مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

حقیقتِ صوم و صلوٰۃ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "حقیقت صوم و صلوٰۃ" ایک ایسی علمی اور روحانی تحریر ہے جو عبادت کے صحیح مفہوم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ آج کا مسلمان، خواہ وہ نماز پڑھتا ہو یا روزہ رکھتا ہو، اکثر عبادت کو محض رسمی حرکات تک محدود سمجھ بیٹھا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی زندگی میں نہ تو اخلاقی انقلاب آتا ہے، نہ سماجی تبدیلی، اور نہ ہی وہ اللہ کی حقیقی بندگی کا شعور حاصل کر پاتا ہے۔ مولانا کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ عبادت صرف الگ تھلگ روحانی مشغلوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک جامع نظامِ حیات ہے جس میں انسان کی پوری زندگی—سوئے، جاگے، کھائے، پیئے، معاملات کرے، رشتہ داروں سے پیش آئے—سب کچھ اللہ کے احکام کے تابع ہونا چاہیے۔

کتاب کا آغاز باب اول "عبادت کی حقیقت" سے ہوتا ہے، جہاں مولانا قرآنی آیت «مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ» کی روشنی میں عبادت کی تعریف پیش کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ عبادت کا لغوی مطلب بندگی اور غلامی ہے، جس کے تین بنیادی اجزاء ہیں: وفاداری (صرف اللہ کو مالک تسلیم کرنا)، اطاعت (ہر حال میں اس کے احکام کی فرمانبرداری)، اور ادب و تعظیم (اس کے مقررہ طریقوں سے سر جھکانا)۔ مولانا استدلال کرتے ہیں کہ جو شخص صرف رسمی حرکات کرے مگر اپنی زندگی کو اللہ کے قانون کے تابع نہ بنائے، وہ عبادت نہیں کر رہا، بلکہ نمک حرامی کر رہا ہے۔

باب دوم "نماز کی حقیقت اور عبادت کا جامع تصور" میں مولانا نماز کو عبادت کے وسیع تصور کے تناظر میں پیش کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: نماز، روزہ

عبادت

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پاک میں بیان فرمایا ہے کہ <<مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ>> ”یعنی میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا اور کسی غرض کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں“ اس آیت سے معلوم ہُوا کہ آپ کی پیدائش اور آپ کی زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ عبادت کا مطلب جاننا آپ کے لئے کس قدر ضروری ہے اگر آپ اس کے صحیح معنی سے ناواقف ہوں گے تو گویا اِس مقصد ہی کو پورا نہ کرسکیں گے جس کے لئے آپکو پیدا کیا گیا ہے اور جو چیز اپنے مقصد کو پورا نہیں کرتی۔ ناکام ہوتی ہے۔

عبادت کا لفظ ”عبد“ سے نکلا ہے۔ عبد کے معنی بندے اور غلام کے ہیں۔ اس لئے عبادت کے معنی بندگی اور غلامی کے ہوئے۔ جو شخص کسی کا بندہ ہو ۔ اگر وہ اس کے مقابلہ میں بندہ بن کر رہے اور اس کے ساتھ اس طرح پیش آئے جس طرح آقا کے ساتھ پیش آنا چاہیے تو یہ بندگی اور عبادت ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو شخص کسی کا بندہ ہو اور آقا سے تنخواہ بھی پوری پوری وصول کرتا ہو ۔ مگر آقا کے حضور میں بندوں کا سا کام نہ کرے تو اسے نافرمانی اور سرکشی کہا جاتا ہے۔ بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں اسے نمک حرامی کہتے ہیں۔

اب غور کیجئے کہ آقا کے مقابلہ میں بندوں کا سا طریقہ اختیار کرنے کی کیا صورت ہے ۔

بندے کا پہلا کام یہ ہے کہ آقا ہی کو آقا سمجھے اور یہ خیال کرے کہ جو میرا مالک ہے، جو مجھے رزق دیتا ہے۔ جو میری حفاظت اور نگہبانی کرتا ہے۔ اسی کی وفاداری مجھ پر فرض ہے اسکے سوا اور کوئی اس کا مستحق نہیں کہ میں اسکی وفاداری کروں ۔

