مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

شخصیات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "شخصیات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تصنیف ہے جو اسلامی تاریخ کے ان عظیم رہنماؤں، مفکرین، مصلحین اور شہداء کی زندگیوں، کرداروں اور کارناموں کا جائزہ پیش کرتی ہے جنہوں نے امتِ مسلمہ کی فکری، اخلاقی، سیاسی اور روحانی تاریخ کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد صرف تاریخی واقعات کی نقل نہیں بلکہ ان شخصیات کے ذریعے اسلامی نظامِ حیات، اسلامی ریاست کے اصول، اجتہاد کی اہمیت، اور حق و باطل کے درمیان واضح فرق کو قاری کے سامنے روشن کرنا ہے۔ مولانا مودودی کا نقطۂ نظر ہمیشہ اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کرنا رہا ہے، اور یہ کتاب بھی اسی فکری روایت کا حصہ ہے جہاں ہر شخصیت کا جائزہ اس لینس سے لیا گیا ہے کہ اس نے اسلام کے اس تصور کو کس حد تک سمجھا، اپنایا، اور اس کے لیے جدوجہد کی۔

کتاب کا آغاز دو تعارفی ابواب سے ہوتا ہے جو مرتبین کی محنت اور مولانا مودودی کی ان تحریروں کی اہمیت بیان کرتے ہیں جو ابتدائی طور پر مختلف رسائل و مجلات میں شائع ہوئی تھیں مگر بعد میں منظم شکل میں جمع کی گئیں۔ اس کے بعد کتاب کا مرکزی سفر شروع ہوتا ہے امام حسینؓ کی شہادت سے، جسے مولانا مودودی محض جذباتی غم کا واقعہ نہیں بلکہ اسلامی ریاست کے روح اور اصولوں—جیسے آزادانہ انتخاب، شورائی نظام، قانون کی حکمرانی، اور مساوات—کی حفاظت کے لیے ایک باشعورانہ قربانی قرار دیتے ہیں۔

کتاب کا بیشتر حصہ چار بڑی شخصیات پر تفصیلی مضامین پر مشتمل ہے: امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے فقہی و انتظامی کارنامے، شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا تنقیدی و تعمیری کام، اور مجدد الف ثانیؒ، سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تجدیدی کاوشیں۔ اس کے بعد ٹیپو سلطان، مصطفیٰ کامل پاشا اور علامہ اقبال پر مستقل ابواب ہیں—خصوصاً اقبال کے سیاسی و فکری کارنامے، ان کے فلسفۂ خودی، وطنی قومیت کی تردید اور دین و سیاست کی یگانگت پر متعدد مضامین کتاب کا وزنی ترین حصہ ہیں۔

کتاب کا اختتامی حصہ مختصر مضامین اور تعزیتی خاکوں کی صورت میں متعدد معاصر و ماضی قریب کی شخصیات کا احاطہ کرتا ہے، جن میں مولانا ابوالکلام آزاد، قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ، شاہ فیصل شہیدؒ، حسن البناؒ، مفتی اعظم فلسطین امین الحسینیؒ، مولانا احمد رضا خان بریلویؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ اور دیگر علماء و مصلحین شامل ہیں۔ ہر خاکہ اسی معیار پر پرکھا گیا ہے کہ متعلقہ شخصیت نے اسلام کے نظامِ حیات کو کس حد تک سمجھا اور اس کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تنقیدی کام

