دہلی سلطنت کے خلاف دکن کے امرا کی بغاوت کے نتیجے میں قائم ہونے والی جنوبی ہند کی آزاد سلطنت، جو دہلی سلطنت اور بعد میں مغلیہ سلطنت کے متوازی، دکن میں مسلم اقتدار کی نمائندہ رہی۔
تاریخی تسلسل
- ریاستِ مدینہ (دورِ نبویؐ) 622ء–632ء
- خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
- بنو امیہ 662ء–750ء
- بنو عباس 748ء–1258ء
- سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
- سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
- سلطنتِ غوریہ 880ء–1215ء
- سلطنتِ غلاماں 1207ء–1290ء
- خاندانِ خلجی 1291ء–1320ء
- خاندانِ تغلق 1321ء–1414ء
- سلطنتِ بہمنیہ
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
عروج کے اسباب
محمد بن تغلق کی سخت مرکزیت پسند پالیسیوں کے خلاف دکن کے امرا نے بغاوت کی اور 1347ء میں علاء الدین بہمن شاہ کو اپنا سلطان مقرر کیا، جس سے دہلی سے آزاد ایک نئی سلطنت وجود میں آئی۔
زوال کے اسباب
پندرہویں صدی کے آخر میں دربار کی داخلی رقابتوں اور صوبائی گورنروں کی خودمختاری کی خواہش نے سلطنت کو کمزور کیا، یہاں تک کہ سولہویں صدی کے اوائل میں یہ پانچ الگ الگ دکنی سلطنتوں میں بٹ گئی۔
حکمران (19)
علاء الدین بہمن شاہ
1347ء – 1358ءسلطنتِ بہمنیہ کی بنیاد رکھی۔
محمد شاہ اول
1358ء – 1375ءانتظامی نظام کو منظم کیا اور وجے نگر کے ساتھ جنگیں لڑیں۔
علاء الدین مجاہد شاہ
1375ء – 1378ءوجے نگر کے خلاف مہمات جاری رکھیں، بعد میں قتل ہوئے۔
داود شاہ اول
1378ءنہایت مختصر دور۔
محمد شاہ دوم
1378ء – 1397ءعلم و ادب کے سرپرست، طویل پرامن دور۔
غیاث الدین تہمتن شاہ
1397ءمختصر دور، بھائی کے ہاتھوں معزول ہوئے۔
شمس الدین داود شاہ دوم
1397ءنہایت مختصر دور۔
تاج الدین فیروز شاہ
1397ء – 1422ءعلم و فن کے سرپرست، دارالحکومت گلبرگہ میں تعمیرات کیں۔
احمد شاہ اول ولی
1422ء – 1436ءدارالحکومت بیدر منتقل کیا۔
علاء الدین احمد شاہ دوم
1436ء – 1458ءسلطنت کی حدود کو وسعت دی۔
علاء الدین ہمایوں شاہ
1458ء – 1461ءسخت گیر مگر مختصر دور۔
نظام الدین احمد شاہ سوم
1461ء – 1463ءنابالغ عمر میں تخت نشین ہوئے۔
شمس الدین محمد شاہ سوم
1463ء – 1482ءوزیرِ اعظم محمود گاوان کی مدد سے سلطنت کو وسعت دی۔
شہاب الدین محمود شاہ
1482ء – 1518ءان کے دور میں سلطنت پانچ آزاد دکنی سلطنتوں میں بٹنا شروع ہوئی۔
احمد شاہ چہارم
1518ءنہایت مختصر دور۔
علاء الدین شاہ
1518ء – 1521ءبرائے نام حکمران، حقیقی اقتدار دکنی صوبائی سلطانوں کے ہاتھ میں تھا۔
ولی اللہ شاہ
1521ء – 1522ءمختصر اور برائے نام دور۔
کلیم اللہ شاہ
1522ء – 1527ءآخری بہمنی سلطان — 1527ء میں سلطنت مکمل طور پر پانچ دکنی سلطنتوں میں تقسیم ہو گئی۔
وزیرِ اعظم کی حیثیت سے انتظامی اصلاحات کیں اور بیدر میں مشہور مدرسہ تعمیر کروایا۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