خطبات یورپ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "خطبات یورپ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ان تقاریر، مجالسِ سوال و جواب اور خطابات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کے دورِ حاضر کے سفروں کے دوران مغربی دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے دیے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا ایک مکمل، منظم اور فطرتِ انسانی کے عین مطابق نظامِ حیات ہے، جو جدید دور کے تمام بحرانوں کا واحد جامع حل پیش کرتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اس کتاب میں مغربی ذہن کے سامنے اسلام کو بغیر کسی نفسیاتی رکاوٹ، معذرت خواہی یا واخواہی کے، ایک آزاد، غیر مرعوب اور پراعتماد انداز میں پیش کیا ہے۔
کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جس میں مغرب میں اسلام کے بارے پائی جانے والی غلط فہمیوں کی وجہ کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مولاناؒ نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کے عمل اور اسلام کی تعلیمات کے درمیان موجود تضاد نے غیر مسلموں کو اسلام کو قبول کرنے سے روک رکھا ہے۔ ساتھ ہی، مغربی تہذیب کے تناظر میں اسلام کی معاشرتی تعلیمات کو قدیم یا شہواتی سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس کے جواب دینے والا کوئی ایسا شخص دستیاب نہیں جو مغربی تہذیب سے مرعوب نہ ہو۔ اس خلا کو پُر کرتے ہوئے مولانا نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا ہے جو جدید چیلنجز کا جواب دیتا ہے۔
دوسرے باب "برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل" میں مولانا نے برطانوی معاشرے کی تاریخی اور فکری بنیادوں کا جائزہ لیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دورِ حاضر کا چیلنج اور اسلام
[لند کے استقبالیہ کا خطبہ اور اس کا جواب]
"مسلمانان انگلستان نے اتوار ۵ار دسمبر ۱۹۶۸ء کو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ صاحب کے اعزاز میں ہوٹل ہلٹن لندن میں ایک استقبالیہ دیا تھا۔ یہ استقبالیہ انگلستان میں مقیم مسلمانوں کی ایک استقبالیہ کمیٹی کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی میں پاکستان کے علاوہ ترکی، عراق، لیبیا، شام، ویسٹ انڈیز، قبرص، سیلون، ملائیشیا، مصر، نائجیریا، ماریشس، ٹرینی ڈاڈ اور خود انگلستان کے مسلمانوں کے نمایاں اصحاب شامل تھے۔ یہ استقبالیہ ہوٹل ہلٹن کے دالانِ ضیافت (BANQUET HALL) میں منعقد ہوا۔ سوا تین سو مہمان اس میں شریک ہوئے۔ شرکاء میں اردن، سوڈان اور یمن کے سفیر، سعودی عرب کے کونسلر، ٹرینی ڈاڈ کے فرسٹ سکریٹری، انڈونیشیا کے فرسٹ اور سیکنڈ سکریٹری اور دوسرے سفارتی نمائندے شامل تھے۔ مستشرقین اور ماہرین تعلیم میں سے پروفیسر برنارڈ لیوس (ایڈیٹر انسائیکلو پیڈیا آف اسلام)، ڈاکٹر کنتھ پریٹم، پروفیسر سیاسیات و معاشیات لندن یونیورسٹی، کرنل و جیمز (سنٹرل ایشین ریسرچ انسٹیٹیوٹ)، مسٹر ایبٹ ڈرگسکی (مڈل ایسٹ آرکائیوز)، پروفیسر حیدری اور ڈاکٹر ظہیر (صدر شعبہ تقابل مذاہب برمنگھم یونیورسٹی) وغیرہ تشریف لائے تھے۔ برطانوی صحافت کے اہم نمائندوں میں سے گارڈین، ڈیلی مرر، ڈیلی ٹیلیگراف، دی سن، ایوننگ نیوز، بی بی سی لندن و برمنگھم، ویسٹرن نیوز ایجنسی اور اہم پاکستانی اخبارات میں سے ڈان، نوائے وقت، مارننگ نیوز اور حریت وغیرہ کے نمائندے شریک تھے۔ ان کے علاوہ انگلستان میں مقیم تمام اسلامی ممالک کے نمایاں اصحاب بھی وہاں موجود تھے جس کی وجہ سے یہ ایک اہم بین الاقوامی اجتماع بن گیا تھا۔
پروگرام کے مطابق ٹھیک ساڑھے چھے بجے کارروائی شروع ہوئی۔ چائے نوشی کے بعد لیبیا کے نوجوان مسٹر عاشور شماس نے تلاوت قرآن پاک کی۔ پھر متحدہ عرب جمہوریہ کے ڈاکٹر صلاح شاہین (پروفیسر گلاسگو یونیورسٹی) نے استقبالیہ کمیٹی کی طرف سے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ یہ خطبہ انگریزی زبان میں تھا۔ پھر مولانا محترم نے اس کا جواب بلیغ اردو میں دیا، اور پروفیسر خورشید احمد صاحب نے اس کا ترجمہ انگریزی میں کیا۔ اس پروگرام کے بعد معززین نے مولانا سے ملاقات کی۔ یہ سلسلہ ۹ بجے تک چلتا رہا۔ ذیل میں اس خطبہ اور اس کے جواب کو درج کیا جارہا ہے"
خطبۂ استقبالیہ:
برادر محترم!
