مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک پاکستان اور مولانا مودودی

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ کتاب کسی اور مصنف کی تالیف ہے جس میں تحریکِ پاکستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے کردار کا دفاع اور جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مؤلف کے بقول بعض حلقے مولانا کے کردار کو تحریکِ پاکستان کے تعلق سے غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں، حالانکہ ان کی خدمات تحریکِ آزادی کا بغور مطالعہ کرنے والے ہر شخص کے نزدیک مسلّم ہیں۔

کتاب میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کی ہندوستان میں سیاسی و تہذیبی جدوجہد کا پس منظر بیان کیا گیا ہے، اور مولانا مودودی کی طرف سے پیش کیے گئے تقسیمِ ہند کے تین متبادل خاکوں (بین الاقوامی وفاق، علاقائی تقسیم، اور مکمل علیحدہ وفاق) کی تفصیل نقل کی گئی ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے تجویز کیے تھے۔

نظریۂ تقسیم ہند

ہندوستان میں رہتے ہوئے مسلمانوں کی دو قطعی حیثیتیں تھیں۔ بقول مولانا مودودی، پہلی حیثیت میں ہم اس ملک کی تمام دوسری قوموں کے ہر حال میں شریک تھے، لیکن دوسری حیثیت میں ہمارے مسائل کچھ اور تھے، جن کا تعلق محض ہم ہی سے تھا۔ اجنبی استیلا نے ہمارے قومی اخلاق کو، ہماری قومی تہذیب کو، ہمارے اصولِ حیات کو، ہماری معاشرت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ ڈیڑھ سو برس کی غلامی نے ہماری قومیت کی ان بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا جن پر ہمارا قومی وجود استوار تھا۔ اس وقت مسلمانوں کا باشعور طبقہ خیال کر رہا تھا کہ اگر اس طرح کی صورتحال اور زیادہ مدت تک جاری رہی تو ہندوستان میں اسلامی قومیت رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ اپنے قومی وجود کو برقرار رکھنے اور اس کو نشوونما دینے کے لیے ضروری تھا کہ ہم آزادی حاصل کریں۔ اس وقت آزادی وطن کے دو ہی راستے قرار پائے تھے۔ ایک راستہ وطن پرستی کا تھا، جس کو ہم صرف ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے اختیار کر سکتے تھے۔ اس راہ کے بنانے والے اور اس پر چلانے والے وہ لوگ تھے جن کے پیشِ نظر وطنی قومیت کا مغربی تصور تھا۔ ان کا منتہائے مقصود یہ تھا کہ ہندوستان میں مختلف قومی امتیازات، جو مذہب اور تہذیب کی تفریق پر قائم ہیں، مٹ جائیں اور سارا ملک ایک قوم بن جائے۔ پھر اس قوم کی زندگی کا جو نقشہ ان کے سامنے تھا، وہ اشتراکیت اور ہندویت سے مرکب تھا، اور اس میں مسلمانوں کے اصولِ حیات کی رعایت تو درکنار، اس کے لیے کوئی ہمدردانہ نقطۂ نظر بھی ان کے پاس نہیں تھا۔

ظاہر ہے کہ اس راستے پر چل کر ہمیں وہ آزادی حاصل نہیں ہو سکتی تھی جو ہمیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے درکار تھی۔ اس راستے کو اختیار کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انگریزی حکومت کے ماتحت جس انقلاب کا عمل ڈیڑھ سو برس ہماری قوم میں ہو رہا تھا، وہ ہندوستانی حکومت کے ماتحت زیادہ شدت و سرعت کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچتا اور ہم اس کی تکمیل میں مددگار بنتے۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ:

اس کا کھلا ہوا نتیجہ یہ ہے کہ تحریک آزادی ہند کے دوران میں ہمارا اجتماعی وجود فنا بھی ہو جائے اور ہم جدا جدا قطروں کی شکل اختیار کر کے جدید نیشنلزم کی خاک میں جذب بھی ہو جائیں۔ پھر بحیثیت قوم کے ہم "نشاۃِ ثانیہ" کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔

ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:

آزادی جو وطن پرستوں کے پیش نظر ہے تو اس کی حمایت میں رونا کیا معنی؟ ہم تو اسے انگریزوں کی غلامی سے بھی زیادہ ملعون سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس کے علمبردار مسلمانوں کے لیے کچھ وہی ہیں جو کلائیو اور ڈلہوزی تھے۔ ان کے پیرو مسلمان ہونے کی حیثیت سے بھی میرجعفر اور میرصادق سے مختلف نہیں۔ گو صورتیں اور حالات مختلف ہیں، مگر دشمنی اور غداری کی نوعیت میں کوئی فرق نہیں۔

آزادی وطن کا دوسرا راستہ یہ تھا کہ جس میں کسی باشندۂ ہند کی ہندوستانی ہونے کی حیثیت اور اس کے مسلم یا ہندو یا عیسائی یا سکھ ہونے کی حیثیت میں کوئی تناقض نہ ہو۔ جس میں ہر گروہ کو دونوں حیثیتوں سے آزادی حاصل ہو۔ جس کی نوعیت یہ ہو کہ مشترک وطنی مسائل کی حد تک تو امتیازِ مذہب و ملت کا شائبہ تک نہ آنے پائے، مگر جداگانہ قومی مسائل میں کوئی قوم دوسری قوم سے تعرض نہ کر سکے، اور ہر قوم کو آزاد ہندوستان کی حکومت میں اتنی طاقت حاصل ہو کہ وہ اپنے مسائل کو خود حل کرنے کے قابل ہو۔ یہ تھا مولانا مودودی کا نظریہ جس کے تحت وہ ہندوستان کی قومیتوں کی آزادی چاہتے تھے، نہ کہ بحیثیت ایک قوم ہونے کے۔ [ملاحظہ کیجیے: تحریک آزادی ہند اور مسلمان، ص ۱۰۰]

اس وقت مسلمانوں میں اس سوال پر کہ آزادی کس طرح حاصل ہو سکتی ہے، دو گروہ نمایاں تھے، جو مختلف تجاویز پیش کر رہے تھے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ آزادی وطن کے لیے جو جماعت جدوجہد کر رہی ہے، اس کے سامنے اپنے مطالبات پیش کیے جائیں۔ اور جب وہ انھیں منظور کرلے تو اس کے ساتھ شریک ہو جائیں ۔ دوسرے گروہ کاخیال تھا کہ بلا کسی شرط کے آزادی کی تحریک میں حصہ لینا چاہئے۔

مولانا مودودی کی نظر میں یہ دونوں گروہ غلطی پر تھے۔ ان کے خیال میں پہلے گروہ کی غلطی یہ تھی کہ وہ کمزوروں کی طرح بھیک مانگنا چاہتا ہے۔ اور دوسرا گروہ آزادی کے جوش میں اپنی قوم کی بنیادی کمزوریوں کو بھول جاتا ہے۔ چنانچہ یہ دونوں گروہ اس وقت مسلمانوں کی غلط رہنمائی کررہے ہیں۔ اور اس غلط رہنمائی کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کی موجودہ پوزیشن اور مستقبل کے امکانات پر کافی غور و خوض نہیں کیا ہے [ملاحظہ فرمائیے: مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ص ٨٠-٨٢]۔ ان وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کے لیے ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ مسلمان ہندوستان کی آزادی کے لیے جنگ میں مشترک ہونے سے پہلے اپنی کمزوریوں کو دور کریں اور اپنے اندر وہ طاقت پیدا کریں، جس سے ہندوستان کی آزادی کے ساتھ مسلمانوں کی آزادی کا حصول بھی ممکن ہو سکے۔ اس غرض کے لیے مسلمانوں کو اپنی قوتیں ان امور پر خرچ کرنی چاہئیں۔ مولانا مودودی کے خیال میں وہ حسب ذیل تھیں [تفصیلات کے لیے تحریک آزادی ہند اور مسلمان ص ٨٥-٨٦]۔

