مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک آزادی ہند اور مسلمان

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "تحریک آزادی ہند اور مسلمان" ایک ایسی علمی و فکری تحریر ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے پیش آنے والے سیاسی، تہذیبی اور وجودی بحران کا گہرائی سے تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اسلام محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کا ایک جامع نظام ہے جس کا مقصد اللہ کی حاکمیت کو تمام شعبوں—سیاست، معیشت، معاشرت، تعلیم—میں قائم کرنا ہے۔ غلامی اور اسلام باہم منافی چیزوں ہیں؛ لہٰذا مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد صرف سیاسی آزادی تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اس کا مقصد دارالاسلام کی تشکیل ہونا چاہیے، جہاں اسلامی نظامِ حیات غالب ہو۔

کتاب کا آغاز مسلمانوں کی غلامی سے آزادی کی تاریخی جدوجہد سے ہوتا ہے، جس میں سید احمد شہیدؒ، فرائضی تحریک اور 1857ء کی جنگِ آزادی کو اسلامی استقلال کی عکاسی قرار دیا گیا ہے۔ مودودی صاحب واضح کرتے ہیں کہ برطانوی سامراج نے نہ صرف سیاسی بلکہ تہذیبی اور ذہنی غلامی کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی قومی شناخت متزلزل ہو گئی۔ انیسویں صدی کے آخر میں مغربی تہذیب کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والی روش نے مسلم معاشرے میں ایک گہری کشمکش پیدا کر دی، جہاں قدامت پسند اور جدیدیت پسند دونوں راستے ناکام ثابت ہوئے۔

باب دوم "ہم کہاں کھڑے ہیں؟" میں مصنف مسلمانوں کی موجودہ فکری اور سیاسی بے چینی کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خلافت تحریک کی ناکامی کے بعد قیادت کا فقدان ہوا اور ملت ایک انتشار کی حالت میں چلی گئی۔ کتاب کے وسطی مضامین جماعتِ اسلامی کے قیام (1941ء) کے بعد کے سیاسی مؤقف کو تاریخی ترتیب سے بیان کرتے ہیں: مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت، غیر اسلامی قانون ساز مجلسوں کی رکنیت کا شرعی حکم، پرامن انقلاب کے راستے پر اصرار، اور 1946ء کے انتخابات اور صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں جماعتِ اسلامی کے مسلک کی وضاحت شامل ہے۔

کتاب کے آخری مضامین 1947-48ء کے دوران تقسیمِ ہند اور قیامِ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے سوالات پر مرکوز ہیں: تقسیم کے وقت مسلمانوں کی حالت کا جائزہ، کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے، اور پاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں اور اسے نافذ کرنے کا طریقہ کار۔ یوں کتاب مجموعی طور پر مسلمانانِ ہند کی جدوجہدِ آزادی کے فکری سفر کو غلامی کے دور سے لے کر ایک نظریاتی ریاست کے قیام کے فوری بعد تک، بلاتعطل تاریخی ترتیب میں پیش کرتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مسلم لیگ سے اختلاف کی نوعیت (ستمبر و اکتوبر ۱۹۴۴ء)

مسلم لیگ کی مجلس عمل کی جانب سے حسب ذیل سوال نامہ ہمارے پاس بھیجا گیا ہے۔

’’کن اصول‘ خطوط اور بنیادوں پر ہندستانی مسلمانوں کی سیاسی ومعاشی اصلاح‘ ان حالات کے اندر رہتے ہوئے‘ جن میں وہ گھرے ہوئے ہیں‘ اسلامی اصول‘ روایات اور نقطۂ نظر کے مطابق ممکن ہے؟براہ کرم حسب ذیل خطوط پر اپنی تفصیلی رائے تحریر کیجیے:۔

(الف) ایک ایسا قابلِ عمل دستور تجویز کیجیے‘ جس کے ذریعہ قومی احیائ کے مشترکہ مقصد کے لیے مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور مدارسِ فکر کو متحد اور مربوط کیا جا سکے۔

(ب) ایک ایسا اقتصادی نقشہ ونظام مرتّب کیجیے جو اصولِ اسلام کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو۔

(ج) ہندستانی مسلمان جن مخصوص حالات میں گھرے ہوئے ہیں انہیں ذہن میں رکھ کر بتائیے کہ کیا یہ ممکن ہے‘ کہ اگر‘ اور جب وہ ایسی آزاد ریاستیں حاصل کر لیں جن میں ان کی اکثریت ہو‘ تو ایک ایسا نظامِ حکومت قائم کر سکیں جس میں مذہب اور ریاست کے درمیان ایک خوش آئند ہم آہنگی پیدا ہوجائے۔

(د) اسلامی اصول‘ روایات‘ تصوّرات اور نظریات کے مطابق ایک ایسی اسکیم مرتّب کیجیے‘ جو مسلمانوں کے معاشرتی‘ تہذیب اور تعلیمی پہلوؤں پر حاوی ہو۔

(ر) مجموعی قومی بہبودی کی خاطر مذہبی ادارات یعنی اوقاف اور دوسرے ذرائع آمدنی کو ایک مرکز کے ماتحت منظم کرنے کے لیے طریق کار اور نظام اس طرح مرتّب کیجیے‘ کہ ان اداروں پر قبضہ رکھنے والے اشخاص کے احساسات‘ میلانات‘ اغراض اور مختلف نظریات کا لحاظ رہے۔‘‘

