مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خطبات یورپ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خطبات یورپ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ان تقاریر، مجالسِ سوال و جواب اور خطابات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کے دورِ حاضر کے سفروں کے دوران مغربی دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے دیے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا ایک مکمل، منظم اور فطرتِ انسانی کے عین مطابق نظامِ حیات ہے، جو جدید دور کے تمام بحرانوں کا واحد جامع حل پیش کرتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اس کتاب میں مغربی ذہن کے سامنے اسلام کو بغیر کسی نفسیاتی رکاوٹ، معذرت خواہی یا واخواہی کے، ایک آزاد، غیر مرعوب اور پراعتماد انداز میں پیش کیا ہے۔

کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جس میں مغرب میں اسلام کے بارے پائی جانے والی غلط فہمیوں کی وجہ کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مولاناؒ نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کے عمل اور اسلام کی تعلیمات کے درمیان موجود تضاد نے غیر مسلموں کو اسلام کو قبول کرنے سے روک رکھا ہے۔ ساتھ ہی، مغربی تہذیب کے تناظر میں اسلام کی معاشرتی تعلیمات کو قدیم یا شہواتی سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس کے جواب دینے والا کوئی ایسا شخص دستیاب نہیں جو مغربی تہذیب سے مرعوب نہ ہو۔ اس خلا کو پُر کرتے ہوئے مولانا نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا ہے جو جدید چیلنجز کا جواب دیتا ہے۔

دوسرے باب "برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل" میں مولانا نے برطانوی معاشرے کی تاریخی اور فکری بنیادوں کا جائزہ لیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

پاپائے روم کا پیغام اور اس کا جواب

]دسمبر 1967ء میں رومن کیتھولک چرچ کے پوپ کا ایک پیغام جو تمام دنیا کی دینی جماعتوں کے سربراہوں کے نام جاری کیا گیا تھا، مولانا محترمؒ کو بھی وصول ہوا تھا۔ اس کا جو جواب مولاناؒ نے دیا ہے اسے ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔[

پوپ کے پیغام کا خلاصہ:

”ہم دنیا کے تمام خیر اندیش انسانوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ دنیا بھر میں نئے سال کے پہلے دن، یکم جنوری کو یومِ امن منائیں ۔ ہمارا خیال ہے کہ بحالات موجودہ امن کی ضرورت اور اس کے فقدان ہی سے پیدا شدہ خطرات کو وہ ساری قومیں، بین الاقوامی مذہبی تنظیمیں اور تہذیبی و سیاسی تحریکیں محسوس کر رہی ہیں جن کا مطمح نظر عالمی قیامِ امن ہے اور جو اسی کے لیے کوشاں ہیں۔۔۔۔۔

قیام امن کی راہ میں جو موانع در پیش ہیں، ان کا ازالہ ضروری ہے۔ ان موانع میں سے چند ایک یہ ہیں کہ اقوام عالم باہمی تعلقات میں خود غرضی برت رہی ہیں۔ بعض آبادیاں اس احساس کی شکار ہیں کہ انہیں عزت و شرف اور وقار کی زندگی بسر کرنے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے اور اس حق کے عدمِ اعتراف کی وجہ سے یہ لوگ سر بکف ہو کر تنگ آمد بجنگ آمد کی روش اختیار کر چکے ہیں۔ یہ خیال عام ہو گیا ہے کہ بین الاقوامی تنازعات عدل و انصاف اور آپس کی گفت و شنید کے معقول ذرائع سے طے نہیں کیے جا سکتے، بلکہ انہیں قاضیٔ شمشیر کے حوالے کر دینا ضروری ہے جو خون ریزی، اور قتل انسانی کے غیر محدود آلات و وسائل استعمال کر سکتا ہے۔۔۔۔

