مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

بناؤ اور بگاڑ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک تقریر ہے جس میں مولانا مودودی اقوام کے عروج و زوال کے اس خدائی قانون کی وضاحت کرتے ہیں جو دنیا کے انتظام کو اسی قوم کے سپرد رکھتا ہے جو بگاڑنے کے بجائے بنانے کا کام زیادہ کرے۔ وہ ایک باغ کے مالک اور مالی کی مثال سے یہ سمجھاتے ہیں کہ زمین کا حقیقی مالک، اللہ تعالیٰ، کسی قوم کو محض اس کے دیرینہ تعلق یا آبائی حق کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی کارکردگی کی بنیاد پر اقتدار عطا کرتا اور واپس لیتا ہے۔

اسی اصول کی روشنی میں وہ برصغیر میں مسلمانوں کے عروج، ان کی معزولی، انگریزوں کے اخراج اور آزادی کے بعد کی صورتِ حال کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں، اور قوم کی موجودہ اخلاقی حالت اور اس کے نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صالح عناصر کی تنظیم اور بناؤ و بگاڑ کے واضح تصور کو اصلاح کے پہلے قدم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تاریخ کی شہادت

یہ جو کچھ عرض کر رہا ہوں، تاریخ گواہ ہے کہ خدا نے ہمیشہ اپنی زمین کا انتظام اسی اصول پر کیا ہے۔ دُو رکیوں جائیے، خود اپنے ہی ملک کی تاریخ دیکھ لیجیے۔ یہاں جو قومیں پہلے آباد تھیں ان کی تعمیری صلاحیتیں جب ختم ہو گئیں تو خدا نے آریوں[لفظ ” آریہ“ کا اطلاق سفید رنگت اور سیاہ بالوں والی اقوام پر ہوتا ہے۔ سنسکرت ، انھی کی زبان سے ایجاد ہوئی ہے۔ آریہ اقوام ۱۵ سو برس قبل مسیح میں کابل کے دروں سے ہندستان آئیں، کچھ خانہ بدوش ھیں اور کچھ بستیوں میں رہنے والی ۔ یہ اقوام دریائے سندھ سے گنگا تک بتدریج آئیں۔ پھر برہمہ پتر تک پھیل گئیں ۔ انھوں نے راستے میں آنے والی سیاہ فام اور سیدھے بالوں والی اقوام کے علاوہ تورانیوں کو زیر کیا جو وہاں مقیم تھے ۔ آریہ قوم کی دو نسلیں تھیں۔ ایک تو یورپ جابسی اور دوسری ایران میں جا آباد ہوئی ۔ (ادارہ)]کو یہاں کے انتظام کا موقع دیا، جو اپنے وقت کی قوموں میں سب سے زیادہ اچھی صلاحیتیں رکھتے تھے۔ اُنھوں نے یہاں آ کر ایک بڑے شان دار تمدن کی بِنا رکھی، بہت سے علوم و فنون ایجاد کیے، زمین کے خزانوں کو نکالا اور انھیں بہتری میں استعمال کیا، بگاڑ سے زیادہ بناؤ کے کام کر کے دکھائے۔ یہ قابلیتیں جب تک اُن میں رہیں، تاریخ کے سارے نشیبوں اور فرازوں کے باوجود، یہی اِس ملک کے منتظم رہے۔ دوسرے امید وار بڑھ بڑھ کر آگے آئے مگر دھکیل دیے گئے، کیوں کہ ان کے ہوتے، دوسرے منتظم کی ضرورت نہ تھی۔ ان کے حملے زیادہ سے زیادہ بس یہ حیثیت رکھتے تھے کہ جب کبھی یہ ذرا بگڑنے لگتے تو کسی کو بھیج دیا جاتا، تاکہ انھیں متنبہ کر دے، مگر جب یہ بگڑتے ہی چلے گئے اور انھوں نے بناؤ کے کام کم اور بگاڑنے کے کام زیادہ کرنے شروع کر دیے، جب انھوں نے اخلاق میں وہ پستی اختیار کی جس کے آثار بام مارگی تحریک[بام مارگی تحریک : بام ، ہندو ویدوں کے عالم : بامن سے ماخوذ ہے جسے باہمن یا برہمن بھی کہا جاتا ہے۔ مارگ، سنسکرت کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے : راستہ ۔ یوں بام مارگی کا مطلب ہے کہ : برہمنوں کا بتایا ہوا طور طریقہ، جو ہندومت کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ہندومت کی سب سے بڑی پہچان ، ذات پات کا وہ نظام ہے جسے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے پروان چڑھایا اور جو آج بھی قائم ہے۔ (ادارہ)] میں آپ، اب بھی دیکھ سکتے ہیں۔ جب انھوں نے انسانیت کی تقسیم کرکے، خود اپنی ہی سوسائٹی کو ورنوں (فرقوں) اور ذاتوں میں پھاڑ ڈالا، اپنی اجتماعی زندگی کو ایک زینے کی شکل میں ترتیب دیا، جس کی ہر سیڑھی کا بیٹھنے والا، اپنے سے اُوپر کی سیڑھی والے کا بندہ اور نیچے کی سیڑھی والے کا خدا بن گیا، جب انھوں نے خدا کے لاکھوں کروڑوں بندوں پر، وہ ظلم ڈھایا جو آج تک اچھوت پن کی شکل میں موجود ہے، جب انھوں نے علم کے دروازے عام انسانوں پر بند کر دیے، اور اُن کے پنڈت، علم کے خزانوں پر سانپ بن کر بیٹھ گئے، اور جب ان کے کارفرما طبقوں کے پاس، اپنے زبردستی جمائے ہوئے حقوق وصول کرنے اور دوسروں کی محنتوں پر دادِ عیش دینے کے سوا کوئی کام نہ رہا، تو خدا نے آخر کار، اُن سے ملک کا انتظام چھین لیا اور وسطِ ایشیا کی اُن قوموں کو یہاں کام کرنے کا موقع دیا، جو اُس وقت اسلامی تحریک سے متاثر ہو کر، زندگی کی بہتر صلاحیتوں سے آراستہ ہو گئی تھیں۔