بندے کا دوسرا کام یہ ہے کہ ہر وقت آقا کی اطاعت کرے اس کے حکم کو بجا لائے کبھی اس کی خدمت سے منہ نہ موڑے اور آقا کی مرضی کے خلاف نہ خود اپنے دل سے کوئی بات کرے۔ نہ کسی دوسرے شخص کی بات مانے۔ غلام ہر وقت ہر حال میں غلام ہے۔ اسے یہ کہنے کا حق ہی نہیں کہ آقا کی فلاں بات مانوں گا اور فلاں بات نہ مانوں گا یا اتنی دیر کے لئے میں آقا کا غلام ہوں اور باقی وقت میں اس کی غلامی سے آزاد ہوں۔

بندے کا تیسرا کام یہ ہے کہ آقا کا ادب اور اس کی تعظیم کرے۔ جو طریقہ ادب اور تعظیم کرنے کا آقا نے مقرر کیا ہو اسی کی پیروی کرے۔ جو وقت سلامی کے لئے حاضر ہونے کا آقا نے مقرر کیا ہو۔ اس وقت ضرور حاضر ہو! اور اس بات کا ثبوت دے کہ میں اس کی وفاداری اور اطاعت میں ثابت قدم ہوں۔

بس یہی تین چیزیں ہیں۔ جن سے مل کر عبادت بنتی ہے ایک، آقا کی وفاداری۔ دوسرے آقا کی اطاعت، تیسرے اس کا ادب اور اس کی تعظیم۔ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ <<مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ>> تو اسکا مطلب دراصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف اللہ کے وفادار ہوں۔ اس کے خلاف کسی کے وفادار نہ ہوں صرف اللہ کے احکام کی اطاعت کریں۔ اس کے خلاف کسی کا حکم نہ مانیں اور اس کے آگے ادب اور تعظیم سے سر جھکائیں۔ اس کے سوا کسی دوسرے کے آگے سر نہ جھکائیں۔ انہی تین چیزوں کو اللہ نے ”عبادت“ کے جامع لفظ میں بیان کیا ہے۔ یہی مطلب اُن تمام آیتوں کا ہے۔ جن میں اللہ نے اپنی عبادت کا حکم دیا ہے اور ہمارے نبی کریمؐ، اور آپ سے پہلے جتنے نبی خدا کی طرف سے آئے ہیں۔ ان سب کی تعلیم کا سارا لُبِّ لُباب یہی ہے۔ کہ <<اَلَّا تَعْبُدُوۡا اِلَّا اللّٰهَ>> ”اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو“ یعنی صرف ایک بادشاہ ہے۔ جس کا تمہیں وفادار ہونا چاہیئے اور وہ بادشاہ اللہ ہے۔ صرف ایک قانون ہے جس کی تمہیں پیروی کرنی چاہیئے اور وہ قانون اللہ کا قانون ہے اور صرف ایک ہی ہستی ایسی ہے جس کی تمہیں پوجا اور پرستش کرنی چاہیئے اور وہ ہستی اللہ کی ہے ۔

عبادت کا یہ مطلب اپنے ذہن میں رکھئے اور پھر ذرا میرے سوالات کا جواب دیتے جائیے ۔

آپ اس نوکر کے متعلق کیا کہیں گے جو آقا کی مقرر کی ہوئی ڈیوٹی پر جانے کے بجائے ہر وقت بس اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رہے اور لاکھوں مرتبہ اسکا نام جپتا چلا جائے؟ آقا اس سے کہتا ہے کہ جا کر فلاں فلاں آدمیوں کے حق ادا کر۔ مگر یہ جاتا نہیں بلکہ وہیں کھڑے آقا کو جھک جھک کر دس سلام کرتا ہے اور پھر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ آقا اسے حکم دیتا ہے کہ جا اور فلاں فلاں خرابیوں کو مٹا دے۔ مگر یہ ایک انچ وہاں سے نہیں ہٹتا اور سجدے پر سجدے کئے چلا جاتا ہے۔ آقا حکم دیتا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دے۔ یہ حکم سُن کر بس وہیں کھڑے کھڑے نہایت خوش الحانی کے ساتھ ”چور کا ہاتھ کاٹ دے“، ”چور کا ہاتھ کاٹ دے“، بیسیوں مرتبہ پڑھتا رہتا ہے مگر ایک دفعہ بھی اس نظام حکومت کے قیام کی کوشش نہیں کرتا۔ جس میں شرعی حدود جاری ہوں۔ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص حقیقت میں آقا کی بندگی کر رہا ہے؟ اگر آپکا کوئی ملازم یہ رویہ اختیار کرے۔ تو میں جانتا ہوں کہ آپ اُسے کیا کہیں گے۔ مگر حیرت ہے آپ پر کہ خدا کا جو نوکر ایسا کرتا ہے۔ آپ اُسے بڑا عبادت گزار کہتے ہیں۔ یہ ظالم صبح سے شام تک خدا جانے کتنی مرتبہ قرآن شریف میں خدا کے احکام پڑھتا ہے۔ مگر ان احکام کو بجالانے کے لئے اپنی جگہ سے جنبش نہیں کرتا۔ بلکہ نفل پر نفل پڑھے جاتا ہے۔ ہزار دانہ تسبیح پر خدا کا نام جپتا ہے اور خوش الحانی کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ آپ اس کی یہ حرکتیں دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیسا عابد زاہد بندہ ہے! یہ غلط فہمی صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ عبادت کا صحیح مطلب نہیں جانتے۔

