خطبات یورپ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "خطبات یورپ" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ان تقاریر، مجالسِ سوال و جواب اور خطابات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کے دورِ حاضر کے سفروں کے دوران مغربی دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے دیے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا ایک مکمل، منظم اور فطرتِ انسانی کے عین مطابق نظامِ حیات ہے، جو جدید دور کے تمام بحرانوں کا واحد جامع حل پیش کرتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اس کتاب میں مغربی ذہن کے سامنے اسلام کو بغیر کسی نفسیاتی رکاوٹ، معذرت خواہی یا واخواہی کے، ایک آزاد، غیر مرعوب اور پراعتماد انداز میں پیش کیا ہے۔
کتاب کا آغاز "دیباچہ" سے ہوتا ہے، جس میں مغرب میں اسلام کے بارے پائی جانے والی غلط فہمیوں کی وجہ کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مولاناؒ نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کے عمل اور اسلام کی تعلیمات کے درمیان موجود تضاد نے غیر مسلموں کو اسلام کو قبول کرنے سے روک رکھا ہے۔ ساتھ ہی، مغربی تہذیب کے تناظر میں اسلام کی معاشرتی تعلیمات کو قدیم یا شہواتی سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس کے جواب دینے والا کوئی ایسا شخص دستیاب نہیں جو مغربی تہذیب سے مرعوب نہ ہو۔ اس خلا کو پُر کرتے ہوئے مولانا نے اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا ہے جو جدید چیلنجز کا جواب دیتا ہے۔
دوسرے باب "برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل" میں مولانا نے برطانوی معاشرے کی تاریخی اور فکری بنیادوں کا جائزہ لیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ٹورانٹو (کینیڈا) میں ایک مجلس
۱۹۷۴[ء میں مولانا محترمؒ کو بغرض علاج امریکہ جانا پڑا تھا۔ وہاں ان کا قیام کیلو میں تھا جس سے کینیڈا کا شہر ٹورانٹو تقریباً سو میل کی مسافت پر واقع ہے۔ اس شہر کی ۲۱۷۵۰۰۰ آبادی میں مسلمانوں کی تعداد کم و بیش ۲۵ ہزار ہے۔ وہاں کے مسلمانوں کا تقاضا تھا کہ مولانا امریکہ چھوڑنے سے پہلے کم از کم ایک دفعہ ان کے ہاں ضرور تشریف لائیں۔ چنانچہ ۵ اگست شئہ کی شام کو مولانا محترمؒ نے ان کی فرمائش پوری کی، اور اسلامک سنٹر کے ہال میں ایک بڑے مجمع کو خطاب بھی کیا اور لوگوں کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔ اس مجلس کی روداد درج ذیل ہے:]
بھائیو اور بہنو،
میں تہ دل سے اُس محبت کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں جس کے ساتھ مجھے یہاں آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں امریکہ اور کینیڈا کے سفر پر آیا بھی تو بیماری کی حالت میں آیا۔ اگر صحت کی حالت میں آتا اور میرے اندر طاقت ہوتی تو میں مختلف شہروں میں خود جاتا اور ہر جگہ اپنے مسلمان بھائیوں سے ملتا، ان کے حالات معلوم کرتا، ان کے سوالات کے جوابات دیتا اور جو کچھ مشورے ان کو دے سکتا تھا وہ دیتا۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ میں زیادہ محنت کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ سفر کرنے کے قابل بھی نہیں ہوں۔ بہت مشکل سے یہاں پہنچا ہوں۔ میں سب سے پہلے آپ کے سوالات کے جوابات دوں گا۔ پھر جو کچھ مجھے کہنا ہے، وہ چند منٹوں میں عرض کر دوں گا۔ سوال و جواب کے طریقے کو میں نے اس لیے پسند کیا ہے کہ جو باتیں آپ کے دل میں کھٹکتی ہیں پہلے وہ مجھے معلوم ہو جائیں اور میں ان کا جواب دے کر آپ کی تشفی کرنے کی کوشش کروں۔
سود کا مسئلہ:
سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے بینکوں کا سود وہی چیز ہے جسے ربا کہا جاتا ہے؟ کیا مکان کا کرایہ سود پر قرض دینے سے مختلف کوئی چیز ہے؟ ایک ملک کی معیشت، مثلاً افراطِ زر، تفریطِ زر اور قیمتوں وغیرہ کو سود کے تصور کے بغیر کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟
جواب:۔ سب سے پہلے آپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ قرآن سود کا کیا تصور پیش کرتا ہے۔ اُس میں بالکل واضح طور پر یہ بتادیا گیا ہے کہ جو رقم کسی شخص نے قرض لی ہو اس سے زائد کوئی رقم اگر قرض دینے والا بطور شرط وصول کرتا ہے تو وہ ”ربا“ ہے۔ یہ ایک اصولی بات ہے جو قرآن میں بیان کر دی گئی ہے۔ اور یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ قرض دینے والے کو اپنے راس المال“ (یعنی اپنے دیے ہوئے اصل مال) سے زیادہ ایک پیسہ تک لینے کا حق نہیں ہے۔ اس معاملہ میں یہ بات خارج از بحث ہے کہ جو شخص سود پر قرض لے رہا ہے وہ آیا غریب ہے، یا قرض اس غرض کے لیے لے رہا ہے کہ اس کو کاروبار میں لگائے یا صنعت میں یا کسی اور کام میں لگائے۔ ان حیثیتوں سے قرآن قطعی بحث نہیں کرتا، بلکہ وہ اصل راس المال سے زیادہ وصول کرنے کو بجائے خود قطعی حرام قرار دیتا ہے۔ اس سلسلے میں مزید بات یہ سمجھ لیجیے کہ جو شخص قرض دیتا ہے وہ آخر پیشگی کیسے اندازہ لگا سکتا ہے کہ قرض لینے والا اس سے کتنا فائدہ اُٹھائے گا، بلکہ کوئی فائدہ اُٹھائے گا بھی یا نہیں، یا الٹا نقصان اُٹھائے گا۔ اُس کو ان باتوں سے کوئی بحث نہیں ہے۔ وہ ایک مقررہ منافع اور قانونی طور پر محفوظ منافع لینے کا ہر حال میں حقدار ہے۔ قرض لینے والے نے مثلاً اگر کسی مردے کو دفن کرنے کے لیے قرض لیا تھا، تب تو سود اس کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے۔ لیکن اگر اس نے کاروبار میں لگانے کے لیے لیا تھا تو اُس کے لیے منافع ہی کی نہیں، نقصان سے بچنے کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ محنت، ذہانت اور وقت سب کچھ وہ صرف کرتا ہے لیکن کاروبار کا سارا خطرہ (RISK) اس کے ذمہ ہے اور قرض دینے والے کے لیے ایک مقررہ منافع کی پوری ضمانت ہے۔ اس کو انصاف کون کہہ سکتا ہے؟
اب میں اس سوال کے دوسرے حصے کو لیتا ہوں۔ یعنی یہ کہ مکان کا کرایہ لینے اور قرض دیے ہوئے مال پر سود لینے میں کیا فرق ہے؟ اس سوال کو آپ صرف مکان کے کرائے تک محدود کیوں رکھتے ہیں؟ اگر کوئی شخص ٹیکسی چلا رہا ہے اور اس کا کرایہ لے رہا ہے تو اس پر بھی یہی سوال کیجیے کہ کیا وہ روپیہ جو اس نے ٹیکسی خریدنے اور اس کے چلانے میں لگایا ہے وہ اس کا سود وصول نہیں کر رہا ہے؟ اسی طرح سے آپ اُن تمام چیزوں کے بارے میں یہی سوال کر سکتے ہیں جو کرایہ پر دی جاتی ہوں، مثلاً فرنیچر وغیرہ۔ لیکن روپیہ قرض دینے، اور مکان یا کسی دوسری چیز کو کرایہ پر دینے میں صریح فرق ہے۔ جو نقد روپیہ کسی کو دیا جاتا ہے وہ تو خرچ ہو جاتا ہے۔ اس نقد روپے میں کوئی ٹوٹ پھوٹ یا فرسودگی نہیں ہوتی۔ وہ استعمال کرنے سے پرانا نہیں ہو جاتا۔ اس کو مرمت اور دیکھ بھال کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی وصول طلب تعداد، جوں کی توں قائم رہتی ہے۔ لیکن مکان ہو یا کوئی اور چیز اس میں ٹوٹ پھوٹ بھی ہوتی ہے، استعمال سے فرسودگی بھی لاحق ہوتی ہے، مرمت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے اور جس حالت میں کرایہ دار کوئی چیز لیتا ہے وہ اُسی حالت میں اسے مالک کو واپس نہیں کرتا بلکہ کسی نہ کسی نقصان کے ساتھ واپس کرتا ہے۔ اس لیے چیز کا مالک اس پر کرایہ لینے کا جائز حقدار ہے۔ اس نوعیت کے کرائے کو روپے کے کرائے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے شریعت میں سود اور استعمال کی اشیاء کے کرائے میں واضح فرق کر دیا گیا ہے۔
سوال کا آخری حصہ یہ ہے کہ سود کے بغیر ایک ملک کی معیشت کو کس طرح کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ جب کسی غلط طریقے پر دنیا کا نظام چل پڑتا ہے تو پھر آدمی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے بغیر نظام کیسے چل سکتا ہے؟ اس طرح کے نظام میں خرابی بس یہی ہے۔ ورنہ اسلام نے صدیوں تک دنیا کے بڑے حصے پر حکومت کی ہے۔ صدیوں تک اس کے تحت اندرونی اور بیرونی تجارت چلتی رہی ہے۔ مالی معاملات چلتے رہے ہیں۔ صنعتیں چلتی رہی ہیں۔ ہر قسم کا لین دین ہوتا رہا ہے مگر کبھی سود لینے یا دینے کا سوال پیدا نہیں ہوا۔ یہ سودی نظام جس طرح موجودہ نظام مالیات پر مسلط ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے یورپ میں یہودیوں نے سود خواری شروع کی۔ کلیسا ابتداء میں اس کا مخالف تھا۔ سود کو وہ بھی حرام قرار دیتا تھا۔ لیکن یہودیوں کی وجہ سے جب سارے کاروبار میں سود گھستا چلا گیا تو کلیسا اس کے ساتھ مصالحت کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ آخر کار سود بالکل حلال ہو گیا اور ساری معیشت اسی پر چلنے لگی۔ ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس بات کے علمبردار ہیں کہ دنیا سے سود کو ختم کریں اور سارے مالی نظام کو غیر سودی طریقے پر چلائیں۔ ہمارے پاس سودی نظام کے مقابلے میں منافع میں شرکت کا قاعدہ ۔۔۔۔ (PROFIT SHARING SYSTEM) ہے۔ یعنی بجائے اس کے کہ سرمایہ دار قرض دے کر ایک مقررہ رقم وصول کرے، اس کو لازماً کاروبار میں روپیہ لگانا چاہیے اور جو منافع ہو اس کا متناسب حصہ لینا چاہیے۔