١- مسلمانوں میں وسیع پیمانہ پر اصول اسلام اور قوانین شریعت کا علم پھیلایا جائے اور ان کے اندر کم از کم اتنی واقفیت پیدا کردی جائے کہ وہ اسلام کے حدود کو پہچان لیں اور یہ سمجھ سکیں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم کن خیالات اور کن عملی طریقوں کو قبول کر سکتے ہیں۔

٢- علم کی اشاعت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو عملاً احکام اسلامی کا متبع بنانے کی کوشش کی جائے اور خصوصیت کے ساتھ ان ارکان کو پھر سے استوار کیا جائے جن پر باہمی نظام جماعت کی بنیاد قائم ہے۔

٣- مسلمانوں کی رائے عام کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ غیر اسلامی طریقوں کے رواج کو رد کرنے پر مستعد ہو جائیں اور ان کا اجتماعی ضمیر احکام اسلامی کے خلاف افراد کی بغاوت کو برداشت کرنا چھوڑ دے۔

٤- ہمیں اپنی اجتماعی قوت اتنی مضبوط کرنی چاہیے کہ اپنی جماعت کے ان غداروں اور منافقوں کا استیصال کر سکیں، جو اپنے دل کے چھپے ہوئے کفر و نفاق کی وجہ سے یا ذاتی اغراض کی خاطر اسلامی مفاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

٥- مسلمانوں میں اس قدر اتحادِ خیال اور اتحادِ عمل پیدا کر دیا جائے کہ وہ تنِ واحد کی طرح ہو جائیں اور ایک مرکزی طاقت کے اشاروں پر حرکت کرنے لگیں۔

٦- ہمیں اس امر کی کوشش کرنی چاہیے کہ جمہور مسلمین کی قیادت کا منصب نہ انگریز کی غلامی کو حاصل ہو سکے نہ ہندو کے غلاموں کو، بلکہ ایک ایسی جماعت کے قبضے میں آجائے جو ہندوستان کی کامل آزادی کے لیے دوسری ہمسایہ قوموں کے ساتھ اشتراکِ عمل کرنے پر دل سے آمادہ ہو، مگر اسلامی مفاد کو کسی حال میں قربان کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

ان مقاصد کے لیے مسلمانوں کی تہذیب و قومیت کی بقاء اور فروغ کا انحصار بھی دو چیزوں پر ہے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کا نظام تعلیم ایسا ہو جو ان کے دل و دماغ میں اسلام کے طریقِ فکر اور مقصدِ حیات کو صحیح طور پر پیوست کر دے، اور ان کو اس قابل بنائے کہ وہ مسلمان کی حیثیت سے دیکھیں، مسلمانوں کی حیثیت سے سوچیں اور اسلام کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق زندگی کے ہر دور پر ایک راستے کا انتخاب کریں۔ دوسرے یہ کہ یہ نظامِ تہذیب اپنی صحیح صورت میں عملاً قائم ہو، اجتماعی زندگی میں اس کے اصول عملاً نافذ ہوں، اور ایک ایسا اسلامی ماحول بن جائے جس میں مسلمان خود بخود اسلامی اصولوں پر زندگی بسر کریں۔ اس غرض کے لیے مسلمانوں کے پاس سیاسی طاقت کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ کوئی سوسائٹی سیاسی طاقت کے بغیر اپنی مخصوص ہیئت کی حفاظت نہیں کر سکتی۔[تحریک آزادی ہند اور مسلمان ص ۱۲۳]

انگریزی اقتدار کی غلامی میں ہم کو اصلی نقصان پہنچا ہے وہ یہ کہ اپنی تہذیب کو ایک زندہ تہذیب کی حیثیت سے باقی رکھنے کے لیے دونوں ذرائع ہم سے چھین گئے۔ ایک طرف ہماری قوم پر ایک ایسا نظامِ تعلیم مسلط کر دیا گیا تھا جو اپنے پیمانے پر ہمارے افراد کے طریقِ فکر کو بدل رہا تھا، نظریۂ زندگی اور مقصدِ حیات کو بدل رہا تھا، اور اس معیار کو بدل رہا تھا جس سے وہ اشیاء کی قدریں متعین کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایک غیر قوم کی سیاسی طاقت نے ہم پر ایک ایسا ماحول مسلط کر دیا تھا، اور ہم اس کی بدولت اس طاقت سے محروم ہو گئے تھے جس سے ہم اپنی سوسائٹی کو اس مخصوص اسلامی ہیئت پر قائم و برقرار رکھ سکیں۔

