مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

حقیقتِ صوم و صلوٰۃ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "حقیقت صوم و صلوٰۃ" ایک ایسی علمی اور روحانی تحریر ہے جو عبادت کے صحیح مفہوم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ آج کا مسلمان، خواہ وہ نماز پڑھتا ہو یا روزہ رکھتا ہو، اکثر عبادت کو محض رسمی حرکات تک محدود سمجھ بیٹھا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی زندگی میں نہ تو اخلاقی انقلاب آتا ہے، نہ سماجی تبدیلی، اور نہ ہی وہ اللہ کی حقیقی بندگی کا شعور حاصل کر پاتا ہے۔ مولانا کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ عبادت صرف الگ تھلگ روحانی مشغلوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک جامع نظامِ حیات ہے جس میں انسان کی پوری زندگی—سوئے، جاگے، کھائے، پیئے، معاملات کرے، رشتہ داروں سے پیش آئے—سب کچھ اللہ کے احکام کے تابع ہونا چاہیے۔

کتاب کا آغاز باب اول "عبادت کی حقیقت" سے ہوتا ہے، جہاں مولانا قرآنی آیت «مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ» کی روشنی میں عبادت کی تعریف پیش کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ عبادت کا لغوی مطلب بندگی اور غلامی ہے، جس کے تین بنیادی اجزاء ہیں: وفاداری (صرف اللہ کو مالک تسلیم کرنا)، اطاعت (ہر حال میں اس کے احکام کی فرمانبرداری)، اور ادب و تعظیم (اس کے مقررہ طریقوں سے سر جھکانا)۔ مولانا استدلال کرتے ہیں کہ جو شخص صرف رسمی حرکات کرے مگر اپنی زندگی کو اللہ کے قانون کے تابع نہ بنائے، وہ عبادت نہیں کر رہا، بلکہ نمک حرامی کر رہا ہے۔

باب دوم "نماز کی حقیقت اور عبادت کا جامع تصور" میں مولانا نماز کو عبادت کے وسیع تصور کے تناظر میں پیش کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: نماز، روزہ

نماز

آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ عبادت دراصل بندگی کو کہتے ہیں اور جب آپ خدا کے بندے ہی پیدا ہوئے ہیں تو آپ کسی وقت کسی حال میں بھی اس کی بندگی سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ جس طرح آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اتنے گھنٹے یا منٹ کے لئے میں خدا کا بندہ ہوں اور باقی وقت میں اس کا بندہ نہیں ہوں۔ اسی طرح آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ میں اتنا وقت خدا کی عبادت میں صرف کروں گا اور باقی اوقات میں مجھے آزادی ہے کہ جو چاہوں کروں۔ آپ تو خدا کے پیدائشی غلام ہیں۔ اس نے آپ کو اپنی بندگی ہی کے لئے پیدا کیا ہے لہذا آپ کی ساری زندگی اس کی عبادت میں صرف ہونی چاہیئے اور کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کو اس کی عبادت سے غافل نہ ہونا چاہیئے۔

