تحریک پاکستان اور مولانا مودودی
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ کتاب کسی اور مصنف کی تالیف ہے جس میں تحریکِ پاکستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے کردار کا دفاع اور جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مؤلف کے بقول بعض حلقے مولانا کے کردار کو تحریکِ پاکستان کے تعلق سے غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں، حالانکہ ان کی خدمات تحریکِ آزادی کا بغور مطالعہ کرنے والے ہر شخص کے نزدیک مسلّم ہیں۔
کتاب میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کی ہندوستان میں سیاسی و تہذیبی جدوجہد کا پس منظر بیان کیا گیا ہے، اور مولانا مودودی کی طرف سے پیش کیے گئے تقسیمِ ہند کے تین متبادل خاکوں (بین الاقوامی وفاق، علاقائی تقسیم، اور مکمل علیحدہ وفاق) کی تفصیل نقل کی گئی ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے تجویز کیے تھے۔
دوسرا خاکہ
(اگر بین الاقوامی وفاق کی یہ صورت قبول نہ کی جائے تو دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ مختلف قوموں کے الگ الگ حدودارضی مقرر کر دئیے جائیں جہاں وہ اپنی جمہوری اسٹیٹ بناسکیں - پچیس سال یا اس سے کچھ کم وپیش مدت تبادلہ آبادی کے لیے مقرر کردی جائے - ہر اسٹیٹ کو زیادہ سے زیادہ اندرونی خود مختاری دی جائے اور وفاقی مرکز کے اختیارات کم از کم رکھے جائیں - اس صورت میں ہم غیرمتسلم ریاستوں کے ساتھ مل کر ایک وفاقی اسٹیٹ بنانے پر نہ صرف راضی ہوجائیں گے، بلکہ اس کو ترجیح دیں گے۔)
"میرے دوست ڈاکٹر عبداللطیف صاحب نے حال میں ہندوستان کے تہذیبی مستقبل (Cultural Future of India) پر جو مقالہ حیدر آباد سے شائع کیا ہے، وہ ہندوستان کی مختلف قوموں کے درمیان ارضی حدود کی تقسیم کا بہترین نقشہ پیش کرتا ہے۔ یہ ایک منصفانہ تقسیم ہے، جس کی رو سے مشرقی بنگال، حیدر آباد، بھوپال، جونا گڑھ، جاورہ، ٹونک، اجمیر، دتیہ اور شمالی و مغربی پنجاب، سندھ، سرحدی اور بلوچستان کے حلقے مسلمانوں کے لیے مخصوص ہو جاتے ہیں۔
اس طرح یہ ممکن ہے کہ پچیس سال کی مدت میں ہندوستان کے دوسرے خطوں سے ہجرت کرکے مسلمان ان حلقوں کے اندر سمٹ جائیں اور ہندو قریب کے علاقوں میں چلے جائیں۔ بقیہ ہندوستان میں اگر اچھوت اپنی الگ قومیت بنانا چاہیں تو ان کے لیے بلحاظِ ان کی آبادی کے مستقل رقبے مخصوص کیے جا سکتے ہیں (بشرطیکہ گاندھی جی خوبی کی دھمکی دے کر ان کی آزادیِ رائے کو پھر نہ سلب فرمائیں۔ اس طرح سکھوں کو بھی ان کی آبادی کے لحاظ سے ایک رقبہ دیا جا سکتا ہے۔)