چنانچہ مولانا مودودی کے پیشِ نظر اس وقت مسلمانوں کا اصل قومی مسئلہ یہ تھا کہ ہندوستان میں جو انقلاب درپیش ہے، اس میں ہم اس نقصان کی تلافی کر سکیں جو انگریزی اقتدار سے ہماری قومیت اور ہماری تہذیب کو پہنچا ہے۔ ہمیں اتنی طاقت حاصل ہو کہ ہم اپنے نظامِ تعلیم کو خود اپنی ضروریات کے مطابق بنا سکیں، اور ہمیں حکومت میں [یہ تحریر اس وقت کی ہے جب پاکستان کا تصور پیش نہیں کیا گیا تھا] اتنا اقتدار حاصل ہو کہ ہم اپنے تمدنی، معاشرتی اور معاشی مسائل کو خود اپنے اصولوں کے مطابق حل کر سکیں، اور اپنے اجتماعی نظام کو پھر سے اسلامی بنیادوں پر مرتب کر لیں [تحریک آزادی ہند اور مسلمان ص ۱۲]۔

تقریباً یہی اس نصب العین کے خاکے کی بنیادیں ہیں جو مولانا مودودی کے پیشِ نظر مسلمانوں کے لیے ان کی مساعی کا منتہا و مقصود ہونی چاہئیں۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے لیے ایسی آزادیٔ وطن کی خاطر لڑنا تو قطعی حرام ہے جس کا نتیجہ انگلستانی غیر مسلموں سے ہندوستانی غیر مسلموں کی طرف اقتدارِ حکومت کا انتقال ہو۔ پھر ان کے لیے یہ بھی حرام ہے کہ وہ اس انتقال کے عمل کو بیٹھے ہوئے خاموشی سے دیکھتے رہیں۔ اور ان کے لیے یہ بھی حرام ہے کہ اس انتقال کو روکنے کی خاطر انگلستانی غیر مسلموں کا اقتدار قائم رکھنے کے معاون بن جائیں۔ اسلام ہم کو ان تینوں راستوں پر چلنے سے روکتا ہے۔ اب اگر ہم مسلمان رہنا چاہتے ہیں اور ہندوستان میں اسلام کا وہ حشر دیکھنے کے لیے تیار نہیں جو اسپین اور سسلی میں ہو چکا ہے، تو ہمارے لیے صرف ایک ہی راستہ باقی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم آزادیٔ ہند کی تحریک کا رخ حکومتِ کفر کی طرف سے حکومتِ حق کی طرف پھیرنے کی کوشش کریں، اور اس غرض کے لیے ایک ایسی سرفروشانہ جنگ پر کمر بستہ ہو جائیں جس کا انجام یا کامیابی ہو یا موت۔

"یاتن رسد بجان یا جاں ز تن بر آید"۔

ہم آزادیٔ ہند کے مخالف نہیں بلکہ ہر آزادی خواہ سے بڑھ کر اس کے خواہشمند ہیں، اور اس کے لیے جنگ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ لیکن وطن پرست کے نصب العین سے ہمارا نصب العین مختلف ہے۔ وہ صرف ایسی آزادی چاہتا ہے جس کا نتیجہ "ہندوستانی" کی نجات ہو، اور ہم وہ آزادی چاہتے ہیں جس کا نتیجہ "ہندوستانی" کے ساتھ "مسلم" کی نجات بھی ہو [تحریک آزادی ہند اور مسلمان ص ۲۷، ۲۸]۔

