خطبات یورپ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "خطبات یورپ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ان تقاریر، مجالسِ سوال و جواب اور خطابات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کے دورِ حاضر کے سفروں کے دوران مغربی دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے دیے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا ایک مکمل، منظم اور فطرتِ انسانی کے عین مطابق نظامِ حیات ہے، جو جدید دور کے تمام بحرانوں کا واحد جامع حل پیش کرتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اس کتاب میں مغربی ذہن کے سامنے اسلام کو بغیر کسی نفسیاتی رکاوٹ، معذرت خواہی یا واخواہی کے، ایک آزاد، غیر مرعوب اور پراعتماد انداز میں پیش کیا ہے۔
کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جس میں مغرب میں اسلام کے بارے پائی جانے والی غلط فہمیوں کی وجہ کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مولاناؒ نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کے عمل اور اسلام کی تعلیمات کے درمیان موجود تضاد نے غیر مسلموں کو اسلام کو قبول کرنے سے روک رکھا ہے۔ ساتھ ہی، مغربی تہذیب کے تناظر میں اسلام کی معاشرتی تعلیمات کو قدیم یا شہواتی سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس کے جواب دینے والا کوئی ایسا شخص دستیاب نہیں جو مغربی تہذیب سے مرعوب نہ ہو۔ اس خلا کو پُر کرتے ہوئے مولانا نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا ہے جو جدید چیلنجز کا جواب دیتا ہے۔
دوسرے باب "برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل" میں مولانا نے برطانوی معاشرے کی تاریخی اور فکری بنیادوں کا جائزہ لیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل
[اگست 1965ء کے آخر میں یوکے اسلامک مشن کی جو سالانہ کانفرنس لندن میں ہوئی تھی، اس کے لیے یہ تقریر ٹیپ ریکارڈ کرکے بھیجی گئی تھی] <<الْحَمْدُ لِلَّهِ وَكَفَىٰ وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ>>
میرے دور افتادہ بھائیو، السلام علیکم ورحمة الله وبركاته۔
آپ کے مشن کی اس کا نفرنس کے موقع پر میں سب سے پہلے آپ کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کے ارادوں میں خلوص، آپ کی کوششوں میں برکت، اور آپ کے کاموں میں رشد و ہدایت عطا فرمائے۔ آپ اگر چہ جسمانی طور پر بہت دور ہیں مگر دل سے بہت قریب ہیں اور مومن جہاں بھی ہو، مومن کے دل سے قریب ہی رہتا ہے، کیونکہ جو رشتہ اُس کو دوسرے مومن سے جوڑتا ہے وہ دل ہی کا رشتہ ہے۔
میرے عزیز بھائیو! آپ جس سر زمین میں مقیم ہیں اس کے متعلق آپ کا مشاہدہ میری بہ نسبت زیادہ قریب کا ہے، اس لیے یہ بات بظاہر کچھ بے محل سی ہو گی کہ میں یہاں سے بیٹھ کر اس کے بارے میں آپ کو کچھ بتاؤں۔ مگر جو باتیں آج مجھے آپ سے کہنی ہیں ان کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ سب سے پہلے ایک مسلم گروہ ہونے کی حیثیت سے اپنے لیے اس سر زمین کی پوزیشن، اور اُس کے لیے اپنی پوزیشن کو اپنے ذہن میں اچھی طرح تازہ کر لیں۔
