خطبات یورپ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "خطبات یورپ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ان تقاریر، مجالسِ سوال و جواب اور خطابات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کے دورِ حاضر کے سفروں کے دوران مغربی دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے دیے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا ایک مکمل، منظم اور فطرتِ انسانی کے عین مطابق نظامِ حیات ہے، جو جدید دور کے تمام بحرانوں کا واحد جامع حل پیش کرتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اس کتاب میں مغربی ذہن کے سامنے اسلام کو بغیر کسی نفسیاتی رکاوٹ، معذرت خواہی یا واخواہی کے، ایک آزاد، غیر مرعوب اور پراعتماد انداز میں پیش کیا ہے۔
کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جس میں مغرب میں اسلام کے بارے پائی جانے والی غلط فہمیوں کی وجہ کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مولاناؒ نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کے عمل اور اسلام کی تعلیمات کے درمیان موجود تضاد نے غیر مسلموں کو اسلام کو قبول کرنے سے روک رکھا ہے۔ ساتھ ہی، مغربی تہذیب کے تناظر میں اسلام کی معاشرتی تعلیمات کو قدیم یا شہواتی سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس کے جواب دینے والا کوئی ایسا شخص دستیاب نہیں جو مغربی تہذیب سے مرعوب نہ ہو۔ اس خلا کو پُر کرتے ہوئے مولانا نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا ہے جو جدید چیلنجز کا جواب دیتا ہے۔
دوسرے باب "برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل" میں مولانا نے برطانوی معاشرے کی تاریخی اور فکری بنیادوں کا جائزہ لیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مجلۃ الغرباء جا سوالنامہ اور اس کا جواب
[لندن سے ایک رسالہ عربی زبان میں مجلہ الغرباء کے نام سے نکلتا ہے جسے ان عرب طلبہ نے جاری کیا ہے جو برطانیہ میں مقیم ہیں اور اپنی دوسری مصروفیتوں کے ساتھ اسلام کی خدمت بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس رسالے نے مولانا مودودیؒ سے ان کے زمانہ قیام لندن میں چند سوالات کیے تھے جن کا جواب انہوں نے وہیں دے دیا تھا۔ ذیل میں یہ سوالات اور ان کے جوابات درج کیے جا رہے ہیں۔]
سوالنامہ:
1- اکثر طلباء اسلام پسند طلبہ کا متحدہ محاذ ہے اور ہر طالب علم نہ سہی، اسے عربی زبان میں لکھنا ہے۔ ہمیں خوشی ہوگی کہ آپ قارئین مجلہ کو جماعت اسلامی پاکستان کے حالات سے مختصراً آگاہ فرمائیں۔
۲- پاکستانی مسلمانوں کے اندر مختلف مذہبی تصورات پائے جاتے ہیں، جماعت اسلامی نے اختلاف مذاہب کے مسئلہ کو کس طرح حل کیا ہے؟
۳- موجودہ حالات میں وہ کونسا اہم ترین میدانِ کار ہے جس پر اسلامی تحریک کو اپنی تمام تر کوششیں مرکوز کر دینی چاہئیں؟ کیا سیاسی میدان؟ یا تعلیمی میدان؟ یا کوئی اور میدان؟
۴- اسلامی تحریک کی ایک متحدہ عالمی قیادت قائم کرنے پر مدت سے سوچ بچار ہو رہا ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
۵- عالم اسلام اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے وہ آپ کے سامنے ہیں۔ ان حالات میں امورِ ذیل کے بارے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟
الف: مسلمان سربراہوں کی کانفرنس کا انعقاد،
ب: مشترکہ اسلامی منڈی کا قیام،
ج: بین الاقوامی اسلامی نیوز ایجنسی کا اجراء۔
۶- اسلامی تحریکیں اس وقت جگہ جگہ حکومتوں کے جبر و تشدد کی فضا میں سانس لے رہی ہیں، چنانچہ آپ کی نظر میں وہ کونسا مناسب ترین رویہ ہے جو اسلامی تحریکوں کو ان حکومتوں کے بارے میں اختیار کرنا چاہیے؟
۷- آپ کی رائے میں اسلامی تحریک کو مغربی ممالک میں کس اہم پہلو پر زیادہ زور دینا چاہیے؟
۸- مغرب میں کام کرنے والے داعیان اسلام کے لیے آپ کے مشورے کیا ہیں؟
۹- دو حرفی سوال ہے کہ بیت المقدس کی واگزاری کا صحیح راستہ کیا ہے؟
۱۰- آپ کے قلم نے اسلامی نظریات اور اسلامی تاریخ کے متعدد گوشوں پر وافر لٹریچر فراہم کر دیا ہے۔ مگر ابھی تک سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ کے موضوع پر آپ کی کوئی کتاب منظر عام پر نہیں آئی۔ آپ اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
۱۱- عہد حاضر کے اسلامی مفکر ہونے کی حیثیت سے، کیا آپ نے اپنے دور میں اسلامی نظریہ کے اندر کوئی تبدیلی یا ترقی محسوس کی ہے؟
12- اسلامی مفکرین نے موجودہ صدی میں، بلکہ کسی حد تک گزشتہ صدی میں بھی متعدد مغربی اصطلاحیں استعمال کی ہیں۔ مثلاً ڈیموکریسی، نیشنلزم، وطنیت، پارلیمنٹ، دستور، سوشلزم وغیرہ ۔ یہ اصطلاحیں ماضی قریب کے زمانے تک برابر استعمال ہوتی رہی ہیں ۔ لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعض اسلامی مفکرین ان اصطلاحوں کے استعمال سے گریز کرتے ہیں، بلکہ اسلامی نظام کی تشریح میں ان اصطلاحوں کو اختیار کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا رجحان ہی نہیں بلکہ اصرار ہے کہ خالص اسلامی اصطلاحات کو استعمال کرنا چاہیے جو قرآن کریم اور سنت رسولؐ سے ماخوذ ہوں۔ کیا آپ اپنے تجربات اور اسلامی احساسات کی روشنی میں بتا سکتے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلوں میں ایسے اسلامی مفکرین پیدا ہوں گے جو ہر اس چیز کو کلیتہً رد کر دیں گے جو قرآن و سنتؐ سے خارج ہوگی، اور اسلامی شریعت، احکام قرآن اور دیگر اسلامی معاملات کے بارے میں کسی بحث و جدال کو برداشت نہیں کریں گے، بلکہ ان تمام چیزوں کو اسی طرح اصل حالت میں اختیار کریں گے جس طرح دعوت اسلامی کے آغاز میں ان کو اختیار کیا گیا تھا؟
13- دنیائے اسلام میں بیشتر لوگ اس خیال کا اظہار کر رہے ہیں کہ ظہور مہدی (جس کی بشارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے دی ہے) سے پہلے جس قسم کے حالات کی خبر دی گئی ہے وہ اس زمانے میں رونما ہو چکے ہیں۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
14- مسلم اور اسلامی کے درمیان کیا فرق ہے؟ کیا ان دونوں لفظوں کا استعمال درست ہے؟
جواب:
ا۔ مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ برطانیہ میں آپ لوگ مجلة الغرباء کے نام سے ایک عربی پرچہ شائع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی کوششوں میں برکت دے اور آپ اس پرچے کے ذریعے سے طلبہ میں اسلامی روح بیدار کرنے اور بیدار رکھنے کے لیے کوئی مفید خدمت انجام دے سکیں۔ جماعت اسلامی کے متعلق تمام ضروری معلومات آپ کو جماعت کے ایک ممتاز کارکن پروفیسر غلام اعظم صاحب (جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی مشرقی پاکستان) کی ایک تازہ کتاب سے حاصل ہو سکتی ہیں جو حال میں انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہے۔ [کتاب کا نام ہے :A GUIDE TO THE ISLAMIC MOVEMENT ]اس کا ایک نسخہ اس جواب کے ساتھ آپ کو مہیا کیا جا رہا ہے۔