امن و سلامتی اور بقائے باہمی کے لیے ناگزیر ہے کہ نئی نسلوں کو رواداری، اخوت اور عالم گیر معاونت کی تربیت دی جائے۔ امن و امان محض لفاظیوں سے قائم نہیں ہو سکتا۔ اس طرح کا زبانی جمع خرچ بظاہر خوش آئند نظر آتا ہے کیونکہ یہ انسانیت کے دل کی آواز ہے لیکن اکثر و بیشتر یہ چیز نہ صرف بے عملی اور عدم خلوص کو چھپانے کے لیے ایک لبادے کا کام دیتی ہے بلکہ بسا اوقات جانبداری اور ظلم و تعدی کی آلہ کار بن جاتی ہے۔ جب تک ریاستیں ایک دوسرے کے ساتھ، اور مختلف ریاستوں کے اندر خود ان کے حکام اور شہری ایک دوسرے کے ساتھ محبت اخلاص اور انصاف کو اپنا حقیقی شعار نہ بنائیں اور جب تک افراد اور اقوام کو تہذیبی، اخلاقی اور مذہبی دائروں میں قول و عمل کی آزادی حاصل نہ ہو۔ اس وقت تک امن کی باتیں کرنا بالکل بے معنی اور لا حاصل ہے۔ آزادی اور سلامتی کے ان لوازم کے بغیر اگر محض تغلب و تسلط کے ذریعہ سے امن و امان اور قانونی نظم و نسق کا ظاہری ڈھانچہ قائم بھی ہو جائے، تب بھی بیجان و بغاووت اور جنگ و جدال کا ایک لامتناہی اور ناقابل تسخیر سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔

جواب:

چند روز ہوئے مجھے ڈاکٹر آر اے ٹیلر، ڈائرکٹر سر گنگا رام ہال، لاہور کے توسط سے آپ کا وہ نہایت قابل قدر پیغام پہنچا جس میں آپ نے نئے سال کا آغاز ایک ’’یوم امن‘‘ کی تقریب سے کرنے کی اپیل کی تھی۔ کیونکہ چرچ کے معتقدین کے علاوہ تمام دنیا کے بڑے بڑے ادیان کے پیرووں اور تمام نیک خواہشات رکھنے والے لوگوں سے کی تھی۔ اس پیغام کے متعلق میں اپنے خیالات آپ تک جلدی پہنچانا چاہتا تھا، مگر رمضان اور عید الفطر کی مصروفیات اس میں مانع رہیں۔ اب یہ پہلی فرصت ملی ہے میں آپ کو خطاب کر رہا ہوں۔

میں آپ کو اس بات پر مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ نے ایک ایسے مقصد کی طرف دنیا کے انسانوں کو دعوت دی جو سب کا مشترکہ مقصد ہے، اور ساتھ ساتھ ان اہم اسباب کی نشاندہی بھی کی جو اس مقصد کے حصول میں سد راہ ہیں۔ فی الحقیقت اس ان اولین بنیادی ضروریات میں سے ہے جن پر نوع انسانی کی فلاح و بہبود کا انحصار ہے۔ مگر اس کی خواہش اور اس کی ضرورت کا احساس رکھنے کے باوجود جن وجوہ سے انسان ہمیشہ اس سے محروم ہوتا رہا ہے اور آج بھی محروم ہے وہ وہی وجوہ ہیں جن میں سے اکثر کی طرف آپ نے صحیح طور پر دنیا کے لوگوں کو توجہ دلائی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک عملاً انہیں رفع کرنے کے لیے کچھ نہ کیا جائے گا محض پاکیزہ خواہشات اور تمناؤں کے اظہار سے کوئی امن دنیا کو میسر نہ آسکے گا۔ اس بنا پر میرے نزدیک یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص، قوم، مجموعہ اقوام اور پیروان مذہب کا گروہ پورے خلوص اور دیانت کے ساتھ خود اپنا محاسبہ کر کے دیکھے کہ اس کی اپنی کوتاہیاں کیا ہیں جو اس کے اپنے نوع کو، اور بالآخر خود اس کو امن سے محروم کرنے کی موجب ہوتی ہیں، اور جہاں تک بھی اس کے امکان میں ہو ان کو دفع کرنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح ہم میں سے ہر ایک کو پوری صداقت گوئی کے ساتھ، اصلاح کی نیت سے، نہ کہ تلخی پیدا کرنے اور بڑھانے کے لیے، دوسرے گروہوں کے نیک نیت لوگوں تک یہ بات پہنچانی چاہیے کہ ان کے طرزِ عمل میں کیا چیزیں ایسی ہیں جو اس کے گروہ کے لیے موجب اذیت ہوتی ہیں تاکہ وہ انہیں دفع کرنے کی کوشش کر سکیں۔

