مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک پاکستان اور مولانا مودودی

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ کتاب کسی اور مصنف کی تالیف ہے جس میں تحریکِ پاکستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے کردار کا دفاع اور جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مؤلف کے بقول بعض حلقے مولانا کے کردار کو تحریکِ پاکستان کے تعلق سے غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں، حالانکہ ان کی خدمات تحریکِ آزادی کا بغور مطالعہ کرنے والے ہر شخص کے نزدیک مسلّم ہیں۔

کتاب میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کی ہندوستان میں سیاسی و تہذیبی جدوجہد کا پس منظر بیان کیا گیا ہے، اور مولانا مودودی کی طرف سے پیش کیے گئے تقسیمِ ہند کے تین متبادل خاکوں (بین الاقوامی وفاق، علاقائی تقسیم، اور مکمل علیحدہ وفاق) کی تفصیل نقل کی گئی ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے تجویز کیے تھے۔

نظریۂ پاکستان

برعظیم پاک و ہند کی اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس وقت سے اسلام ہندوستان میں آیا ہے، اس نے کسی نہ کسی انداز میں اپنے منفرد سیاسی اور تہذیبی وجود کو منوانے کی کوشش کی ہے، حتیٰ کہ یہ کوشش پاکستان کی صورت میں ظاہر ہو گئی۔ اس ضمن میں تہذیبی عوامل اور مسائل سے ماورا لسانی مسئلہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لسانی مسئلے نے ہندوستان میں زمانۂ ماقبلِ اسلام بھی مختلف تہذیبوں اور طبقات میں تفریق اور انتشار پیدا کیا۔ برعظیم میں اسلام کے رد و قبول کی وجہ سے یہ مسئلہ عصبی کشودگی کی شکل اختیار کر کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں اپنی انفرادی قومیت اور اس کے استحکام کی کوشش کی صورت میں اثر انداز ہوا۔ قومیت کے علیحدہ تصور نے ہی برعظیم میں پاکستان کو معرضِ وجود میں لایا، اور یہ حقیقت مسلمہ ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران یہ عوامل روبہ عمل تھے:

۱- ہندو اور مسلمان ہر اعتبار سے دو قومیں ہیں۔

۲- چونکہ ان دونوں قوموں میں مذہبی اور تہذیبی اعتبار سے نمایاں فرق ہے اور ان کے نصب العین بھی جدا جدا ہیں، اس لیے ایک بڑی تعداد والی قوم کے ساتھ مسلمانوں کا مستقبل متحدہ ہندوستان میں محفوظ نہیں رہ سکتا، اور ماضی میں مسلمانوں کو بارہا اس کا احساس بھی ہو چکا تھا، اس لیے تحریکِ پاکستان کے ابتدائی مراحل میں یہ خیال تھا کہ مسلمان اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کو کلی اختیارات حاصل ہونے چاہییں، یا ہندوستان کی تقسیم ہونی چاہیے۔

۳- تقسیم کے بعد مسلمانوں کے حصے میں آنے والے علاقوں (پاکستان) میں اسلامی نظام قائم کیا جائے۔

تحریکِ پاکستان کی ساری جدوجہد مندرجہ بالا تینوں بنیادی نظریات پر استوار تھی، اور دراصل کسی شخصیت، جماعت یا تحریک کو جانچنے کا یہی پیمانہ ہو سکتا ہے کہ آیا وہ ان تینوں بنیادی عوامل پر ایمان رکھتی اور ان کی حمایت کرتی ہے یا نہیں۔ اس قسم کے نظریات کی حامل شخصیتوں میں سرسید سے لے کر تحریکِ پاکستان میں شریک ایک معمولی مسلمان تک بڑے بڑے نام تاریخ کا جزو ہیں، جنہوں نے اپنی بساط کے مطابق پاکستان یا آزاد اسلامی ریاست کے لیے تحریک بالعمل یا تحریک بالقلم میں حصہ لیا۔ اقوامِ عالم کی تاریخ ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ جس طرح تلوار نے تاریخ کا رخ تبدیل کیا ہے، اسی طرح قلم نے بھی ایک تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے۔ جہاد بالقلم کے اثرات افراد اور قوموں پر زیادہ دیرپا اور نمایاں ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ امر مسلم شدہ ہے کہ برعظیم کی دونوں بڑی قوموں میں روحانی اور مادی کوئی قدرِ مشترک نہیں ہے۔

لیکن تحریکِ آزادی کے ابتدائی دنوں میں یہ خیال عام نہیں تھا، اور اس کی وجہ انگریزوں اور ہندوؤں کی وہ مسلسل اور طویل کوششیں تھیں جن کے تحت مسلمانوں کی انفرادیت اور ان کے قومی وجود کو اپنی تہذیب اور اپنے قومی وجود میں ضم کر لینے کا منصوبہ تھا۔ اس امر کا ثبوت تاریخ میں بیشتر مقامات سے حاصل ہو سکتا ہے۔

اس سے پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جس زمانے میں مولانا مودودی مسلمانوں کی فکری اور ذہنی تبدیلی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، اس زمانے میں ہندو مت کی وطن پرستی کی تحریک اپنے فیصلہ کن مرحلے میں تھی۔ ۱۹۳۵ء کے ایکٹ کے مطابق ۱۹۳۷ء میں جب انتخابات ہوئے تو یہ بات قریب الیقین نظر آنے لگی تھی کہ یہ تحریک بالآخر پورے ملک پر مسلط ہو جائے گی۔ ہندی وطن پرستی کی تحریک نے بظاہر رابطۂ مسلم عوام (Muslim Mass Contact) اور باطن میں "شدھی" کی جو تحریک چلائی تھی، وہ برعظیم میں اسلام کے مستقبل کے لیے سخت خطرات کی حامل تھی۔ اس وقت کے منتشر اور غیر منظم مسلمان بڑی طرح انڈین نیشنل کانگریس کی کامیابی سے مرعوب تھے۔

