مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خطبات یورپ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خطبات یورپ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ان تقاریر، مجالسِ سوال و جواب اور خطابات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کے دورِ حاضر کے سفروں کے دوران مغربی دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے دیے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا ایک مکمل، منظم اور فطرتِ انسانی کے عین مطابق نظامِ حیات ہے، جو جدید دور کے تمام بحرانوں کا واحد جامع حل پیش کرتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اس کتاب میں مغربی ذہن کے سامنے اسلام کو بغیر کسی نفسیاتی رکاوٹ، معذرت خواہی یا واخواہی کے، ایک آزاد، غیر مرعوب اور پراعتماد انداز میں پیش کیا ہے۔

کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جس میں مغرب میں اسلام کے بارے پائی جانے والی غلط فہمیوں کی وجہ کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مولاناؒ نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کے عمل اور اسلام کی تعلیمات کے درمیان موجود تضاد نے غیر مسلموں کو اسلام کو قبول کرنے سے روک رکھا ہے۔ ساتھ ہی، مغربی تہذیب کے تناظر میں اسلام کی معاشرتی تعلیمات کو قدیم یا شہواتی سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس کے جواب دینے والا کوئی ایسا شخص دستیاب نہیں جو مغربی تہذیب سے مرعوب نہ ہو۔ اس خلا کو پُر کرتے ہوئے مولانا نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا ہے جو جدید چیلنجز کا جواب دیتا ہے۔

دوسرے باب "برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل" میں مولانا نے برطانوی معاشرے کی تاریخی اور فکری بنیادوں کا جائزہ لیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلام: مغرب کے الزامات، اعتراضات اور سوالات کا جواب

[جنوب مشرقی ایشیا کے لیے بی۔ بی۔ سی کے نمائندے جناب ولیم کرک نے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے، اُن کے دفتر میں، پچاس منٹ تک ملاقات کی۔ اور اسلام کے معیشتی، معاشرتی اور سماجی ضابطوں پر متعدد سوالات کیے۔ اور سید محترمؒ نے اس کے جواب میں دلائل کے ساتھ اسلام کا نقطہ نظر واضح کیا، اور دکھا دیا کہ اسلام کے پاس مغرب کے ہر سوال کا جواب موجود ہے۔ کیونکہ ولیم کرک اردو بخوبی جانتے ہیں، اس لیے جوابات اُردو میں دیے گئے، کہیں کہیں سید محترمؒ نے انگریزی میں بھی اظہارِ خیال کیا۔]

ولیم کرالے:

کیا آپ آئین ۱۹۷۳ء میں شامل اسلامی دفعات پر مطمئن ہیں؟

مولانا محترمؒ:

جی ہاں، ہم ان دفعات پر مطمئن ہیں بلکہ درحقیقت ان دفعات کو شامل کرانے کے لئے ہم نے مسلسل جدوجہد کی ہے۔

ولیم کرالے:

مثلاً اسلامی کونسل وغیرہ؟

مولانا محترمؒ:

اسلام سے متعلق ہر وہ چیز جو دستور میں شامل ہے دراصل ہماری کوششوں کے نتیجے میں شامل کی گئی ہے، جہاں تک ان دفعات کے شامل آئین ہونے کا تعلق ہے اس پر تو ہم مطمئن ہیں لیکن اس بات پر مطمئن نہیں ہیں کہ ان پر عمل درآمد کس طریقے سے ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دفعات کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے اور نہ صرف یہ کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ جتنے کام بھی کئے جا رہے ہیں وہ ان کے برعکس کئے جا رہے ہیں۔

ولیم کرالے:

پاکستان کا موجودہ قانونی ڈھانچا اینگلو سیکسن قانون کی بنیاد پر قائم ہے۔ کیا آپ اسلام کے شرعی قوانین کو نافذ کرنے کیلئے پاکستان کے موجودہ قانونی نظام میں بنیادی تغیرات لانے کے حق میں ہیں؟

مولانا محترمؒ:

ہم صرف اتنا ہی نہیں چاہتے کہ محض قانونی نظام Legal System کو تبدیل کیا جائے۔ بلکہ ہمارے پیش نظر پورے معاشرے کو اسلامی بنیادوں پر استوار کرنا اور پورے نظام حکومت کو تبدیل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے صرف لیگل سسٹم کو تبدیل کرنا کافی نہیں ہو سکتا۔ قانونی نظام کے ساتھ ایک بڑا تعلق ملک کے تعلیمی نظام کا ہے۔ مگر نظام تعلیم آزاد قوم کو مسلمان بنانے والا نہ ہو تو محض قانونی نظام کے نفاذ سے اسلامی معاشرے کی تشکیل کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہی معاملہ ملک کے معاشی نظام کا ہے۔ اگر وہ صحیح اسلامی خطوط پر استوار نہ ہو تو اس صورت میں بھی محض قانونی نظام کی اصلاح مفید اور موثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ اس بنا پر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری پوری معاشرتی زندگی Social Life اسلام کے مطابق ہو۔ ہماری حکومت کی تمام پالیسیاں اسلام کے مطابق ہوں اور حکومت کے سارے معاملات صحیح اسلامی خطوط پر انجام پائیں۔ اس مقصد کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ سرکاری ٹریننگ کے تمام اداروں کا تعلیمی اور تربیتی ڈھانچہ تبدیل کیا جائے۔ سول سروس کے تمام شعبوں اور فوج کی تربیت کے اداروں میں بھی اسلام کی اخلاقی تعلیم دینے کا انتظام کیا جائے اور زیر تربیت افسروں کے دلوں میں اسلام کا صحیح شعور Creed بٹھایا جائے۔ ان کو سچا مسلمان بنانے کی کوشش کی جائے۔ لیکن یہ کام نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ انگریزی حکومت کے زمانے میں سروسز کو جس طرز پر ٹریننگ دی جاتی تھی اسی طرز پر اب بھی دی جا رہی ہے۔ اسلامی تربیت کی کوئی فکر اب تک نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس نقطہ نظر سے نتیجہ دیکھیں، سسٹم میں تبدیلی کافی نہیں ہے۔

We want to see overall change

اسلام اور جبریہ ریاست:

ولیم کرالے: آپ نے گزشتہ زندگی سے متعلق اداروں میں اسلامی تعلیم و تربیت کو لازمی قرار دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک جدید ریاست کی معیشت کو خالص اسلامی اصولوں کے مطابق کیونکر چلایا جا سکتا ہے؟

مولانا محترمؒ: ہم نے تیس سال یہ بات ثابت کرنے میں صرف کئے ہیں کہ ایک جدید ریاست کو مکمل طور پر اسلام کے عطا کردہ اصولوں پر چلایا جا سکتا ہے۔ اور صرف چلایا ہی نہیں جا سکتا بلکہ یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی بنیادوں پر قائم ہونے والی جدید ریاست دوسری تمام جدید ریاستوں سے زیادہ کامیاب اور بہتر ہے۔ چنانچہ ہماری کوشش صرف یہی نہیں ہے کہ ہم پاکستان میں اسلام کو نافذ کر کے یہ بتائیں کہ اسلام کی بنیادوں پر ایک جدید ریاست چل سکتی ہے بلکہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس جدید ریاست کو دیکھ کر دنیا کی دوسری جدید ریاستیں اس بات کی قائل ہو جائیں کہ یہ ریاست ہم سے کہیں بہتر اور فائق ہے۔

The principles of an Islamic State are superior to all other political systems

(اسلامی ریاست کے اصول باقی تمام سیاسی نظاموں پر فوقیت رکھتے ہیں)۔

ولیم کرالے: اتفاق سے زندگی کے چنداں دنوں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور پاکستان اور ترکی کے درمیان گہرے دوستانہ تہذیبی اور سیاسی روابط بھی ہیں چنانچہ میں ترکی کے حوالے سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ ترکی ایک مسلمان ملک ہے لیکن بیسویں صدی کے تیسرے عشرے سے اس نے سیاسی اور معاشی ترقی کا ایک نیا رستہ اختیار کیا۔ ایک زمانے میں ہندوستان اور ترکی کے مابین خلافت کے مسئلے پر خاصی جذباتی فضا پائی جاتی تھی لیکن بالآخر ترکی نے خود ہی خلافت کا ادارہ ختم کر دیا۔ اس کے بعد ملک میں سیکولر نظام نافذ کیا۔ مگر یوں کہنا چاہیے کہ ملکی سیاست اور معیشت کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو یوں ترکی کے تجربے سے فائدہ نہیں اٹھانا اور اس کی تقلید کیوں نہیں کرنا؟ اس کے برعکس آپ ماضی کے قدیم اسلامی نظام کی طرف کیوں واپس جانا چاہتے ہیں؟

مولانا محترمؒ: آپ نے سوال بہت بڑا کیا ہے۔ اس لئے میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس کا جواب دوں گا۔

اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی جتنی حکومتیں پائی جاتی ہیں ان میں سے کوئی بھی پورے طور پر اسلامی سسٹم پر نہیں چل رہا ہے۔ پھر ان میں بھی دو طرح کی حکومتیں ہیں۔ ایک حکومتیں تو وہ ہیں جو کھلم کھلا خود کو سیکولر کہتی ہیں، اور دوسری وہ ہیں جو اسلام کو ریاست کا مذہب تو قرار دیتی ہیں لیکن نہ تو وہ اسلام کے اصولوں پر قائم کی گئی ہیں اور نہ انہیں اسلام کے اصولوں کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ جہاں تک ترکی کا تعلق ہے تو اصل صورت واقعہ یہ ہے کہ وہاں جو خلافت چلی آرہی تھی وہ انحطاط کا شکار Degenerated ہو کر اپنی حقیقی خصوصیات سے عاری ہو چکی تھی۔ پھر اس کو ختم کر کے ترکی میں جو سیکولر ریاست قائم کی گئی وہ بھی خلافت اسلامی تھی! یعنی نہ تو وہ خلافت پوری طرح اسلامی تھی اور نہ بعد میں قائم ہونے والی سیکولر ریاست کا اسلام سے کوئی تعلق تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ترکی میں کوئی جدید یا اجتماعی قوت ایسی موجود نہ تھی جو وہاں پر اسلامی اصولوں کے مطابق حکومت قائم کرتی۔ آپ کے بقول ترکی میں جو نیا دور شروع کیا گیا۔ اس کی بنیاد اسلام پر ہرگز نہ تھی اور اس سے پہلے جو نظام وہاں قائم تھا وہ بھی اسلامی نہ تھا اور وہ اصل پرانا بگڑا سا نظام تھا خلافت کا ادارہ بس برائے نام موجود تھا۔ محض ایک بادشاہ کے لئے خلیفہ کا خطاب اختیار کر لیا گیا تھا۔ حالانکہ خلافت، بادشاہت Monarchy سے بالکل ایک مختلف چیز ہے۔

ولیم کرالے:

(آپ کا مطلب یہ ہے کہ ترکی میں خلافت کا نظام لادینی یا غیر مذہبی نظام میں تبدیل ہو چکا تھا؟)

مولاناؒ نے متبسم ہو کر کہا:

(خلافت ایک نیم مذہبی نظام بن چکی تھی۔ چنانچہ ہم اس سے مطمئن نہ تھے، لیکن ہم ان نام نہاد اصلاحات سے بھی مطمئن نہ تھے جو مصطفے کمال اتاترک نے خلافت کو ختم کر کے ترکی میں رائج کیں،)

لیکن اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ خود ترکی میں بھی بکثرت ہمارے ہم خیال لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ وہاں بھی اسلامی نظام قائم کیا جائے۔ اس طرح دنیا کے تمام مسلمان ممالک میں بھی ایسا ایک عنصر Element موجود ہے جو اسلام کے حقیقی اصولوں پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہے۔

آپ نے یہ جو کہا ہے کہ ہم ایک پرانے طریقے کی طرف واپس کیوں جانا چاہتے ہیں، تو دراصل یہ Go Back کا لفظ غلط ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ انسان کے لئے خدا کی طرف سے جو ہدایت آئی ہے وہ سب سے قدیم بھی ہے اور سب سے جدید بھی۔ خدائی ہدایت کسی وقت اور مقام کی پابند نہیں ہے۔ یہ ایک ازلی اور ابدی چیز ہے۔ اس لئے اس معاملے میں GO BACK کا لفظ استعمال کرنا بے معنی ہے۔

Truth is always truth. It cannot be old or new. At any time and at every place it is truth.