ٹھیک اسی غرض کے لیے میں آپ کو چند ایسے اُمور کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو مسلمانوں کے لیے اپنے مسیحی بھائیوں سے وجہ شکایت بنی ہیں تاکہ مسیحیت لوگ چرچ کے پیشوائے اعظم ہونے کی حیثیت سے جو غیر معمولی اثر و رسوخ آپ کو مسیحی دنیا میں حاصل ہے اس سے کام لے کر آپ اُن کی اصلاح کے لیے سعی فرمائیں۔ اور میں اس بات کا خیر مقدم کروں گا کہ ہمارے مسیحی بھائیوں کے لیے ہمارے طرزِ عمل میں اگر کوئی چیز معقول وجہ شکایت ہو تو وہ ہمیں بتائی جائے۔ ہم انشاء اللہ اس کو رفع کرنے کی کوشش میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں گے۔ دنیا میں امن اور صلح و آشتی کی فضا پیدا کرنے میں ہم سب اسی طرح مددگار بن سکتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کریں۔ دوسروں سے فیاضانہ سلوک کرنے کی فراخ حوصلگی اگر ہم میں موجود نہ بھی ہو تو کم از کم اتنا تو ہو کہ دوسروں کی حق تلفی کرنے یا ان کو اذیت دینے سے تو ہم باز رہیں۔

مسیحی بھائیوں کے طرزِ عمل میں جو امور کسی ایک ملک یا قوم کے نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے وجہ شکایت ہیں، انہیں میں کسی لاگ لپیٹ کے بقیہ مختصرًا آپ سے بیان کیے دیتا ہوں۔

