مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک پاکستان اور مولانا مودودی

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ کتاب کسی اور مصنف کی تالیف ہے جس میں تحریکِ پاکستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے کردار کا دفاع اور جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مؤلف کے بقول بعض حلقے مولانا کے کردار کو تحریکِ پاکستان کے تعلق سے غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں، حالانکہ ان کی خدمات تحریکِ آزادی کا بغور مطالعہ کرنے والے ہر شخص کے نزدیک مسلّم ہیں۔

کتاب میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کی ہندوستان میں سیاسی و تہذیبی جدوجہد کا پس منظر بیان کیا گیا ہے، اور مولانا مودودی کی طرف سے پیش کیے گئے تقسیمِ ہند کے تین متبادل خاکوں (بین الاقوامی وفاق، علاقائی تقسیم، اور مکمل علیحدہ وفاق) کی تفصیل نقل کی گئی ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے تجویز کیے تھے۔

ابتدائیہ

جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کے بعد برعظیم پاک و ہند کی زندگی میں مسلمانوں کا حصہ معمولی سا رہ گیا تھا۔ انگریز اور ہندو اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ برعظیم میں مسلمانوں کی محکومی نے ان کی تہذیب اور ان کے معاشرتی نصیب کے لیے شدید خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ وہ محض ایک ظالم اور جابر حکمران کے محکوم ہی نہ تھے بلکہ ہندو اپنی دیرینہ خباثت کی بنا پر انگریزوں سے مل کر مسلمانوں کی سیاسی محکومی اور معاشرتی ابتری سے فائدہ اٹھا کر اسلامی تہذیب و عقائد اور مسلمانوں کی منفرد قومیت ہی کو ختم کر دینا چاہتے تھے۔ اس سلسلہ میں ہندو مصاحبین اور بالخصوص اونچی ذات کے ہندوؤں نے اپنے عزائم کبھی پوشیدہ نہ رکھے۔ انگریزوں سے مسلمانوں کو اس لیے عناد تھا کہ وہ مکر و فریب کے ذریعے مسلمانوں کے سیاسی معاملات میں دخیل ہوئے اور رفتہ رفتہ حکمران بن گئے۔ دوسرے مسلمانوں اور انگریزوں میں ایک دیرینہ مخاصمت صلیبی جنگوں کی تلخ یادوں سے چلی آئی ہے۔ اس لیے وہ مسلمان جو صاحب اقتدار تھے اور ایک منفرد تہذیب و ثقافت کے رخ رواں تھے، محکومی کو قبول کرنے کے لیے اپنے آپ کو آمادہ نہ پاتے تھے۔ اس لیے وہ انگریزوں سے بظاہر برسرِ مخاصمت تھے اور انگریز بھی مسلمانوں سے اسی وجہ سے مخالف تھے۔ چنانچہ اس اختلاف اور دشمنی کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کے اقتدار اور اثر کو ختم کیا جائے، ان کے نظریات اور ضمیر کو مجروح کیا جائے تاکہ ان کی اپنی تہذیبی وحدت اور برتری کا احساس ختم ہو جائے، اور احساسِ محکومیت، ذلت و پستی پیدا ہو۔

جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کی ناکامی کے بعد بھی مسلمان تقریباً تیس سال تک شمال مغربی ہند کے مختلف حصوں میں جہاد آزادی میں مصروف رہے۔ برعظیم کے دور دراز علاقوں میں ان کی زیردست تنظیمیں قائم تھیں جو مسلمانوں میں احیائے اسلام کا جذبہ پیدا کرتیں۔ انگریزوں نے مسلمانوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے مالدہ، راج محل، انبالہ وغیرہ میں خصوصی عدالتیں قائم کی تھیں جہاں سے سینکڑوں مسلمانوں کو سزائے موت اور حبسِ دوام کی سزائیں دی گئیں، اور ہزاروں کی جائیدادیں ضبط کر لیں۔ لیکن ان نقصانات کے باوجود مسلمان جنگ آزادی سے باز نہ رہے۔

چنانچہ انہوں نے ۱۸۷۲ء میں وائسرائے ہند اور لارڈ میو اور جسٹس نارمن (کلکتہ ہائیکورٹ) کو قتل کر کے انگریزوں سے شدید نفرت اور بیزاری کا اظہار کیا۔ انگریزوں کے مظالم اور مسلمانوں کی بیزاری و نفرت کا نقطۂ منتہا تھا۔ چنانچہ انگریزوں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی اور مسلمانوں میں ایک ایسا گروہ پیدا کرنے کی کوشش کی جو انگریزوں کا ہم نوا ہو، انگریز اور مسلمانوں کے درمیان ایک واسطہ اور ترجمان ہو۔ ان کی یہ حکمت عملی کسی قدر کامیاب رہی۔ چنانچہ مسلمانوں میں اس نئی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے دو علیحدہ علیحدہ گروہ بن گئے۔ ایک نے عزیمت، اصول و نظریات کی بنا پر انگریزوں سے عدم تعاون کا طریقہ اختیار کیا۔ ان کی ہر ممکن کوشش یہ رہی کہ مسلمانوں میں احیائے اسلام کا جذبہ برقرار رہے، اور دوسرا گروہ جس نے انگریزوں اور ہندوؤں کے مشترکہ خطرے کو محسوس کیا، مصلحت اندیشی اور انگریز حکومت سے تعاون اور اشتراک کے ذریعے یہ یقین دلایا کہ وہ انگریزوں کے دشمن و مخالف نہیں بلکہ حکومت کے وفادار اور اس کے ممد و معاون ہیں۔

اس صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان جو کبھی انگریزوں کے خلاف منظم و متحد تھے، ان میں پھوٹ پڑ گئی اور دونوں نے آزادی کے لیے علیحدہ علیحدہ راہیں متعین کر لیں۔ لیکن اس کے باوجود دونوں میں جو قدرِ مشترک تھی، وہ اپنا قومی وجود اور تہذیب و تمدن کے تحفظ کا جذبہ تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے طریقِ کار مختلف تھے، لیکن منزل ایک ہی تھی، البتہ یہ ضرور ہوا کہ اس طریقِ کار کے اختلاف کی وجہ سے مستحکم معاشرے کی وحدت ضرور متاثر ہوئی۔ لیکن یہاں اس کی گنجائش نہیں کہ اس پر بحث کی جائے۔