(صداقت ہر حال میں صداقت ہے۔ اس کے قدیم یا جدید ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ صداقت ہر عہد میں اور ہر مقام پر صداقت ہے۔)

اسلام کا قانونِ تعزیرات:

ولیم کرالے: لیکن اسلامی قانون کے بعض پہلوؤں مثلاً قانونِ تعزیرات کے بارے میں جدید ذہن کے اندر بعض اعتراضات اور شبہات پائے جاتے ہیں، موجودہ دور کی جدید مسلم ریاستیں بھی ان قوانین کو ترک کر چکی ہیں۔ شائد آپ اتفاق کریں کہ یہ تعزیری قوانین اصل قرونِ وسطیٰ کے وحشی سماج کے لئے وضع کئے گئے تھے اور یہ قوانین اب بیسویں صدی کے معاشرے کے لئے زیادہ موزوں نہیں ہو سکتے۔ اب جرم اور سزا کے بارے میں تصورات بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس لئے یہ معاملہ نہیں، فقط نظر سے زیادہ معاشرتی ہے۔ کیا آپ اس بدلے ہوئے زمانے میں اس دور کے تبدیل شدہ رویوں کے برعکس ان قوانین کو ان کی اسی پرانی شکل میں نافذ کرنا چاہیں گے؟

مولانا نے محترم : آپ جس بیسویں صدی کا ذکر کر رہے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے کہ اس بیسویں صدی میں امریکہ اور یورپ کے اندر اور خود مسلمان ممالک کے اندر جن میں اسلامی قوانین پر عمل کرنا چھوڑ دیا گیا ہے، کیا ارتکابِ جرائم کی رفتار (CRIME RATE) بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے۔۔۔ کیا خیال ہے آپ کا؟

ولیم کرالے: بہت سے ممالک میں یہ رفتار بڑھ رہی ہے۔

مولانا نے محترم : ہمارے ہاں صرف پنجاب کے بارے میں جو پولیس رپورٹ حال میں شائع ہوتی ہے، اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ صرف ایک مہینے میں ۹۰ عورتیں بھگائی گئی ہیں اور یہ رفتارِ جرم پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں رفتارِ جرائم کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ اس وقت کیا ہے اور وہ کتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کسی معاشرے میں جرائم کا موجود رہنا بھی اچھا ہے؟

ولیم کرالے: "اچھا نہیں ہے"۔ ( یہ جواب اردو میں دیا گیا )

مولانا نے محترم : اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ کے موجودہ تعزیری قوانین (Criminal Laws) جرائم کے خاتمے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ ان میں اضافے کے موجب بن رہے ہیں۔ اس کے برعکس ایک مسلمان ملک میں جہاں اسلام کا قانون صرف ایک حد تک ہی نافذ کیا گیا ہے، یعنی چوری پر اسلامی تعزیرات نافذ کی گئی ہیں، وہاں اس نے چوری کا خاتمہ کر دیا ہے۔ وہاں کیفیت یہ ہے کہ اگر آپ اپنا سامان سڑک پر چھوڑ کر چلے جائیں اور تین دن کے بعد واپس آئیں تو وہ آپ کو وہیں پڑا ملے گا۔ کوئی اس کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ اگر آپ اپنا کھلا ہوا گھر بار چھوڑ جائیں اور کئی ہفتے بعد واپس آئیں تو آپ کو سارے گھر کا سامان جوں کا توں ملے گا۔ کوئی شخص گھر میں داخل تک نہیں ہو گا۔ یہ صرف اس چیز کا نتیجہ ہے کہ سدوں کو سب ہیں، ان سزاؤں کے نفاذ پر شروع میں جو چند ہاتھ کاٹے گئے، ان کی وجہ سے چوری کا وہاں خاتمہ ہو گیا۔ تو کیا چند مجرموں کے ہاتھ کاٹ کر چوری کو ختم کر دیا جائے، یہ زیادہ بہتر ہے کہ مجرموں کو جیل بھیج بھیج کر ان کو عادی مجرم بنایا جائے؟ وہ جیل سے نکلیں تو پھر چوری کریں اور پھر جیل جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے موجودہ تعزیری قوانین جرائم کی پرورش کر رہے ہیں، لیکن ہم اسلامی قوانین کے نفاذ کے ساتھ جرائم کو ختم کر سکتے ہیں۔ اب کیا یہ بہتر ہے کہ ہم جرائم کو ختم کر دیں یا یہ بہتر ہے کہ جرائم ہوتے رہیں اور ان کے توڑ انسداد کی کوئی تدبیر نہ کی جائے؟

ولیم کرالے: جدید معاشرے کے حالات و اطوار بہت بدل چکے ہیں، جرم اور سزا کا تصور بدل چکا ہے۔ ماضی کی اسلامی ریاست میں اور موجودہ دور کی جدید ریاست میں بڑا فرق رونما ہو چکا ہے۔ سعودی عرب کے معاشرتی حالات اور شکاگو اور نیویارک جیسے بڑے بڑے شہروں کی معاشرتی کیفیت اور ساخت بالکل مختلف ہے۔ اس لئے ایک محدود شہری نظام کے لئے اگر اسلامی سزائیں مفید بھی تھیں تو موجودہ بڑے بڑے شہروں کے لئے یہ کس طرح کار آمد ہو سکتی ہیں، جبکہ ان جدید جرائم کا سٹہ بنالینا ایک حد تک فطری بات ہے اور ان میں سزاؤں کا عملی نفاذ کوئی آسان کام بھی نہیں۔

مولانا نے محترم : آپ کا خیال یہ ہے کہ شکاگو اور نیویارک جیسے بڑے بڑے شہروں کی معاشرتی زندگی (SOCIAL LIFE) کچھ ایسی ایسی ہے کہ ان کے اندر جرائم کا ہونا ایک فطری چیز ہے؟ اس لئے اس حالت کے خاتمے کے لئے ہاتھ کاٹنے جیسی سزاؤں کا نفاذ ایک غیر ترقی پسندانہ بات ہے اور آپ کے خیال میں یہ عملاً ممکن بھی نہیں؟ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے اور اگر صرف چوری پر ہاتھ کاٹنے کا قانون جاری کر دیا جائے تو نیویارک اور شکاگو جیسے شہروں بلکہ یورپ امریکہ میں چوری کا ارتکاب کم ہو سکتا ہے۔ اس کا مکمل خاتمہ تو صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ پورا سیاسی اور معاشرتی نظام اسلامی خطوط پر قائم کیا جائے، لیکن اسلامی سزاؤں کے نتیجے میں بھی اس میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

ہمیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ اسلام کی تجویز کردہ سزائیں معاشرے سے جرائم کا مکمل انسداد کر سکتی ہیں اور ہم یہ چاہتے کہ پاکستان کے اندر اسلام کا مکمل ضابطہ حیات جاری ہو اور اسلامی نظریات نافذ ہوں۔ پھر ہم دنیا کو بتائیں گے کہ ہمارے ہاں جرائم کس طرح ختم ہو گئے ہیں۔ اگر ہمیں اس بات کا موقع ملا کہ ہم پاکستان میں صحیح اسلامی نظام ایک بار ہم عملاً دنیا پر یہ بات ثابت کر دیں گے کہ اسلام کی بنیادوں پر ایک جدید ریاست چل سکتی ہے اور زیادہ بہتر طریقے سے چل سکتی ہے اور اسلام کی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جو جرائم سے پاک اور امن و امان کا گہوارہ ہوتا ہے۔

ولیم کرالے: لیکن میرا خیال یہ ہے کہ روایتی اسلامی قانون کا یہ پہلو ایسا ہے کہ بیسویں صدی کا انسان اس کو قبول کرنے میں دقت محسوس کرتا ہے۔ یہ اسی وجہ سے نہیں کہ ان سزاؤں کا تعلق اسلامی قانون سے ہے اور اس کو قبول کرنے میں مذہبی تعصب مانع ہوتا ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید ذہن کے لئے کسی جرم پر ایک شخص کا ہاتھ کاٹ کر اسے ایک عضو سے محروم کر دینا ایک وحشیانہ فعل معلوم ہوتا ہے اور شاید یہ اس جرم سے بھی سنگین نوعیت کی چیز ہے۔ اس بنا پر بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ریاست کی طرف سے کسی شخص کی جان لینے کا اقدام بہر حال ایک غیر معمولی نوعیت رکھتا ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ قرونِ وسطیٰ کے ایک نظام کو، خواہ وہ اپنی جگہ پر مفید ہی تھا، جدید دور میں رائج کرنا کچھ عجیب سی بات معلوم ہوتا ہے۔

مولانا نے محترم : میرا خیال ہے کہ آپ کی موجودہ تہذیب کو، جسے آپ جدید تہذیب کہتے ہیں، جتنی ہمدردی مجرم کے ساتھ ہے اتنی ہمدردی ان لوگوں کے ساتھ نہیں جن پر جرم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کا بچہ کوئی اغوا کر کے لے جاتا ہے اور پھر اس کو اطلاع دیتا ہے کہ اتنے میں ڈال بھیجے دے ورنہ بچہ تمہیں مل جائے گا، حد سزا سے قتل کر دیا جائے گا اور بعض اوقات وہ ایسا کر بھی گزرتا ہے۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ اس طرح کے آدمی کو پکڑ کر اگر کوئی سخت سزا دی جائے، مثلاً اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا جائے، یا اس کی گردن اڑا دی جائے، تو کیا یہ ایک وحشیانہ فعل ہوگا؟ یعنی آپ کے نزدیک والدین کو ان کے بچوں سے محروم کر دینا کوئی وحشیانہ حرکت نہیں۔ البتہ اس حرکت کے مرتکب کی اس کے جرم کی سزا دینا وحشیانہ اور ظالمانہ فعل ہے جس کی کم از کم ریاست کو ذمہ داری نہیں لینی چاہیے۔ آپ کی ساری ہمدردی اس شخص کے ساتھ ہے جس نے ایک مجرمانہ اور غیر انسانی فعل کے ذریعے سے اپنے آپ کو مستوجب سزا ٹھہرایا ہے اور اس شخص کے بارے میں آپ بے حس ہیں جسے ظلم اور سنگدلی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ہم یہ کہتے ہیں کہ جو شخص معاشرے کے اندر جرم کا ارتکاب کر کے معاشرے کے امن و سکون کو غارت کرتا ہے، وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو اتنی سخت سزا دی جائے کہ دوسروں کو اس سے عبرت ہو اور وہ اس قسم کے جرم کے ارتکاب کی جرات نہ کر سکیں۔ یعنی ہمارے نزدیک سزا صرف سزا ہی نہیں ہے بلکہ وہ ارتکابِ جرم کو روکنے کا ذریعہ بھی ہے۔ وہ مجرم کی حوصلہ شکنی بھی کرتی ہے۔ چنانچہ ہماری ہمدردی مجرم کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اس شخص کے ساتھ ہے جس پر ارتکابِ جرم کیا جاتا ہے، اور اس معاشرے کے ساتھ ہے جس کے اندر ارتکابِ جرم سے ناہمواری اور عدمِ تحفظ کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔

You think it is more social and more cultured to be a criminal. It is human to kill a man, and it is inhuman to kill a murderer

ابھی پچھلے دنوں امریکہ میں سبرٹ کا جو واقعہ پیش آیا ہے، وہ آپ کے علم میں ہوگا۔ جو لوگ اس کو اغوا کر کے لے گئے تھے اور انہوں نے اس کو اس حد تک جرائم آمیز کر دیا کہ اس نے بنک پر ڈاکہ ڈالا اور دوسرے جرائم کا ارتکاب کرتی رہی۔ آپ کے نزدیک وہ لوگ تو بہت مہذب اور CULTURED ہیں، لیکن اگر ان لوگوں کو کوئی سخت سزا دی جائے تو یہ فعل غیر مہذبانہ ہوگا۔

۔۔۔۔

۔۔۔۔

۔۔۔۔

۔۔۔۔

لینا بھی محال ہو جائے، لیکن ان میں سے کسی چیز کو ختم کرنے کے لئے کوئی سخت اقدام نہ کیا جائے کیونکہ یہ آپ کے خیال میں تہذیب کے خلاف ہے اور اس سے موجودہ دور کے مہذب انسان کی توہین ہوتی ہے۔ نیویارک میں اس وقت حالت یہ ہے کہ اگر رات کے وقت اگر کسی کا کوئی عزیز یا دوست گھنٹی بجائے تو وہ کبھی اس نیت سے دروازہ نہیں کھولے گا کہ آنے والا ضرور کوئی ڈاکو ہوگا۔ اس قسم کے خوف و دہشت کے درمیان آپ لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں، لیکن اس صورت حال سے آپ نے سمجھوتہ (Compromise) کر لیا ہے، اس کو بدلنے کے لئے آپ تیار نہیں۔ آپ کا خیال یہ ہے کہ اس کا تو رہنا ہی ہے اور اس چیز کے ہوتے ہوئے آپ لوگ اور مہذب بھی ہیں! لیکن اگر اس جرم و خوف کی زندگی کو بدلنے کے لئے کوئی سخت قدم اٹھایا جائے تو وہ آپ کے نزدیک تمدن و ترقی کی طرف پلٹنا ہے۔ لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ اگر ہمیں موقع ملے تو ہم اسلامی قوانین کو رائج کر کے دنیا کو دکھا دیں کہ اس طرح ایک پر امن معاشرہ (Peaceful Society) وجود میں آتا ہے۔ وہ معاشرہ مہذب اور MODERN بھی ہوگا اور امن و سلامتی کا گہوارہ بھی! اس کے قیام کے بعد آپ کے یہ سارے تمام بنیاد جاوید تصورات، نظریات ختم ہو جائیں گے۔ اور آپ مان جائیں گے کہ یہ تباہی کی طرف ہم اسلامی نظام امن کی برکت قابل اور اسے دنیا میں قائم کرنے کے آرزو مند ہیں۔ تو انسانیت سے نہیں کہ وہ ہمارا قدیم مذہبی یا قانونی نظام ہے اور اس بنا پر اس کے ساتھ کچھ محبت ہے، بلکہ اس کو ہم اس وجہ سے مانتے ہیں کہ وہ نہایت معقول اور عادلانہ نظام ہے اور یہ ایک بالکل مطابقِ انصاف اور معقول بات ہے کہ سوسائٹی کو جرائم سے پاک کیا جائے۔ ہمارے نزدیک معاشرہ نہایت بُرا ہے جس کے اندر جرائم پرورش پاتے ہوں اور لوگوں کی جان و مال کا مرکز مجرم ہوں، نہ کہ وہ جن پر جرم کا ارتکاب کیا گیا ہو۔

ولیم کرالے: جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور وہاں اسلامی قوانین نافذ نہیں بلکہ سیکولر نظام پایا جاتا ہے، ان ممالک میں مسلمانوں کا طرز عمل کیا ہوگا جبکہ وہ کسی غیر اسلامی قانون پر یقین نہیں رکھتے؟ کیا وہ اس قسم کی گورنمنٹ کے خلاف کوئی اقدام کریں گے؟

مولانا محترمؒ: نہیں، اگر ہم کسی غیر مسلم ریاست (Non-Muslim State) میں ہوں گے تو ہم اس ریاست میں یہ کوشش کریں گے کہ پرامن جمہوری ذرائع سے لوگوں کے خیالات کو تبدیل کریں اور دلائل کے ساتھ ان کو اسلامی نظامِ زندگی کی مقبولیت اور برتری کا قائل کریں۔ اس طریقے سے جب ہم اکثریت کے خیالات و اذہان کو تبدیل کر لیں گے اور لوگوں کو اسلامی نظامِ زندگی کا قائل کر لیں گے تو اس اکثریت کی بناء پر وہاں کا نظام تبدیل کریں گے۔ وہ نظام پھر جمہوری نقطۂ نظر سے بالکل درست ہوگا۔ ہم اس ریاست کے خلاف غیر جمہوری ذرائع سے کوئی انقلاب نہیں لائیں گے۔

اسلام اور جمہوریت:

۔۔۔۔

۔۔۔۔

۔۔۔۔

ولیم کرالے: کیا آپ کے خیال میں جمہوریت کی اسلامک سوشل فلاسفی کے اندر گنجائش پائی جاتی ہے؟

مولانا محترمؒ: جی ہاں، لیکن اہل مغرب کے نظریے کے مطابق نہیں۔ مغربی فلسفۂ سیاست میں تو عوام اقتدارِ اعلیٰ کے مالک ہوتے ہیں، لیکن اسلام میں اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ لیکن اس بنیادی فرق کے باوجود ہمارا نظامِ حکومت ایسا ہوگا کہ اس میں ریاست کے سربراہ کا انتخاب لوگوں کی کثرتِ رائے کے ذریعے سے ہوگا۔ لوگوں کے نمائندے ان کی رائے سے منتخب ہوں گے اور پارلیمنٹ ان منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوگی اور کوئی حکومت عوام الناس کا اعتماد کھو دینے کے بعد قائم نہیں رہ سکے گی۔ اس حد تک جمہوریت ہمارے ہاں موجود ہے، گویا اللہ تعالیٰ کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے حکومتی مشینری جمہوری طریقے پر اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین کو نافذ کرے گی، عوام الناس خود مقتدرِ اعلیٰ نہیں ہوں گے۔

ولیم کرالے: کیا اس وقت ان معنوں میں کوئی صحیح معنوں میں جمہوری ریاست پائی جاتی ہے؟ یا ماضی قریب میں ایسی کوئی ریاست موجود تھی؟

مولانا محترمؒ: اگر فرض کیجیے کہ کسی مسلمان ملک میں اس قسم کا کوئی جمہوری نظام مروج نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام کا دیا ہوا جمہوری تصورِ ریاست اور قانونِ حکمرانی ناقص ہے، بلکہ یہ صورتِ حال ان لوگوں کی غلطی کا نتیجہ ہے جو مسلمان بھی کہلاتے ہیں، بلکہ اسلام کے جمہوری نظام کو رائج نہیں کرتے۔ چنانچہ ہماری کوشش یہ ہے کہ مسلمان جہاں کہیں بھی وہ ہیں، محض نام کے مسلمان (Professing Muslims) نہ رہیں بلکہ عملی مسلمان (Practicing Muslims) بنیں۔

ولیم کرالے: آپ جس قسم کی اسلامی ریاست کا تصور پیش فرما رہے ہیں، اس کے نمایاں خدوخال اور بنیادی خصوصیات کیا ہوں گی اور آپ موجودہ دور میں حکومت کا نظام کن خطوط پر استوار کریں گے؟

مولانا محترمؒ: اگر آپ جماعتِ اسلامی کے منشور (Manifesto) کا مطالعہ کریں تو آپ کو پوری طرح معلوم ہو جائے گا کہ ہم اسلامی اصولِ حکمرانی پر مبنی ایک جمہوری حکومت کس طرح قائم کریں گے اور اس کے نمایاں خدوخال کیا ہوں گے۔ جماعتِ اسلامی کا منشور انگریزی زبان میں بھی چھپا ہوا موجود ہے۔ وہ آپ کو مہیا کیا جا سکتا ہے۔ آپ اس کا مطالعہ کر کے اس سوال کا مفصل جواب پا لیں گے۔

اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام:

ولیم کرالے: ایک اور اہم مسئلہ ہے جس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اور وہ مسئلہ ہے سوسائٹی میں عورت کے مقام اور حیثیت کا، اس سلسلے میں اسلامی اقدار، مغرب کی صنعتی طور پر ترقی یافتہ سوسائٹی کی اقدار سے قطعی مختلف اور متضاد ہیں۔ آپ کی رائے کیا ہے اس معاملے میں، کہ کیا جدید دنیا کے بدلے ہوئے حالات اور جدید تہذیبی قدروں کی روشنی میں معاشرے کے اندر ٹھوسیت کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر میں کوئی ترقی پسندانہ تبدیلی ممکن ہے؟

مولانا محترمؒ: دیکھئے، آپ کے خیال میں آپ کی جو جدید تہذیب اور ماڈرن کلچر ہے، آپ سمجھتے ہیں کہ تہذیب اور ثقافت کا بھی ایک معیار Standard ہے اسی معیار پر آپ دوسری ہر تہذیب و ثقافت کو پرکھتے ہیں، لیکن ہم اس کو نہیں مانتے۔ آپ اپنی جس تہذیب اور کلچر کو ”ماڈرن“ کہہ کر اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک پسماندہ Backward اور فرسودہ چیز ہے، اور یہ تباہ کر رہی ہے آپ کی پوری سوسائٹی کو اور آپ کے پورے نظام تمدن کو۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس ”ماڈرن کلچر“ کو اپنی سوسائٹی میں لائیں اور اسے بھی تباہ کر لیں۔ آپ کی جدید تہذیب ہی ہے نا کہ آپ نے اپنے ہاں خاندانی نظام کا خاتمہ کر دیا۔ آپ نے عورت کا جو مقام و مرتبہ سوسائٹی کے اندر متعین کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے نا کہ آپ نے عورتوں کے اخلاق بھی برباد کئے اور مردوں کے بھی۔ آپ نے لوگوں کو اخلاقی پستی کی انتہا تک گرا دیا۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی وہاں تک گر جائیں، ہم اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہم اپنی سوسائٹی کو ان تمام برائیوں سے پاک رکھنا چاہتے ہیں جو آپ کی ماڈرن سوسائٹی میں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے نزدیک ترقی Progress اور چیز ہے، اور نام نہاد ماڈرن سوسائٹی کی بری عادات و اطوار اور چیز۔ ہم Progress اور Development (کے قائل ہیں اور وہ ہم ضرور کریں گے)۔ گے، جن میں شامل میں نہیں ہیں میں آپ کہہ رہے ہیں۔ ہم اس کو غلط سمجھتے ہیں اس کے بجائے ہم اپنے اصولوں پر تعمیر و ترقی کریں گے۔ اور وہی پائیدار منزل میں تعمیر و ترقی ہوگی۔

ولیم کرالے: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عورت کا مقام ہر حال میں اس کے گھر کے اندر ہے اور اس کی معاشرتی زندگی کے جملہ معاملات اس کے شوہر سے ہی وابستہ ہونے چاہئیں اور وہ دوسرے مردوں سے روابط نہیں رکھ سکتی؟ اس صورت میں کیا آپ یہ بھی پسند نہ کریں گے کہ عورتیں نہ ڈاکٹر یا معلمات بنیں؟

