برطانوی پارلیمنٹ نے پہلی بار کمپنی کے امور کو قانون کے تحت منظم کیا اور بنگال کے لیے گورنر جنرل مقرر کیا؛ کمپنی اب محض تجارتی نہیں بلکہ حکمران ادارہ تسلیم ہوئی۔
بنگال کی دیوانی ملنے اور 1770ء کے قحط کے بعد کمپنی کے افسران کی بدعنوانیوں، ذاتی دولت اور اس کے مالی بحران کی شکایات برطانیہ میں عام ہوئیں۔ کمپنی کو حکومت سے قرض لینا پڑا، جس پر برطانوی پارلیمنٹ نے اس کے انتظام کو قانون کے تحت لانے کا فیصلہ کیا۔
1773ء کے ریگولیٹنگ ایکٹ کے ذریعے بنگال میں گورنر جنرل اور ایک کونسل کا عہدہ قائم کیا گیا؛ وارن ہیسٹنگز پہلے گورنر جنرل بنے۔ کلکتہ میں سپریم کورٹ بنایا گیا اور مدراس و بمبئی کی پریزیڈنسیوں کو بنگال کے ماتحت کیا گیا، نیز کمپنی کے ملازمین کی نجی تجارت اور تحفے لینے پر پابندی لگائی گئی۔
اس قانون نے اصولی طور پر تسلیم کر لیا کہ کمپنی کے اقتدار پر برطانوی ریاست کا اختیار ہے۔ 1784ء کے پٹ کے ایکٹ اور بعد کے چارٹر ایکٹس (1813ء، 1833ء) کے ذریعے یہ نگرانی بڑھتی گئی، یہاں تک کہ 1858ء میں کمپنی کا اقتدار مکمل طور پر ختم کر کے تاجِ برطانیہ نے براہِ راست انتظام سنبھال لیا۔