پہلے عنوان کے سلسلہ میں شاہ صاحب نے پوری تاریخ اسلام پر تنقیدی کام تنقیدی نگاہ ڈالی ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے، شاہ صاحب پہلے شخص ہیں جس کی نظر تاریخ اسلام اور تاریخ مسلمین کے اصولی فرق اور باریک فرق تک پہنچی اور جس نے تاریخ مسلمین پر تاریخ اسلام کے نقطۂ نظر سے نقد و تبصرہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ان بہت سی صدیوں میں اسلام قبول کرنے والی اقوام کے درمیان فی الواقع اسلام کا کیا حال رہا ہے۔ یہ ایک ایسا نازک مضمون ہے جس کی پیچیدگیوں میں پہلے بھی لوگ الجھتے رہے ہیں اور اب تک الجھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ شاہ صا کے بعد کوئی ایسا صاحب نظر نہ اٹھا جس کے ذہن میں حقیقی تاریخ اسلام کا، تاریخ مسلمین سے الگ کوئی واضح تصور ہوتا۔ شاہ صاحب کے کلام میں مختلف مقامات پر اس کے متعلق اشارات موجود ہیں۔ مگر خصوصیت کے ساتھ ازالۃ الخفاء کی فصل ششم میں انہوں نے ص ۱۲۲ سے ص ١٥٨ تک [میرے پیشِ نظر ١۲٥٦ھ کا نسخہ ہے جو بریلی میں طبع ہوا ہے] مسلسل تاریخ مسلمین پر تبصرہ کیا ہے اور کمال یہ کیا ہے کہ ایک ایک دَور کی خصوصیات اور ایک ایک زمانے کے فتنوں کو بیان کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کو بھی نقل کرتے گئے ہیں۔ جن میں ان حالات کی طرف صریح اشارات پائے جاتے ہیں۔ اس تبصرہ میں قریب قریب ان تمام جاہلی آمیزشوں کی نشان دہی ہوگئی ہے جو مسلمانوں کے عقائد، علوم، اخلاق، تمدن اور سیاست میں ہوتی رہیں۔

پھر شاہ صاحب نے خرابیوں کے اس ہجوم میں کھوج لگا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان میں بنیادی خرابیاں کون سی ہیں جن سے باقی تمام خرابیوں کا شجرہ نسب ملتا ہو اور آخر کار دو چیزوں پر انگلی رکھ دی ہے۔ ایک اقتدار سیاسی کا خلافت سے بادشاہت کی طرف منتقل ہونا۔ دوسرے رُوحِ اجتہاد کا مردہ ہو جانا اور تقلید جامد کا دماغوں پر مسلط ہو جانا۔

پہلی خرابی پر انہوں نے ازالہ میں پوری تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ خلافت اور بادشاہی کے اصولی و اصطلاحی فرق کو جس قدر واضح صورت میں انہوں نے بیان کیا ہے اور جس طرح احادیث سے اس کی تشریح کی ہے، اس کی مثال ان سے پہلے کے مصنفین کی تحریروں میں نہیں ملتی۔ اسی طرح اس انقلاب کے نتائج کو بھی جس صراحت کے ساتھ انہوں نے پیش کیا ہے وہ اگلوں کے کلام میں مفقود ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

”ارکان اسلام کی اقامت میں فتنہ عظیم برپا ہو گیا، حضرت عثمانؓ کے بعد کسی فرماں روا نے حج قائم نہیں کیا بلکہ اپنے نائب ہی مقرر کر کے بھیجتے رہے، حالانکہ اقامت حج خلافت کے لوازم میں سے ہے۔ جس طرح تخت پر بیٹھنا، تاج پہننا اور شاہان گزشتہ کی شہ نشین میں جا بیٹھنا قیصر و کسریٰ کے لیے علامتِ پادشاہی تھا۔ اسی طرح حج خود اپنی امارت میں قائم کرنا اسلام میں علامتِ خلافت ہے“ [ازالتہ الخفا جلد اول ١٢٣،١٢٤]۔

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

”پہلے وعظ اور فتویٰ دونوں خلیفہ کی رائے پر موقوف تھے، خلیفہ کے بغیر نہ وعظ کہا جا سکتا تھا اور نہ کوئی فتویٰ دینے کا مجاز تھا مگر اس انقلاب کے بعد وعظ اور فتویٰ دونوں اس نگرانی سے آزاد ہو گئے بلکہ بعد میں تو فتویٰ دینے کے لیے جماعیت صالحین کے مشورے کی قید بھی نہ رہی [ازالتہ الخفا جلد اول ص ١٣٠]۔

پھر فرماتے ہیں :-

” ان لوگوں کی حکومت عجوسیوں کی حکومت کے مانند ہی ہے بس فرق یہ ہے کہ نماز پڑھتے اور کلمہ شہادت زبان سے ادا کرتے رہے ہیں۔ ہم اسی تخم کے دامن میں پیدا ہوئے ہیں، معلوم نہیں آگے چل کر خدا تعالیٰ کیا دکھانا چاہتا ہے“[الیضا جلد اول ص ١٥٧]۔

