حقیقتِ صوم و صلوٰۃ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "حقیقت صوم و صلوٰۃ" ایک ایسی علمی اور روحانی تحریر ہے جو عبادت کے صحیح مفہوم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ آج کا مسلمان، خواہ وہ نماز پڑھتا ہو یا روزہ رکھتا ہو، اکثر عبادت کو محض رسمی حرکات تک محدود سمجھ بیٹھا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی زندگی میں نہ تو اخلاقی انقلاب آتا ہے، نہ سماجی تبدیلی، اور نہ ہی وہ اللہ کی حقیقی بندگی کا شعور حاصل کر پاتا ہے۔ مولانا کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ عبادت صرف الگ تھلگ روحانی مشغلوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک جامع نظامِ حیات ہے جس میں انسان کی پوری زندگی—سوئے، جاگے، کھائے، پیئے، معاملات کرے، رشتہ داروں سے پیش آئے—سب کچھ اللہ کے احکام کے تابع ہونا چاہیے۔
کتاب کا آغاز باب اول "عبادت کی حقیقت" سے ہوتا ہے، جہاں مولانا قرآنی آیت «مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ» کی روشنی میں عبادت کی تعریف پیش کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ عبادت کا لغوی مطلب بندگی اور غلامی ہے، جس کے تین بنیادی اجزاء ہیں: وفاداری (صرف اللہ کو مالک تسلیم کرنا)، اطاعت (ہر حال میں اس کے احکام کی فرمانبرداری)، اور ادب و تعظیم (اس کے مقررہ طریقوں سے سر جھکانا)۔ مولانا استدلال کرتے ہیں کہ جو شخص صرف رسمی حرکات کرے مگر اپنی زندگی کو اللہ کے قانون کے تابع نہ بنائے، وہ عبادت نہیں کر رہا، بلکہ نمک حرامی کر رہا ہے۔
باب دوم "نماز کی حقیقت اور عبادت کا جامع تصور" میں مولانا نماز کو عبادت کے وسیع تصور کے تناظر میں پیش کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نماز باجماعت
اب میں نماز باجماعت کے فائدے بتانا چاہتا ہوں جن سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے کس طرح ایک چیز میں ہمارے لئے ساری نعمتیں جمع کر دی ہیں اول تو نماز خود ہی کیا کم تھی کہ اس کے ساتھ جماعت کا حکم دے کر اس کو دو آتشہ کر دیا گیا اور اس کے اندر وہ طاقت بھر دی گئی جو انسان کی کایا پلٹ دینے میں اپنا جواب نہیں رکھتی۔
پہلے کہہ چکا ہوں کہ زندگی میں ہر وقت اپنے آپ کو خُدا کا بندہ سمجھنا اور فرمانبردار غلام کی طرح مالک کی مرضی کا تابع بن کر رہنا اور مالک کا حکم بجا لانے کے لئے ہر وقت تیار رہنا اصلی عبادت ہے اور نماز اسی عبادت کے لئے انسان کو تیار کرتی ہے یہ بھی بتا چکا ہوں کہ اس عبادت میں انسان کے لئے جتنی صفات کی ضرورت ہے وہ سب نماز پیدا کرتی ہے۔ بندگی کا احساس خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب پر ایمان۔ آخرت کا یقین، خدا کا خوف، خدا کو عالم الغیب جاننا اور اس کو ہر وقت اپنے سے قریب سمجھنا۔ خدا کی فرمانبرداری کے لئے ہر حال میں مستعد رہنا۔ خدا کے احکام سے واقف ہونا یہ اور ایسی ہی تمام صفتیں نماز آدمی کے اندر پیدا کر دیتی ہے جو اس کو صحیح معنوں میں خدا کا بندہ بنانے کے لئے ضروری ہیں :-