مسلمانوں کی اس ذہنی و سیاسی ابتری سے فائدہ اٹھا کر ہندوؤں نے مسلمانوں کو کانگریس کی وطنیت اور قومیت کی تحریک کے پرچم تلے جمع کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ ہندوؤں کا خیال یہ تھا کہ مسلمان نسبتاً قلیل تعداد میں ہونے کی وجہ سے ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ مسلمان چاہتے تھے کہ آزادی اس طرح آئے کہ وہ ان کے لیے محض آقاؤں کی تبدیلی کے مرادف نہ رہ جائے۔ اس لیے وہ اپنے حقوق کے تحفظات کی مکمل ضمانت کے خواہاں تھے۔ ہندوؤں نے مال و دولت اور پروپیگنڈے کے وسائل کی فراوانی کے ذریعے خود مسلم معاشرہ میں سے ایک طبقہ کو اپنا ہم نوا بنا لیا، اور اس مسئلہ کو کہ حصولِ آزادی کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں کی حیثیت کیا ہوگی، غیر اہم قرار دیا۔ یہ امر ہندوؤں کے عین منشا و مفاد کے مطابق تھا لیکن مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں اس مسئلے کی بنیادی اہمیت کو نظر انداز کرنے پر تیار نہ تھیں۔ اس مرحلے پر ایک بہترین صورت حال ہندوؤں کے لیے سازگار ثابت ہوئی۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد ترکی کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس نے مسلمانوں کے جذبات کو بہت زیادہ مشتعل کر دیا۔ خلافت کمیٹی جو اس وقت مسلمانوں کی سب سے زیادہ مؤثر اور فعال جماعت تھی، کانگریس کو ساتھ لے کر پورے جوش و خروش کے ساتھ سرگرمِ عمل ہو گئی۔ اس دور میں پورے ملک پر یہ فضا چھائی ہوئی تھی کہ کسی طرح بھی پہلے انگریزوں کو نکالا جائے۔ یہ سوال کہ ان کے نکلنے کے بعد ملک کی حکومت کس نہج پر ہو گی، ذہنوں میں مغلوب ہو کر رہ گیا تھا۔ حالات نے مسلمانوں کے سوچنے کا ڈھنگ بھی کچھ ایسا کر دیا تھا کہ طرزِ حکومت سے متعلق مسلم یا غیر مسلم حکومت کی اصطلاح میں سوچنے کی جگہ وہ دنیا کے مروجہ چلن کے مطابق ملکی اور غیر ملکی حکومت کی اصطلاح میں سوچنے لگے۔ حالات ہی کچھ ایسے تھے کہ شیخ الہند کی تحریک کی ناکامی کے بعد انگریزوں کا تسلط ختم کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نظر نہ آتا تھا کہ مشترکہ جدوجہد بہرحال ہو اور پھر مشترکہ حکومت قائم ہو۔ اس وقت یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ایسی حکومت اس اعتبار سے بہتر ہوگی کہ اول تو سارے عالمِ اسلام میں انگریزوں کا زور ٹوٹ جائے گا، دوسرے مسلمانوں میں اتنی جان ہے کہ وہ ہندوؤں سے نمٹ لیں گے۔ چنانچہ پھر مسلمان اور ہندو مل کر پوری قوت سے انگریزوں کو نکالنے کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے۔ مسلمانوں میں مولانا محمد علی، مولانا شوکت علی، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا ظفر علی خان، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار الدین انصاری، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا عبد الماجد دریابادی، مولانا عبدالباری، مولانا نثار احمد، مفتی کفایت اللہ، مفتی محمد شفیع، نیز دیگر تمام اکابرین و زعماء، علماء و مشائخ اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ مشترکہ جدوجہد کی اس کیفیت کا پورا زور ۱۹۱۸ء تا ۱۹۲۳ء تک قائم رہا۔ اس کے بعد صورت حال متغیر ہونے لگی۔ اس سارے بحرانی دور میں ممتاز علماء کی صف میں صرف مولانا اشرف علی تھانوی ہی ایسے بزرگ تھے جنہوں نے مشترکہ جدوجہد سے انکار کیا اور ایسے مسلمانوں کے لیے اسے باعثِ خیر نہ سمجھا۔ اس طرح علماء کے بھی دو گروہ بن گئے۔ ایک وہ جن کا خیال مشترکہ جدوجہد کا تھا، اور دوسرے وہ جو بلا شرکتِ غیرے اپنے حقوق کا تحفظ چاہتے تھے۔

پہلا گروہ بھی مکمل آزادی چاہتا تھا، لیکن اپنے مستقبل کو کچھ وقت کے لیے ہندوؤں سے وابستہ کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہ کرتا تھا۔ اس کے برعکس علماء کا دوسرا گروہ مکمل آزادی کے ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کے لیے ایک آزاد اسلامی ریاست کا تصور رکھتا تھا۔ چنانچہ پہلا گروہ جدوجہدِ آزادی میں کانگریس کے ساتھ شامل ہو گیا یا اس نے اپنی مساعی کو کانگریس کے پرچم تلے مرتکز کر دیا۔ دوسرے گروہ نے آزاد جدوجہد کو اپنا شعار بنایا یا اس وقت کی ان مختلف تنظیموں کے ساتھ وابستہ ہو گیا جو ایک آزاد اسلامی ریاست کی خواہاں تھیں۔