مولانا نے محترمؒ: جی ہاں! اسلامی اصول معاشرت کی رو سے عورت کا مقام اس کا گھر ہے اور اس میں مرد کی حیثیت نگران اور قوام کی ہے۔ البتہ جہاں تک مدافعت کے تقسیم پانے اور ڈاکٹر یا عطیہ وغیرہ بننے کا سوال ہے، تو ہم نہ صرف یہ کہ اس کو درست سمجھتے ہیں بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی خواتین کو اعلیٰ تعلیم و تہذیب میں، لیکن اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود، ایک مسلمان عورت یہ سمجھتی ہے کہ اس کا اصل دائرہ کار اس کا گھر ہے۔ ہماری خواتین ڈاکٹر بھی بنیں گی لیکن وہ عورتوں کا علاج کریں گی مردوں کا نہیں۔ ہم عورتوں کا ڈاکٹر بنانا اس لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کا علاج کریں اور عورتوں کو مردوں سے علاج نہ کرانا پڑے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ عورتیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معلمات اور لیڈی لیکچرار اور پروفیسر بنیں، تاکہ وہ پوری بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دے سکیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہماری عورتوں کو پروفیسر کالجوں، چنانچہ ہمارے ملک میں ایسے بے شمار کالج موجود ہیں جن میں صرف خواتین پڑھاتی ہیں اور تمام علوم و فنون کی تعلیم دیتی ہیں۔ وہ سائنس بھی پڑھاتی ہیں اور دوسرے جدید علوم بھی۔ اسی طرح دوسرے شعبوں میں بھی جہاں ضروری ہو ہم اپنی خواتین کو اعلیٰ تعلیم و تربیت سے آراستہ کرتے ہیں، لیکن ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ ہم اس اصول کو ہرگز تبدیل نہیں کریں گے کہ مسلمان عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے۔ مسلمان عورت سے ہم جو بھی کام لیں گے وہ اس کے گھر کے اندر اور عورتوں کی سوسائٹی کے اندر لیں گے، اس کو مردوں کے اندر نہیں لے آئیں گے۔

ولیم کرالے: جیسا کہ آپ نے فرمایا یہ درست ہے کہ مغربی سوسائٹی میں خاندانی نظام انتشار کا شکار ہے لیکن اسلامی قانون کا یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ اس میں طلاق کے ذریعے شادی کے بندھن کو ختم کر دینا بہت آسان ہے، خاص طور پر جبکہ فریقین میں سے پہلے تو ایسا ہی تھا۔ کیا یہ چیز عورتوں کے لئے عدم تحفظ کی موجب نہیں ہے؟

مولانا نے محترمؒ: طلاق میں اس آسانی کے باوجود آپ دیکھئے کہ ہمارے ہاں طلاقوں کی شرح بہت کم ہے، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ مغربی ممالک میں یہ بہت زیادہ ہے، وہاں خاندانی نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ میں نے مغربی معاشرے کی اس صورت حال کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے، ہمارے ہاں تو کبھی اتفاق سے سننے میں آتا ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اور اس پر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس طرح طلاق ہمارے ہاں گمان ہونے کے باوجود عملاً ایک RARE چیز ہے لیکن آپ کے ہاں جو حالات ہیں، وہ آپ خود جانتے ہیں کہ وہاں طلاقوں کی کسی قدر بھرمار ہو رہی ہے۔

ولیم کرالے: مغربی سوسائٹی میں طلاقوں کی یہ کثرت عورتوں کے لئے کچھ زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ وہ معاشی طور پر آزاد ہیں اور مرد کی محتاج نہیں ہیں۔ جبکہ اسلامی معاشرہ میں عورت کی یہ پوزیشن نہیں ہے۔

مولانا نے محترمؒ: آپ کو معلوم نہیں ہے کہ مسلمان عورت اپنے باپ سے ورثہ پاتی ہے، اپنے شوہر سے اور اپنے بیٹے سے بھی اس کو حصہ پہنچتا ہے اور اس طرح جس شکل میں بھی اس کو کوئی ورثہ ملتا ہے، وہ اس کی خود مالک ہوتی ہے اور اس کا شوہر یا باپ، بیٹا یا کوئی اور شخص اس کو اس سے محروم نہیں کر سکتا۔ اسی طرح ایک مسلمان عورت کاروبار کر سکتی اور ان اداروں میں ملازمت کر سکتی ہے، جن کا دائرہ کار خواتین تک محدود ہے۔ اس طرح اس کو معقول طریقے سے جو معاشی آزادی حاصل ہو سکتی ہے ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ہم اس کی ایسی معاشی آزادی کو درست نہیں سمجھتے جس کے نتیجے میں وہ بالکل آزاد ہو جائے اور جس کے نتیجے میں معاشرے کے اندر طلاقوں کی اس طرح بھرمار ہو جائے جیسی کہ مغربی معاشرہ میں پائی جاتی ہے۔ جس سوسائٹی میں Divorce Rate اس قدر بڑھ جائے تو وہاں ان بچوں کا ایکٹر ہوگا جن کی ماؤں نے طلاق سے ملی ہر طلاق کے پہلے وہ ایک شخص سے شادی کیں، پھر کسی اور شخص سے، اور پھر کسی اور شخص سے، اور ادھر بچوں کا حال یہ ہو کہ کوئی ان کا والی وارث نہ ہو۔ آپ کے ہاں کئی نسل جو جرائم کی کیوں عادی ہوتی جارہی ہے، اور Teenagers کے جرائم کیوں ایک بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں؟ اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہے کہ آپ کے ہاں طلاقیں بڑی کثرت سے ہو رہی ہیں، اور ان کے نتیجے میں خاندانی نظام تہہ و بالا ہو کر رہ گیا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے ہاں ان معصوم Teenager-Criminals زیادہ تر خاکی طور پر یہ بار گھروں Broken-Homes سے نکل کر آرہے ہیں۔ لیکن آپ یہ تسلیم کریں گے کہ ایسے Broken-Homes خدا کے فضل سے ہمارے ہاں تقریباً ناپید ہیں۔ ایسا شاذ و نادر ہی کبھی ہوتا ہے کہ کسی خاندان میں طلاق کے نتیجے میں بچے بگڑ کر مجرم بن جائیں۔ تو اس لحاظ سے ہم اپنے آپ کو مغربی معاشرے سے کہیں زیادہ بہتر اور قابل رشک پوزیشن میں پاتے جاتے ہیں، اور یہ چیز اسلام کے ان معاشرتی اصولوں کی بدولت ہے جو ہمارے معاشرے میں اب تک برقرار ہیں اور ان کی پابندی کی جاتی ہے۔

ولیم کرالے: کیا آپ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ثقافتی روابط رکھنا چاہتے ہیں، اور کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے علمی اور دینی مراکز کے ساتھ رابطہ استوار رہے؟

مولانا محترمؒ: جی ہاں، ہم تو یہ چاہتے ہیں، لیکن ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس سے پیشتر جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آمد و رفت ممکن تھی اور ڈاک آتی جاتی تھی، تو اس زمانے میں ہندوستان کے تمام کلچرل سینٹرز، اور دینی و علمی مراکز کے ساتھ ہمارے تعلقات برابر قائم رہے۔ ہمارے رسائل و جرائد اور کتب وہاں جاتی تھیں اور وہاں سے کتب اور رسائل و جرائد ہمارے ملک میں آتے تھے۔ اس طرح ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ ہمارے ثقافتی روابط برابر رہے ہیں۔

ولیم کرالے: کیا آپ ہندوستان کے موجودہ حالات میں بھارتی مسلمانوں کی اخلاقی مدد حمایت کرنا چاہتے ہیں؟

مولانا محترمؒ: بالکل، ہم بھارتی مسلمانوں کی اخلاقی مدد و پناہ بھی ضروری سمجھتے ہیں، اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا کی رائے عامہ کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ ہندوستان میں مسلم کشی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے، اور بھارتی حکومت پر یہ دباؤ ڈالے کہ وہ وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ عدل و انصاف کے ساتھ کام لے۔ ہمارا ملک بھی وہاں پوری طرح ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ ہیں، اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر مسلسل ظلم و زیادتی کی جا رہی ہے، ظلم و زیادتی ہی نہیں، بلکہ ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھی جرم ہے، لیکن چونکہ بھارت ایک بڑی طاقت ہے، اس لئے اس سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ اپنے شہریوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کر رہی ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کی رائے عامہ اس معاملے میں بھارت پر اپنا اخلاقی دباؤ ڈال کر اسے اس نسل کشی سے باز رکھنے کی کوشش کرے۔

چند باتیں – مولانا کے حالات و مصروفیات کے بارے میں:

ولیم کرالے: اب چند باتیں آپ کی ذاتی زندگی کے بارے میں معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے بہرئیر ایک دہندگی ریاست میں ایک بڑا طویل اور مؤثر رول ادا کیا ہے۔ آپ کی سیاسی زندگی کا آغاز کب ہوا؟

مولانائے محترمؒ: میں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز ۱۹۱۹ء میں کیا جب کہ میری عمر سولہ سال کی تھی۔

ولیم کرالے: غالباً آپ نے اس دَور میں تحریکِ خلافت میں حصہ لیا ہو گا۔ کیا اس زمانے میں آپ لاہور میں تھے؟

مولانائے محترمؒ: جی ہاں میں نے تحریک خلافت میں حصہ لیا۔ میں اس زمانے میں دہلی میں تھا۔

ولیم کرالے: کیا آپ دیو بند سے بھی وابستہ رہے ہیں؟

مولانائے محترمؒ: نہیں ـــــــــــــــ میں اصل میں دہلی کا رہنے والا ہوں اور میں نے تنظیم جدید آباد دکن میں باقی ساس کے بعد جب تحریک خلافت کا آغاز ہوا تو میں دہلی میں تھا۔ میں اس تحریک میں کام کرتا رہا لیکن بعد میں مجھے محسوس ہوا کہ اس تحریک کے زمانے میں تحریکِ خلافت کے ارکان اور انڈین نیشنل کانگریس کے درمیان جو رابطہ اور تعاون رہا وہ چلنے والی چیز نہیں ہے۔ چنانچہ میں ہوا کہ ۲۴ ۱۹ء میں کانگریس اور تحریکِ خلافت کا تعلق کٹ گیا۔

ولیم کرالے: آج کل جب کہ آپ پر جماعت اسلامی کی قیادت کی ذمہ داری آن پڑی ہے آپ کے مشاغل کیا ہیں؟ کیا آپ ایک بزرگ سیاستدان کی حیثیت سے جماعت کی سرگرمیوں میں شریک ہیں یا محض تصنیف و تالیف کا کام کر رہے ہیں؟

مولانائے محترمؒ: میں اپنی کبرہ صحت کی وجہ سے جماعت کی سرگرمیوں اور عملی سیاست میں زیادہ حصہ نہیں لے رہا ہوں۔ بس صرف لکھنے پڑھنے کے کام میں مصروف ہوں۔

ولیم کرالے: آج کل آپ کیا تصنیف کر رہے ہیں؟

مولانائے محترمؒ: آج کل میں ”لائف آف دی پرافٹ“ پر کام کر رہا ہوں۔ اسے میں ایک نئے طریقے سے لکھنا چاہتا ہوں جو اس سے پہلے کسی نے اختیار نہیں کیا ہے۔ آج کل میرا سارا وقت اسی کام میں صرف ہو رہا ہے۔

