مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

حقیقتِ صوم و صلوٰۃ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "حقیقت صوم و صلوٰۃ" ایک ایسی علمی اور روحانی تحریر ہے جو عبادت کے صحیح مفہوم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ آج کا مسلمان، خواہ وہ نماز پڑھتا ہو یا روزہ رکھتا ہو، اکثر عبادت کو محض رسمی حرکات تک محدود سمجھ بیٹھا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی زندگی میں نہ تو اخلاقی انقلاب آتا ہے، نہ سماجی تبدیلی، اور نہ ہی وہ اللہ کی حقیقی بندگی کا شعور حاصل کر پاتا ہے۔ مولانا کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ عبادت صرف الگ تھلگ روحانی مشغلوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک جامع نظامِ حیات ہے جس میں انسان کی پوری زندگی—سوئے، جاگے، کھائے، پیئے، معاملات کرے، رشتہ داروں سے پیش آئے—سب کچھ اللہ کے احکام کے تابع ہونا چاہیے۔

کتاب کا آغاز باب اول "عبادت کی حقیقت" سے ہوتا ہے، جہاں مولانا قرآنی آیت «مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ» کی روشنی میں عبادت کی تعریف پیش کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ عبادت کا لغوی مطلب بندگی اور غلامی ہے، جس کے تین بنیادی اجزاء ہیں: وفاداری (صرف اللہ کو مالک تسلیم کرنا)، اطاعت (ہر حال میں اس کے احکام کی فرمانبرداری)، اور ادب و تعظیم (اس کے مقررہ طریقوں سے سر جھکانا)۔ مولانا استدلال کرتے ہیں کہ جو شخص صرف رسمی حرکات کرے مگر اپنی زندگی کو اللہ کے قانون کے تابع نہ بنائے، وہ عبادت نہیں کر رہا، بلکہ نمک حرامی کر رہا ہے۔

باب دوم "نماز کی حقیقت اور عبادت کا جامع تصور" میں مولانا نماز کو عبادت کے وسیع تصور کے تناظر میں پیش کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: نماز، روزہ

نمازیں بے اثر کیوں ہوگئیں

اس مضمون میں مجھے آپ کو یہ بتانا ہے کہ جس نماز کے اس قدر فائدے میں نے پچھلے مضامین میں مسلسل بیان کئے ہیں۔ وہ اب کیوں وہ فائدے نہیں دے رہی ہے؟ کیا بات ہے کہ آپ نمازیں پڑھتے ہیں اور پھر بھی غلام ہیں؟ پھر بھی کفار آپ پر غالب ہیں؟ پھر بھی آپ دنیا میں تباہ حال اور نکبت زدہ ہیں؟

اس سوال کا مختصر جواب تو صرف یہ ہو سکتا ہے کہ آپ نمازیں پڑھتے ہی نہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو اس طریقہ سے نہیں پڑھتے جو خدا اور رسول نے بتایا ہے۔ اس لئے ان فائدوں کی توقع آپ نہیں کر سکتے جو مومنین کو معراج کمال تک پہنچانے والی نماز سے پہنچنے چاہئیں۔ .... لیکن میں جانتا ہوں کہ صرف اتنا سا جواب آپ کو مطمئن نہیں کرسکتا ۔ اس لئے ذرا تفصیل کے ساتھ آپ کو یہ بات سمجھاؤں گا ۔

یہ گھنٹا جو آپ کے سامنے لٹک رہا ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اس میں بہت سے پرزے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔ جب اس کو کوک دی جاتی ہے تو سب پرزے اپنا اپنا کام شروع کر دیتے ہیں اور ان کے حرکت کرنے کے ساتھ باہر کے سفید تختے

