مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

بناؤ اور بگاڑ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ایک تقریر ہے جس میں مولانا مودودی اقوام کے عروج و زوال کے اس خدائی قانون کی وضاحت کرتے ہیں جو دنیا کے انتظام کو اسی قوم کے سپرد رکھتا ہے جو بگاڑنے کے بجائے بنانے کا کام زیادہ کرے۔ وہ ایک باغ کے مالک اور مالی کی مثال سے یہ سمجھاتے ہیں کہ زمین کا حقیقی مالک، اللہ تعالیٰ، کسی قوم کو محض اس کے دیرینہ تعلق یا آبائی حق کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی کارکردگی کی بنیاد پر اقتدار عطا کرتا اور واپس لیتا ہے۔

اسی اصول کی روشنی میں وہ برصغیر میں مسلمانوں کے عروج، ان کی معزولی، انگریزوں کے اخراج اور آزادی کے بعد کی صورتِ حال کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں، اور قوم کی موجودہ اخلاقی حالت اور اس کے نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صالح عناصر کی تنظیم اور بناؤ و بگاڑ کے واضح تصور کو اصلاح کے پہلے قدم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

خدا اپنی زمین کا انتظام کسے دیتا ہے؟

مالک ہونے کی حیثیت سے، اس کی خواہش یہ ہے کہ اُس کی دُنیا کا انتظام ٹھیک کیا جائے، اُسے زیادہ سے زیادہ سنوارا جائے، اس کے دیے ہوئے، ذرائع اور اُس کی بخشی ہوئی قوتوں اور قابلیتوں کو زیادہ سے زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کیا جائے۔ وہ اِس بات کو ہر گز پسند نہیں کرتا، اور اُس سے یہ توقع کی بھی نہیں کی جا سکتی کہ وہ کبھی اسے پسند کرے گا کہ اُس کی دنیا بگاڑی جائے، اُجاڑی جائے، اور اسے بد نظمی سے ، گندگیوں سے اور ظلم و ستم سے خراب کر ڈالا جائے۔ انسانوں میں سے جو لوگ بھی دنیا کے انتظام کے امید وار بن کر کھڑے ہوتے ہیں‘ جن کے اندر بنانے کی، زیادہ سے زیادہ صلاحیت ہوتی ہے، اُنھی کو وہ یہاں انتظام کے اختیارات سپرد کرتا ہے۔