آج کی شام ہم انتہائی جذباتِ مسرت کے ساتھ آپ کو خوشامد کہہ رہے ہیں۔ ہم اللہ قادر مطلق کے شکر گزار ہیں کہ اس نے دو بڑے نازک آپریشنوں کے بعد آپ کی صحت کو تیزی سے بحال فرمایا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحتِ کاملہ و قوتِ وافرہ عطا فرمائے تاکہ آپ اعلائے کلمۃ اللہ کی خدمت سر انجام دیتے رہیں۔
آپ کا ہمارے درمیان اس ساعت موجود ہونا ہم سب کے لیے ایک عظیم سعادت ہے۔ چشم تصور کے سامنے نصف صدی سے زائد کے مناظر گھوم پھر رہے ہیں۔ اس وقت نظریاتی اضمحلال اور سیاسی اختلال کے باعث ہمارے لیل و نہار کتنے تیرہ و تار تھے؟ وہ تمام مثالی اقدار و مطامح جن کے لیے امتِ مسلمہ اپنی پوری تاریخ میں سینہ سپر رہی، وہ انحطاط کا شکار ہوتے نظر آرہے تھے۔
لیکن اس کے بعد حالات پلٹا کھاتے ہیں۔ تجدید و احیائے اسلام کی تحریک اٹھتی اور برپا ہوتی ہے اور حیاتِ نو کے آثار چار سو پھیلتے نظر آتے ہیں۔ ذہنی افق پر تشکیک و اعتذار کی روش رخصت ہوتی ہے اور دینی حمیت اور خود اعتمادی اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ پراگندگی فکر اور ژولیدگی دماغ کے تانے بانے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں اور اسلام کی خالص اور بے آمیز تعلیمات، عقلی تقاضوں اور عصر جدید کے مطالبوں کا موزوں جواب بن کر پیش کی جاتی ہیں۔ اسلام اب محض پوجا پاٹ یا مراسم عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ بنی نوع انسان کے لیے ایک انقلاب انگیز پروگرام ہے، یہ اخلاقی ارتقا اور اجتماعی تنظیم کے لیے ایک الہامی نظام فکر ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر ضابطہ حیات ہے جو فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔ یہ انسان کی شخصیت کو ایک متعین سانچے میں ڈھالتا ہے، زندگی کی گزر گاہوں میں اس کی حفاظت کرتا ہے اور ایک پاکیزہ اور پُر وقار زندگی بسر کرنے میں رہنمائی کرتا ہے۔
یہ انقلابی تحریک، بُرائی اور باطل کو ہر محاذ پر للکارتی اور چیلنج دیتی ہے اور انسانیت کو ایک نظام نو کی تعمیر کے لیے دعوت اور پیغام دیتی ہے۔ یہ ایک عمومی دعوت ہے جو پوری نوع انسانی کو خطاب کرتی ہے تاہم اس دعوت کا آغاز اور اس کا رد عمل چونکہ اسلامی دنیا میں ہوا ہے، اس لیے قدرتی طور پر عالم اسلام ہی اسلامی تحریک کا اولین میدان کارزار ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اسلامی دنیا کے بعض حصوں میں حالات کی رفتار اطمینان بخش نہ ہو، لیکن اس عالمگیر تحریک کا وجود میں آجانا، عزائم و توقعات کا سینوں میں بیدار ہو جانا اور اس راہ میں گرانقدر قربانیوں کا پیش کیا جانا، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔
آج کی شام خاص طور پر اپنے اس ماضی قریب پر ہماری یہ نگاہ باز گشت ایک قدرتی امر ہے جبکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ کے فضل و کرم سے آپ کو اس تحریک حیات کے دین کا ایک خصوصی علمبردار ہونے کا فخر حاصل ہے۔ آپ نے اسلامی افکار و نظریات کے ذخائر میں نمایاں اور قابل رشک اضافہ کیا ہے۔ آپ نے نشاۃ و تجدید کی طاقتوں کو اصلاح اخلاق اور سماجی تعمیر نو کی ایک مثبت تحریک کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ آپ نے جملہ موانع، طویل قید و بند، حتیٰ کہ سزائے موت کا سامنا عدیم النظیر جرأت اور عظیم ضبط و تحمل سے کیا ہے۔ آپ نے راہ حق پر گامزن ہونے والوں کے لیے ایک تابناک اور درخشاں مشعل روشن کردی ہے۔ حق یہ ہے کہ یہ سب اللہ کی عنایت ہے اور اسی کی ذات حمد و ثنا کے لائق ہے۔
لیکن اس تاریک ماضی سے خلاصی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہمارے حال کی تلخیوں میں کسی طرح کمی واقع ہوگئی ہے، یا مستقبل کی مشکلات آسان ہو گئی ہیں۔ ہمیں نہایت سنگین حالات سے سابقہ درپیش ہے، یہاں سے تاریخ انسانی ایک نیا موڑ مڑے گی یا پھر انسانیت کے تحفظ و بازیابی کے سارے امکانات کا خاتمہ ہو جائے گا۔
انسان آج اپنی فتوحات کے اوج کمال پر ہے۔ وہ زمان و مکان کی حدوں کو پامال کرتا نظر آتا ہے۔ قوائے فطرت کی تسخیر میں اسے بے حد و حساب کامیابی ہوئی ہے۔ مادی نگاہ و ترقہ کا ایک عالم اس کی دسترس میں ہے۔ طبیت و معالجہ کے فن میں اتنی ترقی ہو چکی ہے گویا کہ مرض والم کا خاتمہ پہنچا چاہتا ہے۔ اقتصادی ارتقا کا یہ حال ہے کہ اگر انسان چاہے تو غربت و فاقہ کا استیصال ہو سکتا ہے۔ خلائی پیمائی کا علم و فن چاند پر کمند پھینک رہا ہے۔
بلاشبہ یہ بڑے کارنامے ہیں، لیکن اس سے انسان کی انسانیت و آدمیت میں کوئی ترقی و اصلاح نہیں ہوئی۔ طاقت میں اضافے سے دانش و بینش، نیکی اور بھلائی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ باہر کی دنیا کا فاتح اپنے نفس کو مفتوح و مغلوب نہیں کر سکا۔ لہٰذا یہ امر باعث تعجب نہیں ہے کہ اس کامیابی کی ساعت میں خود انسان ہی عظیم ترین خطرے کی زد میں ہے۔ یہ اپنے بنائے ہوئے آلات و اسلحہ کے رحم و کرم پر ہے، کیونکہ زندگی کا کوئی بہتر و برتر مقصد اور مشن اس کے پاس نہیں ہے۔ ذرائع و وسائل پر اُسے قابو حاصل ہے مگر مقاصد اقدار کا رشتہ اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ مادی ثروت افلاس و استحصال کو ختم کرنے میں ناکام ہے۔ بلکہ اس کے برعکس قوموں کی سطح پر بھی اور افراد کے مابین بھی امیر و غریب کا فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ عالمی زندگی ماثل بانتشار ہے۔ تقویٰ اور احساس ذمہ داری کی جگہ اباحیت اور تعیش پرستی لے رہی ہے۔ تشدد اور جرم و فساد اپنے عروج پر ہے۔ انتہا پسندی کا دور دورہ ہے علاج میں کشیدگی، چپقلش اور آویزش میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے۔ ووٹ کی پرچی کی جگہ بندوق کی گولی لینے کی کوشش کر رہی ہے۔
انسان نے جس سوسائٹی کو خود جنم دیا ہے، اس میں وہ اجنبی بن کر رہ گیا ہے۔ وہ جس کنبے میں پیدا ہوا تھا، اس سے کٹ چکا ہے۔ اپنی مادر علمی، اپنے کاروبار کی حلقے، الغرض یہ کہ اپنے جس ماحول اور دنیا میں وہ پروان پڑھتا تھا، اس سے اس کا رشتہ کلیتہً منقطع ہو چکا ہے ۔ وہ ایک بے ہنگم میں تنہا، بلکہ اپنے گھر میں بیگانہ بن گیا ہے ۔ اگرچہ ٹیکنولوجی کے اعتبار سے پوری دُنیا کی طنابیں کھنچ گئی ہیں مگر انسان ابھی تک قومیت و وطنیت اور نسلیت کے بتوں کا پجاری ہے ۔ امن و امان ناپید اور عدل و انصاف ایک سراب ہے ۔ انسان اپنے بنائے ہوئے تناقضات و تضادات کا صیدِ زبوں بن چکا ہے ۔ وہ ایک طرف قحط کی مگر دوسری طرف دہشت ایک طرف کاروائی مگر دوسری طرف اذیت کے چنگل میں ہے ۔
سوال یہ ہے، کیا اس متوقع آفت اور سیلابِ بلا کو کسی طرح ٹالا جا سکتا ہے ؟ کیا انسان اپنے اس تیار کردہ قفس سے رہائی پا سکتا ہے ؟ کیا وہ اپنی حقیقی نیک طینتی کو دوبارہ حاصل کر سکتا ہے اور از سرِ نو ایک شریفانہ و عادلانہ معاشرے کی تعمیر کر سکتا ہے ۔
ہمارے عزیز بھائی !