یہ سرزمین کبھی نورِ اسلام سے منور نہیں رہی ہے۔ اس کا معاشرہ ابتدائے آفرینش سے غیر مسلم ہے۔ ایک زمانہ تک یہاں پوری شدت کے ساتھ ایک مسخ شدہ مذہب آسمانی کا دور دورہ رہا ہے۔ جس میں توحید کے ساتھ شرک کی آمیزش ہے، رسالت و وحی کو ماننے کے ساتھ مخلوق کی الدین کی دوسرے خدا کے رسول کو خدا کا بیٹا بنا لیا گیا ہے، عقیدہ آخرت کے ساتھ کفارہ کا عقیدہ شامل ہو گیا ہے، اور خدا کی شریعت کو لعنت سمجھ کر چھوڑ دیا گیا ہے جس کی جگہ پہلے مذہبی پیشواؤں کی خود ساختہ شریعت نے لی اور بعد میں دین سے بے نیاز قانون سازی نے لے لی۔ اس مذہب کے تسلط و اقتدار کی وہ شدت تو اب باقی نہیں رہی ہے، مگر اس کے تمام بنیادی افکار و عقائد اب بھی پوری فضا پر چھائے ہوئے ہیں۔
خدا کے حقیقی دین سے جو دوری اس مذہب کی بدولت یہاں پیدا ہو چکی تھی، اُس کو صلیبی لڑائیوں نے ہزار درجہ زیادہ بڑھا دیا اور یہ دُوری اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف نفرت اور تعصب میں تبدیل ہو گئی۔
اس کے بعد یہاں لادینی فلسفوں کا طوفان اٹھا۔ جس نے ایک مادہ پرستانہ تہذیب کو جنم دیا۔ اور چونکہ یہی وہ دَور تھا جس میں ان لوگوں کو بے مثال مادی ترقی نصیب ہوئی، دنیا بھر سے ٹوٹی ہوئی اور کچلی ہوئی دولت کی ریل پیل ان کے ہاں ہونے لگی، اور روئے زمین کے ہر گوشے میں ان کے اقتدار کے پھریرے اُڑتے چلے گئے، اس لیے ایک طرف اپنی گمراہی پر ان کا غرور بڑھتا چلا گیا، اور دوسری طرف تہذیب و تمدن، معاشرت، اخلاق، غرض ان کے پورے نظامِ زندگی میں وہ اوصاف جڑ پکڑتے چلے گئے جو اپنے اصول اور عقائد ہر دو قول میں بہت بڑی حد تک اسلام کی عین ضد ہیں۔
اپنے عروج کے اس دَور میں بہت سے مسلمان ملک ان کی زد میں آئے اور جاپان کا یہ مسلمان تو ہیں سالہا سال تک ان سے مغلوب رہیں۔ اس صورتِ حال کا ایک اثر ان پر پڑا، اور دوسرا اثر ہم پر۔ ان پر اس کا اثر یہ پڑا کہ اسلام اور مسلمان، دونوں ان کی نگاہ سے گر گئے۔ صلیبی لڑائیوں کے زمانے کی نفرت پر حقارت کا اضافہ اور ہو گیا، اور پرانا تعصب اپنی جگہ جوں کا توں قائم رہا۔ ہم پر اس کا اثر یہ پڑا کہ ہم ان سے صرف مغلوب ہی نہیں ہوئے، مرعوب بھی ہو گئے۔ ان کے سیاسی و معاشی اقتدار نے ہمارے تمدن اور ہماری تہذیب کی جڑیں ہلا دیں۔ ان کے قوانین نے ہمارے نظامِ زندگی کا نقشہ بدل ڈالا۔ ان کی تعلیم نے ہمارے افکار و نظریات اور عقائد تک میں ہلچل برپا کر دی۔ اور ان کے غالب اثرات نے ہمارے اخلاق ہی میں نہیں، ہمارے گھروں میں گھس کر ہماری معاشرت کی بنیادی خصوصیات تک میں ترمیم کر ڈالی۔ اس مغلوبیت کے دَور میں جس نے جتنا زیادہ ان کا اثر قبول کیا اُسے اتنا ہی زیادہ ہمارے ہاں عروج نصیب ہوا۔ گزشتہ اس طور پر ہمارے جو افراد اس سرزمین میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے ان کی بہت بڑی اکثریت اندر سے باہر تک پوری طرح ان کے رنگ میں رنگ گئی نور واپسی جا کر یہی انگریزیت کا مکمل پچیسہ پانے ہوئے لوگ زندگی کے ہر شعبے میں ہمارے رہنما و سربراہ کار بنتے رہے۔