اگر بڑے پیمانے پر بہت سے کاموں میں روپیہ لگایا جائے گا تو سارے کاموں میں نقصان ہی نہ ہوگا، بلکہ کسی میں نقصان اور کسی میں منافع ہوگا، اور مجموعی طور پر نفع نقصان سے زیادہ ہو گا۔ لیکن اس صورت میں یہ بے انصافی نہ ہوگی کہ روپے والے کے لیے تو نامقرر منافع کی ضمانت ہو، اور سارا خطرہ (RISK) صرف کام کرنے والوں کے حصہ میں آئے، ہمارے نزدیک دنیا کی تباہی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ سودی نظام پورے مالیات پر قابض ہو گیا ہے۔
اسلامی نظام کے قیام کا طریقہ:
سوال: قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ <<اطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَؐ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُم>> - اللہ کی اطاعت کرو اور رسولؐ کی اطاعت کرو اور ان اولوالامر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہوں۔ یہ حکم ایک ایسی منظم جماعت چاہتا ہے جو کسی خاص فرقے یا قوم تک محدود نہ ہو اور اسلام کی حدوں میں رہ کر کام کرے۔ آپ کا اس معاملے میں کیا مشورہ ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کیا طریقے اختیار کیے جائیں، خصوصاً کینیڈا کے تنظیمی ڈھانچے کے اندر؟
جواب:۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا پورا جواب تو ایک کتاب ہی میں دیا جا سکتا ہے۔ تاہم میں ایک مختصر سا جواب عرض کیے دیتا ہوں۔ آدمی خواہ کینیڈا میں ہو، امریکہ میں ہو، چین میں ہو، یا کہیں بھی ہو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس کا اصل کام لوگوں کو اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کی کتاب اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دینا ہے۔ حالات اور مقامات کی مخصوص نوعیتوں کے لحاظ سے آپ اس دعوت کے لیے مناسب صورتیں اختیار کر سکتے ہیں لیکن سب سے مقدم کام ایمان کی دعوت ہی ہے جس کے بغیر اسلامی تعلیمات کی دوسری تفصیلات کو پیش کرنا لا حاصل ہے۔ اس غرض کے لیے ضروری ہے کہ معقول دلائل کے ساتھ لوگوں کو اچھی طرح اس بات پر مطمئن کر دیا جائے کہ وہ اس دنیا میں خود مختار پیدا نہیں ہوئے ہیں، بلکہ اس دنیا کا ایک خدا ہے جس کے وہ بندے ہیں، جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور جس کی اطاعت ان کو کرنی چاہیے۔ پھر ان کو اس بات کا قائل کیا جائے کہ خدا کی اطاعت کرنے کا ذریعہ اس کے بھیجے ہوئے رسولؐ کے طریقے کی پیروی کرنا ہے اور اس کتاب کی پیروی کرنا ہے جو انسانوں کی ہدایت کے لیے خدا کی طرف سے بھیجی گئی ہے۔ پھر ان کو یہ سمجھانا ہے کہ انسان اس دنیا میں غیر ذمہ دار نہیں ہے، مرکر مٹی ہو جانے والا نہیں ہے بلکہ اس کو دوبارہ ایک زندگی عطا ہوتی ہے جس میں وہ خدا کے سامنے اپنے تمام اعمال کی جواب دہی کرے گا اور اپنا حساب دے گا۔ یہ چیزیں آپ کو لوگوں کے ذہن نشین کرنی پڑیں گی خواہ آپ کہیں بھی ہوں۔ آپ جس معاشرے میں بھی ہوں اُس کے انفرادی اور اجتماعی حالات کا جائزہ لے کر آپ کو بتانا ہوگا کہ لوگوں کی انفرادی زندگیوں اور اجتماعی نظام میں جو خرابیاں پائی جاتی ہیں ان کی بنیادی وجہ یا تو خدا کے متعلق ان کا غلط عقیدہ ہے، یا رسالت، یا کتاب، یا آخرت کے بارے میں وہ کوئی غلط عقیدہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ چار بنیادی چیزیں ہیں۔ ان کے بارے میں اگر کوئی شخص یا قوم کوئی غلط عقیدہ اختیار کرلے تو اس کی ساری زندگی غلط ہو جاتی ہے۔ یہاں آپ جس معاشرے میں رہتے ہیں اس کے اندر آپ خود دیکھ رہے ہیں اور لوگوں کو دکھا سکتے ہیں کہ ہر طرف کیسی کیسی خرابیاں موجود ہیں۔ ترقی کے ساتھ ساتھ تنزل کے کون کون سے اسباب کسی کسی شکل میں یہاں خرابیاں پیدا کر رہے ہیں۔ یہ خرابیاں کس طرح سوسائٹی کا ستیا ناس کر رہی ہیں، جرائم بڑھا رہی ہیں، خاندانی نظام کو تباہ کر رہی ہیں، نئی نسلوں کو بگاڑ رہی ہیں، اخلاقی قدروں کا خاتمہ کر رہی ہیں، اور بدکرداری کا وہ طوفان برپا کر رہی ہیں جو اس سے پہلے بہت سی تہذیبوں کو غارت کر چکا ہے۔ یہ ساری چیزیں اب اس قدر عیاں ہو چکی ہیں کہ ان کی نشاندہی کرنے میں آپ کو کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی۔ انہیں پیش کر کے آپ اپنے گردوپیش کے لوگوں کو سمجھا سکتے ہیں کہ ان کی اصل وجہ خدا سے اور اس کی بھیجی ہوئی ہدایت سے اور آخرت کی جوابدہی کے احساس سے غافل ہو جانا ہے۔ اس حقیقت کو جب آپ معقول دلائل و شواہد کے ساتھ پیش کریں گے تو لازماً کچھ لوگ آپ کو ایسے مل جائیں گے جو ان کی صداقت تسلیم کر لیں گے۔ مکے میں بھی اسی طرح ہوا تھا کہ جب رسول اللہؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی طرف دعوت دی تو پہلے چند آدمیوں ہی نے اس کو مانا تھا۔ ایسے آدمی جب آپ کو مل جائیں تو انہیں ایک منظم جماعت بنائیے اور ان کے ذریعے سے دعوت کو مزید پھیلائیے۔ جتنے لوگ اس دعوت کو قبول کرتے جائیں گے وہ اس جماعت میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب اس سوسائٹی کو عملاً تبدیل کر دینا ممکن ہوگا۔ اس کے لیے صبر چاہیے، مسلسل محنت چاہیے، عقلمندی کے ساتھ کام کرنا چاہیے، اور اس بات کی فکر یہ کرنی چاہیے کہ ہم کو اس میں کامیابی ایک صدی میں ہوگی یا دو صدیوں میں ہوگی۔
حرام مال سے خیرات:
سوال۔ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے فرمایا ”جس نے جمع کیا مال حرام سے اور پھر اس کو صدقہ دے دیا تو اس کے لیے کوئی اجر نہیں بلکہ اس کا اجر اس کو جائے گا جس کا مال اس شخص نے چھڑا لیا اور اس کو صدقہ کر دیا۔“
اس حدیث کی رو سے یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ بینک سے سود لے اور پھر غریبوں میں تقسیم کر دے؟ میں سمجھتا ہوں کہ شاید آپ نے اس فعل کو کسی عارضی حل کے طور پر پیش کیا ہو گا۔ کیا آپ اس کی وضاحت فرمائیں گے؟“
جواب:۔ میں بارہا اس بات کو واضح کر چکا ہوں کہ بینک کے سودی اکاؤنٹ میں اس غرض سے روپیہ رکھنا کہ جو سود اس سے وصول ہوگا اس کو غریبوں میں تقسیم کر دیا جائے گا بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص جیب اس لیے کاٹے کہ جو روپیہ اسے ملے گا اس کو وہ کسی یتیم یا کسی بیوہ کو دے دے گا۔ جس طرح جیب کاٹ کر خیرات کرنا غلط ہے اسی طرح بینک سے سود لے کر خیرات کرنا بھی غلط ہے۔ میری جس بات کا آپ کا حوالہ دے رہے ہیں وہ دراصل یہ ہے کہ اگر آپ غلطی سے بینک کے سودی حساب میں روپیہ رکھ چکے ہوں اور اس پر آپ کو سود مل گیا ہو تو اس کو خود نہ استعمال کیجیے بلکہ غریبوں کو دے دیجیے۔ یہ بات میں اس وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ سود کے ذریعے سے جو روپیہ آتا ہے وہ صرف اسی شخص کے لیے حرام ہے جس نے سودی حساب میں روپیہ رکھا اور اس کو قبول کیا۔ لیکن اگر وہ شخص کسی امدادی کو یہ روپیہ ہبہ کر دیتا ہے یا کسی چیز کی اجرت یا قیمت میں دے دیتا ہے تو اُس شخص کے لیے یہ حرام نہیں ہے کیونکہ اُس کو جائز طریقے سے یہ روپیہ ملا ہے اور سود لینے والے کے پاس یہ ناجائز طریقے سے گیا تھا۔ مثال کے طور پر سود لینے والا آدمی اگر کسی ٹیکسی پر سوار ہوتا ہے اور ٹیکسی والے کو اُجرت دیتا ہے تو وہ روپیہ ٹیکسی والے کے لیے حرام نہیں ہے، البتہ اس شخص کے لئے حرام ہے جس نے سودی روپے سے ٹیکسی پر سفر کیا۔ اسی طرح اگر وہ کسی کو ہبہ کر دیتا ہے یا صدقہ کر دیتا ہے تو یہ ایک شخص سے دوسرے کی طرف مال منتقل ہونے کی جائز شرعی صورتیں ہیں، اس لیے صدقہ یا ہبہ لینے والے کے لیے یہ روپیہ حرام نہیں ہے۔
جماعت اسلامی جمہوری طریقِ کار کیوں اختیار کرتی ہے؟
سوال:۔ ’’پاکستان کی جماعت اسلامی نے اقتدار کی منزل تک پہنچنے کے لیے جمہوری طریقہ اختیار کیا ہے ، یعنی ایک مغربی طرز کے جمہوری نظام میں مغربی طرز کے انتخابات کے ذریعہ سے اکثریت حاصل کرنا۔ ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔
۔۔
قائم ہو گی اسی طرح ایک دوسری سازش کے نتیجے میں اس کا تختہ الٹ کر کوئی اور حکومت قائم ہو جائے گی۔ ہمارے نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایک کھلی اور کھلانیہ دعوت سے اپنا ہم خیال بنائیں۔ اس میں وقت کی حکومت خواہ کتنی ہی ستم گانہ سہی ہر طرح کی تکلیفوں کو، ہر طرح کے نقصانات کو، ہر طرح کی سزاؤں کو برداشت کر لیا جائے اور اپنی دعوت کو برابر جاری رکھا جائے۔ یہاں تک کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ہمارے ہم خیال ہو جائیں۔ جب لوگ ہمارے ہم خیال ہو جائیں گے تو ہم انشاء اللہ جمہوری طریقے سے ہی اپنے ملک میں اسلامی انقلاب لے آئیں گے۔