ہم آج کی شام جب اپنے خیالات کا مخاطب آپ کو بنا رہے ہیں، تو ہمارے ذہن میں آپ کی وہ عظیم الشان خدمت تازہ ہو رہی ہے، جو آپ نے عالمِ اسلام کی فکر و نظر کی بیداری کے ضمن میں انجام دی ہیں اور ہم آپ کی قیادت اور رہنمائی کے منتظر ہیں۔ ہماری دُعا اور تمنا ہے کہ موجودہ غم سے نکلنے کی راہ انشاء اللہ موجود ہے ۔
ہم اپنے ساتھ یہ پیغام گراں قدر لے کر آپ کے دوبارہ شکر گزار ہیں اور اللہ سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو اسلام اور انسانیت کی خدمت بیمار لانے کی پیش از پیش طاقت و ہمت عطا فرمائے۔
جواب:
حمد و ثناء کے بعد۔ جناب صدر۔ ارکان مجلس استقبالیہ اور معزز حاضرین۔
سب سے پہلے میں اس بات پر معذرت چاہتا ہوں کہ بیٹھ کر آپ سے خطاب کر رہا ہوں۔ جیسا کہ آپ کو خطبہ استقبالیہ سے معلوم ہو چکا ہے، پچھلے ماہ ستمبر اور اکتوبر میں مجھے دو بڑے آپریشنوں سے گزرنا پڑا ہے، اور ابھی میں اتنا کمزور ہوں کہ چند منٹ سے یادہ کھڑا نہیں رہ سکتا اور مسلسل نہ یادہ دیر تک بول بھی نہیں سکتا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں پہلی مرتبہ انگلستان آیا بھی تو بیماری کی حالت میں آیا۔ انگلستان کے دوسرے مقامات پر جانا تو درکنار مجھے خود لندن بھی اچھی طرح دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ نہ یہاں کے بڑے بڑے ادارات میں جا سکا، نہ یہاں کے اہل علم سے مل سکا اور نہ اپنے بھائیوں کی اس خواہش کو پورا کر سکا کہ اُن کے اجتماعات میں شریک ہوں۔ میں مجلس استقبالیہ کا بڑا شکر گزار ہوں کہ اُس نے یہ تقریب منعقد کی جس کی وجہ سے آج کم از کم مجھے آپ حضرات سے ملنے اور تھوڑی بہت اپنی بات کہنے کا موقع مل گیا ۔
مجلس استقبالیہ کا میں اس بنا پر بھی بہت شکر گزار ہوں کہ اس نے تحریک احیائے اسلام کے سلسلے میں میری ناچیز خدمات کی قدر افزائی خود اُن خدمات سے بہت زیادہ کی ہے۔ درحقیقت میرے لیے بڑے سے بڑا فخر بس یہی کافی ہے کہ میں اللہ کے دین کا ایک ادنیٰ خادم ہوں۔ مجھے اپنے متعلق کبھی یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کہ میں نے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ فی الواقع یہ میرے مخلص بھائیوں کی اسلام سے محبت ہے جس کی بنا پر وہ کسی آدمی کو اسلام کی تھوڑی بہت خدمت بھی کرتے دیکھتے ہیں تو اس کی حیثیت سے زیادہ اس کی قدر افزائی کرتے ہیں۔ ان کے اس مخلصانہ جذبے کو دیکھ کر یہ توقع بندھتی ہے کہ احیائے اسلام کی تحریک کو جن ناموافق حالات میں نئی نسل کے بیشتر لوگ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، <<ان شاء الله>> آئندہ نسل اس سے بہت زیادہ خدمات انجام دے گی اور <<ان شاء الله>> اس تحریک کا مستقبل روشن ہوگا۔
حضرات! مجلس استقبالیہ کے اس خطبہ میں پچھلے پچاس سال اور اس سے پہلے کے جن حالات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ در حقیقت کچھ بغیر توقع حالات نہ تھے۔ مسلمانوں کو انیسویں صدی میں جو پے در پے شکستیں پہنچیں تھیں ان کی بدولت اچانک اُنھوں نے اپنے آپ کو اس حالت میں پایا کہ مشرق سے لے کر مغرب تک وہ اہل مغرب کے غلبہ اور استیلا سے مغلوب ہو چکے تھے۔ فطری طور پر اس کا پہلا رد عمل وہی کچھ ہونا تھا جو ہوا، جس کا ذکر آپ نے اپنے اس خطبہ استقبالیہ میں کیا ہے۔ اُن کو یکا یک ایک ایسی تہذیب سے سابقہ پیش آیا تھا جو صرف اپنے فلسفہ اور سائنس ہی کو لے کر نہیں آئی تھی، محض اپنے اخلاقی، تمدنی اور معاشی نظام کو لے کر بھی نہیں آئی تھی، بلکہ ان سب چیزوں کی پشت پر توپ اور بندوق بھی تھی اور ان کی پشت پر سیاسی اقتدار بھی تھا جس سے مسلمان خود اپنے گھر میں غلام بن کر رہ گئے تھے۔ اس نوعیت کے غالب قاہر فلسفۂ زندگی سے جب یکا یک ان کو سابقہ پیش آیا تو انہوں نے اس کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔ انہوں نے انتہائی شکست خوردگی کے ساتھ اس کی بالاتری کو تسلیم کر لیا۔ ان کے اندر یہ جرأت باقی ہی نہ رہی کہ اس کو تنقید کی نظر سے دیکھتے۔ وہ صرف جسم ہی کے اعتبار سے نہیں، عقل و فکر اور رُوح کے اعتبار سے بھی مفتوح ہو کر رہ گئے تھے۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ فاتح کے نظریات و افکار تو ہر غلطی سے مبرا ہیں، غلطی کا امکان اگر ہے تو مفتوح کے نظریات و افکار میں ہے۔ تہذیب اگر صحیح ہے تو فاتح کی تہذیب ہے بدلنے کے قابل صرف مفتوح کی تہذیب ہے جسے فاتح کی تہذیب کے معیار پر ڈھالا جانا چاہیے۔ علم اور تحقیق کے نام سے فاتح جو کچھ لا رہا ہے وہ گویا اٹل حقائق ہیں جن میں کسی نقص کا امکان نہیں۔ ترمیم کے قابل صرف مفتوح کے عقائد ہیں جو اس علم و تحقیق سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔ فاتح کا ہر اعتراض جو وہ مفتوح کے مذہب، تاریخ اور تمدن پر کرے، بجائے خود بالکل بجا ہے۔ مفتوح اگر اپنی عزت بچانا چاہتا ہے تو اسے اپنی ہر اس چیز کا انکار کر دینا چاہیے جس پر فاتح نے انگشت نمائی کی ہو۔ جنگ کے میدان میں شکست کھانے نے اور سیاست کے میدان میں مغلوب ہو جانے کے بعد یہ قدرتی رد عمل تھا جس کے زیراثر انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے دور اول میں مسلمانوں کے اہل علم اور اہل قلم نے مغربی فلسفہ کو حق مان کر اسلامی عقائد میں ترمیم کرنی شروع کی۔ مغربی تہذیب کو بجا و درست سمجھ کر اسلامی تہذیب کی شکل بگاڑنے اور اس کے اندر نئے پیوند لگانے کا سلسلہ جاری کیا، اور اسلام پر اہل مغرب کے اعتراضات کو وزنی سمجھ کر ان کے جواب میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کر لیا۔ بجائے اس کے کہ وہ ان اعتراضات کی حقیقت پر نگاہ ڈالتے اور تحقیق کرتے کہ وہ کہاں تک صحیح اور کہاں تک غلط ہیں، ان پر یکا یک ان اعتراضات کا رد عمل یہ ہوا کہ انہوں نے ہر اس چیز سے انکار شروع کر دیا جس کی نشان دہی معترضین کی طرف سے کی گئی تھی خواہ وہ در حقیقت ہماری شریعت میں موجود ہو اور خود معترضین اس کو اپنی نادانی سے غلط سمجھ بیٹھے ہوں۔
مثلاً معترضین کی طرف سے جب اسلام کے جہاد پر اعتراض کیا گیا تو مغلوب اور مرعوب ذہن یہ نہ دیکھ سکے کہ یہ اعتراضات کن کی طرف سے آرہے ہیں۔ معترضین وہ لوگ تھے جنہوں نے خود ایشیا، افریقہ، امریکہ اور آسٹریلیا میں ہر طرف جارحانہ جہاد کیا تھا، پورے پورے بر اعظموں پر قبضہ کر کے کروڑوں انسانوں کو اپنا غلام بنا لیا تھا اور بعض علاقوں میں قدیم باشندوں کو قریب قریب بالکل فنا کر دیا تھا۔ ان کے اپنے مذہب میں چونکہ جہاد نہ تھا، اور وہ جہاد کے بغیر دنیا میں رہ بھی نہ سکتے تھے، اس لیے جب انہوں نے جہاد کیا تو ان کے پاس جنگ کے لیے کوئی اخلاقی ضابطہ موجود نہ تھا، کوئی خدائی ہدایت نہ تھی جو ان کو جنگ کی تہذیب سے آشنا کرتی بلکہ انہوں نے خود اپنے لیے جنگ کے طریقے اپنی خواہشات اور اغراض کے مطابق وضع کر لیے تھے۔ اس وجہ سے جب انہوں نے جہاد کیا تو بعض بد اعظموں میں پوری کی پوری نسلوں کو مٹا دیا اور مفتوحوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ ان چیزوں پر نگاہ کرنے کے بجائے ہمارے ہاں کے اہل علم اور اہل قلم نے سرے سے اس بات کا انکار ہی کر دیا کہ ہمارے ہاں جہاد نامی بھی کوئی چیز ہے، اور معترضین کو یہ نہ بتایا کہ اسلامی تعلیم کی برکت سے مسلمانوں نے اپنی پوری تاریخ میں جنگ کے اندر کبھی وہ وحشیانہ حرکتیں نہیں کیں جو اہل مغرب نے کی تھیں اور آج تک کر رہے ہیں، نہ مفتوح قوموں کے ساتھ کبھی وہ برتاؤ کیا جو اہل مغرب نے کیا ہے۔ اس کے برعکس مسلمان معذرت خواہ یوں نے گویا معترضین سے یہ کہا کہ جہاد کرنا بس آپ ہی کا حق ہے۔ ہم اس کا حق نہیں رکھتے۔
اسی طرح جب اسلام کے مسئلہ غلامی پر اعتراض ہوا تو ہمارے ہاں کے اہل علم اور اہل قلم نے فوراً اس بات کا انکار کر دیا کہ اسلام میں غلامی کا بھی کوئی قانون ہے اور اس کے لیے کچھ ضوابط اور قواعد مقرر کیے گئے ہیں۔ ان پر یہ اعتراض سن کر کچھ ایسی گھبراہٹ اور خوف زدگی طاری ہو گئی کہ وہ اس معاملہ میں خود معترضین کے طرز عمل کا جائزہ لے کر دیکھ بھی نہ سکے۔ معترض وہ لوگ تھے جن کے اپنے دین میں غلامی کے متعلق کوئی ہدایت موجود نہ تھی جس سے ان کو یہ معلوم ہوتا کہ انسان کو غلام کس حالت میں بنایا جا سکتا ہے اور کس حالت میں نہیں بنایا جا سکتا، اور غلام بنانے کے بعد غلاموں کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہیے۔ ایسے کسی ہدایت نامے کے بغیر انہوں نے اتنے بڑے پیمانے پر غلامی کا کاروبار کیا جس کی کوئی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ وہ کئی صدیوں تک افریقہ کے باشندوں پر چھاپے مارتے رہے۔ دس بارہ کروڑ انسانوں کو پکڑ کر لے گئے۔ امریکہ اور ویسٹ انڈیز وغیرہ میں اپنی نو آبادیوں کی آبادکاری کا کام ان سے لیا اور ان کے ساتھ بدترین انسانیت سوز سلوک کیا۔ آج مغربی دنیا میں رنگ کا مسئلہ ان کے اسی ظلم کی بدولت پیدا ہوا ہے، ورنہ بیچارے افریقہ کے کالے خود امریکہ جھپکا اور دوسرے ملکوں میں پرواز کر کے نہیں گئے تھے۔ ہمارے اہل علم اور اہل قلم اتنی جرات بھی نہ رکھتے تھے کہ وہ اسلام کے مسئلہ غلامی پر اعتراض کرنے والے اہل مغرب سے یہ کہہ سکتے کہ حضرات یہ نامہ اعمال لے کر آپ کا منہ کیا ہے کہ ہم پر حرف زنی کریں۔ وہ وقت تھا ہی کچھ ایسا کہ فاتحین کے اعتراضات سن کر ہمارے ہاں کے لوگوں پر بدحواسی طاری ہو جاتی تھی۔ وہ اس بات کو نہیں دیکھتے تھے کہ معترض کون لوگ ہیں اور ان کے اعتراض کی حقیقت کیا ہے۔ انہیں تو فاتح گالیا بھو الہر الزام سن کر اپنی عزت بچانے کی فکر لاحق ہو جاتی تھی۔ انہوں نے کبھی یہ کہنے کی ہمت نہ کی کہ حضرات ہمارے پاس چونکہ غلامی کے بارے میں ایک اعلیٰ درجہ کا معقول اخلاقی ضابطہ موجود تھا اس لیے ہمارے ہاں کبھی غلاموں کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا گیا جو افریقہ کے غلاموں کے ساتھ آپ نے امریکہ اور ویسٹ انڈیز وغیرہ میں کیا ہے۔ آپ کو تو انیسویں صدی میں غلامی کو قانوناً منسوخ کرنے کی توفیق نصیب ہوئی، یہی تو آج تک گورے اور کالے کی تمیز سے آپ نجات نہیں پا سکے ہیں۔ امریکہ اور جنوبی افریقہ میں کالوں کے ساتھ جو سلوک آپ کر رہے ہیں وہ غلامی کے طریقے سے ہزار درجہ بد تر ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں غلام بادشاہی کے تخت پر باہل سرفراز ہوئے ہیں۔ ہمارے بڑے بڑے سپہ سالار غلام ہوئے ہیں۔ اور ہماری تاریخ ان غلاموں سے بھری ہوئی ہے جنہیں محدث، فقیہہ اور امام بننے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
