شخصیات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "شخصیات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تصنیف ہے جو اسلامی تاریخ کے ان عظیم رہنماؤں، مفکرین، مصلحین اور شہداء کی زندگیوں، کرداروں اور کارناموں کا جائزہ پیش کرتی ہے جنہوں نے امتِ مسلمہ کی فکری، اخلاقی، سیاسی اور روحانی تاریخ کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد صرف تاریخی واقعات کی نقل نہیں بلکہ ان شخصیات کے ذریعے اسلامی نظامِ حیات، اسلامی ریاست کے اصول، اجتہاد کی اہمیت، اور حق و باطل کے درمیان واضح فرق کو قاری کے سامنے روشن کرنا ہے۔ مولانا مودودی کا نقطۂ نظر ہمیشہ اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کرنا رہا ہے، اور یہ کتاب بھی اسی فکری روایت کا حصہ ہے جہاں ہر شخصیت کا جائزہ اس لینس سے لیا گیا ہے کہ اس نے اسلام کے اس تصور کو کس حد تک سمجھا، اپنایا، اور اس کے لیے جدوجہد کی۔
کتاب کا آغاز دو تعارفی ابواب سے ہوتا ہے جو مرتبین کی محنت اور مولانا مودودی کی ان تحریروں کی اہمیت بیان کرتے ہیں جو ابتدائی طور پر مختلف رسائل و مجلات میں شائع ہوئی تھیں مگر بعد میں منظم شکل میں جمع کی گئیں۔ اس کے بعد کتاب کا مرکزی سفر شروع ہوتا ہے امام حسینؓ کی شہادت سے، جسے مولانا مودودی محض جذباتی غم کا واقعہ نہیں بلکہ اسلامی ریاست کے روح اور اصولوں—جیسے آزادانہ انتخاب، شورائی نظام، قانون کی حکمرانی، اور مساوات—کی حفاظت کے لیے ایک باشعورانہ قربانی قرار دیتے ہیں۔
کتاب کا بیشتر حصہ چار بڑی شخصیات پر تفصیلی مضامین پر مشتمل ہے: امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے فقہی و انتظامی کارنامے، شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا تنقیدی و تعمیری کام، اور مجدد الف ثانیؒ، سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تجدیدی کاوشیں۔ اس کے بعد ٹیپو سلطان، مصطفیٰ کامل پاشا اور علامہ اقبال پر مستقل ابواب ہیں—خصوصاً اقبال کے سیاسی و فکری کارنامے، ان کے فلسفۂ خودی، وطنی قومیت کی تردید اور دین و سیاست کی یگانگت پر متعدد مضامین کتاب کا وزنی ترین حصہ ہیں۔
کتاب کا اختتامی حصہ مختصر مضامین اور تعزیتی خاکوں کی صورت میں متعدد معاصر و ماضی قریب کی شخصیات کا احاطہ کرتا ہے، جن میں مولانا ابوالکلام آزاد، قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ، شاہ فیصل شہیدؒ، حسن البناؒ، مفتی اعظم فلسطین امین الحسینیؒ، مولانا احمد رضا خان بریلویؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ اور دیگر علماء و مصلحین شامل ہیں۔ ہر خاکہ اسی معیار پر پرکھا گیا ہے کہ متعلقہ شخصیت نے اسلام کے نظامِ حیات کو کس حد تک سمجھا اور اس کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
عمر بن عبدالعزیز