مگر آپ ذرا غور سے دیکھیں تو آپکو معلوم ہو جائیگا کہ انسان اپنی جگہ خواہ کتنا ہی کامل ہو مگر وہ خدا کی بندگی کا پورا حق ادا نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ دوسرے بندے بھی اسکے مددگار نہ ہوں۔ خدا کے تمام احکام بجا نہیں لا سکتا۔ جب تک کہ وہ بہت سے لوگ جن کے ساتھ رات دن اسکا رہنا سہنا ہے۔ جن سے ہر وقت اسکو معاملہ پیش آتا ہے۔ اس کی فرمانبرداری میں اسکا ساتھ نہ دیں آدمی دنیا میں اکیلا تو پیدا نہیں ہوا ہے نہ اکیلا رہ کر کوئی کام کر سکتا ہے۔ اسکی ساری زندگی اپنے بھائی بندوں، دوستوں اور ہمسایوں، معاملہ داروں اور زندگی کے بیشمار ساتھیوں سے ہزاروں قسم کے تعلقات میں جکڑی ہوئی ہے۔ اللہ کے احکام بھی تنہا ایک آدمی کے لئے نہیں ہیں بلکہ انہی تعلقات کو درست کرنے کے لئے ہیں اب اگر یہ سب لوگ خدا کے احکام بجالانے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں، تب تو سب فرمانبردار بندے بن سکتے ہیں اور اگر سب نافرمانی پر تلے ہوئے ہوں یا اُن کے تعلقات اس قسم کے ہوں کہ وہ خدا کے احکام بجالانے میں ایک دوسرے کی مدد نہ کریں تو ایک اکیلے آدمی کے لئے ناممکن ہے کہ وہ زندگی میں خدا کے قانون پر ٹھیک ٹھیک عمل کر سکے ۔
اس کے ساتھ جب آپ قرآن کو غور سے پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خدا کا حکم صرف یہی نہیں ہے کہ آپ خود اللہ کے مطیع و فرمانبردار بندے بنیں بلکہ ساتھ ساتھ یہ حکم بھی ہے کہ دنیا کو خدا کا مطیع و فرمانبردار بنانے کی کوشش کریں ۔ دنیا میں خدا کے قانون کو پھیلائیں اور جاری کریں۔ شیطان کا قانون جہاں چل رہا ہو اس کو مٹا دیں اور اس کی جگہ اللہ وحدہ لا شریک کے قانون کی حکومت قائم کریں ۔ یہ زبردست خدمت جو اللہ تعالیٰ نے آپکے سپرد کی ہے اس کو اکیلا مسلمان انجام نہیں دے سکتا اور اگر کروڑوں مسلمان بھی ہوں مگر الگ الگ رہ کر کوشش کریں تب بھی وہ شیطان کی منظم طاقت کو نیچا نہیں دکھا سکتے اس کے لئے بھی ضرورت ہے کہ مسلمان ایک جتھا بنیں ۔ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔ ایک دوسرے کی پشت پناہ بن جائیں۔ اور سب مل کر ایک ہی مقصد کے لئے جدوجہد کریں ۔
پھر زیادہ گہری نظر سے آپ دیکھیں گے تو یہ بات آپ پر کھلے گی کہ اتنے بڑے مقصد کے لئے مسلمانوں کا مل جانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کی بھی ضرورت ہے کہ یہ ملنا بالکل صحیح طریق پر ہو یعنی مسلمانوں کی جماعت اس طرح بنے کہ ایکدوسرے کے ساتھ اُن کے تعلقات ٹھیک ٹھیک جیسے ہونے چاہئیں ویسے ہی ہوں۔ ان کے آپس کے تعلق میں کوئی خرابی نہ رہنے پائے۔ ان میں پوری یک جہتی ہو۔ وہ ایک سردار کی اطاعت کریں۔ اس کے حکم پر حرکت کرنے کی عادت ان میں پیدا ہو، اور وہ بھی سمجھ لیں کہ اپنے سردار کی فرمانبرداری انہیں کس طرح اور کہاں تک کرنی چاہیئے اور نافرمانی کے مواقع کون سے ہیں ۔
ان سب باتوں کو نظر میں رکھ کر دیکھئے کہ نماز باجماعت کس طرح یہ سارے کام کرتی ہے ۔