اس وقت علماء کے پہلے گروہ کی نمائندگی مولانا حسین احمد مدنی جیسے بزرگ کر رہے تھے۔ ایک مرحلہ پر مولانا حسین احمد مدنی معہ اپنے رفقاء کے، جو علماء کی واحد تنظیم جمعیۃ العلماء ہند پر حاوی تھے، کانگریس کے مسائل کے بل بوتے پر یہ پورا محاذ بنا کر مسلم لیگ کی مخالفت کرنے لگے۔ ادھر جو علماء لیگ کے حامی تھے اور جن کی بڑی تعداد بھی منظم نہ تھی، اپنے اپنے حلقوں میں لیگ کے موقف کی تائید کرتے رہے، لیکن باضابطہ لیگ کے کارکن بن کر جمعیۃ کے متوازی کوئی جماعت قائم کرکے میدان میں نہیں آئے۔ خود دیوبند میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع جیسے بزرگ لیگ کے موقف کے حامی تھے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر دارالعلوم میں نزاع شروع ہوا اور آخرکار ان دونوں حضرات نے اپنے رفقاء کے ہمراہ دارالعلوم سے علیحدگی اختیار کر لی۔ مولانا اشرف علی تھانوی اور ان کے معتقدین و متعلقین، جو لاکھوں کی تعداد میں تھے، کانگریس اور جمعیۃ کے موقف کے علی الاعلان مخالف اور لیگ کے مؤید تھے، لیکن ایسے افراد کی کوئی تنظیم نہ تھی۔ علماء میں صرف مولانا عبد الماجد دریابادی اور مولانا جمال الدین فرنگی محلی جیسے اشخاص لیگ کے رکن بن کر شریکِ جدوجہد ہوتے تھے، ورنہ اکثر حضرات اپنے حلقوں، درسگاہوں اور متعلقین میں خاموش رہے۔ اسی انداز سے ۱۹۳۷ء تا ۱۹۳۸ء کا وہ دور آتا ہے جب برعظیم میں نظریۂ قومیت پورے شدت سے زیر بحث آیا۔ اسی مرحلہ پر مولانا حسین احمد مدنی نے دینی یا نظریاتی قومیت سے قطع نظر وطنی قومیت جیسے مفسدانہ نظریہ کی تبلیغ شروع کی تھی۔ یہیں علامہ اقبال اور مولانا حسین احمد مدنی میں اختلاف پیدا ہوئے، جو بہت مشہور ہوئے۔ لیکن مولانا حسین احمد مدنی کو سب سے شدید مخالفت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے کرنا پڑی، جنہوں نے مسئلہ قومیت پر ایک سلسلہ مضامین لکھا جو اپنے دلائل کی محکمی، زورِ استدلال اور زورِ بیان کی وجہ سے مسلمانوں میں بہت مقبول، مشہور اور مؤثر ہوا۔

یہیں سے تحریک آزادی میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی باضابطہ اور نمایاں شرکت کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کا رشتہ براہِ راست علماء کے اس گروہ سے ہے جن کی نمائندگی مولانا اشرف علی تھانوی جیسے موقر اور محترم بزرگ کر رہے تھے۔ اب ہم کسی قدر وضاحت سے دیکھیں گے کہ مولانا مودودی کا تحریک آزادی یا تحریک پاکستان سے کس قسم کا تعلق رہا ہے اور ان کی کارکردگی، موقف، کردار اور نظریہ اس ضمن میں کس قبیل میں آتے ہیں۔

# #پس منظر

مولانا مودودی کی زندگی کا نیم سیاسی دور در اصل اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ ۱۹۱۸ء میں اخبار مدینہ (بجنور) کی ادارت کے سلسلہ میں مل کر کام شروع کیا[ محمد یوسف، مولانا مودودی اپنی اور دوسروں کی نظر میں المكتبة الحبیب) لاہور، تاریخ ندارد،ص -۴۲۴]۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں سیاسی تحریک بڑی شدومد سے جاری تھی۔ اور اس کی شدت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ مولانا مودودی کے بچپن اور ان کی ابتدائی عملی تربیت کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ فطری آزاد خیالی، کچھ ذاتی مطالعہ، کچھ خاندانی روایات اور کچھ ماحول کے اثرات کا نتیجہ تھا کہ انہیں ابتداء ہی سے "فرنگیت" ، اور فرنگی تسلط سے نفرت تھی اور طبیعت ایسی تحریک کو قبول کرنے پر آمادہ تھی جو ہندوستان کو اس قبضہ سے آزاد کرانے کے لیے کی جائے۔ اس کے ساتھ مذہبی جذبات بھی شامل ہو گئے۔ ان وجوہ کی بنا پر انھوں نے "انجمن اعانت نظر بندان اسلام" میں کام کرنا شروع کیا [ایضاً ص ۱۴]۔ ۱۹۱۹ء میں اور دسمبر جب خلافت اور ستیہ گرہ کی تحریک کا آغاز ہوا تو اس میں بھی حصہ لیا [ایضاً ص ۲۲]۔ اسی زمانہ میں ان کی ملاقات مولوی تاج الدین سے ہوئی جو "انجمن اعانت نظر بندان اسلام" کے رواں تھے۔ انھوں نے جبلپور سے "تاج" نامی ایک ہفتہ وار اخبار نکالا اور اس کی ادارت مولانا مودودی اور ان کے بھائی کے سپرد کی [ایضاً ص ۲۵] مگر چونکہ وہ زمانہ اخبارات کے لیے زیادہ سازگار نہ تھا اس لیے "تاج" چند مہینے سے زیادہ نہ نکل سکا۔ ۱۹۲۰ء میں تاج الدین صاحب نے جبلپور ہی سے "تاج" دوبارہ جاری کیا تو مولانا مودودی تنہا اس کو نکالتے رہے [ایضاً]۔ کچھ مدت تک یہ اخبار ہفتہ وار نکلتا رہا، پھر روزانہ نکلنے لگا۔ ادارت کے ساتھ ہی ساتھ انھوں نے وہاں عملی سیاسی امور بھی انجام دیے۔ جبلپور میں تحریک خلافت کے آغاز میں انھیں کا ہاتھ ہے۔ اس زمانہ میں وہاں مسلمانوں کی طرف سے بولنے والا کوئی نہ تھا، اس لیے مولانا کو مجبوراً تقریریں بھی کرنی پڑیں۔ جبلپور کی مصروفیات زیادہ مدت تک جاری نہ رہ سکیں۔ ان کے ایک مضمون پر حکومت نے گرفت کی، اور چونکہ اخبار کے ایڈیٹر، پرنٹر اور پبلشر کی حیثیت سے تاج الدین صاحب کا نام شائع ہوتا تھا، اس لیے ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ گویا اس طرح مولانا حکومت کی گرفت سے محفوظ رہے، لیکن اس امر سے انھیں خوشی نہیں ہوئی اور آئندہ کے لیے انھوں نے دوسروں کی ذمہ داری پر اخبار نویسی نہ کرنے کا عہد کیا۔