اسلام کے سب سے پہلے مجدد عمر ابن عبدالعزیز ہیں۔[لہ ۶۱ھ میں پیدا ہوئے۔ سنہ ۱۰۱ھ میں وفات پائی۔] شاہی خاندان میں اُنکے معمولی ہوش سنبھالا تو اپنے آپ کو مصر جیسے عظیم الشان صوبہ کا گورنر پایا۔ بڑھے ہوئے تو خود اموی سلطنت کے ماتحت گورنری پر مامور ہوئے۔ شاہان بنی امیہ نے جن جاگیروں سے اپنے خاندان کو مالا مال کیا تھا۔ ان میں ان کا اور ان کے گھرانے کا بھی بہت بڑا حصہ تھا، حتی کہ خاص ان کی ذاتی جائداد کی آمدنی پچاس ہزار اشرفی سالانہ تک پہنچتی تھی۔ رئیسوں کی طرح پوری شان سے رہتے تھے، لباس، خوراک، سواری، مکان، عادات و خصائل سب وہی تھے جو شاہی حکومت میں شہزادوں کے ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کا ماحول اس کام سے دور کی مناسبت بھی نہ رکھتا تھا جو بعد میں انہوں نے انجام دیا۔ لیکن ان کی ماں حضرت عمرؓ کی پوتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو پچاس ہی برس ہوئے تھے جب وہ پیدا ہوئے۔ ان کے زمانہ میں صحابہؓ اور تابعین بکثرت موجود تھے۔ ابتداء میں انہوں نے حدیث اور فقہ کی پوری تعلیم پائی تھی۔ یہاں تک کہ محدثین کی صف اول میں شمار ہوتے تھے اور فقہ میں اجتہاد کا درجہ رکھتے تھے۔ پس علمی حیثیت سے تو ان کے لیے یہ جاننے اور سمجھنے میں کوئی دقت نہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین مہدیین کے عہد میں تمدن کی اساس کن چیزوں پر تھی اور جب خلافت بادشاہی سے بدلی تو ان بنیادوں میں کس نوعیت کا تغیر واقع ہوا۔ البتہ جو چیز عملی حیثیت سے ان کے راستے میں رکاوٹ ہو سکتی تھی وہ یہ تھی کہ اس جاہلی انقلاب کا بانی خود ان کا اپنا خاندان تھا، اس کے تمام فائدے اور بے حد و حساب فائدے ان کے بھائی بندوں اور خود ان کی ذات اور ان کے بال بچوں کو پہنچتے تھے اور ان کی خاندانی عصبیت ، ذاتی طمع اور اپنی آئندہ نسل کی دنیوی خیر خواہی کا پورا تقاضا یہ تھا کہ وہ بھی تخت شاہی پر فرعون بن کر بیٹھیں ، اپنے علم اور ضمیر کو ٹھوس مادی فائدوں کے مقابلے میں قربان کر دیں اور حق، انصاف ، اخلاق اور اصول کے چکر میں نہ پڑیں۔ مگر جب ۳۰ سال کی عمر میں بالکل اتفاقی طور پر تخت شاہی ان کے حصے میں آیا اور انہوں نے محسوس کیا کہ کس قدر عظیم الشان ذمہ داری ان پر آن پڑی ہے تو دفعۃً ان کی زندگی کا رنگ بدل گیا۔ انہوں نے اس طرح کسی ادنیٰ تامل کے بغیر جاہلیت کے مقابلے میں اسلام کے راستے کو اپنے لیے منتخب کیا کہ گویا یہ ان کا پہلے سے سوچا ہوا فیصلہ تھا۔
تخت شاہی انہیں خاندانی طریق پر ملا تھا مگر بیعت لیتے وقت مجمع عام میں صاف کہہ دیا کہ میں اپنی بیعت سے تمہیں آزاد کرتا ہوں ، تم لوگ جس کو چاہو خلیفہ منتخب کر لو اور جب لوگوں نے برضا و رغبت کہا کہ ہم آپ ہی کو منتخب کرتے ہیں، تب انہوں نے خلافت کی عنان اپنے ہاتھ میں لی۔
