مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

شخصیات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "شخصیات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تصنیف ہے جو اسلامی تاریخ کے ان عظیم رہنماؤں، مفکرین، مصلحین اور شہداء کی زندگیوں، کرداروں اور کارناموں کا جائزہ پیش کرتی ہے جنہوں نے امتِ مسلمہ کی فکری، اخلاقی، سیاسی اور روحانی تاریخ کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد صرف تاریخی واقعات کی نقل نہیں بلکہ ان شخصیات کے ذریعے اسلامی نظامِ حیات، اسلامی ریاست کے اصول، اجتہاد کی اہمیت، اور حق و باطل کے درمیان واضح فرق کو قاری کے سامنے روشن کرنا ہے۔ مولانا مودودی کا نقطۂ نظر ہمیشہ اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کرنا رہا ہے، اور یہ کتاب بھی اسی فکری روایت کا حصہ ہے جہاں ہر شخصیت کا جائزہ اس لینس سے لیا گیا ہے کہ اس نے اسلام کے اس تصور کو کس حد تک سمجھا، اپنایا، اور اس کے لیے جدوجہد کی۔

کتاب کا آغاز دو تعارفی ابواب سے ہوتا ہے جو مرتبین کی محنت اور مولانا مودودی کی ان تحریروں کی اہمیت بیان کرتے ہیں جو ابتدائی طور پر مختلف رسائل و مجلات میں شائع ہوئی تھیں مگر بعد میں منظم شکل میں جمع کی گئیں۔ اس کے بعد کتاب کا مرکزی سفر شروع ہوتا ہے امام حسینؓ کی شہادت سے، جسے مولانا مودودی محض جذباتی غم کا واقعہ نہیں بلکہ اسلامی ریاست کے روح اور اصولوں—جیسے آزادانہ انتخاب، شورائی نظام، قانون کی حکمرانی، اور مساوات—کی حفاظت کے لیے ایک باشعورانہ قربانی قرار دیتے ہیں۔

کتاب کا بیشتر حصہ چار بڑی شخصیات پر تفصیلی مضامین پر مشتمل ہے: امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے فقہی و انتظامی کارنامے، شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا تنقیدی و تعمیری کام، اور مجدد الف ثانیؒ، سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تجدیدی کاوشیں۔ اس کے بعد ٹیپو سلطان، مصطفیٰ کامل پاشا اور علامہ اقبال پر مستقل ابواب ہیں—خصوصاً اقبال کے سیاسی و فکری کارنامے، ان کے فلسفۂ خودی، وطنی قومیت کی تردید اور دین و سیاست کی یگانگت پر متعدد مضامین کتاب کا وزنی ترین حصہ ہیں۔

کتاب کا اختتامی حصہ مختصر مضامین اور تعزیتی خاکوں کی صورت میں متعدد معاصر و ماضی قریب کی شخصیات کا احاطہ کرتا ہے، جن میں مولانا ابوالکلام آزاد، قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ، شاہ فیصل شہیدؒ، حسن البناؒ، مفتی اعظم فلسطین امین الحسینیؒ، مولانا احمد رضا خان بریلویؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ اور دیگر علماء و مصلحین شامل ہیں۔ ہر خاکہ اسی معیار پر پرکھا گیا ہے کہ متعلقہ شخصیت نے اسلام کے نظامِ حیات کو کس حد تک سمجھا اور اس کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مفتی اعظم فلسطین(الیسد امین الحسینیؒ)

مولانا کا درج ذیل انٹرویو مفتی اعظم مرحوم کی پہلی برسی کے موقع پر ہفت روزہ “استقلال” لاہور، ۱۲ جولائی ۱۹۷۵ء میں شائع ہوا تھا۔

سوال: مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی سے آپ کی پہلی ملاقات کب ہوئی اور آخری کب؟