۱۹۲۱ء کے ابتدائی زمانہ میں مولانا مودودی کی ملاقات مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب، ناظم جمعیۃ علماء ہند سے ہوئی۔ اسی سال انھوں نے جمعیۃ کی طرف سے اخبار "مسلم" نکالا اور مولانا کو اس کا مدیر مقرر کیا۔ یہ اخبار ۱۹۲۳ء تک نکلتا رہا اور آخر تک مولانا مودودی ہی اس کے مدیر رہے۔ ۱۹۲۲ء کے آغاز میں مولانا دہلی گئے جہاں مولانا محمد علی سے مراسم پیدا ہوئے۔ ان کا ارادہ تھا کہ مولانا مودودی کو "ہمدرد" میں اپنا مددگار بنائیں، لیکن اسی زمانہ میں مولانا احمد سعید صاحب نے جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے اخبار "الجمعیۃ" نکالنے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ قدیم تعلقات کی بنا پر مولانا کو "الجمعیۃ" کو ترجیح دینی پڑی۔ ۱۹۲۵ء کے آغاز سے "الجمعیۃ" کی اشاعت شروع ہوئی۔ ۱۹۲۸ء کے آخر تک مولانا اس اخبار کو تنہا اپنی ذمہ داری پر چلاتے رہے۔ اس عرصہ میں دو کتابیں بھی لکھیں، جہاں "الجہاد فی الاسلام" اور "دولت آصفیہ اور حکومت برطانیہ" کے نام سے شائع ہوئیں۔ جب انھوں نے ۱۹۲۸ء میں "الجمعیۃ" سے قطع تعلق کر لیا تو آئندہ کے لیے تصنیف و تالیف کے شغل کو اپنے لیے منتخب کیا۔ لیکن جن مضامین سے انھیں دل چسپی تھی ان پر تحقیقات کے لیے دہلی میں مواد فراہم نہ ہو سکا۔ چنانچہ وہ ۲۳ دسمبر ۱۹۲۸ء میں واپس حیدرآباد دکن پہنچے اور ۲۲ اگست ۱۹۳۰ء تک یہیں رہے۔ اس مدت میں انھوں نے "تاریخ آل سلجوق" تالیف کی اور "ابن خلکان" کے ان حصوں کا ترجمہ کیا جو مصر کے فاطمی خلفاء سے تعلق رکھتے ہیں۔ پھر دکن کی سیاسی تاریخ اور "نظام الملک آصف جاہ اول" کی سیرت لکھی۔

مولانا مودودی ۱۹۳۱ء تا ۱۹۳۳ء تک حیدر آباد دکن میں مقیم رہے۔ اس وقت تک کے صحافتی، تصنیفی و تالیفی دور کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور ۱۹۲۰ء تا ۱۹۲۲ء تک، دوسرا دور ۱۹۲۲ء تا ۱۹۲۷ء تک، اور تیسرا دور ۱۹۲۷ء تا ۱۹۳۳ء تک۔ پہلے دور میں مولانا کی تحریریں سیاسی، معاشرتی اور معاشی نوعیت کی حامل تھیں۔ ان موضوعات کے حامل مضامین خاصے اہم اور نازک مسائل پر مشتمل ہیں، جیسے: مسلمانانِ ہند سے خطاب، مزدوروں کی جمعیت، اعتدال پسندوں سے خطاب، ہمارا نصب العین، مہاتما جی کی گرفتاری، تشدد اور اس کے نتائج، کانگریس کا آخری فیصلہ، کانگریس کے فیصلہ کے اثرات، ہمیں ترکوں سے کیوں محبت ہے؟، ظالم کون ہے؟، ممالکِ اسلامیہ کا مستقبل، برطانیہ اور ترکی، ترکوں کا حسنِ سلوک، پیرس کانفرنس کی تجاویز، سمیرنا میں یونانی نظام، سو برس پہلے کا ہندوستان، ہندوستان کی صنعتی تباہی وغیرہ وغیرہ۔ ان مضامین کی تصنیف کے وقت مولانا کی عمر بمشکل اکیس سال تھی، لیکن ان میں جس قدر سیاسی، معاشرتی، معاشی اور تہذیبی بصیرت موجود ہے وہ حد درجہ متاثر کن ہے، اور ان سے صاحبِ قلم کے خلوص، جوش اور نیک نفسی کا اظہار ہوتا ہے۔

مولانا کا دوسرا تصنیفی دور الجمعیۃ سے شروع ہوتا ہے۔ مولانا کی الجمعیۃ کی ادارت سے سبکدوشی کے دو سال بلکہ زیادہ مدت کے بعد جمعیۃ علماء ہند نے اپنا مستقل تعلق کانگریس سے استوار کیا تھا۔ مولانا الجمعیۃ کے مدیر تھے کہ ۱۹۲۶ء کے آخر میں شدھی کے بانی شردھانند کا قتل ہوا تھا۔ اس پر کانگریسی اور غیر کانگریسی ہندوؤں نے ایک طوفان کھڑا کر دیا کہ اسلام خود خواری سکھاتا ہے۔ گاندھی نے بھی کہا تھا کہ اسلام میں فیصلہ کن چیز پہلے بھی تلوار تھی اور اب بھی تلوار ہے [بحوالہ ملک غلام علی، منقولہ محمد یوسف، ص ۴۶۲]۔ اس زمانے کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے خود بیان کیا ہے کہ یہ غوغا آرائی ایک مدت تک بڑے زور و شور سے جاری رہی۔ مولانا محمد علی نے ان بہتان تراشیوں سے تنگ آ کر جامع مسجد دہلی میں ایک تقریر کی اور رنجیدہ ہو کر کہا کہ: "کاش کوئی اللہ کا بندہ ان الزامات کے جواب میں اسلام کا صحیح نقطۂ نظر پیش کر دے۔" تقریر سننے والوں میں سے ایک میں بھی تھا۔ میں جب وہاں سے اٹھا تو یہ سوچتا ہوا کہ کیوں نہ میں ہی اللہ کا نام لے کر اپنی سی کوشش کروں۔ مذکورہ واقعہ اور مولانا محمد علی کی ترغیب نے مولانا مودودی کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ مسلمانوں اور اسلام کی مدافعت کے لیے قلم سنبھالیں۔ چنانچہ مولانا نے ۱۹۲۶ء کے شروع میں الجمعیۃ کے کالموں میں اسی مبسوط بحث کا آغاز کیا، جو آج کتابی شکل میں "الجہاد فی الاسلام" کے نام سے موجود ہے۔ یہ پوری کتاب مولانا نے چھبیس برس کی عمر میں چھ ماہ سے کم مدت میں لکھی ہے۔ اس کتاب کی افادیت اور جامعیت کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا کہ: "اسلام کے نظریۂ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر ایک بہترین تصنیف ہے، اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔" خود مولانا نے کہا تھا کہ: "اس کتاب نے سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا ہے۔ میں نے جب اس کتاب کے لکھنے کا ارادہ کیا تھا تو میرے اندر دینی حمیت سے زیادہ قومی حمیت کا جذبہ کام کر رہا تھا، لیکن تالیف و تحقیق کے دوران جب مجھے ایک ترتیب کے ساتھ اسلام کے اساسی نظریات اور اس کے تفصیلی احکامات کا غور سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھ میں نہ صرف شریعت کا فہم اور اس کی حقانیت کا غیر متزلزل یقین ابھر آیا بلکہ اس نظام کے احیاء کا ولولہ بھی مجھ میں پیدا ہو گیا۔"