پھر شاہانہ کروفر، فرعونی انداز، قیصر و کسریٰ کے درباری طریقے ، رعب و حشمت کیسے اور پہلے ہی روز لوازم شاہی کو ترک کر کے وہ طرز اختیار کیا جو مسلمانوں کے درمیان ان کے خلیفہ کا ہونا چاہیئے۔
اس کے بعد ان امتیازات کی طرف توجہ کی جو شاہی خاندان کے لوگوں کو حاصل تھے اور ان کو تمام حیثیتوں سے عام مسلمانوں کے برابر کر دیا۔ وہ تمام جاگیریں جو شاہی خاندان کے قبضہ میں تھیں، اپنی جاگیر سمیت بیت المال کو واپس کیں۔ جن جن کی زمینوں اور جائیدادوں پر ناجائز قبضہ کیا گیا تھا، وہ سب ان کو واپس دیں۔ ان کی اپنی ذات کو اس تغیر سے جو نقصان پہنچا اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ پچاس ہزار کی جگہ صرف دو سو اشرفی سالانہ کی آمدنی رہ گئی۔ بیت المال کے روپے کو اپنی ذات پر اور اپنے خاندان والوں پر حرام کر دیا، حتیٰ کہ خلیفہ ہونے کی حیثیت سے تنخواہ تک نہ لی۔ اپنی زندگی کا سارا نقشہ بدل دیا۔ یا تو خلیفہ ہونے سے پہلے شاہانہ شان کے ساتھ رہتے تھے، یا خلیفہ ہوتے ہی فقیر بن گئے۔[سیرت نگاروں کا بیان ہے کہ خلافت سے پہلے ہزار درہم کا جوڑا بھی عمر بن عبدالعزیز کو پسند نہ آتا تھا۔ مگر خلیفہ ہونے کے بعد چار پانچ درہم کے جوڑے سے کبھی وہ اپنے لیے بہت اچھے سمجھتے تھے۔]
گھر اور خاندان کی اس اصلاح کے بعد نظامِ حکومت کی طرف توجہ کی۔ ظالم گورنروں کو الگ کیا اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر صالح آدمی تلاش کیے کہ گورنری کی خدمت انجام دیں۔ عاملین حکومت جو قانون اور ضابطہ سے آزاد ہو کر رعایا کی جان، مال اور آبرو پر غیر محدود اختیارات کے مالک ہو گئے تھے، ان کو پھر ضابطہ کا پابند بنایا اور قانون کی حکومت قائم کی، ٹیکس عائد کرنے کی پوری پالیسی بدل دی اور وہ تمام ناجائز ٹیکس جو شاہان بنی امیہ نے عاید کر دیے تھے، جن میں آبکاری تک کا محصول شامل تھا، یک قلم موقوف کیے۔ زکوٰۃ کی تحصیل کا انتظام از سر نو درست کیا اور بیت المال کی دولت کو پھر سے عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا، غیر مسلم رعایا کے ساتھ جو ناانصافیاں کی گئی تھیں، ان سب کی تلافی کی، ان کے معابد جن پر ناجائز قبضہ کیا گیا تھا انہیں واپس دلائے، ان کی زمینیں جو غصب کر لی گئی تھیں پھر واگزاشت کیں اور ان کے تمام وہ حقوق بحال کیے جو شریعت کی رُو سے انہیں حاصل تھے۔
عدالت کو انتظامی حکومت کے دخل سے آزاد کیا اور حکم بین الناس کے ضابطے اور اسپرٹ دونوں کو شاہی نظام کے اثرات سے پاک کر کے اسلامی اصول پر قائم کر دیا۔ اس طرح حضرت عمر ابن عبدالعزیز کے ہاتھوں سے اسلامی نظام حکومت دوبارہ زندہ ہوا۔
