شخصیات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "شخصیات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تصنیف ہے جو اسلامی تاریخ کے ان عظیم رہنماؤں، مفکرین، مصلحین اور شہداء کی زندگیوں، کرداروں اور کارناموں کا جائزہ پیش کرتی ہے جنہوں نے امتِ مسلمہ کی فکری، اخلاقی، سیاسی اور روحانی تاریخ کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد صرف تاریخی واقعات کی نقل نہیں بلکہ ان شخصیات کے ذریعے اسلامی نظامِ حیات، اسلامی ریاست کے اصول، اجتہاد کی اہمیت، اور حق و باطل کے درمیان واضح فرق کو قاری کے سامنے روشن کرنا ہے۔ مولانا مودودی کا نقطۂ نظر ہمیشہ اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کرنا رہا ہے، اور یہ کتاب بھی اسی فکری روایت کا حصہ ہے جہاں ہر شخصیت کا جائزہ اس لینس سے لیا گیا ہے کہ اس نے اسلام کے اس تصور کو کس حد تک سمجھا، اپنایا، اور اس کے لیے جدوجہد کی۔
کتاب کا آغاز دو تعارفی ابواب سے ہوتا ہے جو مرتبین کی محنت اور مولانا مودودی کی ان تحریروں کی اہمیت بیان کرتے ہیں جو ابتدائی طور پر مختلف رسائل و مجلات میں شائع ہوئی تھیں مگر بعد میں منظم شکل میں جمع کی گئیں۔ اس کے بعد کتاب کا مرکزی سفر شروع ہوتا ہے امام حسینؓ کی شہادت سے، جسے مولانا مودودی محض جذباتی غم کا واقعہ نہیں بلکہ اسلامی ریاست کے روح اور اصولوں—جیسے آزادانہ انتخاب، شورائی نظام، قانون کی حکمرانی، اور مساوات—کی حفاظت کے لیے ایک باشعورانہ قربانی قرار دیتے ہیں۔
کتاب کا بیشتر حصہ چار بڑی شخصیات پر تفصیلی مضامین پر مشتمل ہے: امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے فقہی و انتظامی کارنامے، شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا تنقیدی و تعمیری کام، اور مجدد الف ثانیؒ، سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تجدیدی کاوشیں۔ اس کے بعد ٹیپو سلطان، مصطفیٰ کامل پاشا اور علامہ اقبال پر مستقل ابواب ہیں—خصوصاً اقبال کے سیاسی و فکری کارنامے، ان کے فلسفۂ خودی، وطنی قومیت کی تردید اور دین و سیاست کی یگانگت پر متعدد مضامین کتاب کا وزنی ترین حصہ ہیں۔
کتاب کا اختتامی حصہ مختصر مضامین اور تعزیتی خاکوں کی صورت میں متعدد معاصر و ماضی قریب کی شخصیات کا احاطہ کرتا ہے، جن میں مولانا ابوالکلام آزاد، قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ، شاہ فیصل شہیدؒ، حسن البناؒ، مفتی اعظم فلسطین امین الحسینیؒ، مولانا احمد رضا خان بریلویؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ اور دیگر علماء و مصلحین شامل ہیں۔ ہر خاکہ اسی معیار پر پرکھا گیا ہے کہ متعلقہ شخصیت نے اسلام کے نظامِ حیات کو کس حد تک سمجھا اور اس کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ابن کثیر رح
حافظ ابن کثیر کا مرتبہ مفسر، محدث اور مورخ کی حیثیت سے تمام امت میں مسلم ہے۔ ان کی تاریخ البدایہ والنہایہ تاریخ اسلام کے بہترین مآخذ میں شمار ہوتی ہے اور صاحب کشف الظنون کے بقول اس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ <<مُتَيَقِّظِيْنَ الصَّحِيْحَ وَالسَّقِيْمَ>> (وہ صحیح اور ناقص روایات میں تمیز کرتے ہیں)۔ حافظ ذہبی ان کی تعریف میں کہتے ہیں: <<الْإِمَامُ الْمُفْتِي الْمُحَدِّثُ الْبَارِعُ فَقِيْهُ مَتَفَنِّنُ مُحَدِّثُ مُتْقِنُ نَقَّالُ>> ۔ میں نے خاص طور پر ان کی تاریخ پر زیادہ تر اعتماد دو وجوہ سے کیا ہے۔ ایک یہ کہ وہ تشیع کی طرف میلان تو درکنار، اس کے سخت مخالف ہیں، شیعی روایات کی بڑے زور شور سے تردید کرتے ہیں، صحابہؓ میں سے کسی پر اپنی صریح تک آنچ نہیں آنے دیتے، اور دورِ فتنہ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اُنہوں نے حضرت معاویہؓ پر بھی کہیں مزید تنقیح کی صفائی پیش کرنے میں کسر نہیں اٹھا رکھی ہے، مگر اس کے باوجود وہ اتنے متدین ہیں کہ تاریخ نگاری میں واقعات کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ قاضی ابوبکر ابن العربي اور ابن تیمیہؒ، دونوں سے متاثر ہیں۔ قاضی ابوبکر کی “العواصم من القواصم” اور ابن تیمیہؒ کی منہاج السنۃ سے ناواقف نہیں ہیں، بلکہ ابن تیمیہؒ کے تو وہ محض شاگرد ہی نہیں، عاشق ہیں [الدرر الكامنه لابن جریج - ص ۳۰۴ - دائرة المعارف حیدر آباد دکن ۱۳۴۸ ه] اور ان کی خاطر مبتلائے مصائب بھی ہوئے ہیں۔ اس لیے میں یہ شبہ تک نہیں کر سکتا کہ وہ شیعی روایات سے کچھ بھی متاثر ہو سکتے تھے، یا ان کو اخذ کرنے میں کسی قسم کا تساہل برت سکتے تھے، یا اُن بحثوں سے واقف نہ تھے جو قاضی ابوبکر اور ابن تیمیہؒ نے کی ہیں۔