اس وقت جو مسلمان زعماء تحریکِ آزادی میں شامل تھے یا اس کی تائید و حمایت مختلف انداز سے کررہے تھے، ان میں سے ایسے قائدین جو قومیت پرست تھے اور مسلمانوں کی بحیثیت ہندوستانی نجات چاہتے تھے، مولانا مودودی ان سے مذکورہ بالا امور کی وجہ سے شدید اختلافات رکھتے تھے۔ ان کے نصب العین اور ان کے طریقِ کار دونوں کے مخالف رہے۔ ساتھ ہی وہ اس وقت کی مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم مسلم لیگ سے بھی مذکورہ بالا امور کی بناء پر متفق نہیں تھے۔

قائدین کے ان دونوں گروہوں کے بارے میں مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو صاحبِ علم اور صاحبِ فکر لوگوں نے اس باب میں جس قدر غفلت سے کام لیا ہے، اس کا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ مسئلہ بالکل نااہل اور نہایت ناقابلِ اعتماد لوگوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن گیا ہے۔ اور انہوں نے اس کو نہایت غلط طریقوں سے پیش کر کے دوسروں ہی کو نہیں، خود اپنی قوم کو بھی پریشان خیالوں اور غلط فہمیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔

ان میں سے ایک بڑی جماعت تو اسلام کا صحیح علم ہی نہیں رکھتی اور اس حقیقت کو سمجھ سکتی ہے کہ مغربی علوم کے فروغ، غیر مسلم حکومت کے اقتدار اور اب جدید نیشنلزم کے بڑھتے ہوئے سیلاب سے قوم کے لیے فی الواقع کون سا بنیادی سوال پیدا ہو گیا ہے۔ یہ لوگ بغیر سمجھے بوجھے محض چند سطحی اور حقیقی جزئیات کو مسلمانوں کے قومی مسائل بنا کر پیش کرتے ہیں، اور ان پر مناسب حد سے زیادہ زور دے کر اپنی پوزیشن کو اور زیادہ مضحکہ خیز بنا دیتے ہیں۔ اس سے ہوشیار لوگوں کو یہ خیال پھیلانے کا اچھا موقع مل جاتا ہے کہ مسلمانوں کا قومی مسئلہ چند بہت ہی چھوٹی چھوٹی باتوں سے مرکب ہے، جن کو محض جہالت، تنگ نظری اور نادانی کی وجہ سے اتنی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔

ایک دوسری جماعت جس نے اس مسئلہ کی حمایت میں اپنے آپ کو بہت نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے، انگریزی سلطنت کے وفادار غلاموں پر مشتمل ہے۔ اور ان کا فائدہ اسی میں ہے کہ اصل مسئلہ کو فروعات میں گم کر دیا جائے تاکہ مسلمان فضول چیزوں پر لڑ لڑا کر اپنی قوت ضائع کرتے رہیں۔ ان حضرات کی مداخلت سے اس مسئلہ کی عزت و وقعت اور بھی زیادہ کم ہوگئی ہے، اور مخالف گروہ کے چالاک لوگوں کو یہ مستحضر کرنے کا بہت اچھا بہانہ ہاتھ آگیا ہے کہ درحقیقت مسلمانوں کے قومی مسئلہ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ یہ تو محض امپیریل پالیسی کا ایک شاخانہ ہے اور صرف ٹوڈیوں، رجعت پسندوں اور سرکار پرستوں ہی کی اغراض نے اسے پیدا کیا ہے۔

مسلم لیگ اور اس کے قائدین نے قیامِ پاکستان کے لیے جدوجہد کی، اس میں مولانا مودودی نے جس وجہ سے عملاً شرکت نہیں کی وہ مسلم لیگ اور اس کے قائدین کے طریقِ کار سے مولانا کا اختلاف تھا۔ اس سلسلے میں ان کا استدلال یہ تھا کہ:

(الف) اگر ہمارے پیشِ نظر ایک اسلامی ریاست ہے تو یہ ضروری ہے کہ ہم قوم کو اس مقصد کے حصول کے لیے اخلاقی حیثیت سے بھی تیار کریں۔ صرف سیاسی جنگ اس کے لیے کافی نہیں۔ اس کے لیے عملی، فکری، اخلاقی، تہذیبی، سیاسی، غرض ہر میدان میں کام کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر اس کا حصول مشکل ہے۔

(ب) تحریک کی ہمہ گیری اور اس کے رشید اور مطبوع قیادت کے انتخاب میں پوری احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ اشرافیوں، ملی مردی اور بے رتبوں، جاگیرداروں اور زمینداروں سب کو بلا سوچے سمجھے ایک ساتھ جمع کر دینے سے جو بھیڑ ہو جاتی ہے، وہ کبھی بھی قوم کی رہنمائی صحیح سمت میں نہیں کر سکتی۔ یہ تو ایک دوسرے کا گلا کاٹنے اور اپنے اپنے مقاصد کے لیے قوم کو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، اور اصل منزل کھوٹی ہو جائے گی۔

(ج) مسلمانوں کی بنیادی حیثیت ایک اصولی جماعت اور داعی گروہ کی ہے، اور کسی قیمت پر بھی یہ حیثیت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

مولانا مسلم لیگ کے رویے سے بھی اس وجہ سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کے خیال میں مسلم لیگ میں مختلف الخیال افراد کا ایسا مجمع ہو رہا ہے جو قیامِ پاکستان کے بعد اسلام کی حکمرانی کی راہ میں معاون بننے کے بجائے رکاوٹ ہی بن سکتا ہے۔ طریقِ کار کے اعتبار سے مولانا نے اسے صاف طور پر ظاہر کر دیا تھا۔ چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلسِ عمل کے ایک خط کے جواب میں مولانا نے لکھا تھا۔

"آپ حضرات ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ میں اس کام میں کسی قسم کے اختلافات کی وجہ سے حصہ لینا نہیں چاہتا۔ دراصل میری مجبوری یہ ہے کہ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ حصہ لوں تو کس طرح۔ ادھوری تدابیر میرے ذہن کو بالکل اپیل نہیں کرتیں۔ نہ داغ دوزی (Patch work) سے ہی مجھ کو کبھی دلچسپی رہی ہے۔ کوئی ترتیب اور کلی تعمیر میرے پیشِ نظر ہوتی تو میں یہ دل و جان اس میں ہر خدمت انجام دینے کے لیے تیار تھا" [ترجمان القرآن - جولائی ۱۹۴۷ء بحوالہ خورشید احمد - مقدمہ - تحریک آزادی ہند اور مسلمان ص ۲۳]۔

یہ وہ اسباب تھے جن کی بنا پر مولانا مودودی نے تحریک میں عملی شرکت نہیں کی۔ لیکن عملی طور پر وہ نظریۂ پاکستان کی برابر خدمت کرتے رہے۔ اسلام کے نظامِ حیات کے خدوخال واضح کرتے رہے اور تصورِ پاکستان کی تائید بھی کرتے رہے۔ جب ہندوستان کی تقسیم کا نظریہ پیش کیا گیا اور مسلمانوں کے ایک گروہ نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کو کیسے گوارا کیا جا سکتا ہے تو مولانا مودودی نے کہا:

"مسلمان ہونے کی حیثیت سے میری نگاہ میں اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں کہ ہندوستان ایک ملک رہے یا دس ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے۔ تمام روئے زمین ایک ملک ہے، انسانیت نے اس کو ہزاروں حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ یہ اب تک کی تقسیم اگر جائز تھی تو آئندہ مزید تقسیم ہو جائے گی تو کیا بگڑے گا۔ اس بت کے ٹوٹنے پر ترجیح ہے وہ جو اسے مسجود سمجھتا ہو۔ مجھے تو اگر یہاں ایک مربع میل کا رقبہ بھی ایسا مل جائے جس میں انسان پر خدا کے سوا کسی کی حاکمیت نہ ہو تو میں اس کے ایک ذرۂ خاک کو تمام ہندوستان سے زیادہ قیمتی سمجھوں گا" [سیاسی کشمکش، حصہ سوم، طبع ششم، ص ٧٦-٧٧]۔

ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

"ہم اصولاً اس بات کے مخالف ہیں کہ دنیا کی کوئی قوم کسی دوسری پر سیاسی و معاشی حیثیت سے مسلط ہو۔ ہمارے نزدیک اصولاً ہر قوم کا حق ہے کہ اس کی سیاسی و معاشی باگیں اس کے اپنے ہاتھوں میں ہوں۔ اس لیے ایک قوم ہونے کی حیثیت سے اگر مسلمان یہ مطالبہ کرتے ہیں تو جس طرح دوسری قوموں کے معاملے میں یہ مطالبہ صحیح ہے، اسی طرح ان کے معاملے میں بھی صحیح ہے" [ترجمان القرآن جولائی، اکتوبر ۱۹۴۷ء، رسائل و مسائل جلد اول ص ۶۱ اور ص ۳۶]۔

آج کے ترقی پسند حضرات جس طرح پاکستان کے مطالبہ کو اسرائیل کے لیے یہودیوں کے مطالبہ سے مماثلت دے رہے ہیں، اسی طرح کی مماثلت تحریکِ آزادی کے دوران بھی کی جا رہی تھی۔ اس وقت مولانا مودودی نے اس ذہنیت کی پرزور تردید کی تھی اور لکھا تھا کہ:

"میرے نزدیک پاکستان کے مطالبہ پر یہودیوں کے قومی وطن کی تشبیہہ چسپاں نہیں ہونی۔ فلسطین فی الواقع یہودیوں کا قومی وطن نہیں ہے۔ یہودیوں کی اصل پوزیشن یہ نہیں ہے کہ ایک ملک واقعی ان کا قومی وطن ہے اور وہ اسے تسلیم کرانا چاہتے ہیں، بلکہ ان کی اصل پوزیشن یہ ہے کہ ایک ملک ان کا قومی وطن نہیں ہے اور ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم کو دنیا کے مختلف گوشوں سے سمیٹ کر وہاں بسایا جائے اور اسے بزور سارا قومی وطن بنا دیا جائے۔ بخلاف اس کے مطالبۂ پاکستان کی بنیاد یہ ہے کہ جس علاقہ میں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے وہ بالفعل مسلمانوں کا قومی وطن ہے۔ مسلمانوں کا کہنا صرف یہ ہے کہ موجودہ جمہوری نظام میں ہندوستان کے دوسرے حصوں کے ساتھ لگے رہنے سے ان کے قومی وطن کی سیاسی حیثیت کو جو نقصان پہنچا ہے، اس سے ان کو محفوظ رکھا جائے، اور متحدہ ہندوستان کی ایک آزاد حکومت کے بجائے "سند و ہند وستان" اور "مسلم ہندوستان" کی دو آزاد حکومتیں قائم ہوں۔ بالفاظِ دیگر مسلمان یہ نہیں کہتے کہ ہمارے لیے ایک قومی وطن بنایا جائے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا قومی وطن جو بالفعل موجود ہے، اس کو اپنی آزاد حکومت الگ قائم کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے" [ترجمان القرآن، جولائی۔ اکتوبر ۱۹۴۴ء]۔

جب صوبہ سرحد اور سلہٹ میں ریفرنڈم ہو رہے تھے تو اس موقع پر مولانا مودودی نے وہاں کے عوام کو پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کا مشورہ دیا تھا اور انہیں اس امر پر آمادہ کرنے کے لیے یہ فرمایا تھا کہ:

"اگر یہاں صوبہ مشترکہ کا رہنے والا ہونا تو استصوابِ رائے میں میرا ووٹ پاکستان کے حق میں پڑتا۔ اس لیے کہ جب ہندوستان کی تقسیم مسلم قومیت کی بنیاد پر ہو رہی ہے تو لا محالہ ہر اس علاقہ کو جہاں مسلمان قوم کی اکثریت ہے، اس تقسیم میں مسلم قومیت ہی کے علاقے کے ساتھ شامل ہونا چاہیے" [کوثر (سہ روزہ) مورخہ ۵ جولائی ۱۹۴۷ء]۔