جواب: مفتی اعظم فلسطین سے میری پہلی ملاقات ۱۹۳۵ء میں ہوئی تھی۔ جب میں حیدرآباد دکن میں تھا۔ اس زمانہ میں رسالہ “ترجمان القرآن” حیدرآباد سے شائع ہوتا تھا۔ مفتی صاحب مصر کے مشہور رہنما، محمد علی علوبہ پاشا کے ساتھ ایران و افغانستان ہوتے ہوئے حیدرآباد پہنچے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یہودی فلسطین کو اپنا “قومی وطن” بنانے کی کوشش میں سرگرم تھے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے فلسطین کے اندر اور باہر سازشوں کا ایک جال پھیلا رکھا تھا۔ مفتی اعظم اور علوبہ پاشا مسلمانوں کو اس خطرے سے آگاہ کرنے کے مشن پر نکلے ہوئے تھے۔ حیدرآباد پہنچے تو کچھ لوگوں نے ان سے میرا ذکر کیا۔ اور انہوں نے مجھ سے ملاقات کی خواہش کی۔ نواب بہادر یار جنگ مرحوم کے ہاں ایک تقریب میں وہ بھی مدعو تھے اور میں بھی۔ اس طرح میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ اُس وقت جوان تھے۔ جوش و خروش سے سیاسی زندگی میں داخل ہو چکے تھے اور یہودی سازش کو روکنے کے لیے فلسطین میں زبردست تحریک چلا رہے تھے۔ آخری ملاقات ان کے عہد پیری میں اس وقت ہوتی جب وہ لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں تشریف لائے تھے۔ دفتر جماعت اسلامی میں ایک روز اچانک ہی وہ تشریف لے آئے اور بڑی دیر تک گفتگو فرماتے رہے۔ اس وقت میں نہ جانتا تھا کہ اس مرد بزرگ سے میری یہ آخری ملاقات ہے۔

سوال: مفتی اعظم سے پہلی ملاقات کے بعد آپ کے تاثرات کیا تھے؟ اور آخری کے بعد کیا؟

جواب: پہلی ملاقات ہوئے اب چالیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ تفصیلات تو یاد نہیں۔ بس یہ یاد ہے کہ اپنی تقریر میں بھی اور گفتگو میں بھی وہ اول و آخر مسلمانان عرب قوم پرستی کا شائبہ تک بھی ان کی کسی بات میں نہ پایا جاتا تھا۔ فلسطین اور بیت المقدس کے مسئلہ کو وہ سراسر ایک اسلامی مسئلہ سمجھتے تھے اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو اس مقصد کے لیے متحد کرنا چاہتے تھے ۔ کہ وہ قبلہ اوّل کو اعدائے دین کے چنگل سے نکالنے کی کوشش کریں۔

آخری ملاقات کے موقعہ پر میرا وہ تاثر پھر تازہ ہو گیا جو چالیس سال پہلے قائم ہُوا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ بندہ حق اپنے اصولوں کا کتنا پکا ہے۔ اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جن مقاصد اور اصولوں پر انہوں نے کیا تھا انہی پر اب بھی قائم تھے۔ خاص طور پر مسئلہ فلسطین کے بارے میں شروع سے آخر تک ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بہت سے دیگر عرب رہنماؤں کے موقف بدل گئے مگر انہوں نے شروع میں جو موقف اختیار کیا تھا آخر تک اسی پر قائم رہے۔ وہ شروع سے اس اصول پر قائم تھے کہ مسئلہ فلسطین کا حل یہ ہے کہ باہر سے آنے والے یہودی یہاں سے چلے جائیں نیز یہ کہ فلسطین کوئی بیرونی طاقت واپس لے کر نہیں دے گی بلکہ مسلمانوں کو اس کے حصول کے لیے خود جہاد کرنا ہوگا۔ وہ فلسطین کے حصول کا واحد حل جہاد ہی کو سمجھتے تھے۔ پہلے بھی اور عمر کے آخری دور میں بھی۔

سوال: قیام پاکستان سے پہلے وہ تحریک یا پاکستان کے متعلق کیا رائے رکھتے تھے۔ کبھی اس مسئلہ میں ان سے آپ کی گفتگو ہوئی تھی؟

