مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

حقیقتِ صوم و صلوٰۃ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "حقیقت صوم و صلوٰۃ" ایک ایسی علمی اور روحانی تحریر ہے جو عبادت کے صحیح مفہوم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ آج کا مسلمان، خواہ وہ نماز پڑھتا ہو یا روزہ رکھتا ہو، اکثر عبادت کو محض رسمی حرکات تک محدود سمجھ بیٹھا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی زندگی میں نہ تو اخلاقی انقلاب آتا ہے، نہ سماجی تبدیلی، اور نہ ہی وہ اللہ کی حقیقی بندگی کا شعور حاصل کر پاتا ہے۔ مولانا کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ عبادت صرف الگ تھلگ روحانی مشغلوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک جامع نظامِ حیات ہے جس میں انسان کی پوری زندگی—سوئے، جاگے، کھائے، پیئے، معاملات کرے، رشتہ داروں سے پیش آئے—سب کچھ اللہ کے احکام کے تابع ہونا چاہیے۔

کتاب کا آغاز باب اول "عبادت کی حقیقت" سے ہوتا ہے، جہاں مولانا قرآنی آیت «مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ» کی روشنی میں عبادت کی تعریف پیش کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ عبادت کا لغوی مطلب بندگی اور غلامی ہے، جس کے تین بنیادی اجزاء ہیں: وفاداری (صرف اللہ کو مالک تسلیم کرنا)، اطاعت (ہر حال میں اس کے احکام کی فرمانبرداری)، اور ادب و تعظیم (اس کے مقررہ طریقوں سے سر جھکانا)۔ مولانا استدلال کرتے ہیں کہ جو شخص صرف رسمی حرکات کرے مگر اپنی زندگی کو اللہ کے قانون کے تابع نہ بنائے، وہ عبادت نہیں کر رہا، بلکہ نمک حرامی کر رہا ہے۔

باب دوم "نماز کی حقیقت اور عبادت کا جامع تصور" میں مولانا نماز کو عبادت کے وسیع تصور کے تناظر میں پیش کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: نماز، روزہ

نماز میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟

یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ نماز کس طرح انسان کو اللہ کی عبادت یعنی بندگی اور اطاعت کے لئے تیار کرتی ہے۔ اس سلسلہ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے آپ نے اندازہ کر لیا ہوگا کہ جو شخص نماز کو فرض اور حکمِ الٰہی جان کر باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ وہ اگر نماز کی دعاؤں کا مطلب نہ سمجھتا ہو تب بھی اس کے اندر کس طرح خدا کا خوف اور اس کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین اور اس کی عدالت میں ایک روز حاضر ہونے کا اعتقاد ہر وقت تازہ ہوتا رہتا ہے اور کس طرح اس کے دل میں یہ عقیدہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں اور خدا ہی اس کا اصلی بادشاہ اور حاکم ہے اور کس طرح اس کے اندر فرض شناسی کی عادت اور خدا کے احکام بجالانے کے لئے مستعدی پیدا ہوتی ہے اور کس طرح اس میں وہ صفات خود بخود پیدا ہونے لگتی ہے جو انسان کی ساری زندگی کو خدا کی بندگی و عبادت بنا دینے کے لئے ضروری ہیں۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انسان اسی نماز کو سمجھ کر ادا کرے اور نماز پڑھتے وقت یہ بھی جانتا رہے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو اس کے خیالات اور اس کی عادات اور خصائل پر کتنا زبردست اثر پڑیگا۔ اس کے ایمان کی قوت کس قدر بڑھتی چلی جائیگی۔ اور اس کی زندگی کا رنگ کیسا پلٹ جائے گا ۔

سب سے پہلے اذان کو لیجئے۔ دن میں پانچ وقت آپکو کیا کہہ کر پکارا جاتا ہے؟

<<اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَشْهَدُ اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ حَيَّ عَلَى الصَّلٰوةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ>>