رہی دوسری خرابی تو شاہ صاحب نے ازالہ میں، حجت میں، بدور بازغہ میں تفہیمات میں، مُسَوّیٰ اور مُصَفّیٰ میں اور قریب قریب اپنی ہر تصنیف میں اس پر ماتم کیا۔ ازالہ میں فرماتے ہیں : ” دولت شام و اموی سلطنت ، کے خاتمہ تک کوئی اپنے آپ کو حنفی یا شافعی نہ کہتا تھا، بلکہ سب اپنے اپنے ائمہ اور اساتذہ کے طریقہ پر دلائل شرعی سے استنباط کرتے تھے، دولت عراق (عباسی سلطنت) کے زمانہ میں ہر ایک نے اپنا ایک نام معین کیا اور یہ کیفیت ہو گئی کہ جب تک اپنے مذہب کے بڑوں کی نص نہ ملتے ، کتاب وسنت کی دلیل پر فیصلہ نہ کرتے اس طرح وہ اختلافات جو تاویل کتاب وسنت کے مقتضیات سے ناگزیر طور پر پیدا ہوئے تھے مستقل بنیادوں پر جم کر رہ گئے [ازالتہ الخفا جلد اول ص ١٥٧] ۔ پھر جب لَتِ عَسکر کا خاتمہ ہو گیا۔ یعنی ترکی اقتدار کا زمانہ آیا اور لوگ مختلف ممالک میں منتشر ہوئے، تو ہر ایک نے جو کچھ اپنے مذہب فقہی سے یاد کیا تھا اسی کو اصل بنا لیا، پہلے جو چیز مذہب مستنبط تھی۔ اب وہ سنت مستقرہ بن گئی۔ اب ان کے علم کا مدار اس پر رہ گیا کہ تخریج پر تخریج کریں اور تفریع پر تفریع [ازالتہ المخفاص ١٥٧ ]۔

مصطفیٰ امیں لکھتے ہیں :

”ہمارے زمانے کے سادہ لوح اجتہاد سے بالکل برگشتہ ہیں۔ اونٹ کی طرح ناک میں نکیل پڑی ہے اور کچھ نہیں جانتے کہ کدھر جا رہے ہیں ان کا کاروبار ہی دوسرا ہے۔ یہ بے چارے ان امور کی سمجھ بوجھ کے لئے مکلف ہی نہیں ہیں“[مصفی جلد اول ص ١١]۔

حجت کے مبحث ہفتم میں اور انصاف میں شاہ صاحب نے اس مرض کی پوری تاریخ بیان کی ہے اور ان خرابیوں کی نشان دہی کی ہے جو اس کی بدولت پیدا ہوئی ہیں۔ ”تاریخی تنقید کے بعد شاہ صاحب اپنے زمانہ کی حالت کا جائزہ لیتے ہیں۔ اور ایک ایک کو نام بنام پکار کر اس کے نقائص بیان کرتے ہیں۔ تفہیمات میں ایک جگہ لکھتے ہیں:“

”یہ وہی (یعنی خود شاہ صاحب) ایسے زمانہ میں پیدا ہوا ہے ۔ جبکہ لوگوں میں تین چیزیں خلط ملط ہو گئی ہیں :

(۱)دلیل بازی اور یہ یونانی علوم کے اختلاط کی بدولت ہے۔ لوگ کلامی مباحث میں مشغول ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ عقائد میں کوئی گفت گو ایسی نہیں ہوتی جو استدلالی مناظرات سے خالی ہو۔

(۲)وجدان پرستی، اور یہ صوفیوں کی مقبولیت اور ان کی حلقہ بگوشی کی وجہ ہے جس نے مشرق سے مغرب تک لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔ یہاں تک کہ ان حضرات کے اقوال و احوال لوگوں کے دلوں پر کتاب و سنت اور ہر چیز سے زیادہ تسلط رکھتے ہیں۔ ان کے رموز و اشارات اس قدر دخل پا گئے ہیں کہ جو شخص ان رموز و اشارات کا انکار کرے یا ان سے خالی ہو وہ نہ مقبول ہوتا ہے نہ صالحین میں شمار ہوتا ہے۔ منبروں پر کوئی واعظ ایسا نہیں جس کی تقریر یا اشارت صوفیہ سے پاک ہو اور درس کی مسندوں پر کوئی عالم ایسا نہیں جو ان کے کلام میں اعتقاد اور خوشی کا اظہار نہ کرے۔ ورنہ اس کا شمار گدھوں میں ہونے لگتا ہے۔ پھر اُمراء و رؤساء وغیرہ کی کوئی مجلس ایسی نہیں جن کے ہاں لطعف کلام اور بذلہ سنجی اور تفنن کے لیے صوفیہ کے اشعار اور نکات گھڑنا بنے سنے نہ ہوں۔

