مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

ہندوستان کا صنعتی زوال اور اس کے اسباب

اشاعت: 1922ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ مقالہ ہے جو انہوں نے محض اکیس برس کی عمر میں ۱۹۲۲ء میں تحریر کیا تھا۔ اس میں وہ تاریخی و اعداد و شمار کی روشنی میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح انگریزوں نے اپنی مخصوص حکمتِ عملی کے ذریعے ہندوستان کی صنعتی حیثیت کو بتدریج زرعی حیثیت میں تبدیل کر دیا، اور یہ کہ خود انگلستان کی صنعتی ترقی بھی بڑی حد تک ہندوستانی دولت ہی کی مرہونِ منت تھی۔

وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی دور سے لے کر انیسویں صدی تک ہندوستان کی شان دار صنعتی روایات، جنگِ پلاسی کے بعد کمپنی کی تجارتی و عسکری بالادستی، بنگال کے قحط اور مالگزاری کی بے رحمانہ وصولی، ملکی تجارت پر کمپنی کے حملوں، اور ناجائز محصولات کے ذریعے دیسی صنعت کو کچلنے کی پالیسیوں کو دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں بے نقاب کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

۱۸۵۹ء اور ۱۸۶۹ء کے درمیان ہندوستان کی کل برآمد :

[غلہ کی برآمد کے متعلق اس قدر اور کہنے کی ضرورت ہے کہ یہ 'غدر' کے بعد سے برابر ترقی کرتی رہی اور شدید قحط کے زمانے میں بھی کبھی نہیں رکی ۱۸۶۱ء اور ۱۸۶۰ء کا زمانہ ہندوستان میں سخت قحط کا گزرا ہے مگر اس کے باوجود پہلے سال ۳۷ لاکھ اور دوسرے سال ۴۰ لاکھ پونڈ کا غلہ باہر بھیجا گیا جو ۱۸۵۹ء اور ۱۸۵۸ء کے مقابلہ میں ۱۱ لاکھ اور ۳۰ لاکھ کے قریب زیادہ تھا اسی طرح ۱۸۹۶ء، ۱۸۹۷ء اور ۱۹۰۰ء کا زمانہ بڑے سخت قحط کا تھا مگر پہلے سال ۲،۲۰،۱۲۰ دوسرے سال تقریباً دو کروڑ اور تیسرے سال ڈیڑھ گنا اور دوگنا زائد تھا۔]

*

*

*

یہ تفاوتِ عظیم کس قدر قابل افسوس ہے کہ ایک خالص صنعتی ملک جو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد دنیا بھر کے مہذب ممالک کو اعلیٰ درجہ کی مصنوعات بہم پہنچاتا تھا، تیس چالیس سال کے اندر ہی اس کی یہ نوبت پہنچ گئی کہ اپنے ہاں کی خام پیداوار کو دوسروں کے ہاتھ بیچنے لگا اور اس میں معمولی سوئی تک بنانے کی قابلیت باقی نہ رہی۔ یہ وہی ملک تھا جس کے متعلق برنیر نے کہا تھا کہ "آج اس میں ہر طرف سے سونے چاندی کی نہریں بھی چلی آرہی ہیں اور مشکل سے ایک راستہ باہر نکلنے کے لیے کھلا ہے"۔ مگر آج "سیاسی بے انصافی" کے صدقہ سے اسی ملک کا یہ حال ہے کہ دولت کے باہر نکلنے کی تمام سوت کھلے ہوئے ہیں اور آنے کا کوئی سوت باقی نہیں ہے۔

یہ ایک ایسی بے انصافی تھی جس پر ہمیشہ انصاف پسند انگریزوں نے افسوس کیا ہے۔ ۱۸۴۰ء میں دارالعوام نے ایک سلیکٹ کمیٹی خاص ہندوستانی صنعتوں کے متعلق تحقیقات کرنے کے لیے بنائی تھی، اس کے سامنے جو شہادتیں پیش ہوئیں ان میں سے بعض بہت سبق آموز ہیں۔ سر چارلس ٹریویلیین جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہندوستان کے خاص ہمدردوں میں سے تھا، اس نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ :

” وہ اعلیٰ درجہ کی ریشم نما روئی جس سے ڈھاکہ کی ململ تیار کی جاتی تھی، آج کہیں دیکھنے کو بھی نہیں ملتی ڈھاکہ جو کسی زمانہ میں ۱۵۰۰۰۰ کی بستی تھی اب مشکل سے تیس چالیس ہزار کا قصبہ رہ گیا ہے، جس پر ہر وقت ملیریا کی ہوا چھائی رہتی ہے۔ اب ہندوستان میں جو سوتی کپڑا تیار ہوتا ہے وہ بہت بدنما اور بھدا ہے۔ آبادی کا زیادہ حصہ انگریزی کپڑا پہنتا ہے، البتہ وہ لوگ جو بہت ہی غریب ہیں دیسی کپڑا استعمال کرتے ہیں۔ ڈھاکہ جو کبھی ہندوستان کا مانچسٹر تھا، اب ایک پر رونق شہر کے بجائے اجڑی ہوئی بستی رہ گیا ہے جہاں کے باشندوں پر سخت افلاس مسلط ہے ۔“ [IREVELYAM EVIDENCE: ECONOMIC HISTORY OF INDIA VOL.IP.105 1.]

