مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

حقیقتِ صوم و صلوٰۃ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "حقیقت صوم و صلوٰۃ" ایک ایسی علمی اور روحانی تحریر ہے جو عبادت کے صحیح مفہوم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ آج کا مسلمان، خواہ وہ نماز پڑھتا ہو یا روزہ رکھتا ہو، اکثر عبادت کو محض رسمی حرکات تک محدود سمجھ بیٹھا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی زندگی میں نہ تو اخلاقی انقلاب آتا ہے، نہ سماجی تبدیلی، اور نہ ہی وہ اللہ کی حقیقی بندگی کا شعور حاصل کر پاتا ہے۔ مولانا کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ عبادت صرف الگ تھلگ روحانی مشغلوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک جامع نظامِ حیات ہے جس میں انسان کی پوری زندگی—سوئے، جاگے، کھائے، پیئے، معاملات کرے، رشتہ داروں سے پیش آئے—سب کچھ اللہ کے احکام کے تابع ہونا چاہیے۔

کتاب کا آغاز باب اول "عبادت کی حقیقت" سے ہوتا ہے، جہاں مولانا قرآنی آیت «مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ» کی روشنی میں عبادت کی تعریف پیش کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ عبادت کا لغوی مطلب بندگی اور غلامی ہے، جس کے تین بنیادی اجزاء ہیں: وفاداری (صرف اللہ کو مالک تسلیم کرنا)، اطاعت (ہر حال میں اس کے احکام کی فرمانبرداری)، اور ادب و تعظیم (اس کے مقررہ طریقوں سے سر جھکانا)۔ مولانا استدلال کرتے ہیں کہ جو شخص صرف رسمی حرکات کرے مگر اپنی زندگی کو اللہ کے قانون کے تابع نہ بنائے، وہ عبادت نہیں کر رہا، بلکہ نمک حرامی کر رہا ہے۔

باب دوم "نماز کی حقیقت اور عبادت کا جامع تصور" میں مولانا نماز کو عبادت کے وسیع تصور کے تناظر میں پیش کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: نماز، روزہ

روزہ

دوسری عبادت جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرض کی ہے۔ ”روزہ“ ہے۔ روزہ سے مراد ہے کہ صبح سے شام تک آدمی کھانے پینے اور مباشرت سے پرہیز کرے۔ نماز کی طرح یہ عبادت بھی ابتدا سے تمام پیغمبروں کی شریعت میں فرض رہی ہے۔ پچھلی جتنی اُمتیں گزری ہیں۔ سب اسی طرح روزے رکھتی تھیں۔ جس طرح اُمتِ محمدی رکھتی ہے۔ البتہ روزے کے احکام، اور روزوں کی تعداد اور روزے رکھنے کے زمانے میں مختلف شریعتوں کے درمیان فرق رہا ہے۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مذاہب میں روزہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود ہے۔ اگرچہ لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سی باتیں ملا کر اس کی شکل بگاڑ دی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ <<يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ>> یعنی ”اے مسلمانو! تمہارے اُوپر روزہ فرض کیا گیا ہے۔ جس طرح تم سے پہلے کی اُمتوں پر فرض کیا گیا تھا“۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنی شریعتیں آئی ہیں۔ وہ کبھی روزے کی عبادت سے خالی نہیں رہیں۔ جس طرح نماز اور زکوٰۃ سے خالی نہیں رہی ہیں۔

غور کیجئے کہ آخر روزے میں بات کیا ہے۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس عبادت کو ہر زمانے میں فرض کیا ہے؟

