کمپنی نے عدالتوں اور دفاتر میں سینکڑوں سال سے رائج فارسی کو ختم کر کے انگریزی اور مقامی زبانیں رائج کیں؛ اس سے مسلم اہلِ قلم و اہلِ کار طبقے کے روزگار کو گہرا دھچکا پہنچا۔
فارسی مغل دور سے ہندوستان کی سرکاری، عدالتی اور علمی زبان تھی، اور مسلمان ہی نہیں بہت سے ہندو کاتب اور دفتری اہلکار بھی فارسی کے ماہر تھے۔ کمپنی نے ابتدا میں یہی نظام برقرار رکھا، کیونکہ عدالتی دستاویزات، مالیہ کے کاغذات اور مراسلت فارسی میں تھی۔
1837ء میں گورنر جنرل لارڈ آکلینڈ کے دور میں حکم جاری ہوا کہ عدالتوں اور دفتروں میں فارسی کی جگہ انگریزی (بالائی سطح پر) اور مقامی زبانیں (نچلی سطح پر) استعمال کی جائیں۔ فارسی جاننے والے ہزاروں مسلم اہلِ قلم و اہلکار راتوں رات بے روزگار ہو گئے، جبکہ انگریزی سیکھنے والے نئے طبقات کے لیے ملازمتیں کھل گئیں۔
اس تبدیلی کے سیاسی و معاشی اثرات گہرے تھے؛ اس نے مسلمانوں کی روایتی تعلیمی و انتظامی حیثیت کمزور کی، اور اردو زبان کا مقام بھی بدلا جو آگے چل کر مسلمانوں کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ بنی۔