ولیم کرالے: تب تو یہ ایک طویل کام ہے۔

مولانائے محترمؒ: جی ہاں۔

ولیم کرالے: آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ آیا اس قسم کے تصنیفی کام میں تاریخ و تحقیق کے جدید اصول اختیار کئے جا سکتے ہیں؟

مولانائے محترمؒ: اپنے تاریخی، تحقیقی و مطالعہ کے جس ماڈرن سسٹم کا حوالہ دے رہے ہیں میرا خیال یہ ہے کہ اس مقابلے میں ہمارے ہاں جو طریق تحقیق ہے، اس کا ماڈرن ریسرچ سکالرز کو کبھی خیال بھی نہیں آیا ہو گا۔ ہمارے ہاں جس طریقے سے روایات کو تحقیق و جستجو اور چھان پھٹک کے بعد قبول کیا جاتا ہے اس کا اہتمام کسی دور میں بڑے سے بڑے علمائے تاریخ نے کبھی نہیں کیا۔ ہمارے ہاں روایات کی صحت کو عقلی معیار پر جانچنے کے ساتھ ساتھ ان کی اسناد کی تحقیق کی جاتی ہے اور جب یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ان کی سند معمولی طرح متصل ہے اور اس میں سے کوئی شخص غائب یا کمزور نہیں ہے تب ان روایات کو قبول کیا جاتا ہے۔

احادیث اور کتب سیرت میں رسول اللہؐ سے منسوب تمام روایات کو اسی طریق تحقیق پر جانچنے کے بعد ان کو قبول یا رد کیا جاتا ہے۔ آپ کے موجودہ ریسرچ سکالرز اس طرز تحقیق سے بالکل نا آشنا ہیں۔

ولیم کرالے: میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے یہ گرانقدر لمحات مجھے عطا فرمائے، یہ میرے لئے ایک بڑا اعزاز ہے۔ اب میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ۔

مولانائے محترمؒ: آپ سے ملاقات میرے لیے بھی باعث مسرت ہے۔

ولیم کرالے: خدا حافظ! یہ الفاظ اردو میں ادا کئے گئے۔

مولانائے محترمؒ: خدا حافظ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[اپریل ۱۹۲۷ء کے آغاز میں اسلامک کرنسل آف یورپ کی طرف سے لندن میں ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ مولانا محترم کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ مگر بیماری کے باعث نہ جا سکے البتہ انہوں نے مقالہ لکھ کر وہاں بھیج دیا۔ جو ۴ اپریل کو کانفرنس میں پڑھ کر سنایا گیا۔]

۱- ابتداء ہی میں یہ وضاحت کر دینا ضروری ہے کہ ہمارے عقیدے کے مطابق اسلام کسی ایسے دین کا نام نہیں ہے جسے پہلی مرتبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے پیش کیا ہو اور اس بنا پر آپؐ کو بانی اسلام کہنا صحیح ہو۔ قرآن اس امر کی پوری صراحت کرتا ہے کہ خدا کی طرف سے نوع انسانی کے لیے ہمیشہ ایک ہی دین بھیجا گیا ہے، اور وہ ہے اسلام، یعنی خدا کے آگے سر اطاعت جھکا دینا۔ دنیا کے مختلف حصوں اور مختلف قوموں میں جو انبیاء بھی خدا کے بھیجے ہوئے آئے تھے، وہ اپنے کسی الگ دین کے بانی نہیں تھے کہ ان میں سے کسی کے لائے ہوئے دین کو ”نوحیت“ اور کسی کے دین کو ابراہیمی یا موسویت یا عیسائیت کہا جاسکے۔ بلکہ ہر آنے والا نبی اسی ایک دین کو پیش کرتا رہا جو اُس سے پہلے کے انبیاء پیش کرتے چلے آرہے تھے۔

۲- انبیاء میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلمؐ کی خصوصیت دراصل یہ ہے کہ (۱) وہ خدا کے آخری نبی ہیں (۲) ان کے ذریعے سے خدا نے اُسی اصل دین کو پھر تازہ کر دیا جو تمام انبیاء کا لایا ہوا تھا (۳) اُس میں جو آمیزشیں مختلف زمانوں کے لوگوں نے کر کے الگ الگ مذاہب (RELIGIONS) بنا لیے تھے اُن سب کو خدا نے چھانٹ کر الگ کر دیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلمؐ کے ذریعے سے اصلی اور خالص اسلام کی تعلیم نوع انسانی کو دی (۴) اُن کے بعد چونکہ خدا کو کوئی نبی بھیجنا نہیں تھا اس لیے اُس نے جو کتاب اس نے دی اُسے اُس کی اصل زبان میں لفظ بلفظ محفوظ کر دیا، تاکہ انسان ہر زمانے میں اُس سے ہدایت حاصل کر سکے۔ قرآن مجید کے متعلق یہ امر ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ یہ پلا کسی تغیر و تبدل کے ٹھیک وہی قرآن مجید ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے پیش کیا تھا۔ اس کے نزول کے وقت ہی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمؐ اس کو لکھواتے رہے تھے اور یہ سلسلہ آپؐ کی وفات تک جاری رہا۔ اس مکمل قرآن مجید کو آپؐ کے پہلے خلیفہؓ نے ایک کتاب کی شکل میں نقل کرا کے محفوظ کر لیا اور پھر تیسرے خلیفہؓ نے اس کی نقلیں اسلامی دنیا کے تمام مراکز میں بھیج دیں۔ اس وقت سے لے کر آج تک ہر ملک اور ہر صدی کے کثیر اور مطبوعہ قرآن جمع کر کے دیکھ لیا جائے۔ ان میں کوئی فرق نہیں پایا جائے گا۔ اس کے علاوہ نماز میں قرآن مجید پڑھنے کا حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمؐ کی رسالت کے پہلے ہی دن سے دے دیا گیا تھا۔ اس لیے سینکڑوں صحابہ کرامؓ نے پورا قرآن مجید اور تمام صحابہ کرامؓ نے اس کا کوئی نہ کوئی حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمؐ کی زندگی ہی میں یاد کر لیا تھا۔ اس وقت سے آج تک قرآن مجید کو لفظ بہ لفظ یاد کرنے اور ہر سال رمضان کی نماز تراویح میں پورا قرآن مجید زبانی سنانے کا سلسلہ پوری اسلامی دنیا میں رائج چلا آ رہا ہے اور ہر زمانے میں لاکھوں حافظ موجود رہے ہیں۔ دنیا کی کوئی مذہبی کتاب بھی اس طرح نہ تحریری شکل میں مکتوب اور نہ حافظوں میں محفوظ ہوئی ہے کہ اس کی صحت میں شک کا ادنیٰ امکان تک نہ ہو۔ (۵) خود ان کی سیرت اور سنت کو صحابہؓ اور بعد کے محدثین نے ایسے بے مثل طریقے سے محفوظ کر لیا جس سے زیادہ محفوظ طریقہ سے کسی بھی سیاسی اور تاریخی شخصیت کے حالات زندگی اور اس کے اقوال و اعمال محفوظ نہیں کیے گئے۔ مختصر اوہ طریقہ یہ تھا کہ جو شخص بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلمؐ کی طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرتا اس سے لازماً یہ بتلانا پڑتا تھا کہ اُس تک کن راویوں کے ذریعہ سے وہ بات پہنچی ہے، اور روایت کا یہ سلسلہ کسی ایسے شخص تک پہنچتا ہے یا نہیں جس نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ سے وہ بات سنی ہو یا آپؐ کو وہ کام کرتے دیکھا ہو۔ پھر جن جن راویوں کے ذریعہ سے یہ روایات بعد کے لوگوں تک پہنچیں ان کے حالات کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کی بیان کی ہوئی روایات قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں۔ اسی طرح احادیث کے مجموعے تیار کیے گئے جن کے مرتب کرنے والوں نے ہر حدیث کے راویوں کا پورا سلسلہ درج کر دیا اور اس کے ساتھ راویوں کے حالات پر بھی کتابیں لکھ دی گئیں جن کی مدد سے آج بھی ہم یہ تحقیق کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ کی زندگی کیسی تھی اور اُنہوں نے اپنے قول و عمل سے لوگوں کو کیا تعلیم دی تھی۔ (6) اسی طرح قرآن مجید اور اُس کے لانے والے نبیؐ کی مستند سیرت و سُنّت، دونوں باہم مل کر ہمیشہ کے لیے یہ معلوم کرنے کا قابل اعتماد ذریعہ بن گئے ہیں کہ خدا کا دین دراصل کیا ہے، کیا رہنمائی وہ ہمیں دیتا ہے، اور ہم سے کیا چاہتا ہے۔

۳۔ اگرچہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلمؐ سے پہلے کے تمام انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں اُن پر بھی جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے اور اُن پر بھی جن کا ذکر قرآن مجید میں نہیں آیا ... اور یہ ایمان ہمارے عقیدے کا ایسا لازمی حصہ ہے جس کے بغیر ہم مسلمان نہیں ہو سکتے، لیکن ہدایت حاصل کرنے کے لیے ہم صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلمؐ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ کسی تعصب کی بنا پر نہیں ہے۔ دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ (۱) وہ آخری نبی ہیں اس لیے ان کی لائی ہوئی تعلیم خدا کی طرف سے جدید ترین ہدایت (LATEST DISPENSATION) ہے، (۲) اُن کے ذریعے سے جو کلام اللہ (WORD OF GOD) ہم کو پہنچا ہے وہ خالص اللہ کا کلام ہے، جس کے ساتھ کسی انسانی کلام کی آمیزش نہیں ہوئی ہے۔ وہ اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے، اس کی زبان ایک زندہ زبان ہے جسے آج بھی کروڑوں انسان بولتے، لکھتے اور سمجھتے ہیں، اور اس زبان کی گرامر، لغت، محاورے، تلفظ اور املا میں نزول قرآن کے زمانے سے اب تک کوئی تغیر نہیں آیا ہے، اور (۲) جیسا کہ ابھی میں بیان کر چکا ہوں اُن کی سیرت، اخلاق، کردار، اقوال اور اعمال کے متعلق پورا تاریخی ریکارڈ زیادہ سے زیادہ ممکن صحت، اور زیادہ سے زیادہ ممکن تفصیلات کے ساتھ محفوظ ہے۔ یہ بات چونکہ دوسرے انبیاء پر صادق نہیں آتی اس لیے ہم ان پر صرف ایمان رکھ سکتے ہیں، عملاً اُن کی پیروی نہیں کر سکتے۔

۴- ہمارے عقیدے کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ کی رسالت تمام دنیا کے لیے اور ہر زمانے کے لیے ہے۔ اس لیے کہ (۱) قرآن مجید اس کی صراحت کرتا ہے (۲) یہ اُن کے آخری نبی ہونے کا منطقی تقاضا ہے کیونکہ دنیا میں ایک نبی کے آخری نبی ہونے سے خود بخود یہ لازم آتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے لیے اور اپنے بعد آنے والے ہر زمانے کے لیے ہادی و رہبر ہو (۳) اُن کے ذریعے سے وہ ہدایت مکمل طور پر دے دی گئی ہے جو راہ راست پر چلنے کے لیے انسان کو درکار ہے، اور یہ بھی اُن کے آخری نبی ہونے کا منطقی نتیجہ ہے کیونکہ مکمل ہدایت کے بغیر جو نبی بھیجا گیا ہو وہ آخری نبی نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے بعد پھر ایک نبی کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ (۴) اور یہ ایک امر واقعہ ہے کہ ان کے بعد پچھلے چودہ سو سال میں کوئی ایسی شخصیت نہیں آئی ہے جو خدا کی طرف سے نبی ہونے کا دعویٰ کرنے کے ساتھ اپنی سیرت و کردار اور اپنے کلام اور کلام میں انبیاء سے کوئی ادنیٰ درجے کی بھی مشابہت رکھتی ہو، جس نے حامل وحی ہونے کا دعویٰ کر کے کوئی ایسی کتاب پیش کی ہو جو خدائی کلام سے برائے نام بھی کوئی مناسبت رکھتی ہو اور جسے شریعت دینے والا (LAW GIVER) بھی کہا جاسکتا ہو۔