۲- پاکستان میں اس وقت تین ہی فقہی مذاہب ہیں: ایک حنفی، دوسرے اہل الحدیث، تیسرے شیعہ امامیہ۔ ان تینوں مذاہب کے علماء نے ۱۹۵۱ء میں باہم اتفاق سے یہ بات طے کر لی تھی کہ ملکی قانون (Law of the Land) اکثریت کے مسلک پر مبنی ہو گا، اور ہر فقہی مذہب کے پیروکاروں کو یہ حق دیا جائے گا کہ ان کے شخصی معاملات ان کے اپنے پرسنل لاء کے مطابق طے کیے جائیں۔ رہے مختلف مذاہب کے اعتقادی اختلافات، تو نہ وہ دور کیے جا سکتے ہیں، نہ ان کو دور کرنا ضروری ہے۔ صرف اتنی بات کافی ہے کہ ہر گروہ اپنے عقیدے پر قائم رہے اور سب ایک دوسرے کے ساتھ رواداری برتیں۔ اس کے لیے جماعت ملک میں مسلسل کوشش کر رہی ہے۔
۳- اسلامی تحریک کے لیے ساری دنیا میں کوئی ایک لگا بندھا طریق کار نہیں ہو سکتا۔ مختلف ممالک کے حالات مختلف ہیں، اور ہر جگہ کام کرنے والوں کو اپنے حالات کے مطابق ایک طریق کار اختیار کرنا ہوگا۔ البتہ جو چیز مشترک رہے گی وہ اُصول اور مقصد ہے جس کا منبع قرآن و سنتؐ ہے اور وہی تحریک اسلامی کے تمام کارکنوں کو ایک وحدت میں منسلک کرتا ہے۔ جو گروہ جس ملک اور معاشرے میں اس تحریک کے لیے کام کرنے اُٹھے، اس کا یہ فرض ہے کہ اعتقاد اور عمل میں کتاب و سنتؐ کی تعلیمات کا پورا اتباع کرے، اور اقامت دین کو اپنا مقصود بنا کر اپنی تمام مساعی اس پر مرکوز رکھے۔ اس کے بعد اپنی تحریک کے لیے عملی پروگرام طے کرنا ہر علاقے کے لوگوں کا اپنا کام ہے، اور ان میں اتنی حکمت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی قوت، ذرائع اور حالات کے لحاظ سے اقامت دین کے لیے مناسب ترین طریق کار تجویز کریں۔
۴- جن حالات سے اس وقت ہم گزر رہے ہیں، ان میں یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے اسلامی تحریک کی کوئی ایک مرکزی قیادت قائم ہو سکے۔ بلکہ اس وقت بین الاقوامی حالات تو اتنی بھی اجازت نہیں دیتے کہ ہمارے درمیان کوئی مراسلت اور تبادلۂ خیالات ہو سکے، یا ہم وقتاً فوقتاً کوئی مشترک کانفرنس کر سکیں۔ سرِدست زیادہ سے زیادہ جو کچھ ہو سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم اپنی مطبوعات کے تبادلے کر کے ایک دوسرے کے حالات و خیالات سے واقف ہوتے رہیں، اور جہاں تک ممکن ہو، حج کے اجتماع سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔
۵- عالم اسلام کو اس وقت نہ صرف ان تینوں اُمور کی ضرورت ہے، بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے کام ہیں جو مسلم ممالک کو باہم مل کر کرنے چاہئیں۔ دو سال پہلے میں نے اس سے متعلق ۱۲ نکات پر مشتمل ایک پروگرام پیش کیا تھا۔ لیکن اس طرح کی تجویزیں اس وقت تک عمل میں نہیں آ سکتیں جب تک مسلمان ملکوں کی حکومتیں ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہ ہوں جو اسلام کے رشتے کی بنا پر باہم متفق و متحد ہونے کے لیے تیار ہوں، صرف تودۂ ”رجعت پسند“ اور ”ترقی پسند“ کے جھگڑوں میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں میں آئے دن انقلابات برپا کرنے سے ان کو فرصت نہیں مل رہی ہے۔