برطانوی حکومت نے انیسویں صدی کے اواخر میں ہندوستان میں جمہوریت کی بنیاد قائم کرنے اور ملکی عوام کو حکومت کے اختیارات میں شامل کرنے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا تھا، اس کی پوری بنیاد جمہوریت کے ان اصولوں پر تھی جو برطانیہ میں رائج تھے۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ انگلستان کی طرح ہندوستان کے عوام بھی بلا امتیاز مذہب و ملت ایک قوم ہیں، اور یہاں بھی انگلستان کے طرز پر ایک جمہوری حکومت بن سکتی ہے، جس میں اکثریت کے منتخب کردہ نمائندے ملک کا انتظام اپنی مرضی کے مطابق چلائیں اور اقلیت کے نمائندے حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔

یہ نظریہ اس گروہ کے لیے انتہائی مفید تھا جو آبادی میں اکثریت رکھتا تھا، اس لیے اس نے نہ صرف اسے قبول کیا بلکہ اس کا زبردست حامی بھی بن گیا۔ چنانچہ انڈین نیشنل کانگریس کی پوری تحریک ابتدا ہی سے اس امر پر مرتکز تھی کہ ہندوستان میں ایک قومی، جمہوری اور لادینی (Secular) ریاست قائم ہو۔ اس نظریہ و خیال کا ہر جز مسلمانوں کے لیے زہر کے مصداق تھا۔ مسلمانوں کی کوئی سیاسی تنظیم مضبوط نہ تھی۔ وہ فکری، ذہنی اور عملی طور پر منتشر تھے اور پوری ملت مسلسل تذبذب میں مبتلا تھی۔ اس لیے مسلمان اس وقت اپنے لیے کوئی راستہ تجویز نہ کر سکے۔ ان کے ایک گروہ نے ابتدا میں اس امر کی کوشش کی کہ انگریز حکمران اختیارات منتقل ہی نہ کریں، لیکن دیگر گروہ مستقل طور پر انگریزوں کے محکوم رہنے کے لیے آمادہ نہ تھے۔ اس لیے سمجھوتے کی کوشش کی گئی اور آئینی تحفظات کے تحت ہندوستانی واحد قومیت کی بنیاد پر جمہوری حکومت کے اصول کو تسلیم کر لیا گیا۔

تحریکِ خلافت کے زمانے میں جب مسلمانوں میں خود اعتمادی پیدا ہوئی تو یکایک ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ بلند ہوا، اور مسلمان اپنے خلوص کی بنا پر اکثریت پر اعتماد کر کے اپنے آپ کو ان کے سپرد کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ جب ہندو مسلم فسادات کے نتیجے میں ہندوؤں کے اصل عزائم سامنے آئے تو پھر وہی تحفظات دوبارہ پیشِ نظر آ گئے۔ لیکن ایک گروہ اس بات پر اڑا رہا کہ پہلے اکثریت کے ساتھ مل کر آزادی حاصل کر لی جائے اور پھر اپنے حقوق اور تحفظات کا مطالبہ کیا جائے، جبکہ دوسرا گروہ پہلے تحفظات اور حقوق کا معاملہ طے کرنا چاہتا تھا۔

اس انتشارِ سیاسی کے زمانے میں ۱۹۳۵ء کا ایکٹ نافذ تھا، اور ۱۹۳۷ء میں کانگریس سات صوبوں میں برسرِ اقتدار آ گئی۔ اس صورتِ حال میں صاف ظاہر تھا کہ ہندوستان پر ہندو اکثریت حکومت کرے گی۔ اگرچہ بظاہر حکومت قومی، جمہوری اور لادینی (Secular) ہو گی، لیکن عملاً اقتدار ہندوؤں کے ہاتھ میں ہو گا، اور ملک کا نظام انہی کے تابع چلے گا۔ اس صورت میں مسلمانوں کو کوئی آئینی تحفظ بھی نہ بچا سکے گا۔ ساتھ ہی کانگریس نے اپنے دیرینہ عزائم کی تکمیل کے لیے جو منصوبے شروع کیے اور مسلمانوں کی قومی حیثیت کو ختم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے، ان سے ظاہر تھا کہ قومی، جمہوری اور لادینی ریاست کا مطلب درحقیقت ہندو ریاست ہو گا۔ اس وقت مسلمانوں اور ان کی تہذیب کو بچانا دشوار ہو جائے گا۔

اس وقت مسلمانوں کی کوئی مؤثر تنظیم نہ تھی جو بڑھ کر ان کی صحیح رہنمائی کرتی۔ بدقسمتی سے اس زمانے میں علماء کے ایک مؤثر گروہ نے کانگریس کی وطنی قومیت کی تحریک کے خطرناک نتائج سے بالکل بے پروا ہو کر مسلمانوں کو کانگریس میں شرکت کا مشورہ دیا۔ ان کے خیال میں وطنی قومیت اور اسلامی قومیت میں کہیں ٹکراؤ نہ تھا، بلکہ بعض افراد نے تو اسلام سے اس کا جواز تک ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس صورتِ حال میں مولانا مودودی نے اپنے رسالہ ترجمان القرآن میں اس سلسلۂ مضامین کا آغاز کیا جس کا ذکر ابتدا میں کیا جا چکا ہے۔