پر ان کی حرکت کا نتیجہ ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ یعنی گھنٹے کی دونوں سوئیاں چل کر ایک ایک سکنڈ اور ایک ایک منٹ بتانےلگتی ہیں ۔ اب آپ غور کی نگاہ سے دیکھئے ۔ گھنٹے کے بنانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ صحیح وقت بتائے ۔ اس مقصد کے لئے گھنٹے کی مشین میں وہ سب پرزے جمع کئے گئے جو صحیح وقت بنانے کے لئے ضروری تھے ۔ پھر ان سب کو اس طرح جوڑا گیا ۔ کہ سب مل کر باقاعدہ حرکت کریں اور ہر پرزہ وہی کام اور اتنا ہی کام کرتا چلا جائے ۔ جتنا صحیح وقت بتانے کے لئے اس کو کرنا چاہئیے ۔ پھر کوک دینے کا قاعدہ مقرر کیا گیا ۔ تاکہ ان پرزوں کو ٹھہرنے نہ دیا جائے اور تھوڑی تھوڑی مدت کے بعد ان کو حرکت دی جاتی رہے ۔ اس طرح جب تمام پرزوں کو ٹھیک ٹھیک جوڑا گیا اور ان کو کوک دی گئی۔ تب کہیں یہ گھنٹا اس قابل ہوا کہ وہ مقصد پورا کرے۔ جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے۔ اگر آپ اسے کوک نہ دیں تو یہ وقت نہیں بتائے گا۔ اگر آپ کوک دیں، لیکن اس قاعدے کے مطابق نہ دیں جو کوک دینے کے لئے مقرر کیا گیا ہے تو یہ بند ہو جائے گا یا چلے گا بھی تو صحیح وقت نہ بتائے گا۔ اگر آپ اس کے بعض پُرزے نکال ڈالیں اور پھر کوک دیں تو اس کوک سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اگر آپ اس کے بعض پُرزوں کو نکال کر اس کی جگہ سنگر مشین کے پُرزے لگا دیں اور پھر کوک دیں تو یہ نہ وقت بتائے گا اور نہ کپڑا ہی سئے گا۔ اگر آپ اس کے سارے پُرزے اس کے اندر بدستور رہنے دیں۔ لیکن ان کو کھول کر ایک دوسرے سے الگ کر دیں تو کوک دینے سے کوئی پُرزہ بھی حرکت نہ کرے گا۔ کہنے کو سارے پُرزے اس کے اندر موجود ہوں گے۔ مگر محض پُرزوں کے موجود رہنے سے وہ مقصد حاصل نہ ہوگا۔ جس کے لئے گھنٹہ بنایا گیا ہے کیونکہ ان کی ترتیب اور انکا آپس کا تعلق آپ نے توڑ دیا ہے جس کی وجہ سے وہ مل کر حرکت نہیں کر سکتے۔ یہ سب صورتیں جو میں نے آپ سے بیان کی ہیں۔ ان میں اگرچہ گھنٹے کی ہستی اور اس میں کوک دینے کا فعل دونوں بے کار ہو جاتے ہیں لیکن دُور سے دیکھنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ گھنٹا نہیں ہے یا آپ کوک نہیں دے رہے ہیں۔ وہ تو یہی کہے گا کہ صورت بالکل گھنٹے جیسی ہے اور یہی امید کرے گا کہ گھنٹے کا جو فائدہ ہے۔ وہ اس سے حاصل ہونا چاہیئے۔ اسی طرح دُور سے جب وہ آپ کو کوک دیتے ہوئے دیکھے گا۔ تو یہی سمجھے گا کہ آپ واقعی گھنٹے کو کوک دے رہے ہیں اور یہی توقع کرے گا کہ گھنٹے کو کوک دینے کا جو نتیجہ ہے۔ وہ ظاہر ہونا چاہیئے لیکن یہ توقع پوری کیسے ہو سکتی ہے۔ جب کہ یہ گھنٹہ بس دُور سے دیکھنے ہی کا گھنٹہ ہے اور حقیقت میں اس کے اندر گھنٹہ پن باقی نہیں رہا ہے؟