۵- گفتگو کے اس مرحلے پر یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ خدا کی طرف سے انسان کو کس خاص علم کی ضرورت ہے جو صرف انبیاء ہی کے ذریعہ سے دیا گیا ہے؟

دنیا میں ایک قسم کی چیزیں وہ ہیں جنہیں ہم اپنے حواس کے ذریعہ سے محسوس کر سکتے ہیں یا اپنے فنی آلات (SCIENTIFIC INSTRUMENTS) سے کام لے کر ان کا ادراک کر سکتے ہیں اور ان ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو مشاہدات و تجربات اور فکر و استدلال کی مدد سے مرتب کر کے نئے نئے نتائج تک پہنچ سکتے ہیں، اس نوعیت کی اشیاء کا علم خدا کی طرف سے آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہماری اپنی تلاش و جستجو، غور و فکر اور تحقیق و اکتشاف کا دائرہ ہے۔ اگر چہ اس معاملہ میں بھی ہمارے خالق نے ہمارا ساتھ بالکل چھوڑ نہیں دیا ہے تاریخ کے دوران میں وہ غیر محسوس طریقے سے ایک تدریج کے ساتھ اپنی پیدا کی ہوئی دُنیا سے ہمارا تعارف کراتا رہا ہے۔ علم و واقفیت کے دروازے ہم پر کھولتا رہا ہے اور وقتاً فوقتاً الہامی طور پر کسی نہ کسی انسان کو ایسی کوئی بات سمجھاتا رہا ہے جس سے وہ کوئی نئی ایجاد یا کوئی نیا قانونِ فطرت دریافت کرنے پر قادر ہو سکا ہے۔ لیکن فی الجملہ یہ انسانی علم ہی کا دائرہ جس کے لیے خدا کی طرف سے کسی نبی اور کتاب کے آنے کی حاجت نہیں ہے۔ اس دائرے میں جو معلومات مطلوب ہیں نہیں حاصل کرنے کے ذرائع انسان کو دے دیے گئے ہیں۔

دوسری قسم کی چیزیں وہ ہیں جو ہمارے حواس اور ہمارے فنی آلات کی پہنچ سے بالاتر ہیں، جنہیں نہ ہم ٹول سکتے ہیں، نہ ناپ سکتے ہیں، نہ اپنے ذرائع علم میں سے کوئی ذریعہ استعمال کر کے ان کے متعلق وہ واقعیت بہم پہنچا سکتے ہیں جسے ”علم“ (KNOWLEDGE) کہا جا سکتا ہو۔ فلسفی اور سائنس دان ان کے بارے میں اگر کوئی رائے قائم کرتے ہیں تو وہ محض قیاس (GUESS) اور ظن و تخمین (SPECULATION) ہے جسے علم نہیں کہا جا سکتا۔ یہ آخری حقیقتیں (ULTIMATE REALITIES) ہیں جن کے متعلق استدلالی نظریات کو خود وہ لوگ بھی یقینی قرار نہیں دے سکتے جنہوں نے ان نظریات کو پیش کیا ہے اور اگر وہ اپنے علم کے حدود کو جانتے ہوں تو نہ ان پر خود ایمان لا سکتے ہیں نہ کسی کو ایمان لانے کی دعوت دے سکتے ہیں۔

یہی وہ دائرہ ہے جس میں انسان حقیقت کو جاننے کے لیے خالق کائنات کے دیے ہوئے علم کا محتاج ہے اور خالق نے یہ علم بھی اس طرح نہیں دیا ہے کہ کوئی کتاب چھاپ کر ایک آدمی کے ہاتھ میں دے دی ہو اور اس سے کہا ہو کہ اسے پڑھ کر خود معلوم کرلے کہ کائنات کی اور خود تیری حقیقت کیا ہے اور اس حقیقت کے لحاظ سے دُنیا کی زندگی میں تیرا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس علم کو انسانوں تک پہنچانے کے لیے اُس نے ہمیشہ انبیاء کو ذریعہ بنایا ہے، وحی کے ذریعے سے اُن کو حقائق سے آگاہ کیا ہے اور اُنہیں اس کام پر مامور کیا ہے کہ یہ علم لوگوں تک پہنچادیں۔

6- نبی کا کام صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ وہ بس حقیقت کا علم لوگوں تک پہنچا دے۔ بلکہ اس کا کام یہ بتانا بھی ہے کہ اس علم کے مطابق خدا اور انسان اور انسان کے درمیان کیا تعلق فی الحقیقت (ACTUALLY) ہے اور کیا تعلق عملاً (ACTUALLY) ہونا چاہیے۔ یہ علم کن عقائد کا، کن عبادات کا، کن اخلاقیات کا، اور کن اصول تہذیب و تمدن کا تقاضا کرتا ہے، اور اس علم کی رُو سے معاشرت، معیشت، مالیات (FINANCE)، سیاست، عدالت، صلح و جنگ، بین الاقوامی تعلقات، غرض زندگی کے ہر شعبے کی تشکیل کن اصولوں پر ہونی چاہیے۔ یہی صرف ایک نظام عبادات و رسوم (RITUAL AND WORSHIP) لے کر نہیں آتا جسے دنیا کی اصطلاح میں مذہب (RELIGION) کہا جاتا ہے، بلکہ وہ ایک پورا نظام زندگی لے کر آتا ہے جس کا نام اسلام کی اصطلاح میں دین (WAY OF LIFE) ہے۔

7- پھر یہ بھی نہیں ہے کہ نبی کا مشن صرف دین کا علم پہنچانے تک ہی محدود ہو، بلکہ اس کا مشن یہ بھی ہے کہ جو لوگ اس کے پیش کردہ دین کو قبول کرکے مسلم بن جائیں انہیں وہ دین سکھائے، اُس کے عقائد، اخلاقیات، عبادات، قانونی احکام اور مجموعی نظام حیات سے ان کو آگاہ کرے، ان کے سامنے خود ایک نمونے کا مسلمان بن کر دکھائے تاکہ وہ اپنی زندگی میں اس کی پیروی کرسکیں، انہیں انفرادی اور اجتماعی تربیت دے کر ایک صحیح اسلامی تہذیب و تمدن کے لیے عملاً تیار کرے، اور ان کو منظم کرکے ایک ایسی جماعت بنا دے جو دنیا میں خدا کے دین کو بالفعل قائم کرنے کی جدو جہد کرے یہاں تک کہ خدا کا کلمہ بلند ہو جائے اور دوسرے کلمے پست ہو کر رہ جائیں۔ ضروری نہیں ہے کہ سب نبی اپنے اس مشن کو کامیابی کے آخری مراحل تک پہنچانے میں کامیاب ہی ہو گئے ہوں۔ بہت سے انبیاء ایسے ہیں جو اپنے کسی قصور کی بناء پر نہیں بلکہ متعصب لوگوں کی مزاحمت اور حالات کی نامساعدت کے باعث اس میں ناکام ہو گئے۔ لیکن بہرحال تمام انبیاء کا مشن تھا یہی، البتہ محمد صلی اللہ علیہ وسلمؐ کی یہ خصوصیت تاریخ میں نمایاں ہے کہ انہوں نے خدا کی بادشاہی زمین میں اس طرح قائم کرکے دکھا دی جیسی وہ آسمان میں ہے۔

8۔ قرآن مجید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے آغاز ہی سے اپنا خطاب یا تو تمام انسانوں کے لیے عام رکھا ہے، یا پھر انسانوں میں سے جو بھی اسلام کی دعوت کو قبول کرلیں ان کو مومن ہونے کی حیثیت سے مخاطب کیا ہے۔ قرآن مجید کو اوّل سے لے کر آخر تک دیکھ جائیے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلمؐ کی تقریروں اور گفتگوؤں کے پورے ریکارڈ کی بھی چھان بین کر لیجیے۔ آپ کہیں یہ نہ دیکھیں گے کہ اس کتاب نے اور اس کے لانے والے رسولؐ نے کسی خاص ملک یا قوم، یا نسل یا رنگ یا طبقے کے لوگوں کو، یا کسی خاص زبان کے بولنے والوں کو پکارا ہو، ہر جگہ یا تو بنی آدم ”اے اولاد آدم“ یا <<يَا أَيُّهَا النَّاسُ>> ”اے انسانو“ کہہ کر پوری نوع انسانی کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے، یا پھر اسلام قبول کرنے والوں کو احکام اور ہدایات دینے کے لیے <<يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا>> ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو“ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ اس سے خود بخود یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کی دعوت عالمگیر (UNIVERSAL) ہے اور جو انسان بھی اس دعوت کو قبول کرلیں وہ بالکل برابر کے حقوق کے ساتھ یکساں حیثیت میں مومن (BELIEVER) ہیں۔ قرآن کہتا ہے ”اہلِ ایمان تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ فرماتے ہیں کہ جو لوگ بھی اسلام کے عقائد قبول کر لیں اور مسلمانوں کا سا طرز عمل اختیار کر لیں اُن کے حقوق وہی ہیں جو ہمارے حقوق ہیں اور ان کے واجبات بھی وہی ہیں جو ہمارے واجبات ہیں۔ اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے فرمایا ”سنو تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمہارا باپ (آدم) بھی ایک۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں اور کسی عجمی کو عربی پر فضیلت نہیں۔ نہ کوئی کالا کسی گورے پر فضیلت رکھتا ہے اور نہ کوئی گورا کسی کالے پر فضیلت ہے تو خدا ترسی کی بنا پر ہے۔ تم میں سب سے زیادہ اللہ کے نزدیک عزت والا وہ ہے جو سب سے بڑھ کر پرہیز گار ہے۔

۹- اسلام کی بنیاد جن عقائد پر ہے ان میں سب سے مقدم اور سب سے اہم خدا ئے واحد پر ایمان ہے۔ صرف اس بات پر نہیں کہ خدا موجود ہے، اور صرف اس بات پر بھی نہیں کہ وہ ایک ہے، بلکہ اس بات پر کہ وہی تنہا اس کائنات کا خالق، مالک (MASTER)، حاکم (RULER) اور مدبر (ADMINISTRATOR) ہے۔ اسی کے قائم رکھنے سے یہ کائنات قائم ہے، اسی کے چلانے سے یہ چل رہی ہے، اور اس کی ہر چیز کو اپنے قیام و بقا کے لیے جس رزق (SUBSISTENCE) یا قوت (ENERGY) کی ضرورت ہے اس کا فراہم کرنے والا وہی ہے۔ حاکمیت کی تمام صفات (ATTRIBUTES OF SOVEREIGNTY) صرف اسی میں پائی جاتی ہیں اور کوئی ان میں ذرہ برابر بھی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے خدا وندی و الوہیت (DIVINITY) کی جملہ صفات کا بھی صرف وہی حامل ہے اور ان میں سے کوئی صفت اس کی ذات کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ پوری کائنات کو اور اس کی ایک ایک چیز کو وہ بیک نظر دیکھ رہا ہے۔ کائنات اور اس کی ہر شئے کو وہ براہ راست جانتا ہے۔ نہ صرف اس کے حال کو بلکہ اس کے ماضی اور مستقبل کو بھی۔ یہ نگاہ ہمہ بیں اور یہ جامع علم غیب اس کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کے سوا سب فانی ہیں، اور اپنی ذات سے خود زندہ و باقی صرف وہی ہے وہ نہ کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کی اولاد۔ اُس کی ذات کے سوا دنیا میں جو بھی ہے وہ اس کی مخلوق ہے اور دنیا میں کسی کی بھی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اُس کو کسی معنی میں بھی رب کائنات (LORD OF THE UNIVERSE) کا ہم جنس یا اُس کا بیٹا یا بیٹی کہا جاسکے۔ وہی انسان کا حقیقی معبود ہے کسی کو عبادت میں اس کے ساتھ شریک کرنا سب سے بڑا گناہ اور سب سے بڑی بے وفائی (INFIDALITY) ہے۔ وہی انسان کی دعائیں سننے والا ہے اور انہیں قبول کرنے یا رد کرنے کے اختیارات وہی رکھتا ہے۔ اُس سے دُعا نہ مانگنا بے جا ضد ہے اس کے سوا کسی اور سے دعا مانگنا جہالت ہے‘ اور اس کے ساتھ دوسروں سے بھی دعا مانگنا خدائی میں غیر خدا کو خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے۔