میرے خیال میں مولانا مودودی کی زندگی کا یہ سب سے اہم اور نمایاں دور ہے جس میں ان کی زندگی کا لائحۂ عمل متعین ہوتا ہے۔ ان کے جذبۂ احیائے اسلام ہی نے ان کی شخصیت کو اس قدر فعال، مؤثر اور تاریخ ساز بنا دیا ہے کہ جس نے نہ صرف برعظیم کے مسلمانوں کی اپنے لیے علیحدہ مملکتِ اسلامیہ کے حصول میں معاونت کی بلکہ عالمِ اسلام کے دیگر مسلمانوں پر بھی بجا طور پر اثر ڈالا۔

مولانا مودودی کو آج جہاد فی الاسلام کی تصنیف کے دوران اسلام کے پورے نظام فکر وعمل اور اس کی حقیقی دعوت کو سمجھنے کا موقع ملا۔ اور اسی مطالعہ نے بالآخر ان کی تحریک کے لیے راہ ہموار کی ۔ اسلام کی حقیقی دعوت کو سمجھنے کے بعد دوسرا کام یہ تھا کہ ان افکار و نظریات کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے سخت پراگندہ خیالی ، ذہنی انتشار و مایوسی کے ماحول میں ایک شخص کے محدود ذاتی ذرائع کے ساتھ اس سے زائد کچھ کرنے کا موقع نہ تھا مگر حکمت کے ساتھ مسلسل تبلیغ کے ذریعہ لوگوں کو اس تخیل کا اس حد تک معتقد بنایا جائے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس کے لیے عملاً کچھ کرنے پر آمادہ ہو جائیں ۔ اس کام کے لیے مولانا نے ۱۹۳۳ء میں رسالہ ترجمان القرآن نکالنا شروع کیا ۔ یہ رسالہ پہلے حیدرآباد دکن سے نکلتا تھا پھرو۔ ۳ ۹۳۶ تک پٹھان کوٹ سے شائع ہوتا رہا ۔ اور اس کے بعد سے اب تک مسلسل لاہور سے شائع ہورہا ہے ۔ یہ عظیم کی تاریخ میں جو کارنامہ ایک ماہنامہ رسالہ ترجمان القرآن نے انجام دیا ہے اس کی مثال مشکل ہی سے مل سکتی ہے ۔ ولیم کینٹول اسمته کے خیال میں آئندہ کا مورخ اس پرچہ کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اس پرچہ کے صفحات پر تحریک اسلامی کا خاز رفتار کی پوری داستان ثبت ہے ۔ اس کے اوراق پر وہ تمام مراحل نقش ہیں جن سے دعوت اسلامی کو گزرنا پڑا ہے [بحوالہ خورشید احمد ، تحریک اسلامی، چراغ راہ ، تحریک اسلامی نمبر ص ۹۸]۔ ا س لئے ترجمان القرآن کا مقصد مولانا کے پیش نظر یہ تھا کہ یہ ایک زبردست انقلابی طاقت بن جائے ۔ خیالات کا رخ جاہلیت سے اسلام کی طرف پھیر دے ۔ افکار کی تطہیر، تنویر اور تعمیر خالص اسلامی اصولوں پر کرے ۔ اسلام جو ایک جامدیادگارِ قدیم بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ اس کو ایک نامی تحریک اور محرکِ نظامِ زندگی کی حیثیت سے پیش کرے۔ اعلیٰ درجہ کی تنقید کے ساتھ دنیا کی ایک ایک گمراہی کا استیصال کرے اور گہری تحقیقات کے ساتھ زندگی کے ہر مسئلہ کو اصولِ اسلام کے مطابق حل کرے۔

مولانا مودودی نے ان حالات میں جنہیں ابتداً بیان کیا گیا ہے، اسلام کے احیاء کی جدوجہد شروع کی۔ انھوں نے اسلام کی بنیادی تعلیمات کو عقلی دلائل کے ساتھ پیش کیا۔ اس طرح ذہنی تشکیک کو دور کیا۔ پھر انھوں نے تمدنی، معاشرتی اور معاشی مسائل کا حل بھی اسلام کی روشنی میں پیش کیا۔ تعمیرِ افکار کے اس عمل کے ساتھ ساتھ مولانا مودودی نے ملتِ اسلامیہ کو ان اجتماعی مسائل کا احساس بھی دلایا جن کے ذریعے وہ گھر گئی تھی۔ ان خرابیوں کی نشاندہی بھی کی جو اس کی سیاسی جدوجہد کو کمزور کر رہی تھیں، اور ان خطوط کو بھی واضح کیا جن پر اپنی اجتماعی جدوجہد کو منظم کرکے وہ آزادی اور اسلام دونوں سے بہرہ مند ہو سکتی تھی۔ ان خیالات کے پیشِ نظر مولانا مودودی نے مسلمانوں پر واضح کیا کہ۔۔۔