ا۔ ایک مدت دراز سے مسیحی اہل علم اپنی تحریروں اور تقریروں میں سیدنا محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن اور اسلام پر جو حملے کر رہے ہیں اور آج بھی جن کا سلسلہ جاری ہے، وہ مسلمانوں کے لیے انتہائی موجب اذیت ہیں۔ میں ”حملے“ کا لفظ قصداً استعمال کر رہا ہوں، تاکہ آپ کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہماری شکایت معقول علمی تنقید کے خلاف ہے۔ علمی تنقید اگر دلیل کے ساتھ اور تہذیب و شائستگی کے حدود میں ہو تو خواہ وہ کیسے ہی سخت اعتراضات پر مشتمل ہو، ہم اس پر برا نہیں مانتے بلکہ اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن ہمیں بجا طور پر شکایت اُن حملوں کے خلاف ہے جو جھوٹے اور رکیک الزامات کی صورت میں اور نہایت دل آزار زبان میں کیے جاتے رہے ہیں اور اب تک کیے جا رہے ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتہائی ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہیں اور ان کے متعلق کوئی خلافِ ادب بات زبان سے نکالنا ہمارے عقیدے میں کفر ہے۔ آپ کو کوئی مثال ایسی نہیں پا سکتے کہ کسی مسلمان نے کبھی سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ کی شان میں کوئی بے ادبی کی ہو۔ اگرچہ ہم حضرت مسیح کی الوہیت کے قائل نہیں ہیں مگر ان کی نبوت پر ہمارا ویسا ہی ایمان ہے جیسا حضرت محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ہے، اور کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُن پر اور دوسرے انبیاء پر بھی ایمان نہ لائے۔ اسی طرح ہم صرف قرآن ہی کو نہیں بلکہ توراۃ اور انجیل کو بھی خدا کی کتابیں تسلیم کرتے ہیں اور کوئی مسلمان ان مقدس کتابوں کی توہین کا خیال بھی نہیں کر سکتا۔ ہماری طرف سے اگر کبھی کوئی بحث ہوتی ہے تو اس حیثیت سے ہوتی ہے کہ بائیبل جس شکل میں اب پائی جاتی ہے یہ کہاں تک مستند ہے اور یہ بحث خود مسیحی علماء بھی کرتے رہے ہیں، لیکن کسی مسلمان نے کبھی اس کا انکار نہیں کیا کہ حضرت موسیٰ و عیسیٰ اور بائیبل کے دوسرے انبیاء پر اللہ کا کلام نازل ہوا تھا، اور مسلمان چاہے یہ بات نہ مانتے ہوں کہ اس وقت پائی جانے والی یہودی بائیبل اللہ کا کلام ہے، مگر یہ ضرور مانتے ہیں کہ اس میں اللہ کا کلام موجود ہے۔ لہذا ہمارے مسیحی بھائیوں کو ہم سے یہ شکایت کرنے کا کبھی موقع نہیں ملتا ہے کہ ہم اُن کے انبیاء کی یا اُن کی کتب مقدسہ کی توہین کرتے ہیں بخلاف اس کے ہمیں آئے دن ان سے یہ رنج پہنچتا رہتا ہے، اور صدیوں سے اس دل آزاری کا سلسلہ چل رہا ہے کہ ان کے مصنفین اور مقررین ہمارے نبی اور ہماری کتاب مقدس اور ہمارے دین پر سخت حملے کرتے ہیں۔ دنیا کی اسلامی اور مسیحی برادریوں کے درمیان تعلقات کی خرابی کا یہ ایک اہم سبب ہے۔ اس سے شدید باہمی منافرت پیدا ہوتی ہے، اور مزید برآں اس ناروا پروپیگنڈے کا لازماً یہ نتیجہ بھی ہوتا ہے کہ مسیحی عوام کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و تحقیر کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ آپ دنیا کے امن کی بہت بڑی خدمت انجام دیں گے اگر مسیحیت کے پیروؤں کو اس طرز عمل میں کم از کم اتنی اصلاح کر لینے کی نصیحت کریں کہ یہ دل آزاری اور نفرت انگیزی کی حد تک نہ پہنچے۔