اسی طرح جب ہمارے تعدد ازواج پر اہلِ مغرب کی طرف سے اعتراض کیا گیا تو ہمارے ہاں کے اہل علم اور اہل قلم اس پر شرمندہ ہو کر طرح طرح کی معذرتیں پیش کرنے لگے اور انہوں نے آنکھیں کھول کر یہ نہ دیکھا کہ یک زوجی (MONOGAMY) کو قانون قرار دے کر اہلِ مغرب نے ایک بہت بڑی نادانی کا ارتکاب کیا ہے جس کا بدترین خمیازہ وہ آج بھگت رہے ہیں۔ اس کی بدولت ان کے ہاں غیر قانونی تعدد ازواج نے رواج پایا جو کسی ضابطہ کا پابند نہیں اور جس کے ساتھ کسی ذمہ داری کا بار نہیں۔ اسی کی بدولت ان پر کثرت طلاق کی وبا مسلط ہوئی جو روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اسی کی بدولت ان کے ہاں ناجائز بچوں کی بھرمار ہو رہی ہے۔ خاندانی نظام درہم برہم ہو رہا ہے۔ برباد شدہ گھروں (BROKEN HOMES) کے بچے ایک پریشان کن مسئلہ بن گئے ہیں۔ اور کمسنی کے جرائم روز افزوں ترقی پر رہی ہیں۔ ان ساری چیزوں کو پیش کر کے معترضین کو شرم دلانے کے بجائے ہم خود اپنے قانون تعدد ازواج پر شرمانے لگے اور اس میں ترمیم کرنے پر تل گئے۔
وہ ایک دور تھا جو قدرتی اسباب سے ہمارے اوپر آیا تھا۔ اگرچہ وہ ابھی تک بالکل ختم نہیں ہوا ہے لیکن بہرحال اس کو گزرنا تھا، گزر رہا ہے اور لازماً گزر کر ہی رہے گا۔ ابتدائی مراحل سے نکلنے کے بعد جب ہمارے ہاں ذرا زیادہ گہرے غور و فکر کے ساتھ فلسفہ، سائنس، تاریخ اور مذہب کا مطالعہ کیا گیا تو اس کے بعد ظاہر بات ہے کہ ابتدائی مرعوبیت نہ کی وہ کیفیت باقی نہیں رہ سکتی تھی۔ ابتدائے اسلام میں بھی جب مسلمانوں کو یونانی اور دوسرے عجمی فلسفوں سے نیا نیا سابقہ پیش آیا تھا تو اس نے اعتزال کی شکل اختیار کی تھی۔ لیکن جب گہرائی کے ساتھ ان چیزوں کا مطالعہ کیا گیا تو آخر کار تنقید اور تحقیق نے ان ابتدائی تاثرات کو ختم کر دیا اور مسلمانوں کے اندر ایک پختہ نظام فکر اور ایک پختہ علم کلام وجود میں آیا۔ ایسی ہی صورت اب بھی پیش آ رہی ہے۔ جوں جوں مطالعہ میں وسعت اور تحقیقات میں پختگی پیدا ہوتی جا رہی ہے وہ ابتدائی اثرات ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک مسلمانوں میں اس طرح کے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو مغربی نظر سے اسلام کو دیکھ رہے ہیں اور اسلام میں ترمیمات کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اب ہمارے اندر ایسے محققین خدا کے فضل سے موجود ہیں جو اس طرح کی ہر صحیح فہمی اور ہر اٹھنے والی تحریکی تحریک کا استیصال کرنے اور مسلمانوں کو غلط فہمیوں سے بچانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
اب میں مختصراً خطبہ استقبالیہ کے اس حصہ کے متعلق بھی کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں جس میں موجودہ زمانے کی مشکلات اور پریشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے متعلق میں یہ عرض کروں گا کہ اس دور کی جتنی ترقی بھی ہے وہ ساری کی ساری دراصل علوم طبیعیہ (PHYSICAL-SCIENCES) کی تحقیقات کی بدولت ہے۔ ان علوم کی تحقیقات نے انسان کو غیر معمولی قوتیں دے دی ہیں۔ ان کی بدولت انسان نے عجیب و غریب ایجادات کی ہیں اور ان کے استعمال سے انسانی تمدن و معاشرت اور تہذیب کو غیر معمولی مادی ترقی حاصل ہوئی ہے۔ لیکن یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ جہاں تک علوم طبیعیہ کا تعلق ہے، خدا نے انسان کو خود اس کی تحقیق کے ذرائع عطا کر دیے ہیں اور اس کے اندر وہ قابلیتیں اور صلاحیتیں پیدا کر دی ہیں جن کے ذریعہ سے وہ اپنے گرد و پیش کی موجودات کا مطالعہ کر سکتا ہے، تجربات اور مشاہدات سے ان کے خواص اور ان کے اندر کام کرنے والے قوانین دریافت کر سکتا ہے اور اپنی مادی ترقی کے لیے انہیں زیادہ سے زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی خدائی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا نے خود انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے، اس مادی دنیا پر اس کو اقتدار عطا کر دیا ہے، اس اقتدار کو استعمال کرنے کے ذرائع و وسائل اس کیلئے فراہم کر دیے ہیں، اور خود انسان کے اندر وہ صلاحیتیں اور قابلیتیں پیدا کر دی ہیں جن سے کام لے کر وہ موجودات زمین سے اپنی خدمت لے سکتا ہے۔ مگر جہاں تک تہذیب و تمدن کا تعلق ہے، جہاں تک اخلاق کا تعلق ہے اور جہاں تک انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے نظام کا تعلق ہے، اس کے بارے میں انسان کو یہ غلط فہمی لاحق ہو جانا صحیح نہیں ہے کہ یہاں بھی وہ اپنی ہی تحقیقات سے زندگی کے صحیح اصول معلوم کر سکتا ہے۔ یہ غلط فہمی درحقیقت ان تمام خرابیوں کا بنیادی سبب ہے جو انسانی تہذیب میں راہ پاگئی ہیں۔ یہاں فی الواقع انسان خدائی ہدایت (DIVINE GUIDANCE) کا محتاج ہے۔ خدائی ہدایت سے آزاد ہو کر انسان اگر اپنے اصول خود وضع کرنے لگے اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ اس پہلو میں بھی اُسے خدا کی طرف سے آئی ہوئی کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے تو وہ ٹھوکروں پر ٹھوکریں کھاتا چلا جاتا ہے اور محض اپنی عقل و فکر اور تجربات و مشاہدات کے بل پر کوئی صحت مند نظام زندگی تعمیر نہیں کر سکتا۔ یہ غلطی پہلے بھی انسان کو گمراہ کرتی رہی ہے اور آج بھی کر رہی ہے اور اس کا نتیجہ بجز تباہی کے اور کچھ نہیں ہے۔
اس معاملہ میں ایک اور غلطی بھی ہے جو انسان کرتا رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جس محدود دائرہ میں کوئی خدائی ہدایت وہ اپنے پاس پاتا ہے صرف اسی پر وہ اکتفا کرنا چاہتا ہے اور اپنے دائرہ سے باہر جا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتا کہ کہیں اور بھی کوئی ہدایت خدا کی طرف سے آئی ہوئی موجود ہے یا نہیں۔ اس کے اپنے معاشرہ میں، اس کے اپنے اسلاف کے ذریعہ اُسے اگر کوئی خدائی ہدایت اُسے ملی ہے تو وہ صرف اسی پر قناعت کر لیتا ہے۔ پھر جب وہ دیکھتا ہے کہ یہ ہدایت اسے پوری رہنمائی نہیں دے رہی ہے جس سے زندگی کے مختلف پہلوؤں میں وہ ایک جامع اور قابلِ عمل نظام مرتب کر سکے اور اپنی زندگی کو صحیح طریقوں پر ڈھال سکے تو وہ سرے سے خدائی ہدایت ہی سے مایوس ہو جاتا ہے اور یہ ضروری سمجھتا ہے کہ اپنے دائرہ سے باہر نکل کر بھی یہ معلوم کرے کہ کہیں اور بھی کوئی خدائی ہدایت زیادہ جامع اور صحیح شکل میں موجود ہے یا نہیں۔ وہ اگر کہیں راہ پائی جاتی ہو تو اس کو وہ اجنبی چیز سمجھتا ہے، اس کے اندر عجیب نگاہنے کا کوشش کرتا ہے، اس کی قدر گھٹانے میں اپنا زور صرف کرتا ہے، اور چاہتا یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کے خدائی ہدایت ہونے کا انکار کرنے کے لیے اسے کوئی بہانہ مل جائے۔ حالانکہ فی الواقع یہ اس کی خود اپنے ساتھ دشمنی ہے۔ ایک انسان کو کھلے دل کے ساتھ دیکھنا چاہیے کہ کہاں حق کی روشنی موجود ہے۔ کھلے دل کے ساتھ اس کو معلوم کرنا چاہیے کہ اگر میرے پاس کوئی روشنی صحیح شکل میں نہیں ہے تو کہیں اور وہ موجود ہے یا نہیں۔ اگر وہ کہیں پائی جاتی ہو، یا کوئی اسے پیش کرے تو بغیر کسی تعصب اور بغیر کسی تنگ نظری کے اس کو جانچنا چاہیے قبل از وقت کوئی رائے قائم کیے بغیر اس کی تحقیق کرنی چاہیے کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے کہ آیا اس سے کوئی ایسی رہنمائی مل سکتی ہے جس سے ہم اخلاق کے صحیح اصول معلوم کر سکیں، جس سے ہم اپنے تمدن اور اپنی تہذیب کے بنیادی مسائل کا حل معلوم کر سکیں، جس سے ہم اپنی زندگی کو زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کر سکیں۔
میں سمجھتا ہوں اگر موجودہ زمانے کے اہل فکر اپنی اس کمزوری سے نجات پالیں تو سارے انسان خدا کی طرف سے آئے ہوئے ہر اس نور سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو دنیا میں کہیں آیا ہے۔ ہم اس کے لیے بالکل تیار ہیں کہ اہل مغرب کے پاس اگر خدا کی طرف سے آئی ہوئی کوئی ہدایت موجود ہو تو اس سے استفادہ کریں جبکہ تحقیق سے ہمیں اس کے خدائی ہدایت ہونے کا اطمینان ہو جائے ۔ اسی طرح سے اہل مغرب کو بھی چاہیے کہ ہمارے پاس خدا کی جو ہدایت موجود ہے، جس کو ہم ہدایت الہی کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں، اس کو بھی وہ اچھی طرح جانچ لیں اور دیکھیں کہ آیا اس کے اندر کوئی ایسی رہنمائی ملتی ہے جس کی مدد سے وہ اپنی زندگی کے نظام کو درست کر سکیں۔
مثال کے طور پر میں عرض کروں گا کہ اس وقت امریکہ، جنوبی افریقہ ، روڈیشیا اور دوسرے ملکوں میں رنگ و نسل کی تفریق انتہائی شدت اختیار کر گئی ہے اور برطانیہ میں بھی یہ سر اٹھاتی نظر آرہی ہے۔ یہ ایک بدترین داغ ہے جو انسانیت کے دامن پر لگا ہوا ہے اور مغربی دنیا اپنی معقولیت پرستی (RATIONALISM) کے سارے دعووں کے باوجود اس دھبے کو اپنے دامن سے دھونے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ اب اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس مسئلہ کو جس طرح اسلام نے حل کیا ہے دنیا کا کوئی معاشرہ اسے حل نہیں کر سکا ہے۔ آخر تعصب کو چھوڑ کر یہ سمجھنے کی کوشش کیوں نہ کی جائے کہ اسلام کے اصولوں میں وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے اسلامی معاشرہ کے اندر پوری اسلامی تاریخ میں کبھی رنگ کے مسئلہ نے وہ شکل اختیار نہیں کی جو مغربی معاشرہ میں پیش آرہی ہے؟