یہ مثال جو میں نے بیان کی ہے۔ اس سے آپ سارا معاملہ سمجھ سکتے ہیں۔ اسلام کو اسی گھنٹہ پر قیاس کر لیجئے جس طرح گھنٹے کا مقصد صحیح وقت بتانا ہے۔ اسی طرح اسلام کا مقصد یہ ہے کہ زمین میں آپ خدا کے خلیفہ یعنی خدائی فوجدار بن کر رہیں۔ خود خدا کے حکم پر چلیں۔ سب پر خدا کا حکم چلائیں اور سب کو خدا کے قانون کا تابع بنا کر رکھیں۔ اس مقصد کو صاف طور پر قرآن میں بیان کر دیا گیا ہے کہ :-

<<كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ يَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ>>

''تم بہترین اُمت ہو۔ جسے نوعِ انسانی کے لئے نکالا گیا ہے۔ تمہارا کام یہ ہے کہ سب انسانوں کو نیکی کا حکم دو۔ اور بُرائی سے روکو اور اللہ پر ایمان رکھو اور لوگوں سے جنگ کرو۔ یہاں تک کہ غیر اللہ کی فرمانروائی کا فتنہ مٹ جائے اور اطاعت سب کی سب صرف اللہ

کے لئے ہو ''۔

اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے گھنٹے کے پرزوں کی طرح اسلام میں بھی تمام وہ پُرزے جمع کئے گئے ہیں جو اس غرض کے لئے ضروری اور مناسب تھے۔ دین کے عقائد۔ اخلاق کے اصول، معاملات کے قاعدے، خدا کے حقوق، بندوں کے حقوق،خود اپنے نفس کے حقوق، دنیا کی ہر اس چیز کے حقوق جس سےآپ کو واسطہ پیش آتا ہے۔ کمانے کے قاعدے اور خرچ کرنےکے طریقے، جنگ کے قانون اور صلح کے قاعدے، حکومت کرنے کے قوانین اور حکومتِ اسلامی کی اطاعت کرنے کے ڈھنگ، یہ سب اسلام کے پُرزے ہیں اور ان کو گھڑی کے پرزوں کی طرح ایک ایسی ترتیب سے ایک دوسرے کے ساتھ کسا گیا ہے کہ جوں ہی اس میں کوک دی جائے۔ ہر پُرزا دوسرے پرزوں کے ساتھ مل کر حرکت کرنے لگے اور ان سب کی حرکت سے اصل نتیجہ یعنی اسلام کا غلبہ اور دنیا پر خدائی قانون کا تسلّط اس طرح مسلسل ظاہر ہونا شروع ہو جائے۔ جس طرح اس گھنٹے کو آپ دیکھ رہے ہیں۔ کہ اس کے پُرزوں کی حرکت کے ساتھ ساتھ باہر کے سفید تختے پر نتیجہ برابر ظاہر ہوتا چلا جاتا ہے۔ گھڑی میں پُرزوں کو ایکدوسرےکے ساتھ باندھ رکھنے کے لئے چند کیلیں اور چند پنیاں لگائی گئی ہیں۔ اسی طرح اسلام کے پُرزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جڑا رکھنے کے لئے وہ چیز رکھی گئی ہے جس کو نظامِ جماعت کہا جاتاہے۔ یعنی مسلمانوں کا ایک سردار ایسا ہو جو دین کا صحیح علم اور تقویٰ کی صفت رکھتا ہو۔ قوم کے دماغ مل کر اس کی مدد کریں۔ قوم کے ہاتھ پاؤں اس کی اطاعت کریں۔ ان سب کی طاقت سے وہ اسلام کے قوانین نافذ کرے اور لوگوں کو ان قوانین کی خلاف ورزی سے روکے۔ اس طریقے سے جب سارے پرزے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں اور ان کی ترتیب ٹھیک ٹھیک قائم ہو جائے تو انکو حرکت دینے اور دیتے رہنے کے لئے کوک کی ضرورت ہوتی ہے اور وہی کوک یہ نماز ہے جو ہر روز پانچ وقت پڑھی جاتی ہے۔ پھر اس گھڑی کو صاف کرتے رہنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور وہ صفائی یہ روزے ہیں جو سال بھر میں تیس دن تک برابر رکھے جاتے ہیں اور اس گھڑی کو تیل دیتے رہنے کی بھی ضرورت ہے۔ سو زکوٰۃ وہ تیل ہے جو سال بھر میں ایک مرتبہ اس کے پرزوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ تیل کہیں باہر سے نہیں آتا۔ بلکہ اسی گھڑی کے بعض پرزے تیل بناتے ہیں اور بعض سوکھے ہوئے پرزوں کو روغن دار کر کے آسانی کے ساتھ چلنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ پھر اسے کبھی کبھی اوور ہال کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سو وہ اوور ہالنگ یہ حج ہے جو عمر میں ایک مرتبہ کرنا ضروری ہے اور اس سے زیادہ جتنا کیا جا سکے اِتنا ہی بہتر ہے ۔