پھر انہوں نے سیاسی اقتدار سے کام لے کر لوگوں کی ذہنی، اخلاقی اور معاشرتی زندگیوں سے جاہلیت کے ان اثرات کو نکالنا شروع کیا جو نصف صدی کی جاہلی حکومت کے سبب سے اجتماعی زندگی میں پھیل گئے تھے۔ فاسد عقیدوں کی اشاعت کو روکا۔ عوام کی تعلیم کا وسیع پیمانے پر انتظام کیا۔ قرآن، حدیث اور فقہ کے علوم کی طرف اہل دماغ طبقوں کی توجہات کو دوبارہ منعطف کیا اور ایک ایسی علمی تحریک پیدا کردی جس کے اثر سے اسلام کو ابو حنیفہؒ، مالکؒ، شافعیؒ اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ جیسے مجتہدین میسر آئے ۔ اتباع شریعت کی روح کو تازہ کیا۔ شراب نوشی، تصویر کشی اور عیش و تنعم کی بیماریاں جو شاہی نظام کی بدولت پیدا ہو چکی تھیں، ان کا انسداد کیا۔ اور فی الجملہ وہ مقصد پورا کیا جس کے لیے اسلام اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے، یعنی <<الَّذِيْنَ إِنْ مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَ أَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ 📖 الحج 22:41>>۔
بہت ہی قلیل مدت میں اس انقلاب حکومت کے اثرات عوام کی زندگی پر ایسے بین الاقوامی حالات پر مرتب ہوئے شروع ہو گئے۔ ایک راوی کہتا ہے کہ ولید کے زمانہ میں لوگ جب آپس میں بیٹھتے تو عمارات اور باغوں کے متعلق گفتگو کرتے۔ سلیمان بن عبدالملک کا زمانہ آیا تو عوام کا مذاق شہوانیت کی طرف متوجہ ہوا۔ مگر عمر ابن عبدالعزیزؒ جب حکمران ہوئے تو حالت یہ تھی کہ جہاں چار آدمی جمع ہوتے ، نماز، روزہ اور قرآن کا ذکر چھڑ جاتا تھا۔ غیر مسلم رعایا پر اس حکومت کا اتنا اثر ہوا کہ ہزاروں ہزار آدمی اس مختصر سی مدت میں مسلمان ہو گئے اور جزیہ کی آمدنی دفعتاً اتنی گھٹ گئی کہ سلطنت کے مالیات اس سے متاثر ہونے لگے بلکہ ثبت اسلامی کے اطراف میں جو غیر مسلم ریاستیں موجود تھیں، حضرت عمر ابن عبد العزیزؒ نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی اور ان میں سے متعدد ریاستوں نے اس دین کو قبول کر لیا۔ اسلامی حکومت کی سب سے بڑی حریف سلطنت اس وقت روم کی سلطنت تھی جس کے ساتھ ایک صدی سے لڑائیوں کا سلسلہ جاری تھا اور اس وقت بھی سیاسی کش مکش چل رہی تھی۔ مگر عمر ابن عبدالعزیز کا جو اخلاقی اثر روم پر قائم ہوا اس کا اندازہ ان الفاظ سے کیا جا سکتا ہے جو ان کے انتقال کی خبر سن کر خود قیصر روم نے کہے تھے۔ اس نے کہا کہ:
”اگر کوئی راہب دنیا چھوڑ کر اپنے دروازے بند کرلے اور عبادت میں مشغول ہو جائے تو مجھے اس پر کوئی حیرت نہیں ہوتی۔ مگر مجھے حیرت ہے تو اس شخص پر، جس کے قدموں کے نیچے دنیا تھی اور پھر اُسے ٹھکرا کر اس نے فقیرانہ زندگی بسر کی۔“
اسلام کے مجدد اول کو صرف ڈھائی سال کام کرنے کا موقع ملا اور اس مختصر سی مدت میں اس نے یہ انقلاب عظیم بپا کر کے دکھا دیا۔ مگر بنی امیہ سب کے سب اس بندہ خدا کے دشمن ہو گئے۔ اسلام کی زندگی میں ان کی موت تھی، وہ اس تجدید کے کام کو کس طرح برداشت کر سکتے تھے۔ آخر کار انہوں نے سازش کر کے اسے زہر دے دیا اور صرف ۳۹ سال کی عمر میں یہ خادم دین و ملت دنیا سے رخصت ہو گیا۔ جس کار تجدید کو اس نے شروع کیا تھا، اس کی تکمیل میں اب صرف اتنی کسر باقی رہ گئی تھی۔ کہ خاندانی حکومت کو ختم کر کے انتخابی خلافت کا سلسلہ پھر سے قائم کر دیا جاتا۔ یہ اصلاح جس کے پیش نظر تھی اور اس نے اپنے عندیہ کا اظہار بھی کر دیا تھا، مگر اموی اقتدار کی جڑوں کو اجتماعی زندگی سے اکھاڑنا اور عام مسلمانوں کی اخلاقی و ذہنی حالت کو خلافت کا بار سنبھالنے کے لیے تیار کرنا آسان کام نہ تھا کہ ڈھائی برس کے اندر انجام پا سکتا۔ تجدید احیائے دین