۶- میرے نزدیک یہ طے کرنا ہر ملک کی اسلامی تحریک کے کارکنوں اور قائدین کا کام ہے کہ جس قسم کا ظلم و استبداد ان پر مسلط ہے اس کے مقابلے میں وہ کس طرح کام کریں۔ ہر ملک میں اس کی صورتیں اور کیفیت اتنی مختلف ہیں کہ سب کے لیے کوئی ایک طریق عمل تجویز کرنا مشکل ہے۔ البتہ جو چیز میں سب کے لیے ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ان کو خفیہ تحریکات اور مسلح انقلاب کی کوششوں سے قطعی باز رہنا چاہیے اور ہر طرح کے خطرات و نقصانات برداشت کر کے بھی علانیہ پرامن اعلائے کلمۃ الحق کا راستہ ہی اختیار کرنا چاہیے، خواہ اس کے نتیجے میں ان کو قید و بند سے دوچار ہونا پڑے یا پھانسی کے تختے پر چڑھ جانے کی نوبت آجائے۔
۷- مغربی ممالک میں جو لوگ اسلامی تحریک کا کام کریں ان کو چاہیے کہ پہلے عملاً اپنی زندگی کو ٹھیک ٹھیک اسلامی سانچے میں ڈھالیں اور مغربی سوسائٹی کے اندر اپنی امتیازی شان نمایاں کریں۔ اہل مغرب کے ساتھ اخلاق اور اعمال اور طرز زندگی میں ہم رنگ ہو جانے کے بعد ان کی تحریک کے مؤثر ہونے کے امکانات آدھے سے زیادہ ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد دوسری چیز یہ ہے کہ ان کو اہل مغرب کی تہذیب اور ان کے مذہب اور ان کے فلسفۂ حیات کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے اور پھر ایسے حکیمانہ طریقے سے تنقید اور تبلیغ کرنی چاہیے، جس سے مغربی ممالک کے سنجیدہ طبقے اسلام کی طرف متوجہ ہو سکیں۔ آپ کا کم سے کم ہدف یہ ہونا چاہیے کہ جس مغربی ملک میں بھی آپ ہوں وہاں کے کم از کم دو چار اعلیٰ صلاحیتیں رکھنے والے انسانوں کو اسلام کی طرف کھینچ لیں اور ان کو اسلامی تحریک کے لیے عملاً کام کرنے پر آمادہ کر دیں۔ اس کے بعد یہ اُن کا کام ہوگا کہ اپنے ملک میں دعوت اسلامی کے کام کی ذمہ داری سنبھال لیں۔
۸- سوال نمبر ۸ کا جواب اُوپر آچکا ہے۔ میرے نزدیک کسی مغربی ملک میں کام کرنے والے داعی اسلام کو مشرقی ممالک میں کام کرنے والوں سے بھی بڑھ کر اسلامی احکام کا سخت متبع ہونا چاہیے۔
۹- بیتُ المقدس کی واپسی کا کوئی امکان میرے نزدیک اُس وقت تک نہیں ہے جب تک فلسطین کے گرد و پیش کی عرب ریاستیں اپنی اُس روش کو چھوڑ نہ دیں جس کی وجہ سے انہوں نے ۱۹۴۸ء سے اب تک پے در پے یہودیوں سے شکستیں کھائی ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ بیت المقدس کسی سیاسی تصفیے کے ذریعہ سے اب مسلمانوں کے قبضے میں واپس نہیں آسکتا۔ اس کے لیے لامحالہ لڑنا ہوگا کہ اسرائیل کو پوری شکست دی جا سکے۔ لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ شام، عراق، مصر اور اُردن میں اس وقت جو حالات پائے جاتے ہیں ان میں جنگ کا نتیجہ بیت المقدس کی واپسی کے بجائے کچھ مزید علاقے کھو دینے کی صورت میں رونما ہوگا۔ رہے دوسرے اسلامی ممالک، تو وہ اسرائیل کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کر سکتے جب تک وہ عرب ممالک ان کا تعاون حاصل کرنے کے لیے تیار نہ ہوں جن کی سرحدیں اسرائیل سے ملتی ہیں۔
۱۰- میں ایک مدت سے یہ تمنا رکھتا ہوں کہ سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ پر کوئی کتاب لکھوں، مگر مجھے ابھی تک اس کا موقع نہیں مل سکا ہے۔ سر دست میں نے یہ کوشش کی ہے کہ قرآن مجید کی جو تفسیر آج کل میں لکھ رہا ہوں اس میں قرآن اور سیرت کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے اُن حالات کی تفصیل بیان کرتا جاؤں جن میں قرآن مجید کی آیات مختلف مواقع پر نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس تفسیر کی تکمیل کے بعد اگر مجھے اتنی مہلت اور طاقت دی کہ میں سیرت پاک پر بھی کوئی مستقل کتاب لکھ سکوں تو میرے لیے یہ بہت بڑی سعادت ہوگی۔