اب جس نئے دَور میں ہم داخل ہوئے ہیں، اس میں صورت دو حیثیتوں سے تغیر ہوا ہے۔ ایک یہ کہ ہم سیاسی حیثیت سے اس سرزمین کے باشندوں کی غلامی سے آزاد ہو گئے ہیں۔ دوسرے یہ کہ دوسری جنگِ عظیم نے ان کے اقتدار کی کمر توڑ دی ہے، اور ان کو خدا کی زمین پر وہ غلبہ حاصل نہیں رہا ہے جو اس جنگ سے پہلے تک تھا۔ لیکن عملاً اس لحاظ سے آج تک کوئی فرق واقع نہیں ہوا ہے کہ ان کے نظریات، ان کے علوم، ان کی تہذیب، ان کے تمدن، ان کے اخلاق، اور ان کے طور طریقوں کا ہم پر جو غلبہ پہلے تھا وہ اب بھی یہی ہے۔ ہر معاملہ میں ہم ان کے شاگرد ہی نہیں، بلکہ اندھے مقلد ہیں، اور ان کی سیاسی و معاشی فوقیت گھٹ جانے سے جو جگہ خالی ہوئی تھی، اسے انہی کے بھائی بند امریکہ والوں نے بھر دیا ہے۔
حضرت! یہ ہے وہ ملک اور معاشرہ جس میں آپ رہتے ہیں۔ آپ کے اور اُس کے درمیان جو نسبتیں اب تک رہی ہیں اُن کا یہ مختصر تجزیہ میں نے آپ کے سامنے اس لیے پیش کیا ہے کہ آپ یہاں اپنی پوزیشن کو ٹھیک ٹھیک ذہن میں رکھ کر ہی مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں، جو یہاں کا قیام اختیار کر کے آپ کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور اُس زمین کو پہچانیں، جس پر یہاں رہتے ہوئے ایک مصلح گروہ کی حیثیت سے آپ کے اوپر عائد ہوتا ہے۔ پہلے زیادہ تر مسلمان یہاں عارضی طور پر تعلیم یا کاروبار کے لیے آتے تھے۔ مگر اب یہاں آپ کی ایک مستقل آبادی بس رہی ہے، اور اندازہ یہ ہے کہ باہر سے آنے والے متوطن مسلمانوں کی اچھی خاصی جماعت آئندہ برطانوی معاشرے کا ایک جز بن کر رہے گی اس لیے جن مسائل کی طرف میں آپ کو توجہ دلا رہا ہوں، وہ عارضی و وقتی نوعیت کے نہیں ہیں، بلکہ دوامی نوعیت کے ہیں۔
اس سلسلے میں چھوٹے چھوٹے امور کو چھوڑ کر میں آپ کو صرف چند اہم ترین مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔
سب سے پہلا اور سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو یہاں اپنے دین، اپنی تہذیب، اپنے اخلاق، اپنے اصولِ معاشرت، اور فی الجملہ اپنی انفرادیت کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت کوشش کرنی ہو گی، کیونکہ آپ ایک ضعیف معاشرے سے نکل کر ایک بہت طاقتور معاشرے میں آگئے ہیں، جس کے زبردست اثرات سے خود اپنے ملک میں بھی بچ کر رہنا آپ کے لیے مشکل ثابت ہو چکا ہے۔ یہاں آکر آپ نے اس معاملہ میں ذرا سی بھی غفلت برتی تو آپ اس معاشرے میں جذب ہو کر اپنی ہستی گم کر دیں گے اور محض نسل در نسل کا فرق آپ کی انفرادیت کو زیادہ دیر تک نہ بچا سکے گا۔ اس لیے آپ کو اپنے تمام وسائل و ذرائع جمع کر کے ایسی تدبیریں اختیار کرنی چاہئیں جن سے اس ملک کے متوطن مسلمانوں میں وحدت پیدا ہو، ان کے درمیان باہمی روابط زیادہ سے زیادہ بڑھیں، ہر طرح کی چھوٹی چھوٹی تفریقیں ختم کر کے ایک ملت ہونے کا احساس ان میں پیدا کیا جائے، تحفظِ راہ پر جانے والوں کو سنبھالا جائے، اخلاق اور معاشرت کے بگاڑ کو روکا جائے، اور یہاں کے مسلمانوں میں دین کا شعور اور اس کا علم پھیلانے کے لئے نہ صرف تعلیمی و تبلیغی اجتماعات اور نشر و اشاعت کا انتظام کیا جائے، بلکہ ایسے کارکنوں کا ایک منظم گروہ تیار کیا جائے جو مسلمان افراد تک پہنچ کر انہیں اسلام سے وابستہ رکھنے کی کوشش کریں، اور ان کے انفرادی حالات کو سمجھ کر ان کی مشکلات کو رفع کرنے کی فکر کریں جو انہیں مسلمانوں کی سی زندگی بسر کرنے میں پیش آ رہی ہوں۔
دوسرا مسئلہ جو اپنی اہمیت میں اس سے کچھ کم نہیں ہے، آپ کی آئندہ نسلوں کا ہے، جو یہاں اس کفر کے ماحول میں پیدا ہو رہی ہیں، اور تعلیم و تربیت پا رہی ہیں۔ آپ ان علاقوں سے آرہے ہیں، جہاں آپ کو مسلمان معاشرہ میسر تھا۔ اس کے باوجود آپ کے لئے کفر کے اس غالب ماحول میں اپنے تشخص کو برقرار رکھنا اور اپنی زندگی کو غیر اسلامی اثرات سے محفوظ رکھنا دشوار ہو رہا ہے۔ پھر ان بچوں کا کیا انجام ہوگا جو اسی ماحول میں آنکھیں کھولیں گے، اسی تہذیب کو چاروں طرف محیط دیکھیں گے، اور یہیں تعلیم و تربیت پائیں گے؟ آپ نے اگر ان کے مستقبل کی فکر نہ کی، اور ان نسلوں کو سنبھالنے کے لئے اپنی متحدہ کوششوں سے کوئی مناسب انتظام نہ کیا، تو آپ خود چاہے اپنے آپ کو اس بحر شور میں غرق ہونے سے بچا لے جائیں، اپنی اولاد کو نہ بچا سکیں گے۔ یہ مسئلہ برطانیہ میں رہنے والے تمام مسلمانوں کی خاص توجہ کا محتاج ہے۔ کسی تاخیر اور تساہل کے بغیر اس پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے اور جو بھی بااثر مسلمان اس ملک کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں، انہیں مل جل کر ایسے انتظامات کرنے چاہئیں جو وہاں کے مسلمان بچوں کو دینی تعلیم و تربیت دینے کے لیے مناسب اور ممکن ہوں۔
یہ دوامور اس حیثیت سے اہم ہیں کہ ان پر آپ کے بقا کا انحصار ہے۔ لیکن مسلمان کی ہستی کا بقا صرف اسی کی ذات کے لیے مطلوب نہیں ہوتا، بلکہ اس سے زیادہ بڑے ایک اور مقصد کے لیے مطلوب ہوتا ہے۔ <<الله تعالیٰ نے>> اپنے فضل سے آپ کو یہ موقع دیا ہے کہ پہلے جو لوگ اپنی گمراہی کا جھنڈا لے کر کبھی فاتحانہ شان سے آپ کے ہاں پہنچے تھے، اب خود ان کے ہاں کے آپ اپنی ہدایت کا جھنڈا لیے ہوئے فاتحانہ شان سے نہ سہی مبلغانہ شان ہی سے پہنچ جائیں۔ ابتدا سے یہ سرزمین نورِ اسلام سے محروم ہے۔ آپ کو تقدیر الٰہی نے اسلام کا نمائندہ بنا کر یہاں لا بسایا ہے۔ اور کیوں ایہانہ ہو کہ آپ یہاں اسلام کی غلط نمائندگی کر کے اپنے ساتھ اپنے دین کو بھی رسوا کریں اور خدا کے حضور اپنی غلط کاریوں کے ساتھ ان کی بھی مزید گمراہی کا وبال اپنے سر لے کر جائیں۔ آپ کو خواہ اس کا شعور ہو یا نہ ہو، اور آپ خواہ اس بات کا کوئی پاس کریں یا نہ کریں، جب تک آپ مسلمان ہیں وہ سب لوگ آپ کو اسلام کا نمائندہ ہی سمجھیں گے جن کو سابقہ آپ کو دیکھنے سننے، ملنے جلنے اور کام کرنے کا موقع ملے گا۔ وہ آپ کی ایک ایک چیز سے اندازہ لگائیں گے کہ جس دین و ملت کی آپ نمائندگی کر رہے ہیں وہ کیا ہے۔ آپ کی ہر کمزوری ان کی نگاہ میں اسی دین و ملت کی کمزوری قرار پائے گی اور ہر خوبی آخر کار اُس کی خوبی ٹھہرے گی۔ اس لیے ہر مسلمان کو جو یہاں رہتا ہے یہ خیال اپنے دماغ سے نکال دینا چاہیے کہ یہاں وہ محض اپنی پرائیویٹ حیثیت میں مقیم ہے اور اُس کی بھلائی اور بُرائی اُس کی ذاتی بھلائی اور بُرائی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ نہیں۔ وہ فی الواقع یہاں اسلام اور ملتِ مسلمہ کا سفیر ہے۔ یہ سفارت کی ذمہ داری مسلمان ہونے کی حیثیت سے آپ سے آپ اُس پر عائد ہوتی ہے، اس سے وہ سبکدوش ہونا چاہے بھی تو نہیں ہو سکتا۔
اس منصبِ سفارت کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے جو کچھ آپ کو کرنا چاہیے اسے اس کو میں بڑے اختصار کے ساتھ آپ سے عرض کرتا ہوں۔
اولین چیز یہ ہے کہ آپ کے ہر فرد میں اپنے سفیرِ اسلام ہونے کا شعور ہو۔ یہ شعور جس کسی شخص میں پیدا ہوگا اُسی لمحہ سے وہ اپنی زندگی اپنے اخلاق، اپنے معاملات اور اپنے برتاؤ کو اس نگاہ سے دیکھنا شروع کر دے گا کہ یہ محض میرا ذاتی کردار نہیں ہے، بلکہ میرے دین اور میری ملت کی نمائندگی بھی ہے، اور یہی چیز اُسے یہ سوچنے پر مجبور کر دے گی کہ کیا میں اس کی ٹھیک نمائندگی کر رہا ہوں؟ کیا مجھے دیکھ کر ایک آدمی واقعی یہ محسوس کرے گا کہ اسلام کوئی قابلِ غور چیز ہے، مسلمان اپنی کوئی امتیازی شان رکھتا ہے، اور اُس چیز کا پتہ لگانے کی ضرورت ہے جس نے اس میں یہ امتیازی شان پیدا کی ہے؟
یہ شعور اپنے اندر بیدار کرنے کے بعد آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک غیر مسلم معاشرے میں بکھرے ہوئے وہ چند افراد جو یہاں اسلام کی نمائندگی کر رہے ہیں، کس طرح اپنی امتیازی شان نمایاں کر سکتے ہیں۔ جس سے اس معاشرے کے لوگوں کا اور اپنا فرق محسوس ہو اور وہ فرق بھی ایسا ہو جو ان میں قدر کا احساس پیدا کرے۔ یہ بات یاد رکھیے کہ جتنا زیادہ آپ اپنے آپ کو اس معاشرے کا ہم رنگ بنائیں گے اتنی ہی زیادہ آپ کی امتیازی حیثیت مٹے گی اور اسی قدر زیادہ آپ ناقابلِ توجہ ہو جائیں گے۔ کچھ زیادہ مدت ابھی نہیں گزری ہے، ۴۰ سال پہلے بھی کی بات ہے کہ یہی انگریز آپ کے اپنے ملک میں رہتے تھے، اور ڈھائی سو برس انہوں نے وہاں گزارے۔ اس پورے زمانے میں کس چیز نے ان کا امتیاز قائم کیسے رکھا؟ انہوں نے کبھی آپ کا لباس نہیں پہنا۔ کبھی آپ کی زبان نہیں بولی۔ کبھی آپ کے کھانے نہیں کھائے۔ کبھی آپ کے طرزِ زندگی کو اختیار نہیں کیا۔ کبھی اپنے طور طریقے آپ کی خاطر نہیں چھوڑے۔ جن طریقوں کو بھی یہ اپنے اصول اور معیاروں کے مطابق ٹھیک سمجھتے تھے، انہی پر عمل کرتے رہے۔ آپ مدتوں ان کی ایک ایک چیز پر ناک بھوں چڑھاتے رہے۔ مگر ان کی اسی استقامت اور قومی کیرکٹر کی مضبوطی نے آخر کار ان کو بدلنے کے بجائے آپ کو بدل ڈالا۔ اس کے برعکس اگر یہ آپ کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگ لیتے، تو ہندوستان کے سمندر میں مٹھی بھر انگریز نمک کی طرح گھل کر رہ جاتے۔ یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ طاقت ور دوسروں کو اپنے سانچے میں ڈھالتا ہے، اور کمزور خود دوسروں کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ جو لوگ اپنے آپ سے خود شرمائے ہوئے ہوں اور دوسروں کے معاشرے میں جاتے ہوئے اپنا لباس، اپنی زبان، اپنی معاشرت، اور اپنی زندگی کے اصول اور طور طریقے چھوڑ چھاڑ کر اپنے آپ کو ان کا ہم رنگ و ہم مشرب بنا لیتے ہوں، اُن کو دیکھتے ہی اُس معاشرے کے سبھی افراد اُن پر دلیر ہو جاتے ہیں کہ یہ کمزور مزاج کے لوگ ہیں، اپنے آپ کو خود کمتر اور ہمیں برتر سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کوئی اثر وہ کیسے قبول کر سکتے ہیں؟ اور کیوں اُن کے دل میں کبھی یہ خیال پیدا ہو کہ ان بے چاروں کے پاس بھی کوئی چیز قدر کے لائق ہو سکتی ہے؟
پس اگر آپ یہاں اسلام کے سفیر ہوئے کا حق ادا کرنا چاہیں تو سب سے پہلے اپنے آپ کو ایک مضبوط کیریکٹر رکھنے والا گروہ بنائیے۔ اپنے لباس، اپنی زبان، اپنے طرزِ زندگی، اور اپنے اخلاق و معاملات میں اپنی امتیازی شان قائم کیجیے۔ جو فرائض مسلمان پر اُس کا دین عائد کرتا ہے اُن کو علانیہ ادا کیجئے اور ہر اس مزاحمت کا مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کیجیے جو ان کے ادا کرنے میں پیش آئے۔ جن چیزوں کو اسلام حرام قرار دیتا ہے، سخت تکلیف اٹھا کر بھی اُن سے پرہیز کیجیے اور اُن کو حرام کہتے ہوئے نہ شرمائیے۔ آپ کی معاشرت کے لیے جو طریقے اسلام نے بتائے ہیں اُن کو پوری جرات کے ساتھ برتیے اور جب یہاں کی معاشرت سے آپ کی معاشرت کے طریقوں کا فرق ظاہر ہونے پر اعتراضات ہوں تو گھبرا کر اپنے آپ کو نہ بدلیے بلکہ دھڑلے کے ساتھ اپنے طریقوں کی برتری ثابت کیجیے۔ اپنے اخلاق اور معاملات میں وہ پاکیزگی، وہ راستبازی کی اور وہ دیانت پیدا کیجیے جو آپ کے گرد و پیش رہنے والے ہر شخص کو نمایاں طور پر محسوس ہو اور بالآخر یہاں کے لوگوں میں یہ عام رائے پیدا ہو جائے کہ مسلمان ایک خاص ٹائپ کا آدمی ہوتا ہے۔ جس سے فلاں اوصاف کی توقع کی جاسکتی ہے اور فلاں اوصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