اس سے پہلے کئی مرتبہ بیان کر چکا ہوں کہ اسلام کا اصل مقصد انسان کی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت بنا دینا ہے۔ انسان عبد یعنی بندہ پیدا ہوا ہے اور عبدیت یعنی بندگی اس کی عین فطرت ہے۔ اس لئے عبادت یعنی خیال اور عمل میں اللہ کی بندگی کرنے سے کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی اس کو آزاد نہ ہونا چاہیئے۔ اُسے اپنی بندگی کے ہر معاملہ میں ہمیشہ اور ہر وقت یہ دیکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کس چیز میں ہے اور اس کا غضب اور ناراضی کس چیز میں۔ پھر جس طرف اللہ کی رضا ہو اس طرف جانا چاہیئے اور جس طرف اس کا غضب اور اس کی ناراضی ہو ۔ اس سے یوں بچنا چاہیئے ۔ جیسے آگ کے انگارے سے کوئی بچتا ہے ۔ جو طریقہ اللہ نے پسند کیا ہو اس پر چلنا چاہیئے اور جس طریقہ کو اس نے پسند نہ کیا ہو اس سے بھاگنا چاہیئے جب انسان کی ساری زندگی اس رنگ میں رنگ جائے ۔ تب سمجھو کہ اس نے اپنے مالک کی بندگی کا حق ادا کیا اور <<مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ>> کا منشا پورا کر دیا۔

یہ بات بھی اس سے پہلے بیان کر چکا ہوں کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے نام سے جو عبادتیں ہم پر فرض کی گئی ہیں۔ انکا اصل مقصد اسی بڑی عبادت کے لئے ہم کو تیار کرنا ہے ۔ ان کو فرض کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر تم نے دن میں پانچ وقت رکوع اور سجدہ کر لیا ۔ رمضان میں تیس دن تک صبح سے شام تک بھوک پیاس برداشت کر لی اور مالدار ہونے کی صورت میں سالانہ زکوٰۃ اور عمر میں ایک مرتبہ حج ادا کر دیا تو اللہ کا جو جو حق تم پر تھا وہ ادا ہو گیا اور اس کے بعد تم اس کی بندگی سے آزاد ہو گئے کہ جو چاہو کرتے پھرو ۔ بلکہ دراصل ان عبادتوں کو فرض کرنے کی غرض یہی ہے کہ ان کے ذریعہ سے آدمی کی تربیت کی جائے اور اس کو اس قابل بنا دیا جائے کہ اس کی پوری زندگی اللہ کی عبادت بن جائے۔ آئیے اب اس مقصد کو سامنے رکھ کر ہم دیکھیں کہ روزہ کس طرح آدمی کو اس بڑی عبادت کے لئے تیار کرتا ہے ۔

روزہ کے سوا دوسری جتنی عبادتیں ہیں۔ وہ کسی نہ کسی ظاہری حرکت سے ادا کی جاتی ہیں۔ مثلاً نماز میں آدمی اُٹھتا اور بیٹھتا اور رکوع اور سجدہ کرتا ہے۔ جس کو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ حج میں ایک لمبا سفر کرکے جاتا ہے اور پھر ہزاروں لاکھوں آدمیوں کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ زکوٰۃ بھی کم از کم ایک شخص دیتا ہے اور دوسرا شخص لیتا ہے۔ ان سب عبادتوں کا حال چھپ نہیں سکتا۔ اگر آپ ادا کرتے ہیں۔ تب بھی دوسروں کو معلوم ہو جاتا ہے اور اگر ادا نہیں کرتے۔ تب بھی لوگوں کو خبر ہو جاتی ہے۔ اس کے برخلاف روزہ ایسی عبادت ہے۔ جس کا حال خدا اور بندے کے سوا کسی دوسرے پر نہیں کھل سکتا۔ ایک شخص سب کے سامنے سحری کھائے اور افطار کے وقت تک ظاہر میں کچھ نہ کھائے پیئے۔ مگر چھپ کر پانی پی جائے یا کچھ چوری چھپے کھالے تو خدا کے سوا کسی کو بھی اس کی خبر نہیں ہوسکتی۔ ساری دنیا یہی سمجھتی رہے گی کہ وہ روزے سے ہے۔ اور وہ حقیقت میں روزے سے نہ ہوگا ۔