ایک اور نوکر ہے جو رات دن ڈیوٹی تو غیروں کی انجام دیتا ہے۔ احکام غیروں کے سنتا اور مانتا ہے۔ قانون پر غیروں کے عمل کرتا ہے اور اپنے اصلی آقا کے فرمان کی ہر وقت خلاف ورزی کیا کرتا ہے۔ مگر سلامی کے وقت آقا کے سامنے جا حاضر ہوتا ہے اور زبان سے آقا ہی کا نام جپتا رہتا ہے۔ اگر آپ میں سے کسی شخص کا نوکر یہ طریقہ اختیار کرے تو آپ کیا کریں گے؟ کیا آپ اس کی سلامی کو اس کے منہ پر نہ مار دیں گے؟ جب وہ زبان سے آپکو آقا اور مالک کہے گا تو کیا آپ فوراً یہ جواب نہ دیں گے کہ تو پرلے درجہ کا جھوٹا اور بے ایمان ہے تنخواہ مجھ سے لیتا ہے اور نوکری دوسروں کی کرتا ہے۔ زبان سے مجھے آقا کہتا ہے اور حقیقت میں میرے سوا ہر ایک کی خدمت کرتا پھرتا ہے؟ یہ تو ایک معمولی عقل کی بات ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے مگر کس قدر حیرت کی بات ہے کہ جو لوگ دن رات خدا کے قانون کو توڑتے ہیں۔ کفار و مشرکین کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے معاملات میں خدا کے احکام کی کوئی پروا نہیں کرتے۔ ان کی نماز اور روزے اور تسبیح اور تلاوتِ قرآن اور حج اور زکوٰۃ کو آپ خدا کی عبادت سمجھتے ہیں۔ یہ غلط فہمی بھی اسی وجہ سے ہے کہ آپ عبادت کے اصل مطلب سے ناواقف ہیں:

ایک اور نوکر کی مثال لیجئے۔ آقا نے اپنے نوکروں کے لئے جو وردی مقرر کی ہے۔ یہ ٹھیک ناپ تول کے ساتھ اس وردی کو پہنتا ہے۔ بڑے ادب اور تعظیم کے ساتھ آقا کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے۔ ہر حکم کو سن کر اس طرح جھک کر ”بسر و چشم“ کہتا ہے کہ گویا اس سے بڑھ کر اطاعت گذار خادم کوئی نہیں۔ سلامی کے وقت سب سے آگے جا کھڑا ہوتا ہے اور آقا کا نام جپنے میں تمام نوکروں سے بازی لیجاتا ہے۔ مگر آقا کے دشمنوں اور باغیوں کی خدمت بجا لاتا ہے۔ آقا کے خلاف ان کی سازشوں میں حصہ لیتا ہے اور آقا کے نام کو دنیا سے مٹانے میں جو کوشش بھی وہ کرتے ہیں۔ اس میں یہ کم بخت انکا ساتھ دیتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں تو آقا کے گھر میں نقب لگاتا ہے اور صبح بڑے وفادار ملازموں کی طرح ہاتھ باندھ کر آقا کی خدمت میں حاضر ہو جاتا ہے۔ ایسے نوکر کے متعلق آپ کیا کہیں گے ؟ یہی نا کہ وہ منافق ہے۔ باغی ہے نمک حرام ہے۔ مگر خدا کے جو نوکر ایسے ہیں ۔ انکو آپ کیا کہا کرتے ہیں ؟ کسی کو پیر صاحب اور کسی کو حضرت مولانا اور کسی کو دیندار متقی عبادت گزار۔ یہ صرف اس لئے کہ آپ انکے منہ پر پورے ناپ کی داڑھیاں دیکھ کر۔ انکے ٹخنوں سے دو دو انچ اونچے پاجامے دیکھ کر، انکی پیشانیوں پر نماز کے گٹے دیکھ کر اور ان کی لمبی لمبی نمازیں اور موٹی موٹی تسبیحیں دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ بڑے دیندار اور عبادت گزار ہیں ۔ یہ غلط فہمی بھی اسی وجہ سے ہے کہ آپ نے عبادت اور دینداری کا مطلب ہی غلط سمجھا ہے ۔

