ہندوستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب
اشاعت: 1922ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ مقالہ ہے جو انہوں نے محض اکیس برس کی عمر میں ۱۹۲۲ء میں تحریر کیا تھا۔ اس میں وہ تاریخی و اعداد و شمار کی روشنی میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح انگریزوں نے اپنی مخصوص حکمتِ عملی کے ذریعے ہندوستان کی صنعتی حیثیت کو بتدریج زرعی حیثیت میں تبدیل کر دیا، اور یہ کہ خود انگلستان کی صنعتی ترقی بھی بڑی حد تک ہندوستانی دولت ہی کی مرہونِ منت تھی۔
وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی دور سے لے کر انیسویں صدی تک ہندوستان کی شان دار صنعتی روایات، جنگِ پلاسی کے بعد کمپنی کی تجارتی و عسکری بالادستی، بنگال کے قحط اور مالگزاری کی بے رحمانہ وصولی، ملکی تجارت پر کمپنی کے حملوں، اور ناجائز محصولات کے ذریعے دیسی صنعت کو کچلنے کی پالیسیوں کو دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں بے نقاب کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
انحطاط کی ابتداء
ہندوستانی صنعتوں کے انحطاط کا زمانہ اٹھارویں صدی کے درمیانی عہد سے شروع ہوتا ہے۔ ۱۷۰۷ء میں اورنگ زیب کا انتقال گویا ہندوستان کی خوشحالی اور خود مختاری کے لیے پیام موت تھا۔ اورنگ زیب کی ذات ایک ایسا مضبوط رشتہ تھا جس نے ملک کے تمام اجزاء کو باہم جوڑ رکھا تھا اور اس کے ٹوٹتے ہی تمام دانے ایک ایک کرکے بکھر گئے۔ سارا ہندوستان طوائف الملوکی و خانہ جنگی کی دوزخ بن گیا، نئی نئی قومیں و ولولہ حکمرانی لیے ہوئے ابھرنے لگیں ایک ایک صوبہ میں خود مختاری کی ہوا چلنے لگی اور جس کو جہاں موقع ملا بزور شمشیر قابض ہو گیا۔
اس ہنگامہ کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ ملک کا امن مفقود ہو گیا اور صنعت و تجارت جس کے لیے امن پہلی شرط ہے زوال پذیر ہونے لگی، مگر جیسا کہ برک نے لکھا ہے ایک چیز نے اس نقصان کی بڑی حد تک تلافی کر دی تھی، یعنی مغل اعظم کی زبردست سلطنت کی جگہ مختلف علاقوں میں جو چھوٹی بڑی ریاستیں قائم ہوئیں وہ سب کی سب دیسی صنعت کی قدر دان تھیں۔ بنگال میں مرشد قلی خاں کا خاندان، اودھ میں شجاع الدولہ کا گھرانہ، حیدر آباد میں دربار آصف جاہی، یہ سب اپنی قدر دانیوں کے اعتبار سے دولت مغلیہ کے جانشین تھے، خود مرہٹے بھی جن کا نقطہ نظر چوتھ وصول کرنے کے سوا اور کچھ نہ تھا، اپنے علاقوں میں دستکاروں کی سرپرستی کرتے تھے۔ بادشاہ دہلی کا دربار گو صرف گزشتہ عظمت و شان کے مٹے ہوئے نشان سے زیادہ حیثیت نہ رکھتا تھا مگر پھر بھی اکبر و جہانگیر کے فرزندوں کا دربار تھا اور وہاں کی رنگ ریلیوں میں بھی مقامی رنگ زیادہ جھلکتا تھا، اور جو دولت یوں بے دریغ صرف ہو رہی تھی وہ لنکا شائر نہ جاتی تھی بلکہ اس سے وطنی صنعت کی آبیاری ہوتی تھی۔