مولانا حسین احمد مدنی، صدر دارالعلوم دیوبند نے "متحدہ قومیت اور اسلام" کے عنوان سے ایک رسالہ لکھا تھا [مطبوعہ مجلس قاسم المعارف، دیوبند، ۱۹۳۸ء]۔ ہندوستان کی سب سے بڑی دینی درسگاہ کے صدر اور ایک نامور عالم دین ہونے کی حیثیت کے پیش نظر ان سے بجا طور پر توقع کی جا سکتی تھی کہ اس رسالے میں قومیت کے اہم اور نہایت پیچیدہ مسئلے کی تنقیح و تحقیق علمی نقطۂ نظر سے کی گئی ہوگی اور اس ضمن میں اسلام کا نقطۂ نظر بھی اس طرح واضح کر دیا گیا ہوگا، لیکن رسالہ ان توقعات اور مصنف کی ذمہ دارانہ حیثیت سے فروتر رہا، کیونکہ اس وقت بھی غیر اسلامی تصورات نے اسلامی حقائق پر تسلط جما رکھا تھا۔ ان حالات میں، بقول مولانا مودودی، "خود مسلمان کا یہ حال ہے کہ وہ خالص اسلامی نقطۂ نگاہ سے مسائل کو نہیں دیکھتے اور کم علمی کی وجہ سے نہیں دیکھ سکتے۔" پھر قومیت کا مسئلہ اتنا اہم ہے کہ اس کے صاف اور واضح فہم و ادراک ہی پر ایک قوم کی زندگی کا دار و مدار بنتا ہے۔ اگر کوئی اپنی قومیت کے اساسیات ہی کو اجنبی اصول و مبادی میں خلط ملط کر دے تو وہ قوم سرے سے قوم ہی نہیں رہ سکتی۔ [مسئلہ قومیت، دفتر رسالہ ترجمان القرآن، لاہور، اشاعت اول، ص ۷۶]

ہندوستان میں کانگریس کا یہی مطمحِ نظر تھا کہ ہندوستان کی تمام اقلیتی قوموں کو ملا کر ایک قوم بنا دیا جائے، اور یہ مولانا مدنی کے رسالے کا مدعا بھی تھا۔ لیکن مولانا مودودی نے اس رسالے پر بھرپور، مدلل اور تفصیلی تنقید کی ہے۔ [تفصیلات ملاحظہ فرمائیں: تصنیف مذکور، ص ۶۶-۶۷]

قومیت کا عام مفہوم تو یہ ہے کہ مشترک اغراض و مصالح کے لیے متعدد افراد آپس میں مل کر تعاون و اشتراکِ عمل کریں۔ تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس اجتماعی وحدت کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد اس میں داخل ہو جاتی ہے۔ اسی مجموعۂ افراد کا نام قوم ہے۔ لیکن جب افراد میں قوم کے تعلق سے قومیت پیدا ہو جاتی ہے تو عصبی احساسات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ افراد میں اشتراک اور وحدت کے مختلف اجزاء ہو سکتے ہیں، لیکن آغازِ عہدِ تاریخ سے آج تک دنیا میں جتنی قومیتیں بنی ہیں ان سب کی تعمیر، اسلامی قومیت کے علاوہ، نسل، وطن، زبان، رنگ، معیشت اور سیاست کے مشترکات سے ہوئی ہے۔

مولانا مودودی نے اپنے رسالے میں مندرجہ بالا مشترکات کو متعین کر کے ان پر مدلل تنقید کی ہے۔ ان کے خیال میں نسلِ انسانی میں جتنی تقسیمیں کی گئی ہیں ان کی کوئی عقلی بنیاد نہیں ہے۔ یہ صرف حسی اور مادی تقسیمیں ہیں، جن کا ہر دائرہ زاویۂ نظر کی ہر وسعت پر ٹوٹ جاتا ہے۔ ان کا قیام اور بقا جہالت کی تاریکی، نگاہ کی محدودیت اور دل کی تنگی پر منحصر ہے۔ علم و عرفان کی روشنی جس قدر پھیلتی ہے، بصیرت کی رسائی جس قدر بڑھتی ہے، اور قلب میں جتنی وسعت پیدا ہوتی ہے، یہ مادی اور حسی پردے اٹھتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ نسلیت کو انسانیت کے لیے اور وطنیت کو آفاقیت کے لیے جگہ خالی کرنی پڑتی ہے۔ اختلافِ رنگ و زبان میں جوہرِ انسانی کی وحدت جلوہ گر ہوتی ہے۔ خدا کی زمین میں خدا کے سب بندوں کی معاشی اغراض مشترک پائی جاتی ہیں، اور سیاسی نظامات کے دائرے محض چند سالہ سے نظر آتے ہیں، جو آفتابِ اقبال کی گردش سے روئے زمین پر چلتے پھرتے اور گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں۔

اس کے بعد مولانا مودودی قرآنی آیات و احادیثِ قدسیہ کی روشنی میں اسلامی نظریۂ قومیت کو اس طرح متعین کرتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے جاہلیت کی ان تمام محدود، مادی، حسی اور روحی بنیادوں کو، جن پر دنیا میں مختلف قومیتوں کی عمارتیں قائم کی گئی تھیں، ڈھا دیا۔ زبان، معیشت اور سیاست کی غیر عقلی تقسیموں کو، جن کی بنا پر انسان نے اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے انسانیت کو تقسیم کر رکھا تھا، مٹا دیا، اور انسانیت کے مادے میں تمام انسانوں کو برابر اور ایک دوسرے کا ہم مرتبہ قرار دے دیا۔ اس تخریب کے ساتھ اس نے خالص عقلی بنیادوں پر ایک نئی قومیت کی تعمیر کی۔ اس قومیت کی بنا پر بھی امتیاز پرستی ہے، مگر مادی اور عرضی امتیاز پر نہیں بلکہ روحانی اور جوہری امتیاز پر۔ اس نے انسان کے سامنے ایک فطری صداقت پیش کی، جس کا نام اسلام ہے۔ اس نے خدا کی بندگی و اطاعت، نفس کی طہارت و پاکیزگی، عمل کی نیکی اور پرہیزگاری کی طرف ساری نوعِ بشر کو دعوت دی، پھر کہہ دیا کہ جو اس دعوت کو قبول کرے وہ ایک قوم سے ہے اور جو اس کو رد کرے وہ دوسری قوم ہے۔

