مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

بناؤ اور بگاڑ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک تقریر ہے جس میں مولانا مودودی اقوام کے عروج و زوال کے اس خدائی قانون کی وضاحت کرتے ہیں جو دنیا کے انتظام کو اسی قوم کے سپرد رکھتا ہے جو بگاڑنے کے بجائے بنانے کا کام زیادہ کرے۔ وہ ایک باغ کے مالک اور مالی کی مثال سے یہ سمجھاتے ہیں کہ زمین کا حقیقی مالک، اللہ تعالیٰ، کسی قوم کو محض اس کے دیرینہ تعلق یا آبائی حق کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی کارکردگی کی بنیاد پر اقتدار عطا کرتا اور واپس لیتا ہے۔

اسی اصول کی روشنی میں وہ برصغیر میں مسلمانوں کے عروج، ان کی معزولی، انگریزوں کے اخراج اور آزادی کے بعد کی صورتِ حال کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں، اور قوم کی موجودہ اخلاقی حالت اور اس کے نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صالح عناصر کی تنظیم اور بناؤ و بگاڑ کے واضح تصور کو اصلاح کے پہلے قدم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اِصلاح کی فکر کیجیے

مَیں یہ باتیں آپ سے اس لیے نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ اپنے آپ سے اور اپنے مستقبل سے مایوس ہو جائیں۔ مَیں نہ تو خود مایُوس ہوں، نہ کسی کو مایُوس کرنا چاہتا ہوں۔ دراصل میرا مدعا آپ کو یہ بتانا ہے کہ ہندستان کے لوگ اپنی حماقت اور جہالت سے، اس زرّیں موقعے کو کھونے پر تُلے ہوئے ہیں جو کسی ملک کی قسمت بدلتے وقت، صدیوں کے بعد خدا وندِ عالم، اس کے باشندوں کو دیا کرتا ہے۔ یہ وقت تھا کہ وہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر، اپنے اعلیٰ اوصاف اور اپنی بہتر صلاحیتوں کا ثبوت پیش کرتے، تاکہ خدا کی نگاہ میں انتظامِ زمین کے اہل قرار پاتے، مگر آج ان کے درمیان مقابلہ، اس چیز میں ہو رہا ہے کہ کون زیادہ غارت گر، زیادہ سفاک اور زیادہ ظالم ہے، تاکہ سب سے بڑھ کر خدا کی لعنت کا وہی مستحق قرار پائے۔ یہ لچھن آزادی اور ترقی اور سرفرازی کے نہیں ہیں۔ ان سے تو اندیشہ ہے کہ کہیں پھرایک مدّتِ دراز کے لیے، ہمارے حق میں غلامی اور ذلت کا فیصلہ نہ لکھ دیا جائے۔ لہٰذا جو لوگ عقل و ہوش رکھتے ہیں، انھیں ان حالات کی اصلاح کے لیے کچھ فکر کرنی چاہیے۔