جنوبی ہند کی ہندو سلطنت، جو دکن کی مسلم سلطنتوں (بشمول بہمنی سلطنت) کے متوازی اور بسا اوقات ان کے ساتھ برسرِ پیکار رہی۔ فنِ تعمیر اور تجارت میں نمایاں، ہمپی کے کھنڈرات آج بھی اس دور کی شان کی گواہی دیتے ہیں۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
- سلطنتِ غوریہ 880ء–1215ء
- سلطنتِ غلاماں 1207ء–1290ء
- خاندانِ خلجی 1291ء–1320ء
- خاندانِ تغلق 1321ء–1414ء
- سلطنتِ وجے نگر
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
عروج کے اسباب
دہلی سلطنت کے دکن پر کمزور پڑتے کنٹرول کے دوران ہری ہر اور بُکا نامی دو بھائیوں نے 1336ء میں جنوبی ہند میں ایک نئی ہندو سلطنت کی بنیاد رکھی، جو دکن کی مسلم سلطنتوں کے ساتھ صدیوں تک برسرِ رقابت رہی۔
زوال کے اسباب
1565ء میں دکن کی متحدہ مسلم سلطنتوں کے ہاتھوں تالی کوٹہ کی جنگ میں فیصلہ کن شکست نے دارالحکومت ہمپی کی تباہی اور سلطنت کے بتدریج زوال کا آغاز کیا۔
حکمران (1)
کرشن دیو رایا
1509ء – 1529ءسلطنت کو اپنے عروج پر پہنچایا، فنون اور تعمیرات کی زبردست سرپرستی کی۔
ماخذ و وضاحت
دکن کی مسلم سلطنتوں (بشمول بہمنی سلطنت) کے ساتھ اسی خطے میں بیک وقت موجودگی دکھانے کے لیے شامل کیا گیا — یہ ایک غیر اسلامی سلطنت ہے۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