جہاں تک غیر اقوام سے مسلمانوں کے اشتراک کا تعلق ہے، اس کی دو حیثیتیں ہیں۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ ایک حیثیت تو یہ ہے کہ انسان ہونے میں ہم اور وہ یکساں ہیں، اور دوسری حیثیت یہ ہے کہ اسلام اور کفر کے اختلاف نے ہمیں ان سے جدا کر دیا ہے۔ پہلی حیثیت کے ساتھ ہمدردی، فیاضی، رواداری اور شرافت کا ہر وہ سلوک کریں گے جو انسانیت کا مقتضیٰ ہے، اور اگر دشمنِ اسلام نہ ہوں تو ان سے دوستی، مصالحت اور مسالمت کریں گے، اور مشترکہ مقاصد کے لیے تعاون میں بھی دریغ نہ کریں گے۔ لیکن کسی طرح کا مادی اور دنیوی اشتراک ہم کو اور ان کو اس طور سے جمع نہیں کر سکتا کہ ہم اور وہ مل کر ایک قوم بن جائیں اور اسلامی قومیت کو قبول کر لیں، کیونکہ ہماری دوسری حیثیت اس قسم کے اجتماع میں مانع ہے۔ جب کفر و اسلام کے تصور میں غیر اسلامی تصورات شامل ہونے لگے تو پھر آپس میں عصبیت کے جذبات پیدا ہونے لگے۔ چنانچہ مختلف ممالک میں جو اسلامی سلطنتیں قائم ہوئیں، ان سب کی تباہی میں سب سے زیادہ اسی کا ہاتھ تھا۔ قریب ترین زمانے میں دو سب سے بڑی اسلامی سلطنتیں ہندوستان اور ترکی تھیں۔ ان دونوں کو بھی اسی عنصر نے تباہ کیا۔ ہندوستان میں مغل اور ہندوستانی تفریق نے سلطنتِ مغلیہ کو ختم کیا، اور ترکی میں ترک، عرب اور کرد کی تفریق تباہی کی موجب ہوئی۔

مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ آج مغربی قوموں سے سبق سیکھ کر ہر جگہ کے مسلمان نسلیت اور وطنیت کے راگ الاپ رہے ہیں۔ ہندوستان میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو اپنے آپ کو ہندوستانی قومیت سے منسوب کرتے ہیں۔ وہ لوگ بھی یہاں موجود ہیں جو آبِ زمزم سے قطع تعلق کر کے آبِ گنگا سے وابستگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ ہیں جو بھیم اور ارجن کو اپنا قومی ہیرو قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، مگر یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ان نادانوں نے نہ اپنی تہذیب کو سمجھا ہے اور نہ مغربی تہذیب کو۔

ہندوستانی وطنی قومیت کی تشکیل دراصل کانگریس کا نصب العین تھا۔ اس نصب العین کی دو صورتوں نے اپنا اظہار علانیہ اور واضح طور پر شدھی اور سنگھٹن کے روپ میں کیا۔ شدھی اور سنگھٹن کی مخالفت پر اس زمانے کے دیگر مسلمان زعماء نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان میں اہم نام ظفر علی خان اور مولانا محمد علی کے ہیں۔ چونکہ یہ بات واضح تھی کہ یہ دونوں تحریکیں دراصل کانگریس ہی کے بطن کی پیداوار ہیں، اس لیے ظفر علی خان کی قبیل کے دیگر مسلمان زعماء کانگریس سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے، اور جب اس سے علیحدہ ہو گئے تو فطری طور پر کانگریس اور اس کے نصب العین کی تردید و مخالفت ان کے لیے ناگزیر ثابت ہوئی۔ لیکن مسلمانوں میں ایسے بیشتر علماء بھی تھے جنہوں نے شدھی اور سنگھٹن کی تحریک کی ابتدا سے قبل ہی کانگریس اور ہندوؤں کے عزائم کو سمجھ لیا تھا۔ ان میں اور ناموں کے ساتھ مولانا مودودی کا اہم نام بھی موجود ہے۔ انھوں نے متحدہ قومیت کے تصور کی مخالفت میں نمایاں حصہ لیا، اور اس کے ثبوت میں ان کی وہ تحریریں پیش کی جا سکتی ہیں جو انھوں نے کانگریس کی مخالفت میں لکھیں۔ ان کے مضامین "مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش" حصہ اول و دوم میں شامل ہیں۔ انھیں ہر شخص پڑھ کر محسوس کر سکتا ہے کہ مولانا مودودی اور کانگریس میں بعد المشرقین تھا۔ وہ تحریکِ شدھی کے بارے میں لکھتے ہیں:

یہ (متحدہ قومیت کی تحریک) دراصل شدھی کی تحریک ہے۔ ایک دوسری شکل میں۔ یہ مذہبی شدھی نہیں، سیاسی اور معاشی شدھی ہوگی، اور اس کا نتیجہ عملاً وہی ہوگا جو مذہبی شدھی کا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کھلی ہوئی تحریکِ ارتداد تھی جس پر مسلمانوں کے جاہل اور عالم سب چوکنے ہو گئے تھے، اور یہ ایسی خفی تحریکِ ارتداد ہے کہ جہلا تو درکنار، علماء تک اس کی تہہ تک پہنچنے میں دقت محسوس کر رہے ہیں۔ اس تحریک کے بانیوں نے بھولپن سے کام لیا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تم اپنی قومیت اور اپنے مذہب کو چھوڑ کر ہندو قومیت میں آ جاؤ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں کوئی گودن سے گودن آدمی بھی ایسا نہ تھا جو اس پر بھڑک نہ اٹھا ہو۔ بخلاف اس کے اس تحریک کا بانی ایک ہوشیار شخص ہے۔ یہ کہتا ہے کہ تم ایک قوم ہی نہیں ہو، تمہاری کوئی تہذیب ہی نہیں ہے، لہٰذا کسی چیز کو چھوڑنے کا سوال تک نہیں۔ تم دراصل ایک قوم، یعنی ہندوستانی قوم کے ممبر ہو، مگر سامراج کے ایجنٹوں نے تم کو اس قوم سے جدا کر رکھا ہے۔ آؤ اپنی قوم میں مل جاؤ، آزادی حاصل کرو، اور اشتراکی تہذیب قائم کرنے میں حصہ لو، جس میں تم کو خوب روٹیاں ملیں گی۔ یہ بھی زہر کا گھونٹ ہے، مگر دیکھیے کیسے ہوش گوش کے آدمی شیرِ مادر سمجھ کر نوش فرما رہے ہیں۔ [تصنیف مذکورہ، ص ۳۳]

ہندی قومیت کے ساتھ ساتھ اس وقت اشتراکیت کو بھی اپنانے کا نعرہ لگایا جا رہا تھا۔ اس سلسلے میں نہرو کا نام پیش پیش تھا، جو آزادی کے ساتھ ہی اشتراکیت کو ہندوستان میں لانا چاہتا تھا۔ نہرو اشتراکیت پسند ہونے کے علاوہ ہندی قومیت کے قائد کی حیثیت سے بھی جانا پہچانا جاتا تھا۔ اس کے بارے میں مولانا لکھتے ہیں:

"جدید ہندی قومیت کا لیڈر وہ شخص ہے جو ہندو مذہب کا علانیہ مخالف ہے۔ ہر اس قومیت کا دشمن ہے جس کی بنا کسی مذہب پر ہو۔ اس نے اپنی دہریت کو کبھی نہیں چھپایا۔ یہ کبھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ وہ کمیونزم پر ایمان رکھتا ہے۔ اس امر کا بھی وہ خود اعتراف کر چکا ہے کہ میں دل اور دماغ کے اعتبار سے فرنگی ہوں۔ یہ شخص ہندوستان کی نوجوان نسل کا رہنما ہے اور اس کے اثر سے وہ جماعت نہ صرف غیر مسلم قوموں میں بلکہ خود مسلمانوں کی نوخیز نسلوں میں بھی روز افزوں تعداد میں پیدا ہو رہی ہے، جو سیاسی حیثیت سے ہندوستانی وطن پرست، اعتقادی حیثیت سے کمیونسٹ، اور تہذیبی حیثیت سے فرنگی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ڈھنگ پر جو قومیت تیار ہو رہی ہے، اس سے مغلوب اور متاثر ہو کر ہندوستان کے مسلمان کتنی مدت تک اپنی قومی تہذیب کے باقی ماندہ آثار کو زندہ رکھ سکیں گے۔" [تحریک آزادی ہند اور مسلمان، اسلامک پبلیکیشنز، لاہور، ۱۹۶۶ء، ص ۵۱-۵۲]

اس وقت کانگریس کے مطمحِ نظر اور منصوبۂ آزادی کے بارے میں اس کے قائدین اور کارکنوں کے رجحانات اور آراء سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی تحریروں کا مطالعہ کریں۔ اس سلسلے میں مولانا مودودی نے ان کی تحریروں پر جو تنقید کی ہے، وہ بڑی عمدہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ تنقید ان کی کتاب "مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش" کے باب نمبر ۱۱ میں منقول ہے، اور قومیت کے ضمن میں مولانا حسین احمد مدنی پر باب نمبر ۱۹ اور مولانا عبید اللہ سندھی پر باب نمبر ۲۱ پڑھنے کے لائق ہیں۔

کانگریسی شرکاء کی تحریروں کے پڑھنے سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کے نزدیک ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے ضروری ہے کہ اس ملک کی تمام قومیتوں اور قومی امتیازات کو مٹا کر پوری آبادی کو ایک قوم بنا دیا جائے۔ اس غرض کے لیے انھوں نے سب سے پہلے اسلامی قومیت پر حملہ کیا، کیونکہ جب تک مسلمانوں کے ذہن میں یہ خیال موجود ہے کہ پیروانِ اسلام ایک قوم ہیں اور منکرینِ اسلام دوسری قوم، اس وقت تک آٹھ کروڑ کی بڑی اکثریت کا ہندوستانی قومیت میں تحلیل ہو جانا محال تھا۔ اس لیے قوم پرست یک زبان ہو کر کہتے ہیں کہ مسلمان کسی قوم کا نام نہیں ہے، اور اسی لیے ان کی تعلیم یہ تھی کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے آپ کو "مسلم" کہنے کے بجائے "ہندو" کہیں۔ کانگریس کا دوسرا حملہ اسلامی تہذیب و تمدن پر تھا۔ ہندوستان کی آبادی ایک قوم نہ بن سکتی تھی، جب تک کہ سب ایک تہذیب اور تمدن نہ اختیار کر لیں۔ جب تک مسلمانوں میں یک جہتی باقی ہے، اس وقت تک بہرحال وہ اپنے آپ کو ایک قوم سمجھتے رہیں گے۔ اس انفرادیت کو مٹانے کے لیے مسلمانوں میں پورے زور و شور کے ساتھ یہ تبلیغ کی جا رہی تھی کہ ان کی نہ کوئی خاص تہذیب ہے اور نہ کوئی مخصوص تمدن۔ کانگریس کا تیسرا حملہ اسلام کے نظامِ اجتماعی پر تھا۔ مسلمانوں میں جو اشتراکیت کی تبلیغ کی جا رہی تھی، اس کا مقصد دراصل یہی تھا کہ صرف اسی ذریعے سے اسلامی سوسائٹی کے نظام کو پارہ پارہ کیا جا سکتا ہے، اور مسلمانوں کی جماعت کے افراد کو ایک دوسرے سے الگ کر کے فرداً فرداً غیر مسلم آبادی میں جذب کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی دوسری تدبیر نہ تھی۔ صرف اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے کانگریس نے مختلف حربے استعمال کیے، کیونکہ بقول مولانا مودودی: "کانگریس کے متعلق یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ اس کا نصب العین اشتراکی نہیں ہے۔ نہ وہ سرمایہ داروں سے بگاڑنا چاہتی ہے، نہ سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنا چاہتی ہے، نہ اس سماجی (تمدنی) انقلاب کی حامی ہے، جس کا ذکر پنڈت نہرو اور بابو سبھاش چندر بوس بار بار کیا کرتے ہیں۔" [تحریک آزادی ہند اور مسلمان، ص ۲۳۹]