۱۱- میں نے پچھلے کچھ سال میں فکر اسلامی کے اندر مسلسل ایک تغیر محسوس کیا ہے، اور الحمد للہ کہ وہ بہتری کی طرف ہے۔ پہلے کے مقابلے میں اب بہت زیادہ واضح شکل میں اسلامی تصورات دنیا کے سامنے آ رہے ہیں۔ اگرچہ اس زمانے میں مغربی مستشرقین کے شاگردوں نے بھی پہلے سے بہت زیادہ پُر فریب اور بظاہر علمی طریقے اختیار کر کے اسلام اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوششیں کی ہیں، مگر ہر بار ان کی سرکوبی کی جاتی رہی ہے اور کم از کم مسلمان آبادیوں پر وہ اپنا اثر ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ مسلمان بالعموم اب اسلام کو اتنی صاف شکل میں جان اور پہچان رہے ہیں کہ ان کو یہ مشرقی مستغربین دھوکا نہیں دے سکتے۔
۱۲- موجودہ زمانے کے لوگوں کو بات سمجھانے کے لیے جدید اصطلاحات کا استعمال تو ناگزیر ہے، لیکن ان کے استعمال میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ بعض اصطلاحوں سے پرہیز اولیٰ ہے، بلکہ اجتناب واجب ہے، مثلاً اشتراکیت، اور بعض کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ ان کے اسلامی مفہوم اور مغربی مفہوم کا فرق پوری طرح واضح کر دیا جائے، مثلاً جمہوریت، یا دستور، آئین، یا پارلیمنٹری سسٹم۔ اور بعض کو سرے سے کوئی اسلامی مفہوم دیا ہی نہیں جاسکتا، مثلاً نیشنلزم۔
۱۳-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے جو پیشین گوئیاں ارشاد فرمائی ہیں ان میں سے کسی کے ظہور کی تاریخ بھی نہیں بتائی گئی ہے بلکہ صرف ان حالات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں کوئی واقعہ پیش آنے والا ہے۔ اس طرح کے بیانات کی بنا پر قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کب کسی پیشین گوئی کا ظہور ہو جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ ہم جن حالات کو دیکھ کر یہ رائے قائم کریں کہ یہ فلاں پیشین گوئی کے ظہور کا وقت ہے، ان کے بارے میں ہمارا اندازہ غلط ہو۔ ویسے تو ظہور قیامت کی علامات بھی اب بڑی حد تک دنیا میں پائی جاتی ہیں، لیکن قطعیت کے ساتھ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ اب اس کے برپا ہونے کا وقت آگیا ہے۔
14- مسلم اور اسلامی میں ایک لحاظ سے تو کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ مسلم حقیقت میں کہتے ہی اس کو ہیں جو اسلام کا متبع ہو۔ لیکن ایک دوسرے لحاظ سے ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ مسلم ہر اُس گروہ یا شخص کو کہا جا سکتا ہے جو دائرہ اسلام سے خارج نہ ہو، خواہ وہ عملاً اسلام کی پیروی نہ کر رہا ہو۔ اور اس کے برعکس اسلامی صرف وہی چیز ہے جو ٹھیک ٹھیک اسلام کے مطابق ہو۔ مثلاً ایک مسلم حکومت ہر اُس حکومت کو کہا جا سکتا ہے جس کے حکمراں مسلمان ہوں لیکن اسلامی حکومت صرف اُسی کو کہا جا سکتا ہے جو اپنے دستور اور قوانین اور انتظامی پالیسی کے اعتبار سے پوری طرح اسلام پر قائم ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