(۳)طاعت اور یہ اس بنا پر ہے کہ لوگ ملت اسلامیہ میں داخل ہیں۔ پھر اس زمانہ کی ایک بیماری یہ ہے کہ ہر ایک اپنی رائے پر چلتا ہے اور تگ و دو شبانہ چاہے، نہ منشاء بات پر جاکر رکتا ہے نہ کسی ایسے امر میں دخل دینے سے باز رہتا ہے جو اس کے علم سے بالا تر ہو۔ احکام کے معانی اور اسرار پر ہر ایک اپنی عقل سے کلام کرتا ہے اور جو کچھ بھی سمجھ لیا ہے اس پر دوسروں سے مناظرہ و مباحثہ کرتا ہے۔ یہ دوسری بیماری یہ ہے کہ فرقہ میں حنبلی اور شافعی وغیرہ کے سخت اختلافات پائے جاتے ہیں، ہر ایک اپنے طریقہ میں تعصب برتتا ہے اور دوسروں کے طریقہ پر اعتراض کرتا ہے۔ ہر مذہب میں تحزبجات کی کثرت ہے اور حق اس غبار میں چھپ گیا ہے۔“

اسی کتاب میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

“میں ان پیرزادوں سے جو کسی استحقاق کے بغیر باپ دادا کی گدیوں پر بیٹھے ہیں، کہتا ہوں کہ یہ کیا دھڑلے سے بندیاں تم نے کر رکھی ہیں؟ کیوں تم میں سے ہر ایک اپنے طریقہ پر چل رہا ہے اور کیوں اس طریقہ کو سینے سے چمٹائے رکھتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا تھا؟ تم میں سے ہر ایک امام بن بیٹھا ہے، اپنی طرف لوگوں کو بلا رہا ہے اور اپنے آپ کو ہادی و مہدی سمجھتا ہے، حالانکہ وہ ضال و مضل ہے۔ ہم ہر گز ان لوگوں سے راضی نہیں جو دنیا کے فوائد کی خاطر لوگوں سے بیعت لیتے ہیں، یا اپنے لیے علم حاصل کرتے ہیں کہ اغراض دنیوی حاصل کریں، یا لوگوں کو اپنی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنی خواہشات نفس کی اطاعت اس سے کراتے ہیں۔ یہ سب راہزن ہیں، دجال ہیں، کذاب ہیں، خود بھی دھوکے میں ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔۔۔۔۔

میں ان طالبان علم سے کہتا ہوں جو اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں کہ بے وقوفو! تم یونانیوں کے علوم اور صرف ونحو و معانی میں پھنس گئے، اِسے سمجھے ہو علم اسی کا نام ہے، حالانکہ علم تو کتاب اللہ کی آیت محکمہ ہے، یا پیچ در پیچ سنت ہے جو رسولؐ سے ثابت ہو۔۔۔۔ تم پچھلے فقہا کے استحسانات اور تفریعات میں ڈوب گئے کیا تمہیں خبر نہیں کہ حکم صرف وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے فرمایا ہو؟ تم میں سے اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کسی کو نبی کی کوئی حدیث پہنچتی ہے تو وہ اس پر عمل نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ میرا عمل تو فلاں کے مذہب پر ہے نہ کہ حدیث پر۔ پھر وہ حیلہ یہ پیش کرتا ہے کہ “صاحب ! حدیث کا فہم اور اس کے مطابق فیصلہ تو کاملین و ماہرین کا کام ہے اور یہ حدیث آئمہ سلف سے چھپی تو رہی نہ ہوگی، پھر کوئی وجہ تو ہو گی” کہ انہوں نے اسے ترک کر دیا، جان رکھو یہ ہرگز دین کا طریقہ نہیں ہے، اگر تم اپنے نبی پر ایمان لائے ہو تو اس کا اتباع کرو خواہ کسی مذہب کے موافق ہو یا مخالف ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں ان متقشف واعظوں، عابدوں اور خانقاہ نشینوں سے کہتا ہوں کہ اے زہد کے مدعیو، اتم ہر وادی میں بھٹک نکلے اور ہر رطب و یابس کو لے بیٹھے۔ تم نے لوگوں کو موضوعات اور اباطیل کی طرف بلایا۔ تم نے خلق خدا پر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا، حالانکہ تم صرف انہی کے لیے مامور تھے نہ کہ تنگی کے لیے۔ تم نے مغلو ب الحال عشاق کی باتوں کو مدار المیہ بنا لیا ہے حالانکہ یہ چیزیں پھیلانے کی نہیں، لپیٹ کر رکھ دینے کی ہیں۔ ۔ ۔ ۔