روزے کی اس حیثیت کو سامنے رکھو۔ پھر غور کرو۔ جو شخص حقیقت میں روزہ رکھتا ہے اور اس میں چوری چھپے بھی کچھ نہیں کھاتا پیتا۔ سخت گرمی کی حالت میں بھی جب کہ پیاس سے حلق چٹخا جاتا ہو۔ پانی کا ایک قطرہ حلق سے نیچے نہیں اتارتا۔ سخت بھوک کی حالت میں بھی جبکہ آنکھوں میں دم آ رہا ہو۔ کوئی چیز کھانے کا ارادہ نہیں کرتا۔ اُسے اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے پر کتنا ایمان ہے۔ کس قدر زبردست یقین کے ساتھ وہ جانتا ہے کہ اس کی کوئی حرکت چاہے ساری دنیا سے چھپ جائے مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتی۔ کیسا خوف خدا اس کے دل میں ہے کہ بڑی سے بڑی تکلیف اُٹھاتا ہے۔ مگر صرف اللہ کے ڈر سے کوئی ایسا کام نہیں کرتا جو اس کے روزے کو توڑنے والا ہے۔ کس قدر مضبوط اعتقاد ہے اس کو آخرت کی سزا و جزا پر کہ مہینہ بھر میں وہ کم از کم تین سو ساٹھ گھنٹہ کے روزے رکھتا ہے اور اس دوران میں کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی اس کے دل میں آخرت کے متعلق شک کا شائبہ تک نہیں آتا۔ کیونکہ اگر اُسے اس امر میں شک ہو جائے کہ آخرت ہو گی یا نہ ہوگی۔ اور اس میں عذاب و ثواب ہو گا یا نہ ہو گا تو وہ کبھی اپنا روزہ پورا نہیں کر سکتا۔ شک کی فطرت یہی ہے کہ وہ آدمی کے ارادے کو متزلزل کر دیتا ہے۔ لہذا شک آنے کے بعد یہ ممکن نہیں ہے کہ آدمی خدا کے حکم کی تعمیل میں کچھ نہ کھانے اور پینے کے ارادہ پر قائم رہ جائے ۔

اس طرح اللہ تعالیٰ ہر سال کامل ایک مہینہ تک مسلمان کے ایمان کو مسلسل آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس آزمائش میں جتنا آدمی پورا اترتا جاتا ہے۔ اتنا ہی اتنا اس کا ایمان مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ یہ گویا آزمائش کی آزمائش ہے ۔ اور ٹریننگ کی ٹریننگ۔ آپ جب کسی شخص کے پاس امانت رکھواتے ہیں تو گویا اس کی ایمانداری کی آزمائش کرتے ہیں۔ اگر وہ اس آزمائش میں پورا اترے اور امانت میں خیانت نہ کرے تو اس کے اندر امانتوں کا بوجھ سنبھالنے کی اور زیادہ طاقت پیدا ہوتی ہے اور زیادہ امین بنتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی مسلسل ایک مہینہ تک روزانہ بارہ بارہ چودہ چودہ گھنٹے تک آپ کے ایمان کو کڑی آزمائش میں ڈالتا ہے اور جب اس آزمائش میں آپ پورے اترتے ہیں تو آپ کے اندر اس بات کی مزید قابلیت پیدا ہونے لگتی ہے کہ اللہ سے ڈر کر دوسرے گناہوں سے بھی پرہیز کریں اللہ کو عالم الغیب جان کر چوری چھپے بھی اس کے قانون کو توڑنے سے بچیں اور ہر موقع پر قیامت کا وہ دن آپکو یاد آجایا کرے جب سب کچھ کھل جائے گا اور بغیر کسی رو رعایت کے بھلائی کا بھلا اور بُرائی کا بُرا بدلہ ملے گا ۔ یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ <<يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ>> اے اہل ایمان ! تمہارے اوپر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کئے گئے تھے۔ شاید کہ تم پرہیزگار بن جاؤ :- (بقرہ - ۱۸۳)