مولانا مودودی کانگریس کے طریقے اور اس کی تبلیغ کے بارے میں کہتے ہیں کہ: "اس تبلیغ کا نتیجہ کیا ہوگا؟ اس کا پہلا نتیجہ یہ ہوگا کہ جوں جوں یہ خیالات عام مسلمانوں کے دلوں میں گھر کریں گے، اسلامی سوسائٹی پارہ پارہ ہو جائے گی۔ اس کا دوسرا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمان مذہب سے بیگانہ ہو جائیں گے۔ معاشی طبقات کی جنگ عام مسلمین کو صرف بڑے تعلق داروں اور لکھ پتیوں ہی سے الگ نہ کرے گی بلکہ متوسط طبقہ کے ان تمام مسلمانوں سے بھی کاٹ دے گی جو نسبتاً خوشحال ہیں۔ اس کا آخری اور فیصلہ کن نتیجہ یہ ہوگا کہ عامۂ مسلمین اسلامی قومیت کے تخیل سے خالی الذہن ہو کر فرداً فرداً بن جائیں گے۔"

اسی طرح مسلمانوں اور کانگریس، یا مولانا مودودی اور کانگریس کا اختلاف محض برائے اختلاف نہ تھا بلکہ بقول مولانا مودودی: "بھول نہ جانا چاہیے کہ کانگریس کا اور ہمارا اختلاف محض ذرائع اور طریقوں کے اختلافات کی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ اصول، مقاصد اور پالیسی کا بنیادی اختلاف ہے۔"

چنانچہ: "اس (کانگریس) کے اصولِ قومیت و جمہوریت کو ہم بالکل بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔"

"اس کے مقصد، یعنی جمہوری لادینی حکومت کے قیام کو کبھی ہم قبول نہیں کر سکتے۔ اس کی غرض، یعنی بہترین سیاسی اختیارات حاصل کرنے اور ان کی مدد سے ہندوؤں کی بالادستی عملاً قائم کر دینے کو بھی ہم گوارا نہیں کر سکتے۔ یہ تینوں بنیادی چیزیں جب تک بدل نہ جائیں، کانگریس کے ساتھ ہمارا تعاون اسلامی اغراض کے لیے ذرہ برابر مفید نہیں۔"

قومیت کی تحریک اور کانگریس کے مقاصد میں سیاسی آزادی کا مقصد سب سے مقدم تھا۔ اور یہی مقصد اس وقت حالات کے لحاظ سے نمایاں عہد پا رہا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریز کی غلامی ہندوستان کے تمام باشندوں کے لیے ایک مصیبت تھی۔ اس مصیبت سے نجات کے لیے مشترک جدوجہد کرنا فطری اور معقول تھا۔ انگریزی سیاست اور حکمت عملی کے جبر و استبداد اور معاشی ناانصافی نے ہندوستان کے باشندوں کو آزادی کا سبق سکھایا تھا۔ اور ان میں یہ جذبہ پیدا کیا تھا کہ غلامی سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن انگریزی تہذیب و تمدن اور کسی حد تک انگریزی علوم نے ان کو پوری طرح مغربی تہذیب و تمدن کے تسلط میں جکڑ دیا تھا۔ اور ان پر اس قدر اثر چھا لیا تھا کہ وہ زندگی کا کوئی مرحلہ اس اثر و تسلط سے گریزاں نہیں رہ سکتے تھے۔ اس بنا پر وہ جس قسم کی آزادی کی جدوجہد کر رہے تھے اس کی نوعیت صرف یہ تھی کہ ہندوستان سیاسی حیثیت سے آزاد ہو کر خود مختار ہو اور اپنے وسائلِ معیشت کو خود اپنے مفاد کے لیے استعمال کرے۔ لیکن آزادی کے حصول کے بعد ملک کے انتظام اور نظریۂ حیات کا جو منصوبہ ان کے ذہن میں تھا وہ سراپا مغربی نوعیت کا تھا۔ چنانچہ ان کے بارے میں مولانا لکھتے ہیں:

وہ یکے مادہ پرست ہیں۔ ان کی نگاہ میں اخلاق و روحانیت کی کوئی قدرت نہیں۔ ان کو خدا پرستی سے نفرت ہے۔ مذہب کو وہ شر و فساد کا ہم معنی سمجھتے ہیں۔ ان کو ہر ایسی قومیت اور ہر ایسے قومی امتیاز سے چڑ ہے جس کی بنیاد مذہب پر ہو۔ ہندوستانی قومیت کا جو نقشہ ان کے پیش نظر ہے اس میں مذہبی جماعتوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ وہ تمام امتیازی حدود کو توڑ کر وطنیت کی بنیاد پر ایک ایسی قوم بنانا چاہتے ہیں جس کی اجتماعی زندگی ایک ہی طرز پر تعمیر ہو اور وہ طرز اپنے اصول و فروع میں خالص مغربی ہو۔ [تحریک آزادی ہند و مسلمان، ص ٦١]