اس سوالنامے کا جو جواب ہماری طرف سے بھیجا گیا وہ درج ذیل ہے:۔

آپ نے جو تفصیلی سوالات دریافت کیے ہیں‘ وہ دراصل ایک ہی بڑے سوال کے اجزاء ہیں۔ پھر کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ان مسائل کو الگ الگ لینے اور ان پر الگ الگ رائے ظاہر کرنے کے بجائے اسی بڑے سوال کو بیک وقت سامنے لے آیا جائے جس کے یہ سب اجزا ہیں؟ وہ بڑا سوال یہ ہے‘ کہ مسلمان کس طرح وہ اصلی مسلمان بنیں جنھیں بنانا قرآن کا اصل منشا تھا؟یہ ہے اصل سوال اور اس کے حل ہونے سے باقی سب سوالات خود بخود حل ہوجائیں گے۔

میرے پاس اس سوال کا سیدھا اور صاف جواب یہ ہے‘ کہ پہلے اسلام کو‘جو کچھ کہ وہ ہے‘ اور جو کچھ کہ انسان سے اس کے مطالبات ہیں‘ واضح طور پر مسلمانوں کے سامنے رکھ دیا جائے‘ اور ان سے شعوری طور پر اسے قبول کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ پھر جو لوگ اسے جاننے اور سمجھنے کے بعد قبول کریں‘ اور اپنے طرزِعمل سے ثابت کریں کہ واقعی انہوں نے اسے قبول کیا ہے‘ ان کو ایک پارٹی کی صورت میں منظم کرنا شروع کیا جائے‘ اور باقی مسلمانوں میں مسلسل تبلیغ وتلقین کا سلسلہ اس ارادہ کے ساتھ جاری رکھا جائے کہ بالآخر ہمیں اس پارٹی میں پوری قوم کو جذب کر لینا ہے۔

اس پارٹی کے سامنے صرف ایک ہی نصب العین ہو‘ یعنی اسلام کو بحیثیت ایک نظامِ زندگی کے عملاً زمین پر قائم کرنا۔ اور اس کا ایک ہی اصول ہو‘ یعنی اسلام کے خالص طریقہ پر چلنا (خواہ یہ طریقہ دنیا کو مرغوب ہویا نہ ہو) اور غیر اسلام کے ساتھ ہر مدارات ومصالحت (compromise)اور ہر آمیزس واختلاط کو قطعی چھوڑ دینا۔اس نصب العین اور اس اصول پر جو پارٹی کام کرے گی اس کے لیے وہ سوالات جو آپ کے سامنے آرہے ہیں اوّل تو سرے سے پیدا ہی نہ ہوں گے‘ اور اگر ان میں سے بعض سوالات پیدا ہوئے بھی تو وہ اس شکل میں نہیں ہوں گے جس شکل میں آپ کے سامنے اب یہ سوالات آرہے ہیں۔انہیں کوئی نئی اسکیم وضع نہیں کرنی ہوگی‘ بلکہ صرف وہ قوّت فراہم کرنی ہوگی‘ جس سے وہ اس اسکیم کو نافذ کر سکیں جو پہلے ہی بنی ہوئی موجود ہے۔ وہ اس کی پروا نہیں کریں گے کہ موجودہ حالات ہماری اسکیم کے نفاذ کے لیے ساز گار ہیں‘ یا نہیں۔ وہ ناساز گار حالات کو بزور بدلیں گے‘ تاکہ وہ اس اسکیم کے لیے ساز گاری کرنے پر مجبور ہوں۔ غرض یہ کہ ان کا نقطۂ نظر اس معاملہ میں اس نقطۂ نظر سے بالکل مختلف ہوگا‘ جو آپ حضرات نے اختیار کیا ہے۔

میرا خیال ہے‘ کہ آپ حضرات ایک ایسی پیچیدگی میں پڑ گئے ہیں‘ جس کا کوئی حل شاید آپ نہ پا سکیں اور وہ پیچیدگی یہ ہے‘ کہ ایک طرف تو آپ اس پوری مسلمان قوم کو ’’مسلمان‘‘کی حیثیت سے لے رہے ہیں‘ جس کے ننانوے فی صد افراد اسلام سے جاہل‘ اور پچانوے فی صد منحرف اور نوے فی صدی انحراف پر مصر ہیں‘ یعنی وہ خود اسلام کے طریقہ پر چلنا نہیں چاہتے اور نہ اس منشا کو پورا کرنا چاہتے ہیں‘ جس کے لیے ان کو مسلمان بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف آپ حالات کے اس پورے مجموعہ کو جو اس وقت عملاً قائم ہے‘ تھوڑی سی ترمیم کے بعد قبول کر لیتے ہیں‘ اور چاہتے ہیں‘ کہ حالات تو یہی رہیں اور پھر ان کے اندر کسی اسلامی اسکیم کے نفاذ کی گنجائش نکل آئے۔ یہی چیز آپ کے لیے ایک بڑی پیچیدگی پیدا کرتی ہے‘ اور اسی وجہ سے میرا خیال یہ ہے‘ کہ جن مسائل سے آپ حضرات تعرض کر رہے ہیں ان کا کوئی حل آپ کبھی نہ پا سکیں گے۔

(ترجمان القرآن‘ جولائی‘ اگست‘ ستمبر‘ اکتوبر۱۹۴۴ء)