”خدا سب سے بڑا ہے خدا سب سے بڑا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کوئی بندگی کا حقدار نہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں آؤ نماز کے لئے آؤ اس کام کے لئے جس میں فلاح اور بہبودی ہے اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں “

دیکھو یہ کیسی زبردست پکار ہے۔ ہر روز پانچ مرتبہ یہ آواز کس طرح تمہیں یاد دلاتی ہے کہ ” زمین میں جتنے بڑے بڑے خدائی کے دعویدار نظر آتے ہیں سب جھوٹے ہیں۔ زمین و آسمان میں ایک ہی ہستی ہے جس کے لئے بڑائی ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ آؤ اس کی عبادت کرو۔ اسی کی عبادت میں تمہارے لئے دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے“ کون ہے جو اس آواز کو سن کر ہل نہ جائیگا ؟ کیونکر ممکن ہے کہ جس کے دل میں ایمان ہو وہ اتنی بڑی گواہی اور ایسی زبردست پکار کو سن کر اپنی جگہ بیٹھا رہ جائے اور اپنے مالک کے آگے سر جھکانے کے لئے دوڑ نہ پڑے ؟

اس کے بعد تم نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہو۔ منہ قبلہ کے سامنے ہے۔ پاک وصاف ہو کر بادشاہِ عالم کے دربار میں حاضر ہو۔ سب سے پہلے تمہاری زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں :-

<<اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ>>

میں نے یکسو ہو کر اپنا رُخ اُس ذات کی طرف پھیر دیا ہے۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے اور میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہوں جو خدائی میں کسی اور کو شریک ٹھہراتے ہیں “

اس زبردست بات کا اقرار کر کے تم کانوں تک ہاتھ اُٹھاتے ہو ۔ گویا دنیا و مافیہا سے دست بردار ہو رہے ہو ۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیتے ہو ۔ گویا اب تم بالکل اپنے بادشاہ کے سامنے مودّب دست بستہ کھڑے ہو ۔ اس کے بعد تم کیا عرض معروض کرتے ہو؟

<<سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰی جَدُّكَ وَلَاۤ اِلٰهَ غَیْرُكَ >>

” پاک ہے تو اے میرے معبود! تعریف و ستائش ہے تیرے لئے۔ برکت والا ہے تیرا نام، سب سے بلند و بالا ہے تیری بزرگی اور کوئی معبود نہیں تیرے سوا “

<<اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ>>

”خدا کی پناہ مانگتا ہوں میں شیطان مردود کی (دراندازی اور شرارت سے)“ ” شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو رحمٰن اور رحیم ہے “

<< الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ آمِیْن ۠>>

”تعریف خدا کے لئے ہے جو سارے جہان والوں کا رب ہے نہایت رحمت والا بڑا مہربان ہے روزِ آخرت کا مالک ہے (جس میں اعمال کا فیصلہ کیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کے کئے کا پھل ملے گا) مالک ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ہم کو سیدھا راستہ دکھا ایسے لوگوں کا راستہ جن پر تو نے فضل کیا ہے اور انعام فرمایا ہے ان لوگوں کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب نازل ہُوا اور نہ ان کا جو راستہ بھٹکے ہوئے ہیں ۔ راہِ راست سے ہٹ گئے ہیں خدایا ایسا ہی ہو۔ مالک ہماری اس دعا کو قبول کر“

اس کے بعد تم قرآن کی چند آیتیں پڑھتے ہو ۔ جن میں سے ہر ایک میں امرت بھرا ہوا ہے ۔ نصیحت ہے ، عبرت ہے ، سبق ہے، اور اسی راہِ راست کی ہدایت ہے ۔ جس کے لئے سورۃ فاتحہ میں تم دعا کر چکے تھے۔ مثلاً:-

<<وَالْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ>>

”زمانہ گواہ ہے کہ انسان ٹوٹے میں ہے مگر ٹوٹے سے بچے ہوئے صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو حق پر چلنے کی ہدایت کی اور حق پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے رہے“