اس قسم کے افراد اور ان کی کسی جماعت و تحریک میں شامل ہونے یا ربط قائم رکھنے سے آزادیٔ وطن کی تحریک کے ساتھ کس قسم کی تحریکات و اثرات مسلمانوں میں پھیلیں گے، ان کا تصور ہر ذی شعور بخوبی کر سکتا ہے۔ ان حالات میں مولانا لکھتے ہیں کہ:

"آپ کے پاس کوئی طاقت ہے جس سے آپ اپنی قوم کو قابو میں رکھ سکیں گے؟ آپ نے عوام کو اسلامی تہذیب کی حدود میں رکھنے کا کیا بندوبست کیا ہے؟ آپ نے ان کو غیر اسلامی اثرات سے بچانے کا کیا انتظام کیا ہے؟ آپ کے پاس یہ اطمینان کرنے کا کون سا ذریعہ ہے کہ کسی سخت وقت میں آپ اسلامی مقاصد کی خدمت کے لیے مسلمانوں کو جمع کر سکیں گے اور ان کی متحدہ طاقت آپ کی پشت پر ہوگی۔"

انگریز کے اقتدار کا خاتمہ کرنا یقیناً ضروری ہے، بلکہ فرض ہے۔ کوئی سچا مسلمان غلامی پر ہرگز راضی نہیں ہوسکتا۔ جس شخص کے دل میں ایمان ہوگا وہ ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہ چاہے گا کہ ہندوستان انگریز کے پنجۂ استبداد میں رہے۔ لیکن آزادی کے جوش میں یہ نہ بھول جائیے کہ انگریزی اقتدار کی مخالفت میں مسلمان کا نظریہ ایک وطن پرست کے نظریے سے بالکل مختلف ہے۔

وطن پرستی اور اس کے ذریعے حاصل ہونے والی آزادی کی مولانا نے بارہا مذمت کی ہے۔ مستقل کہتے ہیں کہ اگر مسلمان ہے تو وطنیت کے ڈھنگ پر نہ سوچے بلکہ حق پرستی کے ڈھنگ پر سوچے۔ وہ مسلمانوں کو تلقین کرتے ہیں کہ "کسی ایسی حکومت کے قیام میں مددگار بننا آپ کے لیے ہرگز جائز نہیں جس کی بنیاد انہی اصولوں پر ہو جن پر انگریزی حکومت کی بنیاد قائم ہے۔ عام اس سے کہ وہ وطنی حکومت ہو یا غیر وطنی۔ آپ کا کام ایک باطل کو مٹا کر دوسرے باطل اور بدتر باطل کو قائم کرنا نہیں ہے۔"

آگے چل کر ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:-

"اس طریقے سے جو آزادی حاصل ہوگی وہ ان آٹھ کروڑ یا سات کروڑ مسلمانوں کے لیے ہو سکتی ہے جو مسلمانوں کی نسل سے پیدا ہوئے ہیں، مگر اس قوم کے لیے آزادی نہیں ہو سکتی جو "مسلمان" ہے۔ مسلمانوں کے لیے مسلمان ہونے کی حیثیت سے وہ آزادی نہ ہوگی بلکہ ان کی قوم، ان کی تہذیب اور ان کے نظامِ اجتماعی کی کامل بربادی اور اس کام کی تکمیل ہوگی جس کو انگریز امپریلزم نے ڈیڑھ سو برس پہلے شروع کیا تھا۔ حقیقت میں یہ ایک ایسا حربہ ہے جو انگریزی سلطنت سے پہلے اسلام پر حملہ کرتا ہے۔ اس سے پہلے اس کو ختم کر دینا چاہتا ہے۔ میں تصور نہیں کر سکتا کہ کوئی صاحبِ عقل مسلمان، جو مسلمان رہنا چاہتا ہے، اس حربے کو خود اپنے دین اور اپنی قوم پر چلانے میں کس طرح حصہ لے سکتا ہے"۔

مولانا مودودی نے اپنے مضامین کے ذریعہ مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ۱۸۵۶ء کے انقلاب سے بدرجہا شدید انقلاب طوفان کی تیزی کے ساتھ تمہارے سروں پر آ رہا ہے اور اب تمہارے لیے زیادہ سے زیادہ دس پندرہ سال کی مہلت ہے۔ اس آنے والے انقلاب کی خصوصیات اور مسلمانوں کی کمزوریوں کا تجزیہ کر کے صاف صاف بتایا گیا کہ ان کمزوریوں کی موجودگی میں اس نوعیت کے انقلاب کی آمد اس سرزمین ہند میں اسلام کے مستقبل پر کیا اثرات ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ:

۱۔ باطل کی جگہ باطل قائم کرنا مسلمان کا کام نہیں ہے۔ اس لیے انگریزی قوم کی کافرانہ حکومت کو ہٹا کر ہندوستانی قوم کی کافرانہ حکومت لے آنا کوئی ایسا پاکیزہ مقصد نہیں جس کے لیے ٹوٹا مسلمان کو زیب دیتا ہو۔

۲۔ ایک کافرانہ نظام کے اندر محض آئینی تحفظات، جن کا سبز باغ سیاسی لوگ تمہیں دکھاتے ہیں، اس سرزمین میں اسلامی بقا کے لیے کچھ بھی کام نہیں آسکتے۔