کیا زکوۃ ایک ٹیکس ہے؟
سوال:۔ کیا زکوٰۃ ایک طرح کا انکم ٹیکس نہیں ہے؟ کیا ہم زکوٰۃ کو فلاح عامہ کے کاموں مثلاً مدارس اور ہسپتالوں کے لیے استعمال نہیں کرسکتے؟
جواب:۔ زکوٰۃ کو ٹیکس قرار دینا سرے سے ہی غلط ہے۔ وہ تو اسی طرح ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن ہے جس طرح نماز ایک رکن ہے۔ زکوٰۃ انہی عبادتوں کی طرح ایک عبادت ہے اور اس عبادت کو مقرر کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اس کے مصارف بھی متعین کر دیے ہیں جن کے سوا کسی اور مصرف میں اسے استعمال نہیں کہا جا سکتا۔ آپ جتنے ٹیکس دیتے ہیں، خواہ وہ انکم ٹیکس ہو یا کسی اور قسم کا ٹیکس، ہر ایک کا نفع آپ کی طرف پلٹ کر آتا ہے۔ لیکن زکوٰۃ ایک ایسی چیز ہے جس کا نفع آپ کی طرف آخرت میں پلٹ کر آئے گا، اس دنیا میں آپ بس خدا کے بتائے ہوئے حق داروں کو زکوٰۃ دے دیجئے اور سمجھ لیجئے کہ یہ نیکی خدا کے دفتر میں درج ہو گئی۔ اگر آپ اس سے سڑکیں بنائیں گے یا ریلیں بنائیں گے یا مدرسے اور ہسپتال بنائیں گے تو ان سے امیر اور غریب سب فائدہ اٹھائیں گے، اور اس حالیکہ زکوٰۃ غریبوں کے لیے ہے، امیروں کے لیے نہیں ہے۔ ان چیزوں سے آپ خود بھی فائدہ اٹھائیں گے درآںحالیکہ زکوٰۃ سے آپ کو خود فائدہ اٹھانے کا حق نہیں پہنچتا۔ اس لیے زکوٰۃ کو صرف عبادت سمجھ کر ادا کیجئے، اس کو رکن اسلام سمجھئے، انکم ٹیکس نہ سمجھیے۔ ٹیکس کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ خواہ کتنے ہی انصاف کے ساتھ لگایا جائے اور کتنی ہی ایمانداری سے وصول اور خرچ کیا جائے، بہرحال جن لوگوں پر اس کا بار پڑتا ہے وہ کبھی اس کو خوشدلی سے نہیں دیتے بلکہ اس سے بچنے کی بے شمار راہیں تلاش کرتے ہیں۔ اب کیا خدا کی فرض کی ہوئی ایک عبادت کو بھی ٹیکس سمجھ کر اس کے ساتھ آپ یہی سلوک کرنا چاہتے ہیں؟ یہ طرز عمل آپ زکوٰۃ کے ساتھ اختیار کریں گے تو اپنے مال کے ساتھ اپنے ایمان کو بھی کھو دیں گے۔ یہ تو وہ چیز ہے جو خوشدلی سے دینی چاہیے، خدا کی خاطر دینی چاہیے، جتنی آپ پر واجب ہو اس سے بھی کچھ بڑھ کر دینا چاہیے، تاکہ خدا کی خوشنودی اور زیادہ حاصل۔
انشورنس
سوال:۔ کیا آپ صحت زندگی، یا حادثات کے بیمے کو ایک طرح کا بیت المال نہیں سمجھتے؟ اس میں تو ہر شخص جو اپنے آپ کو انشور کراتا ہے وہ ایک طرح کا چندہ دیتا ہے، اور حاجت مند اس کا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
جواب:۔ آپ نے تو انشورنس کا کاروبار کرنے والوں کو بالکل لعنت ہی میں پہنچا دیا۔ یہ غلط فہمی آپ کو کہاں سے لاحق ہو گئی کہ یہ ایک بیت المال ہے جس میں مالدار ایک چندہ دیتا ہے اور حاجت مند لوگ اس کا فائدہ اُٹھاتے ہیں؟ حالانکہ یہ ایک باقاعدہ کاروبار (ریپرنیسی) ہے جس کو سرمایہ دار اپنے فائدہ کے لیے چلاتے ہیں نہ کہ آفت رسیدہ لوگوں کے فائدے کے لیے۔ سرمایہ داروں نے سارے معاشرے کی بچتیں (SAVINGS) کھینچ کر اپنے قبضے میں لے لینے کے لیے دو طریقے اختیار کیے ہیں۔ ایک بینک جو سود کا لالچ دے کر لوگوں کے بچے ہوئے مال (SAVINGS) اپنے قبضے میں لیتا ہے۔ اور دوسرے انشورنس کمپنی، جو لوگوں کو نقصانات کی صورت میں مدد دینے کا لالچ دے کر پریمیم کی صورت میں ان کا سرمایہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ ان دو طریقوں سے تمام قوم کے بچے ہوئے مال ان سرمایہ داروں کے پاس جمع ہو جاتے ہیں اور پھر یہ اپنی شرائط پر اس ساری دولت کو معاشرے کے ان کاموں میں لگاتے ہیں جو ان کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید ہوں۔ بینک کی طرح انشورنس کمپنی بھی کوئی فلاح عام کا ادارہ نہیں ہے۔ کمپنی والے پورا حساب لگا کر دیکھتے ہیں کہ جتنے لوگ ہم سے انشور کراتے ہیں ان سے ہم کو پریمیم کتنا وصول ہوگا اور کتنے نقصانات کی تلافی کرنے کے لیے ہم کو کتنی رقم دینی ہوگی۔ اسی حساب سے وہ یہ اندازہ کر لیتے ہیں کہ کتنا نفع ہم کو حاصل ہوگا۔ جب تک انہیں بھاری نفع کی امید نہ ہو وہ انشورنس کا کاروبار ہرگز نہ کریں۔ اب آپ خود بتائیے کہ اگر وہ آپ کے ایسے ہی خیر خواہ ہیں اور خدمت خلق ہی کے لیے کام کر رہے ہیں تو اتنے بھاری منافع کیسے کماتے ہیں؟ اتنی عظیم الشان کوٹھیاں کیسے بناتے ہیں؟ اتنے عالی شان دفتر کیسے قائم کرتے ہیں؟ اتنی بڑی بڑی تنخواہوں والے ملازم اور ایجنٹ اور کیسے رکھتے ہیں؟ کیا یہ سب کچھ اپنی جیب سے خیرات کے طور پر ہو رہا ہے یا آپ کی جیب سے وصول کیا جاتا ہے؟ یہ بیت المال نہیں ہے، محض ناجائز نفع اندوزی ہے۔
امریکہ اور کینیڈا میں مسلمان بچوں کی تعلیم کا مسئلہ:
سوال:۔ جماعت اسلامی امریکہ اور کینیڈا میں ہمارے بچوں کی تعلیم کے لیے نصابی کتابیں کسی طرح فراہم کر سکتی ہے؟“
جواب:۔ جماعت اسلامی اس خدمت کی خود خواہشمند ہے۔ آپ اس کو بتائیں کہ آپ کسی قسم کے لٹریچر کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں تو اب واپس جا رہا ہوں۔ آپ اپنی ضروریات سے مرکز جماعت اسلامی لاہور کو آگاہ کریں اور تفصیل سے بتائیں کہ آپ کو کسی طرح کا لٹریچر درکار ہے۔ انشاء اللہ ہم اسے فراہم کریں گے۔ یا اگر وہ موجود نہ ہوگا تو تیار کرائیں گے اور یا تو خود چھپوائیں گے یا آپ کو بھیج دیں گے تاکہ آپ خود چھپوا لیں۔
ترقی یافتہ قوموں کے لیے اسلام میں کشش کیا ہے؟
سوال:۔ ایک غیر مسلم کے لیے اسلام میں کیا کشش ہے جبکہ اچھے کیریکٹر کے لوگ غیر مسلموں میں بھی پائے جاتے ہیں؟ اور مسلمان تو آج کی دنیا میں ایک شکست خوردہ قوم سمجھے جاتے ہیں۔
جواب:۔ ایک غیر مسلم کے سامنے اسلام بحیثیت ایک دین کے آئے تو اس کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ پیش کرنے والے کون ہیں۔ اس کو یہ دیکھنا چاہیے کہ پیش کیا چیز کی جا رہی ہے اور آیا وہ حق ہے یا نہیں؟ اگر وہ مطمئن ہو جائے کہ جو چیز میرے سامنے پیش کی جا رہی ہے وہ حق ہے تو اسے قبول کرنا چاہیے اور افسوس کرنا چاہیے۔ اُس شخص کے حال پر جو حق اس کے سامنے پیش کر رہا ہے مگر خود اس کی پیروی نہیں کر رہا۔ اُسے پیش کرنے والے کو اس بات پر شرم دلانی چاہیے اور خود اس چیز کی پیروی اختیار کرنی چاہیے جسے وہ حق سمجھتا ہے۔ یہ کوئی بات نہیں ہے کہ ہم مسلمان چونکہ ایک شکست خوردہ قوم ہیں اس لیے ہماری پیش کردہ اسلامی تعلیمات کو دنیا قبول نہیں کرے گی۔ مسلمان آج اتنے شکست خوردہ تو نہیں ہیں جتنے تاتاری حملے کے وقت ہوئے تھے۔ ان وحشیوں نے اُس وقت ہمارے بڑے بڑے مراکز تہذیب و تمدن کو برباد کر دیا تھا۔ بڑی بڑی لائبریریاں تباہ کر دی تھیں۔ لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا۔ اور ماوراء النہر سے لے کر مصر کے قریب تک ساری اسلامی دنیا کو تہس نہس کر ڈالا تھا۔ لیکن وہی تاتاری جنہوں نے مسلمانوں پر اس طرح سے غلبہ حاصل کیا تھا آخر کار خود مسلمان ہو گئے۔ انہوں نے اُسی شکست خوردہ قوم کے دین کو قبول کر لیا جس نے ان کے آگے ہتھیار ڈالے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا ایک شکست خوردہ قوم ہونا اس امر میں مانع نہیں ہے کہ آپ دنیا کے سامنے اسلام پیش کریں۔ اسلام کو معقول طریقے سے پیش کیجیے۔ اور ساتھ ساتھ یہ کوشش کیجیے کہ آپ کی زندگی بھی اس کے مطابق ہو تاکہ لوگوں کے سامنے آپ اپنی بری مثال پیش نہ کریں۔ لیکن اگر فرض کیجیے کہ آپ اپنی زندگی نہیں بدلتے تو پھر بھی اسلام کو اس کی اصل صورت میں اللہ کے بندوں تک پہنچانے میں کوتاہی نہ کیجیے۔ کوئی معقول آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ایک حق بات کو اس لیے قبول نہیں کرتا کہ اس کا پیش کرنے والا خود اس پر نہیں چل رہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی لوگوں کے سامنے حفظان صحت کے اصول بیان کر رہا ہو اور یہ بتا رہا ہو کہ تمہاری صحت ان اصولوں کی پیروی کرنے سے ٹھیک رہ سکتی ہے، اور سننے والا یہ دیکھے کہ یہ شخص خود حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کر کے اپنی صحت خراب کر رہا ہے، تو وہ یہ دلیل نہیں دے سکتا کہ چونکہ تم خود ان اصولوں کی خلاف ورزی کر کے اپنی صحت بگاڑ رہے ہو، اس لیے ہمیں بھی حفظان صحت کے یہ اصول قبول نہیں کرتا۔ عقلمند آدمی تو ایسی بات کبھی نہ کہے گا۔
اسلام کی ابتدا غربت سے ہونے کا مطلب:
سوال:۔ اس حدیث کا کیا مطلب ہے: <<قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ بدأ الاسلام غريباً وسيكون غريباً فطوبى للغرباء>> اسلام کی ابتدا غربت سے ہوئی اور پھر ایک وقت آئے گا کہ وہ پھر غریب ہو جائے گا۔ پس خوشخبری ہو غربا کے لیے۔