یہ بھی آپ کو بتایا جا چکا ہے کہ عبادت کے معنی دنیا کے کام کاج سے الگ ہو کر ایک کونے میں بیٹھ جانے اور اللہ اللہ کرنے کے نہیں ہیں۔ بلکہ دراصل عبادت کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آپ جو کچھ بھی کریں۔ خدا کے قانون کے مطابق کریں۔ آپ کا سونا اور جاگنا، آپ کا کھانا اور پینا۔ آپ کا چلنا اور پھرنا۔ غرض سب کچھ خدا کے قانون کی پابندی میں ہو۔ آپ جب اپنے گھر میں بیوی بچوں، بھائی بہنوں اور عزیز رشتہ داروں کے پاس ہوں تو اُن کے ساتھ اس طرح پیش آئیں۔ جس طرح خدا نے حکم دیا ہے۔ جب اپنے دوستوں میں ہنسیں اور بولیں۔ اس وقت بھی آپ کو خیال رہے کہ خدا کی بندگی سے آزاد نہیں ہیں۔ جب آپ روزی کمانے کے لئے نکلیں اور لوگوں سے لین دین کریں۔ اس وقت بھی ایک ایک بات اور ایک ایک کام میں خدا کے احکام کا خیال رکھیں اور کبھی اس حد سے نہ بڑھیں جو خدا نے مقرر کر دی ہے۔ جب آپ رات کے اندھیرے میں ہوں اور کوئی گناہ اس طرح کر سکتے ہوں کہ دنیا میں کوئی آپ کو دیکھنے والا نہ ہو۔ اس وقت بھی آپ کو یاد رہے کہ خدا آپ کو دیکھ رہا ہے اور دراصل ڈر اس کا ہونا چاہیئے نہ کہ دنیا کے لوگوں کا، آپ جب جنگل میں تنہا جا رہے ہوں اور وہاں کوئی جرم اس طرح کر سکتے ہوں کہ کسی پولیس مین اور کسی گواہ کا کھٹکا نہ ہو تو اس وقت بھی آپ خدا کو یاد کر کے ڈر جائیں اور جرم سے باز رہیں۔ جب آپ جھوٹ اور بے ایمانی اور ظلم سے بہت سا فائدہ حاصل کر سکتے ہوں اور کوئی آپ کو روکنے والا نہ ہو۔ اس وقت بھی آپ خدا سے ڈریں اور اس فائدے کو اس لئے چھوڑ دیں کہ خدا اس سے ناراض ہو گا اور جب سچائی اور ایمانداری میں سراسر آپ کو نقصان پہنچ رہا ہو۔ اس وقت بھی آپ نقصان اُٹھانا قبول کر لیں۔ صرف اس لئے کہ خدا اس سے خوش ہو گا۔ پس دنیا کو چھوڑ کر کونوں اور گوشوں میں جا بیٹھنا اور تسبیح ہلانا عبادت نہیں ہے بلکہ دنیا کے دھندوں میں پھنس کر خدا کے قانون کی پابندی کرنا عبادت ہے۔ ذکر الٰہی کا مطلب یہ نہیں کہ زبان پر اللہ اللہ جاری ہو۔ بلکہ اصلی ذکر الٰہی یہ ہے کہ دنیا کے جھگڑوں اور بکھیڑوں میں پھنس جاؤ۔ اور اس ہنگامے میں خدا کو یاد رکھو۔ جو چیزیں خدا سے غافل کرنے والی ہیں۔ ان میں پھنسو اور پھر خدا سے غافل نہ ہو۔ دنیا کی زندگی میں جہاں خدائی قانون کو توڑنے کے بے شمار مواقع بڑے بڑے فائدوں کا لالچ اور نقصان کا خوف لئے ہوئے آتے ہیں۔ وہاں خدا کو یاد کرو اور اس کے قانون کی پیروی پر قائم رہو۔ یہ ہے اصلی یادِ خدا۔ اس کا نام ہے ذکر الٰہی! اور اسی ذکر کی طرف قرآن مجید میں اشارہ کیا گیا ہے کہ <<فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ>> ”یعنی جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ۔ خدا کے فضل یعنی رزق حلال کی تلاش میں دوڑ دھوپ کرو اور اس دوڑ دھوپ میں خدا کو کثرت سے یاد کرو۔ تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو“۔

عبادت کا یہ مطلب ذہن میں رکھئے اور غور کیجئے کہ اتنی بڑی عبادت انجام دینے کے لئے کن چیزوں کی ضرورت ہے اور نماز کس طرح وہ سب چیزیں انسان میں پیدا کرتی ہے :-

سب سے پہلے تو اس بات کی ضرورت ہے کہ آپ کو یاد دلایا جاتا رہے کہ آپ خدا کے بندے ہیں اور اسی کی بندگی ہر وقت ہر کام میں کرنی ہے۔ یہ یاد دلانے کی ضرورت اس لئے ہے کہ ایک شیطان آدمی کے نفس میں بیٹھا ہوا ہے۔ جو ہر وقت کہتا رہتا ہے کہ تُو میرا بندہ ہے اور لاکھوں کروڑوں شیطان ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں سے ہر شیطان یہی کہہ رہا ہے کہ تو میرا بندہ ہے ۔ ان شیطانوں کا طلسم اس وقت تک نہیں ٹوٹ سکتا ۔ جب تک انسان کو دن میں کئی کئی بار یہ یاد نہ دلایا جائے کہ تُو کسی کا بندہ نہیں ۔ صرف خدا کا بندہ ہے ۔ یہی کام نماز کرتی ہے ۔ صبح اُٹھتے ہی سب کاموں سے پہلے وہ آپ کو یہی بات یاد دلاتی ہے ۔ پھر جب آپ دن کو اپنے کام کاج میں مشغول ہوتے ہیں ۔ اس وقت پھر تین مرتبہ اسی یاد کو تازہ کرتی ہے اور پھر جب آپ رات کو سونے کے لیئے جاتے ہیں تو آخری بار پھر اسی کا اعادہ کرتی ہے یہ نماز کا پہلا فائدہ ہے اور قرآن میں اسی بنا پر نماز کو ذکر سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ یعنی یہ خدا کی یاد ہے ۔