اسی طرح موجودہ تہذیب میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ خاندانی نظام بُری طرح درہم برہم ہو رہا ہے۔ شوہر اور بیوی، ماں باپ اور اولاد بھائی اور بہن کے رشتے بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔ بھرے گھر برباد ہو رہے ہیں۔ کم سنی کے جرائم بے تحاشا بڑھ رہے ہیں۔ ٹوٹے ہوئے گھروں (BROKEN HOMES) کے بچے پورے معاشرے کے لیے ایک نفسیاتی مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ ناجائز بچوں کی ولادت روز بروز ترقی پذیر برائی ہے۔ طلاق و تفریق کی کثرت نے انسانی معاشرہ کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ دیکھنا چاہیے اور انصاف کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں کبھی یہ مسائل اس شکل میں پیدا نہیں ہو سکے۔ آخر کیوں نہ اُن قوانین و ضوابط کا مطالعہ کیا جائے جن کی وجہ سے اس انتہائی تنزل کے دور میں بھی مسلم معاشرہ ان لعنتوں سے پاک ہے؟ علمائے مغرب اس سے سبق لینے کے بجائے ہمارے قوانین نکاح و طلاق اور ہمارا نظام معاشرت پر الٹی نکتہ چینیاں کرتے ہیں اور اپنے شاگردوں کے ذریعہ سے ہمیں بھی وہ بیماریاں لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کے معاشرت کو تباہ کر رہی ہیں حالانکہ انہیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ ہمارے قوانین اور قواعد کے اندر کیا چیز ایسی ہے جس کی وجہ سے اسلامی معاشرہ کے اندر خاندانی نظام کی یہ درہمی و برہمی پیدا نہیں ہوئی، ناجائز بچوں کی کثرت نہیں ہوئی، طلاقوں کی یہ بھرمار نہیں ہوئی، بچوں کے جرائم کا یہ زور نہیں ہوا، اولاد اپنے بوڑھے والدین کے لیے اس قدر بے درد نہیں ہوئی اور والدین اپنی اولاد سے اس درجہ بے پروا نہیں ہوئے کہ بچوں سے بڑھ کر ان کو اپنے کتے زیادہ پیارے ہو جائیں ۔ تعصب سے ذہن کو پاک کیا جاتا تو بعید نہ تھا کہ اپنے محدود دائرے سے باہر کی دنیا کو دیکھ کر کوئی مفید سبق حاصل کیا جا سکتا۔
اس سلسلے میں ایک اور مثال بھی میں پیش کر سکتا ہوں۔ آج کی دنیا بے در پے لڑائیوں کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔ دو عظیم اور خوفناک لڑائیاں ہو چکی ہیں اور ایک تیسری لڑائی کا ہر وقت خطرہ ہے۔ چاروں طرف دلوں محسوس ہوتا ہے کہ بارود بچھی ہوئی ہے اور دنیا کو بھک سے اڑا دینے کے لیے بس ایک چنگاری کافی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا کے موجودہ نظام میں چند بنیادی خرابیاں موجود ہیں جنہوں نے روئے زمین کو آتش فشاں بنا رکھا ہے۔ ان میں سے ایک خرابی یہ حد سے بڑھی ہوئی قوم پرستی ہے جس نے قوموں کو ایک دوسرے سے پھاڑ کھایا ہے اور ایک دوسرے کا حریف بنا دیا ہے۔ اور ایک دوسری خرابی وہ تنگ نظری اور تنگ دلی ہے جس کی وجہ سے فتح یاب ہونے کے بعد مفتوح قوم کے ساتھ بھی فیاضی کا سلوک نہیں کیا جاتا بلکہ اس کو کچلنے اور دبانے اور اس کی عزت نفس کو ختم کرنے اور مادی حیثیت سے اس کو بالکل برباد کر دینے اور اس کے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مفتوح قوم کے دل میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور ایک جنگ ختم ہوتے ہی دوسری جنگ کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ اہلِ مغرب کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے کہ کوئی دوسرا معاشرہ ایسا ہے جس کے پاس کوئی ایسی ہدایت موجود ہو جس کی بدولت اس کے ہاں کبھی جنگ نے یہ شکل اختیار نہیں کی۔ بلاشبہ مسلمانوں کے اندر بھی اسلام کی پوری پیروی نہ کرنے کے باعث بارہا آپس کی لڑائیاں پیش آئی ہیں، غیر مسلموں سے بھی بارہا ان کا مقابلہ ہوا ہے۔ دنیا کے بہت سے ملک انہوں نے بھی فتح کیے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص انصاف کی نظر سے دیکھے تو اسے نظر آسکتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر کبھی نیشنلزم کا وہ اندھا جنون پیدا نہیں ہوا جو مغربی دنیا میں پایا جاتا ہے اور مسلمانوں نے کبھی مفتوحوں کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جو اہلِ مغرب نے کیا ہے۔ اسپین کو کبھی مسلمانوں نے بھی فتح کیا تھا، اور پھر عیسائیوں نے بھی اسے مسلمانوں سے چھینا۔ دونوں فتوحات کے نتائج ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے۔ فلسطین اور بیت المقدس کبھی مسلمانوں سے بھی چھینے گئے تھے، اور مسلمانوں نے بھی کبھی ان کو واپس لیا تھا۔ دونوں کا فرق آخر کس کو معلوم نہیں ہے؟ اس فرق کی وجہ تلاش کیجیے۔ کیا اس کی کوئی وجہ اس کے سوا بتائی جا سکتی ہے کہ اسلام نے اپنے پیرو انسانوں کو اس قدر وسیع القلب ، اس قدر فیاض، اور اس قدر رقیق قوم پرست بنا دیا ہے جس کے باعث وہ فتحیاب ہونے کے بعد مفتوح قوم کے ساتھ کبھی وہ سلوک نہیں کرتے جو دوسرے لوگ کرتے ہیں، اور ان کے اندر قومیت کا وہ جنون کبھی پیدا نہیں ہوتا جو اپنی قوم کے سوا انسان کو ہر دوسری قوم کا دشمن بنا دیتا ہے۔ اسلام کی ان تعلیمات کو کھلے دل سے دیکھنا چاہیے جن کی بدولت مسلمانوں کو یہ نعمت حاصل ہوئی ہے۔ اگر ان کے اندر کوئی بھلائی پائی جائے، اگر ان کے اندر کوئی روشنی نظر آئے تو آخر کیوں نہ اس سے رہنمائی حاصل کی جائے؟ انسان اپنا خود دشمن ہوگا اگر کہیں اسے دار وئے شفا ملتی ہو تو وہ صرف اس لیے اس کو لینے سے انکار کر دے کہ یہ اس کے ہاں کی چیز نہیں ہے۔
