بنگال میں زمینداروں کے ساتھ مالیے کی رقم ہمیشہ کے لیے طے کر دی گئی۔ اس سے ایک نیا زمیندار طبقہ ابھرا جبکہ کاشتکار اور پرانی مسلم اشرافیہ بے اثر ہوتے گئے۔
بنگال کی دیوانی ملنے کے بعد کمپنی کو مالیے کی مستقل اور یقینی وصولی کا مسئلہ درپیش تھا۔ گورنر جنرل لارڈ کارن والس نے 1793ء میں مستقل بندوبست (Permanent Settlement) نافذ کیا، جس کے تحت زمینداروں کے ذمے سالانہ مالیے کی رقم ہمیشہ کے لیے مقرر کر دی گئی، اور زمینداروں کو زمین کا مالک تسلیم کر لیا گیا۔
اس کا مقصد کمپنی کی آمدنی کو مستحکم کرنا اور زرعی سرمایہ کاری کو فروغ دینا تھا۔ مگر عملی طور پر جو زمیندار مقررہ تاریخ تک رقم ادا نہ کر پاتے، ان کی جاگیریں نیلام کر دی جاتیں۔ اس سے پرانی مسلم اشرافیہ اور کئی خاندان تباہ ہوئے اور کلکتہ کے ہندو تاجر اور بروکر طبقات نئے زمیندار بن گئے۔
کاشتکار زمینداروں کے رحم و کرم پر رہ گئے اور کسانوں کا استحصال بڑھا؛ بنگال کی بہت سی کسان بغاوتوں کا بنیادی سبب یہی نظام سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظام برصغیر کے سماجی ڈھانچے پر گہرے اثرات چھوڑ گیا۔