پھر چونکہ آپ کو اس زندگی میں ہر ہر قدم پر خدا کے احکام بجالانے ہیں ۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ میں فرض شناسی کا مادہ پیدا ہو ۔ اور اس کے ساتھ فرض کو مستعدی سے انجام دینے کی عادت بھی ہو ۔ جو شخص یہ جانتا ہی نہ ہو کہ فرض کے معنی کیا ہیں ۔ وہ تو کبھی احکام کی اطاعت کر ہی نہیں سکتا۔ اور جو شخص فرض کے معنی تو جانتا ہو۔ مگر اس کی تربیت اتنی خراب ہو کہ فرض کو فرض جاننے کے باوجود اسے ادا کرنے کی پروا نہ کرے۔ اس سے کبھی یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں جو ہزاروں احکام اُسے دیئے جائیں گے۔ اُن کو وہ مستعدی کے ساتھ انجام دیگا۔

جن لوگوں کو فوج یا پولیس میں ملازمت کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان دونوں ملازمتوں میں ڈیوٹی کو سمجھنے اور اسے ادا کرنے کی مشق کس طرح کرائی جاتی ہے۔ رات دن میں کئی کئی بار بگل بجایا جاتا ہے۔ سپاہیوں کو ایک جگہ حاضر ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ان سے قواعد کرائی جاتی ہے۔ یہ سب اسی لئے ہے کہ ان کو حکم بجالانے کی عادت ہو۔ اور ان میں سے جو لوگ ایسے سست اور نالائق ہوں کہ بگل کی آواز سن کر بھی گھر بیٹھے رہیں یا قواعد میں حکم کے مطابق حرکت نہ کریں۔ انہیں پہلے ہی ناکارہ سمجھ کر ملازمت سے الگ کر دیا جائے۔ بس اسی طرح نماز بھی دن میں پانچ وقت بگل بجاتی ہے تاکہ اللہ کے سپاہی اس کو سن کر ہر طرف سے دوڑ چلے آئیں اور ثابت کریں کہ وہ اللہ کے احکام کو ماننے کیلئے مستعد ہیں۔ جو مسلمان اس بگل کو سُن کر بھی بیٹھا رہتا ہے اور اپنی جگہ سے نہیں ہلتا۔ وہ دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ یا تو فرض کو پہچانتا ہی نہیں یا اگر پہچانتا ہے تو اتنا نالائق اور ناکارہ ہے کہ خدا کی فوج میں رہنے کے قابل نہیں ؂

اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ اذان کی آواز سن کر اپنے گھروں سے نہیں نکلتے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ جا کر اُن کے گھروں میں آگ لگا دوں۔ اور یہی وجہ ہے کہ حدیث میں نماز نہ پڑھنے کو کفر اور اسلام کے درمیان وجہِ تمیز قرار دیا گیا ہے۔ عہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ میں کوئی ایسا شخص مسلمان ہی نہ سمجھا جاتا تھا جو نماز کے لئے جماعت میں حاضر نہ ہوتا ہو۔ حتیٰ کہ منافقین بھی۔ جنہیں اس امر کی ضرورت ہوتی تھی کہ ان کو مسلمان سمجھا جائے۔ اس امر پر مجبور ہوتے تھے کہ نمازِ باجماعت میں شریک ہوں۔ چنانچہ قرآن میں جس چیز پر منافقین کو ملامت کی گئی ہے۔ وہ یہ نہیں ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھتے۔ بلکہ یہ ہے کہ وہ بادلِ ناخواستہ نہایت بددلی کے ساتھ نماز کے لئے اُٹھتے ہیں۔ <<وَ اِذَا قَامُوۡۤا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوۡا کُسَالٰی>>