اب آپ غور کیجئے کہ یہ کوک دینا اور صفائی کرنا اور تیل دینا اور اوور ہال کرنا اسی وقت تو مفید ہو سکتا ہے۔ جب اس فریم میں اس گھڑی کے سارے پرزے موجود ہوں۔ ایک دوسرے کے ساتھ اسی ترتیب سے جڑے ہوئے ہوں جس سے گھڑی ساز نے انہیں جوڑا تھا اور ایسے تیار رہیں کہ کوک دیتے ہی اپنی مقررہ حرکت کرنے لگیں اور حرکت کرتے ہی نتیجہ دکھانے لگیں لیکن یہاں معاملہ ہی کچھ دوسرا ہو گیا ہے ۔ اول تو وہ نظام جماعت ہی باقی نہیں رہا ۔ جس سے اس گھڑی کے پرزوں کو باندھا گیا تھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سارے پیچ ڈھیلے ہو گئے اور پرزہ پرزہ الگ ہو کر بکھر گیا ۔ اب جو جس کے جی میں آتا ہے کرتا ہے ۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ۔ ہر شخص مختار ہے ۔ اس کا دل چاہے تو اسلام کے قانون کی پیروی کرے ۔ اور نہ چاہے تو نہ کرے ۔ اس پر بھی آپ لوگوں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا تو آپ نے اس گھڑی کے بہت سے پرزے نکال ڈالے ۔ اور ان کی جگہ ہر شخص نے اپنی اپنی پسند کے مطابق جس دوسری مشین کا پرزہ چاہا ۔ لا کر اس میں فٹ کر دیا ۔ کوئی صاحب سنگر مشین کا پرزہ پسند کر کے لے آئے کسی صاحب کو آٹا پیسنے کی چکی کا کوئی پرزہ پسند آ گیا تو وہ اسے اٹھا لائے اور کسی صاحب نے موٹر لاری کی کوئی چیز پسند کی تو اسے لا کر گھڑی میں لگا دیا ۔ اب آپ مسلمان بھی ہیں اور بینک سے سودی کاروبار بھی چل رہا ہے ۔ انشورنس کمپنی میں بیمہ بھی کر رکھا ہے۔ انگریزی عدالتوں میں جھوٹے مقدمے بھی لڑ رہے ہیں۔ کفار کی وفادارانہ خدمت بھی ہو رہی ہے۔ بیٹیوں اور بہنوں اور بیویوں کو میم صاحب بھی بنایا جا رہا ہے۔ بچوں کو مادہ پرستانہ تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔ گاندھی صاحب کی پیروی بھی ہو رہی ہے اور لینن صاحب کے راگ بھی گائے جا رہے ہیں غرض کوئی غیر اسلامی چیز ایسی نہیں رہی۔ جسے ہمارے بھائی مسلمانوں نے لا لا کر اسلام کی اس گھڑی کے فریم میں ٹھونس نہ دیا ہو ۔