جواب: قیام پاکستان سے پہلے وہ تحریک پاکستان کے زبردست حامی تھے۔ برصغیر کے مسلمانوں کے الگ وطن کے قیام کی جدوجہد میں وہ مسلم لیگ کے موقف کے حامی اور کانگریس کے مخالف تھے۔ تقسیم ہند کے بعد تو وہ دنیائے عرب میں پاکستان کے سب سے بڑے حامی اور وکیل بن گئے تھے اور معلوم ہوتا تھا کہ انہیں اس ملک سے عشق ہے۔ قیام پاکستان کے بعد قاہرہ میں اخوان المسلمون کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فلسطین کے بدلے میں پاکستان عنایت کیا۔ بھلے اس سے پاکستان کے ساتھ ان کی محبت اور توقعات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ ابتدا سے عرب سربراہوں کو پاکستان کے قریب لانے کی بھر پور کوشش کرتے رہے۔ بہت سے عرب سربراہوں اور رہنماؤں کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے۔ دنیائے عرب میں ان کا بہت اثر تھا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے اثرات اور تعلقات کو پاکستان کے لیے استعمال کیا۔ جن عرب حکومتوں نے مختلف اوقات میں پاکستان سے قریبی اور برادرانہ تعلقات قائم کیے۔ ان کے ذہن کی تیاری میں مفتی اعظم کا بڑا حصہ تھا۔ مثلاً شاہ فیصل شہید شروع میں ایک عرب رہنما کی طرح پاکستان کے متعلق خیالات رکھتے تھے لیکن آخری عمر میں یہ حال ہو گیا تھا کہ وہ ہم پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان سے محبت کرتے تھے۔ اس تبدیلی میں مفتی اعظم کی شاہ فیصل شہید سے دوستی کا بھی ہاتھ تھا۔ ان کی وفات کے بعد دنیائے عرب میں پاکستان کو اتنا بڑا حامی اور اس کے حق میں رائے ہموار کرنے والا شاید ہی کوئی مل سکے۔

سوال: آپ کے علم کے مطابق مفتی اعظم کبھی قائد اعظم اور علامہ اقبال سے بھی ملے ہیں؟

جواب: علامہ اقبال تو پہلی اسلامی کانفرنس میں بھی شامل تھے جو ۱۹۳۱ء میں مفتی اعظم نے بیت المقدس میں بلائی تھی۔ وہ علامہ کے نہ صرف مداح بلکہ عاشق تھے انہوں نے خاص طور پر علامہ کو اس کانفرنس میں بلایا تھا۔ جب بھی ملے انہوں نے ہمیشہ علامہ کے بارے میں نہایت محبت کا اظہار کیا۔ قائد اعظم سے ملاقات کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن خیال یہی ہے کہ ان سے بھی ملے ہوں گے متعدد مسلم لیگی رہنماؤں سے ان کے ذاتی تعلقات تھے مثلاً لیاقت علی خاں مرحوم اور چودھری خلیق الزمان مرحوم وغیرہ۔

سوال: کیا مفتی اعظم پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کی جانے والی مساعی سے مطمئن تھے۔ سرکاری اور غیر سرکاری مساعی سے؟

جواب: انہوں نے ہمیشہ پاکستان میں اسلامی نظام اور اسلامی اخوت کے قیام پر زور دیا۔ اپنے طور پر انہوں نے اس مقصد کے لیے جو کچھ ہو سکتا تھا، کیا۔ تحریک اسلامی کے تو وہ نہ صرف مداح بلکہ پُرزور حامی تھے۔ ان کے نزدیک پاکستان کا بقاء اسلامی نظام کے نفاذ پر منحصر تھا۔ یہاں کی مختلف حکومتوں نے اس سلسلہ میں جو کچھ کیا اس کی حقیقت کو وہ خوب سمجھتے تھے۔ اور کبھی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوئے۔ لیکن ہر آتی جاتی حکومت سے انہوں نے اپنے تعلقات اچھے رکھے اور جب کبھی اسلامی تحریک اور حکومت وقت کے درمیان تصادم کا خطرہ پیدا ہوا۔ انہوں نے اپنی حد تک اس تصادم کو روکنے کی کوشش کی۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد جب وہ پاکستان آئے تو انہوں نے اپنی تقریر دل میں صاف صاف کہا تھا کہ میں پاکستان میں مختلف قسم کی عصبیتوں کو ابھرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ بلوچی، پنجابی، سندھی اور پٹھان قومیتوں کے نعرے سے جانے میں مجھے ڈر ہے کہ قومیتوں کا فتنہ پاکستان کا بھی وہی حشر نہ کرے جو اس سے پہلے یہ عالم عرب کا کر چکا ہے۔ انہوں نے ان فتنوں سے بچنے کے لیے فوری طور پر اسلامی نظام کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