میں امراء سے کہتا ہوں کہ تمہیں خدا کا خوف نہیں آتا؟ تم فانی لذتوں کی طلب میں مستغرق ہو گئے اور رعیت کو چھوڑ دیا، کہ ایک دوسرے کو کھا جاتے۔ علانیہ شرابیں پی جا رہی ہیں اور تم نہیں روکتے۔ زنا کاری، شرابخوری اور قمار بازی کے اڈے ، برسر عام بن گئے ہیں اور تم ان کا انسداد نہیں کرتے۔ اس عظیم الشان ملک میں مدت ہائے دراز سے کوئی حدیث شرعی نہیں لگائی گئی۔ جس کو تم ضعیف پاتے ہو اسے کھا جاتے ہو اور جسے قوی پاتے ہو اسے چھوڑ دیتے ہو۔ کھانوں کی لذت، عورتوں کے نازو انداز، کپڑوں اور مکانوں کی لطافت، بس یہ چیزیں ہیں جن میں تم ڈوب گئے ہو، کبھی خدا کا خیال نہیں آیا۔ ۔ ۔ ۔

میں ان فوجی آدمیوں سے کہتا ہوں کہ تم کو اللہ نے جہاد کے لیے اعلائے کلمہ حق کے لیے، شرک و اہل شرک کا زور توڑنے کے لیے فوجی بنایا تھا۔ اس کو چھوڑ کر تم نے گھوڑ سواری اور ہتھیار بندی کو پیشہ بنا لیا ۔اب جہاد کی نیت اور مقصد سے تمہارے دل خالی ہیں ۔ پیسہ کمانے کے لیے سپاہی گری کا پیشہ کرتے ہو، بھنگ اور شراب پیتے ہو، ڈاڑھیاں منڈاتے ہو اور مونچھیں بڑھاتے ہو۔ بندگانِ خدا پر ظلم ڈھاتے ہو اور تمہیں کبھی اس بات کی پروا نہیں ہوتی۔ کہ حرام کی روٹی کھا رہے ہو یا حلال کی۔ خدا کی قسم تمہیں ایک روز دُنیا سے جانا ہے پھر اللہ تمہیں بتائے گا کہ کیا کر کے آئے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں ان اہلِ حرفہ اور عوام سے کہتا ہوں کہ تم میں سے امانت و دیانت رخصت ہو گئی ہے۔ اپنے رب کی عبادت سے تم غافل ہو گئے ہو اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگے ہو۔ تم غیر اللہ کے لیے قربانیاں کرتے ہو اور مدار صاحب اور سالار صاحب کی قبروں کا حج کرتے ہو۔ یہ تمہارے بدترین افعال ہیں۔ تم میں سے جو کوئی شخص خوش حال ہو جاتا ہے وہ اپنے لباس اور کھانے پر اتنا خرچ کرتا ہے کہ اس کی آمدنی اس کے لیے کافی نہیں ہوتی اور اہل و عیال کی حق تلفی کرنی پڑتی ہے۔ یا پھر وہ شراب نوشی اور کرایہ کی عورتوں میں اپنی معاش اور معاد دونوں کو ضائع کرتا ہے۔ ۔ ۔ ۔

پھر میں مسلمانوں کی تمام جماعتوں کو عام خطاب کر کے کہتا ہوں۔ کہ اے بنی آدم ! تم نے اپنے اخلاق کھو دئیے، تم پر تنگ دلی چھا گئی اور شیطان تمہارا محافظ بن گیا۔ عورتیں مردوں پر حاوی ہو گئی ہیں اور مردوں نے عورتوں کو ذلیل بنا رکھا ہے اور حلال تمہارے لیے بد مزہ بن گیا ہے۔