۳۔ ہندی قوم پرستی کے سیلاب سے بچنے کے لیے انگریز کی گود میں پناہ لینا اور یہ چاہنا کہ اس سے تمہیں بچانے کے لیے انگریز کا اقتدار یہاں موجود ہے، غلط بھی ہے اور تمہارے لیے شرمناک بھی۔

۴۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ خود اپنے اندر زندگی کی طاقت پیدا کرو اور اس طاقت کو صحیح سمت میں صحیح منزلِ مقصود کی طرف بڑھنے کے لیے استعمال کرو۔

۵۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے جو چیز کم سے کم تمہاری مقصود بن سکتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ملک اگر کلیتاً نہیں تو بڑی حد تک دارالاسلام بن جائے۔[لاحظہ فرمائیے۔ تحریک آزادی ہند اور مسلمان - ص ۴۹]

مولانا مودودی نے اپنی تحریروں میں اس لادینی جمہوری قومی ریاست کا جیسے کانگریس، ہندوستان میں قائم کرنا چاہتی تھی اور جسے مسلمانوں کے بہت سے نادان دینما آزادی وطن کا نام دیگر مسلمانوں کے لیے بھی آزادی کی تحریک سمجھ رہے تھے، پیوستہ کر کے بتایا گیا کہ اس کا ہرگز یہ سجا ہے خود کیا معنیٰ رکھتا ہے۔ خاص طور پر بعظیم ہند کے حالات میں ان اصولوں کا انطباق کیا اثرات پیدا کر سکتا ہے ۔ اور عملاً کانگریس کی تحریک جو طریقہ اختیار کر رہی ہے انہیں اگر چل جانے دیا جائے تو وہ کس طرح اس سرزمین میں اسلام کے پچھے (کچھ) آثار بھی مٹا کر چھوڑ دیں گے۔ چنانچہ مولانا مودودی کی تمام کوششیں خلوص نیت کے ساتھ ہندوستان کو مسلمانوں کے لیے شبہ دارالاسلام بنانے میں صرف ہوتی رہیں۔ ان کی نظر میں شبہ دارالاسلام سے یہ مراد نہیں تھی کہ ایسے جو لوگ جو بظاہر مسلمان ہیں، انھیں اسمبلیوں اور کونسلوں کی نشستیں اور سرکاری عہدے مل جائیں۔

اور ہندوستان کے معاشی ثمرات میں ان کو بھی متناسب حصہ ملے اور آزاد ہندوستان کی تمام عمرانی ترقیات سے (خواہ وہ ترقیات کسی صورت میں ہوں) انھیں بلا امتیاز مستفید ہونے کا موقع ملتا رہے۔ شملہ میں جس چیز کو وہ شعبہ دارالاسلام سمجھتے تھے اور جو چیز حقیقتاً اس نام سے موسوم ہو سکتی تھی وہ یہ تھی کہ ہندوستان کی حکومت میں محض ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے حصہ دار ہوں اور ہمارا حصہ اس قدر طاقتور ہو کہ ہم:

۱- اپنی قوم کی تنظیم اسلامی اصولوں کے مطابق کر سکیں، یعنی مسلمانوں کے لیے تعلیم و تربیت کا انتظام کر سکیں، ان کے اندر غیر اسلامی طریقوں کے رواج کو روک سکیں، اور اپنی قوم میں جو اصلاحات ہم خود اپنے طریق پر نافذ کرنے کی ضرورت سمجھیں ان کو خود اپنی طاقت سے نافذ کر سکیں، مثلاً زکوٰۃ کی تحصیل، اوقات کی تنظیم، قضائے شرعی کا قیام، قوانینِ معاشرت کی اصلاح وغیرہ۔

۲- اس ملک کے نظم و نسق اور اس کی تمدنی اور معاشی تعمیرِ جدید میں اپنا اثر اس طرح استعمال کر سکیں کہ وہ ہمارے اصولِ تمدن و تہذیب کے خلاف نہ ہو۔

۳- ہندوستان کی سیاسی حکمتِ عملی میں ہمارا اتنا اثر ہو کہ اس کی طاقت کسی حال میں بیرونِ ہند کے مسلمان قوموں کے خلاف استعمال نہ کی جا سکے۔

واضح رہے کہ مندرجہ خیالات مولانا نے اس وقت پیش کیے تھے جب کہ انھوں نے اپنا نظریہ تقسیم ہند پیش نہیں کیا تھا۔ اس نظریہ کو ہم تفصیل سے آئندہ صفحات میں زیرِ بحث لائیں گے۔ اس وقت تک جب تک کہ تقسیم ہند کی تجاویز پیش نہیں ہوئیں، مولانا چاہتے تھے کہ مسلمان ہندوستان میں ہی اپنے حقوق اس طرح حاصل کر لیں کہ وہ شعائرِ اسلامی کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں، اور اپنی آئندہ نسلوں کا مستقبل محفوظ رکھ سکیں۔

اس سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ اگر آپ اپنا مقصد صرف ان حقوق کے حصول کو بتاتے ہیں جن کا اطمینان کانگریس نے اپنے بنیادی حقوق والے ریزولیوشن میں دلایا ہے تو آپ دھوکے میں ہیں۔ آپ کی تہذیب، زبان، پرسنل لاء اور مذہبی حقوق کا تحفظ بھی دراصل اس کے لیے ممکن نہیں کہ آپ فارغ البالی اختیار کر کے حکومت کی تشکیل میں طاقت و حصہ دار بننے کی کوشش کریں۔ اس میں اگر آپ نے غفلت کی اور حکومت کا اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جو مسلمان نہیں ہیں تو یقین رکھئے کہ کوئی دستور آپ کو من حیثیت المسلم ہلاک ہونے سے نہیں بچا سکے گا۔ [تحریک آزادی ہند اور مسلمان، ص ۷۱]