مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک پاکستان اور مولانا مودودی

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ کتاب کسی اور مصنف کی تالیف ہے جس میں تحریکِ پاکستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے کردار کا دفاع اور جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مؤلف کے بقول بعض حلقے مولانا کے کردار کو تحریکِ پاکستان کے تعلق سے غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں، حالانکہ ان کی خدمات تحریکِ آزادی کا بغور مطالعہ کرنے والے ہر شخص کے نزدیک مسلّم ہیں۔

کتاب میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کی ہندوستان میں سیاسی و تہذیبی جدوجہد کا پس منظر بیان کیا گیا ہے، اور مولانا مودودی کی طرف سے پیش کیے گئے تقسیمِ ہند کے تین متبادل خاکوں (بین الاقوامی وفاق، علاقائی تقسیم، اور مکمل علیحدہ وفاق) کی تفصیل نقل کی گئی ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے تجویز کیے تھے۔

پہلا خاکہ

دو یا زائد قوموں کے ملک میں ایک جمہوری ریاست بنانے کی صحیح اور منصفانہ صورت یہ ہے :

اولاً وہ بین الاقوامی وفاق (International Faderation) کے اصول پر مبنی ہو۔ دوسرے الفاظ میں وہ قوم کا ریاست نہیں بلکہ متوافق قوموں کی ایک ریاست (A state of Faderated nation) ہو۔

ثانیاً اس وفاق میں شریک ہونے والی ہر قوم کو تہذیبی خود اختیاری (Cultural Autonomy) حاصل ہو۔ یعنی ہر قوم اپنے مخصوص دائرہ زندگی میں اپنے گھر کی تنظیم و اصلاح کے لیے ہر حکومت کے اختیارات استعمال کر سکے۔

ثالثاً مشترک و طنی معاملات کے لیے اس کا نظام عمل مساویانہ حصہ داری (Equal Partnership) پر تعمیر کیا جائے۔

ہندوستان کے حالات کو سیاسی نقطۂ نظر سے سمجھنے اور حل کرنے کی جن لوگوں نے کوشش کی ہے، انہوں نے یہ بات تو تسلیم کر لی ہے کہ اس ملک کے لیے وحدانی (Unitary) طرز کی حکومت موزوں نہیں ہے، بلکہ یہاں ایک اسٹیٹ اگر بن سکتا ہے تو وہ صرف وفاقی اصول پر بن سکتا ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ وہ حالات کے صرف ایک پہلو کو دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں، دوسرا پہلو ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ انہوں نے صرف اس حد تک واقعات کو دیکھا اور سمجھا کہ یہاں دیسی ریاستیں اور برٹش انڈیا کے صوبے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور خود صوبوں کی زبان، روایات، معاشرت اور عمرانی مسائل میں کافی تفاوت ہے۔ اس لیے وہ صرف اس نتیجے تک پہنچ سکے کہ ان سب کو ایک مرکز کی مقتدر کا بالکلیہ تابع بنا دینا درست نہیں ہے، بلکہ ان کی اندرونی خود مختاری کو برقرار رکھ کر ان کے درمیان وفاقی تعلق قائم کرنا چاہیے۔

لیکن واقعات کے اس پہلو پر ان کی نگاہ نہیں پہنچی کہ یہاں ریاستوں اور صوبوں کی طرح قوموں کے درمیان بھی اصول، تہذیب، طرزِ زندگی، روایاتِ قومی اور ضروریاتِ اجتماعی میں کافی تفاوت ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے انہوں نے مختلف قوموں کو ایک وحدانی طرزِ حکومت میں باندھ کر رکھ دیا ہے۔ ورنہ اگر ایسا کیا جائے تو وہ جو وجوہ ریاستوں کے معاملے میں وفاقی اصول اختیار کرنے کے مقتضی ہوتے ہیں، ان میں سے زیادہ قوی وجوہ قوموں کے معاملے میں وفاقی اصول اختیار کرنے کے مقتضی ہیں۔