اے بنی آدم ! تم نے ایسی فاسد رسمیں اختیار کر لی ہیں جن سے دین متغیر ہو گیا ہے۔ مثلاً روزِ عاشوراء کو تم جمع ہو کر باطل حرکات کرتے ہو۔ ایک جماعت نے اس دن کو ماتم کا دن بنا رکھا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ سب دن اللہ کے ہیں اور سارے حوادث اللہ کی مشیئت سے ہوتے ہیں۔ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس روز شہید کیے گئے تو اور کونسا دن ہے جس میں کسی محبوب خدا کی موت واقع نہ ہوئی ہو؟ کچھ لوگوں نے اس دن کو کھیل تماشوں کا دن بنا رکھا ہے۔

پھر تم شب برات میں جاہل قوموں کی طرح کھیل تماشے کرتے ہو اور تم میں ایک گروہ کا یہ خیال ہے کہ اس دن مُردوں کو کثرت سے کھانا بھیجنا چاہیے۔ اگر تم سچے ہو تو اپنے اس خیال اور ان حرکات کے لیے کوئی دلیل لاؤ۔ پھر تم نے ایسی رسمیں بنا رکھی ہیں جن سے تمہاری زندگی تنگ ہو رہی ہے۔ مثلاً شادیوں میں فضول خرچی، طلاق کو ممنوع بنا لینا، بیوہ عورت کو بٹھائے رکھنا۔ اس قسم کی رسموں میں تم اپنے مال اور اپنی زندگیوں کو خراب کر رہے ہو اور ہدایت صالحہ کو تم نے چھوڑ دیا ہے، حالانکہ بہتر یہ تھا کہ ان رسموں کو چھوڑ کر اس طریق پر چلتے جس میں سہولت تھی نہ کہ تنگی۔

پھر تم نے موت اور غمی کو عید بنا رکھا ہے گویا تم پر کسی نے فرض کر دیا ہے کہ جب کوئی مرے تو اس کے اقرباء کو کھانے کھلائیں۔ تم نمازوں سے غافل ہو، کوئی اپنے کاروبار میں اتنا مشغول ہوتا ہے کہ نماز کے لیے وقت نہیں پاتا اور کوئی اپنی تفریحوں اور خوش گپیوں میں اتنا منہمک ہوتا ہے کہ نماز فراموش ہو جاتی ہے۔

تم زکوٰۃ سے بھی غافل ہو، تم میں کوئی مال دار ایسا نہیں جس کے ساتھ بہت سے کھانے والے لگے ہوئے نہ ہوں، وہ ان کو کھلاتا اور پہناتا ہے مگر زکوٰۃ اور جہاد کی نیت نہیں کرتا۔ تم رمضان کے روزے بھی منافع کرتے ہو اور اس کے لیے طرح طرح کے بہانے بناتے ہو۔ تم لوگ سخت بے تدبیر ہو گئے ہو۔ تم نے اپنی بسر اوقات کا انحصار سلاطین کے وظائف منصب پر کر رکھا ہے اور جب تمہارا بار سنبھالنے کے لیے سلاطین کے خزانے کافی نہیں ہوتے تو وہ رعیت کو تنگ کرنے لگتے ہیں …“ایک اور جگہ تفہیمات میں فرماتے ہیں :- ”جو لوگ حاجتیں طلب کرنے کے لیے اجمیر یا سالار مسعود کی قبر یا ایسے ہی دوسرے مقامات پر جاتے ہیں وہ اتنا بڑا گناہ کرتے ہیں کہ قتل اور زنا کا گناہ اس سے کمتر ہے۔ آخر اس میں اور خود ساختہ معبودوں کی پرستش میں فرق کیا ہے ؟ جو لوگ لات اور عزیٰ سے حاجتیں طلب کرتے تھے ان کا فعل ان لوگوں کے فعل سے آخر کس طرح مختلف تھا ؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم ان کے برعکس ، ان لوگوں کو صاف الفاظ میں کافر کہنے سے احتراز کرتے ہیں کیونکہ خاص ان کے معاملہ میں شارع کی نص موجود نہیں ہے مگر اصولاً ہر وہ شخص جو کسی مردے کو زندہ ٹھہرا کر اس سے حاجتیں طلب کرتا ہے اس کا دل گناہ میں مبتلا ہے [ “ الالہیہ جلد دوم ص٤٥]۔

