں جنگِ عظیم کا آغاز ہوا۔ یورپ، افریقہ اور ایشیا، تینوں براعظموں میں دفعتاً ایک زبردست جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے جزائر برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان آمد و رفت کا سلسلہ بڑی حد تک منقطع ہو گیا اور وسطِ یورپ کی سلطنتوں کے مقابلے میں برطانوی قوم پر مشکلات کا بہت بڑا بار پڑ گیا، ان کٹھن گھڑیوں میں ایک طرف حکومتِ ہند یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوئی کہ ایک خالص زراعتی ملک ہندوستان جنگ کے مواقع پر اپنی حفاظت سے کس قدر عاجز ہے اور دوسری طرف حکومت کی آنکھیں کھل گئیں کہ اُس نے برطانوی صنعت پر ہندوستان کی بھینٹ چڑھا کر اپنے آپ کو ہندوستان جیسے زرخیز ملک کے فوائد سے محروم کر لیا ہے، یہ احساس ہم کو زمانہ جنگ کی تمام سرکاری تحریروں میں نمایاں نظر آتا ہے۔

۲۶ نومبر ۱۹۱۵ء کو لارڈ ہارڈنگ نے وزارتِ ہند کے نام اپنے ایک مراسلہ میں اس مسئلہ پر زور دیا کہ حکومت کو اپنی صنعتی پالیسی میں اصولی تغیر پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

”یہ حقیقت روز بروز روشن تر ہوتی جاتی ہے کہ ہندوستان کی صنعتی قابلیت کو ترقی دینے کے لیے ایک مکمل اور خود شناس پالیسی اختیار کرنا اختتام جنگ کے بعد ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس اہم مسئلہ پر ہندوستانی پبلک کا رویہ بالکل متحد ہے اور ہرگز نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔ دستکار، اہل سیاست اور عام تعلیم یافتہ طبقے ایک عرصہ سے ملکی صنعت کی ترقی کے لیے حکومت کی اعانت کا مطالبہ کر رہے ہیں، لہذا ہم کو ایک ایسی صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے جو ہندوستان میں ٹیکنیکل تعلیم کے بہتر نتائج پیدا کرنے کے قابل بنائے اور خالص ادبی نصاب تعلیم پر ضرورت سے زیادہ دباؤ کو ہلکا کرکے سرکاری ملازمتوں میں داخل ہونے کی بڑھتی ہوئی خواہش کو کم کر دے، جو اس قسم کے نصاب سے قدرتاً پیدا ہوتی ہے..... جنگ کے بعد ہندوستان اپنے آپ کو اس مدد کا پورا مستحق سمجھے گا جو حکومت کی طرف سے اُسے ایک صناع کی حیثیت حاصل کرنے کے لیے دی جا سکتی ہے۔"

مئی ۱۹۱۶ء میں لارڈ چمسفورڈ کی گورنمنٹ نے ایک صنعتی کمیشن مقرر کیا جس کا مقصد یہ تحقیق کرنا تھا کہ ہندوستانی سرمایہ کو فائدہ مند صنعت و تجارت میں کیوں کر لگایا جا سکتا ہے اور گورنمنٹ کے لیے کن صورتوں سے ملکی صنعت کو ترقی دینا ممکن ہے۔ اس کمیشن نے ۱۹۱۸ء تک تحقیقات کرنے کے بعد ایک رپورٹ پیش کی جس کی تجاویز کے بنیادی اصول میں ایک یہ تھا کہ "گورنمنٹ کو آئندہ سے ملکی صنعتی ترقی میں حصہ لینا چاہیئے تاکہ آدمیوں اور سامان کے اعتبار سے وہ دوسرے ملکوں کا محتاج نہ رہے۔" اس کے بعض فقرے قابلِ مطالعہ ہیں۔ ہندوستانی صنعت کی کوتاہی کا ذکر کرتے ہوئے اہلِ کمیشن لکھتے ہیں کہ :

" وہ صنعتیں جو صلح و جنگ دونوں حالتوں میں ملک کے لیے ضروری ہونے کے باوجود یہاں رائج نہیں ہیں ان کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ اس رپورٹ میں درج نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک انھیں معقول پیمانہ پر جاری نہ کیا جائے گا ہندوستانی سرمایہ دار زمانہ امن میں حصولِ دولت کے بہت سے ذرائع سے محروم رہے گا اور زمانہ جنگ میں بحری راستے بند ہو جانے کے باعث ہندوستان کی موجودہ صنعتیں کامل تباہی کے خطرہ میں مبتلا ہو جائیں گی۔ اس کے باشندے سخت تکلیف اٹھائیں گے اور اس کی فوجوں کو زبردست امکانی خطرات کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ [ رپورٹ کمیشن صفحہ ۵۵]

کمیشن نے ہندوستان کی موجودہ صنعتی کمزوری، ترقی کرنے کی صلاحیت اور اب تک اس بارے میں حکومت کی غفلت پر ایک مفصل تبصرہ کرنے کے بعد ایک اسکیم پیش کی جو مرکزی اور مقامی حکومتوں کے صنعتی محکموں کی تنظیم کے متعلق نہایت مکمل تجاویز پر مشتمل تھی۔