۱- اسلام عام تصورِ مذہب کی طرح کا ایک مذہب نہیں جو دوسرے مذاہب کی طرح ہر نظامِ زندگی اور ہر تہذیب کے اندر رہ سکتا ہو، بلکہ وہ ایک منفرد اور مکمل نظامِ زندگی ہے جو تمام شعبہائے حیات پر اپنا تسلط چاہتا ہے۔

۲- اسلام ایک ہمہ گیر تہذیب ہے جو حیاتِ دنیا کے تمام گوشوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے اور تمام دنیا پر چھا جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

۳- مسلمان دنیا میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے کے لیے وجود میں آیا ہے، اور یہ فریضہ حکومتِ باطل کو مٹا کر اس کی جگہ حکومتِ الٰہیہ قائم کیے بغیر ادا نہیں ہو سکتا۔

۴- کسی کافرانہ اور فاسقانہ نظامِ زندگی کے ہمہ گیر فکری اور عملی تسلط کے تحت محض عقائد اور عبادات کے بل پر اسلامی نظامِ زندگی قائم نہیں رہ سکتا، بلکہ خود عقائد اور عبادات کا بھی اپنی جگہ قائم رہنا مشکل ہے۔ اس ہمہ گیر تسلط کو مٹا کر جب تک اسلام کا ہمہ گیر تسلط قائم کرنے کے لیے کام نہ کیا جائے گا، کوئی مذہبی جزوی حرکت و عمل سے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکے گا۔

۵- اصل خرابی کی جڑ کفر و فسق کی امامت اور قیادتِ فرمانروائی ہے، جس کی بدولت ایک خدا فراموش نظامِ زندگی قائم اور ہر شعبۂ حیات پر حاوی ہوتا ہے۔ اس لیے جو لوگ درحقیقت اسلامی نظامِ زندگی کے معتقد اور عملاً اس کے نفاذ کے طالب ہوں، ان کا ہر وقت یہ مقصد ہونا چاہیے کہ کفر و فسق کو امامت کے مقام سے ہٹا کر ایمان و عملِ صالح کو اس مقام پر لایا جائے، اور اس کے لیے انہیں وہ تمام جائز اور معقول تدابیر استعمال کرنی چاہئیں جن سے یہ اصلاحی انقلاب ممکن ہو۔ [چودھری غلام محمد، تحریکِ اسلامی، چراغِ راہ، تحریکِ اسلامی نمبر، ص ۱۲۸]

یہ دعوت ترجمان القرآن کے بیشتر مضامین کے علاوہ ان کتابوں میں بھی پیش کی گئی: الجہاد فی الاسلام، اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی، تنقیحات، مسئلہ جبر و قدر، حقوق الزوجین، اسلام اور ضبطِ ولادت، دینیات، سود، پردہ وغیرہ۔

۱۹۳۳ء سے ترجمان القرآن اور مندرجہ کتب کے ذریعہ مولانا مودودی نے مسلسل دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا، لیکن جس وقت وہ اس نوعیت کے کام میں مصروف تھے، اس سے کچھ عرصہ قبل مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ وہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی ہر میدان میں ہندوؤں اور انگریزوں کی مشترکہ جوڑ کی بنا پر شکست پر شکست کھا چکے تھے، جس کی وجہ سے ان پر شدید یاسیت کا غلبہ طاری ہو رہا تھا۔ ان کی کوئی ہمہ گیر اور فعال تحریک باقی نہ رہی تھی، سچے قومی قائدین یا تو فوت ہو چکے تھے یا پھر قوم کا اعتماد کھو چکے تھے۔ ان حالات میں کانگریس نے اپنی تحریکِ متحدہ قومیت میں زور پیدا کرنے کی کوششیں تیز تر کر دیں۔ یہ صورتِ حال ۱۹۲۵ء میں تحریکِ خلافت کی ناکامی کے بعد شدید ترین صورت اختیار کر گئی۔ علمی میدان میں مغرب کی پوری سیاسی فکر کی بنا پر متحدہ قومیت کے تصور کو پیش کیا جا رہا تھا اور کوئی اس تحریک کا مقابلہ کرنے والا نہ تھا۔ متحدہ قومیت کی تبلیغ کے تحت اور رابطۂ عوام کے نام پر مسلمانوں کو ان کی اپنی تنظیموں سے علیحدہ کرکے کانگریس میں شامل کرنے کی کوششیں بڑے پیمانے پر ہو رہی تھیں۔ علماء کا ایک بڑا گروہ انگریز کی مخالفت میں متحدہ قومیت کی تائید پر اتر آیا، خصوصیت کے ساتھ جمعیۃ علماء ہند اور مجلسِ احرار سے وابستگان نے اس نظریہ کی پُرزور حمایت کی۔ ان میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا عبیداللہ سندھی بھی پیش پیش تھے۔

اس پس منظر میں مولانا مودودی نے ترجمان القرآن میں مسئلہ قومیت کے عنوان سے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا، جس سے متحدہ قومیت کے نظریہ پر ایک ضربِ کاری لگائی، اور اسلامی قومیت کے احساس کو پختہ کر کے اسے ایک سیاسی نصب العین عطا کیا۔ ان مضامین میں دکھایا گیا ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ ان کے زوال کے اسباب کیا ہیں؟ ان کی حقیقی کمزوریاں کیا ہیں؟ اور کون کون سے خطرات درپیش ہیں؟ ان خطرات کا مقابلہ وہ کس طرح کر سکتے ہیں؟ پھر ان میں کانگریس کی متحدہ قومیت کی تحریک کا پورا پس منظر اور اس میں مسلمانوں کے لیے موجود پوشیدہ خطرات کا مفصل جائزہ ہے۔ یہ وہ پہلی کوشش ہے جس میں متحدہ قومیت پر علمی اور عقلی تنقید کی گئی ہے۔

