سر چارلس نیپیئر نے میانی کی جنگ میں تالپور میروں کی فوج کو شکست دی اور سندھ کمپنی کی عملداری میں شامل ہو گیا۔
سندھ پر اس وقت تالپور میروں کی حکومت تھی جن کے چار پانچ خاندان الگ الگ علاقے سنبھالے ہوئے تھے۔ کمپنی نے تجارتی راستوں اور افغان جنگ کی رسد کے بہانے میروں سے کئی معاہدے کیے جو مسلسل بدلتے اور سخت ہوتے گئے، اور میروں کو اپنی خود مختاری محدود ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔
فروری 1843ء میں سر چارلس نیپیئر نے حیدرآباد کے قریب میانی کے مقام پر میروں کی فوج پر حملہ کیا؛ میر نصیر خان کی قیادت میں بلوچ سرداروں نے بہادری سے مقابلہ کیا مگر جدید ہتھیاروں کے سامنے کامیاب نہ ہو سکے۔ کچھ ہفتوں بعد دبّہ (ڈبو) کی جنگ میں بھی شکست ہوئی، اور سندھ کو کمپنی کی عملداری میں شامل کر لیا گیا۔ نیپیئر کا مشہور جملہ 'Peccavi' (میں نے گناہ کیا/سندھ لے لیا) اسی موقع سے منسوب ہے، اگرچہ اس کی صحت کے بارے میں شبہات ہیں۔
سندھ کے الحاق سے وادیِ سندھ کا وہ علاقہ برطانوی ہند میں شامل ہو گیا جو آج کے پاکستان کا حصہ ہے۔ کراچی کی بندرگاہ کو ترقی ملی، مگر سندھی معاشرہ اور حکمران خاندان اپنی آزادی کھو بیٹھے۔