۱۰۔ اِسلام کی رُو سے خدا کی حاکمیت صرف فوق الفطری ہی نہیں بلکہ سیاسی اور قانونی بھی ہے اور اس حاکمیت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں۔ اُس کی زمین پر اور اس کے پیدا کیے ہوئے بندوں پر اس کے سوا کسی کو حکم چلانے کا اختیار نہیں ہے، خواہ وہ کوئی بادشاہ ہو، یا شاہی خاندان ہو، یا حکمران طبقہ ہو، یا کوئی ایسی جمہوریت ہو جو حاکمیت عوام (SOVEREIGNTY OF THE PEOPLE) کی قائل ہو۔ اُس کے مقابلے میں جو خود مختار بنتا ہے وہ بھی باغی ہے، اور جو اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی اطاعت کرتا ہے وہ بھی باغی اور ایسا ہی باغی وہ شخص یا ادارہ ہے جو سیاسی و قانونی حاکمیت کو اپنے لیے مخصوص کر کے خدا کے حدود اختیار (JURISDICTION) کو شخصی قانون (PERSONAL LAW) یا مذہبی احکام و ہدایات تک محدود کرتا ہے۔ فی الحقیقت اپنی زمین پر پیدا کیے ہوئے انسانوں کے لیے شریعت دینے والا (LAW GIVER) اُس کے سوا نہ کوئی ہے، نہ ہو سکتا ہے اور نہ کسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اس کے اقتدار اعلیٰ (SUPREME AUTHORITY) کو چیلنج کرے۔

۱۱۔ اِسلام کے اس تصورِ خدا کی رو سے چند باتیں فطری طور پر لازم آتی ہیں۔ (۱) خدا ہی اکیلا انسان کا حقیقی معبود (یا بالفاظ دیگر مستحق عبادت) ہے، جس کے سوا کسی اور کی بحیثیتِ ہی نہیں ہے کہ انسان اس کی عبادت کرے، (۲) وہی اکیلا کائنات کی تمام قوتوں کا حاکم ہے اور انسان کی دعاؤں کا پورا کرنا یا نہ کرنا بالکل اس کے اختیار میں ہے، اس لیے انسان کو صرف اسی سے دعا مانگنی چاہیے اور کسی کے متعلق یہ گمان تک نہ کرنا چاہیے کہ اس سے بھی دعا مانگی جا سکتی ہے۔ (۳) وہی اکیلا انسان کی قسمت (DESTINY) کا مالک ہے اور کسی دوسرے میں یہ قدرت نہیں ہے کہ وہ انسان کی قسمت بنا سکے یا بگاڑ سکے۔ اس لیے انسان کی اُمید اور اس کے خوف، دونوں کا مرجع بھی لازماً وہی ہے۔ اُس کے سوا نہ کسی سے اُمیدیں وابستہ کرنی چاہئیں نہ کسی سے ڈرنا چاہیے۔ (۴) وہی اکیلا انسان اور اس کے گرد و پیش کی دنیا کا خالق و مالک ہے۔ اس لیے انسان کی حقیقت اور تمام دنیا کے حقائق کا براہِ راست اور کامل علم صرف اُسی کو ہے اور ہو سکتا ہے۔ پس وہی زندگی کی پُر پیچ (COMPLICATED) راہوں میں انسان کو صحیح ہدایت اور صحیح قانونِ حیات دے سکتا ہے۔ (۵) پھر چونکہ انسان کا خالق و مالک وہ ہے اور وہی اس زمین کا مالک ہے جس میں انسان رہتا ہے، اس لیے انسانوں پر کسی دوسرے کی حاکمیت یا خود اپنی حاکمیت سراسر کفر (BLASPHEMY) ہے۔ اور اسی طرح انسان کا خود اپنا قانون ساز (LAW GIVER) بننا، یا کسی اور شخص یا اشخاص یا اداروں کے اختیارِ قانون سازی کو ماننا بھی یہی نوعیت رکھتا ہے۔ اپنی زمین پر بنی نوع انسان کا حاکم اور قانون ساز حقاً صرف وہی ہو سکتا ہے، اور (۶) اقتدارِ اعلیٰ یا حقیقی مالک ہونے کی حیثیت سے اُس کا قانون درحقیقت بالاتر قانون (SUPREME LAW) ہے اور انسان کے لیے قانون سازی (LEGISLATION) کا اختیار صرف اُسی حد تک ہے جس حد تک وہ اُس بالاتر قانون کے تحت اور اُس سے ماخوذ ہو، یا اُس کی دی ہوئی اجازتوں پر مبنی ہو۔

۱۲۔ اس مرحلے پر ہمارے سامنے اسلام کا دوسرا اہم ترین بنیادی عقیدہ آتا ہے، اور وہ ہے عقیدۂ رسالت۔ رسولؐ وہ شخص ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنا قانون انسان کو دیتا ہے، اور یہ قانون ہم کو رسولؐ سے دو صورتوں میں ملتا ہے ایک کلام اللہ، جو لفظ بلفظ رسولؐ پر نازل کیا گیا ہے یعنی قرآن مجید، دوسرے وہ اقوال اور اعمال اور احکام امر و نہی جو رسولؐ نے اپنے پیروؤں کو خدا کی ہدایت کے تحت دیے یعنی سنت۔ اس عقیدے کی اہمیت یہ ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو خدا پر ایمان محض ایک نظری و فکر و خیال بن کر رہ جاتا ہے۔ مثلاً جو چیز خدا پرستی کے عقیدے کو ایک تہذیب، ایک تمدن اور ایک نظام حیات کی شکل میں ڈھالتی ہے وہ رسولؐ کی فکری (Sociological) اور عملی رہنمائی ہے۔ اسی کے ذریعہ سے ہمیں قانون ملتا ہے اور وہی اس قانون کے منشار کے مطابق زندگی کا نظام قائم کرتا ہے۔ اسی لیے توحید کے بعد رسالت پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص عقلاً مسلم نہیں ہو سکتا۔

۱۳۔ اسلام میں رسولؐ کی حیثیت اس طرح واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ ہم ٹھیک ٹھیک یہ بھی جان سکتے ہیں کہ رسولؐ کیا ہے؟ اور یہ بھی کہ وہ کیا نہیں ہے۔

رسولؐ لوگوں کو اپنا نہیں بلکہ اللہ کا بندہ بنانے کے لیے آتا ہے، اور وہ خود بھی اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ہی کہتا ہے۔ نماز میں ہر روز کم از کم ۱۰ مرتبہ جو کلمہ شہادت پڑھنے کی تعلیم محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو دی ہے اس میں یہ فقرہ لازماً پڑھا جاتا ہے کہ <<اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ>> میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسولؐ ہیں، قرآن مجید اس معاملہ میں کسی ادنیٰ اشتباہ کی گنجائش بھی نہیں چھوڑتا کہ رسولؐ ایک انسان ہے اور خدائی (Divinity) میں اس کا ذرہ برابر بھی کوئی حصہ نہیں ہے۔ وہ نہ فوق البشر ہے، نہ بشری کمزوریوں سے بالاتر ہے، نہ خدا کے خزانوں کا مالک ہے، نہ عالم الغیب ہے کہ اس کو خدا کی طرح سب کچھ معلوم ہو۔ وہ دوسروں کے لیے نافع وضار ہونا تو درکنار خود اپنے لیے بھی کسی نفع و ضرر کا اختیار نہیں رکھتا۔ اس کا کام پیغام پہنچا دینا ہے اس کے اختیار میں کسی کو راہ راست پر لے آنا نہیں ہے، نہ انکار کرنے والوں کا محاسبہ کرنا اور ان پر عذاب نازل کر دینا اس کے اختیار میں ہے، نہ وہ خود اگر اللہ کی نافرمانی کرے (معاذ اللہ ) یا اپنی طرف سے کوئی چیز گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کر دے، یا خدا کی وحی میں بطور خود ذرہ برابر بھی رد و بدل کرنے کی جسارت کر ڈالے تو وہ خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکتا۔ محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں میں سے ایک ہیں۔ رسالت سے بالاتر کسی حیثیت کے مالک نہیں ہیں۔ وہ اپنے اختیار سے کسی چیز کو حلال اور کسی کو حرام کرنے، یا بالفاظ دیگر خدا کے اذن کے بغیر خود قانون ساز بن جانے کے مجاز نہیں ہیں۔ ان کا کام اُس وحی کا اتباع کرنا ہے جو اُن پر خدا کی طرف سے نازل ہو۔

اس طرح اسلام نے اُن تمام مبالغوں سے نوعِ انسانی کو بچا لیا جو محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آنے والے انبیاء کے پیروؤں نے اپنے پیشواؤں کے حق میں کیے تھے۔ حتی کہ ان کو خدا یا اس کا ہم جنس، یا اس کی اولاد، یا اس کا اُتار (INCARNATION) تک بنا ڈالا تھا۔ اس طرح کے تمام مبالغوں کی نفی کر کے اسلام نے رسولؐ کی جو اصل حیثیت بیان کی ہے وہ یہ ہے۔

رسولؐ پر ایمان لانے کے یہ معنی نہیں کہ کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا، جو شخص رسولؐ کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اللہ کی اطاعت کرتا ہے کیونکہ اللہ نے جو رسولؐ بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ ہدایت وہی پا سکتا ہے جو رسولؐ کی اطاعت کرے، رسولؐ جو حکم دے اسے قبول کرنا چاہیے اور جس سے منع کرے اس سے رُک جانا چاہیے۔

اس امر کی وضاحت خود محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمائی ہے کہ میں ایک بشر ہی ہوں۔ جو حکم میں تمہارے دین کے معاملہ میں دوں اس کی پیروی کرو اور جو بات اپنی رائے سے کہوں تو میں بھی ایک بشر ہوں۔ اپنی دنیا کے معاملات کو تم زیادہ جانتے ہو۔ رسول اللہؐ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت دراصل قرآن مجید کے منشاء کی تشریح ہے اور یہ تشریح قرآن مجید کے مصنف یعنی اللہ تعالیٰ نے خود ان کو سکھائی تھی۔ اس لیے ان کی تشریح اپنے پیچھے خدائی سند (AUTHORITY) رکھتی ہے جس سے ہٹ کر کوئی شخص قرآن مجید کی کوئی تشریح بطور خود کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسولؐ کی زندگی کو نمونے کی زندگی قرار دیا ہے۔ کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ رسولؐ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے۔ مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ جس معاملے کا فیصلہ خدا اور رسولؐ نے کر دیا ہو اس میں وہ خود کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں۔ بلکہ مسلمانوں کا یہ کام بھی نہیں ہے کہ کسی پیش آمدہ معاملے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ نہ دیکھ لیں کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کا حکم اس معاملے میں کیا ہے۔