حکم ہے کہ اذان کی آواز سن کر اپنے اپنے کام چھوڑ دو اور مسجد کی طرف آجاؤ۔ یہ طلبی کی پکار سن کر ہر طرف سے مسلمانوں کا اُمڈنا اور ایک مرکز پر جمع ہو جانا ان کے اندر وہی کیفیت پیدا کرتا ہے جو فوج کی ہوتی ہے۔ فوجی سپاہی جہاں جہاں بھی ہوں، بگل کی آواز سنتے ہی سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارا کمانڈر بلا رہا ہے۔ اس طلبی پر سب کے دل میں ایک ہی کیفیت پیدا ہوتی ہے یعنی کمانڈر کے حکم کی پیروی کا خیال اور اس خیال کے مطابق سب ایک ہی کام کرتے ہیں یعنی اپنی اپنی جگہ سے اس آواز پر دوڑ پڑتے ہیں اور ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔ فوج میں یہ طریقہ کس لئے اختیار کیا گیا ہے؟ اسی لئے کہ اوّل تو ہر ہر سپاہی میں الگ الگ حکم ماننے اور اس پر مستعدی کے ساتھ عمل کرنے کی خصلت اور عادت پیدا ہو اور پھر ساتھ ہی ساتھ ایسے تمام فرمانبردار سپاہی مل کر ایک گروہ، ایک جتھا، ایک ٹیم بھی بن جائیں اور ان میں یہ عادت بھی پیدا ہو جائے کہ کمانڈر کے حکم پر ایک ہی وقت میں ایک جگہ پر سب جمع ہو جایا کریں۔ تاکہ جب کوئی حکم پیش آئے تو ساری فوج ایک آواز پر ایک مقصد کے لئے اکٹھی ہو کر کام کر سکے۔ ایسا نہ ہو کہ سارے سپاہی اپنی اپنی جگہ تو بڑے تیس مار خاں ہوں مگر کام کے موقع پر جمع ہو کر نہ لڑ سکیں۔ بلکہ ہر ایک اپنی مرضی کے مطابق جدھر چاہے چلا جائے۔ ایسی حالت اگر کسی فوج کی ہو تو اس کے ہزار بہادر سپاہیوں کو غنیم کے پچاس سپاہیوں کا ایک دستہ الگ الگ پکڑ کے ختم کر سکتا ہے پس اسی اصول پر مسلمانوں کے لئے بھی یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ جو مسلمان جہاں اذان کی آواز سنے۔ سب کام چھوڑ کر اپنے قریب کی مسجد کا رخ کرے تا کہ سب مسلمان مل کر اللہ کی فوج بن جائیں اس اجتماع کی مشق انکو روزانہ پانچ وقت کرائی جاتی ہے۔ کیونکہ دنیا کی ساری فوجوں سے بڑھ کر سخت ڈیوٹی اس خدائی فوج کی ہے ۔
دوسری فوجوں کے لئے تو مدتوں میں کبھی ایک مہم پیش آتی ہے۔ اور اس کی خاطر انکی یہ ساری فوجی مشقیں کرائی جاتی ہیں مگر اس خدائی فوج کو ہر وقت شیطانی طاقتوں کے ساتھ لڑنا ہے اور ہر وقت اپنے کمانڈر کے احکام کی تعمیل کرنی ہے۔ اس لئے اس کے ساتھ یہ بھی بہت بڑی رعایت ہے کہ اسے روزانہ صرف پانچ مرتبہ خدائی بگل کی آواز پر دوڑنے اور خدائی چھاؤنی یعنی مسجد میں جمع ہونے کا حکم دیا گیا ہے :-
یہ تو محض اذان کا فائدہ تھا۔ اب آپ مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور صرف اس جمع ہونے میں بے شمار فائدے ہیں۔ یہاں جو آپ جمع ہوئے تو آپ نے ایک دوسرے کو دیکھا، پہچانا۔ ایک دوسرے سے واقف ہونے یہ دیکھنا، پہچاننا۔ واقف ہونا کس حیثیت سے ہے؟ اس حیثیت سے کہ آپ سب ایک خدا کے بندے ہیں۔ ایک رسول کے پیرو ہیں۔ ایک کتاب کے ماننے والے ہیں۔ ایک ہی مقصد آپ سب کی زندگی کا ہے اسی ایک مقصد کو پورا کرنے کے لئے آپ یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اور اسی مقصد کو یہاں سے واپس جا کر بھی آپ کو پورا کرنا ہے۔ اس قسم کی آشنائی، اس قسم کی واقفیت آپ میں خود بخود یہ خیال پیدا کر دیتی ہے کہ آپ سب ایک قوم ہیں۔ ایک ہی فوج کے سپاہی ہیں۔ ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ دنیا میں آپکی اغراض۔ آپکے مقاصد، آپ کے نقصانات اور آپکے فوائد سب مشترک ہیں اور آپ کی زندگیاں ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں ۔
پھر آپ جو ایک دوسرے کو دیکھیں گے تو ظاہر ہے کہ آنکھیں کھولکر ہی دیکھیں گے اور یہ دیکھنا بھی دشمن کا دشمن کو دیکھنا نہیں بلکہ دوست کا دوست کو اور بھائی کا بھائی کو دیکھنا ہوگا۔ اس نظر سے جب آپ دیکھیں گے کہ میرا کوئی بھائی پھٹے پرانے کپڑوں میں ہے۔ کوئی معذور، لنگڑا، لولا یا اندھا ہے تو خواہ مخواہ آپکے دل میں ہمدردی پیدا ہوگی۔ آپ میں سے جو خوشحال ہیں وہ غریبوں اور بیکسوں پر رحم کھائیں گے جو بدحال ہیں۔ انہیں امیروں تک پہنچنے اور ان سے اپنا حال کہنے کی ہمت پیدا ہوگی۔ کسی کے متعلق معلوم ہو گا کہ بیمار ہے یا کسی مصیبت میں پھنس گیا ہے۔ اس لئے مسجد میں نہیں آیا تو اس کی عیادت کو جانے کا خیال پیدا ہوگا۔ کسی کے مرنے کی خبر ملی تو سب مل کر اس کے لئے نماز جنازہ پڑھیں گے اور غمزدہ عزیزوں کے غم میں شریک ہوں گے۔ یہ سب باتیں آپ کی باہمی محبت کو بڑھانے والی اور ایک دوسرے کا مددگار بنانے والی ہیں :
اس کے بعد ذرا غور کیجئے۔ یہاں جو آپ جمع ہوئے ہیں تو ایک پاک جگہ پاک مقصد کے لئے جمع ہوئے ہیں یہ چوروں اور شرابیوں
اور جوئے بازوں کا اجتماع تو نہیں ہے کہ سب کے دل میں ناپاک ارادے بھرے ہوئے ہوں۔ یہ تو اللہ کے بندوں کا اجتماع ہے اللہ
کی عبادت کے لئے، اللہ کے گھر میں، سب اپنے خدا کے سامنے بندگی کا اقرار کرنے حاضر ہوئے ہیں۔ ایسے موقع پر اول تو ایماندار آدمی میں خود ہی اپنے گناہوں پر شرمندگی کا احساس ہوتا ہے لیکن اگر اس نے کوئی گناہ اپنے دوسرے بھائی کے سامنے کیا تھا اور وہ
بھی یہاں مسجد میں موجود ہے تو محض اس کی نگاہوں کا سامنا ہو جانا ہی اس کے لئے کافی ہے کہ گنہگار اپنے دل میں کٹ کٹ جائے
اور اگر کہیں مسلمانوں میں ایک دوسرے کو نصیحت کرنے کا جذبہ بھی موجود ہو اور وہ جانتے ہوں کہ ہمدردی و محبت کے ساتھ ایک دوسرے کی اصلاح کس طرح کرنی چاہئیے۔ تو یقین جانئے کہ یہ اجتماع انتہائی رحمت و برکت کا موجب ہو گا۔ اس طرح سب مسلمان مل کر ایک دوسرے کی خرابیوں کو دُور کریں گے۔ ایک دوسرے کی کمی پوری کریں گے اور پوری جماعت نیکوں اور صالحوں کی جماعت بنتی چلی جائے گی ۔