اسی زمانے میں مسٹر مانٹیگو (سابق وزیر ہند) اگست ۱۹۱۷ء کی اعلان کردہ پالیسی کے مطابق آئینی اصلاحات کے متعلق ہندوستان کے حالات کا مطالعہ کرنے کے لیے ہندوستان آئے اور انھوں نے چمسفورڈ (سابق وائسرائے) کے ساتھ مل کر اپنی رپورٹ مرتب کی، جو مانٹفورڈ فارم اسکیم کے نام سے ایک زمانہ تک زباں زدِ خلائق رہ چکی ہے۔ اس رپورٹ میں نہایت وضاحت کے ساتھ صنعتی پالیسی کے تغیر پر زور دیا گیا اور یہ بات تسلیم کی گئی کہ حکومت کو ملک کے صنعتی احیاء میں حصہ لینے کی سخت ضرورت ہے، اس کے فقرہ نمبر ۳۳۴ میں ہم کو یہ الفاظ نظر آتے ہیں :

”ہم کسی دوسری جگہ لکھ چکے ہیں کہ حکومت کے دائرۂ عمل کی تجدید کے متعلق انگریزی نظریے ہندوستان کے لیے قابل اطلاق نہیں۔ ہم کو یقین ہے کہ ہماری یہ رائے صنعتی پالیسی کے متعلق بھی بالکل درست ہے اور اگر اس ملک کے وسائل کو ترقی دینے کی ضرورت ہے تو حکومت کو آگے بڑھ کر کام کرنا چاہیے۔“

فقرہ ۳۳۶ میں لکھا ہے کہ :

”ہر حیثیت سے صنعتی ترقی کے لیے ہم کو ایک پیش پیش پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، نہ اس غرض سے کہ ہندوستان کا اقتصادی درجہ بلند کیا جائے، بلکہ اس لیے بھی کہ اہل ہندوستان کی خواہشوں کو پورا کیا جائے جو اپنے ملک کو دنیا میں ترقی یافتہ درجہ پر دیکھنے کے لیے بے چین ہیں، اور اس لیے بھی کہ ہندوستانی نوجوانوں کی ہمت و استعداد کے لیے ایک بڑا میدان عمل پیدا کیا جائے جو اب تک صرف حکومت کی ملازمتوں یا چند ملازمتوں پر اپنی توجہ صرف کر رہے ہیں اور اس لیے بھی کہ ہندوستانی افکار کے تجارتی میلان کو زیادہ عملی مقاصد کی طرف راجع کیا جائے اور اہل ملک میں اُن کی ذمہ داریوں کے برداشت کی زیادہ صلاحیت پیدا کی جائے جنھیں نیا آئینِ حکومت ان پر ڈالنے والا ہے۔“

آگے چل کر دوسرے فقرے میں وہ لکھتے ہیں کہ :

یہ تو سیاسی پہلو تھا جو زیادہ تر ہندوستان سے متعلق تھا، مگر ہماری رائے میں شاہی حکومت کے مصالح بھی اقتصادی و عسکری

حیثیت سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ سے ہندوستان کے وسائل زیادہ مفید طریقے پر استعمال کرنے چاہئیں۔ ہم اندازہ نہیں کر سکتے کہ صناع ہونے کی حیثیت سے ہندوستان سلطنت کی قوت میں کس قدر زیادہ استحکام پیدا کر دے گا۔

موجودہ جنگ عظیم نے اقتصادی محاربہانہ اہمیت کو بھی پوری طرح روشن کر دیا ہے، ہم جانتے ہیں کہ بحری آمد و رفت میں عارضی طور پر خلل واقع ہو جانے کا امکان ہمیں مجبور کر رہا ہے کہ مشرقی میدان کارزار میں ہندوستان پر ایک جنگی مرکز کی حیثیت سے اعتماد کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کل ایک صنعتی حیثیت سے ترقی یافتہ جماعت کے نتائج عمل نے ہمارے سامان جنگ کی فہرست میں حاکمیت کے لحاظ سے نہیں تو تنوع کے لحاظ سے جو اضافہ کیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے ہندوستان کے قدرتی ذرائع کو ترقی دینا امور حربیہ کی ایک اہم ضرورت معلوم ہوتی ہے ۔“

