چوتھی اینگلو میسور جنگ میں سلطان ٹیپو نے سرنگاپٹم کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کا مشہور قول ہے: 'شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔'
ٹیپو سلطان اپنے والد حیدر علی کے بعد 1782ء میں میسور کے حکمران بنے۔ انہوں نے فوجی اصلاحات کیں، جدید ہتھیار سازی اور میسوری راکٹوں کو فروغ دیا، بحری بیڑہ بنانے کی کوشش کی، اور تجارتی و صنعتی ترقی کے لیے اقدامات کیے۔ انہوں نے کمپنی کے خلاف فرانس، افغانستان اور عثمانی سلطنت سے بھی رابطے کیے۔
کمپنی کے ساتھ تین جنگیں پہلے ہو چکی تھیں، جن میں 1792ء کی تیسری جنگ کے بعد ٹیپو کو اپنا آدھا علاقہ اور بھاری تاوان چھوڑنا پڑا۔ 1799ء میں چوتھی جنگ میں لارڈ ویلزلی کی فوج نے، جس میں حیدرآباد کے نظام اور مرہٹوں کی مدد بھی شامل تھی، سرنگاپٹم کا محاصرہ کیا۔ 4 مئی 1799ء کو قلعے کی فصیل ٹوٹی اور ٹیپو دفاع کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔
ٹیپو کا یہ قول مشہور ہے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ ان کی شہادت کے بعد جنوبی ہند میں کمپنی کے لیے آخری بڑی رکاوٹ ختم ہو گئی، اور وہ برصغیر میں استعمار کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