یہ سب حرکتیں کرنے کے بعد اب آپ چاہتے ہیں کہ کوک دینے سے یہ گھڑی چلے اور وہی نتیجہ دکھائے۔ جس کے لیے اس گھڑی کو بنایا گیا تھا ۔ اور صفائی کرنے، تیل دینے اور اوورہال کرنے سے وہی فائدے ہوں جو ان کاموں کے لئے مقرر ہیں۔ مگر ذرا عقل سے آپ کام لیں تو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ جو حال آپ نے اس گھڑی کا کر دیا ہے۔ اس میں عمر بھر کوک دینے اور صفائی کرنے اور تیل دیتے رہنے سے بھی کچھ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ جب تک کہ آپ باہر سے آئے ہوئے تمام پرزوں کو نکال کر اس کے اصل پرزے اس میں نہ رکھیں گے اور پھر ان پرزوں کو اسی ترتیب کے ساتھ جوڑ کر کس نہ دیں گے جس طرح ابتدا میں انہیں جوڑا اور کسا گیا تھا۔ آپ ہرگز ان نتائج کی توقع نہیں کر سکتے جو اس سے کبھی ظاہر ہوئے تھے ۔

خوب سمجھ لیجئے کہ یہ اصلی وجہ ہے آپ کی نمازوں اور روزوں اور زکوٰۃ اور حج کے بے نتیجہ ہو جانے کی۔ اول تو آپ میں سے نمازیں پڑھنے والے اور روزے رکھنے والے اور زکوٰۃ و حج ادا کرنے والے ہیں ہی کتنے۔ نظامِ جماعت کے بکھر جانے سے ہر شخص مختارِ مطلق ہو گیا ہے چاہے ان فرائض کو ادا کرے چاہے نہ کرے۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ پھر جو لوگ انہیں ادا کرتے ہیں وہ بھی کس طرح کرتے ہیں ؟ نماز میں جماعت کی پابندی نہیں اور اگر کہیں جماعت کی پابندی ہے بھی تو مسجدوں کی امامت کے لئے ان لوگوں کو چنا جاتا ہے۔ جو دنیا میں کسی اور کام کے قابل نہیں ہوتے۔ مسجد کی روٹیاں کھانے والے۔ فرضِ دینی کو کمائی کا ذریعہ سمجھنے والے، جاہل، کم حوصلہ اور پستِ اخلاق لوگوں کو آپ نے اس نماز کا امام بنایا ہے جو آپ کو خدا کا خلیفہ اور دنیا میں خدائی فوجدار بنانے کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ اسی طرح روزے اور زکوٰۃ اور حج کا جو حال ہے وہ بھی ناقابلِ بیان ہے ۔ ان سب باتوں کے باوجود آپ کہہ سکتے ہیں کہ اب بھی بہت سے مسلمان اپنے فرائض دینی بجالانے والے ضرور ہیں ۔ لیکن جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں ۔ گھڑی کا پرزہ پرزہ الگ کر کے اور اس میں باہر کی بیسیوں چیزیں داخل کر کے آپ کا کوک دینا اور نہ دینا، صفائی کرنا اور نہ کرنا ۔ تیل دینا اور نہ دینا دونوں بے نتیجہ ہیں۔ آپ کی یہ گھڑی دُور سے گھڑی ہی نظر آتی ہے۔ دیکھنے والا یہی کہتا ہے کہ یہ اسلام ہے اور آپ مسلمان ہیں۔ آپ جب اس گھڑی کو کوک دیتے اور صفائی کرتے ہیں تو دُور سے دیکھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ واقعی آپ کوک دے رہے ہیں اور صفائی کر رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ نماز نماز نہیں ہے یا یہ روزے ، روزے نہیں ہیں۔ مگر دیکھنے والوں کو کیا خبر کہ اس ظاہری فریم کے اندر کیا کچھ کارستانیاں کی گئی ہیں ۔