روزے کی ایک دوسری خصوصیت بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ طویل مدت تک شریعت کے احکام کی تعمیل کراتا ہے۔ نماز کی مدت ایک وقت میں چند منٹ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ زکوٰۃ ادا کرنے کا وقت سال بھر میں صرف ایک وقت آتا ہے اور وہ بھی صرف مالداروں کے لئے ۔ حج میں البتہ لمبی مدت صرف ہوتی ہے مگر اس کا موقع عمر بھر میں ایک دفعہ آتا ہے اور وہ بھی سب کے لئے نہیں ۔ ان سب کے برخلاف روزہ ہر سال پورے ایک مہینہ تک شب و روز شریعت محمدی کے اتباع کی مشق کراتا ہے۔ صبح سحری کے لئے اُٹھو۔ ٹھیک فلاں وقت تک کھانا پینا سب بند کر دو۔ دن بھر فلاں فلاں کام کر سکتے ہو اور فلاں فلاں کام نہیں کر سکتے۔ شام کو ٹھیک فلاں وقت پر افطار کرو۔ پھر کھانا کھا کر آرام لو۔ پھر تراویح کے لئے دوڑو۔ اس طرح ہر سال کامل مہینہ بھر صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک مسلمان کو فوجی سپاہیوں کی طرح پورے قاعدے اور ضابطے میں رکھا جاتا ہے اور پھر گیارہ مہینہ کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ جو تربیت اس مہینہ میں اس نے حاصل کی ہے۔ اس کے اثرات ظاہر ہوں اور جو کمی پائی جائے۔ پھر دوسرے سال کی ٹریننگ میں پوری کی جائے ۔

اس قسم کی تربیت کے لئے ایک ایک شخص کو الگ الگ لے کر تیار کرنا کسی طرح موزوں نہیں ہوتا۔ فوج میں بھی آپ دیکھتے ہیں کہ ایک ایک شخص کو الگ الگ قواعد نہیں کرائی جاتی بلکہ پوری فوج کی فوج ایک ساتھ قواعد کرتی ہے۔ سب کو ایک وقت بگل کی آواز پر اُٹھنا اور بگل کی آواز پر کام کرنا ہوتا ہے تاکہ اُن میں جماعت بن کر متفقہ کام کرنے کی عادت ہو اور اس کے ساتھ ہی وہ سب ایک دوسرے کی تربیت میں مددگار ہوں یعنی ایک شخص کی تربیت میں جو کچھ نقص رہ جائے ۔ اس کی کمی کو دوسرا اور دوسرے کی کمی کو تیسرا پورا کر دے ۔ اسی طرح اسلام میں بھی رمضان کا مہینہ روزے کی عبادت کے لئے مخصوص کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ایک وقت میں سب کے سب مل کر روزہ رکھیں۔ اس حکم نے انفرادی عبادت کو اجتماعی عبادت بنا دیا۔ جس طرح ایک عدد کو ایک لاکھ سے ضرب دو۔ تو ایک لاکھ کا زبردست عدد بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایک ایک شخص کے روزہ رکھنے سے جو اخلاقی اور روحانی فائدے ہو سکتے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں آدمیوں کے مل کر روزہ رکھنے سے وہ لاکھوں کروڑوں گنے زیادہ بڑھ جاتے ہیں ۔ رمضان کا مہینہ پوری فضا کو نیکی اور پرہیزگاری سے بھر دیتا ہے ۔ پوری قوم میں گویا تقویٰ کی کھیتی سرسبز ہو جاتی ہے ۔ ہر شخص نہ صرف خود گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بلکہ اگر اس میں کوئی کمزوری ہوتی ہے تو اس کے دوسرے بہت سے بھائی جو اس کی طرح روزہ دار ہیں ۔ اس کے پشت پناہ بن جاتے ہیں ۔ ہر شخص کو روزہ رکھ کر گناہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے اور ہر ایک کے دل میں خود بخود یہ خواہش اُبھرتی ہے کہ کچھ بھلائی کا کام کرے۔ کسی غریب کو کھانا کھلائے۔ کسی ننگے کو کپڑا پہنائے۔ کسی مصیبت زدہ کی مدد کرے۔ کسی جگہ اگر کوئی نیک کام ہو رہا ہو تو اس میں حصہ لے اور کہیں علانیہ بدی ہو رہی ہو تو اسے روکے۔ نیکی اور تقویٰ کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور بھلائیوں کے پھلنے پھولنے کا موسم آ جاتا ہے جس طرح آپ دیکھتے ہیں کہ ہر غلہ اپنا موسم آنے پر خوب پھلتا پھولتا ہے اور ہر طرف کھیتوں پر چھایا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ :۔