یہ اقتباسات بہت طویل ہو گئے ہیں، مگر تفہیمات جلد دوم کے چند فقرے اور تقاضا کر رہے ہیں کہ ان کو بھی اس سلسلہ میں ناظرین تک پہنچا دیا جائے۔ فرماتے ہیں :-

”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ” تم بھی آخر کار اپنے سے پہلے کی امتوں کے طریقے اختیار کر لوگے اور جہاں جہاں انہوں نے قدم رکھا ہے وہاں تم بھی رکھو گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں گھسے ہیں تو تم بھی ان کے پیچھے جاؤ گے۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! پہلی امتوں سے آپ کی مراد یہود و نصاریٰ ہیں، فرمایا اور کون ؟

اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے:

سچ فرمایا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے وہ ضعیف الایمان مسلمان دیکھے ہیں جنہوں نے صلحاء کو ارباب من دون الله بنا لیا ہے اور یہود و نصاریٰ کی طرح اپنے اولیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے ۔ ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو کلام شارع میں تحریف کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ قول منسوب کرتے ہیں کہ نیک لوگ اللہ کے لیے ہیں اور گناہ گار میرے لیے ۔ یہ اسی قسم کی بات ہے جیسی کہ یہودی کہتے ہیں کہ <<لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَعْدُودَةً>> (ہم دوزخ میں نہ جائیں گے اور گئے بھی تو بس چند روز کے لیے)، سچ پوچھو تو آج ہر گروہ میں دین کی تحریف ہی ہوتی ہے ۔ صوفیہ کو دیکھو تو ان میں ایسے اقوال زبان زد ہیں جو کتاب سنت سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ خصوصاً مسئلہ توحید میں۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شرع کی انہیں بالکل پروا نہیں۔ فقہاء کی فقہ کو دیکھو تو اس میں اکثر وہ باتیں ملتی ہیں جن کے ماخذ کا پتہ ہی نہیں۔ مثلاً ذرہ وردہ کا مسئلہ [ یعنی یہ مسلہ کہ جب تک کوئی حوض دس ہاتھ لیا اور دس ہاتھ چھوڑا نہ ہو اس کا پانی ماء کثیر نہوگا ] اور کنوؤں کی طہارت کا مسئلہ [یعنی یہ مسلہ کہ کنوئیں میں کسی کسی جانور کے گرنے پر کتنے کتنے ڈول پانی کے نکالےجایئں]۔ رہے اصحاب معقول اور شعراء اور اصحاب ثروت اور عوام تو ان کی تحریفات کا ذکر کہاں تک کیا جائے [التفهيمات الالهیه جلد دوم ص۱۳۴ - ۱۳۵]۔

ان اقتباسات سے ایک دھندلا سا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شاہ صاحب نے مسلمانوں کے ماضی اور حال کا کس قدر تفصیلی جائزہ لیا ہے اور کس قدر جامعیت کے ساتھ ان پر تنقید کی ہے۔

اس قسم کی تنقید کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سوسائٹی میں جتنے صالح عناصر موجود ہوتے ہیں ، جن کے ضمیر و ایمان میں زندگی اور جن کے قلب میں بھلے اور برے کی تمیز ہوتی ہے ، ان کو حالات کی خرابی کا احساس سخت مضطرب کر دیتا ہے۔ ان کی اسلامی حس اتنی تیز ہوتی ہے کہ اپنے گرد و پیش کی زندگی میں جاہلیت کا ہر اثر انہیں کھٹکنے لگتا ہے ان کی قوتِ امتیاز اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ زندگی کے ہر پہلو میں اسلام اور جاہلیت کی آمیزشوں کا تجزیہ کرنے لگتے ہیں اور ان کی قوتِ ایمانی اس قدر بیدار ہو جاتی ہے کہ خارزارِ جاہلیت کی ہر کھٹک انہیں اصلاح کے لیے بے چین کر دیتی ہے۔ اس کے بعد مجدّد کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ ان کے سامنے تعمیر نو کا ایک نقشہ واضح صورت میں پیش کرے تاکہ حالتِ موجودہ کو جس حالت میں بدلنا مطلوب ہے اس پر وہ اپنی نظر جما سکیں اور تمام سعی و عمل اسی سمت میں مرکوز کر دیں۔ یہ تعمیری کام بھی شاہ صاحب نے اسی خوبی اور جامعیت کے ساتھ انجام دیا جو ان کے تنقیدی کام میں آپ دیکھ چکے ہیں۔