بنی امیہ کی حکومت کے پوتے ۹۲ سالہ دور میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت کے ڈھائی سال تاریکی میں روشنی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی کا منبع جس واقعہ نے بدلا وہ یہ تھا کہ ۹۳ ھ میں، جبکہ وہ مدینہ کے گورنر تھے، ولید بن عبدالملک کے حکم سے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے صاحب زادے خبیب کو ۵۰ کوڑے لگوائے گئے، پھر سردی کے موسم میں ان کے سر پر ٹھنڈے پانی کی مشک چھوڑ دی گئی، پھر ان کو دن بھر مسجد نبوی کے دروازے پر کھڑا رکھا گیا۔ آخر کار اسی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔ یہ ایک صریح ظلم تھا اور ایک قطعاً غیر شرعی سزا تھی جس کا ارتکاب گورنر کی حیثیت میں عمر بن عبدالعزیز کو کرنا پڑا۔ مگر اس کے بعد انہوں نے گورنری سے استعفاء دے دیا اور ان پر سخت رنج اور خوف خدا مسلط ہو گیا۔
۹۹ ھ میں جب سلیمان بن عبدالملک کی خفیہ وصیت کی بنا پر وہ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے پھر ایک مرتبہ دنیا کے سامنے خلافت اور بادشاہی کا فرق نمایاں کر کے رکھ دیا۔ بیعت کی پہلی تقریر جو انہوں نے کی اس کے الفاظ یہ ہیں:۔
”میں اس حکومت کی آزمائش میں ڈال دیا گیا ہوں بغیر اس کے کہ میں نے اسے طلب کیا ہو، نہ یا مجھ سے اس معاملہ میں رائے لی گئی ہو، نہ، یا مسلمانوں سے مشورہ لیا گیا ہو۔ تمہاری گردنوں میں میری بیعت کا جو غلاف وہ ہٹے اسے میں اتار سے دیتا ہوں۔ اب تم لوگ خود جسے چاہو اپنے معاملات کا سر براہ بنا لو۔“
مجمع نے بہ یک آواز کہا کہ ہم آپ ہی کو پسند کرتے ہیں۔ آپ کی حکومت پر ہم سب راضی ہیں۔ تب انہوں نے خلافت قبولی کی اور فرمایا :۔
”در حقیقت اس امت میں کوئی اختلاف اپنے رب اور اپنے نبی اور اپنے دین کی کتاب کے بارے میں نہیں ہے بلکہ دینار و درہم کے معاملہ میں ہے۔ خدا کی قسم! میں کسی کو نہ باطل طریقے سے دوں گا، نہ کسی کا جائز حق روکوں گا۔ لوگو ! جو اللہ کی اطاعت کرے اس کی اطاعت واجب ہے اور جو اللہ کی اطاعت نہ کرے اس کے لیے کوئی اطاعت نہیں۔ جب تک میں اللہ کا مطیع رہوں، میری اطاعت کرو اور جب میں اللہ کا نا فرمان ہو جاؤں تو میری اطاعت ہر گز تم پر لازم نہیں ہے۔“