سوال: کیا وہ عالم عرب کے اندرونی حالات سے مطمئن تھے؟

جواب: ایک زمانہ میں وہ ان حالات کی وجہ سے بڑے پریشان رہتے تھے لیکن آخری عمر میں اتحاد عالم اسلامی کی تحریک کی کامیابی کے امکانات سے قدرے پُر امید ہو گئے تھے۔ تاہم چونکہ وہ یہودیوں اور ان کی چالوں پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ دنیائے اسلام اور عرب ممالک میں کس کس طرح فکری، نظریاتی اور سیاسی سازشوں کے جال پھیلا رہے ہیں۔ اس لیے ہر وقت ان سے چوکنے رہتے تھے۔ اصلاح احوال کے لیے وہ مسلمان حکومتوں کے اتحاد اور مسلم ممالک میں اسلامی معاشرے کے قیام کو ضروری سمجھتے تھے۔

سوال: اخوان المسلمین سے ان کے تعلقات کی کیا نوعیت تھی؟

جواب: اخوان المسلمین کے بانی شیخ حسن البنا شہیدؒ جس کے وہ ذاتی دوست تھے۔ انہوں نے اخوان کی دعوت کے بارے میں کہا تھا کہ جہاں میرا کام ختم ہوتا ہے وہاں سے اخوان کا کام شروع ہوتا ہے۔ اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد اخوان نے رضا کار بھرتی کر کے یہودیوں کے خلاف جہاد شروع کیا۔ تو مفتی صاحب ان کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ جب ۱۹۵۴ء میں اخوان پر ابتلاء کا دور آیا تو انہوں نے اخوان کے ساتھ صدر ناصر کے سلوک پر شدید احتجاج کیا تھا۔ پھر جب اخوان کے نامور قائدین کو پھانسی کی سزا کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اسے ذاتی طور پر تاڑیے تھے کہ سزا نافذ نہ کی جائے۔ ۱۹۶۶ء میں سید قطب اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر بھی انہوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اخوان کا جذبۂ جہاد ان کے ابتلاء کا باعث بنا کیونکہ اسرائیل اور یہودیوں کو اندازہ ہو گیا تھا۔ کہ ان کی اصل مخالف قوت دنیائے عرب میں کونسی ہے؟ اس لیے امریکہ اور روس دونوں کی خواہش یہ تھی کہ اسلام کی اس ابھرتی ہوئی طاقت کو کھیل ڈالا جاتے۔ افسوس کہ یہ مقصد تو کفار کا تھا مگر یہ پورا مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا؟

سوال: کیا وہ آزادی فلسطین کی موجودہ جدوجہد اور طریق کار سے مطمئن تھے؟

جواب: آزادی فلسطین کے نام پر بہت سی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ ان میں سے بعض یہودییوں اور فلسطینی عیسائیوں کی قائم کردہ بھی ہیں مثلاً جارج حبش کی پاپولر فرنٹ آخری دور میں جب ان تنظیموں نے مشترکہ محاذ قائم کیا اور یاسر عرفات کو اس محاذ کی قیادت سونپی گئی تو وہ اس پر مطمئن تھے۔ میرے علم کی حد تک ان کے یاسر عرفات سے گہرے روابط تھے۔ ایک مرتبہ اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ جو جھنڈا کے بعد مسئلہ فلسطین فلسطینیوں کے اپنے ہاتھ میں آیا ہے اور دوسرے ان کے پیچھے چل رہے ہیں۔ ورنہ پہلے معاملہ اس کے برعکس تھا۔

سوال: آپ کے خیال میں اہل پاکستان اپنے بھائیوں کی اس جدوجہد میں کس طرح تعاون کر سکتے ہیں؟

جواب: مفتی اعظم اس تعاون کے سلسلہ میں جو کوششیں کرتے رہے وہ یہ تھی کہ مسلمان ممالک کسی صورت میں بھی اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کی غلطی نہ کریں بلکہ ہر سطح پر اس کی مخالفت کی جائے فلسطین کے بارے میں کسی قسم کی سودے بازی نہ کی جائے۔ باہر سے آئے ہوئے یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا حق نہ دیا جائے۔ بیت المقدس کی آزادی کو فلسطین کی آزادی کا جزو لاینفک سمجھا جائے اور اسے ایک آزاد بین الاقوامی شہر بنانے کی تجویز ہر گز نہ مانی جائے۔ اہل پاکستان پر مفتی اعظم مرحوم و مغفور کا یہ حق ہے کہ وہ ان کی تمناؤں کو پورا کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ان کی ذاتی تمنائیں نہیں تھیں بلکہ ہر سچے مسلمان کے دل کی تمنائیں یہی ہیں۔