یہ صرف مسجد میں جمع ہونے کی برکتیں ہیں۔ اس کے بعد یہ دیکھئے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے میں کتنی برکات پوشیدہ ہیں۔ آپ سب ایک صف میں ایک دوسرے کے برابر کھڑے ہوتے ہیں۔ نہ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا۔ نہ کوئی اونچے درجے کا ہے نہ نیچے درجے کا۔ خدا کے دربار میں خدا کے سامنے سب ایک درجے میں ہیں کسی کا ہاتھ لگنے سے اور کسی کے چھو جانے سے کوئی ناپاک نہیں ہوتا سب پاک ہیں اس لئے کہ سب انسان ہیں۔ ایک خدا کے بندے ہیں اور ایک ہی دین کے ماننے والے ہیں۔ آپ میں خاندانوں اور قبیلوں اور ملکوں اور زبانوں کا بھی کوئی فرق نہیں۔ کوئی سید ہے۔ کوئی پٹھان ہے۔ کوئی راجپوت ہے کوئی جاٹ ہے کوئی کسی ملک کا رہنے والا ہے اور کوئی کسی ملک کا۔ کسی کی زبان کچھ ہے اور کسی کی زبان کچھ۔ مگر سب ایک صف میں کھڑے ایک خدا کی عبادت کر رہے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سب ایک قوم ہیں۔ یہ حسب نسب اور برادریوں اور قوموں کی تقسیم کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ سب سے بڑا تعلق آپ کے درمیان خدا کی بندگی و عبادت کا تعلق ہے۔ اس میں جب آپ سب ایک ہیں تو پھر کسی معاملہ میں بھی الگ کیوں ہوں ؟
پھر جب آپ ایک صف باندھے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک فوج اپنے بادشاہ کے سامنے خدمت کے لیئے کھڑی ہے۔ صف باندھ کر کھڑے ہونے اور مل کر ایک ساتھ حرکت کرنے سے آپ کے دلوں میں یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔ آپ کو یہ مشق کرائی جاتی ہے کہ خدا کی بندگی میں اس طرح ہو جاؤ کہ سب کے ہاتھ ایک ساتھ اُٹھیں اور سب کے پاؤں ا یک ساتھ چلیں۔ گویا آپ دس یا بیس یا سو یا ہزار آدمی نہیں ہیں۔ بلکہ مل کر ایک آدمی کی طرح بن گئے ہیں ۔
اس جماعت اور اس صف بندی کے بعد آپ کرتے کیا ہیں؟یک زبان ہو کر اپنے مالک سے عرض کرتے ہیں <<اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ>>
''ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں,ہم سب کو سیدھے رستے چلا,ہمارے پروردگار تیرے ہی لئے حمد ہے,ہم سب پر سلامتی ہو اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر''
پھر نماز ختم کر کے آپ سب ایک دوسرے کے لئے سلامتی اور رحمت کی دُعا کرتے ہیں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ اسکے معنی یہ ہوئے کہ آپ سب ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں سب ملکر ایک ہی مالک سے سب کیلئے بھلائی کی دُعا کرتے ہیں۔ آپ اکیلے اکیلے نہیں ہیں۔ آپ میں سے کوئی تنہا سب کچھ اپنے لئے نہیں مانگتا۔ بلکہ ہر ایک کی یہی دعا ہے کہ سب پر خدا کا فضل ہو۔ سب کو ایک رستے پر چلنے کی توفیق بخشی جائے اور سب خدا کی سلامتی میں شامل ہوں۔ اس طرح یہ نماز آپ کے دلوں کو جوڑتی ہے۔ آپ کے خیالات میں یکسانی پیدا کرتی ہے اور آپ میں خیر خواہی کا تعلق پیدا کرتی ہے۔
مگر دیکھ لیجئے کہ جماعت کی نماز آپ کبھی امام کے بغیر نہیں پڑھتے۔ دو آدمی بھی مل کر پڑھیں گے تو ایک امام ہو گا اور دوسرا مقتدی۔ جماعت جب کھڑی ہو جائے تو اس سے الگ ہو کر نماز پڑھنا سخت ممنوع ہے بلکہ ایسی نماز ہوتی ہی نہیں۔ حکم ہے کہ جو آتا جائے۔ اسی امام کے پیچھے نماز میں شریک ہوتا جائے۔ یہ سب چیزیں نماز ہی کے لئے نہیں ہیں۔ بلکہ ان میں دراصل آپ کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ مسلمان کی حیثیت سے زندگی بسر کرنی ہے تو اس طرح جماعت بن کر رہو۔ تمہاری جماعت،جماعت ہی نہیں ہو سکتی۔ جب تک کہ تمہارا کوئی امام نہ ہو۔ اور جماعت جب بن جائے تو اس سے الگ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری زندگی مسلمان کی زندگی نہیں رہی :