وفاق کی روح کیا ہے؟ مختصراً اس کو یوں سمجھ لیجیے کہ جو جماعتیں کچھ ایسے مشترک اغراض و مفاد رکھتی ہوں کہ ایک دوسرے سے علیحدہ زندگی بسر کرنا ان کے لیے ممکن نہ ہو، اور اس کے ساتھ ان کے کچھ مخصوص حالات بھی ہوں جن کی بنا پر وہ بالکل ایک دوسرے میں مدغم ہو جانا بھی گوارا نہ کر سکتی ہوں، وہ آپس میں مل کر ایک طرح کی ایک مصالحت (Compromise) کر لیتی ہیں کہ اپنے مخصوص معاملات میں ان کی خود مختاری بھی برقرار رہے اور مشترک معاملات میں اشتراکِ عمل بھی ہو سکے۔

اس قسم کے وفاق میں مرکز اور وفاقی اجزا کے درمیان حاکمیت منقسم ہو جاتی ہے۔ مرکز اور ہر ایک وفاقی جزو اپنے اپنے دائرۂ عمل میں مختار ہوتا ہے۔ نہ ایک کو دوسرے کے دائرے میں گھس آنے کا اختیار ہوتا ہے اور نہ آئینی حیثیت سے کسی ایک کو یہ اقتدار حاصل ہوتا ہے کہ دوسرے کو مٹا دے۔ اس طرح کی مصالحت یہ موقع بہم پہنچا دیتی ہے کہ مختلف النوع جماعتیں مشترک ضروریات کے لیے مل کر ایک اسٹیٹ بنا سکیں۔

وفاق کی اس روح کو سمجھ لینے کے بعد کسی سیاسی فہم و بصیرت رکھنے والے شخص کے لیے اس حقیقت کا ادراک کر لینا مشکل نہیں ہے کہ اس نوعیت کا وفاق جس طرح ریاستوں (یعنی الگ الگ جغرافی خطے والی جماعتوں) کے درمیان ہو سکتا ہے، اسی طرح قوموں (یعنی جغرافی خطے میں رہنے والی مختلف المذہب یا مختلف المتمدن جماعتوں) کے درمیان بھی ہو سکتا ہے۔ البتہ اصولِ وفاق کا انطباق (Application) دونوں صورتوں میں مختلف طرز پر ہوگا۔ متوافق ریاستوں اور مرکز کے درمیان اختیارات کی تقسیم جس طرح کی جاتی ہے، متوافق قوموں کے درمیان وہ اس سے مختلف طریقے پر ہوگی۔ پہلی چیز کو ہندوستان میں صوبائی خود اختیاری سے تعبیر کیا گیا ہے، دوسری چیز کو ہم تہذیبی خود اختیاری (Cultural Autonomy) سے تعبیر کرتے ہیں۔

اس کے بنیادی اصول حسبِ ذیل ہونے چاہئیں:

۱- وفاقی اسٹیٹ بنانے والی ہر قوم صاحبِ حاکمیت (Sovereign Nation) ہو، یعنی وہ اپنے دائرۂ عمل میں خود حکومت کے اختیارات استعمال کرے۔

۲- تعلیم، مذہبی معاملات (مثلاً عبادت گاہوں اور اوقاف کا نظم و نسق، اور مذہبی احکام کو اپنے افرادِ قوم پر نافذ کرنا اور ان احکام کے خلاف ان کی سرکشی کو روکنا) اور مخصوص تمدنی و معاشرتی مسائل (مثلاً نکاح، طلاق، وراثت اور قومی طرزِ معاشرت (National Social System)) میں ہر قوم کو پوری کی پوری حکومت خود اختیاری حاصل ہو، اور مرکز کو اس میں دخل دینے کا حق نہ ہو۔