کانگریسی علماء، بالخصوص مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا مودودی کے درمیان تحریری نزاع کی ضرب متحدہ قومیت کے نظریہ پر پڑی، اور مسلمانوں میں جداگانہ قومیت کا احساس بڑی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔ قومیت کے مسئلہ پر یہ بحث محض ایک نظری بحث نہ تھی بلکہ اس کی ضرب کانگریس اور جمعیۃ علماء ہند کے پورے موقف پر پڑی۔ ہندوؤں کی سب سے خطرناک چال یہی تھی کہ مسلمانوں کے دلوں سے ان کی جداگانہ قومیت کا احساس کسی طرح ختم کر کے ان کے ملی وجود کی جڑیں کھوکھلی کر دی جائیں[ نور خورشید احمد، مقدمہ، تحریک آزادی ہند اور مسلمان، اسلامک پبلیشرز، لاہور، ۱۹۶۷ء، ص ۱۷۔ نیز ظفر احمد انصاری، نظریۂ پاکستان اور علماء، چراغِ راہ، نظریۂ پاکستان نمبر، ص ۲۲۲]۔ لیکن مولانا مودودی کے ان مضامین کے زیر اثر اس دور میں مسلمانوں کا ذہن جن خطوط پر سوچنے لگا تھا، وہ مختصراً یہ ہیں:

۱- مسلمان ایک جداگانہ قوم ہیں، اور قانون و انصاف کے ہر اصول کی روشنی میں ان کی حیثیت ایک اقلیت کی نہیں بلکہ ایک قوم کی ہے۔

۲- بحیثیت قوم مسلمانوں اور ہندوؤں میں کوئی مستقل اشتراک ناممکن ہے، کیونکہ دونوں کے عزائم ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ پھر ہندوؤں پر اعتماد اور ان سے اشتراک کا جو تجربہ مسلمانوں نے کیا تھا، وہ نہایت تلخ اور پوری طرح ناکام ثابت ہو چکا تھا۔

۳- کسی ایسی راہ کو تلاش کرنا چاہیے جس پر اپنے قومی تشخص اور اپنی تہذیب و تمدن کو برقرار رکھ کر آزادی حاصل کی جائے، ورنہ آزادی کے معنی ہندو اکثریت کے ہاتھوں مسلمانوں کی تہذیب کی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

اسی شعور کا نتیجہ یہ تھا کہ اسلامی تصورِ قومیت نے ایک سیاسی نصب العین کی صورت اختیار کر لی، اور مسلمانوں کے سامنے ایک جداگانہ قوم ہونے اور اپنی جداگانہ قومیت اور تہذیب کے تحفظ اور اس کو ترقی دینے کے لیے اپنی آزاد اسلامی ریاست قائم کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ اس زمانے میں مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کا آغاز ہو چکا تھا، اور علمی میدان میں مولانا مودودی کی تحریروں سے زیادہ مؤثر ہتھیار کانگریسی علماء کو شکست دینے کے لیے مسلم لیگ کے پاس نہ تھا۔ اس نے ان کی خوب اشاعت کی۔ عام مسلمانوں میں کانگریس کا زوال اور جداگانہ قومیت کا احساس شدت کے ساتھ ابھرا۔ بلا شبہ مولانا کی ان کوششوں نے مسلمانوں میں ایک نیا احساس پیدا کر دیا۔

مولانا مودودی کی زندگی کے نصب العین کا اندازہ ترجمان القرآن سے لگایا جا سکتا ہے۔ "میں نے جس کام کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا ہے، اسی کو انجام دینے کے لیے اس چیز کو چلا رہا ہوں۔" [ترجمان القرآن، عدد ۶، جلد ۸، بحوالہ خورشید احمد، تحریکِ اسلامی، ایک داستان ایک تاریخ، منقولہ چراغِ راہ، تحریکِ اسلامی نمبر، ص ۱۰۱]۔ ان کے مقصد کی منزل صاف اور واضح طور پر یہ تھی کہ ہندوستان میں اسلام نہ صرف قائم رہے بلکہ عزت و طاقت والا بن جائے۔ آزادیِ ہندوستان ان کے نزدیک مقصد بالذات نہیں بلکہ اس اصل مقصد کے لیے ایک ضروری اور ناگزیر وسیلہ ہونے کی حیثیت سے مقصود ہے۔ "ہم صرف آزادی کے لیے لڑنا نہیں چاہتے، بلکہ صحیح تو یہ ہے کہ اپنے مذہب کی رو سے لڑنا فرض جانتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہو کہ ملک کلیتاً نہیں تو ایک بڑی حد تک دارالاسلام بن جائے۔ لیکن آزادیِ ہند کا نتیجہ یہ ہوا کہ جیسا دارالکفر ہے ویسا ہی رہے یا اس سے بدتر ہو جائے، تو ہم بلا کسی ملامت کے صاف صاف کہتے ہیں کہ ایسی آزادیِ ہند پر ہزار درجہ لعنت ہے، اور اس کی راہ میں بولنا، لکھنا، روپیہ صرف کرنا، لاٹھیاں کھانا اور جیل جانا سب کچھ حرام، قطعی حرام ہے۔ [بحوالہ ایضاً، ص ۱۰۶]۔ "اب اگر ہم مسلمان رہنا چاہتے ہیں اور ہندوستان میں اسلام کو وہ حشر دیکھنے کے لیے تیار نہیں جو اسپین اور سسلی میں ہو چکا ہے، تو جہاد کے لیے صرف ایک ہی راستہ باقی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم آزادیِ ہند کی تحریک کا رخ حکومتِ کفر کی طرف سے حکومتِ حق کی طرف پھیرنے کی کوشش کریں، اور اس غرض کے لیے ایک ایسی سروسامانِ جنگ پر کمر بستہ ہو جائیں جس کا انجام یا کامیابی ہو یا موت ہو"۔