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تباہی اور نامرادی سے انسان اسی طرح بچ سکتا ہے کہ ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور صرف اتنا ہی کافی نہیں۔ بلکہ ایمانداروں کی ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو دینِ حق پر قائم رہنے اور قائم رہنے میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں :

یا مثلاً:-

<<اَرَاَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ۙ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ>>

”تو نے دیکھا کہ جو شخص روزِ جزا کو نہیں مانتا وہ کیسا آدمی ہوتا ہے ؟ ایسا ہی آدمی یتیم کو دھتکارتا ہے (اور مسکین کو کھانا کھلانا تو درکنار) دوسروں سے بھی کہنا پسند نہیں کرتا کہ غریب کو کھانا کھلا دو افسوس ہے ایسے نمازیوں پر جو (روز آخرت پر یقین نہیں رکھتے، اس لئے نماز سے غفلت کرتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو محض دکھاوے کے لئے اور (ان کے دل ایسے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ذرا ذرا سی چیزیں حاجتمندوں کو دیتے ہوئے بھی اُن کا دل دُکھتا ہے “

اس سے سبق ملتا ہے کہ آخرت کا یقین اسلام کی جان ہے اس کے بغیر آدمی کبھی اس راستہ پر چل نہیں سکتا جو خدا کا سیدھا راستہ ہے

یا مثلاً:-

<<وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ انِ الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ كَلَّا ۖ لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحُطَمَةُ نَارُ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ ۙ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ>>

” افسوس ہے اس شخص کے حال پر جو لوگوں کی عیب چینی کرتا اور لوگوں پر آوازے کستا ہے روپیہ جمع کرتا اور گن گن کر رکھتا ہے، اپنے دل میں سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ رہے گا ہرگز نہیں (وہ ایک دن ضرور مریگا اور حُطمہ میں ڈالا جائے گا اور تمہیں معلوم ہے کہ حُطمہ کیا چیز ہے اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ جس کی لپٹیں دلوں پر چھا جاتی ہیں وہ اونچے اونچے ستون جیسے شعلوں کی صورت میں ان کو گھیر لے گی“

غرض تم قرآن پاک کی جتنی سورتیں یا آیتیں نماز میں پڑھتے ہو۔ وہ کوئی نہ کوئی اعلیٰ درجہ کی ہدایت یا نصیحت تم کو دیتی ہیں اور تمہیں بتاتی ہیں کہ خدا کے احکام کیا ہیں جن کے مطابق تمہیں دنیا میں عمل کرنا چاہیے۔ ان ہدایتوں کو پڑھنے کے بعد تم اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع کرتے ہو۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے مالک کے آگے جھکتے ہو اور بار بار کہتے ہو سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ”پاک ہے میرا پروردگار جو بڑا بزرگ ہے“ پھر سیدھے کھڑے ہو جاتے ہو اور کہتے ہو سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، اللہ نے سن لی اس شخص کی بات جس نے اس کی تعریف بیان کی۔ پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدہ میں گر جاتے ہو اور بار بار کہتے ہو سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ، پاک ہے میرا پروردگار جو سب سے بالا و برتر ہے“ پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سر اُٹھاتے ہو اور نہایت ادب سے بیٹھ کر پڑھتے ہو :-

<<اَلتَّحِيَّاتُ لِلهِ وَالصَّلَوٰتُ وَ اَلطَّيِّبٰتُ اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصّٰلِحِينَ ط اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ >> ”ہماری سلامیاں ہماری نمازیں اور ساری پاکیزہ باتیں اللہ کے لئے ہیں سلام آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں“ ÷ ”سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے سب نیک بندوں پر“ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں“

یہ شہادت دیتے وقت تم شہادت کی انگلی اُٹھاتے ہو۔ کیونکہ یہ نماز میں تمہارے عقیدے کا اعلان ہے اور اس کو زبان سے ادا کرتے وقت خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد تم درود پڑھتے ہو :

<<اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَ مَوْلٰنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى اٰلِ اِبْرٰهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ ۰ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى سَيِّدِنَا وَمَوْلٰنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى اِبْرٰهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرٰهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ>>