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں کسی ایسے شخص کے مسلمان سمجھے جانے کی گنجائش نہیں ہے جو نماز نہ پڑھتا ہو۔ اس لئے کہ اسلام محض ایک اعتقادی چیز نہیں۔ بلکہ ایک عملی چیز ہے اور عملی چیز بھی ایسی کہ زندگی میں ہر وقت ہر لمحہ ایک مسلمان کو اسلام پر عمل کرنے اور کفر و فسق سے لڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسی زبردست عملی زندگی کے لئے لازم ہے کہ مسلمان خدا کے احکام بجالانے کے لئے ہر وقت مستعد ہو۔ جو شخص اس قسم کی مستعدی نہیں رکھتا۔ وہ اسلام کے لئے قطعاً ناکارہ ہے۔ اسی لئے دن میں پانچ وقت نماز فرض کی گئی ہے تاکہ جو لوگ مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔ اُن کا بار بار امتحان لیا جاتا رہے کہ وہ فی الواقع مسلمان ہیں یا نہیں۔ اور فی الواقع اس عملی زندگی میں خدا کے احکام بجالانے کے لئے مستعد ہیں یا نہیں۔ اگر وہ خدائی پریڈ کا بگل سن کر جنبش نہیں کرتے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اسلام کی عملی زندگی کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کے بعد اُن کا خدا کو ماننا اور رسول کو ماننا محض بے معنی ہے۔ اسی بنا پر قرآن میں ارشاد ہے کہ <<إِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ>> یعنی جو لوگ خدا کی اطاعت اور بندگی کے لئے تیار نہیں ہیں۔ صرف انہی پر نماز گراں گزرتی ہے اور جس پر نماز گراں گزرے وہ خود اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ وہ خدا کی بندگی و اطاعت کے لئے تیار نہیں ہے ۔

تیسری چیز خدا کا خوف ہے جس کے ہر آن دل میں تازہ رہنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان اسلام کے مطابق عمل کر ہی نہیں سکتا۔ جب تک اُسے یقین نہ ہو کہ خدا ہر وقت ہر جگہ اُسے دیکھ رہا ہے۔ اس کی ہر ہر حرکت کا خدا کو علم ہے۔ خدا اندھیرے میں بھی اس کو دیکھتا ہے۔ خدا تنہائی میں بھی اس کے ساتھ ہے۔ تمام دنیا سے چھپ جانا ممکن ہے۔ مگر خدا سے چھپنا ممکن نہیں۔ تمام دنیا کی سزاؤں سے آدمی بچ سکتا ہے۔ مگر خدا کی سزا سے بچنا غیر ممکن ہے۔ یہی یقین آدمی کو خدا کے احکام کی خلاف ورزی سے روکتا ہے۔ اسی یقین کے زور سے وہ حلال اور حرام کی ان حدود کا لحاظ رکھنے پر مجبور ہوتا ہے جو اللہ نے زندگی کے معاملات میں قائم کی ہیں۔ اگر یہ یقین کمزور ہو جائے تو مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان کی زندگی بسر کر ہی نہیں سکتا۔ اسی لئے اللہ نے دن میں پانچ وقت نماز فرض کی ہے تاکہ وہ اس یقین کو دل میں بار بار مضبوط کرتی رہے۔ چنانچہ قرآن میں خود اللہ ہی نے نماز کی اس مصلحت کو بیان فرما دیا ہے کہ <<اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ>> یعنی "نماز وہ چیز ہے۔ جو انسان کو بدی اور بے حیائی سے روکتی ہے" اس کی وجہ آپ غور کر کے خود سمجھ سکتے ہیں مثلاً آپ نماز کے لئے پاک ہو کر اور وضو کر کے آتے ہیں۔ اگر آپ ناپاک ہوں اور غسل کئے بغیر آجائیں یا آپ کے کپڑے ناپاک ہوں اور انہی کو پہنے ہوئے آجائیں یا آپ کو وضو نہ ہو اور آپ کہہ دیں کہ میں وضو کر کے آیا ہوں تو دنیا میں کون آپ کو پکڑ سکتا ہے؟ لیکن آپ ایسا نہیں کرتے۔ کیوں؟ اسلئے کہ آپ کو یقین ہے کہ خدا سے یہ گناہ نہیں چھپ سکتا۔ اسی طرح نماز میں جو چیزیں آہستہ پڑھی جاتی ہیں اگر ان کو آپ نہ پڑھیں یا ان کے سوا کچھ اور پڑھیں تو کسی کو بھی اس کی خبر نہیں ہو سکتی۔ مگر آپ کبھی ایسا نہیں کرتے۔ یہ کس لئے؟ اسی لئے کہ آپ کو یقین ہے کہ خدا سب کچھ سن رہا ہے اور آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اسی طرح آپ جنگل میں بھی نماز پڑھتے ہیں۔ رات کے اندھیرے میں بھی نماز پڑھتے ہیں۔ اپنے گھر میں جب تنہا ہوتے ہیں اس وقت بھی نماز پڑھتے ہیں۔ حالانکہ کوئی آپ کو دیکھنے والا نہیں ہوتا اور کسی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی ہے۔ اسکی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ آپ چھپ کر بھی خدا کے حکم کی خلاف ورزی کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اور آپ کو یقین ہے کہ خدا سے کسی جرم کو چھپانا ممکن نہیں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ نماز کس طرح خدا کا خوف اور اسکے حاضر و ناظر اور علیم و خبیر ہونے کا یقین آدمی کے دل میں بٹھاتی اور تازہ کرتی رہتی ہے۔ رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں آپ ہر وقت خدا کی عبادت اور بندگی کیسے کر سکتے ہیں۔ جب تک کہ یہ خوف اور یہ یقین آپکے دل میں تازہ نہ ہوتا رہے۔ اگر اس چیز سے آپکا دل خالی ہو تو کیونکر ممکن ہے کہ رات دن جو ہزاروں معاملات دنیا میں پیش آتے ہیں۔ اُن میں آپ خدا سے ڈر کر نیکی پر قائم رہیں گے اور بدی سے بچیں گے ؟