سوال: کیا مفتی اعظم مختلف اسلامی ممالک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے چلنے والی مختلف تحریکوں کے طریق کار اور کامیابیوں سے مطمئن تھے؟

جواب: اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے دنیا میں جہاں بھی کوئی تحریک چل رہی ہے اس کے قائدین سے ان کے ذاتی نوعیت کے تعلقات تھے۔ وہ ان تحریکوں سے رابطے رکھتے تھے۔ ان کے حالات سے واقف تھے اور اگر کہیں کوئی خامی یا غلطی نظر آتی تھی تو اسے بھی بلا روک بیان کر دیتے تھے اور اصلاح کا مشورہ دیتے تھے۔

سوال: وہ ان تحریکوں کے درمیان رابطے کی ضرورت محسوس کرتے تھے تو اس مقصد کے لیے کبھی کوشش بھی کی؟

جواب: وہ نہ صرف رابطے کی ضرورت محسوس کرتے تھے بلکہ خود ان کے لئے ذریعہ ایک رابطہ بنے ہوئے تھے۔ چہرہ دعوت اسلامی کے لیے ایک عام کارکن کی طرح کام کرتے تھے۔

سوال: لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بارے میں ان کا کیا خیال تھا اور پاکستان کے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لینے پر کیا رد عمل تھا؟

جواب: وہ اس بات پر خوش تھے کہ یہ کانفرنس پاکستان میں ہو رہی ہے اور اس میں بہت سے مسلمان ممالک شرکت کر رہے ہیں لیکن اس بات پر سخت آزردہ تھے کہ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا اعلان اس کانفرنس میں کر کے خواہ مخواہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو اس فعل میں شامل کر لیا گیا۔ وہ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ میری اطلاعات کے مطابق انہوں نے کانفرنس کے اندر ذمہ دار لوگوں سے خود بھی اپنی اس رائے کا اظہار کیا تھا اور ان کو یہ بھی بتایا تھا کہ پاکستان کے لوگوں کا رد عمل اس فعل کے خلاف کتنا شدید ہے۔ حکومت کی کوشش یہ تھی کہ کانفرنس کے شرکاء پاکستانیوں کے اس رد عمل سے واقف نہ ہونے پائیں۔ لیکن وہ مرد مجاہد یہ کام کرتا رہا تاہم چونکہ وہ ایک باہوش انسان تھے اس لیے جب بنگلہ دیش تسلیم کر ہی لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اب ہمیں اس شہر میں سے خیر کے پہلو تلاش کرنے چاہئیں۔

سوال: مفتی اعظم کی زندگی کی کن کن خصوصیات نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے؟

جواب: مفتی اعظم کی اصول پسندی اور اخلاص کا میں ہمیشہ قدردان رہا ہوں۔ وہ بڑے مخلص مسلمان تھے اور بڑے سے بڑے مشکل ، سخت میں بھی اصول کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ ان میں حکمت اور دانائی انتہا درجے کی تھی۔ انہیں اپنی مجاہدانہ زندگی میں بڑے کٹھن امتحانوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور خدا کے فضل سے اپنی حکمت و دانائی کی بدولت وہ ہر مرتبہ سرخرو نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ مسائل کا تجزیہ کرتے وقت جذبات کو نہیں عقل کو راہنما بناتے تھے۔ مثلاً دنیائے عرب کے دیگر سب رہنماؤں نے عربوں کے انحطاط کا ذمہ دار ترکوں کو ٹھہرایا۔ اور اپنے تمام مسائل کی بات کرتے وقت ان پر پہلے ستم تنقید کی، لیکن مفتی اعظم نے ہمیشہ حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا اور جنگ عظیم اول کے زمانے میں پیش آنے والے حالات کی ذمہ داری یکساں ترکوں اور عربوں پر عائد کی۔ جب دنیائے عرب میں عرب قومیت کا طوفان بپا تھا اس وقت بھی انہوں نے اس سلسلہ میں کبھی نسلی تعصب کا اظہار نہیں کیا مفتی صاحب کا حافظہ بھی غیر معمولی تھا۔ پرانے واقعات وہ اتنی تفصیل کے ساتھ بیان فرماتے تھے۔ گویا وہ اب پیش آتے ہیں اور گردو نواح ہوئے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ ایک ایک واقعہ کے جزئیات تک کا حوالہ دیتے چلے جاتے تھے۔