یہ ڈھنگ آپ اختیار کریں گے تو آپ کے لیے اسلام کی نمائندگی کرنے کے راستے خود بخود کھلتے چلے جائیں گے، اور اس سے دہرا فائدہ ہوگا۔ یہ فائدہ بھی ہو گا کہ آپ کی اس روش سے یہاں کے عام لوگوں میں ہر طرف کچھ سوالات پیدا ہوں گے جن کا جواب آپ سے مانگا جائے گا ۔ اور یہ فائدہ بھی ہو گا کہ آپ ان سوالات کا جواب دینے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے پر خود مجبور ہو جائیں گے۔ مثال کے طور پر نماز روزے کی پابندی پر آپ کا ہر حال میں اور ہر جگہ اصرار ان عبادات کی اہمیت و ضرورت کے بارے میں ایک عام سوال پیدا کر دے گا۔ اور اُس کو سمجھانے کے لیے آپ کو خود اُسے سمجھنے اور بیان کرنے کے قابل بننا پڑے گا۔ حرام و حلال کی تمیز میں آپ کی شدت جگہ جگہ یہ سوال اُٹھا دے گی کہ یہ تمیز کیسی اور کیوں ہے، اور اُس کا جواب دینے کی قابلیت آپ کو اپنے اندر پیدا کرنی پڑے گی۔ یہاں کی مادر پدر آزادی سے آپ بچیں گے، مخلوط معاشرت اور اس کی تمام گندگیوں سے آپ اجتناب کریں گے، اور آپ کی خواتین پردے کے حدود کی پابندی کریں گی تو بڑے پیمانہ پر یہ سوالات اٹھ کھڑے ہوں گے کہ مغربی معاشرت کی ”ترقی پسندی“ کے مقابلے میں یہ ”رجعت“ کیسی ہے۔ اُس وقت آپ کے لیے یہ بتانے کا بہترین موقع ہوگا کہ جس ”ترقی پسندی“ پر یہ لوگ ناز کر رہے ہیں، اس میں کیا کیا قباحتیں ہیں، اس کے کیا نتائج رونما ہو رہے ہیں، اور جسے یہ ”رجعت“ سمجھ رہے ہیں وہ کن وجوہ سے انسانی معاشرے کے لیے ایک بہتر اور پاکیزہ تر راستہ ہے۔ آپ شاید یہ خیال کریں گے کہ ان سوالات کا چھڑنا اور ان پر بحثیں ہونا بس خواہ مخواہ کی قیل و قال بن کر رہ جائے گا اور اس کا کوئی اثر یہاں کے معاشرے پر نہ پڑے گا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس ہوگا۔ انسانی معاشرہ کبھی اور کہیں ایسے لوگوں سے خالی نہیں ہوتا جو غلط طریقوں کے عام رواج کو ان کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں سمجھتے اور ان کے نقصانات کو خود کم و بیش محسوس کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اس برطانوی معاشرے میں بھی کمی نہیں ہے۔ آپ اپنے بہتر نظامِ زندگی کے اتباع میں مضبوطی دکھائیے اور اپنے عمل اور اپنی زبان سے اُس کی نمائندگی کیجیے۔ کچھ زیادہ دن نہ گزریں گے کہ اسی معاشرے میں سے آپ اس پکار پر لبیک کہنے والے ہیں، ہزاروں مرد اور عورتیں، جوان اور بوڑھے، ایسے نکل آئیں گے جو سنجیدگی کے ساتھ آپ کی باتوں پر غور کرنا شروع کر دیں گے، اور روز بروز ان لوگوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی جو غور کرنے سے آگے بڑھ کر ان کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہو جائیں گے۔ یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے۔ آپ ہمت کر کے اس کا تجربہ دیکھیے۔ انشاء اللہ دیر یا سویر یہ اپنا رنگ دکھا کر رہے گی۔