جواب:۔ اس حدیث کو سمجھنے میں عام طور پر لوگوں کو جو مشکل پیش آتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ لفظ غریب کو اردو محاورے کے مطابق مفلس کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ حالانکہ غریب کا لفظ عربی زبان میں اجنبی اور نامانوس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اُردو میں بھی جب ہم عجیب و غریب بولتے ہیں تو اس کے معنی قریب قریب وہی ہوتے ہیں جو عربی میں لفظ غریب کے ہیں۔ ہر وہ شخص یا کام یا چیز غریب ہے جس سے لوگ آشنا نہ ہوں، جسے نرالا سمجھ کر لوگ اس سے اپراتے ہوں، جو اُنکے ذوق اور پسند کے مطابق نہ ہو۔ <<رسول الله صلی الله علیہ وسلمؐ>> کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو جب اول اول پیش کیا گیا تو عموماً لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ ایک نرالی بات کہی جا رہی ہے، ہم تو اس سے بالکل مانوس نہیں ہیں، ہمارے باپ دادا نے کبھی ایسی باتیں نہیں سنی تھیں۔ پس اسلام ابتداء میں بالکل اجنبی تھا اور لوگ اس کو ایک نرالی اور نامانوس مزاج چیز سمجھتے تھے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اسلام کی مقبولیت عام ہو گئی اور ہر وہ چیز اجنبی ہوگئی جو اسلام کے خلاف تھی۔ اس کے بعد ایک وقت پھر ایسا آئے گا جب اسلام دنیا میں غریب ہو جائے گا۔ یعنی اسی طرح سے غیر مانوس اور اجنبی ہوگا جس طرح وہ ابتدا میں تھا اور وہ وقت یہی ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ آج ایک مسلمان لوگوں کے سامنے نماز پڑھتے ہوئے شرماتا ہے۔ اپنے اسلامی لباس میں چلتے پھرتے شرم محسوس کرتا ہے۔ ایک مسلمان عورت اسلامی احکام کی اطاعت میں زندگی بسر کرتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہے۔ گناہ کرنے والا آج جری و بیباک ہے اور ایک صالح مسلمان کی سی زندگی بسر کرنے والا اپنی جگہ خوف زدہ بیٹھا ہوا ہے کہ معلوم نہیں میں سوسائٹی میں کیسے قبول کیا جاؤں گا۔ اس کا جینا مشکل ہے ہر چیز اس کے مزاج کے خلاف ہے۔ ہر چیز ان اصولوں کے خلاف ہے جن کو وہ حق مانتا ہے۔ وہ سب کچھ دنیا میں دھڑلے سے ہو رہا ہے جس کے متعلق اس کا عقیدہ ہے کہ یہ بے حیائی ہے، یہ فحش ہے، بے ستری ہے، گناہ ہے، حرام ہے۔ جن چیزوں کو وہ سمجھتا ہے کہ یہ فرض ہیں ان کو بجالانا مشکل ہو رہا ہے اور جن چیزوں کو وہ سمجھتا ہے کہ یہ حلال ہیں ان کا استعمال اس کے لیے دشوار ہو رہا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جس کی <<رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ>> نے خبر دی ہے کہ اسلام ایک دفعہ پھر غریب اور نامانوس ہو کر رہ جائے گا۔ اور ایسے ہی حالات کے بارے میں حضورؐ نے فرمایا ہے کہ خوشخبری ہے غریبوں کے لیے۔ یعنی اُن لوگوں کے لیے جو ایسے حالات پیدا ہو جانے کے بعد بھی اسلام کے اصولوں پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں اور اس کی کچھ پروا نہ کریں کہ دنیا کیا کہتی ہے۔ دنیا اُن کا مذاق اُڑائے، یا اُن پر ہنسے، یا اُن کی تذلیل و تحقیر کرے، وہ ہر حال اسلام کے اصولوں سے نہ ہٹیں اور اجنبی بن کر رہ جانا قبول کر لیں۔ ان کے لیے حضورؐ نے جو خوشخبری دی ہے وہ آخرت میں کامیاب ہونے کی بشارت تو ہر صورت ہے، خواہ دنیا میں وہ کامیاب ہوں یا نہ ہوں، مگر یہ دنیا میں بھی کامیاب ہونے کی بشارت ہو سکتی ہے اگر یہ مٹھی بھر غریب لوگ مل کر ایک مضبوط اور منظم جماعت بن جائیں اور اسلام کے اصولوں کو غالب کرنے کے لیے اُسی طرح جان لڑا دیں جس طرح ابتدائے اسلام میں اہلِ ایمان نے اپنی جانیں لڑائی تھیں۔ اس صورت میں ان کے لیے خوشخبری ہے کہ آخر کار اسلام کی غربت ختم ہو جائے گی اور وہ پھر دنیا میں ایک غالب قوت بن جائے گا۔ اس تشریح سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام کی غربت کے زمانے میں غریب بن کر رہ جانے والوں کے لیے ہر حال میں بشارت ہی بشارت ہے، خواہ وہ دنیا میں اکیلے غریب رہ جائیں، یا اس غربت کی حالت میں منظم ہو کر دنیا کی غالب جاہلیت سے لڑیں اور اس پر اسلام کو غالب کرنے کے لیے اپنی تمام کوششیں صرف کر دیں، یا اس کوشش میں لڑتے لڑتے شہید ہو جائیں۔
ترقی کا صحیح مفہوم:
سوال:۔ اگر ہم زمانے کا ساتھ نہ دیں تو ترقی کیسے کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں تو ہم دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے۔
جواب:۔ اس سے پہلے ایک حدیث کی تشریح میں جو کچھ میں نے کہا ہے اس میں اس سوال کا جواب پوری طرح آگیا ہے۔ ایک بگڑی ہوئی سوسائٹی کے اندر شراب اور زنا اور جوا تو ایسے حلال و طیب ہو جاتے ہیں کہ بعض علماء ان کے ارتکاب میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی بلکہ ان پر اعتراض کرنے والا اُلٹا نکو بن جاتا ہے۔ ان سے بھی آگے بڑھ کر ایسے گھناؤنے افعال بھی جن کا نام لیتے ہوئے شرم آتی ہے، کھلے بندوں کیے جانے لگتے ہیں یہاں تک کہ پوری بے باکی کے ساتھ ان کو جائز کر دینے کا مطالبہ صرف کیا ہی نہیں جاتا بلکہ مان بھی لیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ایک مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ غلط قسم کی ترقی (PROGRESS) میں اپنے آپ کو بھی شامل کرلے۔ ترقی یافتہ قوموں کا ہر فعل ترقی نہیں ہے۔ ترقی دراصل ایک اضافی اصطلاح (RELATIVE TERM) ہے۔ ہر شخص یا گروہ اپنے سامنے جو ہدف (GOAL) رکھتا ہے اس کی طرف پیش قدمی کو وہ ترقی سمجھتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہی ہدف ہمارا بھی ہو جو اُس کا ہے۔ ہم اگر اس ہدف کو غلط سمجھتے ہیں تو اس کی طرف جتنی پیش قدمی بھی ہم کریں گے وہ ہمارے لیے ترقی نہیں ہوگی بلکہ الٹی رجعت ہوگی اور ہم اپنے ہدف سے دُور تر ہوتے چلے جائیں گے۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ کیا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا بھی وہی ہدف ہے جس کی طرف دنیا کی یہ بگڑی ہوئی قومیں چلی جا رہی ہیں؟ اگر ہمارا یہ ہدف نہیں ہے تو اس کی طرف پیش قدمی ہمارے لیے ترقی کیسے ہو سکتی ہے۔ ہم ایک خدا اور ایک رسول اور ایک کتاب کے ماننے والے ہیں اور ہمارا ہدف نیکی اور تقویٰ کی زندگی ہے جو آخرت میں ہم کو فلاح و سعادت سے ہمکنار کرے۔ ہمارے دین نے ہم کو مستقل قدریں (PERMANENT VALUES) دی ہیں جو کبھی بدل نہیں سکتیں۔ جو کچھ حرام ہے وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے، اُسے حلال نہیں کیا جا سکتا، اور جو کچھ حلال ہے وہ ہمیشہ کے لیے حلال ہے، اُسے حرام نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ان قوموں کی طرح نہیں ہیں جن کی قدریں روز بدلتی ہیں۔ آج جو نیکی ہے کل بدی بن جاتی ہے اور آج جو حرام ہے کل وہ حلال ہو جاتا ہے۔ ایسی ناپائدار قدروں کو ہم کیسے قبول کر سکتے ہیں۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ دنیا جس طرف جا رہی ہو ہم بھی اسی طرف جائیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اگر دریا غلط راستے کی طرف بہہ رہا ہو تو ہم اس کا رخ پلٹ دیں، یا اگر اس کا رخ پلٹ نہ سکیں تو اس کی رُو کے خلاف چلیں۔ اس کی رُو کے خلاف چل کر اپنے ہاتھ پاؤں توڑ لینا اور اُس کے بھنور میں آکر ڈوب جانا اس سے بہتر ہے کہ ہم اس کے ساتھ بہتے ہوئے اپنی منزل سے دُور ہوتے چلے جائیں۔
پردہ مغربی معاشرے میں:
سوال:- پردہ کے اصطلاحی پہلو کے بارے میں اسلام کا قاعدہ کیا ہے؟ آپ مغربی دنیا میں اس پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ مردوں اور عورتوں کے مخلوط اجتماعات کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب:- آپ لوگ اس معاملے میں میرے خیالات جانتے ہوں گے۔ میری کتاب پردہ اُردو، عربی اور انگریزی میں شائع ہو چکی ہے۔ تفسیر سورۂ نور میں بھی اس کی پوری وضاحت کر چکا ہوں اور یہ بھی اُردو اور عربی میں شائع شدہ موجود ہے۔ سورۂ احزاب کی تفسیر اگرچہ دوسری کسی زبان میں شائع نہیں ہوئی، مگر اُردو میں تو شائع ہو چکی ہے۔ اس کے بعد میں نہیں سمجھ سکا کہ یہاں یہ سوال کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ بہر بات سب لوگوں کو معلوم ہونی چاہیے کہ اسلام عورتوں اور مردوں کے آزادانہ میل جول اور مخلوط سوسائٹی (MIXED SOCIETY) کا قطعی قائل نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلمؐ کے زمانے میں جب عورتوں نے یہ چاہا کہ انہیں مسجد نبوی میں آکر حضورؐ کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے تو آپؐ نے انہیں منع تو نہیں کیا مگر فرمایا کہ تمہارا اپنے گھر میں نماز پڑھنا میری مسجد میں آکر پڑھنے سے بہتر ہے، اور تمہارا اپنے گھر کے اندر کسی حجرے میں پڑھنا اپنے گھر کے دالان میں پڑھنے سے بہتر ہے۔ پھر جب عورتوں نے اس شوق کا اظہار کیا کہ وہ آپؐ کے پیچھے نماز باجماعت میں شریک ہوں۔ تو آپؐ نے صرف صبح اور عشا کے وقت آنے کی اجازت دی، ان کے گرجا جانے کے لیے الگ دروازہ مخصوص کر دیا، اور ان کے لیے مردوں کی صفوں کے پیچھے کی صفیں مقرر فرمائیں۔ اُس زمانے میں صبح کی نماز ایسے وقت ختم ہوتی تھی جب نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے واپس جاتے وقت بھی اتنا اندھیرا ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو پہچانا نہیں جا سکتا تھا۔ عشا کی نماز میں شریک ہونے کی اجازت بھی اسی لیے دی گئی تھی کہ اُس زمانے میں بجلی کی روشنی نہیں ہوتی تھی اس لیے پیچھے کی صفوں میں کھڑی ہو سفید عورتیں چھپی رہتی تھیں۔ پھر حکم یہ تھا کہ نماز ختم ہونے کے بعد مرد بیٹھے رہیں اور جب عورتیں چلی جائیں اس وقت اٹھیں۔ محض مذہب کی یہ تعلیمات ہوں۔ اس کے متعلق آپ یہ پوچھتے ہیں کہ وہ عورتوں اور مردوں کے مخلوط اجتماعات کی اجازت دیتا ہے؟ اب اگر آپ ایسی جگہ آگئے ہیں جہاں اس غلط طریقے کا رواج عام ہے تو خدا کے لیے جو کچھ آپ کو کرنا ہے کریں، اس کو اسلامی تعلیم بنا کر پیش کرنے کی کوشش نہ کریں۔ شریعت کے تابع آپ نہیں رہ سکتے تو شریعت کو اپنا تابع تو نہ بنائیں کہ جو کچھ آپ کرتے جائیں شریعت بھی اس کی اجازت دیتی چلی جائے مغرب کی اس سوسائٹی کے رنگ ڈھنگ آپ کو اختیار کرنے ہیں تو کیجیے مگر اپنے آپ کو گناہ گار سمجھ کر کیجیے۔
اسی پچھلے سوال کے سلسلے میں ایک اور بات آپ سے کہنا چاہتا ہوں۔ اگر یہ سوال کوئی شخص مجھ سے پاکستان میں یا کسی دوسرے مسلمان ملک میں کرتا تو اس کی وجہ کچھ سمجھ میں بھی آسکتی تھی۔ لیکن یورپ، امریکہ یا کینیڈا میں جو لوگ رہتے ہیں اُن کا ایسے سوال کرنا بہت ہی عجیب معلوم ہوتا ہے۔ آپ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اختلاط مرد و زن کیا رنگ دکھا رہا ہے۔ کیسی کیسی اخلاقی خرابیاں یہاں اسٹیڈ کر رہی ہیں۔ کس طرح خاندانی نظام تباہ ہو رہا ہے۔ کس طرح اسقاط حمل (ABORTION) کا رواج بڑھ رہا ہے اسے قانونی جواز عطا کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ عورت کو اس کا ویسا ہی حق ہے جیسا ایک دانت نکلوانے کا اسے حق ہے۔ کس طرح نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خواہشاتِ نفس کو پورا کرنے کی جو طبعی صورتیں تھیں ان سے لوگوں کے دل بھر گئے ہیں اور اب وہ طرح طرح کے گناؤنے خلافِ فطرت افعال (PERVERSIONS) کی طرف مائل ہوتے جا رہے ہیں، بلکہ اس قسم کے افعال بھی بے تحاشا وبا کی طرح پھیل رہے ہیں۔ عریانی کس شدت سے بڑھ رہی ہے۔ نیم برہنہ نوجوان جوڑے کس بے شرمی کے ساتھ بر سر عام بوس و کنار کر رہے ہیں۔ حرامی بچوں کی تعداد کس رفتار سے بڑھ رہی ہے اور حلالی بچوں کی پیدائش کو کس طرح روکا جا रहा ہے۔ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد تو آپ کو سمجھنا چاہیے تھا کہ آپ کے اور خدا اور رسولؐ کا یہ احسانِ عظیم تھا کہ اُس نے اخلاق تباہی کے اِس گڑھے میں گرنے سے پہلے ہی اُس راستے کے اولین قدم پر آپ کو روک دیا جو اس گڑھے کی طرف لے جانے والا تھا۔ یہاں جو شخص اختلاطِ مرد و زن کے جواز کا فتویٰ پوچھتا ہے، مجھے اس پر سخت حیرت ہوتی ہے۔
فلاحی ریاست کا اسلامی تصور:
سوال:۔ اسلام میں محاصل (TAXATION) کا کیا تصور ہے؟ ایک فلاحی ریاست اسلام کا معاشی نظام اختیار کرنے کے بغیر نہیں بن سکتی مگر جماعت اسلامی نے اس کو کبھی نمایاں کر کے پیش نہیں کیا۔
جواب:۔ میں نہیں سمجھتا کہ جن صاحب نے یہ سوال کیا ہے انہوں نے میری اور جماعت اسلامی کی شائع کردہ کتابوں اور جماعت کے منشور کو کبھی دیکھا ہے۔ اگر انہوں نے یہ چیزیں دیکھی ہوتیں تو شاید یہ بات نہ کہتے کہ جماعت نے اسلام کے معاشی نظام کو پیش نہیں کیا ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ اسلام کس طرح ایک فلاحی ریاست (WELFARE STATE) بناتا ہے۔ ان کی غلط فہمی رفع کرنے کے لیے میں عرض کرتا ہوں کہ ہم نے وضاحت کے ساتھ یہ بیان کیا ہے کہ اسلام ہی ایک صحیح قسم کا ویلفیئر سٹیٹ بنا سکتا ہے۔ ایک ویلفیئر سٹیٹ تو وہ ہوتا ہے جس میں لوگوں کو کسی قسم کی اخلاقی تعلیم و تربیت نہیں دی جاتی۔ ان کو کسی قسم کی صحت مند روحانی غذا نہیں ملتی۔ ان کو صحیح معنوں میں انسان بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔ البتہ اس امر کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کی تمام ضروریات کو سٹیٹ پورا کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ان کی تمام ضروریات سٹیٹ پوری کر دیتی ہے تو اس کے بعد ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ جب وہ اور کیا کریں۔ پھر وہ بے مقصد عیش کی زندگی سے اُکتاہٹ کی طرح کئی بد راہوں اور بدکرداروں پر اثر انداز تھے۔ اور جب ان سے بھی دل پھر جاتا ہے تو فوراً نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ وہ خود کشی کرنے لگتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ آج جو بڑے بڑے ویلفیئر سٹیٹ ہیں ان میں خودکشی کی شرح کیا ہے؟ اگر یہ ویلفیئر سٹیٹ واقعی آدمی کو مطمئن کر دیتا ہے تو اس کو خودکشی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس سے معلوم ہوا کہ محض دنیوی سامان عیش کی فراوانی انسان کو اطمینان نہیں بخش سکتی۔ انسان صرف روٹی سے نہیں جی سکتا۔ اس کے قلبی اطمینان کے لیے اور اس کے ذہنی سکون کے لیے مادی خوشحالی کے علاوہ بھی کوئی چیز چاہیے۔ جو یہ ویلفیئر سٹیٹ پیش نہیں کر سکتا۔
پھر یہ ویلفیئر سٹیٹ آدمی کو کاہل چور بنادیتا ہے۔ وہ کم سے کم کام کر کے زیادہ سے زیادہ معاوضہ لینا چاہتا ہے۔ وہ کہتا ہے ہفتہ وار تعطیل کے لیے دو دن بھی کافی نہیں ہیں۔ تین دن ہونے چاہئیں۔ بلکہ وہ ہفتے میں تین دن ہی کام کرنا چاہتا ہے۔ دفتروں اور کارخانوں میں جاتا ہے تو ہر بہانے کام سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اخلاق کی بنیاد کے بغیر جس ویلفیئر سٹیٹ کی تعمیر کی جاتی ہے وہ بالآخر اسی طرح کی خرابیوں سے دوچار ہوکر رہتی ہے۔ اس کے برعکس اسلام پہلے انسان کا اخلاق درست کرتا ہے۔ اُسے حق شناس اور فرض شناس بناتا ہے، اُس میں خدا ترسی اور پرہیز گاری پیدا کرتا ہے اور پھر اس کے لیے دنیوی خوشحالی کا پہلو اُسامان بہم پہنچاتا ہے۔ ایسے ویلفیئر سٹیٹ میں نہ انسان کام چور بنتا ہے نہ بد کردار اور نہ اسے کبھی خودکشی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس کی تمام جائز خواہشات اور ضروریات جب پوری کر دی جاتی ہیں تو وہ آگے بڑھ کر انسانیت کی فلاح کا کام کرتا ہے اور اپنے اوقات و وسائل زیادہ سے زیادہ نیکیوں اور بھلائیوں کے پھیلانے میں صرف کرتا ہے۔
حرام و حلال گوشت کا مسئلہ:
سوال:۔ حلال گوشت کا کیا تصور ہے؟ کیا جانور کو ذبح کرتے وقت <<اَ للّٰہُ اَکْبَرُ>> کہنا ضروری ہے؟ اور سور کیوں حرام ہے؟ جھٹکے کا گوشت مکروہ ہے یا حرام؟ کن حالات میں مجبوری کے باعث جھٹکے کا گوشت کھایا جا سکتا ہے؟ اگر کوئی غیر مسلم <<اَ للّٰہُ اَکْبَرُ>> کہہ کر اسلامی طریقہ سے ذبح کرتا ہے تو گوشت حلال ہوتا ہے یا حرام؟ بہت سے مسلمان جھٹکے کا گوشت کھاتے ہیں اور تاویل فرماتے ہیں کہ لقمہ کھانے سے پہلے <<اَ للّٰہُ اَکْبَرُ>> کہہ لینے سے یہ گوشت حلال ہو جاتا ہے۔ یہ بات صاف طور پر عیاں ہے کہ اگر وہ جھٹکے کے گوشت پر پورا قرآن شریف بھی ختم کر لیں تو وہ گوشت جھٹکے ہی کا گوشت رہے گا۔ راقم الحروف نے اپنے ایک بھائی کے ذریعے مفتی محمد شفیع صاحب سے دریافت کرایا تھا کہ جھٹکے کا گوشت مکروہ ہے یا حرام؟ جواب وصول ہوا، حرام ہے اور صرف اس حد تک کھایا جا سکتا ہے کہ حیات باقی رہے۔
جواب:۔ میں اس مسئلے کی وضاحت اُردو میں بھی کر چکا ہوں اور عربی میں بھی۔ جو اصحاب اس مسئلے کو تفصیل کے ساتھ سمجھنا چاہیں وہ اردو یا عربی میں میرے اس مضمون کو پڑھ لیں۔ اُردو میں میری کتاب تفہیمات حصہ سوم میں۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
ہر چیز کھانے ہی کے لیے پیدا نہیں کی ہے۔ جو لوگ سود کے متعلق یہ سوال کرتے ہیں وہ آخر دوسرے بہت سے جانوروں کے متعلق بھی کیوں نہیں یہی پوچھتے؟ انہیں پوچھنا چاہیے کہ چوہا، بلی، گدھا، کتا، چیل، کوّا، گدھ، کینچوے وغیرہ کیوں نہ کھائے جائیں؟ ظاہر ہے کہ دنیا کی ہر چیز صرف کھانے پینے کے لیے نہیں ہے۔ رہا یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر سور کی حرمت کا حکم کیوں دیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں بعض چیزیں تو ایسی ہیں جنکے نقصانات کو ہم خود جان سکتے ہیں اور ان کو جاننے کے لیے ہمارا علم و تجربہ کافی ہے۔ ایسی چیزوں کے استعمال سے منع کرنے کی اللہ اور رسولؐ کو کوئی ضرورت نہ تھی۔ لیکن جن چیزوں کا نقصان ہم نہیں جان سکتے اُن کے متعلق حکم دینا اللہ اور رسولؐ نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ انہیں کھانے سے پرہیز کرو۔ اب جسے اللہ اور رسولؐ پر اعتماد ہو وہ ان سے پرہیز کرے اور جسے ان پر اعتماد نہ ہو وہ جو کچھ چاہے کھاتا رہے۔