چوتھی چیز جو عبادت الٰہی کے لئے نہایت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آپ خدا کے قانون سے واقف ہوں۔ اسلئے کہ اگر آپ کو قانون کا علم ہی نہ ہو تو آپ اسکی پابندی کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ کام بھی نماز انجام دیتی ہے۔ نماز میں قرآن جو پڑھا جاتا ہے یہ اسی لئے ہے کہ روزانہ آپ خدا کے احکام اور اس کے قانون سے واقف ہوتے رہیں۔ جمعہ کا خطبہ بھی اسی لئے ہے کہ آپ کو اسلام کی تعلیم سے واقفیت ہو ۔ نماز باجماعت اور جمعہ سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ عالم اور عامی بار بار ایک جگہ جمع ہوتے رہیں اور آپ لوگوں کو ہمیشہ خدا کے احکام سے واقف ہونے کا موقع ملتا رہے ۔ اب یہ آپ کی بدقسمتی ہے کہ آپ نماز میں جو کچھ پڑھتے ہیں ۔ اس سے واقف ہونے کی کوشش نہیں کرتے ۔ آپکو جمعہ کے خطبے بھی ایسے سنائے جاتے ہیں جن سے آپ کو اسلام کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ اور نماز کی جماعت میں آکر نہ آپ کے عالم اپنے جاہل بھائیوں کو کچھ سکھاتے ہیں اور نہ جاہل اپنے عالم بھائیوں سے کچھ پوچھتے ہیں ۔ نماز تو آپ کو ان سب فائدوں کا موقع دیتی ہے۔ آپ خود فائدہ نہ اُٹھائیں تو نماز کا کیا قصور ؟

پانچویں چیز یہ ہے کہ ہر مسلمان زندگی کے اس ہنگامہ میں اکیلا نہ ہو۔ سب مسلمان مل کر ایک مضبوط جماعت بنیں اور خدا کی عبادت ، یعنی خدا کے احکام کی پابندی کرنے اور اس کے قانون پر عمل کرنے اور اس کے قانون کو جاری کرنے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کریں۔ آپ جانتے ہیں کہ اس زندگی میں ایک طرف مسلمان یعنی خدا کے فرمانبردار بندے ہیں اور دوسری طرف کفار یعنی خدا کے باغی بندے ہیں۔ رات دن فرمانبرداری اور بغاوت کے درمیان کشمکش برپا ہے باغی خدا کے قانون کو توڑتے ہیں اور اس کے خلاف دنیا میں شیطانی قوانین کو جاری کرتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اگر ایک ایک مسلمان تنہا ہو تو کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس کی ہے کہ خدا کے فرمانبردار بندے مل کر اجتماعی طاقت سے بغاوت کا مقابلہ کریں اور خدا کے قانون کو نافذ کریں۔ یہ اجتماعی طاقت پیدا کرنے والی چیز، تمام چیزوں سے بڑھ کر نماز ہے۔ پانچ وقت کی جماعت، پھر جمعہ کا بڑا اجتماع، یہ سب مل کر مسلمانوں کو ایک مضبوط دیوار کی طرح بنا دیتے ہیں اور ان میں وہ یک جہتی اور عملی اتحاد پیدا کرتے ہیں۔ جو روزمرہ کی عملی زندگی میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کا مددگار بنانے کے لئے ضروری ہے ۔