مسٹر لار پنٹ ایسٹ انڈیا ایسوسی ایشن کے صدر نے اپنا بیان دیتے ہوئے، مسٹر شور کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ :

” انگریزی صنعتوں کے مقابلہ میں دیسی صنعتوں کی تباہی کو اکثر اوقات برطانوی ذہانت کی فتح سے تعبیر کیا جاتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ذہانت کی فتح کے بجائے انگریزی جور و ستم کی نمایاں مثال ہے، یہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح اپنی وطنی صنعتوں کو ترقی دینے کے لیے ہندوستان کو ظالمانہ طریقِ عمل سے مفلس بنایا گیا ۔“ [LARPANTS EVIDENCE VOL.I - P.105 1]

مشہور مؤرخ مانٹگمری مارٹن، جو ہندوستان کی اقتصادی حالت کا مطالعہ کرنے کے لیے اس ملک میں سیاحت کرتا رہا تھا، اس سے زیادہ پر زور لہجے میں اپنے اس انسانی جذبہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ :

”ہندوستان کی حالت کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد جو اثر مجھ پر ہوا وہ یہ ہے کہ اس ملک کی تجارت کو نہ صرف انگلستان کے ساتھ، بلکہ تمام ممالک خارجہ کے ساتھ، بڑی بے انصافی سے نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انگلستان خود تو اس سے آزاد تجارت کا حق طلب کرتا ہے، مگر ہندوستان کو یہ حق دینے سے منکر ہے..... ہم نے ایک ربع صدی میں ہندوستان کو مجبور کر دیا ہے کہ ہماری مصنوعات کو خریدے۔ ہمارا اونی کپڑا ہندوستانی بندرگاہوں میں محصول سے مستثنٰی اور سوتی مال صرف ڈھائی فیصدی دے کر داخل ہوتا ہے، مگر اس کے مقابلہ میں ہندوستان کا مال ۱۰، ۲۰، ۳۰، ۴۰، ۵۰، ۱۰۰، ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ فی صدی محصول تک کا زیر بار ہے۔ سورت، ڈھاکہ، مرشد آباد اور دوسرے صنعتی مقامات کی تباہی جس طرح عمل میں آئی ہے، اس کا ذکر سخت افسوس ناک ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی معقول تجارتی رویہ کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ زبردست نے زیر دست پر اپنی جابرانہ قوت کو استعمال کیا ہے۔ میری رائے میں انگلستان کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ محض اپنے ذاتی فائدہ یا اپنے ملک کی کسی جماعت کا پیٹ بھرنے کے لیے، اس ملک کے باشندوں کو برباد کر دے جسے اس نے فتح کیا ہے..... میں نہیں سمجھتا کہ ہندوستان حقیقت میں ایک زراعتی ملک ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ وہ جتنا زراعتی ہے، اتنا ہی صنعتی ہے، اور جو شخص اب اس کو محض زراعتی ملک بنانا چاہتا ہے، وہ درحقیقت اسے درجہ تہذیب سے گرانا چاہتا ہے۔ وہ ایک صناع ملک ہے جس کی صنعتیں مدتوں سے زندہ ہیں اور جہاں کہیں ان کو شریفانہ مقابلہ کا موقع دیا گیا ہے انھوں نے ہر قوم کی صنعتوں کو نیچا دکھایا ہے۔ میں اس وقت صرف ڈھاکہ کی ململ یا کشمیر کی شال کا ذکر نہیں کر رہا ہوں بلکہ میری نظر ان تمام مختلف قسم کی مصنوعات پر ہے جو تمام دنیا کی مصنوعات پر سبقت لے گئی ہیں۔ ایسے ملک کو اب محض ایک زراعتی ملک بنانے کی سعی کرنا بڑا ظلم ہے"۔[MARTINE EVIDENCE: ECONOMIC HISTORY VOL.II - P.112-114]

مسٹر ہنری سینٹ جارج ٹکر جو خود کمپنی کا ایک ڈائرکٹر تھا، ۱۸۲۳ء میں لکھتا ہے:

"وہ کون سی تجارتی پالیسی ہے جو ہم نے ہندوستان کے متعلق اس ملک میں اختیار کی ہے؟ وہ یہ کہ ہندوستان کا تیار شدہ ریشم اور ریشمی کپڑا ہماری منڈیوں سے جبراً خارج کر دیا گیا ہے، اور حال ہی میں ۷۰ فی صدی محصول اور اعلیٰ درجہ کی مشینری کی بدولت ہم نے نہ صرف سوتی کپڑے کی درآمد بند کر دی ہے بلکہ اپنے ہاں کا کپڑا وہاں بھیجنے لگے ہیں۔ اس طرح ہندوستان نے ایک صناع ملک کے درجہ سے ایک کاشتکار ملک کی گری ہوئی حیثیت اختیار کر لی ہے"۔[MEMORIALS OF THE INDIAN GOVERNMENT (1885) - P.494]