۲۔ مسیحی مشن اور مشرقی ایک مدت دراز سے مسلم ممالک میں مسیحیت پھیلانے کے لیے جو طریقے استعمال کرتے رہے ہیں، اور آج بھی کر رہے ہیں، وہ مسیحی دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑی وجہ شکایت ہیں۔ دوسرے ملکوں پر راہ پانے میں ان کا جو طرزِ عمل بھی ہو، اس سے ہمیں کوئی بحث نہیں۔ مگر مسلمان ملکوں اور آبادیوں میں ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ انہوں نے محض تبلیغ پر اکتفا نہیں کیا ہے، بلکہ اس سے تجاوز کر کے دوسرے متعدد ایسے طریقے اختیار کیے ہیں جو تبلیغ کے بجائے سیاسی دباؤ، معاشی طمع و تحریص، اور اخلاقی و اعتقادی تخریب کی تعریف میں آتے ہیں، جنہیں مشکل ہی سے کوئی معقول آدمی اشاعتِ مذہب کے جائز ذرائع تسلیم کر سکتا ہے۔ افریقہ کے ایک بڑے حصہ میں انہوں نے استعماری طاقتوں کی مدد سے مسلمانوں کو تعلیم سے محروم کیا اور درسگاہوں کے دروازے ہر اس شخص پر بند کر دیے جو مسیحیت قبول نہ کرے، یا کم از کم اپنا اسلامی نام ترک کر کے مسیحی نام نہ اختیار کرے۔ اس طریقے سے جو بااقتدار مسیحی اقلیت پیدا کی گئی، آزادی کا دور آنے کے بعد آج وہ بہت سی ایسی افریقی ریاستوں پر سیاسی، قومی اور معاشی حیثیت سے غالب ہے جن کی بیشتر آبادی مسلمان ہے۔ یہ ایک صریح ناانصافی تھی جو مسلم اکثریت رکھنے والے افریقی ملکوں کے ساتھ کی گئی۔ صومالیہ میں برطانوی استعمار کی مدد سے مشنریوں نے جنوبی حصے کو اپنے لیے ”محفوظ علاقہ“ بنوا لیا جس میں تعلیم اور تبلیغ کا حق صرف مسیحی مشنریوں کے لیے مختص کر دیا گیا اور مسلمانوں کے لیے تبلیغ تو درکنار دوسری اغراض تک کے لیے وہاں جانے پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ ہمیں نہیں سمجھتا کہ اس کو کسی دلیل سے بھی اشاعت مذہب کا جائز و معقول طریقہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ خود ہمارے ملک میں مشن ہسپتالوں اور درسگاہوں کا معروف طریق کار یہ ہے کہ وہ مسلمان مریضوں اور طلبہ سے بے تحاشا فیسیں وصول کرتے ہیں، اور جو غریب آدمی عیسائیت قبول کرلے اسے علاج اور تعلیم کی سہولتیں مفت یا برائے نام خرچ پر بہم پہنچاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تبلیغ نہیں بلکہ ضمیر و ایمان کی خرید و فروخت ہے۔ علاوہ بریں ان کی درسگاہیں ہمارے ہاں ایک ایسی نسل تیار کر رہی ہیں جو نہ مسیحیت اختیار کرتی ہے نہ مسلمان رہتی ہے، بلکہ اپنے اخلاق و تہذیب، زبان اور طرز زندگی کے اعتبار سے ایک اجنبی عنصر بن کر رہ جاتی ہے، اور مذہبی حیثیت سے اس کے اندر مسیحیت یا اسلام کے بجائے الحاد و بے دینی کے رجحانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ کیا کوئی معقول آدمی یہ مان سکتا ہے کہ یہ مذہب کی کوئی خدمت ہے جو مسیحی مشن انجام دے رہے ہیں؟ یہی وجوہ ہیں جن کی بنا پر مسلمان ملکوں میں عموماً ان مشنوں کو مذہبی تبلیغ کے بجائے اسلام اور مسلم معاشرے کے خلاف ایک سازش سمجھا جاتا ہے۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اس کے نتائج پر غور فرمائیں اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے مشنری اداروں کے طرز تبلیغ میں اصلاح کی کوشش کریں۔