۳- ان اغراض کے لیے ہر قوم کی الگ الگ ضلع دار اور صوبہ دار کونسلیں ہوں اور ان پر ایک سپریم کونسل ہو۔ مذکورہ بالا معاملات ان ہی کونسلوں میں پیش ہوں اور وہیں سے ان کے لیے قوانین منظور کیے جائیں۔ ان قوانین کا مرتبہ عام ملکی قوانین سے کسی طرح کم نہ ہو۔ ان کو نافذ کرنے کے لیے ایک مستقل ہیئتِ انتظامیہ ہو اور وہ قومی کونسل کے سامنے جواب دہ ہو۔ مصارفِ نظم و نسق کے لیے ٹیکس عائد کرنے اور وصول کرنے کا اختیار اس قومی نظام کو حاصل ہو، اور ملکی خزانے میں سے ایک مخصوص حصہ ہر قوم کے لیے مقرر کر دیا جائے، جس طرح وفاقی ریاستوں اور مرکز کے درمیان مالیات کی تقسیم ہوا کرتی ہے۔

۴- متوافق قوموں کے درمیان، یا کسی قبائلی جزء اور مرکز کے درمیان جو آئینی اختلافات پیدا ہوں، ان کا تصفیہ وفاقی عدالت (Federal Court) کرے۔

۵- اپنے مخصوص قوانین کے مطابق فیصلۂ خصومات کرنے کے لیے ہر قوم کا مستقل عدالتی نظام ہو، جسے عام ملکی عدالتوں کی طرح پورے عدالتی اختیارات حاصل ہوں۔

اس مرحلہ پر تہذیبی خود اختیاری کے صرف اصول بیان کئے جاسکتے ہیں۔ اگران پر اتفاق ہو جائے تو ان کا تفصیلی نقشہ ایک بین الاقوامی راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس یا آئین ساز مجلس ( Constituent Assembly ) میں بنایا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد مرکزی حکومت کا سوال سامنے آتا ہے۔ مرکزی حکومت سے یہاں ہماری مراد ریاستوں کے وفاق کا مرکز نہیں ہے ، بلکہ قوموں کے وفاق کا مرکز ہے ۔ یعنی وہ نظام حکومت جسے متوافق قومیں اپنی مشترک اغراض کے لئے بنائیں ۔ اس معنی میں صوبوں اور ریاستوں کی حکومت بھی اسی طرح مرکزی ہے ۔ جس طرح وفاقی Federel ( مرکزی ) ( Centre ) یہ مشترک نظام حکومت لا محالہ "مساویانہ حصہ داری" کے اصول پر مبنی ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ یہ صاحب حاکمیت کا وفاق ہے نہ کہ ایک قوم کا وحدانی نظام حکومت ۔ یہاں پوری احتیاط کے ساتھ اس امر کا انتظام کرنا پڑے گا ۔ کہ اصول جمہوریت کے لحاظ سے ایک وفاقی جزو کو جو حاکمیت حاصل ہے دوسرا وفاقی جزو اسے سلب نہ کرے۔ تہذیبی خود اختیاری کی طرح اس کا بھی ایک ڈھانچہ بنا کر ہم یہاں پیش کرتے ہیں ۔ جس کی تفصیلی صورت بعد میں ایک آئین ساز مجلس بنا سکتی ہے ۔

۱- اسٹیٹ کے تشریعی، انتظامی، عدلی اور دفاعی چاروں شعبوں میں ہر قوم کا حصہ اس کی آبادی کے تناسب سے مقرر کر دیا جائے، جو تناسب کے تغیرات کے ساتھ ساتھ متغیر ہو سکتا ہو، یا ویٹنگ (Weightage) کا طریقہ بالکل اڑا دیا جائے۔

۲- موجودہ طریقِ انتخاب کو بدل دیا جائے۔ چھوٹے چھوٹے حلقہ ہائے انتخاب بنانے کے بجائے ایک ریاست کے پورے حدود و عرض کو ایک حلقۂ انتخاب قرار دیا جائے۔ جس میں ایک نشست کے لیے الگ الگ امیدوار کھڑے نہ ہوں، بلکہ تسلیم شدہ سیاسی جماعتیں (Recognised Political Parties) اپنے اپنے امیدواروں کی فہرستیں پیش کریں اور ان کو کامیاب کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔ اس صورت میں (اور یاد رکھیے کہ صرف اسی صورت میں) جداگانہ انتخاب کے طریقے کو موقوف کر دینا چاہیے۔ اس لیے کہ پھر بند قلعوں میں رہنا ہر قوم کے لیے مضر ہوگا۔ جداگانہ طریقِ انتخاب کی ضرورت صرف اس وقت تک ہے جب یہاں انگلستان کی بوسیدہ ڈیموکریسی کے نمونے پر چھوٹے چھوٹے یک نشستی حلقہ ہائے انتخاب بنائے جاتے ہیں۔ اگر جدید جمہوریتوں میں متناسب نمائندگی (Proportional Representation) کے جو تجربات کیے گئے ہیں، ان سے استفادہ کرکے ایک صحیح جمہوری طریقِ انتخاب کر لیا جائے تو پھر جداگانہ انتخاب کو ختم کر دیا جائے۔ تاکہ:

اولاً آبادی کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی نمائندگی سے محروم نہ رہ سکے۔

ثانیاً مقابلہ اشخاص کا نہ ہو، بلکہ پارٹیوں کے اصول اور پروگرام ایک دوسرے کے مقابلے میں آئیں۔

ثالثاً ہر پارٹی اپنے اصول اور پروگرام کو لے کر سب قوموں کے پاس جا سکے۔

بہت ممکن ہے کہ ابتدا میں ہم اپنے نظم کی کمزوری کے باعث کسی زیادہ منظم جماعت کے مقابلے میں شکست کھا جائیں، لیکن تہذیبی خود اختیاری کے بعد یہ شکست ہمارے لیے کچھ زیادہ مضر نہ ہوگی۔ اور مزید یہ کہ ان کھلے مقابلوں ہی میں زور آزمائی کرتے ہوئے ہم سیاسی تنظیم کا سبق سیکھ سکیں گے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ مقابلہ آزادانہ اور مساویانہ ہو۔ اس کے بعد اگر ہم اپنے نظم کی کمزوری یا اپنے اصول اور پروگرام کی کمزوری کے باعث شکست کھائیں گے تو اس شکست کے مستحق ہوں گے۔

۳- جمہوریت کو مؤثر تر بنانے کے لیے استصوابِ عام (Referendum) کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ نیز رائے دہندگان کو یہ حق بھی دیا جائے کہ جن نمائندوں پر ان کو اعتماد نہ رہا ہو، ان کو واپس بلا لیں۔ یہ بھی انگلستان کی دقیانوسی جمہوریت کا سراسر غیر جمہوری طریقہ ہے کہ نمائندوں کو منتخب کرنے کے بعد رائے دہندگان ایک معین مدت تک اپنے ہاتھ کھڑے بٹھے رہیں۔ روسو کے بقول انگریز صرف اس وقت آزاد سمجھتے ہیں جب وہ پارلیمنٹ کے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں، اور جب وہ انہیں منتخب کر لیتے ہیں تو پھر اپنے ہی منتخب کردہ نمائندوں کے غلام بن جاتے ہیں۔

۴- استصوابِ عام کے ساتھ یہ اصول مقرر کر دیا جائے کہ جس چیز کی مخالفت ایک قوم کے دو تہائی بالا اتفاق یا عظیم اکثریت کے ساتھ کریں، وہ مجالسِ قانون ساز میں پاس نہ ہو سکے۔ کیونکہ مخالفت اس بات کی دلیل ہوگی کہ جمہوری نظام کے حصہ داروں میں سے ایک حصہ دار اس کو اپنے لیے مضر بتاتا ہے، اور دوسرا حصہ دار صرف اس لیے اس کا مؤید ہے کہ اس کے لیے مفید ہے۔ اس قسم کے کسی قانون یا ریزولیشن کا پاس نہ ہونا، عین اصولِ جمہوریت کی نفی ہوگا۔

۵- استصوابِ عام کے لیے یہ اصول بھی مقرر کرنا پڑے گا کہ اگر کسی قوم کے ووٹروں کی کم از کم اس قدر فی صد تعداد استصواب کا مطالبہ کرے تو اس کا انعقاد ضروری ہوگا۔

۶- دستور کی ترمیم پر بھی سخت پابندیاں عائد کرنی ہوں گی، جن کے لیے امریکہ، سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا اور دوسرے جمہوری ممالک کے دستور سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