<<كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا اِلٰی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللهُ تَعَالٰی اِلَّا الصَّوْمَ فَاِنَّهُ لِیْ وَ اَنَا اَجْزِیْ بِهِ>>

'' آدمی کا ہر عمل خدا کے ہاں کچھ نہ کچھ بڑھتا ہے۔ ایک نیکی دس گنی سے سات سو گنی تک پھلتی پھولتی ہے''۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ وہ خاص میرے لئے ہے اور میں اس کا جتنا چاہوں بدلہ دیتا ہوں : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیکی کرنے والے کی نیت اور نیکی کے نتائج کے لحاظ سے تمام اعمال پھلتے پھولتے ہیں اور انکی ترقی کے لئے ایک حد مقرر ہے۔ مگر روزے کی ترقی کے لئے کوئی حد مقرر نہیں۔ رمضان چونکہ خیر اور صلاح کے پھلنے پھولنے کا موسم ہے اور اس موسم میں ایک شخص نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں مسلمان مل کر اس نیکی کے باغ کو پانی دیتے ہیں۔ اس لئے یہ بیحد وحساب بڑھ سکتا ہے۔ جتنی زیادہ نیک نیتی کے ساتھ اس مہینہ میں عمل کرو گے۔ جس قدر زیادہ برکتوں سے خود فائدہ اُٹھاؤ گے اور اپنے دوسرے بھائیوں کو فائدہ پہنچاؤ گے۔ اور پھر جس قدر زیادہ اس مہینے کے اثرات بعد کے گیارہ مہینوں میں باقی رکھو گے۔ اتنا ہی یہ پھلے اور پھولے گا۔ اور اس کے پھلنے پھولنے کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ تم خود اپنے عمل سے اس کو محدود کر لو۔ تو یہ تمہارا اپنا قصور ہے:

روزے کے یہ اثرات اور یہ نتائج سُن کر ہر شخص کے دل میں سوال پیدا ہوگا کہ یہ اثرات آج کہاں ہیں؟ ہم روزے بھی رکھتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔ مگر یہ نتیجے جو تم بیان کرتے ہو۔ ظاہر نہیں ہوتے۔ اس کی ایک وجہ تو میں پہلے بیان کر چکا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اسلام کے اجزاء کو الگ الگ کر دینے کے بعد اور بہت سی نئی چیزیں اس میں ملا دینے کے بعد آپ ان نتائج کی توقع نہیں کر سکتے جو پورے نظام کی بندھی ہوئی صورت ہی میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری وجہ یہ ہے کہ عبادت کے متعلق آپ کا نقطۂ نظر بالکل بدل گیا ہے۔ اب آپ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ محض صبح سے شام تک کچھ نہ کھانے اور نہ پینے کا نام عبادت ہے اور جب یہ کام آپ نے کر لیا تو عبادت پوری ہو گئی۔ اسی طرح دوسری عبادتوں کی بھی محض ظاہری شکل کو آپ عبادت سمجھتے ہیں اور عبادت کی روح جو آپ کے ہر عمل میں ہونی چاہئیے۔ اس سے عام طور پر آپ کے ۹۹ فی صدی بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی غافل ہیں۔ اسی وجہ سے یہ عبادات اپنے پورے فائدے نہیں دکھاتیں۔ کیونکہ اسلام میں تو نیت اور فہم اور سمجھ بوجھ ہی پر سب کچھ منحصر ہے