۹-۱۰مئی ۱۹۴۵ء کے کل ہند اجتماع میں ۳ جون ۱۹۴۵ء کی تجویزِ تقسیم سے تقریباً ایک ماہ قبل مولانا مودودی نے خطابِ عام کے اختتام پر فرمایا تھا کہ:

"اب یہ بات تقریباً طے شدہ ہے کہ ملک تقسیم ہو جائے گا۔ ایک حصہ مسلمان اکثریت کے سپرد کیا جائے گا اور دوسرا حصہ غیر مسلم اکثریت کے زیرِ اثر ہوگا۔ پہلے حصہ میں ہم کوشش کریں گے کہ رائے عام کو ہموار کر کے اس دستور و قانون پر ریاست کی بنیاد رکھیں جسے ہم مسلمان خدائی دستور و قانون مانتے ہیں۔ غیر مسلم حضرات وہاں ہماری مخالفت کرنے کے بجائے ہمیں کام کرنے کا موقع دیں اور دیکھیں کہ ایک بے دین قومی جمہوریت کے مقابلہ میں یہ خدا پرستانہ خلافت جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت پر قائم ہوگی، کہاں تک خود باشندگانِ پاکستان کے لیے اور کہاں تک تمام دنیا کے لیے رحمت و برکت ثابت ہوتی ہے" [ترجمان القرآن جلد ۳، عدد ۵، ص ۳۴]۔

مسلم لیگ نے مولانا مودودی کی تحریروں سے کافی فائدہ اٹھایا تھا۔ اس نے ان کی کئی تحریروں کو اپنے طور پر شائع کر کے پھیلایا تھا اور کانگریسی اور انگریزی اقتدار کے خلاف استعمال کیا تھا۔ خصوصاً اسلامی تصورِ قومیت پر ان کے مضامین مسلم لیگ کے حلقوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے رہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب یوپی مسلم لیگ نے اسلامی نظامِ مملکت کا خاکہ تیار کرنے کے لیے علماء کی ایک مجلس بنائی تو مولانا مودودی نے اس کی رکنیت قبول کی اور کام میں بڑی دلچسپی لی۔ کچھ عرصہ قبل وہ مسودہ شائع ہوا ہے جو اس مجلس سے وابستہ ایک معاونِ تحقیق مولانا اسحاق سندیلوی نے بطور ابتدائی خاکہ تیار کیا تھا۔ اس کے پیش لفظ میں مولانا عبد الماجد دریابادی نے مندرجہ ذیل مجلسِ نظامِ اسلامی کے چار ارکان کے نام لکھے ہیں:

۱- مولانا سید سلیمان ندوی

۲- مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی

۳- مولانا آزاد سبحانی

۴- عبد الماجد دریابادی

اس سلسلہ میں قمر الدین خاں صاحب، ریڈر سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک ریسرچ کے ایک مضمون کا اقتباس بھی یہاں مفید ہوگا، جو موصوف نے لکھا ہے کہ وہ مولانا مودودی سے ۱۹۴۶ء میں قائداعظم سے ملے اور:

"راجہ آف محمود آباد کی مدد سے گل رعنا (دہلی) میں ہماری ملاقات کا انتظام کیا گیا۔ قائداعظم پینتالیس منٹ تک بڑے صبر سے میری بات سنتے رہے اور پھر کہا (مولانا مودودی) کی خدمات کو وہ نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست کا حصول ان کی زندگی اور کردار کی تطہیر سے زیادہ فوری اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اور لیگ میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ جماعت اگر ایک اعلیٰ مقصد کے لیے کام کر رہی ہے تو لیگ اس فوری حل طلب مسئلہ کی طرف متوجہ ہے، جیسے اگر حل نہ کیا جا سکا تو جماعت کا کام مکمل نہ ہو سکے گا۔"