بناؤ اور بگاڑ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ایک تقریر ہے جس میں مولانا مودودی اقوام کے عروج و زوال کے اس خدائی قانون کی وضاحت کرتے ہیں جو دنیا کے انتظام کو اسی قوم کے سپرد رکھتا ہے جو بگاڑنے کے بجائے بنانے کا کام زیادہ کرے۔ وہ ایک باغ کے مالک اور مالی کی مثال سے یہ سمجھاتے ہیں کہ زمین کا حقیقی مالک، اللہ تعالیٰ، کسی قوم کو محض اس کے دیرینہ تعلق یا آبائی حق کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی کارکردگی کی بنیاد پر اقتدار عطا کرتا اور واپس لیتا ہے۔
اسی اصول کی روشنی میں وہ برصغیر میں مسلمانوں کے عروج، ان کی معزولی، انگریزوں کے اخراج اور آزادی کے بعد کی صورتِ حال کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں، اور قوم کی موجودہ اخلاقی حالت اور اس کے نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صالح عناصر کی تنظیم اور بناؤ و بگاڑ کے واضح تصور کو اصلاح کے پہلے قدم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ہندستان پر مسلمانوں کا اقتدار
یہ لوگ سیکڑوں برس تک یہاں کے انتظام پر سرفراز رہے، اور ان کے ساتھ خود اس ملک کے بھی بہت سے لوگ، اسلام قبول کر کے شامل ہو گئے۔ اس میں شک نہیں کہ ان لوگوں نے بہت کچھ بگاڑا بھی، مگر جتنا بگاڑا، اس سے زیادہ بنایا۔ کئی سو برس تک ہندستان میں بناؤ کا جو کام بھی ہوا، انھی کے ہاتھوں ہوا، یا پھر ان کے اثر سے ہوا۔ انھوں نے علم کی روشنی پھیلائی، خیالات کی اصلاح کی، تمدن و معاشرت کو بہت کچھ درست کیا، ملک کے ذرائع و وسائل کو اپنے عہد کے معیار کے لحاظ سے، بہتری میں استعمال کیا اور امن و انصاف کا وہ عمدہ نظام قائم کیا جو اگرچہ اسلام کے اصلی معیار سے بہت کم تھا، مگر پہلے کی حالت اور گردوپیش کے دوسرے ملکوں کی حالت سے، مقابلہ کرتے ہوئے کافی بلند تھا۔
اس کے بعد وہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح بگڑنے لگے۔ ان کے اندر بھی بناؤ کی صلاحیتیں گھٹنا شروع ہوئیں اور بگاڑ کے میلانات بڑھتے چلے گئے۔ انھوں نے بھی اُونچ نیچ اور نسلی امتیازات اور طبقاتی تفریقیں کر کے، خود اپنی سوسائٹی کو پھاڑ لیا، جس کے بے شمار اخلاقی، سیاسی اور تمدنی نقصانات ہوئے۔انھوں نے بھی انصاف کم اور ظلم زیادہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ بھی حکومت کی ذمہ داریوں کو بھول کر، صرف اس کے فائدوں اور زیادہ تر نا جائز فائدوں پر نظر رکھنے لگے۔ انھوں نے بھی ترقی اور اصلاح کے کام چھوڑ کر، خدا کی دی ہوئی قوتوں اور ذرائع کو ضائع کرنا شروع کیا، اور اگر استعمال کیا بھی تو زیادہ تر زندگی کو بگاڑنے والے کاموں میں کیا۔ تن آسانی و عیش پرستی میں وہ اتنے کھوئے گئے کہ جب آخری شکست کھا کر، اُن کے فرماں رواؤں کو دلی کے لال قلعے سے نکلنا پڑا تو ان کے شاہ زادے ____وہی جو کل تک حکومت کے امیدوار تھے____جان بچانے کے لیے بھاگ بھی نہ سکتے تھے، کیوں کہ زمین پر چلنا انھوں نے چھوڑ رکھا تھا۔
مسلمانوں کی عام اخلاقی پستی اس حد کو پہنچ گئی کہ ان کے عوام سے لے کر، بڑے بڑے ذمہ دار لوگوں تک، کسی میں بھی اپنی ذات کے سوا دُوسری کسی چیز کی وفاداری باقی نہ رہی، جو انھیں دین فروشی، قوم فروشی اور ملک فروشی سے روکتی۔ ان میں ہزاروں لاکھوں پیشہ ور سپاہی پیدا ہونے لگے جن کی اخلاقی حالت، پالتو کتوں کی سی تھی کہ جو چاہے روٹی دے کر، انھیں پال لے اور پھر جس کا دل چاہے اُن سے شکار کرالے۔ان میں یہ احساس بھی باقی نہ رہا کہ یہ ذلیل ترین پیشہ جس کی بدولت، اُن کے دشمن، خود ان ہی کے ہاتھوں، اُن کا ملک فتح کر رہے تھے، اپنے اندر کوئی ذلت کا پہلو بھی رکھتا ہے۔ غالبؔ جیسا شخص فخریہ کہتا ہے کہ:
سو پشت سے ہے پیشۂ آبا ، سپہ گری
یہ بات کہتے ہوئے، اتنے بڑے شاعر کو ذرا خیال تک نہ گزرا کہ پیشہ ورانہ سپہ گری کوئی فخر کی بات نہیں، ڈوب مرنے کی بات ہے۔