آپ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ باندھ کر قبلہ رو کھڑے ہونا، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھکنا ، زمین پر ہاتھ ٹیک کر سجدہ کرنا اور چند مقرر الفاظ زبان سے ادا کرنا۔ بس یہی چند افعال اور حرکات بجائے خود عبادت ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ رمضان کی پہلی تاریخ سے شوال کا چاند نکلنے تک روزانہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہنے کا نام عبادت ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ قرآن کے چند رکوع زبان سے پڑھ دینے کا نام عبادت ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ مکہ معظمہ جاکر کعبے کے گرد طواف کرنے کا نام عبادت ہے۔ غرض آپ نے چند افعال کی ظاہری شکلوں کا نام عبادت رکھ چھوڑا ہے اور جب کوئی شخص ان شکلوں کے ساتھ ان افعال کو ادا کر دیتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ اس نے خدا کی عبادت کر دی اور <<وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ>> کا مقصد پورا ہو گیا۔ اب وہ اپنی زندگی میں آزاد ہے کہ جو چاہے کرے ۔

لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جس عبادت کے لئے آپ کو پیدا کیا ہے اور جس کا آپکو حکم دیا ہے۔ وہ کچھ اور ہی چیز ہے۔ وہ عبادت یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی میں ہر وقت ہر حال میں خدا کے قانون کی اطاعت کریں اور ہر اس قانون کو توڑیں جو قانون الہی کے خلاف ہو۔ آپ کی ہر جنبش اس حد کے اندر ہو جو خدا نے آپ کے لئے مقرر کی ہے۔ آپکا ہر فعل اس طریقے کے مطابق ہو جو خدا نے دیا ہے۔ اس طرز پر جو زندگی آپ بسر کریں گے وہ پوری کی پوری عبادت ہوگی ایسی زندگی میں آپ کا سونا بھی عبادت ہے اور جاگنا بھی۔ کھانا بھی عبادت ہے اور پینا بھی۔ چلنا پھرنا بھی عبادت ہے اور بات کرنا بھی۔ حتیٰ کہ اپنی بیوی کے پاس جانا اور اپنے بچے کو پیار کرنا بھی عبادت ہے۔ جن کاموں کو آپ بالکل دنیا داری کہتے ہیں وہ سب دینداری اور عبادت ہیں۔ اگر آپ انکو انجام دینے میں خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا لحاظ کریں اور زندگی میں ہر ہر قدم پر دیکھ کر چلیں کہ خدا کے نزدیک جائز کیا ہے اور ناجائز کیا ہے۔ حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے۔ کس چیز سے خدا خوش ہوتا ہے اور کس چیز سے ناراض ہوتا ہے۔ مثلاً آپ روزی کمانے کے لئے نکلتے ہیں۔ اس کام میں بہت سے مواقع ایسے بھی آتے ہیں جن میں حرام کا مال آسانی کے ساتھ آپ کو مل سکتا ہے۔ اگر آپ نے خدا سے ڈر کر وہ مال نہ لیا۔ اور صرف حلال کی روٹی کما کر لائے تو یہ جتنا وقت آپ نے روٹی کمانے میں صرف کیا۔ یہ سب عبادت تھی اور یہ روٹی لاکر جو آپ نے خود کھائی اور اپنی بیوی بچوں اور خدا کے مقرر کئے ہوئے دوسرے حقداروں کو کھلائی۔ اس پر آپ اجر و ثواب کے مستحق ہو گئے۔ آپ نے اگر راستہ چلتے میں کوئی پتھر یا کانٹا ہٹا دیا۔ اس خیال سے کہ خدا کے بندوں کو تکلیف نہ ہو تو یہ بھی عبادت ہے۔ آپ نے اگر کسی بیمار کی خدمت کی یا کسی اندھے کو راستہ چلایا یا کسی مصیبت زدہ کی مدد کی۔ تو یہ بھی عبادت ہے، آپ نے اگر بات چیت کرنے میں جھوٹ سے، غیبت سے، بدگوئی اور دل آزاری سے پرہیز کیا اور خدا سے ڈر کر صرف حق بات کی تو جتنا وقت آپ نے بات چیت میں صرف کیا وہ سب عبادت میں صرف ہوا ۔