سوال: مفتی اعظم فلسطین کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟

جواب: مرحوم کے مشن کا خلاصہ یہ ہے:

۱- مسلمانوں اور مسلم ممالک کے درمیان اتحاد قائم ہو۔ صرف مذہبی اور سیاسی میدان میں ہی نہیں بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ان کے درمیان باہمی روابط مضبوط بنائے جائیں۔

۴۔ مسلمان ممالک اپنے ہاں اسلامی نظام اور اسلامی معاشرے قائم کریں اور اسلام کے اصولوں کے مطابق صحیح جمہوری طریقوں سے کام کریں۔

۳۔ مسلمان کی حیثیت سے زندہ رہنے کے لیے ان کو ہمیشہ جہاد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جہاد کے سلسلہ میں وہ بعض مسلمان گروہوں کو خاص طور پر پسند کرتے تھے جن میں پاکستان کے مسلمان، شمالی افریقہ کے بربر مسلمان اور یوگوسلاویہ کے مسلمان شامل ہیں۔ وہ ان کی بہادری اور جذبہ اسلامی کے بہت مداح تھے بلکہ وہ کہا کرتے تھے کہ ترکوں کی اصل قوت یوگوسلاویہ کے مسلمان تھے۔

سوال: مفتی اعظم کی موت کی خبر آپ کو کہاں ملی اور آپ نے کیا محسوس کیا ؟

جواب: میں اس وقت امریکہ کے شہر سیراکیوز میں تھا۔ وہاں کے مقامی اخبارات بالعموم مقامی دلچسپیوں تک محدود رہتے ہیں اور بین الاقوامی خبریں ان میں بہت ہی کم ہوتی ہیں۔ ایک روز اتفاق سے نیو یارک ٹائمز کا ایک پرچہ مل گیا۔ جس کے ایک گوشے میں اس خبر پر نظر پڑی اور شدید صدمہ ہوا۔ اسی وقت ان کے داماد کو تعزیت کا تار دیا اور ان کی مغفرت کے لیے بار بار دعائیں دل سے نکلتی رہیں۔ ان کو مجھ سے اور مجھ کو ان سے جو گہری دوستانہ محبت تھی اس کی وجہ سے میں نے اس صدمہ کو اتنی ہی شدت سے محسوس کیا جس شدت سے میں اپنے کسی قریب ترین عزیز کی موت کا صدمہ محسوس کرتا ہوں۔

سوال: مفتی اعظم کی زندگی کا کوئی ناقابل فراموش واقعہ جو آپ کے ذہن پر نقش ہو کر رہ گیا ہو؟

جواب: واقعات تو بہت سے ہیں مگر صرف ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ میں آخری مرتبہ ۱۹۶۹ء میں رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس سے فارغ ہو کر جدہ کے ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ایک روز یکا یک مفتی صاحب میرے پاس تشریف لائے۔ فرمانے لگے۔ پاکستان میں انتخاب لڑنے والے ہیں۔ ان میں جماعت اسلامی کی شرکت کو میں جہاد فی سبیل اللہ سمجھتا ہوں۔ اس جہاد میں یا تو میں ہار کر آؤں نہیں کر سکتا لیکن اپنا فرض یہ سمجھتا ہوں کہ جماعت کے دعوت و تبلیغ کے جہاد میں مال سے حصہ لوں۔ یہ فرما کر ایک اچھی خاصی رقم نکال کر مجھے دی اس وقت میرے اور ان کے درمیان میرا صرف خدا تھا۔ یہ خالص فی سبیل اللہ انفاق تھا جس میں ریاء کا شائبہ تک نہ ہو سکتا تھا۔ میں نہ صرف ان کے اس جذبے سے بے حد متاثر ہوا بلکہ اس کے ساتھ ہی میرا دل اللہ تعالیٰ کے شکر سے لبریز ہو گیا کہ اس کا ایسا نیک بندہ جماعت اسلامی کے برحق ہونے کا کتنا یقین رکھتا ہے۔