لیکن دنیا کے اس انتہائی ترقی یافتہ ملک میں اسلام کی نمائندگی کرنے کے لیے صرف یہی چیز کافی نہیں ہے۔ یہاں فلسفہ اور سائنس اور معاشرتی علوم اپنے عروج پر ہیں۔ یہاں اعلیٰ درجہ کی ذہانت اور علم رکھنے والے لوگ کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ یہاں مضبوط دلائل، وزنی تنقید، زبردست علمی شواہد، اور شاندار طرز پیش کش کے بغیر کوئی چیز فروغ نہیں پاسکتی۔ اس لیے ہمارے لائق اور ذہین نوجوانوں میں سے کم از کم ایک تعداد ایسی ہونی چاہیے جو اپنے آپ کو اونچے درجے کے علمی کام کے لیے تیار کریں۔ اسلامی نظریۂ حیات کو اچھی طرح سمجھیں۔ زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں اس کی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔ مغربی علوم اور نظریات سے اس کا مقابلہ کر کے دونوں کا فرق ٹھیک ٹھیک معلوم کریں۔ موجودہ دور کے مسائل حیات پر اسلامی نظریات کو منطبق کرنے کی زیادہ سے زیادہ معقول اور ممکن صورتیں دریافت کریں۔ اور اپنے آپ کو تحریر و تقریر کے ذریعہ سے عمدہ اظہار و بیان کے قابل بنائیں۔ اس کام کی ضرورت کا احساس ہمارے اندر موجود ہو تو برطانیہ میں اس کے لیے وسائل کی کمی نہیں ہے۔ یہاں اس کے لیے تیاری بھی خوب کی جاسکتی ہے، اور خیالات کی اشاعت کے لیے پریس اور پلیٹ فارم کے وافر ذرائع بھی مل سکتے ہیں۔ کمی جو کچھ بھی ہے ہماری اپنی توجہ کوشش اور باہمی تعاون کی ہے، جسے پورا کرنا ہمارا اپنا ہی کام ہے۔ یہ کسر کوئی دوسرا پوری نہیں کر سکتا۔
آخری بات مجھے آپ سے یہ عرض کرنی ہے کہ برطانیہ میں مسلم معاشرے کی ہیئت ایسی ہونی چاہیے، جو نو مسلم انگریزوں اور باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں کو ملا کر ایک وحدت بنا دے، اور اس وحدت میں شامل ہونے والے افراد کو ذہنی اور عملی دونوں حیثیتوں سے اسلامی طرزِ زندگی اختیار کرنے کی پوری سہولتیں بہم پہنچائے۔ مغربی ممالک میں اسلام قبول کرنے والوں کو بالعموم کوئی ایسا اسلامی معاشرہ نہیں ملتا جس سے منسلک ہو کر وہ پوری طرح اسلام کے سانچے میں ڈھل سکیں اس لیے دین حق قبول کر لینے کے بعد بھی ان کی زندگی نیم اسلامی اور نیم غیر اسلامی ہی رہتی ہے۔ یہ صورت حال کم از کم برطانیہ میں تو ختم ہو جانی چاہیے، کیونکہ خدا کے فضل سے اب وہاں مسلمان ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں، اور ایک مستقل اسلامی معاشرہ وہاں بن سکتا ہے۔
حضرات! یہ چند مشورے ہیں جو اختصار کے ساتھ میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیے ہیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ کسی وقت اللہ تعالیٰ مجھے خود آپ کے درمیان بیٹھ کر حالات کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع دے۔ سردست جو کچھ دور سے حالات کا اندازہ میں کر سکا ہوں، اس کے لحاظ سے یہ مشورے میں نے پیش کر دیئے ہیں۔ خدا کرے کہ یہ آپ کے لیے مفید ثابت ہوں اور وہاں اسلام کی خدمت کرنے میں آپ ان سے کچھ مدد لے۔
<<و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين>>
۔۔۔۔۔۔۔