”خدایا رحمت فرما ہمارے سردار اور مولیٰ محمدؐ اور انکی آل پر جس طرح تو نے رحمت فرمائی ابراہیمؑ اور آلِ ابراہیمؑ پر۔ اور خدایا برکت نازل فرما۔ ہمارے <<>>

سردار اور مولیٰ محمدؐ اور ان کی آل پر۔ جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیمؑ اور آلِ ابراہیمؑ پر۔ تو بڑا نیک صفات اور بزرگ ہے"

یہ درود پڑھنے کے بعد تم اللہ سے دعا کرتے ہو :-

<<اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ>>

"خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں گمراہ کرنے والے دجال کے فتنہ سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ زندگی اور موت کے فتنہ سے۔ خدایا میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ برے اعمال سے اور قرض داری سے "

یہ دعا پڑھنے کے بعد تمہاری نماز پوری ہوگئی۔ اب تم مالک کے دربار سے واپس ہوتے ہو اور واپس ہوکر پہلا کام کیا کرتے ہو؟ یہ کہ دائیں اور بائیں مڑ کر تمام حاضرین اور دنیا کی ہر چیز کے لئے سلامتی اور رحمت کی دعا کرتے ہو <<السَّلَامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ>> ’’تم سب پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو‘‘ یہ وہ بشارت ہے۔ جو خدا کے دربار سے پلٹتے ہوئے تمام دنیا کے لئے لائے ہو ۔

یہ ہے وہ نماز جو صبح اُٹھ کر دنیا کے کام کاج شروع کرنے سے پہلے پڑھتے ہو۔ پھر چند گھنٹے کام کاج میں مشغول رہنے کے بعد دوپہر کو خدا کے دربار میں حاضر ہو کر دوبارہ یہی نماز ادا کرتے ہو۔ پھر چند گھنٹوں کے بعد سہ پہر کو یہی نماز پڑھتے ہو۔ پھر چند گھنٹے اور مشغول رہنے کے بعد شام کو اسی نماز کا اعادہ کرتے ہو پھر دنیا کے کاموں سے فارغ ہو کر سونے سے پہلے آخری مرتبہ اپنے مالک کے سامنے جاتے ہو۔ اس آخری نماز کا خاتمہ وتر پر ہوتا ہے۔ جس کی تیسری رکعت میں تم ایک عظیم الشان اقرار نامہ اپنے مالک کے سامنے پیش کرتے ہو۔ یہ دعائے قنوت ہے۔ قنوت کے معنی ہیں خدا کے آگے ذلت۔ انکساری۔ اطاعت اور بندگی کا اقرار۔ یہ اقرار تم کن الفاظ میں کرتے ہو ۔ ذرا غور سے سنو :-

<<اللّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ وَنُثْنِيْ عَلَيْكَ الْخَيْرَ وَنَشْكُرُكَ وَلَا نَكْفُرُكَ وَ نَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَّفْجُرُكَ اَللّٰهُمَّ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّيْ وَنَسْجُدُ وَاِلَيْكَ نَسْعٰى وَ نَحْفِدُ نَرْجُوْ رَحْمَتَكَ وَنَخْشٰى عَذَابَكَ اِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ>>

” خدایا ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ تجھ سے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں۔ تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔ تیرے ہی اوپر بھروسہ رکھتے ہیں اور بھلائی کے ساتھ تیری تعریف کرتے ہیں ۔ ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں۔ ناشکری نہیں کرتے۔ ہم اقرار کرتے ہیں کہ جو لوگ تیرے نافرمان ہیں ان سے تعلق چھوڑ دیں گے اور کوئی واسطہ نہ رکھیں گے خدایا ہم تیری ہی بندگی کرتے اور تیرے ہی لئے نماز اور سجدہ کرتے ہیں۔ اور ہماری ساری کوششیں اور ساری دوڑ دھوپ تیری ہی خوشنودی کے لئے ہے اور ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں یقیناً تیرا عذاب ایسے لوگوں پر پڑیگا جو کافر ہیں“