اس کے بعد انہوں نے بیک لخت وہ تمام شاہانہ طور طریقے ختم کر دیے جو ان کے آبا و اجداد نے اختیار کر رکھے تھے اور وہ طرزِ زندگی اختیار کیا جو خلفائے راشدین کے طرز سے مشابہ تھا۔ پھر وہ تمام جائدادیں واپس کیں جو خود ان کو ناجائز طریقہ سے وراثت میں ملی تھیں، حتی کہ اپنی بیوی کے زیورات اور جواہر وغیرہ بھی بیت المال میں داخل کر دیے اور ۴۰ ہزار دینار سالانہ کی جائیداد میں سے صرف چار سو دینار سالانہ کی جائیداد اپنے پاس رہنے دی جو جائز طور پر ان کی ملکیت تھی۔
اس طرح سب سے پہلے خود اپنا محاسبہ خدا اور امت سے صاف کرنے کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ شاہی خاندان اور اس کے امراء میں سے جس کے خلاف بھی کسی کا دعوے ہو وہ اپنی شکایت پیش کرے اور جس جس نے بھی ثابت کر دیا کہ کوئی چیز اس سے غصب کی گئی تھی اس کا حق اسے واپس دلوایا۔ اس پر بنی امیہ کے گھروں میں کہرام مچ گیا اور انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کی پھوپھی فاطمہ بنت مروان کو جس کا وہ بہت ادب لحاظ کرتے تھے، ان کے پاس بھیجا تاکہ وہ انہیں اس کام سے روکے۔ مگر انہوں نے اس کو جواب دیا کہ ” جب فرماں روا اس کا ازالہ نہ کرے تو وہ دوسروں کو کیا منہ لے کر ظلم سے روک سکتا ہے“ اس نے کہا: ”تمہارے خاندان کے لوگ تمہیں متنبہ کرتے ہیں کہ اس روش کا تمہیں سخت خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔“ انہوں نے جواب دیا ”قیامت کے خوف سے بڑھ کر اگر مجھے کسی چیز کا خوف ہو تو میں دُعا کرتا ہوں کہ مجھے اس چیز سے امن نصیب نہ ہو۔“ آخر کار وہ مایوس ہو کر پلٹی اور اس نے اپنے کنبے کے لوگوں سے کہا: ”یہ سب تمہارا اپنا کیا دھرا ہے۔ “تم عمر بن خطاب کے خاندان کی لڑکی بیاہ لائے۔ آخر کار لڑکا اپنے نانا پر چلا گیا۔ یہ واضح ہے کہ حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کی والدہ حضرت عمرؓ کی پوتی تھیں،
ان کے احساس ذمہ داری کا یہ حال تھا کہ اپنے پیش رو سلیمان بن عبد الملک کو دفن کر کے جب پلٹے تو بڑے غمگین دکھائی دے رہے تھے۔ لوگوں کو حیرت ہوئی کہ بادشاہ کی ملنے پر خوش ہونے کے بجائے الٹے رنجیدہ ہیں۔ پوچھا گیا کہ اس رنج و غم کا سبب کیا ہے۔ فرمایا ”مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی اس امت محمد کا ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جس کا حق اس کی طلب کے بغیر مجھے ادا کرنا نہ ہو۔“ ان کی بیوی کا بیان ہے کہ میں ان کے کمرے میں گئی تو دیکھا کہ جا نماز پر بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا۔ ”میں نے امت محمدؐ کے معاملات اپنے سر لے لیے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ کوئی بھوکا فقیر ہے، کوئی بے کس مریض ہے، کوئی مظلوم مقہور ہے، کوئی غریب نادار ہے، کوئی بوڑھا ضعیف ہے، کوئی عیال دار مفلس ہے، غرض ملک کے ہر گوشے میں اس طرح کے لوگ پھیلے ہوئے ہیں، میں جانتا ہوں کہ میرا رب قیامت کے روز مجھ سے پوچھے گا کہ میں نے ان کے لیے کیا کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے مقابلے میں مستغیث ہوں گے۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں مقدمہ میرے خلاف نہ ثابت ہو جائے۔ اس لیے اپنے آپ پر ترس کھا کر رو رہا ہوں”۔