پس خدا کی اصلی عبادت یہ ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد سے مرتے دم تک آپ خدا کے قانون پر چلیں اور اس کے احکام کے مطابق زندگی بسر کریں۔ اس عبادت کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ یہ عبادت ہر وقت ہونی چاہئے۔ اس عبادت کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ ہر کام اور شکل میں اسی کی عبادت ہونی چاہیئے۔ جب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں فلاں وقت خدا کا بندہ ہوں اور فلاں وقت اسکا بندہ نہیں ہوں تو آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ فلاں وقت خدا کی بندگی و عبادت کے لئے ہے اور فلاں وقت اس کی بندگی و عبادت کے لئے نہیں ہے ۔

آپکو عبادت کا مطلب معلوم ہو گیا کہ زندگی میں ہر وقت ہر حال میں خدا کی بندگی و اطاعت کرنے کا نام ہی عبادت ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ یہ نماز روزہ اور حج وغیرہ کیا چیزیں ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل یہ عبادتیں جو اللہ نے آپ پر فرض کی ہیں۔ ان کا مقصد آپ کو بڑی عبادت کے لئے تیار کرنا ہے جو آپ کو زندگی میں ہر وقت ہر حال میں ادا کرنی چاہیے۔ نماز آپ کو دن میں پانچ وقت یاد دلاتی ہے کہ تم اللہ کے بندے ہو۔ اسی کی بندگی تمہیں کرنی چاہیے۔ روزہ سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینہ تک آپ کو اسی بندگی کے لئے تیار کرتا ہے۔ زکوٰۃ آپ کو بار بار توجہ دلاتی ہے کہ یہ مال جو تم نے کمایا ہے۔ یہ خدا کا عطیہ ہے اس کو صرف اپنے نفس کی خواہشات پر صرف نہ کر دو۔ بلکہ اپنے مالک کا حق ادا کرو حج دل پر خدا کی محبت اور بزرگی کا ایک ایسا نقش بٹھاتا ہے کہ ایک مرتبہ اگر وہ بیٹھ جائے تو تمام عمر اس کا اثر دل سے دور نہیں ہو سکتا۔ ان سب عبادتوں کو ادا کرنے کے بعد اگر آپ اس قابل ہو گئے کہ آپ کی ساری زندگی خدا کی عبادت بن جائے تو بلاشبہ آپ کی نماز نماز ہے۔ روزہ روزہ ہے زکوٰۃ زکوٰۃ ہے اور حج حج ہے۔ لیکن اگر یہ مقصد پورا نہ ہوا تو محض رکوع اور سجدہ کرنے اور بھوک اور پیاس کے ساتھ دن گزارنے اور حج کی رسمیں ادا کر دینے اور زکوٰۃ کی رقم ادا کرنے سے کچھ حاصل نہیں۔ ان ظاہری طریقوں کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک جسم ہو۔ اگر اس میں جان ہے اور وہ چلتا پھرتا اور کام کرتا ہے تو بلاشبہ ایک زندہ انسان ہے۔ لیکن اگر اس میں جان ہی نہیں تو وہ ایک مردہ لاش ہے۔ مردے کے ہاتھ، پاؤں، آنکھ ناک سب ہی کچھ ہوتے ہیں مگر اس میں جان نہیں ہوتی۔ اس لئے تم اسے مٹی میں دبا دیتے ہو۔ اسی طرح اگر نماز کے ارکان پورے ادا ہوں یا روزے کی شرطیں پوری ادا کر دی جائیں۔ مگر وہ مقصد پورا نہ ہو جس کے لئے نماز اور روزہ فرض کیا گیا ہے تو وہ بھی ایک بے جان چیز ہو گی۔

آئندہ مضامین میں میں آپ کو بتاؤں گا کہ جو عبادتیں فرض کی گئی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کس طرح اس بڑی عبادت کے لئے انسان کو تیار کرتی ہے اور اگر ان عبادتوں کو آپ سمجھ کر ادا کریں اور انکا اصل مقصد پورا کرنے کی کوشش کریں تو اس سے آپ کی زندگی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