تحریک پاکستان اور مولانا مودودی
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ کتاب کسی اور مصنف کی تالیف ہے جس میں تحریکِ پاکستان میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے کردار کا دفاع اور جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مؤلف کے بقول بعض حلقے مولانا کے کردار کو تحریکِ پاکستان کے تعلق سے غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں، حالانکہ ان کی خدمات تحریکِ آزادی کا بغور مطالعہ کرنے والے ہر شخص کے نزدیک مسلّم ہیں۔
کتاب میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کی ہندوستان میں سیاسی و تہذیبی جدوجہد کا پس منظر بیان کیا گیا ہے، اور مولانا مودودی کی طرف سے پیش کیے گئے تقسیمِ ہند کے تین متبادل خاکوں (بین الاقوامی وفاق، علاقائی تقسیم، اور مکمل علیحدہ وفاق) کی تفصیل نقل کی گئی ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے تجویز کیے تھے۔
معروضات
ایک محتاط جائزے کے مطابق آج مولانا مودودی دنیائے اسلام کے سب سے بڑے مفکر، عالم اور دین رہنما ہیں۔ ان کا سب سے بڑا مقصد پاکستان میں اسلامی نظام کا قیام ہے۔ ان کی زندگی اسلام کے احیاء، مسلمانوں میں اسلام کے عمل دخل اور اسلام کے فروغ کی کوششوں سے عبارت ہے۔ انھوں نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کا، خواہ وہ تعلیمی ہو یا تہذیبی، فکری ہو یا عملی، اخلاقی ہو یا مذہبی، اقتصادی ہو یا سیاسی، معاشرتی ہو یا تمدنی، اسلامی نقطہ نظر سے گہرا مطالعہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھیں شدید مخالفتوں، الزامات اور طعن و دشنام سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ ان سے متعلقہ اکثر الزامات اور اختلافات محض کم علمی، غلط فہمی اور کوتاہ نظری کا نتیجہ ہیں۔ انھیں عوامل کی بنا پر بعض افراد مولانا مودودی کے کردار کو تحریک پاکستان کے تعلق سے بھی غلط رنگ میں پیش کر رہے ہیں اور غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں۔ حالانکہ اس ضمن میں مولانا مودودی کا کردار اس قدر بے داغ اور نمایاں ہے کہ ہر وہ شخص جس نے تحریک آزادی میں حصہ لیا ہے یا اس کا بغور مطالعہ کیا ہے، مولانا کی خدمات کا قائل ہو گا۔
بعض افراد محض مسلم لیگ کی قیادت کے قبول کرنے کو تحریک پاکستان میں شمولیت قرار دیتے ہیں۔ تحریک آزادی کے دنوں میں ہر وہ شخص جس کا خیال تھا کہ ہندو و مسلمان دو قومیں ہیں، مسلمانوں کا مستقبل ہندوستان میں محفوظ نہیں رہ سکے گا، اس لیے برعظیم کی تقسیم ہونی چاہیے، اور تقسیم کے بعد مسلمانوں کے حصہ میں آنے والے علاقوں میں اسلامی نظام قائم کیا جائے گا، ایسے خیالات کے حامل ہر شخص کو ہم بلا شک و شبہ (برعظیم میں) اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کے لیے مخلص تسلیم کریں گے۔ اور اگر ان دنوں کسی شخص نے کبھی تحریک پاکستان کے خلاف کوئی قرارداد پاس کی، نہ اس میں حصہ لیا اور نہ ہی کبھی تقریری و تحریری طور پر پاکستان یا اس کے موقف کی مخالفت کی، تو ہم اسے کیوں کر پاکستان کا مخالف قرار دے سکیں گے۔
تحریک پاکستان کے تعلق سے مولانا مودودی کی خدمات کا جائزہ ایک محتاط و مبسوط تحقیقی مطالعہ کا محتاج ہے۔ زیر نظر تحریر تحریک پاکستان کے ایک معمولی طالب علم کا سرسری جائزہ ہے، جسے وہ اپنی کوتاہیوں کے مکمل احساس کے ساتھ پورے عجز و انکسار سے پیش کر رہا ہے۔
(معین الدین عقیل)