صرف اسی پر بس نہیں کیا گیا۔ بلکہ جماعت میں امام اور مقتدیوں کا تعلق اس طور پر قائم کیا گیا۔ جس سے آپ کو معلوم ہو جائے کہ اس چھوٹی مسجد کے باہر اس عظیم الشان مسجد میں جس کا نام ”زمین“ ہے۔ آپ کے امام کی کیا حیثیت ہے۔ اس کے فرائض کیا ہیں۔ اس کے حقوق کیا ہیں۔ آپ کو کس طرح اس کی اطاعت کرنی چاہیے۔ اگر وہ غلطی کرے تو آپ کیا کریں۔ کہاں تک آپ کو غلطی میں بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ کہاں آپ اس کو ٹوکنے کے مجاز ہیں۔ کہاں آپ اس سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ اپنی غلطی کی اصلاح کرے اور کس موقع پر آپ اس کو امامت سے ہٹا سکتے ہیں۔ یہ سب گویا ایک چھوٹے پیمانے پر ایک بڑی سلطنت کو چلانے کی مشق ہے۔ جو ہر روز پانچ مرتبہ آپ سے ہر چھوٹی سے چھوٹی مسجد میں کرائی جاتی ہے :
یہاں اتنا موقع نہیں کہ میں ان ساری تفصیلات کو بیان کروں۔ مگر چند موٹی موٹی باتیں بیان کرتا ہوں :
حکم ہے کہ امام ایسے شخص کو بنایا جائے جو پرہیزگار ہو، علم میں زیادہ ہو۔ قرآن زیادہ جانتا ہو اور سن رسیدہ بھی ہو۔ حدیث میں ترتیب بھی بتا دی گئی ہے کہ ان صفات میں کون سی صفت کس صفت پر مقدم ہے۔ یہیں سے یہ تعلیم بھی دی گئی کہ سردارِ قوم کے انتخاب میں کن باتوں کا لحاظ کرنا چاہیئے :
حکم ہے کہ امام ایسا شخص نہ ہو جس سے جماعت کی اکثریت ناراض ہو۔ یوں تو تھوڑے بہت مخالف کس کے نہیں ہوتے۔لیکن اگر جماعت میں زیادہ تر آدمی کسی شخص سے نفرت رکھتے ہوں تو اس کو امام نہ بنایا جائے۔ یہاں پھر سردارِ قوم کے انتخاب کا قاعدہ بتا دیا گیا ہے :
حکم ہے کہ جو شخص جماعت کا امام بنایا جائے ۔ وہ نماز ایسی پڑھائے کہ جماعت کے ضعیف ترین آدمی کو بھی تکلیف نہ ہو، محض جوان مضبوط۔ تندرست اور فرصت والے آدمی کو ہی پیشِ نظر رکھ کر لمبی لمبی قرأت اور لمبے لمبے رکوع اور سجدے نہ کرنے لگے۔ بلکہ یہ بھی دیکھے کہ جماعت میں بوڑھے بھی ہیں۔ بیمار بھی ہیں اور ایسے مشغول آدمی بھی ہیں۔ جو جلدی نماز پڑھ کر اپنے کام پر واپس جانا چاہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں یہاں تک رحم اور شفقت کا نمونہ پیش فرمایا ہے کہ نماز پڑھاتے میں کسی بچے کے رونے کی آواز آجاتی تو نماز مختصر کر دیتے تھے تاکہ اگر بچے کی ماں جماعت میں شریک ہے تو اسے تکلیف نہ ہو۔ یہ گویا سردارِ قوم کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ جب سردار بنایا جائےتو اس کا طرزِ عمل کیسا ہونا چاہیئے :