جھٹکے کے گوشت کے متعلق چونکہ حرمت کا حکم خود قرآن مجید میں ہے اس لیے اسے محض مکروہ کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ وہ حرام ہے۔ اسے اور دوسری حرام چیزوں کو صرف ایسی حالت میں کھایا جا سکتا ہے جبکہ آدمی کی جان پر بن رہی ہو اور صرف وہ حرام چیز ہی بھوک مٹانے کے لیے موجود ہو۔ ایسی حالت میں صرف جان بچانے کی حد تک اسے کھایا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی مُشرک اللہ اکبر کہہ کر اسلامی طریقہ پر ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔ صرف اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے جبکہ وہ خدا کا نام لے کر ذبح کریں اور اسلامی طریقہ پر ذبح کریں۔
پاکستان سے کسی کافر ملک جنگ میں جماعت اسلامی رویہ:
سوال:۔ اگر پاکستان اور کسی غیر مسلم حکومت میں جنگ ہو تو کیا جماعت اسلامی حکومت کی مدد کرے گی؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو کس حد تک مدد کرے گی؟ کیا وہ دوسری مسلمان حکومتوں پر بھی یہ اثر ڈالے گی کہ وہ پاکستان کی مدد کریں؟
جواب:۔ اگر کوئی غیر مسلم ملک کسی مسلمان ملک پر حملہ کرے، اس صورت میں اس کی مدافعت کے لیے جنگ کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے۔ بے قطع نظر اس سے کہ مسلمان ملک کی حکومت کیسی ہی ہو۔ اس لیے کہ حکومت خواہ بُری ہو یا اچھی، اگر غیر مسلم دشمن ملک کے اوپر قابض ہو جائے تو ہماری مسجدیں، ہماری عورتوں کی آبرو، ہماری جان و مال کوئی چیز بھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اس لیے ہم کو اپنے دین، اپنے گھر، اپنی عزت، اپنی آبرو اور اپنے مال کو بچانے کے لیے جنگ کرنے کا حق ہے۔ ساری دنیا میں مدافعت کے اس حق کو تسلیم کیا جاتا ہے اور شریعت نے بھی اس کا حکم ہمیں دیا ہے۔ اس میں یہ بحث نہیں ہے کہ ہمارے ملک کی حکومت کیسی ہے۔ اگر کوئی فاسق و فاجر بھی حکمراں ہو تب بھی ہم اس کے ساتھ مل کر لڑیں گے اور ملک کو بچائیں گے۔ اس کے بعد جب اس فاسق و فاجر کی خبر لیتی ہو گی تو لیتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک شرعی مسئلہ ہے ہی ہے کہ کسی مسلمان ملک پر اگر کوئی غیر مسلم طاقت حملہ کرے تو دوسرے مسلمان ملکوں کو بھی اس کی مدد کرنی چاہیے۔
جماعت اسلامی نے مشرقی پاکستان میں فوج کی مدد کیوں کی؟
سوال:۔ جماعت اسلامی نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی مدد کی، پاکستان کی فوجوں نے وہاں بہت سے مظالم کیے۔ اس بنا پر کیا جماعت کو ان کے رویہ کی اخلاقی ذمہ داری قبول نہیں کرنی چاہیے؟
جواب:۔ ہمارے پیش نظر یہ تھا کہ مشرقی پاکستان کے مسلمان، جو دو سو برس تک انگریز اور ہندو کے ہاتھوں کچلے جاتے رہے تھے، کہیں وہ پھر ہندوستان کی غلامی میں نہ چلے جائیں۔ لہٰذا ان کو بچانے کے لیے ہم نے جنگ کی۔ اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ جنگ ہماری جماعت کے بنگالی کارکنوں ہی نے لڑی تھی۔ مغربی پاکستان سے جماعت کا کوئی آدمی نہ گیا تھا۔ مشرقی پاکستان میں عملی طور پر صورت یہ پیش آئی تھی کہ بنگالی قوم پرست مسلمان اور ہندو مل کر ایک قوم بن گئے تھے اور انہوں نے ہندوستان سے مدد لے کر پاکستان کے خلاف بغاوت کی تھی۔ اب آپ ہی بتائیں کیا ہم سے یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ ہم آنکھوں دیکھتے اس بات کو گوارا کر لیتے کہ ایک طرف اندر سے ہندو اور مسلمان بنگالی قوم پرست مل کر بغاوت کریں اور دوسری طرف باہر سے ہندوستان کے ہندو پہلے درپردہ اور پھر علانیہ ان باغیوں کی مدد کو آجائیں، اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے یہ تماشا دیکھتے رہیں۔ یہ بغاوت مشرقی پاکستان کے عام مسلمانوں کی نہ تھی بلکہ صرف بنگالی قوم پرست مسلمانوں اور ہندوؤں کی تھی اور ہندوستان کی مداخلت اس کو طاقت پہنچا رہی تھی۔ اس کے کامیاب ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ وہاں سات کروڑ مسلمانوں کی آبادی غلامی کے جوتے میں کس دی جائے۔ کیا آپ کی رائے میں ہمیں اس المناک نتیجے کو رونما ہونے سے روکنے کے لیے کچھ نہ کرنا چاہیے تھا؟ اب آپ خود جا کر وہاں دیکھ لیں کہ اس نام نہاد بنگلہ دیش کی عام مسلمان آبادی کا کیا حال ہو رہا ہے۔ ان کے مذہبی مدارس تباہ کر دیے گئے۔ بکثرت بنگالی مسلمان علماء و فضلا قتل کر دیے گئے۔ دینی تعلیم کے لیے قاعدے اور سپارے تک نہیں مل رہے ہیں۔ معاشی بدحالی کا یہ عالم ہے کہ ایک مزدور کو آٹھ روپے روزانہ اجرت ملتی ہے مگر بیس روپے سے کم میں ایک دن کا کھانا میسر نہیں آتا۔ حالانکہ ایک زمانہ میں جب پاکستان تھا تو تین روپے ایک مزدور کو ملتے تھے اور وہ پیٹ بھر کے دو وقت کھانا کھاتا تھا۔ اب جا کر اہل بنگال کو اور خود بنگالی قوم پرست مسلمانوں کو معلوم ہوا ہے کہ تاجرانہ استحصال (EXPLOITATION) جس کا رونا پاکستان کے زمانے میں روتے تھے، اصل میں کس چیز کا نام ہے اور اب انہیں کون لوٹ کھسوٹ رہا ہے۔ ہندوستان کی فوجوں نے وہاں داخل ہو کر ملک کو بے تحاشا لُٹا ہے۔ ہندو وہاں کے کارخانے اکھاڑ اکھاڑ کر لے گئے۔ لوگوں کے گھروں سے ریفریجریٹر اور ائیر کنڈیشنر تک نکال لے گئے۔ موٹریں چھین چھین کر لے گئے۔ سارا اب اتنے بڑے پیمانے پر وہاں کا خام مال ہندوستان منتقل ہو رہا ہے کہ اس نے مشرقی پاکستان کی معیشت کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جو نام نہاد آزادی مشرقی پاکستان کے لوگوں کو ملی ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان جب چاہے وہاں اپنی فوجیں داخل کر سکتا ہے۔ ہندوستان کی مرضی کے خلاف یہ نام نہاد بنگلہ دیشی کوئی فوج، کوئی ائیر فورس اور کوئی بحری بیڑہ نہیں رکھ سکتا۔ نہ کسی سے آزادانہ تجارتی معاملہ کر سکتا ہے۔ اپنے بنگالی مسلمان بھائیوں کو اسی انجام سے بچانے کے لیے جماعت اسلامی کے کارکنوں نے اپنی جانیں لڑا دیں اور اپنے چھ سات ہزار سے زیادہ آدمی شہید کرا دیے۔ جو لوگ مشرقی پاکستان میں پاکستانی افواج کے مظالم کی دہائی دیتے ہیں ان کو معلوم نہیں ہے کہ بنگالی قوم پرست مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ مل کر نہ صرف غیر بنگالی مسلمانوں پر بلکہ خود دیندار بنگالی مسلمانوں پر بھی کیسے کیسے خوفناک مظالم ڈھائے تھے۔ انہوں نے مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو بلا امتیاز لاکھوں کی تعداد میں قتل کیا۔ عورتوں کے ننگے جلوس نکالے اور بالوں، چھاتیوں، شوہروں اور بیٹوں کے سامنے ان کو بے حرمت کیا۔ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کیے۔ بچوں کو قتل کر کے ان کی ماؤں کو مجبور کیا کہ ان کا خون پئیں۔ میں یہ نہیں دیکھتا ہوں کہ جس سرزمین میں مسلمان کافروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر یہ ظلم ڈھائیں وہ سرزمین خدا کے عذاب سے کبھی نہیں بچ سکتی۔ آفرین ہے مغرب کے جھوٹے پریس پر کہ اس نے پاکستانی فوجوں کے جھوٹے سچے مظالم کا تو ڈھول خوب پیٹا، مگر بنگالی قوم پرستوں کے ان مظالم کا کبھی ذکر تک نہ کیا۔
اہل کتاب کا ذبیحہ:
سوال:۔ یہودی یا مسیحی اہل کتاب کا ذبح کیا ہوا گائے کا گوشت حلال ہے یا حرام ہے؟
جواب:۔ قرآن مجید میں آپ سورہ مائدہ کا پہلا رکوع پڑھیے، اس میں سب سے پہلے مسلمانوں سے یہ کہا گیا ہے کہ تمہارے لیے طیبات (پاک چیزیں) حلال کی گئیں ہیں۔ اس کے بعد یہ کہا گیا ہے کہ تمہارے لیے اہل کتاب کا کھانا حلال ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اہل کتاب کا طیب کھانا ہمارے لیے حلال کیا گیا ہے۔ نہ کہ ان کا خبیث (ناپاک) کھانا۔ اور اسی سورہ میں طیبات کی یہ تشریح بھی کر دی گئی ہے کہ جانور حلال قسم کا ہو، اس کو صحیح طریقہ سے ذبح کیا گیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ انہی شرائط کے ساتھ اہل کتاب کا کھانا ہمارے لیے حلال کیا گیا ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ساتویں آٹھویں صدی تک عیسائی کم از کم مشرق اوسط میں اسی طریقہ سے ذبح کرتے تھے، جیسا کہ حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ اس لیے ان کا ذبیحہ حلال تھا۔ مگر اب چونکہ انہوں نے اس طریقہ کی پابندی چھوڑ دی ہے اس لیے ان کا ذبیحہ حلال نہیں رہا۔ البتہ مذہب کے پابند یہودیوں کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کے ہاں ذبح کرنے کا طریقہ تقریباً وہی ہے جو ہمارے ہاں رائج ہے اور وہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام بھی لیتے ہیں۔ اب یہ آپ لوگ خود تحقیق کر لیں کہ وہ یہاں اس طریقہ پر عمل کرتے ہیں یا نہیں۔ میں نے پاکستان میں ان کے ایک عالم سے پوچھا تھا تو اُس نے مجھے بتایا تھا کہ ہمارے ہاں بھی یہی حکم ہے کہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے اور ہمارے ہاں ذبح کا طریقہ بھی وہی ہے جو آپ کے ہاں ہے۔ اسی بنا پر میں ان کے ذبیحہ کو حلال سمجھتا ہوں۔ مگر میں آپ سے یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہودیوں نے دنیا بھر کے ملکوں میں منتشر ہو جانے کے باوجود اپنے لٹریچر (LITERATURE) کو، حلال گوشت کا انتظام کیا اور اپنے اس حق کو تسلیم کرایا کہ وہ اپنے لیے جانور اپنے طریقہ پر ذبح کریں گے۔ تو آخر آپ ہزاروں کی تعداد میں یہاں رہتے ہوئے اپنے لیے حلال گوشت کا انتظام کیوں نہیں کرتے اور خواہ مخواہ کی بناوٹوں سے جھٹکے کے گوشت کو اپنے لیے حلال کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟
اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کا مسئلہ:
سوال:۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس زمانے کے یہودی اور عیسائی اہل کتاب میں شمار ہو سکتے ہیں؟ کیا ایک مسلمان اس زمانے کی ایک یہودی یا عیسائی عورت سے شادی کر سکتا ہے؟ اگر نہیں تو آپ قرآن کی اس آیت کی کیا توجیہہ کریں گے جو اہل کتاب کی عورتوں سے شادی کرنے کو جائز قرار دیتی ہے؟
جواب:۔ اس زمانے کے یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہب میں کوئی نئی بات ایسی نہیں پائی جاتی جو نزول قرآن کے زمانے میں ان کے اندر موجود نہ رہی ہو۔ اس وجہ سے یہ اب بھی اہلِ کتاب ہی ہیں۔ وہاں سے شادی کرنے کا تعلق تو اس کے بارے میں آپ تین باتوں کو ملحوظ رکھیں ۔
ایک یہ کہ قرآن میں اجازت دی گئی ہے یہ حکم نہیں دیا گیا ہے۔
دوسرے یہ کہ جن عورتوں سے شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے ان کے لیے ایک شرط تو یہ لگائی گئی ہے کہ وہ مُحْصَنَات (یعنی با عِصْمَت) ہوں۔ اور دوسری شرط یہ کہ ان سے خفیہ یا علانیہ ناجائز تعلقات پیدا نہ کیے جائیں، اور شادی کر کے اُن کی خاطر اپنے ایمان اور اپنی آخرت کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
تیسری بات یہ ہے کہ جو کام شرعاً جائز ہیں ان پر عمل کرنے سے پہلے آدمی کو اپنے زمانے کے حالات اور ماحول پر نگاہ ڈال کر یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے کہ آیا اس زمانے اور اس ماحول میں یہ کام کرنے سے کوئی قباحت تو پیدا نہیں ہوگی۔ اب آپ دیکھیے کہ امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں جو عورتیں پائی جاتی ہیں، وہ اصطلاحاً (TECHNICALLY) تو اہلِ کتاب ضرور ہیں، لیکن ان میں بہت کم تعداد ایسی عورتوں کی ہے جو صحیح معنوں میں اہلِ کتاب ہوں ۔ یعنی خدا اور رسولؐ اور کتابوں اور آخرت پر ایمان رکھتی ہوں ۔ پھر جو ایسی ہیں بھی ان پر مُحْصَنَات ہونے کا اطلاق مشکل ہی سے ہو سکتا ہے۔ اب رہا زمانے اور حالات کا معاملہ تو ان ممالک میں رہتے ہوئے کسی یہودی یا عیسائی عورت سے شادی کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اپنے آپ کو مذہبی تو اپنی آئندہ نسل کو غیر مسلم معاشرے میں بالکل جذب ہو جانے کے خطرے میں مبتلا کر رہا ہے۔ اور اگر وہ بالفرض اُس عورت کو اپنے مسلم معاشرے میں لے بھی جائے تو اس طرح کی عورتوں میں بمشکل ایک فی صد عورت ایسی ملے گی جو اپنے آپ کو، اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو اسلامی معاشرے کے آداب اور طرزِ زندگی میں ڈھال سکے۔ اس کے برعکس خود شوہر صاحب اُس کی خاطر اپنے پورے گھر کو ایک مغربی گھر کا نمونہ بنا لیتے ہیں اور ان کی میم صاحبہ صرف اپنے ہی گھر کو نہیں بلکہ شوہر کے خاندان اور رشتہ داروں کو بھی اسلامی طرزِ زندگی اور اسلامی افکار سے نا شناسی کی موجب بن جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں جذبات سے مغلوب ہو کر محض جواز کے حیلے سے عیسائی یا یہودی عورتوں سے شادی کر لینا دینی مصلحت کے بالکل خلاف ہے۔
کیا اسلامی اصول حالات اور زمانے کے مطابق ڈھالے جا سکتے ہیں؟
سوال:- کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ بعض اسلامی اصول حالات اور زمانے کے مطابق ڈھالے جا سکتے ہیں؟ آپ کا ان لوگوں کے معاملے میں کیا طرزِ عمل ہوگا جو ہیں تو مسلمان مگر اسلامی تعلیمات کا مذاق اُڑاتے ہیں؟
جواب:- آپ نے دراصل دو سوالات کیے ہیں۔
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ حالات اور زمانے پر اسلامی اصولوں کو منطبق کرنے کا کام بچوں کا کھیل نہیں ہے، بلکہ اسلامی قانون میں گہری مجتہدانہ بصیرت رکھنے والے ہی ایسا کام کر سکتے ہیں اور اکثر صورتوں میں زمانے اور ماحول کے حالات پر اُن کو منطبق کرنے کی شکل وہ نہیں ہو سکتی جو علم دین کے بغیر اس طرح کے انطباق کی باتیں کرنے والے چاہتے ہیں۔ اگر حالات اور زمانے میں اسلام کے اصولوں کے خلاف بگاڑ پیدا ہو گیا ہو تو اسلام میں بصیرت رکھنے والا آدمی اسلامی اصولوں میں ڈھیل پیدا کرنے کے بجائے اور زیادہ سختی برتنے کی ضرورت محسوس کرے گا۔ مثلاً ابھی اہلِ کتاب سے شادیاں کرنے کے متعلق جو سوال مجھ سے کیا گیا تھا اس میں میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ حالات و زمانے کی رعایت سے اس دور کی یہودی یا عیسائی لڑکیوں سے شادی کرنے کی اجازت میں نرمی کرنے کے بجائے کوئی سختی کرنے کی ضرورت ہے۔
آپ کے دوسرے سوال کا جواب قرآن مجید ہی میں دے دیا گیا ہے۔ سورۂ نساء (آیت ۱۴۰) میں فرمایا گیا ہے کہ:
”جب تم سُنو کہ اللہ کی آیات سے کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو ایسے لوگوں کے پاس ہرگز نہ بیٹھو جب تک کہ وہ گفتگو کا موضوع نہ بدل دیں۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی انہی جیسے ہوں گے۔“
کیا شادی سے پہلے لڑکی سے تخلیہ میں ملاقات ہو سکتی ہے؟
سوال:۔ کیا ایک مسلمان اُس لڑکی سے ملاقات کر سکتا ہے جس سے وہ شادی کرنا चाहता ہو، اگر یہ جائز ہے تو کیا وہ تخلیہ میں اس سے مل سکتا ہے اور آیا اس کے سرپرستوں کی اجازت کے بغیر بھی مل سکتا ہے الخ؟
جواب: اسلام میں کورٹ شپ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جس بات کی اجازت ہمیشہ میں دی گئی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ لڑکی کے سرپرستوں کی موجودگی میں اس کی شکل دیکھ لی جائے۔ تخلیے کی ملاقاتیں، اور وہ بھی سرپرستوں کے علم و اجازت کے بغیر اسلامی طریقہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ رنگ ڈھنگ امریکہ اور کینیڈا اور یورپ کے لوگوں کو ہی مبارک رہیں، آپ لوگ اگر یہاں اپنی معاشی ضروریات کی خاطر آئے ہیں تو اپنے اوپر کم از کم اتنا کرم کیجیے کہ اپنی اسلامی اقدار کو یہاں کے طور طریقوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کریں۔
کیا سودی قرض لے کر مکان خریدا جا سکتا ہے؟
سوال: ”اس ملک میں مکان بہت مہنگے ہیں اور کرائے پر اگر آدمی لے تو وہ بھی بہت زیادہ گراں ہوتا ہے۔ اس حالت میں کیا مکان بینک کے پاس رہن رکھ کر سودی قرضہ کے ذریعہ خریدا جا سکتا ہے؟“
جواب: حرام و حلال کے اختیارات اگر میرے ہاتھ میں ہوتے تو میں آپ کے لیے کسی چیز کو حرام نہ رہنے دیتا۔ لیکن یہ اختیارات تو اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں، اور میں اس کے مقرر کیے ہوئے حلال و حرام کے احکام میں کوئی رد و بدل کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔
رہی یہ بات کہ آپ یہاں کے حالات میں اپنے آپ کو سودی ذرائع سے مکان خریدنے پر مجبور سمجھتے ہیں تو اپنی اس مجبوری کا فیصلہ آپ اپنی ذمہ داری پر خود کریں۔ مجھے اس ذمہ داری میں شریک نہ کریں۔ آپ کو دنیا میں کم از کم مکان تو مل جائے گا، لیکن آخرت میں آپ کے ساتھ میری بھی شامت آئے گی۔
سرکاری بانڈز کا حکم:
سوال: کیا گورنمنٹ کے بانڈ پر دیا جانے والا منافع بھی سود میں شمار ہوتا ہے؟
جواب: اس کے سود ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
ایسی کمپنی کی ملازمت جو حلال و حرام دونوں قسم کے کام کرتی ہو؟
سوال: بلکہ کیا کسی حالت میں ایک مسلمان کسی ایسی تجارتی کمپنی میں ملازمت کرسکتا ہے جو حلال و حرام دونوں قسم کی چیزیں تیار کرتی ہو یا اُن کا بیوپار کرتی ہو؟
جواب: ایک غیر مسلم معاشرے اور حکومت میں رہ کر مسلمان افراد کے لیے حلال و حرام کی تمیز کرنا اور حرام سے ہر حالت میں بچنا بلا شبہہ ایک سخت مشکل کام ہے، لیکن جہاں تک آپ کے امکان میں ہو آپ اپنے آپ کو حرام سے بچانے کی انتہائی کوشش کریں۔ بالفرض اگر ایسی کسی کمپنی میں نوکری کرنی ہی پڑ جائے جو حلال و حرام دونوں قسم کے کاروبار کرتی ہو تو شریعت کی رُو سے آپ کے ساتھ یہاں کے حالات میں زیادہ سے زیادہ جو رعایت ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ اس کے کسی ایسے شعبے میں ملازمت کریں جو حلال قسم کا کاروبار کرتا ہو۔