مولانا مودودی کی ان تحریروں کا علامہ اقبال برابر مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ ۱۹۳۴ء کے آخر میں انہوں نے مولانا مودودی کو پنجاب آ کر کام کرنے کی دعوت دی۔ علامہ اقبال کے پیشِ نظر فقہِ اسلامی کی تدوینِ جدید کا ایک منصوبہ تھا۔ انہوں نے مولانا مودودی سے اس ضمن میں تعاون کی خواہش ظاہر کی۔ ۱۹۳۷ء کے آخر میں مولانا، علامہ اقبال سے ملاقات کے لیے لاہور آئے۔ اس ملاقات کے دوران یہ طے پایا کہ مولانا پنجاب منتقل ہو جائیں۔ پٹھان کوٹ کے قریب ایک مقام پر، جس کا نام دونوں نے باہمی مشورے سے دارالاسلام تجویز کیا، ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جہاں دینی تحقیقات اور نوجوانوں کی تربیت کا کام کیا جائے۔ علامہ اقبال نے وعدہ کیا تھا کہ ہر سال وہ بھی چند ماہ دارالاسلام میں قیام کریں گے۔ چنانچہ اس فیصلے کے مطابق مولانا مودودی مارچ ۱۹۳۸ء میں دارالاسلام، پٹھان کوٹ منتقل ہو گئے، لیکن دوسرے ہی مہینے علامہ اقبال کے انتقال کے باعث اس منصوبے کی تمام ذمہ داری مولانا مودودی پر آ گئی۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے طول و عرض میں جو لوگ سچے دل سے اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، جن کے دلوں میں حوصلہ ہے مگر پراگندگی اور انتشار کی وجہ سے مایوس ہو کر بیٹھے ہوئے ہیں، انہیں جہاں تک ممکن ہو رفتہ رفتہ ایک مرکز پر جمع کیا جائے اور دارالاسلام میں ان کی اجتماعی طاقت سے ایک خاص اسلامی ماحول پیدا کیا جائے۔[ تفصیلات کے لئے چودھری غلام محمد "تحریک اسلامی کا لائحہ عمل"چراغ راه" تحریک اسلامی نمبر س ۱۲۸ ، فلے ترجمان القرآن ، عدد ۶ جلد ۱۶]بعدد ازاں یہ ادارہ جنوری ۱۹۳۹ء میں لاہور منتقل کر دیا گیا۔ اس مرحلے کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا مسلمانوں کو حاصل شدہ نتائج پر مطمئن ہو جانے دیا جائے یا ان میں مزید بے چینی پیدا کر کے انہیں اسلام کے صحیح نصب العین کی طرف لے جانے کی کوشش کی جائے۔

آیا مسلمانوں کو محض اپنی انفرادیت کے تحفظ ہی میں لگائے رکھا جائے، یا انہیں بتایا جائے کہ "تمہاری انفرادیت مقصود بالذات نہیں بلکہ ایک عظیم تر مقصد کے لیے ہے۔" یہ سوال سامنے آتے ہی، بقول مولانا مودودی: "میرے ضمیر نے قطعی فیصلہ صادر کیا کہ پہلی مشق غلط ہے اور صرف دوسری مشق صحیح ہے۔ چنانچہ اگر کوئی دوسرا سبب نہ پیش آتا تب بھی مجھے وہ کام کرنا ہی تھا جو میں نے کیا۔" چنانچہ ۲۵ اگست ۱۹۴۱ء کو لاہور کے ایک تاریخی اجتماع میں ۵۰ افراد نے دین کو قائم کرنے کا حلف اٹھایا اور جماعت اسلامی قائم ہوئی۔

اس وقت مسلمان مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہو چکے تھے، اور مطالبۂ پاکستان کے بعد حصولِ پاکستان کی مہم کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایک طرف مسلم لیگ کے قائد مختلف نظریات اور رجحانات رکھنے کے باوجود اسلامی حکومت کا نام لیتے تھے، اور دوسری طرف اس زمانے میں علامہ مشرقی کی قیادت میں ایک تحریک پورے زور سے چل رہی تھی جو اسلامی حکومت ہی کو اپنا مقصد قرار دیتی تھی، لیکن اسلام، اسلامی حکومت اور اس کے حصول کے طریقِ کار کے بارے میں اس کے نظریات خطرناک حد تک الجھے ہوئے تھے۔ وہ قانونِ فطرت اور قانونِ شریعت کو اس طرح خلط ملط کر رہے تھے کہ اسلام کی ایک بالکل نئی اور پیچیدہ تعبیر سامنے آ رہی تھی۔ ان حالات میں اس امر کی شدید ضرورت تھی کہ اسلامی حکومت کے بنیادی نظریہ اور اس کے نمایاں خدوخال کو لوگوں کے سامنے واضح کیا جائے تاکہ وہ اس کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔

دوسرا کام یہ تھا کہ تہذیبِ اسلامی کے احیاء کی جو مہم اس وقت ابھر آئی تھی، اس کے متعلق لوگوں کو وضاحت کے ساتھ بتایا جائے کہ یہ تہذیب دراصل کیا ہے اور اس میں دوسری تہذیبوں سے کیا فرق ہے۔

تیسرا کام یہ تھا کہ مسلم قوم پرستی کا پورا تجزیہ کر کے یہ حقیقت بے نقاب کی جائے کہ اسلامی نظامِ زندگی کا احیاء اور قیام فی الواقع کس نوعیت کی تحریک چاہتا ہے، اور جو تحریکیں اس وقت مسلمانوں میں چل رہی ہیں، وہ کیوں اس نصب العین تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔

چوتھا کام یہ تھا کہ جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ پہلے مسلمانوں کی ایک قومی جمہوری ریاست قائم ہو جائے، پھر اس کے ذریعے اسلامی حکومت قائم کی جا سکتی ہے، ان کی اس غلط فہمی کو دور کیا جائے۔ [چودھری غلام محمد، ص ۱۳۷-۱۳۸]

ان خیالات کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کے لیے اس زمانے میں جماعتِ اسلامی نے دوسرا اہم کام صالح افراد کی تلاش، ان کی تنظیم اور تربیت کی صورت میں انجام دیا۔

ان تمام امور کا مقصد احیائے اسلام تھا، لیکن احیائے اسلام کا مقصد اسی صورت میں مکمل ہو سکتا تھا جب ہندوستان دارالکفر کے بجائے دارالاسلام بن جاتا۔ دارالکفر کو دارالاسلام بنانے، یا ہندوستان کی آزادی اور حصولِ پاکستان کے ضمن میں مولانا مودودی کے نظریات کے تعین کے لیے ہمیں ایک بار پھر کچھ پیچھے چلنا ہو گا۔