مذکورہ بالا بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولؐ کے ذریعہ سے انسان کو صرف ایک بالاتر قانون (SUPREME LAW) ہی نہیں دیا ہے بلکہ مستقل اقدار (PERMANENT VALUES) بھی دی ہیں۔ قرآن مجید اور سنت میں جس چیز کو خیر قرار دیا گیا ہے وہ ہمیشہ کے لیے خیر ہے جس چیز کو شر کہا گیا ہے وہ ہمیشہ کے لیے شر ہے، جو چیز فرض کی گئی ہے وہ ہمیشہ کے لیے فرض ہے، جس چیز کو حلال ٹھہرایا گیا ہے وہ ہمیشہ کیلیے حلال ہے اور جس چیز کو حرام کیا گیا ہے وہ ہمیشہ کیلیے حرام ہے۔ اس قانون میں کسی قسم کی ترمیم یا حذف اضافہ یا تنسیخ (ABROGATION) کا اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے۔ الا یہ کہ کوئی شخص یا گروہ یا قوم اسلام ہی کو چھوڑ دینے کا ارادہ رکھتی ہو۔ جب تک مسلمان مسلمان ہیں ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ کل کا شر آج خیر ہو جائے اور پرسوں پھر شر ہو جائے ۔ کوئی قیاس، کوئی اجتہاد، کوئی اجماع اس قسم کی تبدیلی کا مجاز نہیں ہے۔

14۔ اسلام کا تیسرا بنیادی عقیدہ آخرت ہے۔ اور اس کی اہمیت یہ ہے کہ اس کا انکار کرنے والا کافر ہو جاتا ہے اور خدا، رسولؐ، قرآن کسی چیز کا ماننا بھی اُسے کفر سے نہیں بچا سکتا۔ یہ عقیدہ اپنی تفصیل صورت میں چھ لازمی تصورات پر مشتمل ہے۔

۱۔ دنیا میں انسان غیر ذمہ دار (IRRESPONSIBLE) بنا کر نہیں چھوڑ دیا گیا ہے، بلکہ وہ اپنے خالق کے سامنے جواب دہ ہے۔ دنیا کی موجودہ زندگی دراصل انسان کے لیے امتحان اور آزمائش کے لیے ہے۔ اس کے خاتمے کے بعد اُسے اپنے کارنامہ حیات کا حساب خود کو دینا ہو گا۔

۲۔ اس محاسبے کے لیے اللہ نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ نوعِ انسانی کو دنیا میں کام کرنے کے لیے جتنی مہلت دینے کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے اس کے اختتام پر قیامت برپا ہو گی جس میں دنیا کا موجودہ نظام درہم برہم کر دیا جائے گا اور ایک دوسرا نظامِ عالم نئے طرز پر برپا کیا جائے گا۔ اُس نئی دنیا میں وہ تمام انسان دوبارہ زندہ کر کے اُٹھائے جائیں گے جو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے تھے۔

۳۔ اُس وقت ان سب کو بیک وقت خداوندِ عالم کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اور ہر شخص کو اپنی ذاتی حیثیت میں ان اعمال کی جواب دہی کرنی ہو گی جو اس نے خود اپنی ذمہ داری پر دنیا میں کیے ہوں گے۔

۴۔ وہاں اللہ تعالیٰ صرف اپنے ذاتی علم پر فیصلہ نہیں کرے گا، بلکہ عدل کی تمام شرائط پوری کی جائیں گی۔ ہر شخص کے کارنامہ حیات کا پورا ریکارڈ پیش ہو گا جسے کہ وہ مستند عدالت کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور بے شمار اقسام کی شہادتیں اس امر کے ثبوت میں پیش کر دی جائیں گی کہ اُس نے خفیہ اور علانیہ چھپ چھپا کر کیا ہے اور کس نیت سے کیا ہے۔

۵- اللہ کی عدالت میں کوئی رشوت، کوئی بے جا سفارش اور کوئی خلاف حق وکالت نہ چل سکے گی۔ کسی کا بوجھ دوسرے پر نہ ڈالا جائے گا۔ کوئی قریب سے قریب عزیز یا دوست یا لیڈر یا مذہبی پیشوا یا خود ساختہ معبود کسی کی مدد کے لیے آگے نہ بڑھے گا۔ انسان وہاں تن تنہا بالکل بے یار و مددگار کھڑا ہوا اپنا حساب دے رہا ہوگا۔ اور فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا۔

۶۔ فیصلے کا سارا دارو مدار اس بات پر ہو گا کہ انسان نے دنیا میں انبیاء کے بتائے ہوئے حق کو مان کر اور آخرت میں اپنی جواب دہی کو محسوس کر کے ٹھیک ٹھیک اللہ کی بندگی کی یا نہیں۔ پہلی صورت میں اس کے لیے جنت ہے، اور دوسری صورت میں ۔

15۔ یہ عقیدہ تین اقسام کے انسانوں کی زندگی کے طریقوں کو ایک دوسرے سے بالکل ہی مختلف کر دیتا ہے۔ ایک قسم کے انسان وہ ہیں جو آخرت کے قائل نہیں ہیں اور بس اسی دنیا کی زندگی کو زندگی سمجھتے ہیں۔ وہ لامحالہ خیر و شر کا معیار اعمال کے اُن نتائج ہی کو سمجھیں گے جو اس دُنیا میں ظاہر ہوتے ہیں، یہاں جس عمل کا نتیجہ اچھا یا مفید ہو وہ ان کے نزدیک خیر ہو گا اور جس کا نتیجہ بُرا یا نقصان دہ ہو گا وہی ان کے نزدیک شر ہوگا۔ بلکہ بارہا نتائج عمل کے لحاظ سے ایک ہی چیز ایک وقت میں خیر اور دوسرے وقت میں شر ہوگی۔ دوسری قسم کے آدمی وہ ہیں جو آخرت کو تو مانتے ہیں مگر ان کو یہ بھروسہ ہے کہ کسی کی سفارش اللہ کی عدالت میں انہیں پھانسے گا، یا کوئی ان کے گناہوں کا کفارہ پہلے ہی دے چکا ہے، یا وہ اللہ کے چہیتے ہیں اس لیے انہیں بڑے سے بڑے گناہوں کی سزا بھی برائے نام دی جائے گی۔ یہ ہر عقیدہ آخرت کے تمام اخلاقی فوائد کو ضائع کر کے دوسری قسم کے لوگوں کو بھی پہلی قسم کے اشخاص کی صف میں لے جاتی ہے۔ تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو عقیدہ آخرت کو ٹھیک اس شکل میں مانتے ہیں جس شکل میں اسلام انہیں پیش کرتا ہے، اور کسی کفارے یا بے جا سفارش یا اللہ سے کسی خاص تعلق کی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں۔ ان کے لیے یہ عقیدہ ایک بہت بڑی اخلاقی طاقت رکھتا ہے۔ جس شخص کے ضمیر میں آخرت کا یقین اپنی صحیح صورت میں جاگزیں ہو جائے اس کا حال ایسا ہو گا جیسے اس کے ساتھ ہر وقت ایک نگران لگا ہوا ہو جو ہر برائی کے ہر ارادے پر اُسے ٹوکتا، ہر اقدام پر اسے روکتا اور ہر عمل پر اُسے سرزنش کرتا ہے۔ باہر کوئی گرفت کرنے والی پولیس، کوئی شہادت دینے والا گواہ، کوئی سزا دینے والی عدالت اور کوئی ملازمت کرنے والی رشتے عام موجود ہو یا نہ ہو، اس کے اندر ایک ہمہ گیر محتسب ہر وقت بیٹھا رہے گا جس کی پکڑ کے خوف سے وہ کبھی خلوت میں یا جنگل میں یا اندھیرے میں یا کسی سنسان جگہ میں بھی خدا کے مقرر کردہ فرض سے فرار اور اس کے مقرر کردہ حرام کے ارتکاب کا حوصلہ نہ کر سکے گا اور بالفرض اگر کبھی گزرے تو بعد میں شرمندہ ہو گا اور توبہ کرے گا۔ اس سے بڑھ کر اخلاقی اصلاح اور انسان کے اندر ایک مستحکم کردار پیدا کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ۔ خدا کا بالاتر قانون جو مستقل اقتدار انسان کو دیتا ہے اُن پر مضبوطی کے ساتھ انسان کے کاربند ہونے کی اُن سے کسی حالت میں اس کے نہ ہٹنے کا انحصار اسی عقیدے پر ہے۔ اسی لیے اسلام میں اس کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو خدا اور رسالت پر ایمان بھی بے کار ہے۔

۱۶۔ اسلام، جیسا کہ پیراگراف نمبر ۴ میں بیان کر چکا ہوں، ایک پوری تہذیب، ایک جامع تمدن اور ایک ہمہ گیر (COMPREHENSIVE) نظامِ حیات ہے، اور انسانی زندگی کے تمام گوشوں میں اخلاقی رہنمائی دیتا ہے، اس لیے اس کے اخلاقیات دراصل تارک الدنیا راہبوں اور جوگیوں اور سنیاسیوں کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے ہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں کو چلاتے یا ان کے اندر کام کرتے ہیں۔ اخلاق کی جو بلندیاں دُنیا، خانقاہوں، راہب خانوں اور صومعوں (CONVENTS, MONASTRIES, CLOISTERS) میں تلاش کرتی تھی، اسلام ان کو زندگی کے بیچ منجدھار میں لے آنا چاہتا ہے۔ اس کا منشا یہ ہے کہ حکومتوں کے فرمانروا، صوبوں کے گورنر، عدالتوں کے جج، فوج اور پولیس کے افسر، پارلیمنٹوں کے ہر ممبر، مالیات اور صنعت و حرفت کے کارفرما، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طلبہ، بچوں کے باپ، ماؤں کے بچے، عورتوں کے شوہر اور شوہروں کی عورتیں، ہمسایوں کے ہمسائے، غرض سب ان اخلاقیات سے آراستہ ہوں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر گھر میں بھی اسی اخلاق کی فرمانروائی ہو اور محلے اور بازار میں بھی اسی کا چلن ہو۔ وہ چاہتا ہے کہ کاروبار کے سارے ادارے اور حکومت کے سارے محکمے اسی کی پیروی کریں۔ سیاست سچائی اور انصاف پر مبنی ہو۔ قومیں حق شناسی اور ادائے حقوق پر ایک دوسرے سے معاملہ کریں۔ جنگ بھی ہو تو شرافت اور تہذیب کے ساتھ ہو نہ کہ بھیڑیوں کی سی درندگی کے ساتھ۔ انسان جب خدا ترسی اختیار کرلے، خدا کے قانون کو بالا تر مان لے، خدا کے سامنے اپنی جزا و سزا کو یاد رکھ کر مستقل اقرار کا پابند ہو جائے، تو پھر اس کی یہ صفت صرف عبادت گاہ تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ جس حیثیت میں بھی وہ دنیا کے اندر کام کر رہا ہے خدا کے سچے اور وفادار بندے کی طرح ہی کام کرے۔

یہ ہے مختصراً وہ چیز جس کا اسلام علمبردار ہے اور یہ محض کسی فلسفی کی خیالی جنت (UTOPIA) نہیں ہے، بلکہ محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عملاً برپا کر کے دکھا دیا اور آج چودہ سو برس گزر جانے پر بھی اس کے اثرات مسلم معاشرے میں کم و بیش پائے جاتے ہیں۔