انہوں نے ظالم گورنروں اور عاملوں کو ہٹا کر ان کی جگہ اچھے حاکم مقرر کیے۔ یہ تمام ناجائز ٹیکس موقوف کیے جو بنی امیہ کے عہد میں وصول کیے جاتے تھے۔ نئے مسلمان ہو جانے والوں پر جزیہ لگانے کا طریقہ بند کر دیا اور اپنے حکام کو سخت تاکید کی احکام بھیجے کہ کسی مسلمان یا ذمی کو قانون کے خلاف کوڑے نہ لگائے جائیں اور کسی کو قتل یا ہاتھ کاٹنے کی سزا مجھ سے پوچھے بغیر نہ دی جائے۔
ان کے آخر عہد میں خارجیوں کے ایک گروہ نے ان کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ انہوں نے اس گروہ کے سردار کو لکھا کہ خون خرابے سے کیا حاصل ہے، اگر مجھ سے سخت کرو، تم حق پر ہوگے تو میں مان لوں گا، میں حق پر ہوں گا تو تم مان لینا۔ خارجی سردار نے یہ بات تسلیم کر لی اور دو آدمی بحث کے لیے بھیج دیے۔ ان دونوں نے کہا: ”ہم مانتے ہیں کہ آپ کا طریقہ آپ کے اہل خاندان سے مختلف ہے اور ان کے اعمال کو آپ مظالم سے تعبیر کرتے ہیں، مگر یہ کیا بات ہے کہ جب وہ ضلالت پر تھے تو آپ ان پر لعنت نہیں کرتے؟“ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا۔ ”کیا ان کی مذمت کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ میں ان کے اعمال کو مظالم کہتا ہوں؟ اس کے بعد آخر لعنت کرنا ہی کیوں ضروری ہے؟ تم نے فرعون پر کتنی مرتبہ لعنت کی ہے؟“ اس طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خارجیوں کی ایک ایک بات کا مُسکت جواب دیتے چلے گئے۔ آخر ان میں سے ایک نے کہا: ”کیا ایک عادل آدمی یہ گوارا کر سکتا ہے کہ اس کا جانشین ایک ظالم ہو؟“ انہوں نے کہا۔ نہیں۔ اس نے کہا: ”کیا آپ اپنے بعد یزید بن عبد الملک کے حوالے یہ خلافت کر جائیں گے درآنحالیکہ آپ جانتے ہیں کہ وہ حق پر قائم نہ رہے گا؟“ انہوں نے کہا: ”اس کے لیے تو میرا پیش رو سلیمان بن عبدالملک) پہلے ہی میرے بعد ولی عہدی کی بیعت لے چکا ہے اب میں کیا کر سکتا ہوں۔“ اس نے کہا: ”کیا آپ کے خیال میں وہ شخص جس نے آپ کے بعد یزيد بن عبدالملک کو نامزد کیا ہے۔ اسے ایسا کرنے کا حق تھا اور اس کا یہ فیصلہ برحق ہے۔ اس پر عمر بن عبدالعزیز لاجواب ہو گئے اور مجلس برخاست ہونے کے بعد بار بار کہتے رہے کہ یزید کے معاملہ نے مجھے مار ڈالا، اس حجت کا میرے پاس کوئی جواب نہیں، خدا مجھے معاف کرے۔
یہی وہ واقعہ ہے جس کے بعد بنی امیہ کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ اب یہ خاندانی بادشاہت بھی ختم کر کے چھوڑیں گے اور خلافت کو شورائی کے حوالے کر جائیں گے۔ اس کے تھوڑی مدت بعد ہی انہیں زہر دے کر ہلاک کر دیا گیا اور پھر وہی سب کچھ ہونے لگا جو پہلے سے ہوتا چلا آ رہا تھا۔
(خلافت و ملوکیت)