مگر افسوس ہے کہ یہ تمام باتیں صرف اظہارِ خیال تھا، کیوں کہ حقیقت میں حکومت کی صنعتی پالیسی نے اب تک کوئی تغیر اپنے اندر پیدا نہیں کیا۔ عین حالت جنگ میں جبکہ یہ باتیں کہی جا رہی تھیں، جس وقت ہندوستان پر ۱۰ کروڑ پونڈ کا بار ڈالا گیا اور اسے اٹھانے کے لیے حکومت ہند نے سوتی کپڑے کی درآمد پر محصول دو چند کر دینے کا ارادہ کیا تو لیبر پارٹی، آئرش نیشنلسٹ پارٹی اور لنکا شائر کے ووٹوں کی مجموعی قوت نے حکومت انگلستان پر اس کے خلاف دباؤ ڈالا، مسٹر الیکوسٹیتھ جیسے مدبر نے ان کی تائید کی اور آخر وزارت ہند اس کارروائی کو روک دینے پر مجبور ہوئی، خود مسٹر مانٹیگو اور لارڈ چمسفورڈ نے بھی جن کی پرزور وکالت کا حال آپ ابھی پڑھ چکے ہیں، عملی حیثیت سے اگر کچھ کیا تو صرف یہ کہ ہندوستان کی مالی پالیسی کو اس حکومت کے ہاتھ میں چھوڑ دیا جو پارلیمنٹ اور وزیر ہند کے سامنے جواب دہ ہے اور اس لیے لنکاشائر والوں کے مصالح کو ہندوستان کے مصالح پر ترجیح دینے کے لیے مجبور ہو گئے۔

جنگ کے زمانے میں ہم سے کہا جاتا تھا کہ یہ وقت خطرہ کا ہے اس لیے اب جو کچھ تجویزیں کی جا رہی ہیں ان پر اختتام جنگ کے بعد عمل کیا جائے گا۔ ہم نے اس پر یقین کیا اور امیدیں قائم کر لیں کہ توپ خانوں کی واپسی کے بعد کارخانوں کی چمنیاں بلند ہونی شروع ہو جائیں گی، مگر ورسیلز سے امن کا پیغام آنا تھا کہ وہی پچھلا سا دور شروع ہو گیا۔

اب اگرچہ صنعت و حرفت کے لیے بڑے بڑے محکمے قائم ہو گئے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے صنعتوں کی ہمت افزائی میں اگر کوئی کوشش کی جاتی ہے تو صرف یہ کہ ملوں کی پیداوار پر دو چند محصول عائد کرنے کا ارادہ کیا جاتا ہے اور ضروریات حکومت کے لیے سامان خریدنے میں برطانوی صناع کی پوری رعایت کی جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ حکومت اپنی تائید میں دو چار مثالیں ہمارے سامنے پیش کر سکے، مگر ان لوگوں کی نگاہ میں ان مثالوں کی کیا وقعت ہو سکتی ہے جو جرمنی و جاپان کی مثالوں کو دیکھ کر اور خود انگلستان کی صنعتی و تعلیمی تاریخ کا مطالعہ کر کے واقف ہو گئے ہیں کہ حکومت کی اعانت سے ملکوں کی کیونکر قلب ماہیت ہو جاتی ہے۔

آج سے ۵۰ سال قبل جاپان اپنی تعلیمی، صنعتی، حتیٰ کہ زرعی حیثیت سے بھی ہمارے مقابلے میں بہت گرا ہوا تھا۔ مگر اب وہ اپنے روشن خیال حکومت کی بدولت اس قدر ترقی کر گیا ہے کہ امریکہ و انگلستان کے بعد دنیا میں کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔

اب سے ۶۰ سال پہلے جرمنی ہم ہی جیسا ایک زراعتی ملک تھا اور اس کی آبادی میں ۷۵ فیصدی باشندے زمین کی قوتِ نامیہ پر اپنی زندگی بسر کرتے تھے مگر ہوہنز ولرن خاندان کی کامیاب رہنمائی کا آج ہم یہ نتیجہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ دنیا کے صنعتی ملکوں کی پہلی صف میں ہے۔

۱۸۸۰ء سے قبل انگلستان کی حالت یہ تھی کہ پیرس اور لندن کی نمائشوں میں جرمنی اور فرانس کے مقابلے میں اپنی صنعتی پستی کو دیکھ کر انگریز قوم کا دل بیٹھ گیا تھا مگر ابتدائی تعلیم کا قانون پاس ہونے کے بعد جو زبردست انقلاب وہاں پیدا ہوا اس کے حیرت انگیز نتائج برطانوی قوم کے صنعتی تفوق کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہیں۔ کیا ہماری حکومت ان مثالوں کے سامنے اپنے نتائج عمل پیش کر سکتی ہے؟

یہ ہندوستان کی ایک صد و پنجاہ سالہ اقتصادی تاریخ کا ایک باب ہے جسے قارئین کرام کی آسانی کے لیے امکانی اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، اس پر کسی افتتاحی تبصرہ کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر شخص کی طبع سلیم خود نتیجہ نکال سکتی ہے البتہ اگر کچھ میں کہنا چاہتا ہوں تو وہ صرف یہ کہ اس پوری تاریخ کا مطالعہ مِل کے اس قول کی گہری صداقت کو واضح کرتا ہے جس میں اس نے ظاہر کیا تھا کہ:

”ایک قوم کی حکومت خود اپنے آپ پر ایک معنی رکھتی ہے اور حقیقت۔ مگر ایسی لایعنی چیز جیسے ایک قوم کی حکومت دوسری قوم پر نہ قائم رہتی ہے اور نہ رہ سکتی ہے، ایک قوم اگر دوسری قوم پر حکومت کرتی ہے تو صرف اپنے فائدہ کے لیے اور صرف اس لیے کہ اُسے جلبِ زر کا ذریعہ بنائے۔“