عقل رکھنے والو! غور کرو ، جو شخص دن میں پانچ مرتبہ اذان کی آواز سنتا ہو اور سمجھتا ہو کہ کتنی بڑی چیز کی شہادت دی جا رہی ہے اور کیسے زبردست بادشاہ کے حضور میں بلایا جا رہا ہے اور جو شخص ہر مرتبہ اس پکار کو سُن کر اپنے سارے کام کاج چھوڑ دے اور اس ذاتِ پاک کی طرف دوڑے۔ جسے وہ اپنا اور تمام کائنات کا مالک جانتا ہے اور جو شخص کئی بار نماز میں وہ ساری باتیں سمجھ بوجھ کر ادا کرے جو ابھی آپ کے سامنے میں نے بیان کی ہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ اس کے دل میں خدا کا خوف پیدا نہ ہو؟ اس کو خدا کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شرم نہ آئے؟ اس کی روح گناہوں اور بدکاریوں کے سیاہ دھبے لے کر بار بار خدا کے سامنے حاضر ہوتے ہوئے لرز نہ اُٹھے؟ کس طرح ممکن ہے کہ آدمی نماز میں خُدا کی بندگی کا اقرار۔ اس کی اطاعت کا اقرار۔ اس کے مالک یوم الدین ہونے کا اقرار کر کے جب اپنے کام کاج کی طرف واپس آئے تو جھوٹ بولے۔ بے ایمانی کرے۔ لوگوں کے حق مارے۔ رشوت کھائے اور کھلائے۔ سود کھائے اور کھلائے۔ خدا کے بندوں کو آزار پہنچائے۔ فحش اور بے حیائی اور بدکاری کرے اور پھر ان سب اعمال کا بوجھ لاد کر دوبارہ خدا کے سامنے حاضر ہونے اور انہی سب باتوں کا اقرار کرنے کی جرأت کر سکے؟ ہاں یہ کیسے ممکن ہے کہ تم جان بوجھ کر روزانہ چھتیس مرتبہ اقرار کرو کہ ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور پھر خدا کے سوا دوسروں کی بندگی کرو اور دوسروں کے آگے مدد کے لیے ہاتھ پھیلاؤ؟ ایک بار اقرار کر کے تم خلاف ورزی کرو گے تو دوسری مرتبہ خدا کے دربار میں جاتے ہوئے تمہارا ضمیر ملامت کریگا اور شرمندگی پیدا ہوگی۔ دوسری بار خلاف ورزی کروگے تو اور زیادہ شرم آئیگی اور زیادہ دل اندر سے لعنت بھیجے گا۔ تمام عمر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ روزانہ پانچ پانچ مرتبہ نماز پڑھو اور پھر بھی تمہارے اعمال درست نہ ہوں۔ تمہارے اخلاق کی اصلاح نہ ہو اور تمہاری زندگی کا رنگ نہ پلٹے۔ اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے نماز کی یہ خاصیت بیان فرمائی ہے کہ <<اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ>> "یقیناً نماز انسان کو بے حیائی اور بدکاری سے روکتی ہے" لیکن اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ اتنی زبردست اصلاح کرنے والی چیز سے بھی اس کی اصلاح نہیں ہوتی تو یہ اس کی طینت کی خرابی ہے۔ نماز کی خرابی نہیں۔ پانی اور صابن کی خاصیت میل کو صاف کرنا ہے۔ لیکن اگر کوئلے کی سیاہی اس سے دُور نہ ہو تو یہ پانی اور صابن کا قصور نہیں اسکی وجہ کوئلے کی اپنی سیاہی ہے۔

عموماً مسلمانوں کی نمازوں میں ایک بہت بڑی کمی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ نماز میں جو کچھ پڑھتے ہیں اس کو سمجھتے نہیں۔ اگر لوگ تھوڑا سا وقت صرف کریں تو ان ساری دعاؤں کا مطلب اُردو یا اپنی مادری زبان میں یاد کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ جو کچھ وہ پڑھیں گے اُسے سمجھتے بھی جائیں گے