آخر میں ایک بات اور بھی عرض کرنا چاہتا ہوں، اگرچہ میری قوت گویائی اب جواب دے رہی ہے۔ اس زمانے میں خوش قسمتی سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو مغربی تہذیب کے ایک بہت بڑے مرکز انگلستان میں آکر رہنے کا موقع ملا ہے۔ اس سے پہلے جب برطانیہ ایک سلطنت (EMPIRE) تھا اس وقت مسلمانوں کے ساتھ اہل برطانیہ کے تعلقات کی نوعیت کچھ اور تھی۔ اس وقت اس کا امکان نہ تھا کہ ان کے درمیان کسی صحت مند بنیاد پر تہذ یبی لین دین ہو سکے۔ لیکن اب سلطنت کا دور ختم ہو گیا ہے اور برطانیہ صرف ایک مملکت ہے۔ اب ہم اُسی طرح آزاد ہیں جس طرح خود اہلِ برطانیہ آزاد ہیں۔ اب ہمارا اور ان کا رابطہ دو آزاد قوموں کا سا رابطہ ہے جس میں نہ ایک فریق حقیر ہے اور نہ دوسرا فریق کبیر۔ یہ ایک ایسا موقع ہے کہ اگر اس سے دونوں فریق فائدہ اٹھانا چاہیں تو اٹھا سکتے ہیں۔ ہم اہل برطانیہ کے علوم و فنون سے، ان کے سیاسی ادارات سے ، ان کی آزادی صحافت سے، ان کی علمی تحقیقات سے اور ان کی تنظیمات سے بہت کچھ استفادہ کر سکتے ہیں اور ہمیں کرنا چاہیے اسی طرح اہل برطانیہ بھی۔ اگر وہ خود بھی اُس رواداری سے کچھ کام لیں جس کا سبق وہ ہمیں دیا کرتے ہیں، ہم سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اگر وہ اپنی سرزمین میں مسلمانوں کو اسلامی اصول کے مطابق زندگی بسر کرنے کا موقع دیں تو بہت آسانی کے ساتھ انہیں یہ دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے کہ آیا ہماری تہذیب میں کچھ اصول ایسے ہیں جن سے وہ فائدہ اٹھا ئیں۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں میں نے اکثر یہ باتیں سنی ہیں کہ اہل برطانیہ ہیں اور خصوصاً یہاں کے بعض پیڈروں کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ جو لوگ بھی اس ملک میں آئے ہیں وہ یہاں کی آبادی کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں اور اپنی تہذیب اور اپنے تمدن کی خصوصیات کو چھوڑ کر انگریزی تہذیب و تمدن کی خصوصیات اختیار کر لیں۔ میں یہ عرض کروں گا کہ انہیں اپنے اس طرز تک پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ یہاں انگریزوں کی کوئی کمی نہیں ہے ان کے اندر کچھ اور انگریزوں کا اضافہ کرنے سے آخر کیا فائدہ ہوگا؟ اور مجھے یہ بھی امید نہیں کہ اگر یہ باہر سے آنے والے لوگ سونی صدی بھی انگر یز بننے کی کوشش کریں تو یہاں واقعی ان کو انگریزی مان لیا جائے گا۔ پھر یہ ثابت بھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ اہل برطانیہ کو دوسروں سے ایسا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہی کیا پیش آئی ہے کم ازکم ہمارے ہاں پاکستان میں اور دوسرے مسلمان ملکوں میں تو انگریزوں، امریکنوں اور یوروپین حضرات سے کبھی اس نوعیت کا مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ اگر ہمارے ملک میں آکر رہیں تو اپنا لباس ترک کریں ، اپنے کھانے پینے کے طریقے چھوڑیں اپنے طریق زندگی سے دست بردار ہوں اور ہمارے ساتھ ہم رنگ (INTEGRATE) ہو جائیں۔ حتی کہ ہم نے تو کبھی تو سبھی ان سے یہ بھی نہیں کہا کہ ان کی خواتین اپنی ٹانگیں ہی ڈھانک لیں۔ جب ہم نے ان کے ساتھ یہ رواداری برتی ہے تو وہ بھی ہمارے ساتھ کم اند کم اتنی رواداری تو پر تہیں جو ہم ان کے ساتھ برت رہے ہیں۔ برطانیہ کی آبادی کثیر النسل ( MULTI - RACIAL) تو بن ہی چکی ہے اگر کثیر التہذیب ( MULTI-CULTURAL) بھی ہو جائے تو اس میں آخر خطرے کی کیا بات ہے؟ مسلمان یہاں اپنی تہذیب کے مطابق زندگی بسر کریں گے تو انشاء اللہ برطانیہ کے معاشرے کو مالامال ہی کریں گے، اور ان کی تہذیبی اقدار اور اطوار کو دیکھ کر اہل برطانیہ کو یہ دیکھنے کا موقع ملے گا کہ ان کے ہاں کیا چیزیں ایسی ہیں جن سے وہ آج تک ان معاشرتی الجھنوں سے بچے رہے ہیں۔ جن سے انگریزی معاشرہ اس وقت دوچار ہے۔ خوش قسمتی سے اس مجمع میں متعدد صاحب علم انگسر میز اصحاب بھی موجود ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جو کچھ میں نے خلوص دل کے ساتھ عرض کیا ہے اس پر دہ ٹھنڈے دل سے غور کریں گئے اور اگر میری باتوں کو معقول پائیں گے تو انہیں کھلے دل سے قبول کریں گے۔
آخر میں مجلس استقبالیہ کا پھر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے آپ حضرات سے ملنے کا قیمتی موقع عطا فرمایا جس کی یاد انشاء اللہ میرے دل سے کبھی محو نہ ہوگی۔
<<وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ>>
۔۔۔۔۔۔۔