حکم ہے کہ امام پہ اگر نماز پڑھاتے میں کوئی حادثہ پیش آئے۔ جس کی وجہ سے وہ نماز پڑھانے کے قابل نہ رہے تو فوراً ہٹ جائے اور اپنی جگہ پیچھے کے آدمی کو کھڑا کر دے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سردارِ قوم کا بھی یہی فرض ہے۔ جب وہ سرداری کے قابل اپنے آپ کو نہ پائے تو اسے خود ہٹ جانا چاہیے اور دوسرے آدمی کے لئے جگہ خالی کر دینی چاہیئے۔ اس میں نہ شرم کا کچھ کام ہے اور نہ خود غرضی کا ۔
حکم ہے کہ امام کے فعل کی سختی کے ساتھ پابندی کرو۔ اس کی حرکت سے پہلے حرکت کرنا سخت ممنوع ہے۔ یہاں تک کہ جو شخص امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جائے۔ اس کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ وہ گدھے کی صورت میں اُٹھایا جائیگا۔ یہاں گویا قوم کو سبق دیا گیا ہے کہ اُسے اپنے سردار کی اطاعت کس طرح کرنی چاہیئے :
امام اگر نماز میں غلطی کرے۔ مثلاً جہاں اُسے بیٹھنا چاہیئے تھا۔ وہاں کھڑا ہو جائے یا جہاں کھڑا ہونا چاہئے تھا وہاں بیٹھ جائے تو حکم ہے کہ سبحان اللہ کہہ کر اُسے غلطی پر متنبہ کرو۔ سبحان اللہ کے معنی ہیں ”اللہ پاک ہے“ امام کی غلطی پر سبحان اللہ کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ غلطی سے تو صرف اللہ ہی پاک ہے۔ تم انسان ہو۔ تم سے بھول چوک ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ طریقہ ہے امام کو ٹوکنے کا۔ اور جب اس طرح سے ٹوکا جائے تو اس کو لازم ہے کہ بلا کسی شرم و لحاظ کے اپنی غلطی کی اصلاح کرے۔
البتہ اگر ٹوکے جانے کے باوجود امام کو یقین ہو کہ اس نے صحیح فعل کیا ہے تو وہ اپنے یقین کے مطابق عمل کر سکتا ہے اور اس صورت میں جماعت کا کام یہ ہے کہ اس کے عمل کو غلط جاننے کے باوجود اس کا ساتھ دیں۔ نماز ختم ہونے کے بعد وہ حق رکھتے ہیں کہ امام پر اس کی غلطی ثابت کریں اور نماز دوبارہ پڑھانے کا اُس سے مطالبہ کریں :
امام کے ساتھ جماعت کا یہ برتاؤ صرف ان حالات کے لئے ہے جبکہ غلطی چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہو۔ لیکن اگر امام سنت نبویؐ کے خلاف نماز کی ترکیب بدل دے۔ یا نماز میں قرآن کو جان بوجھ کر غلط پڑھے یا نماز پڑھاتے ہوئے کفر و شرک یا صریح گناہ کا ارتکاب کرے تو جماعت کا فرض ہے کہ اسی وقت نماز توڑ کر اس امام سے الگ ہو جائے۔
یہ سب ہدایتیں ایسی ہیں جن میں پوری تعلیم دی گئی ہے کہ تم کو اپنی قومی زندگی میں اپنے سردار کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیئے۔
یہ فوائد جو میں نے نماز باجماعت کے بیان کئے ہیں اُن سے آپ نے اندازہ کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اِس ایک عبادت میں جو دن بھر میں پانچ مرتبہ صرف چند منٹ کے لئے ادا کی جاتی ہے، کس طرح دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں آپ کے لئے جمع کر دی ہیں۔ کس طرح یہی ایک چیز آپ کو تمام سعادتوں سے مالا مال کر دیتی ہے اور کس طرح یہ آپ کو اللہ کی غلامی اور دنیا کی حکمرانی کے لئے تیار کرتی ہے۔ اب آپ ضرور سوال کریں گے کہ جب نماز ایسی چیز ہے تو جو فائدے تم بیان کرتے ہو یہ حاصل کیوں نہیں ہوتے؟ اس کا جواب بعد کے مضمون میں آپ کو ملے گا۔