مولود شریف اور قیام کا مسئلہ
سوال: آپ کی رائے میں کیا مولود شریف پڑھنا جائز ہے اور کیا اس میں تعظیماً کھڑا ہونا بھی جائز ہے؟
جواب: مولود شریف جس چیز کا نام ہے، دراصل اس سے مراد ذکر رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلمؐ اور سیرت رسول علیہ الصلوۃ والسلامؐ کا بیان ہے۔ اس کے جائز ہی نہیں کار ثواب ہونے میں بھی کسی کلام کی گنجائش نہیں ہے، البتہ اس میں غلط اور موضوع روایات بیان کرنا درست نہیں، اور مولود کی محفلوں پر اگر اعتراض ہو سکتا ہے تو اسی پہلو سے ہو سکتا ہے۔
رہا سلام کے لیے تعظیماً کھڑا ہونا، تو نہ یہ فرض و واجب ہے کہ ہر آدمی کو اس پر مجبور کیا جائے اور نہ کھڑے ہونے والے کو ملامت کی جائے۔ نہ یہ حرام ہے کہ جو ایسا کرتا ہے اس کو ملامت کی جائے۔ کوئی شخص اگر عقیدت کی بنا پر کھڑا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اس کے لازم اور ضروری نہ ہونے کا ثبوت تو ہم ہر روز پنج وقتہ نماز میں دیتے ہیں۔ تشہد میں <<اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ>> کھڑے ہو کر آخر کون صاحب پڑھتا کرتے ہیں؟ سب اس کو بیٹھ کر ہی پڑھتے ہیں اور یہ تشہد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ کا سکھایا ہوا ہے۔ اس لیے جو لوگ اس کے ضروری ہونے پر زور دیتے ہیں ان کو بھی اپنے مبالغے سے باز آ جانا چاہیے، کیونکہ شریعت میں اس کے لزوم کا کوئی ثبوت نہیں۔
کیا ہر اسلامی اصول منطقی دلائل سے صحیح ثابت ہو سکتا ہے؟
سوال: کیا ہر اسلامی اصول کی خالص منطقی طریقے سے توجیہ کی جا سکتی ہے؟ اگر نہیں، تو کیا بعض اسلامی اصول محض اندھے ایمان کی بنا پر ماننے کے لیے ہیں؟ آپ منطقی طریقے سے آخر تقدیر کی کس طرح تشریح کریں گے؟
جواب: اسلام کا کوئی اصول یا عقیدہ یا حکم غیر معقول نہیں ہے۔ ہر ایک کو عقلی اور خالص منطقی طریقے سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ ہمیں مسلمان ہونے کے لیے کہیں بھی اندھے ایمان کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ آپ نے ”تقدیر کا مسئلہ اپنے نزدیک یہ سمجھتے ہوئے چھیڑا ہے کہ اس مسئلہ میں منطق بالکل نہیں چل سکتی۔ لیکن براہ کرم میری کتاب ”جبر و قدر“ اور میری ”تفہیم القرآن“ کی ہر جلد کے انڈکس میں لفظ ”تقدیر“ نکال کر وہ تمام مقامات دیکھ لیجیے جہاں میں نے اس مسئلہ کی تشریح کی ہے۔ اس کے بعد آپ مجھے ضرور بتائیے گا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی پیشگی تقدیر کا طے ہونا زیادہ معقول ہے یا طے نہ ہونا زیادہ معقول ہے؟ کیا آپ ایسے خدا پر ایمان لا سکتے ہیں جس کو اپنی خدائی میں پیش آنے والے کسی واقعہ کا ایک لمحہ پہلے تک بھی علم نہ ہو اور جب کوئی واقعہ پیش آ جائے تب اسے پتہ چلے کہ میری خدائی میں یہ کچھ ہو گیا؟ کیا واقعی ایسا خدا اس عظیم کائنات پر حکومت کر سکتا ہے؟
خطاب:
میں آپ کے سوالات کے جوابات دے چکا ہوں۔ اب میں اختصار کے ساتھ خود بھی کچھ آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مگر چہ آپ اس سرزمین میں مختلف مقاصد کے لیے آئے ہیں۔ کوئی آپ میں سے علم حاصل کرنے یا کوئی فن سیکھنے کے لیے آیا ہے۔ کوئی اپنی معاش کی فکر میں آیا ہے اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو یہیں رہ بس گئے ہیں۔ لیکن ان سب چیزوں کے ساتھ آپ کی ایک حیثیت اور بھی ہے اور وہ ہے آپ کے مسلمان ہونے کی حیثیت۔ اس دوسری حیثیت میں آپ کا حال جہاں بھی رہیں گے اور جہاں بھی جائیں گے آپ کو اسلام کا نمائندہ ہی سمجھا جائے گا۔ خواہ آپ کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو، ایک غیر مسلم جب بھی آپ کو دیکھے گا، یہی سمجھے گا کہ مسلمان ایسا ہوتا ہے۔ اب اگر آپ نے اپنے آپ کو ایک بُرے انسان کی حیثیت سے پیش کیا، اپنے اخلاق، اپنے معاملات اور اپنے رہن سہن کا بُرا نمونہ لوگوں کو دکھایا، یا یہاں کے عام دُنیا کی رو یہ تاثیر دیا کہ جیسے وہ ہیں ویسے ہی آپ بھی ہیں، تو آپ اسلام کی غلط نمائندگی کریں گے اور اس صورت میں آپ کو دیکھ کر جو شخص بھی اسلام کے متعلق بُری رائے قائم کرے گا اس کی ذمہ داری آپ پر ہو گی۔ اس کے برعکس اگر آپ نے اپنے قول و عمل سے، اپنے اخلاق اور معاملات سے، اپنے طرزِ زندگی سے اسلام کی صحیح نمائندگی کی تو بعید نہیں کہ بہت سے لوگوں کے دل اسلام کے لیے کھل پائیں گے۔ خواہ آپ باقاعدہ تبلیغ کا کام کریں یا نہ کریں۔ لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ ہر مسلمان جو یہاں رہتا ہے اپنی اس حیثیت اور اس ذمہ داری کو محسوس کرے۔ آپ کی زندگی اگر ایک سچے اور پورے عملی مسلمان کی سی زندگی ہو تو آپ کا وجود ایک جیتا جاگتا اور چلتا پھرتا مبلغ بن جائے گا۔
دوسرے حصہ میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ میں سے جو لوگ یہاں رہ پڑے ہیں وہ اپنی آئندہ نسل کی فکر کریں۔ آپ یہاں ایک مسلمان ملک اور مسلمان معاشرے سے نکل کر آئے ہیں۔ آپ نے مسلمان ماں باپ کے گھر میں آنکھیں کھولی ہیں۔ آپ نے خواہ اسلام کی تعلیم حاصل نہ بھی کی ہو تو زندگی کا ایک خاص حصہ مسلم معاشرے میں گزارا ہے جس کے اندر رہ کر ہر شخص کچھ نہ کچھ اسلام کے متعلق ضرور جان لیتا ہے۔ اس کا سرسری ہی سہی، بہر حال اتنا ضرور علم ہوتا ہے کہ اسلامی عقائد کیا ہیں، اسلامی عبادات کیا ہیں، اسلام کی نگاہ میں کیا چیز بری ہے اور کیا چیز اچھی، اور مسلمان کا طرز زندگی کیا ہے؟ لیکن آپ کی اولاد جو یہاں پرورش پا رہی ہے وہ بالکل نہیں جانتی کہ اسلام کیا ہے اور اسلامی زندگی کیا ہوتی ہے۔ اس کو اسلام کی کوئی تعلیم نہیں ملتی اور نہ مسلم معاشرے کے طور طریقوں سے وہ واقف ہوتا ہے۔ یہاں آنکھیں کھول کر ایک بچہ ہر وقت ایک غیر مسلم معاشرے کو چلتا پھرتا دیکھتا ہے۔ یہاں کے مدارس میں جاتا ہے تو وہی تعلیم و تربیت اسے ملتی ہے جو یہاں کے بچوں اور نوجوانوں کو دی جاتی ہے۔ اس حالت میں آپ چاہے کتنے ہی متدین لگیں، اپنی اولاد کو یہاں کے معاشرے، یہاں کے اخلاق و تہذیب اور یہاں کے غلط نظام زندگی میں جذب ہونے سے نہیں بچا سکتے۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ جہاں بھی مسلمان کافی تعداد میں آباد ہیں وہاں وہ اپنے بچوں کی اسلامی تعلیم و تربیت کا خود انتظام کریں۔ اگر وہ اس کی قدرت اور اہمیت کو محسوس کریں گے تو یہ کچھ مشکل نہیں ہے کہ مل جل کر ایک تعلیمی نظام کریں۔ ایک تعلیمی نظام قائم کریں جس میں ہر شخص باقاعدگی کے ساتھ اپنی استطاعت کے مطابق چندہ دے، اور اس فنڈ سے مسلمان بچوں کے لیے ایسے مدارس کھڑے ہو جائیں جن میں تعلیم اسی معیار کی ہو جو اس ملک کا نظام تعلیم چاہتا ہے، مگر اس کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت بھی دی جائے اور مسلمان بچوں کو یہاں کے نظام تعلیم کی گندگیوں، رذلانہ جنسی تعلیم اور مخلوط تعلیم سے محفوظ رکھا جائے۔ ان مدرسوں کے ساتھ ایسے ہوٹل بھی قائم کیے جائیں جن میں ایسے مضافات کے لوگ اپنے بچے بھیج سکیں جہاں مسلمانوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ وہ اپنے مدرسے قائم نہیں کر سکتے۔ میرے نزدیک کوئی وجہ نہیں ہے کہ آپ کے مدارس کو تسلیم نہ کیا جائے اگر آپ یہ ثابت کر دیں گے کہ کینیڈا یا امریکہ میں تعلیم کا جو معیار ہے آپ کے مدارس اس معیار پر پورے اترتے ہیں اور آپ اس معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے بچوں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینا چاہتے ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ آپ کے اس حق کو تسلیم کرنے سے کوئی حکومت انکار کرے گی۔ اگر یہاں دوسرے مذہبی، یا نسلی گروہوں کو اپنے مخصوص (PAROCHIAL) مدارس قائم کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو آخر آپ کو کیوں نہیں دی جاسکتی؟ شرط بس یہ ہے کہ آپ بھی اپنا حق منوانے کے لیے اسی طرح کی کوشش کریں جس طرح دوسروں نے کی ہے اور اسے منوا کر چھوڑا ہے۔ میں صاف صاف عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ نے اس کام میں غفلت سے کام لیا تو آپ کی پہلی نسل کو تو شاید یہ یاد بھی رہ جائے کہ ان کے باپ دادا مسلمان تھے لیکن دوسری تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے وہ یا مکمل یہاں کی تہذیب اور معاشرے میں گم ہو جائیں گے اور ان کے اندر اسلام کی رمق تک باقی نہ رہے گی۔ خدا نہ کرے کہ اس حد تک نوبت پہنچے، اس لیے میں بڑی دل سوزی کے ساتھ آپ کو اس کام کی ضرورت و اہمیت کا احساس دلاتا ہوں۔ مجھے اُمید ہے کہ کینیڈا اور امریکہ میں رہنے والے مسلمان اس میں کسی تساہل اور تاخیر سے کام نہ لیں گے۔
<<و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين>>