۳۔ مسیحی دنیا کے متعلق مسلمانوں کا عام احساس یہ ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک شدید جذبہ عناد رکھتی ہے، اور آئے دن ہمیں ایسے تجربات ہوتے رہتے ہیں، جو اس احساس کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ اس کا تازہ ترین تجربہ وہ ہے جو ابھی حال میں عرب اسرائیل جنگ کے موقع پر ہوا ہے۔ اس لڑائی میں اسرائیل کی فتح پر یورپ اور امریکہ کے بیشتر ملکوں میں جس طرح خوشیاں منائی گئیں انہوں نے تمام دنیا کے مسلمانوں کے دل میں زخم ڈال دیے ہیں۔ آپ شاید ہی کوئی مسلمان ایسا پائیں گے جس نے عربوں کی شکست اور اسرائیل کی فتح پر مسیحی دنیا کے اس علانیہ اظہار مسرت و شادمانی اور اسرائیل کی کھلی کھلی حمایت کو دیکھ کر یہ محسوس نہ کیا ہو کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسیحیوں کے گہرے جذبہ عناد کا مظاہرہ تھا۔ فلسطین میں اسرائیل کی ریاست جس طرح بنی ہے، بلکہ بنائی گئی ہے، اس کی تاریخ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ دو ہزار برس سے فلسطین عرب آبادی کا وطن تھا۔ موجودہ صدی کے آغاز میں وہاں یہودی ۸ فیصدی سے زیادہ نہ تھے۔ اُس حالت میں برطانوی حکومت نے اس کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کا فیصلہ کیا اور مجلس اقوام نے نہ صرف اس فیصلے کی توثیق کی بلکہ برطانوی حکومت کو فلسطین کا مینڈیٹ دیتے ہوئے یہ ہدایت کی کہ وہ یہودی ایجنسی کو باقاعدہ شریک حکومت بنا کر اس تجویز کو عملی جامہ پہنائے۔ اس کے بعد دنیا بھر کے یہودیوں کو لا لا کر ہر ممکن تدبیر سے فلسطین میں بسانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا یہاں تک کہ ۳۰ سال کے اندر ان کی آبادی ۳۳ فیصدی تک پہنچ گئی۔ یہ ایک صریح ظلم تھا جس کے ذریعہ سے ایک قوم کے وطن میں زبردستی ایک دوسری اجنبی قوم کا وطن بنایا گیا۔ پھر ایک دوسرا اس سے بھی زیادہ ظالمانہ قدم اٹھایا گیا اور امریکہ نے کھلے بندوں دباؤ ڈال کر اقوام متحدہ سے یہ فیصلہ کرایا کہ یہودیوں کے اس مصنوعی قومی وطن کو یہودی ریاست میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس فیصلے کی رو سے ۳۳ فیصدی یہودی آبادی کو فلسطین کا ۵۵ فیصدی، اور عربوں کی ۶۷ فیصدی آبادی کو ۴۵ فیصدی رقبہ الاٹ کیا گیا تھا۔ لیکن یہودیوں نے لشکر طاقت کے بل پر اس ملک کا ۶۷ فیصدی رقبہ حاصل کر لیا اور مار دھاڑ اور قتل و غارت کے ذریعہ سے لاکھوں عربوں کو گھر سے بے گھر کر دیا۔ یہ ہے اسرائیل کی اصل حقیقت۔ کیا دنیا کا کوئی انصاف پسند اور ایماندار آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک جائز ریاست ہے جو فطری اور منصفانہ طریق سے بنی ہے؟ اس کا تو عین وجود ہی ایک بدترین جارحیت ہے۔ اور اس پر مزید ظلم یہ ہے کہ یہودی صرف ان حدود کے اندر محدود رہنے پر بھی راضی نہیں ہیں جو انہوں نے فلسطین میں زبردستی حاصل کی ہیں، بلکہ وہ سالہا سال سے علانیہ کہہ رہے ہیں کہ نیل سے فرات تک کا پورا علاقہ اُن کا قومی وطن ہے۔ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ یہ قوم ہر وقت یہ جارحانہ ارادہ رکھتی ہے کہ اس پورے علاقے پر جبراً قبضہ کرے اور اس کے اصل باشندوں کو زبردستی وہاں سے نکال کر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے یہودیوں کو وہاں لا کر بسائے۔ اسی جارحانہ اسکیم کا ایک جز گزشتہ ماہ جون کا وہ اچانک حملہ تھا جس کے ذریعے سے اسرائیل نے ۲۶ ہزار مربع میل علاقے پر قبضہ کیا۔ اس پورے ظلم کی ذمہ دار مسیحی دنیا ہے۔ اُس نے ایک قوم کے وطن میں ایک دوسری قوم کا وطن زبردستی بنوایا۔ اُس نے اس مصنوعی قومی وطن کو ایک ریاست میں تبدیل کرایا۔ اُس نے اس جارح ریاست کو روپے اور ہتھیاروں سے مدد دے کر اتنا طاقتور بنایا کہ وہ زبردستی اپنے توسیع منصوبوں کو عمل میں لا سکے۔ اور اب اس ریاست کی تازہ فتوحات پر یہی مسیحی دنیا جشن شادمانی منا رہی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد نہ صرف عربوں میں، بلکہ تمام دنیا کے مسلمانوں میں مسیحیوں کی انصاف پسندی، اُن کی خیر اندیشی، اور مذہبی عناد و تعصب سے اُن کی بریت پر کوئی اعتماد باقی رہ گیا ہے؟ اور کیا آپ کا خیال ہے کہ دنیا میں امن قائم کرنے کے یہی طریقے ہیں؟ یہ دراصل ہمارا نہیں بلکہ آپ کا کام ہے کہ مسیحی بھائیوں کو اس روش پر شرم دلائیں اور ان کی روح کو اس گندگی سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔

۴۔ اس سلسلے میں ایک زیادتی ایسی بھی ہے جو خود آپ کی طرف سے ہو رہی ہے، اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ ہے۔ اور آپ کو غالباً یہ احساس نہیں ہے کہ در حقیقت وہ ایک زیادتی ہے۔ میرا اشارہ آپ کی اس تجویز کی طرف ہے کہ قدیم بیت المقدس کو بین الاقوامی کنٹرول میں دے دیا جائے۔ آپ یہ تجویز شاید اس خیال سے پیش کر رہے ہیں کہ اس طرح یہ مقدس شہر لڑائی جھگڑے سے محفوظ رہے گا، لیکن در حقیقت اس کا نتیجہ ایک اور ظلم کی شکل میں رونما ہوگا، ظاہر ہے کہ بین الاقوامی کنٹرول اسی بین الاقوامی ادارے کے ہاتھ میں ہوگا جس نے اسرائیل کی یہ مصنوعی ریاست بنائی ہے اور جو آج تک اسرائیل کی کسی جارحیت کو نہ روک سکا ہے، نہ اس کے ہو جانے کے بعد اس کا تدارک کر سکا ہے۔ اس ادارے کے کنٹرول میں جب یہ شہر آجائے گا، تو وہ یہودیوں کے لیے بیت المقدس میں آباد ہونے کے دروازے اسی طرح چوپٹ کھول دے گا جس طرح مجلس اقوام کے انتداب کے تحت برطانوی حکومت نے یہودی مہاجرین کے لیے فلسطین کے دروازے کھولے تھے، اور پھر یہودیوں کو بیت المقدس کی زمینیں اور عمارتیں خریدنے کی وہی سب سہولتیں بھی فراہم کر دی جائیں گی جو برطانوی انتداب اس سے پہلے فلسطین میں ان کو فراہم کر چکا ہے۔ اس طرح تھوڑی ہی مدت کے اندر یہ شہر عملاً یہودی شہر بن جائے گا اور وہ یہودی اس پر قابض ہوں گے جن کے دل میں نہ مسیحی مقدسات کا کوئی احترام ہے نہ اسلامی مقدسات کا۔

میں آپ کے پیغام کے جواب میں اس طویل مرسلے اور اس صاف گوئی پر معذرت خواہ ہوں، مگر میں آپ کو یہ بتانا اپنا فرض سمجھتا تھا کہ قیام امن کی اصل رکاوٹیں کیا ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے عملاً کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ میں پھر اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ اگر اسلامی دنیا کی طرف سے کوئی ایسی بات ہو جسے امن عالم کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جائے تو وہ مجھے بتائی جائے۔ مجھ کو جو تھوڑا بہت اثر دنیائے اسلام میں حاصل ہے اسے میں خود بھی اس رکاوٹ کے دور کرنے میں استعمال کروں گا اور دوسرے زعمائے اسلام کو بھی اس کی طرف توجہ دلاؤں گا۔

۔۔۔۔۔