میں نے آپ کو اصلی وجہ بتا دی ہے ۔ کہ آپ کے یہ مذہبی اعمال آج کیوں بے نتیجہ ہو رہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ نمازیں پڑھنے اور روزے رکھنے کے باوجود آپ خدائی فوجدار بننے کی بجائے کفار کے قیدی اور ہر ظالم کے تختہ مشق بنے ہوئے ہیں لیکن اگر آپ بُرا نہ مانیں تو میں آپ کو اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات بتاؤں۔ آپ کو اپنی اس حالت کا رنج اور اپنی مصیبت کا احساس ضرور ہے مگر آپ کے اندر ہزار میں نوسو نناوے بلکہ اس سے بھی زیادہ لوگ ایسے ہیں جو اس حالت کو بدلنے کی صحیح صورت کے لئے راضی نہیں ہیں۔ وہ اسلام کے اس گھنٹے کو جس کا پرزا پُرزا اندر سے الگ کر دیا گیا ہے اور جس میں اپنی اپنی پسند کے مطابق ہر شخص نے کوئی نہ کوئی چیز ملا رکھی ہے از سرِ نو مرتب کرنا برداشت نہیں کر سکتے۔ کیونکہ جب اس میں سے بیرونی چیزیں نکالی جائیں گی۔ تو ان کی پسند کی بھی کچھ چیزیں نکل کر رہیں گی اور جب اس کو کسا جائے گا۔ تو وہ خود بھی اس کے ساتھ کسے جائیں گے اور یہی ایسی مشقت ہے۔ جسے برضا و رغبت گوارا کرنا بڑا ہی مشکل ہے۔ اس لئے وہ بس یہ چاہتے ہیں کہ یہ گھنٹا اسی حال میں دیوار کی زینت بنا رہے اور دور دور سے لا لا کر لوگوں کو اس کی زیارت کرائی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ اس گھنٹے میں ایسی اور ایسی کرامات چھپی ہوئی ہیں۔ ان سے بڑھ کر جو لوگ کچھ زیادہ اس گھنٹے کے ہوا خواہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسی حالت میں اس کو خوب دل لگا لگا کر کوک دی جائے

اور نہایت تن دہی کے ساتھ اس کی صفائی کی جائے ۔ مگر حاشا کہ اس کے پُرزوں کو مرتب کرنے اور کسنے اور بیرونی پُرزے نکال پھینکنے کا ارادہ نہ کیا جائے ۔

کاش میں آپ کی ہاں میں ہاں ملا سکتا ۔ مگر میں کیا کروں کہ جو کچھ میں جانتا ہوں ۔ اس کے برخلاف نہیں کہہ سکتا ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جس حالت میں آپ اس وقت ہیں اس میں پانچ وقت کی نمازوں کے ساتھ تہجد اور اشراق اور چاشت بھی آپ پڑھنے لگیں اور پانچ پانچ گھنٹے روزانہ قرآن بھی پڑھیں اور رمضان شریف کے علاوہ گیارہ مہینوں میں ساڑھے پانچ مہینوں کے مزید روزے بھی رکھ لیا کریں تب بھی کچھ حاصل نہ ہو گا ۔ گھڑی کے اندر اس کے اصل پرزے رکھے ہوں اور انہیں کس دیا جائے ۔ تب تو ذرا سی کوک بھی اس چیز کو چلا دے گی ۔ تھوڑا سا صاف کرنا اور ذرا سا تیل دینا بھی نتیجہ خیز ہو گا ۔ ورنہ عمر بھر کوک دیتے رہئے ۔ گھڑی نہ چلنی ہے نہ چلے گی ۔

<<وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ>>