مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

بناؤ اور بگاڑ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک تقریر ہے جس میں مولانا مودودی اقوام کے عروج و زوال کے اس خدائی قانون کی وضاحت کرتے ہیں جو دنیا کے انتظام کو اسی قوم کے سپرد رکھتا ہے جو بگاڑنے کے بجائے بنانے کا کام زیادہ کرے۔ وہ ایک باغ کے مالک اور مالی کی مثال سے یہ سمجھاتے ہیں کہ زمین کا حقیقی مالک، اللہ تعالیٰ، کسی قوم کو محض اس کے دیرینہ تعلق یا آبائی حق کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی کارکردگی کی بنیاد پر اقتدار عطا کرتا اور واپس لیتا ہے۔

اسی اصول کی روشنی میں وہ برصغیر میں مسلمانوں کے عروج، ان کی معزولی، انگریزوں کے اخراج اور آزادی کے بعد کی صورتِ حال کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں، اور قوم کی موجودہ اخلاقی حالت اور اس کے نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صالح عناصر کی تنظیم اور بناؤ و بگاڑ کے واضح تصور کو اصلاح کے پہلے قدم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اُمید کی کرن

اس تاریکی میں، ہمارے لیے امید کی ایک ہی شعاع ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہماری پوری آبادی بگڑ کر نہیں رہ گئی ہے، بلکہ اس میں کم از کم چار پانچ فی صد لوگ، ایسے ضرور موجود ہیں جو اِس عام بد اخلاقی سے بچے ہوئے ہیں۔ یہ وہ سرمایہ ہے جس کو اصلاح کی ابتدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